سوموار, جنوری 30, 2006

روٹین چیک اپ

پرسوں میں اور خرم نزدیکی “بیرگاموں“ ائیر پورٹ پر کامران صاحب کو لینے گئے کہ بارسلونا سے برائے ملاقات تشریف لائے ہیں۔ برفباری کی وجہ سے فلائیٹ دیر سے آئی، اور ہمیں‌کوئی دو گھنٹے انتظار کرنا پڑا، پس کافی پی، سیگریٹ پھونک کے ایک بینچ پر جا براجمان ہوئے۔ اردگرد کے سارے بینچ ہر ملک وقوم کےلوگوں سے بھرےہوئے تھے کہ بہت سی فلائیٹس لیٹ تھیں۔
دو پولیس والے ہمارے سامنے سےگزرے، اور میں نے خرم سے کہا کہ آئی سختی، کیوں کہ ابھی اس پولیس والے نے لمبی آنکھ کرکے دیکھا ہے۔ اور دو منٹ بعد وہ آن ہمارے سر پر کھڑےتھے۔ بون جورنو۔ کہاں کے ہو؟ پاکستانی؟ کاغذ دکھاؤ۔ کتنے عرصہ سے یہاں ہو؟ کیا کام کرتےہو؟ کونسی فلائیٹ کا انتظار ہے؟ آرہے ہو یا جارہے ہو؟ پھر ہمارے کاغذات لئے اور ایک ہمارے سر پر ہی کھڑا رہا کہ مبادہ کہیں بھاگ نہ جائیں۔ دوسرا کاغذات لے ہمارے نام وغیرہ وائرلیس پر چیک کرواتا رہا اور کوئی پندرہ منٹ کے بعد ہمیں واپس دے کر سب اچھا ہے کی رپورٹ دےکر چلتا بنا، میں نے اس سے پوچھا کہ ہمیں ہی بلخصوص کی چیک کیا گیا ہے۔ کیا شک ہوا تھا تم کو۔ تو جواب ملا کہ “ روٹین چیکنگ ہے“۔
خرم کہہ رہا تھا سر جی کوئی بات نہیں ‌اب تو ہمارے لئے یہ واقعی روٹین چیکنگ ہوگئی ہے، چاہے عوامی بندے ہوں یا وزراء۔

مکمل تحریر  »

اتوار, جنوری 08, 2006

عید مبارک

تمام دوستاں کو میری طرف سے ایڈوانس میں عید مبارک اور جو حج مبارک کی سعادت کررہے ہیں انکو حج مبارک، جو بکروں کو قربان کررہے ہیں انکو بکرا مبارک اور جو بکروں پر قربان ہورہے ہیں (قیمتوں کی وجہ سے) اللہ انکی قربانی قبول فرمائے؛ اور جو اس سال قربان ہونے سے بچ گئے ہیں اللہ انہیں طویل عمری عطافرائے۔ اس ساری تمہید کے امابعد عرضِ وجوہ ہے کہ بندہ بمطابق پروغرام کل یہاں سے عازمِ پاکستان ہورہا ہے۔ اور پرسوں ادھر کی عید کو چھوڑ کر اگلے دن پاکستان میں عید منانے کی توقع ہے۔ جو دوست قربانی کا گوشت بھیجنا چاہیں ست بسم اللہ، میں کسی کو مایوس نہیں کروں گا۔ پاکستان میں بیٹ کی سہولت موجود ہونے کے باوجود وہاں بہت سے ایسی شخصیات موجود ہیں جنکو بہر حال نیٹ پر فوقیت حاصل رہے گی، ویسے بھی پاکستان جاکر بندہ دنیا سے لاتعلق ہوجاتا ہے۔ بہر حال کوشش کروں گا گاہے بگاہے حاضری دینے کی مگر وعدہ وعید کا کوئی چکر ہیں ہے۔ وسلام اور بیس تاریخ تک کےلئے اللہ حافظ

مکمل تحریر  »

منگل, جنوری 03, 2006

اطالوی تعمیرات

گزشتہ سے پيوستہ
دنیا کے گنے چنے ممالک کی طرح اٹلی ایک مشہور اور جانا پہچانا ملک ہے ، جسکی بہت سی وجوہات ہیں ، مثلاُ سلطنتِ روم اور روم، مسولینی اور دوسری جنگِ عظیم کی کُٹ، لاطینی دانتے اور پیزا کا مینار، مافیا، سسلی کے پکوان اور پاکستانیوں کی پکڑ دھکڑہ ان کے علاوہ سب سے بڑی وجہ اٹلی ميں خود کی موجودگی ہے، یاد رہے کہ پرویز مشرف کو مابدولت کے بعد اٹلی کی
سرزمین پر قدمِ رنجہ فرمانے کو شرف حاصل ہوا۔
اٹلی اپنی تعمیرات اور معماروں کی وجہ سے بہت مشہور ہے کہتے ہیں کہ اٹالین پوری دنیا میں تعمیرات کے ماہر ہیں مگر یہ بات وہ ہی کہ سکتے ہیں کہ جنہوں نے اٹلی صرف ٹی وی پر دیکھا ہے اور بیوی سے سناہے۔ اگر حقیقت میں ایسا ہوتا تو آج پيزا کا مینار ٹیرھا ہوکر سجدہ ریزہونےکی کوشش نہ کررہاہوتا اور نہ ہی اسے رسوں سے باندھ کے رکھنا پڑتا کہ کہیں بھاگ نہ جائے۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ بولونیا نامی شہر میں بھی انہوں نے اپنی تعمیرات کی کوالٹی کی شہرت کےلئے دو مینار تعمیرکئے ہیں ایک ساتھ میں جن میں سے ایک ٹیڑھا ہے؛ فوٹو بغل ميں بطور ثبوت لگا دي گئي ہے ، اگر پھر بھي يقين نہ آرہا ہو توخود جاکرديکھيں۔
پس آپ کہہ سکتے ہیں کہ اٹلی کی کوئی کل سیدھی نہیں، اور نہ ہی کوئی گلی ساری گلیاں ٹیڑھی میڑھی ہیں۔ ۔ بلکہ اگر پھر بھی آپ یہ سمجھیں کہ اٹالین معمار دنیا میں سب سے ماہر ہیں تو پھر آپ کا بھی اللہ ہی حافظ ہے۔
جاري ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

مکمل تحریر  »

اتوار, جنوری 01, 2006

بارے اٹلی کے

اٹلی مغرب میں ہوتا ہے اور مغرب میں یورپ کے واقع ہونے کی وجہ سے یہ بھی یورپ میں ہی واقع ہے۔ البتہ اس کو جنوبی یورپ میں شمار کیا جاتا ہے، اٹلی میں رہنے والے اٹالین ہوتے ہیں اور کچھ نہیں بھی ہوتے۔ جبکہ کچھ اٹالین اٹلی سے باہر بھی پائے جاتے ہیں۔ ادھر عمومی طورپر اٹالین نہیں بولی جاتی بلکہ بہت سی مقامی زبانیں انکو “دیالیطو“ کہاجاتا ہے بولتے ہیں۔ جبکہ جو اٹالین اٹالین بولتےہیں وہ بھی گالی دیالیطو میں ہی دیتے ہیں۔ اور لطیفہ بھی دیالیطو میں۔ اٹالین کہتےہیں کہ گالی اور لطیفہ مادری زبان میں ہی مزا کرتا ہے، ہمارے شاہ صاحب کا بھی یہی خیال ہے کہ ان معاملات کےلئے پنجابی ہی موزوں زبان ہے۔ جو بندہ اٹالین نہ بولتا ہے تو اٹالین سمجھتے ہیں کہ اسکا تو دماغ ہی نہیں ہے اور اگر آپ کہہ دیں کہ “میں انگلیزے جانتا ہوں“ فوراُ آپکے عالی دماغ ہونے کا اعتراف کرلیتے ہیں۔ دوسری بہت سے قوموں کی طرح جنہوں نے دوسری جنگِ عظیم میں پھینٹی کھائی اٹالین کےلئے بھی انگریزی زبان ایک “ ہوا“ ہے اور انگریز قابلِ گردن زنی۔ میں کہتا ہوں کہ اٹلی میرا دوسرا وطن ہے تو میرے پاس اس کے کچھ جواز موجود ہیں۔ اول یہ کہ اس کا موسم پاکستان کی طرح یہ ہے یعنی گرمیں میں گرم اور سردیوں میں سرد۔ برفاں۔ جی۔ اور بعد یہ کہ یہ بھی نقشہ پر شمالاُ جنوباُ لیٹا ہوا ہے۔ شمال میں پہاڑ اورجنوب سارے کا سارا سمندر کے بیچ۔ پھر شمال اور جنوب میں منقسم بھی تو ہے۔ بلکل پاکستان کی طرح۔ پنجاب کے خلاف سندھ تو یہاں پر بھی شمال والے زیادہ ترقی یافتہ اور مالدار ہیں، انڈسٹریلیسٹ۔ اور جنوب والے دہقان و ماہی گر۔ شمال والوں کا خیال ہے کہ جنوب والے انکی محنت کا پھل کھا رہے ہیں اور جنوب والے کہتے ہیں کہ شمال والے انکے ساتھ بانٹ کے نہیں کھاتے۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

مکمل تحریر  »

نياسال مبارک ہو

میری طرف سے جملہ احباب کو نیا سال مبارک ہو
اللہ کرے آنے والا سال سب کےلئے خوشیوں برکتوں اور رحمتوں سے بھر پور ہو، ملک و قوم کےلئے سلامتی اور امن کے پیام بر ہو۔ پوری دنیا میں سکون اور چین ہو۔
اورہم سب کی خوہشات و تمنائیں پوری ہوں۔ آمین

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش