منگل, اگست 24, 2010

غصہ اور گالیاں

فیس بک پر ایک ویڈیو گھوم رہی ہے جس میں ایک صاحب نے سیالکوٹ کے دردناک واقعہ پر بے شمار غصہ اور غم کی حالت میں ایک پیغام ویڈیو ریکارڈ کرکے بس لانچ کردیا اور یار لوگوں نے اسے دنیا بھر میں گھما دیا۔ میں نے بھی کسی لنک کی وساطت سے وہ ویڈیو دیکھی ہے مگر مجھے وہ پیغیام کی بجائے غصہ ہی لگا ہے جس میں اس بندے نے اپنے اندر کا غبار نکالا اور گالیوں کی شکل میں سب کچھ باہر انڈیل دیا۔ غصہ انسان کو تب ہی آتا ہے جب اسکا کوئی نقصان ہوا ہو ، یا پھر ایسی صورت میں جب کسی مشکل کا شکار ہو اور اسکا حل تلاش نہ کر پارہا ہو، غصہ کی ایک اہم بات یہ کہ یہ تبھی آئے گا جب آپ کو اپنی بے گناہی اور معصومیت کا مکمل یقین ہو، مجرم دل بندہ میسنی سی صورت بنا لے گا یا چار گالیاں کھا کر بھی غصہ نہیں کرے گا۔ گالیوں اور غصہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور عمومی طور پر پہلے غصہ بلند آواز کی شکل میں پھر اور پھر اسکے بعدگالیوں کی شکل میں تبدیل ہوتا ہے اور اسکے بعد ہاتھوں اور پھر ڈنڈوں اور دیگراوزاروں مثلاُ چھری چاقو، پستول، بندوق کلاشنکوف اور توپ وغیرہ کا استعمال ہوتا ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ کل کا گالیاں دینے والا آج ہاتھا پائی نہ کرے، اور آج ہاتھا پائی کرنے والا کل کلاں دیگر اوزاروں پر نہ اتر آئے۔ اور اگر انکی تعداد زیاد ہ ہوگئی تو ؟؟؟؟؟؟؟؟

مکمل تحریر  »

اتوار, اگست 22, 2010

معاشرتی انحطا ط

سیالکوٹ کے المناک انسان سوز واقعہ کو دماغ سے نہیں نکالا جارہا، اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم اپنی معاشرتی، مذہبی اور سماجی اقدار کو قطعی طور پر فراموش کرچکے ہیں۔ پولیس کی موجودگی میں دو انسانوں کا پر تشدد اور بے رحمی سے قتل عام، وہاں پر موجود لوگوں کی بے حسی اور اسے انجوائے کرنا، لاشوں کی بے حرمتی، سب دیکھ کر اس میں کراچی کی ٹارگٹ کلنگ، نو گو ایریاز، سیلاب زدگان کی زبوں حالی اور انکا غصہ، عوامی بے حسی سب ملاکردیکھیں تو لگتا ہے کہ کل کلاں سیلاب زدگان بھی اپنی بدحالی پر پریشیانی کی بجائے غصہ کو اپنائیں گے۔ ایسی صورت میں ملک میں افرا تفری ہوگی اور پھر امریکن یورپی اور دیگر دنیا کے نام نہاد علمبردار ہماری معاشری حالت کو سدھارنے اور امن قائم کرنے کو آوارد ہونگے۔ خاکم بدہن

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش