ڈاکٹر راجہ افتخار خان کا اٹلی سےاردو بلاگ

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

پیر, مارچ 21, 2011

لیبیا پر حملہ، جنگ ابھی جاری ہے

افغانستان کےبعد عراق حملہ ہوتا ہے اور اسے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے تسلسل کے ساتھ جاری رہتے ہیں۔ بش کے بعد اسکا پیش رو اوباہامہ تخت نشین ہوتا ہے مگر پروگرام جاری ہے، تیونس کے ساتھ مصر سے شروع ہونے والی ہنگامہ آرائی تیل پیداکرنے والے سارے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ صدام کی طرح قزافی کو بھی ڈکٹیٹر قرار دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی ادھر بھی عراق کی طرح کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کے شہبہ کا اعلان کرکے اپنے جنگی جنون کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میں اپنے آپ سے بطور تاریخ کے ایک طالبعلم یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا ہم پھر سے صلیبی جنگوں میں نہیں گھرے ہوئے؟؟؟ کشمیر میں ہونے والا ستم کبھی امریکہ بہادر اور فرانس و اٹلی کو دکھائی نہیں دیا نہ ہی اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ اور لبنان پر حملہ نظر نہ آیا، امریکہ اپنی حفاظت میں افغانستان پر حملہ کرسکتا ہے اور ایران کو دھمکیاں دے سکتا ہے لبیا پر عوام کو فوجی ستم سے بچانے کےلئے جا سکتا ہے اور فلسطین کے حق میں پیش ہونے والی قرارداد کو ویٹو کردیتا ہے۔ عالمی مچھندروں کا یہ دھرا معیار ہمیں بھی تو دیکھنا ہوگا، اس بارے بات توکرنی ہوگی نہیں تو دل میں برا ضرور جاننا ہوگا کہ یہ ایمان کا آخری درجہ ہے

2 تبصرے:

  1. مجھے تو لگ رہا ہے۔۔۔پتلی پنڈلیوں والے کالے حبشی سے آخری کام بھی لے لیا جائے گا۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. يہ سب کچھ اسلئے ہوتا چلا آ رہا ہے کہ مسلمانوں کی اکثريت صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہيں اصل ميں مادہ پرست ہيں ۔ اللہ سے نہيں ڈرتے اور امريکا کو اللہ کی بجائے اپنا اَن داتا سمجھتے ہيں

    جواب دیںحذف کریں

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

Your Ad Spot

میرے بارے میں