ہفتہ, اکتوبر 29, 2011

امیگریشن و معاشرتی تغیرات

رامونہ  نے مجھے ای میل   کی کہ  ویرونا یونیورسٹی  اور سولکو   مغربی پنجاب پر کچھ ریسرچ کررہے ہیں اور انکو ایک ایسا بندہ چاہئے جو پنجاب کا کلچر بھی جانتا ہے اور انکی اس پروجیکٹ کی تشکیل میں راہنمائی کرسکے۔       میں نے اس رابطہ پر اپنا چھوٹا سا تعارف لکھ بھیجا اور یہ کہ کارلائقہ سے ضرور یاد فرمائیں۔   پرسوں ماریہ  نامی خاتون کا فون آیا اور آج صبح ہفتہ کو ملاقات کا وقت طے پایا،    موصوف خاتو ن  ویرونہ یونیورسٹی کے ساتھ  سماجی نفسیات کے شعبہ میں ریسرچ پر ہیں،    اورادھر پاکستانی امیگرینٹ کمیونٹی چونکہ بہت بڑی ہے لہذا یونیورسٹی نے ایک پروجیکٹ تشکیل دیا ہے کہ میاں دیکھیں تو سہی یہ پاکستانی ادھر آکر جو یہ کھڑاک کرتے پھرتے ہیں ادھر اپنے ہاں کیا ہیں اور کیا کرتے ہیں چکر کیا ہے سینکڑوں نہیں ہزراوں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں ادھر سے ادھر تشریف لا رہے ہیں
۔
اس یونیورسٹی نے یوں کیا کہ  پنجاب یونیورسٹی  کے دو پروفیسرز کو  ادھر دعوت دی دو ہفتے رکھا ، کھانا کھلایا، سیرسپاٹا کروایا ر  کانفرنسیں پڑھواہیں اور  سر پر ہاتھ پھیر ماتھے پر پیار دے انکو  ادھر اپنے دیسے بیجھ دیا

اگلے برس یہ خاتون ادھر دو ہفتوں کو وارد ہوئیں  لاہور سے لیکر گجرات گئیں ادھر کڑیانوالہ گاؤں میں  کوئی چھ دن تشریف فرمارہیں اور دیکھتی رہیں کہ لوگوں کا رہن سہہن کیا ہے   ،  بقول میں چھت پر چڑھ جاتی اور آگے پیچھے کے گھروں کو دیکھ دیکھ کر اندازہ لگاتی رہتی  کہ اس گھر کی حالت بہت اچھی ہے ضرور اس گھر کے کافی بندے باہر ہوں گے،  اس گھر کی مرمت اچھی ہوئی ہے لازمی طور پر انکا ایک آدھ بندہ باہر ہوگا اور کھانے والے پیچھے زیادہ ہونکے ، یہ لگتا ہے کہ ایسا گھر کہ جس کا باہر کوئی بھی نہیں اسی لئے خستہ حال ہے۔   پھر وہ بڑے بڑے ولاز جو اکثر گاؤں کے باہر بنے ہوتے ہیں اور بند ہوتے ہیں یہ ظاہر کرتے ہیں کہ انکے بننانے والوں کے پاس دولت ابھی آئی ہے اور اس طرح آئی ہے کہ انکی کایا پلٹ چکی ہے۔  خاتون کی آبزرویشن یہ تھی کہ یہ جو باہر کا چکر ہے اس نے پنجاب کے معاشرہ اور معاشرتی اقدار کو تہس نہس کردیا ہے۔   کہ  ایک آدمی کے پاس بہت سے پیسے آگئے ہیں اور اس نے ایک بڑی سی کوٹھی بنا لی ہے پھر گلی کے باہر نالی میں کیچڑجمع ہے مگر چونکہ وہ تو حکومت کو بنانی ہے  لہذا وہ کبھی نہیں بنے گی اور اس ولا سے نکلنے والا پاؤں کیچڑ میں ہی پڑے گا۔۔

پھر بات چلی کہ یہ جو معاشرتی تغیر پیدا ہورہا ہے تمہارے ہاں حیرت کی بات ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی ایسا ادارہ نہیں ہے جو اس پر ریسرچ کررہا ہو، جو ان معاشرتی تبدیلیوں پر نظر رکھ رہا ہو،   کوئی ایسا ادارہ جو اس امیگریشن اور اسکے نتیجے میں   پیدا ہونے والے تغیرات    کا مطالعہ کررہا ہو اور اس سونے کی چڑیا کو بہتر انداز میں استعمال کرنے پر کام کررہا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  میں خاموشی سے سنتا رہا اور میرا دل خون کے آنسو روتا رہا ۔۔۔ واقعی ہمارے ہاں ایسا کوئی ادارہ نہیں ہے جو سونے کا انڈا دینے والی اس مرغی کی حفاظت کرسکتا ہو  اور اس طرح دیکھ بھال کہ  یہ طویل عرصہ تک مفید ہو اور یہ  کہ اس پیسے کی چانک ریل پیل سے معاشرہ میں تغیرات کم سے کم برپا ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر کو ن ہے ایسا کوئی بھی تو نہیں کم از کم مجھے تو علم نہیں اگر آپ کو علم ہو تو ضرور لکھیں

اس خاتون نے ایک کتاب بھی لکھی ہے پردہ  یا تحفظ، تعلیم  اور معاشرتی تغیرات  پاکستان سے ہجرت کرنے والے خاندانوں میں

مکمل تحریر  »

جمعرات, اکتوبر 27, 2011

اپنا ہیرو

ہیرو  ہمیشہ ہی بڑا ہوتا ہے اور کچھ کرجاتا ہے یہاں کچھ سے مراد واقعی کچھ  ہے ،    ورنہ ہیرو نہیں اور جو کچھ بھی ہو،  یہ ہیرو  ہر فلم کا اپنا  ہوتا اور پوری فلم اسی کے گرد ہی نہیں بلکہ اسکی کے سر بھی ہوتی ہے۔ مگر فلم کے باہر بھی ہیرو ہوتے ہیں عام زندگی کے خاص لوگ ،     ہر محلے کا ہیرو بھی ہوتا ہے اور کالج کا بھی ،  اس طرح کے ہیرو بابے لوگوں کو ایک آنکھ نہیں بہاتے اور باباز کہتے پھرتے ہیں بڑا ہیرو بنا پھرتا ہے۔

کالج و محلے کے علاوہ کچھ عام زندگی کے خاص ہیرو ہوتے ہیں جو اکثرقومی درجہ کے ہوتے ہیں کچھ وہ جو کچھ کرتے ہیں اور نام پاتے ہیں تمغے حاصل کرتے ہیں ،   مربعے ا ور بنگلے بھی پاتے  ہیں اور کچھ وہ جو بہت کچھ کرجاتےہیں  مگرانکا  نام کوئی نہیں جانتا انکو بہت ہی گھمسانی اردو میں گمنام ہیرو کہا جاتا ہے اس سے کمزور دل لوگ یہ   نہ  سمجھ لیں کہ خدا ناخواستہ  اس کا نام کہیں گم ہوجاتا ہے بلکہ یہ لوگ اتنے غنی ہوتے ہیں کہ  بہت کچھ دینے کے باوجود کچھ بھی نہیں لیتے  انکا کوئی نام تک نہیں جانتا،   البتہ کچھ ہیرو عالمی ہوجاتے ہیں گریٹ الیگزنڈر   طرز کے جو پوری دنیا کے لوگوں کے دماغوں میں گھس بیٹھتے ہیں۔ 

ادھر اٹلی میں جب بھی کبھی تاریخ و ثقافت پر بات ہوتی ہے تو انکے اپنے ہیرو ہیں فلم کے بھی اور تاریخ کے بھی جو جولیس سیزر سے لیکر گارلی بالدی تک پھیلے ہوئے ہیں  جس طرح ہماری تاریخ پاکستان میں محمد بن قاسم سے لیکر ٹیپوسلطان اور پھر قائداعظم کی طرح کے سنگ میل قسم کے ہیرو ملتے ہیں حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم ان  کے ہیروز کو نہیں جانتے اور یہ ہمارے والوں کو ماننے کو تیار نہیں ہیں۔
 
 ملک کے اندر اس وقت جو صورت حال ہے اس میں بھی مختلف لوگوں کے مختلف ہیرو ہیں بقول   مولوی خالدصاحب کے اس وقت پانچ ہیرو موجود  ہیں  ب   ز  ن  ع  اور ف   ۔   ان میں سے ہر کوئی   اپنا  اپنا گروہ رکھتا ہے اور اسکا گروہ دوسرے کو کچھ سمجھتا  نہیں ۔   آج کل ہیرو کےلئے ضروری نہیں ہے کہ وہ باکردار ہو، بہت طاقتور ہو یا پھر ہاتھ میں توپ لئے گھوم رہا ہو۔  ناں  بلکہ پکی ناں ہم اس ہیرو کو  صرف اس لئے ہیرو مانیں گے کیونکہ وہ ہمیں پسند ہے  بھلے اس پر جتنے ہی کیس ہیں رشوت خوری کے یا فیر حرام خوری کے،  بھلے وہ بندے مروا کر ولائت جا بیٹھے، یا پھر ایک دن امریکہ سے فنڈ لائے اور دوسرے دن اسکے خلاف دو دن کا دھرنا دے مارے۔  جتنی بار اسکے دل کرے وسیع ترقومی مفاد میں حکومت میں چلا جائے یہ باہر ہوجائے۔  کوئی مرے کوئی جئے کھسرا گھول پتاسے پیئے کے مطابق عوام مرے یا جئے وہ اپنے بال لگوائے گا یا کبھی کبھار کہہ بھی دے گا کہ جناب اب بس کرو۔

کسی سیانے بندے کے بقول  ہر بندے کا اصلی ہیرو وہ خود ہوتا ہے اور اپنے جیسے سارے بندے اسے اچھے لگتے ہیں،  اگر یہ صاحب قول واقعی سیانا ہے پھر تو خطرے کی گھنٹی ہے اس کی بات  کیونکہ اسکا مطلب ہے کہ ہم  سب ان ہیں جیسے ہیں اگر ہم سب  ب ز ن ع اور ف کی  طرح کے ہیں تو پھر  بطور قوم  ہمارے دن گنے گئے ہیں۔   آپ کا کیا  کہ خیال ہے  بجائے اس  کے کہ کوئی اور سیانا بھی اس طرح کی باتاں کرے  ہمیں اپنے ہیرو تبدیل کر نہیں لینے چاہئیں؟؟

مکمل تحریر  »

بدھ, اکتوبر 26, 2011

فیس بکی اردو

ماہرین لسانیات کے مطابق   زندہ زبان کی نشانی ایک یہ بھی ہے کہ اس میں نئے الفاظ شامل ہوتے رہیں۔ اور یہ الفاظ اس طرح کے ہوں کہ  اس زبان کا حصہ محسوس ہوں،   ہندی زبان میں تو اس مقصد کےلئے ایک تحریک بھی چلائی گئی اور اردو کےالفاظ کے ہندی کرکے ایک کاغذ پر لکھ کو پوتر پانی میں ڈبویا جاتا، اس طرح لفظ  پوتر ہوکر ہندی ہوجاتا،  بقول شخصے
اردو کو ہندی کیوں نہ کریں زبان کو بھاشا کیوں نہ کریں
جب لوگوں کو پسند ہے توفیر یہ تماشا کیوں نہ کریں
اردو    کا  کمپوٹر میں استعمال  ایک طویل و دلچسپ  داستان لئے ہوئے ہے،  ان پیج سے لیکر تحریری اردو تک آنے میں بہت سے برس بیت گئے آج الحمدللہ  ہمارے کمپوٹر اردو دان ہوچکے ہیں ۔   اس ترویج کےلئے میں جملہ احباب کو مبارک باد دوں گا جنہوں نے بغیر کسی معاوضہ و لالچ کے تحریری اردو کا استعمال ممکن بنایا۔  ویسے آج کل فیس بکی اردو عام ہورہی ہے بہت سے انگریزی کے و شعبہ جاتی الفاظ  کو اردو یوں کھا رہی ہے جیسے صدقہ گناہوں کو کھاتا ہے یا سوکھی لکڑی کو آگ ۔
لوڈ  کا مطلب  چڑھانا ہو سکتا ہے مگر ہم اسکو لوڈنا ہی لکھتے ہیں اسی طرح کی کچھ مثالیں مزید دیکھی جاتی ہیں
ایڈٹنا،  مطلب کانٹ چھانٹ کرنا
پیسٹنا ، مطلب چسپاں کرنا یا نقل کرنا
ایڈنا، مطلب شامل کرنا یاداخل کرنا
ڈیلیٹنا، مطلب  منسوخ کردینا
شیئرنا ، مطلب  باہم بانٹ لینا
کومینٹنا،  مطلب تبصرہ کرنا
لائیکنا، مطلب  پسندیدگی کا اظہارکرنا۔
بلاگنا، بلاگ لکھنا۔
اس وقت  بلاگنے کو کچھ وی نہ ہونے کی وجہ سے یہ کچھ لکھ دیا ہے مجھے پورا یقین ہے کہ آپ کے دماغ میں وی دو چار الفاظ لازم ٹھونگے ماررہے ہونگے۔ تو فیر کیا سوچ رہے ہیں نیچے تبصر ہ میں ڈال دیں۔
دروغ برگردن دریائے راوی

مکمل تحریر  »

بدھ, اکتوبر 19, 2011

سربراہ یا دشمن

  

جب ہمیں  گھر میں کوئی مسئلہ ہوتو سیدھے ابا جی کے پاس ،  چاہے بہن بھائیوں کا آپس کا جھگڑا ہوا،   امتحان کی فیس چکانی ہو یا پھر کالج ٹور پر جانے کی اجاز ت چاہئے ہو،  نئی بائیک خریدنی ہو یا اس میں پیٹرول ڈلوانا ہو،     یہیں پر موقووف نہیں بلکہ اگر ہمسائیوں کا کتا گلی میں بھونکتا ہو تو بھی،  کالج کے لڑکوں سے پھینٹی پڑے تو بھی ابا جی اور اگر آوارہ گردی کے چکر میں یا  بغیر لائینس کےڈرائیونگ کرتے ہوئے پولس پھڑ لے تو پھر بھی  ادھر ابا جی۔  مطلب اباجی کا   گھر کا قبلہ و کعبہ کہ ہرچیز انہی کے گرد گھومتی ہے


حکمران ملک کے ابا جان ہوتے ہیں نہ صرف سماجی طور پر بلکہ مذہبی طور پر بھی۔  ہمیں چھوٹا سا  مسئلہ درپیش ہو تو ایک عام آدمی کے طور پر بھاگم بھاک ادھر اپنے نمبردار، کونسلر، ممبر اسمبلی، وزیر   وغیرہ تک حسب  ہمت وتوفیق جیب یا بمطابق حسب ونسب پہنچے ہوتے ہیں یا کوشش کررہے ہوتے ہیں صرف اس خیال سے کہ یہ نیک لوگ جو ہمارے ہمدرد ہیں ہمارے اس مسئلہ کو حل کریں گے۔     بلکل ایسے ہی جس طراں اباجی کی طرف جاتے ہیں

 مگر اس وقت جو حالت ہے اس سے لگتا تو نہیں کہ  یہ اباجی  ہیں،   وہ ہمدرد، شفیق، غصے سے بھرے ہوئے،  بزرگ پر رعب،  ہنسے ہو ئے دوست، طاقت کا سرچشمہ، جو دنیا کے سارے مسائل چٹکی میں حل کردیتے ہیں ، اگر انہوں نے ہاں کہہ دی تو بس کہہ دی  اورناں کا مطلب نہ ہے۔  جن سے شاباش کے تمغے بھی ملتے ہیں اچھے کام کرنے پر اور گالیاں اور چھتر پڑنے کا خوف بھی ہوتا اگر کچھ الٹا سیدھا کرلیا تو۔ 

ابھی تو لگتا ہے کہ گھر کے اباجی ہی  خاندان کی ناس مارنے پر تلے ہوئے ہیں،  اہل خانہ اگر ڈینگی بخار سے مر رہے ہیں تو مریں، سیلاب میں بہہ گئے ہیں تو اچھا ہے ،   بجلی کے بغیر رہ رہے ہیں تو رہیں، پانی ان کے گھروں میں گھس گیا ہے تو خود نالی کھودیں اور نکالیں،  بچے اسکول نہیں جارہے تو نہ جائیں،  محلے کے لوگ ان پر گولیاں برسارہے ہیں تو برساتے پھڑیں۔

نہیں نہیں یہ کام  یہ رویہ ہمارے ابا جی کا نہیں ہوسکتا میں اس  بات پر قسم کھانے کو  ہی نہیں بلکہ مسجد اٹھانے کو بھی تیار ہوں  بقول فیاض بھائی۔   تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ کون ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم تمھارے اباجی ہیں  ابھی جو ملک کا احوال ہے   ظاہر ہے کسی ملک کے ہمدرد کی کاروائی تو ہ نہیں سکتی بس اس میں ملک دشمن ہی ملوث ہیں، ویسے تاریخ یہ بات ابھی نہیں بھولی کہ پی پی کو جب بھی کھل کھیلنے کا موقع ملا تو یہی کچھ ہوا بھتو نامی شخص نے ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ لگایا اور ٹھاہ ملک دو ٹکڑے  ،  ابھی زرداری چار کرے گا ،  ایک  لاور بابا بھی اسی خاندان سے متعلقہ ہے سر شاہنواز بھٹو نام کا جو انگریزوں کی طرف سے ریاست جونا گڑ کا دیوان مقرر ہوا اور فیر اسکا وی دیوالا    نکال دیا ،   کرلو گل ابھی بھی یہ ڈاکٹر ملک، ڈاکٹر اعوان،  ڈاکٹر ذرداری،   ڈاکٹر گیلانی   اور دیگر تمام جو اپنا  آپ کو ملک کا اباجی سمجھتے ہی نہیں کہلواتے بھی ہیں،    کون جانے سچ کیا اور جھوٹ کیا؟؟؟

مکمل تحریر  »

لائیکنا اور حاجی ساب

 ہمارے ہمسائے میں اللہ مغفرت کرے چچاحسین عرف عام میں حاجی ساب رہتے تھے اب عازم جنت ہوچکےہیں شام کو جتنی مشٹنڈا پارٹی ہوتی انکے زیر سایہ تاش کھیل رہی ہوتی، تاش کم اور مخولیات زیادہ ہوتیں، ادھر آنکھ جپکی نہیں ادھر پتااڑا نہین۔ ہارون الرشید تب کا روونا اس کام میں سب سے ماہر تھا میرا ساتھی ہوتا اورجب بھی بانٹنے کی باری ہماری ہوتی مطلت ہار تو فوراُ اسکا کام تھا سارے کارڈ لپیٹ کر اپنے ہاتھ کرلینا کہ لوجی میں پھینٹی لگا دون بس فیر کیا ہوتا، تقسیم ہوتی پوری پوری اور شاہ جی کہہ دیتے رونیا توں نے ضرور چول ماری ہے، سارے کہہ اٹھتے شاہ جی اس نے کیا کیا ہے کارڈ تو ساروں کے پورے ہیں۔ شاہ جی  کا کہنا ہوتا کہ پتا مجھے وی نہیں کہ اس نے کیا کیا ہے پر کچھ نہ کچھ کچھ چکر کیا ضرور ہے اٹھ تلاشی دے اور پھر  یکے شاہ بیگی کے درجے کے دو کارڈ اسے کے کھیسے میں سے جانے کیسے نکل آتے۔۔

حاجی ساب اس سارے قضئے سے بے خبر ادھر منڈوں کو اپنے دن کی روداد سنارہے ہوتے کہ سویرے ادھر کالج گیا اپنی ایبسینٹی لگوائی اور فیر فور۔ اوتھوں مہانے کے ہوٹل پر چاہ پی فیر ماشٹر مقبول کے پاس گیا اور ادھر سیل ککڑ کو مالش کی فیر ککڑ وہاں  پر لڑوا کر زرا اسکا پنڈا تپا کر وہاں سے گھر اور مال مویشیوں کے چارے پانی کا بندوبست،  دیکھا فیر جب تم لوگ کالج سے پڑھ کرآئے تومیں اپنے کام مکا کر بیٹھا تھا کہ منڈے آتے ہیں تو زرا کابینہ کی بیٹھک ہو۔۔

یہ لائیکنے کی بیماری فیس بک پر کافی زور پکڑ چکی ہے اور اس سے مجھے وہ اپنے حاجی ساب کی ایبسینٹی یاد آجاتی ہے ۔اکثراحباب ایسے ہی ہیں جو کسی پوسٹ کو دیکھ کر لائیک کا بٹن دبادیتے ہیں کہ اللہ اللہ خیرصلہ، مطلب حاضری لگوا اور جان چھڑاؤ سعد میاں وی کچھ ایسے ہی کرتے ہیں جب بھی پوسٹ لکھی دیکھی ادھر کچھ اپنا خیال ظاہر کرنے کی بجائے لائیکا اور فیر سانوں کی۔۔بھئی اگر آپ کو اتنا پسند ہی آگئی ہے یہ پوسٹ تو فیر اپنے خیال کا اظہار کردو، کچھ لکھ دو کون سے آپ کے قلم کی سیاہی سوکھ جاوے گی۔ پر نہیں کون اتنا وخت کرے؟؟؟؟  

مکمل تحریر  »

ہفتہ, اکتوبر 08, 2011

بارگاہ رسالت میں ایک بیٹے کا مقدمہ

حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس ایک صحابی آئے اور کہنے لگے یا رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میرا باپ مجھ سے پوچھتا تک نہیں اور میرا مال خرچ کر لیتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اچھا بلاؤ اسکے باپ کو۔ انکے باپ کو پتہ چلا کہ میرے بیٹے نے بارگاہ نبوت میں میری شکایت کی ہے تو انہوں نے دکھ اور رنج کے کچھ اشعار دل میں پڑھے، زبان سے ادا نہیں کیے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس پہنچے تو ادھر جبرائیل امین آگئے۔ کہنے لگے یا رسول اللہ ، اللہ فرمارہے ہیں کہ اس سے فرمائیں پہلے وہ اشعار سنائے جو تمہاری زبان پر نہیں آئے بلکہ تمہارے دل نے پڑھے ہیں اور اللہ نے عرش پر ہوتے ہوئے بھی انکو سن لیا ہے ۔

حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی فرمائش پر وہ صحابی کہنے لگے یا رسول اللہ ! قربان جاؤں آپ کے رب پر وہ کیسا رب ہے میرے اندر تو ایک خیال آیا تھا اللہ نے وہ بھی سن لیا۔ فرمایا: اچھا پہلے وہ اشعار سناؤ پھر تمہارے مقدمے کا فیصلہ کریں گے ۔یہ اشعار عربی میں ہیں ۔ انکا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے ۔

ترجمہ



اے میرے بچےمیں نے تیرے لیے اپنا سب کچھ لگا دیا

جب تو گود میں تھا تو میں اس وقت بھی تیرے لیے پریشان رہا

تو سوتا تھا اور ہم تیرے لیے جاگتے تھے

تو روتا تھا اور ہم تیرے لیے روتے تھے

اور سارا دن میں تیرے لیےخاک چھانتا تھا اور روزی کماتا تھا

اپنی جوانی کو گرمی اور خزاں کے تھپیڑوں سے پٹواتا تھا

مگر تیرے لیے گرم روٹی کا میں نے ہر حال میں انتظام کیا

کہ میرے بچے کو روٹی ملے، چاہے مجھے ملے یا نہ ملے

اس کے چہرے پر مسکراہٹ نظر آئے

چاہے میرے آنسوؤں کے سمندر اکٹھےہو جائیں

جب کبھی تو بیمار ہو جاتا تھا تو ہم تیرے لئے تڑپ جاتے تھے

تیرے پہلو بدلنے پر ہم ہزاروں وسوسوں میں مبتلا ہو جاتے تھے

تیرے رونے پر ہم بے قرار ہو جاتے تھے

تیری بیماری ہماری کمر توڑ دیتی تھی اور ہمیں مار دیتی تھی

ہمیں یوں لگتا تھا تو بیمار نہیں بلکہ میں بیمار ہوں

تجھے درد نہیں اٹھا بلکہ مجھے درد اٹھا ہے

تیری ہائے پر ہماری ہائے نکلتی تھی

اور ہر پل یہ خطرہ ہوتا تھا کہ کہیں میرے بچے کی جان نہ چلی جائے

اس طرح میں نے تجھے پروان چڑ ھایا اور خود میں بڑھاپے کا شکار ہوتا رہا

تجھ میں جوانی رنگ بھرتی چلی گئی اور مجھ سے بڑ ھاپا جوانی چھینتا چلا گیا

پھر جب میں اس سطح پر آیا کہ اب مجھے تیرے سہارے کی ضرورت پڑی ہے

اور تو اس سطح پر آگیا ہے کہ تو بے سہارا چل سکے



تو مجھے تمنا ہوئی کہ جیسے میں نے اسے پالا ہے یہ بھی میرا خیال کریگا

جیسے میں نے اسکے ناز برداشت کیے ہیں ، یہ بھی میرے ناز برداشت کریگا

لیکن تیرا لہجہ بدل گیا ، تیری آنکھ بدل گئی ، تیرے تیور بدل گئے

تو مجھے یوں سمجھنے لگا کہ جیسے میں تیرے گھر کا نوکر ہوں

تو مجھ سے یوں بولنے لگا کہ جیسے میں تیرا زر خرید غلام ہوں

تو یہ بھی بھول گیا کہ میں نے تجھے کس طرح پالا

تیرے لئے کیسے جاگا، تیرے لئے کیسےرویا ،تڑپا اور مچلا

آج تو میرے ساتھ وہ کر رہا ہے جو آقا اپنے نوکر کے ساتھ بھی نہیں کرتا

اگر تو مجھےبیٹا بن کر نہیں دکھا سکا

اور مجھے باپ کا مقام نہیں دے سکا

تو کم از کم پڑوسی کا مقام تو دیدے،

کہ پڑوسی بھی پڑوسی کا حال پوچھ لیتا ہے

اور تو بخل کی باتیں کرتا ہے


یہ اشعار سننے پر حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس نوجوان سے فرمایا “ اٹھ جا میری مجلس سے ، تو بھی اور تیرا مال بھی تیرے باپ کا ہے

ہوشیار کہیں ہمارا رویہ بھی تو اس بیٹے جیسا تو نہیں؟؟ یہ نہ ہوکہ ہم بھی وہی کررہے ہوں جو اس بیٹے نے کیا اور مجلس سے اٹھائے جانے کے قابل ہوں۔۔۔ ہوشیار اور پھر ہوشیار

مکمل تحریر  »

ہفتہ, اکتوبر 01, 2011

الزامیات

ایک پرندہ اڑتا اڑتا اچانک ایک جہاز سے ٹکراتا ہے، جہاز کو آگ لگ جاتی ہے، جلتے جلتے زمین پر گرتا ہے، نیچے ایک کالونی ہے وہ گھروں کو بھی آپ لگ جاتی ہے۔ پرندہ بھی مرجاتا ہے۔ جہاز میں سوار عملے سمیت سارے مسافراندر ہی ہلاگ ہوجاتے ہیں البتہ پائلٹ کود جاتا ہے مگر نیچے گزرتی ہوئی بجلی کی تاروں میں اٹک کر مرجاتا ہے۔ نیچے کالونی کے لوگوں میں سے بھی بیسیوں مرتے ہیں اور بہت سے زخمی۔۔۔

اب پرندے کے لگتے جہاز کو مورد الزام ٹھرا رہے ہیں، مسافر اور عملے کے لوگ پائلٹ کو، وہ واپڈا والوں کو، کالونی والے فلائی کمپنی کو۔۔ ۔۔۔  ۔۔ ۔۔۔اور۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔  فضائی کمپنی پرندے کی اس پوری نسل کو گالیاں دے رہے ہیں۔۔۔۔۔ اب کون جانے وہ پرندہ اصلی تھا یا امریکہ بہادر کا ڈرون؟؟؟؟  کیا کوئی بتا سکتا ہے؟؟؟؟؟

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش