جمعہ, فروری 27, 2009

بمبئی دھماکے اور بریشیا کے پاکستانی

قصہ کچھ یوں ہے کہ آج کل اٹلی کے تمام ٹیلی ویژن چینلز پر بریشیا کے مدینہ ٹریڈرز پر چھاپے کی خبر ہے کہ اس جگہ سے بمبئی کے ہوٹل میں رقم بجھوائی گئ، کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ رقم مبلغ 36ہزار یور تھی اور بھجنے والے انڈین تھا، کوئی کہتا ہے کہ دکان سیل ہوچکی ہے۔
مگر اصل صورت یہ ہے کہ اس ایجنسی سے کوئی 270 کے قریب یورو انڈیا منتقل ہوئے۔ جسکا ریکارڈ اس ایجنسی کے پاس ہے اوردکان اپنا کام کررہی ہے۔ یورپین میڈیا اور خصوصاُ اٹالینز کو تو خدا غیرملکیوں کے خلاف کوئی خبر دے مگر ہمارے لوگ بھی ان سے کچھ کم تو نہیں۔
اپنے دوستوں سے التماس ہے کہ کسی بھی بارے میں بیان جاری کرنے سے پہلے اس بات کی تصدیق کر لیا کریں کہ حقیقت کیا ہے۔
خوامخواہ کی افوائیں پھیلانا ایک بڑا اخلاقی اور مذہبی جرم ہے۔

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش