سوموار, ستمبر 15, 2008

اناللہ واناالیہ راجعون۔

پاک فضایہ نے امریکی جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کردیا، یہ دو دنوں میں دوسری ایک ہی طرز کی اور ایک اچھی خبر ہے، کم اس کم امریکیوں کی"کھوتی تھاں" بیٹھ جائے گی، امریکی بچے مجھے تاریخ پر نظر دوڑاتے ہوئے " کمزور پر غصہ آتا ہے اور طاقتور پر ترس" کے مصداق ہر اس جگہ "پنگا" لینے سے گھبرائے نظر آتے ہیں جہاں آگے سے منہہ پر پڑے، جو ہم سے ٹکرائے گا وہ برباد ہوجائے گا،
آج کی خبروں کے مصداق قبائلیوں نے فوج اور ہموطنوں کے شانہ بشانہ بلکل اسی طرح دفاع کا اعادہ کیا ہے جیسے انگریز کے خلاف کیا گیا تھا، پہاڑوں کی چوٹیوں پر مورچے بن رہے ہیں اور انگریزوں کے زمانے کے مورچوں کی پھر سے صفائی ہورہی ہے۔ جنرل کیانی کی تصویر 200 روپئے میں فروخت ہورہی ہے۔ اس بندے کی اللہ حفاظت کرے ہماری قوم کے دلوں میں دھڑک رہا ہے کہ یہی وہ آواز ہے جو ہمیں احساس دلاتی ہے کہ ایک زندہ قوم ہیں "ورنہ مردے بھی کیا خاک جیا کرتے ہیں" کے مصداق ہمارے پاس کیا ہے۔ وہ صدر مزاری جو مزاروں پر چادریں چڑھاکر امریکہ کو سدھارا یا وہ سید جو میراثیوں کے موافق ایک دن کہتا ہے کہ ہم زندہ ہیں اور دوسے دن اپنے زندہ نعش ہونے کا اعلان کرتا ہے۔
اناللہ واناالیہ راجعون۔

مکمل تحریر  »

جمعہ, ستمبر 12, 2008

پاکستان میدان جنگ

آج کل پاکستان کو میدان جنگ دینے کے بارے میں امریکی بیانات زور کرچکے ہیں اور پاکستانی حکومت دبے لفظوں میں احتجاج کے ساتھ جوابی کاورائی کا حق محفوظ رکھنے کا دعواہ کررہی ہے۔ کہ اگر اب کے بغیر پیشگی اجازت حملہ ہوا تو ہم جوابی کاروائی کریں۔
کچھ دوست طالبان کی مخالفت میں امریکی کاروائیوں کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ مگر یہ بھول رہے ہیں کہ یہ پاکستانی طالبان کسی کی پیداوار ہیں۔ ان کو کم سے کم پاکستانی فورسز تو فیڈ نہیں کررہیں جیسے کہ افغانستان میں طالبان تحریک کے بارے میں کہا جاتا ہے، بات سمجھ میں آتی ہےکہ ادھر پاکستانی فورسز کے مفادات تھے مگر شمالی علاقوں میں ہونے والی طالبانی کاروائیوں کی سرپرستی کون کررہا ، لازمی طور پر وہی کریں گے جن کے حق میں پیدا ہونے والے یہ حالات ہیں۔ بلکل جس طرح اسامہ بن لادن کا ہوا بنا کر افغانستان پر حملہ کیا گیا مگر کیا برآمد ہوا؟ جیسے خطرناک ہتھیاروں کو بنیاد بنا کر عراق پر حملہ کی کیا گیا مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات، اب طالبان کی بنیاد پرپاکستان پر حملہ۔ گویا یہ تحریک بلکل اسی طرح امریکی پیداوار ہے جس طرح گیا ستمبر کا ڈرامہ ہو، یا صدامی ڈیزائین۔
ایک بار پھر کہوں گا کہ امریکی کاروئیوں کو روکنا ہوگا۔ فوج اور حکوم کو چاہئے کہ سب سے پہلے اس معاملے کو اقوام متحدہ
میں اٹھائیں۔ اور آئندہ ہونے والی ہر کاروئی کا دانت توڑ جواب دیا جائے۔
میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں بطور قوم دفائی پالیسی ترک کر کے جارحانہ اندازاپنانا ہوگا۔ بطریق " ہم تو ڈوبیں گے
صنم تمیں بھی لے ڈوبیں‌گے۔

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش