منگل, فروری 15, 2011

مایا کا ہاتھ نہ آنا

میری دوست لوچیانا کا خیال تھا کہ اگر ہم لندن گے اور مایا کا سر نہ دیکھا تو پھر کیا دیکھا اور یہ کہ ایک دفعہ دیکھا تو پھر دیکھتے ہی رہ جاؤ کے اور یہ بھی کہ یہ کسی پرانے خناس قسم کے جادو گر کا ہے جو مرکربھی آپ کے حواس پر چھا جاتا ہے۔ مجھے خود بھی مایا سے بہت لگاؤ ہے، بس جی چاہتا ہے کہ بہت سی مایا جمع ہو، پھر کچھ ہو یا نہ ہو۔ یوری اور میں خیر سے برٹش میوزیم کے سارے حصوں کا فوری دورہ کرکے جب جنوبی امریکہ کے حصہ میں پہنچے جہاں پر مایا صاحب کا ایک عدد سر موجود تھا تو معلوم ہوا کہ یہ حصہ تو دوپہر کے وقفہ کے سلسلہ میں بند ہے اور تین بجے دوبارہ کھلے گا، شام سات بجے ہماری فلایئٹ کا وقت مقرر تھا اور قائدہ کے مطابق پانچ بجے ادھر سٹین سٹیڈ کے ائرپورٹ پر ہونا چاہئے تھا مطلب ہمارے پاس صرف دو گھنٹے کا وقت تھا کہ ہم نے اسی میں برٹش میوزیم سے والتھم اسٹو پہنچ کر ہوٹل سے اپنا سامان لینا تھا اور پھر وکٹوریہ سے ٹرین پکڑنی تھی۔ خیر دو گھنٹے انتظارکرنا تھا، اس دوران سوچا کہ چلو مصر کے حصہ میں توتن کامن صاحب کے سونے کے ماسک کی ہی زیارت کرلیتے ہیں کہ اتنا سونا ایک ساتھ اور ایک چھت تلے شاید ہے کہیں اور دیکھنا نصیب ہو ، معلوم ہوا کہ ماسک صاحب کو دو ہفتہ قبل مصر کے قائرہ میوزیم میں روانہ کردیا گیا ہے۔ یعنی جہاں کی خاک وہیں کو لوٹی۔ بقول یوری بہت افسوس ہوا اپنے اوپر کہ ہم دو ہفتے پہلے کیوں نہ آئے اور میوزیم والوں پر بھی کہ انہوں نے ماسک کی واپسی جہاں انہوں نے کئی دھائیاں روکے رکھی ہمارا بھی انتظار کرلیتے تو کون سی قیامت برپا ہوجاتی، اس موقع پر ہمیں گورا صاحب کی بے بسی دیکھائی دی کہ دنیا بھر کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود ہماری آمد سے باخبر نہ تھے۔ پھر کیا تھا بھاگم بھاگ مایا صاحب کی طرف لوٹے تو وہاں پر ایک کالی کلوٹی افریقن بیٹھی تھی پہرے پر شاید انکو شک تھا کہ ہم اس کھوپڑی کو چرا کرآلہ دین کے چراغ کی طرح رگڑتے پھریں گے، حالانکہ ہمارے جی میں ایسی کوئی بات نہ تھی، مایا صاحب کی العمروف کھوپڑی کی تلاش شروع ہوئی، ہم کسی جانب مایا جی کو نہ پا کر اس سے پوچھے بغیر نہ رہ سکے، خاتون نہیایت درشت لہجےمیں بولی بلکہ دھاڑی کہ تمھیں معلوم نہیں کہ مایا صاحب کا ایک دانت خراب ہوگیا تھا اور اسی کی مرمت کےسلسلہ میں دو دنوں کےلئے ہسپتال میں داخل ہیں۔ پس اگلے ہفتے آؤ، چونکہ اگلے ہفتے تو درکنار اگلے گھنٹے آنا بھی ممکن نہ تھا، پس ہوگئی بقول لیاقت بھائی کے پھڑلو پھڑلو ، ہم بھاگم بھاگ والتھم اسٹو اور پھر وہاں سے ائیرپورٹ کو کیسے پہنچے ہمیں خود بھی معلوم نہیں، البتہ جب رائین ائر کے جہاز میں اعلان ہو اکہ اپنی سیٹ بیلٹ باندھ لو میں کہ اب تو ہوا کے دوش چلے تو یقین ہوا کہ ملاتو کچھ بھی نہیں مگر ہاتھ سے بھی کچھ نہیں گیا۔ نتیجہ مایا کم ہی کسی کے ہاتھ آتی یا آتا ہے چاہے وہ اردو کی ہو یا ساؤتھ امریکہ والی ہو۔

3 تبصرے:

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    4/02/2011 09:17:00 AM

    آپ نے وال ٹھامسٹو کے علاقہ ميں ہند و پاکستان سٹائل ريڑھيوں پر سودہ بکنے کا ذکر نہيں کيا ۔ کيا اب ايسا نہيں ہوتا ؟

  • علی says:
    9/04/2012 12:37:00 AM

    مایا صرف مایا کو ملتی ہے اور وہ بھی کر کر لمبے ہاتھ، ہماری قسمت میں ہر طرح کی مایا ممنوع لگتی ہے

  • کوثر بیگ says:
    12/22/2012 12:50:00 PM

    آپ کو مایا ملے نہ ملے ہمیں تو ایک دل چسپ تحریر پڑھنے ضرور مل گئی ۔۔۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش