جمعہ, مئی 16, 2008

انگریز کی قدرت

ہمارے ماموں ضامن کہا کرتے تھے دیکھی پھر انگریز کی قدرت جس نے لوہے میں سے پانی نکال دیا، مگر کیسے ماموں، تو ارشاد ہوتا کہ نلکا، ہمارے ماموں بہت زندہ دل بندے ہیں عمر میں کوئی پنتالیس کے پیٹے میں ہی ہوں گے مگر کیا ہے لطیفے مزاح ، خوش طبعی میں انکا جواب نہیں۔ گویا ابھی بھی لڑکے بالے ہوں۔ اسکول ٹیچر ہے اور اس برس شاید ایم اے کر ہی جائیں، پروگرام انکا ایم اے کے بعد پی ایچ ڈی کرنے کا ہے۔
یہاں آج مولوی خالد صاحب نے دودھ کا گلاس سامنے لا رکھا، میں نے پوچھا کہ مولوی صاحب یہ کس کیس میں ہے۔ تو فرمانے لگے کہ یہ دیوار کا دودھ ہے۔ مگر کیسے جناب؟ کہنے لگے بس جی ہم نے پھونک ماری ہے اور دیوار سے دودھ نکال لیا ہے ۔ دیکھا ہم بہت پہنچے ہوئے ہیں۔ اس میں کسی کی شک بھی نہیں ہونا چاہئے کیوں کہ وہ اٹلی تک تو پہنچے ہوئے ہیں، اس بات کا تو بندہ گواہ ہے۔ ویسے میرے دفتر کے ساتھ ہی ایک مشین لگی ہوئی ہے جہاں سے آپ اپنی بوتل بھر کردودھ لے جائیے شاید اسی سینٹ قیمت ہوگی۔ یہاں پر عام لوگ گائے نہیں رکھ سکتے اور بقول اکبر دودھ ڈبہ کا تعلیم سرکارکی۔ اور سال گزرے تو دودھ دیوار کا، اور لوگ گائے کی شکل تک بھول چکے ہونگے۔ پھر اگر ہم ایسی کوئی بات کریں گے تو جواب ملے گا کہ میاں جی کونسے زمانے کی بات کرتے ہو۔ ایسے بھی ممکن ہے۔ ایسے ہی نہ چھوڑا کریں۔

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش