منگل, مارچ 28, 2006

تیز رفتار نیٹ

آج ہمارے آئی ایس پی آر نے جو کہ ٹیلی کام اطالیہ ہے ہمارےہاں ایک نیا سسٹم انسٹال کردیا ہے جسکے بعد اب نیٹ سپیڈ 20 م ب پ س ہو گئی ہے اور ساتھ ہی ہم ٹی وی سے بھی میل بھیج سکتے اور موصول کرسکتے ہیں۔ مزید سکائی ٹی وی بھی بعذریہ نیٹ لائین ( فون کنیکشن جو ایک ہی موڈیم کے ساتھ ہے) دیکھ سکتے ہیں اس وقت کوئی 20 کے قریب مفت چینل ہیں اور مذید آمد متوقع ہے، انکا وعدہ ہے کہ 6 ماہ تک آپ کو مفت سروس فراہم کی جائے گی اور اس دوران سروس کو مزید بہتر بنا دیا جائے گا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سروس ابھی تجرباتی بنیاد پر ہے گویا ہم تختہ مشق ہوئے اور جب نتائج ٹھیک نکل آئیں گے تو ہم پر ہی ادائیگی کرنی واجب ہوجائے گی

مکمل تحریر  »

اتوار, مارچ 26, 2006

لطیفہ

کل ہفتہ تھا مگرمقامی عدالت سے فون آگیا کہ جی حاضر ہوجائیں۔ فارغ وقت میں ترجمانی کا کام ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کم لوگ ہی ہیں جو اٹالین اچھی بول لیتے ہیں خاص طور پر ہندوستانی، چونکہ انکی اکثریت پنجاب سے ہے اور وہ بھی دیہات سے۔ اس لئے انکا ہاتھ بٹانے چلا جاتا ہوں۔ کچھ پیسے بھی بن جاتے ہیں اور نئے نئے کیس بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ مگر کل کا کیس کچھ عجیب ہی تھا۔ بلکہ عجیب کیا ایک لطیفہ ہی تھا۔ وہ اس طرح کی چاروں سکھ ایک ساتھ میں کام کرتے ہیں اور ان میں سے ایک کی منگنی ہوئی اور سارے مل کر جشن مناتے رہے، وہی شراب نوشی۔ اور خوب ”ٹُن” ہوکر گاڑی لے کر گھومنے چلے شہر کے مضافات کی طرف چل نکلے، رات کا سماں تھا ان کو سڑک کے کنارے کھڑا برازیل کا ایک ”کُھسرا” (ہیجڑا) نظر آگیا اور جیسا کہ ہمارے ہاں ہوتا ہے یہ لگے اس سے چھیڑخانیاں کرنے۔ کچھ دیر کے بعد وہ کھسرا تپ گیا اور ادھر گھومتی گھامتی پولیس بھی آگئی۔ اب ہیجڑے نے انکو اشارہ دے کر روک لیا اور کہہ دیا کہ مجھے لوٹنے والے تھے۔ میں نے بڑی مشکل سے اپنی عزت و دولت بچائی ہے۔ اور مزید یہ کہ ان کی گاڑی سے ایک ٹوٹی ہوئی نوکدار چھتری برآمد ہوئی جس کو بطور ہتھیار قبضہ میں لے لیا گیا۔ وہ چرن جیت سنگھ یہ بیان دے کر رو پڑا کہ اگر عدالت نے جیل میں بند کردیا تو کام بھی ختم ہوجائے گا اور سُبکی علٰیحدہ ہوگی۔ خیر عدالت نے اس وقت تو انکو چھوڑ دیا کہ جب تک کیس نہیں چلتا شہر سے باہر نہ جاؤ اور ہفتہ میں دو بار پولیس کے دفتر میں حاضری دو۔ اور آئیندہ منگنیاں کر کے اس طرح کے جشن منانے سے پرہیز کرو۔ دوران کاروائی جج صاحبہ، وکلاء، پولیس والے، عدالت کا سارا عملہ اور میں خود ہنستے رہے۔

مکمل تحریر  »

جمعہ, مارچ 17, 2006

پیروی مشرق کی

عباس جوکہ میرے عزیزِ غریبی ہیں، ولایت میں ہی پیدا ہوئے اور پاکستان دو بار ہی گئے ہیں۔ مگر آج کل میرے مہمان ہیں، کہ بھائی صاحب سے زندگی بھر ملاقات نہیں ہوئی، چلو مل ہی آئیں۔ تو ان کو جی آیاں نوں۔ مگر اصل خبر جو مجھے انکے ساتھ آنے والے انگریزی اخبار سے ملی ہے وہ یہ ہے کہ لنکا شائیر کے 49 سالہ مائیکل فیلپاٹ نے مقامی کونسل میں کل رات چھ کمروں کے
بڑے گھر کے حصول کی درخواست جمع کروائی ہے۔ ان چاچا جی کے 16 بچے ہیں جن کا تعلق مختلف پانچ خواتین سے ہے۔
مائیکل جی نے یہ بتایا ہے کہ میں‌ گھر میں ہونے والے شور کی وجہ سے گھر سے باہر “تنبو“ لگا کر اس میں‌سوتاہوں۔ لہذا کونسل مجھے کم سے کم 6 کمروں والا بڑا مکان دے۔ تاحال مائیکل جی 3 کمروں کے چھوٹے سے مکان میں نہیں تنگی سے گزارا کررہے ہیں جسکا کرایہ 69 پونڈ فی ہفتہ ہیں جبکہ مائیکل پکے حرام خور ہیں اور وہ سالانہ 26،500 پونڈ بےکاری الاونس کے طور
پر حاصل کررہے ہیں۔ جبکہ ایک عدد زوجہ اور ایک حاملہ معشوق کا بوجھ کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔
خیرہمارے مشرق میں تو یہ خبر نہ ہوئی کہ انکے 16 بچے ہیں اور کھانے کو کچھ نہیں۔ کیوں کہ کتنے ہی لوگ ہیں جو اس حال میں ہیں۔ البتہ اگر حکومت ان کو سالانہ 26،500 روپیہ بھی دے تو یہ ایک خبر ہوگی۔

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش