اتوار, ستمبر 02, 2012

فرعون اصلی والا

کچھ دنوں سے ادھر فیس بک پر دیکھ رہا ہوں کہ کسی بھی مصری ممی  کی تصویر پکڑ کر اسے فرعون قراد دے کر جاری کردیا جاتا ہے کہ" جی توبہ توبہ ، دیکھا فیر کیا حال ہوا اس ظالم کا"  ، ایک صاحب سے اس موضوع پر بات ہوئی تو انکا کہنا تھا کہ اچھا یہ فرعون نہیں ہے تو پھر کون ہے کہ اس کے منہہ پر بھی لعنت پڑی ہوئی ہے، کوئی پوچھے کہ میاں ہم ایک دن منہہ نہ دھوئیں تو یار لوگ کہہ دیتے ہیں کہ کیا پٹھکار پڑئی ہوئی ہے، یہ بچارہ جانے کون ہے اور کب سے اس کی لاش حنوط شدہ پڑی تھی کسی مقبرے میں، مصر میں لاشوں کو حنوط کرنا اتنا ہی عام ہے جس طرح ہمارے ملک میں زندوں کو ٹھکانے لگانا ، مگر وہ سارے ہی فرعون تو نہ تھے، البتہ اسکے چیلے چانٹے، لگتے لائے، منشی مشدے، نوکر چاکر  ضرور ہوسکتے ہیں، پھر یہ بھی کہ فرعون مصر کے بادشاہ کا خطاب تھا جس طرح ہمارے ہاں  ہر رشوت خور کو ذرداری کہا جاتا ہے۔ 

ادھر اٹھارویں صدی کے دوسرے نصف میں ادھر سے ہزاروں کے حساب سے ممیاں مقبروں سےبرآمد ہوئیں اور یار لوگوں نے حسب توفیق ان پر اور انکے ساتھ ملنے والی قیمتی اشیاء پر ہاتھ صاف کیا، مگر یہ کہ ممیاں کوئ  انہوں نے چوپنی تھوڑی تھیں، پس ادھر مختلف میوزمز کی زینت بنی، مگر دوران کھودائی پائے جانے والے دیگر مال بیش قیمت و زروجواہرات 
کا کبھی ذکر تک نہ ملا۔ 


چند ایک ایسی عالمگیر شخصیات جنکو ہم بغیر دیکھے  ہی جان گئے اور یہی نہیں اسکی موجودگی پر بھی کبھی کسی شک کا اظہار نہیں کیا میں سے ایک فرعون بھی، ہم ہی کیا بہت سے لوگوں کا یہی احوال ہے،  کچھ تو فرعون کو اتنے نزدیک سے جانتے ہیں گویا ایک ساتھ پڑھتے رہے ہوں،  فوراُ کہہ دیں گے" لو جی ، یہ تو ہے ہی فرعون، میں نے تو دیکھتے ہی کہہ دیا تھا"۔ ایک الگ بات ہے کہ  عمومی طور پر اسے کوئی نیک نام آدمی نہیں سمجھا جاتا، بلکہ  کچھ بزرگوں  کے اقوال ذریں و غیر سے تو یہی لگتا ہے، نہیایت کھوچل اور بدنام آدمی تھا۔  خیر بقول شاعر "بدنام ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا"۔

بعد میں معلوم ہوا کہ  فرعون ہر بندے کے اندر گھسا ہوا ہوتا ہے، اور ہمارے اندر بھی، اسی لئے تو کچھ لوگ   کبھی کبار ہمیں بھی فرعون کہہ دیتے ہیں، آپ کو بھی کہتے ہوں گے،  ہم کیا جانیں۔

ویسے تو ہمارا دل ہےہی" ٹھرکی" قسم کا،  بس جو چیز دل کو لگی ادھر چل دیئے۔  مصر بھی دنیا کے ان بہت سے ممالک و مقامات میں سے  ایک  ایریا ہے جہاں  شروع سے ہی ہمارا جانے کو دل کرتا تھا  خیر، اب بھی کرتا ہے، ادھر جانے کی وجہ بھی حضرت موسیٰ  علیہ سلام   کم اور فرعون زیادہ  رہا، شاید اسکی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے تاریخ دانوں نے فرعون کے بارے لکھ لکھ کر کشتوں کے پشتے لگا دیئے  ، حضرت موسٰی ؑ کے بارے میں کچھ لوگوں نے لکھا ،  ظاہر جو جس پارٹی سے ہوگا اسی بارے ہی لکھے گا۔

مصر جانےکی ہماری آس تب بندھی  اور لگا کہ "وقت وصال فرعون " قریب ہے  جب ہم نے ٹورازم کے شعبہ میں قدم رکھا، مگر ہائے وہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا اور مصر ائیر لائیز کی طرف سے فرعون کی ممی والی ایک پورٹریٹ پر ہی گزارا کرنا پڑا۔  پھر کچھ عرصہ بعد  پاکستان گھر کو منہ کیا تو وہ پورٹریٹ بطور خاص ابا جی کےلئے تحفہء  نایاب کے طور پر رکھ لیا، مگر جب نکال انکے سامنے کیا تو ماحوال کچھ اور ہوگیا، انہوں نے پسندیدگی تو کیا بس پکڑ کرفوراُ ادھر پھینکا  کہ " کنجرا میں کوئی فرعون دا یار ہاں"  اور یہ کہ میں اور فرعون کو گھرمیں گھسنے دوں اس نحش کو۔

مئی میں جو تورینو میں جب  ایک کورس کےسلسلہ میں  جانا ہوا  تو  ایجیصیو میوزیم  دیکھے بنا   نہ رہا گیا، کہ قاہرہ کے بعد مصری تہذیب کا دوسرا بڑا میوزیم ہے اور مصر سے باہر یہ واحد میوزم ہے جو صرف اور صرف مصری تہذیب کے بارے ہے، گویا فرعون سے پکی یاری ہے ان تورینو والوں کی،   کورس کے دورا ن  مقامی اطالوی  کورس میٹ   اور کولیگ "کوستانسا" سے اس خواہش کا ذکر کیا،  تس پر محترمہ فوراُ رضامند ہوگئیں کہ میں بھی اس شہر میں کوئی 4 برس سے رہ رہی ہوں مگر   نہ دیکھ سکی، پرسوں کورس کے آخری دن  تمھارے ساتھ ہی چلوں گی،  ہائے ہائے وہ کہہ رہی تھی اور ہمارے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے۔ مطلب چوپڑی  بھی اور دو دو بھی

یہ جو تصاویر ہیں یہ بھی کوستانسا نے ہی سینڈی ہیں بعد میں

16 تبصرے:

  • علی says:
    9/02/2012 11:45:00 PM

    تشنگی رہ گئی۔ خاتون کا ذکر گول ہی کر گئے آخر میں آپ کہ دورہ میوزم بمعہ میزبان کے کیسا رہا؟

  • افتخار راجہ says:
    9/02/2012 11:52:00 PM

    جناب تھوڑا تجسس، طوالت کے ڈر سے سارا نہ لکھا، ابھی اس موضوع کو چلایا جائے گا، صبر

  • Abdul Qadoos says:
    9/03/2012 02:25:00 AM

    اعلٰی جناب اعلٰی
    جو تصویر ابا جی نے اٹھا کر پرے ماری تھی اُس کا کیا بنا پھر کس فرعون کو تحفۃ پیش کی؟

  • Jamshaid Iqbal says:
    9/03/2012 03:35:00 AM

    best ever..... photoshop islam

  • محمد بلال خان says:
    9/03/2012 06:36:00 AM

    ایک ممی جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کئی سالوں سے کہ وہی اصل فرعون کی ممی ہے سونے کہ ایک مورتی نما تابوت میں رکھی ہوئی ہے ۔ جس کو دیکھ کر لگتا تو یہی کہ اصل ہے کیونکہ واقعات جو پڑھے ہیں فرعون کے بارے میں انہیں اس ممی پر رکھا جائے تو کچھ اصل ہی لگتا ہے۔

  • افتخار راجہ says:
    9/03/2012 09:56:00 AM

    عبدلقدوس صاحب اس تصویر کا کیا ہونا تھا وہ بس ضائع ہوگئی، یاد نہیں شاید چلا دی گئی تھی، کہ فرعون نوں ساڑ دو

  • افتخار راجہ says:
    9/03/2012 12:42:00 PM

    جمشید اقبال صاحب، پسندیدگی کا شکریہ، فوٹوشاپ اسلام کی سمجھ نہیں آئی کہ آپ کیا کہنا چاہ رہے تھے، اگر پھر چکر لگے تو وضاحت ضرور کردیجئے گا۔

  • یاسر خوامخواہ جاپانی says:
    9/03/2012 12:44:00 PM

    فرعون پہ لکھ کر آپ نے ثابت کر دیا
    کہ
    آپ فرعون کی پارٹی کے ہیں۔
    سنا ہے جی شریف قسم کے بھی فرعون صاحب ہوتے تھے۔
    ان بیچاروں کا کوئی ذکر کیوں نہیں کرتا؟
    فرعون کے ساتھ بھی ہم مسلمانوں نے وہی ہاتھ کیا جو آجکل ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔
    جتھے بم پھٹیا تے اوتھے ہی مسلمان دہشت گرد ۔۔۔ہیں جی

  • افتخار راجہ says:
    9/03/2012 12:45:00 PM

    بلال خان، فرعون مصر کے بادشاہ لقب اختیار کرتے تھے، اور انکی تعداد شینکڑوں کے حساب سے ہے، مگر چو مشہور ہیں وہ دو ہیں ہی ایک جو رعمسس تھا اور توتن خامن ، یہ والا اپنے سونے کے ماسک کی وجہ سے مشہور ہے۔

  • محمد سعد says:
    9/03/2012 07:21:00 PM

    ملتے جلتے ناموں سے دھوکہ نہ کھائیں۔ اصلی فرعون کے لیے یہیں تشریف لائیں!

  • عمیر ملک says:
    9/03/2012 09:34:00 PM

    یعنی کہ ابھی فرعونیت برقرار رہے گی بلاگ پر۔ میں نے تو کئی ایک تصاویر میں ممی کے نیچے نمرود تک لکھا دیکھا۔ بس جی، جو پسند آ جائے پاکستانیوں کو، پھر اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔

  • افتخار راجہ says:
    9/03/2012 10:42:00 PM

    یاس صاحب فرعون سے یار تو پکی ہے اتنی ہی پکی یہ تو ہمارے اندر گھسا ہوا

  • افتخار راجہ says:
    9/03/2012 10:44:00 PM

    عمیر ملک صاحب، تمرود کے بارے پھر کسی موقع پر بات ہوگی، آجل فرعون ہمارے دماغ میں گھسا ہوا پاکستانیوں کی فرعونیت تو پہلے بھی مشہور ہے، پھر

  • جعفر says:
    9/06/2012 07:34:00 PM

    مزے کا لکھا ہے۔
    وہ فرعون کی پارٹی والی بات اور آپ کے ابا جی کا آپ کو دیا ہوا لقب، جو یقینا حسب حال ہی ہوگا کہ والدین سے زیادہ کون جان سکتا ہے اپنے بچونگڑوں کو ۔۔

  • سحرش انصاری says:
    8/11/2015 11:25:00 AM

    ہاہاہا مزے دار انداز و بیاں
    پر مجھے کوستانسا کی سینڈی گئی تصویریں نظر نہیں آ رہیں

  • Nasreen Ghori says:
    8/31/2015 02:38:00 PM

    تصاویر نس گئی ہیں جی بلاگ سے

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش