سوموار, جون 20, 2011

مرغی چور اور بخار

معلوم ہوا کہ شاہ جی کو بخار چڑھا ہوا ہے اور ہذیان میں اول فول بک رہے ہیں
 بالے کا خیال تھا کہ چونکہ پچھلے ماہ شاہ جی کو ہلکی کتی نے کاٹا ہے اس لئے شاہ جی کا بخار اب انکو کسی اور طرف ہی لے جانے والا ہے، اور یہ بھی کے انکی خیریت معلوم کرنے والا بھی خطرے سے زیادہ دور نہیں ہوگا، کیا جانے شاہ جی کب کسی کو کاٹ کھائیں، مگر میرا خیال تھا کہ ایسا نہیں ہے ، پرسوں شام کو شاہ جی بھلے چنگے تھے ایک دن میں کون سا طوفان آنے والا ہے۔ ہوگا کوئی معمولی سا بخار۔۔۔۔۔۔

 خیر شام کو ہم شاہ جی کے گھر پہنچےجب گرمی کا زور کم ہوا،      شاہ جی ادھر دیوار کے سائے میں گاؤ تکیہ لگائے پڑے تھے ، خیریت دریافت کی تو جواب ملا کہ دو دن گھر میں ابا جی سامنے گزرنے سے سارا خون سوکھ چکا ہے اور یہ کہ منہہ پریہ پپڑی بخار کی وجہ سے نہیں بلکہ ابا جی کی موجودگی کی وجہ سے ہے۔ پھر ادھر ادھر دیکھ کر ہولے سے بولے کہ یہ ککڑی دیکھ رہے ہو کالی، یہ ہماری ہمسائی" ماسی باتاں "کی ہے پر میں دیکھ رہا ہوں کل سے کہ یہ پکی ہمارے ادھر ہی ہے، چونکہ اس ہفتے کسی "کنجر "کو ککڑی پکڑنے کی توفیق نہیں ہوئی اسی لیئے مجھے یہ بخار چڑھا ہے اور پھر اس بخار کی وجہ سے کمزوری بھی بہت ہوگئی ہے۔

 اس طرح کا پروگرام ہے کہ تم لو گ کل صبح دس بجے ادھر سے گزرو جب ابا جی اخبار پڑھنے گئے ہوتے ہیں اور اماں اپنے کام کام مکا کےہمسائیوں کے اور پھر اسکا کچھ کرتے ہیں، "اللہ کی قسم لے لو کہ یہ کمزور اب اس ککڑی کے بغیر نہیں جانے والی"۔ 

ہمارا کیا "اندھے کو دو آنکھیں "بس اگلے دن وقت مقررہ پر پہنچے شاہ جی کا پہلے سے تیار شدہ کمانڈو اپریشن ہوا اور ککڑی بیس منٹ میں ٹوکرے کے اندر شاہ جی نے پکڑی اور ہمارے ہاتھ میں دی اور ہم ادھر ادھر، بارہ بجے تک پک پکا کے کھا پی عوام دریا نہانے پہنچی ہوئی تھی۔

شاہ جی بھی لمبی لمبی ڈکاریں لیتے ہوئے ہمارے ساتھ دریا میں تیرتے پھر رہے تھے۔ شام کو واپسی ہوئی اور سارے اپنے اپنے گھر کو چلے گئے کہ شام کی نماز مسجد میں پڑھیں گے اور پھر بعد از عشاء تاش کی بازی کا مقام مقرر ہوگا۔ ادھر مسجد کی طرف آئے تو شاہ جی پہلے ہی ادھر باہر کھڑے پائے گئے۔ کیوں شاہ جی آج خیریت کیسے سب سے پہلے؟؟؟ شاہ جی کہنےلگے یار ایک بڑی گڑ بڑ ہوگئی ہے ، میں چونکہ گھر میں کبھی رہا نہیں اور ککڑی دیکھ کر یہی سمجھتا رہا کہ ماسی باتاں کی ہے، مگر وہ ہماری اپنی ہی تھی۔ اب میری اماں گاؤں کے سارے لڑکوں کو یہ بڑی بڑی گالیاں دے رہی ہے کہ وہ ہماری ککڑی چوری کر کے کھا گئے ہیں۔ تم سارے میرے ساتھ چلو اور اماں کے سامنے قسم اٹھاؤ کہ ککڑی تم نے نہیں پکڑی ،" تم نے تو پکڑی بھی نہیں"، نماز کے بعد ہم گئے تو شاہ جی کی اماں چور کی ماں بہن کو ایک کررہی تھیں کہ ہماری ایک ہی ککڑی تھی جو روزانہ بلا ناغہ انڈہ دیتی تھی۔ ہم نے قسم اٹھائی کہ ماسی ہم ابھی سیدھے مسجد سے نماز باجماعت پڑھ کر آرہے ہیں، ہم نے نہیں پکڑی اور شاہ جی خاموش مسکین صورت بنائے کھڑے تھے کہ کوئی بندہ اپنی ککڑی خود تو چوری نہیں کرتا، شاہ جی کی اماں چور کی ماں کو منہ منہ بھر بھر کر گالیاں دے رہیں تھیں، مگر اپنے آپ کو تو گالیاں نہیں لگتی ناں

مکمل تحریر  »

سوموار, جون 06, 2011

چوں چوں کا مربہ

ہمارے بہت ہی محترم حکیم علی صاحب سے لندن میں تین دن تک تفصیلی ملاقات کی روداد یوں ہے کہ وہ ہمارے میزبان تھے، ایک دن تپے ہوئے یوں روایت کرتے ہیں کہ ، معلوم ہوا ہمارے محلے بیکرز آرم اسٹریٹ کا ایک گورا مسلمان ہوگیا ہے، ہم سب یار لوگ اسکو مبارک دینے گئے مٹھائیاں لیکر، ایک دوسرے کو بھی مبارکاں دیں، کہ لو جی ایک کافر کے منہ سے لگی چھٹ گئی ہے۔ وہ بھی سب کا بشمول ہمارے نہیایت خوشی سے استقبال کررہا تھا، گویا عید کا سماں ہے، ہر بندے کو جپھے پر جپھے پڑ رہے ہیں ، نشست کے دوران ہی میں نے محسوس کیا کہ اسکےلئے ہر کس وناکس ایک عالم جید بنا ہوا ہے، صلاحیں دی جارہی ہیں ، فتوے جاری ہورہے ہیں کہ میاں پانچ وقت کی نماز باوضو ہو کر پڑھنی لازم، ہر ملنے والے کو پہلے سلام کرنا اور ہر سلام کا جواب لازم ، باتھ روم میں یہ یہ کام نہیں ہوسکتا، اور یہ یہ باتھ روم کے باہر نہیں ہوسکتا، ایک صاحب جن کے منہ سے شراب کے بھبھکے آرہے تھے اسے اسلام میں شراب نوشی پر سختی سے ممانت کے احکامات مفصل بیان کررہے تھے، ایک صاحب نے انکو لباس کی بابت شدید لیکچر دیا اور جب وہ اٹھے تو انکی اپنی کمر ننگی ہورہی تھی، ایک صاحب اسے دافع العورات ہونے کے مشورے دےرہے تھے اور اگلے ویک اینڈ پر ہمار ے سامنے ایک پب میں دو گوریوں کو باہوں میں لئے ٹن حالت میں چوم چاٹ رہے تھے۔خیر دن گزرا ایک اور گزرا پھر ایک اور، بات آئی گئی ہوگئی۔۔۔۔۔ ایک دن وہی گورا پھر سب کو مبارکاں دے رہا تھا، کہ لو جی میں فیر عیسائی ہوگیا ہوں، میں حریاں و پریشان اس سے پوچھنے پر مجبور ہوگیا کہ کیوں؟؟ پس وہ پھٹ پڑا کہ میں مسلمان ہوا تھا کہ اچھا اور سادہ مذہب ہے جس میں جبر کوئی نہیں مگر ادھر تو سارا کچھ الٹ ہے، آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ مسلمان تو مجھے ملے ہی کوئی نہیں، کوئی سنی ہے تو کوئی شیعہ ، کوئی وہابی تو کوئی مرزئی، کوئی منہاجی تو کوئی مدنی، کوئی شافعی تو کوئی مالکی۔ کوئی کوفی تو کوئی صوفی۔ مگر مسلمان ؟؟؟؟؟؟ سود کھانے کو سارے تیار ہیں ، مگر سور کھانے کو کوئی بھی نہیں، حالانکہ دونوں حرام بلکہ اول الزکر بلکل ہی حرام ہے۔ غیبت اور جھوٹ ہر بندہ فرض سمجھ کر دن بھر استعمال کرتا ہے، وضو کرنا صفائی کےلئے مگر وضو کی جگہ نہیایت گندی اور کراہت سے بھرپور۔ نماز اللہ کی مگر دھیان بندوں کی طرف ، مسجد میں نماز باجماعت تاکہ تمجھارا پیار و اتفاق بڑھے مگر کیا ہے کہ یہ مولوی صاحب اس کے ساتھ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کو تیار نہیں ہیں۔ اللہ کی منت کم اور پیروں کی منتیں زیادہ، اللہ سے کم ڈرنا اور مولوی سے زیادہ۔ اس طرح اٹھو اور اس طرح بیٹو، یہ پیو اور یہ نہ کھاؤْ۔۔ یہ تو سارا چوں چوں کا مربہ ہی ہے یہ سب دیکھ کر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر یہی کچھ کرنا ہے تو پھر مجھے مسلمان ہونے میں کیا حاصل؟؟

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جون 04, 2011

چاروں سوار

امریکہ کے چار بندے بلکہ بندہ صاحبان و جنابان کو پاکستانی پولیس نے شہری علاقہ میں پورادن آوارہ کردی کرنے کے بعد روک لیا، کوئی چالیس منٹ کے بعد انہوں نے نہ تو کوئی تلاشی دی اور نہ ہی اپنی شناخت کروائی، بعد ازاں بقول ایک عدد پولسے عرف عام چھلڑ کے ان کے پاس چونکہ امریکن پاسپورٹ تھے اور باقاعدہ ویزے لگے تھے۔ لہذا انکو چھوڑ دیا گیا ہے میں سوال کرتا ہوں کہ امریکہ پاسپورٹ ہونا اور اس پر پاکستانی ویزہ کا ہونا ، انکو ہر قانون سے بالاترکرنے کو کافی ہےّ؟؟؟ کیا لازم نہ تھا کہ انکی اور انکی گاڑی کی تلاشی لی جاتی؟؟؟ ان سے سارے دن کی آوارہ گردی کے بارے میں تفتیش کی جاتی؟؟؟ ہوسکتا ہے کہ انکی گاڑی سے اسامہ بن لادن ہی نکل آتا؟؟؟ ہوسکتا ہے اس گاڑی سے کوئی امریکن پالتو خود کش بممبار نکلتا؟؟؟؟ ہوسکتا ہے کہ اس میں سے 6 من چرس نکلتی؟؟؟؟ ہمارے اگر وزیر صاحب بھی ادھر جائیں تو انکے جوتے بھی اسکین بھی ہوتے ہیں۔ کیا اچھا نہیں کہ یہ ملک ویسے ہی امریکہ کے حوالے کردیں کم سے کم فضول میں ذردواریوں، گیالانیوں ، کیانیوں، اور تتے پانیوں سے تو جان چھوٹے

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش