جمعہ, اکتوبر 09, 2009

من ترا ملا بگویم

من ترا ملا بگویم و تو میرا حاجی بگو کا محاورا اس وقت کا ہے جب ہم لوگ کالج میں تالاب علم ہوتے تھے، خیر سے وہ تو اب بھی ہیں، ہمارے دو پروفیسر صاحبان ایک دوسرے کی تعریف میں موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے اور اس موقع پر سر منظور کی طرف سے یہ محاورا بزبان فارسی شائع ہوتا۔ ترجمہ کچھ یوں ہوا کہ میں تجھے ملا کہا کروں اور تو مجھے حاجی کہا کر۔
اس محاورہ کا عملی استعمال غیرملکیوں کے نمایندہ دو آن لایین اخبارات بزعم خود، گجرات لنک اور دی جزبہ ڈاٹ کام پر دیکھا،
بریشیا میں پاکستانی صحافیوں ، لکھاریوں کی تنظم بندہ کی تحریک پر بنی اور کہلایِی ہے بریشیا اردو پریس کلب۔ یہی دو ہفتوں کی بات ہے۔ کل ملا کہ چھ صحافی ہونگے اور چھ کے چھ ہی عہدیداران چن لیے گیے ہیں یعنی جو کوءی بھی ہے وہ صاحب کرسی ہی ہے۔ بقول شخصے سب ناخدا ہوءے۔ گجرات لنک میں اٹلی سے شایع ہونے والی کل خبروں دس میں سے پانچ مبارک
باد، ایک تعزیت اور ایک کسی سیاسی کارکن کو کسی بچے کا سر مونڈتے ہوءے دکھایا گیا ہے۔ دوسرے میں پانچ خبریں صرف مبارک باد کی۔

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش