سوموار, جنوری 16, 2012

کھوتا مرا؟؟؟



ارفع کریم تو مرگئی، اپنی موت، چنگی ہوگئی۔ کچھ اچھا کرگئی اور کچھ اچھا چھوڑ گئی۔ پنجاب میں کہتے ہیں کہ جسدی ایتھے لوڑ اہودی اگے وی لوڑ، پر جیڑھے عاشورا کے چالیسوں کے جلوس میں مرے اور جو جو نہیں مرے، جو یتیم ہوئے اور جو نہیں 
,ہوئے، جو عورتین بیوہ ہوئیں اور جو نہیں ہوئیں، 


انکے بارے بل گیٹ کی کیٹ نے میاؤں تک نہین کی، ہت تیرے کی۔ کیا انسان وہ ہے جو مائیکروسافٹ اشپیشلسٹ ہوکر  
مرا ،  کیا باقی سب کھوتےمرے؟؟؟  ہیں جی



مکمل تحریر  »

منگل, جنوری 10, 2012

عوامی کھسرے

پاکستان کی عدلیہ کہتی ہے کہ وزیر اعظم گیلانی کوئی ایماندار بندہ نہیں ہے، بئ عوام تو کب سے چیخ رہی ہے، اب بھی کیا ہوگا، بیان دے دیا، کام ختم۔ ابھی جو کچھ جیسا ہے ویسا ہے کی بنیاد پر ہی کام چلے گا۔ کھسرے صرف بدعا ہی دیتے ہیں کسی کو برابھلا کہہ کہ چپ ہوجاتےہیں اور نقصان نہیں پہنچاتے، یہاں تک تو کھسرا ہومیوپیتھک دوا کے موافق  ہوا کہ نقصان والی گل کوئی نہیں۔

پنڈ میں جب کھسرے آتے تو یار لوگوں کی رونق ہوجاتی مگر بڑی بوڑھیاں ، دادیاں نانیاں یہ کہتیں کہ کھسرا بڑا معصوم ہوتا ہے اور یہ کہ کھسرے کو ستانا نہیں اور نہ ہی انکار کرنا کسی چیز سے ،  اس کا دل نہیں دکھانا کہ کھسرے اور بلی کی بدعاساتویں آسمان تک جاتی ہے۔

میرے خیال سے بات غلط العام کے طور پر مشہور تھی ،  اگر یہ بات سچ ہے تو فیر ہمارے ملک میں بسنے والے بیس کروڑ عوام کی بدعاؤں سے ذرداری کو ہارٹ اٹیک کیون نہیں  ہوا، اسرائیل کی توپوں میں کیڑے کیوں نہیں پڑے، امریکی مزائیلوں میں سے چیچڑ کیوں نہیں نکلے،  بس جی چار دنوں کی چاندنی پھر اندھیری رات ہے، ہم یہ سب لے دے کر بھی جو جیسے ہے جہاں پر ہے ایسے ہی اور وہین پر ہی کام چلائے

مکمل تحریر  »

سوموار, جنوری 09, 2012

ٹیگ کہانی

لو جی وقار اعظم صاحب نے ادھر ٹیگ دیا اور باوجود وعدہ کے اس دن جواب نہ دے سکا، انکا شکریہ اور ان سے دیر کےلئے معذرت بھی۔
  جوابات
1- ۲۰۱۲ میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟
ج-
ویسے تو روم کی  کہاوت ہے کہ کچھ نہ کرنا بہت مزیدار ہوتا ہے، مگر کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑتا ہے ،  کیا اس بارے ابھی فیصلہ کرنا باقی ہے
2- ۲۰۱۲ میں کس واقعے کا انتظار ہے؟
ج- مایا کے کیلنڈر کے مطابق تو اس دسمبر کو دنیا کا دھڑن تختہ ہورہا ہے، مگر ہماری پاکستانی سیاہ ست میں اس بہت پہلے ہی بہت کچھ ہوجائےگا،  کچھ اچھا ہونے کی دعا اور انتظار ہے
3- ۲۰۱۱ میں کوئی کامیابی ؟
ج- یار زندہ صحبت باقی، اللہ نے گزشتہ برس ایک بڑے بحران میں ڈال کر نکال لیا اور پھر سے صحت عطا فرمائی،   یہ میری کامیابی نہیں ہے، اللہ تعالٰی کی عطا ہے۔  ایک کامیابی یہ بھی رہی کہ  سمجھ آگئی کہ  ہر بندہ قابل اعتبار نہیں ہوتا خاص طور پر چاپلوس  اور  نیچ سے بچو۔
4- سال ۲۰۱۱ کی کوئی ناکامی ؟
ج- گزشتہ برس  ایک رکا ہوا سال تھا، بہت سے معاملات خراب ہوئے البتہ سال کے آخر تک  سدھر بھی گئے، اللہ کا بہت کرم و فضل رہا  
5- سال ۲۰۱۱ کی کوئی ایسی بات جو بہت دلچسپ اور یادگار ہو؟
ج- بلکل یاد رہے گا جی یہ برس،  معاملات دلچسپ کم اور دل پر لینے والے زیادہ تھے،  سب  سے دلچسپ بات یہ ہوئی کہ پاکستان  نہیں جاسکا گزشتہ برس اور غمگین بات بھی یہی ہے۔
6- سال کے شروع میں کیسا محسوس کر رہے ہیں؟
ج- سال کے شروع میں سردی محسوس کررہا ہوں، بہت ٹھنڈ ہے جی ان دنوں ، اوے ہوئے ہوئے
7- کوئی چیز یا کام جو ۲۰۱۲ میں سیکھنا چاہتے ہیں؟
ج- ساییکو نیورو اینڈوکرائین امیننٹی کے علم کو سیکھنے کی سر پیر کوشش ہوگی اور ہندی لکھنا بھی سیکھنا چاہوں گا اس برس۔

  اسی سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے مذید ٹیگا جاتا ہے یعنی کہ دعوت جوابات دی جاتی ہے۔ شاکر عزیز صاحب ، عبدلقدوس صاحب ، یاسر خوامخواہ جاپانی صاحب


مکمل تحریر  »

بدھ, جنوری 04, 2012

میمو اور میں

نصیر صاحب  میرے تالاب علم ہیں ادھر ، کچھ دن اٹالین مجھے سے پڑھ کیا لی بس شاگرد ہی بیٹھ گئے ، اور ایسے بیٹھے جیسے کوئی بیمار کی جڑوں میں بیٹھتا ہے،  ہر وقت سر جی یہ اور سرجی وہ ،  البتہ بندے بہت لیجنڈ اور پر مغز ہیں، جب بہت تپے ہوئے ہوں تو پھر آگ اگلنے کو میرے پاس،  انکا    اور  دیگر  احباب کا  دسمبر سے  یہ  خیال  ہے کہ نئے سال میں بدلے گا کچھ نہ کچھ،  عام بندوں کا یہی خیال تھا بشمول میرے۔   کیا بدلے گا اس بارے کچھ زیادہ تحقیق نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی نے سنجیدگی سے اس بارے سوچا،   اس وقت سب کچھ تو گزشتہ برس کا ہی چل رہا ہے،  وہی بجلی کی بندش،  گیس کی عدم دستیابی،  نوکری نہیں  ہے تو تنخواہ کوئی نہیں، رشوت، مہنگائی،  دہشت گردی، چوربازاری، معاشی و سماجی عدم تحفظ۔
اٹلی میں برلسکونی سے پہلے بائیں بازو کی حکومت تھی اور پروڈی وزیراعظم تھا،  حکومت بڑے منت سماجت  سے اور چند ایک ووٹوں سے بنی اللہ  اللہ کرکے ،  مگر ایک وزیر کی بیوی پر رشوت لینے کا الزام لگا اور وزیر صاحب نے نہ صرف خود استعیفٰی دیا بلکہ  ساتھ ہی حکومت بھی دھڑام سے گری، ایک تو اسکی وجہ یہ تھی کہ اکثریت کھو بیٹھی اور دوسری مورال  کا جانا ۔
ہمارے یہاں ملک کے صدر کے جہیتے سفارتکار پر ملکی دفاع پر سودے بازی کا الزام لگا  چاہے جس نے ہی لگایا مگر حرام ہے کہ حکومت  نے اسے سنجیدگی سے لیا ہے، کبھی کچھ کبھی کچھ،  حقانی نے استیفیٰ دیا  تو عوام کے کان کھڑے ہوگئے، صدر صاحب بیمار ہوکر دبئی جا لیٹے ادھر وزیر باتدبیر تھے کہ انکا موت نکالنے پر تلے ہوئے تھے، وزیراعظم کسھیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق  فرماگئے کہ اگر صدر پر کوئی الزام آیا تو میں اپنی گردن دوں گا،    اوپر سے رونقی وزیر اور اب نصف صدر جماعت بھی پروفیسر، ڈاکٹر ملک بابر اعوان وکیل ، ماہر لطیفہ جات و فضول بیانات  نے اپنے پرمغز بیانات سے جلتی پر تیل کا کام کیا اور  اب یہ حال ہے کہ ہر پاسے میمو میمو ہورہی ہے، 
بابا بھلے شاہ کے بقول
میمو میمو کردی میں آپے میمو ہوئی،   میمو ہی مینوں آکھو سارے حکومت نہ اکھو کوئی

مکمل تحریر  »

سوموار, جنوری 02, 2012

سیاہ ست دانیاں

کچھ سیاہ سی بیانات پر ہماری عقل سلیم کے مطابق عوامی تبصرے ایک آم آدمی کی حیثیت سے میں تو یہی کہہ سکتا ہوں کہ جناب ہن رہن دیو تے عوام نوں وی کج کہن دیو


   پاکستان کے وفاقی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم نے کہاگیس بحران کو سیاسی رنگ دیا جارہاہے 
تو کیا سے مذہبی رنگ دیا جاہئے فیر آپ کے خیال شریف میں

پاکستانی راستےسپلائی کی بحالی نیٹوپرمید   ، افغانستان میں موجود نیٹو فوج
جی بلکل جب تک رزرداری موجود ہے تب تک آپ کو امید سے ہونے سےکون روک سکتا ہے۔

عدالتی سزاپرحقانی کوصدارتی معافی دینےکاامکان,  ، ایکسپریس نیوز
صدر صاحب کو چاہئے کہ وہ اس سزا یافتہ قوم کو بھی صدارت سے معافی دینے کا سوچیں،

پتہ نہیں صدر سے کون ملاقات کرانا چاہتا ہے        ، نواز شریف
میاں صاحب کیا واقعی آپ اتنے سادے ہیں، بال لگوا کر تو بندے کو اس طرح کی باتین نہیں کرنی چاہئیں

میموگیٹ تحقیقاتی کمیشن کا اجلاس، حسین حقانی پیش نہ ہوئے،      جنگ نیوز
کیوں اس نے کوئی گھاس کھایا ہوا ہے کہ پیش ہوکر چھتر کھائے، اپنے کئے ہوئے سب کو پتا ہوتے ہیں

       ڈاکٹر فاروق ستارالطاف حسین نے نئے صوبے بنانے کا وعدہ پورا کردیا
تو فیر الطاف حسین جان کی امان، باقی کراچی کے امن ، خوشحالی دینے اور غربت دور کرنے کے وعدے تھے انکا کیا ہوا، وہ   بھی پورے کر کے جلدی سے لوٹ آؤ وطن کو


  عمران خان کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا آج    نہ تنقید کی کیسی پر  نہ ہی نعرے
اللہ خیر کرے، نصیب دشمناں کہیں خانصاب کی طبیعت تو خراب نہیں؟ یا چپ کا روزہ رکھ لیا ہے


یہ سب کچھ جو میرے دماغ میں آیا، اگر آپ اس سے مختلف سوچتے ہیں تو لکھ دیں تبصرہ میں 

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش