جمعرات, فروری 23, 2012

بلوچستان، جہلم اور اٹلی


ویسے تو آج کل ہر طرف بلوچستان بلوچستان ہورہی ہے، مگر میں سوچ رہا تھا،  کیا فرق ہوا  جہلم اور بلوچستان میں؟  یا میرپور آزاد کشمیر اور بلوچستان میں  ؟  یا نواب شاہ میں، یا لاڑکانہ میں؟؟؟ میرے گراں میں اور بلوچستان  کے ایک پسماند ہ  دور دراز گوٹھ میں؟؟؟

ابھی آپ کہیں گے کہ لو جی ڈاکٹر صاحب کی تو مت ہی ماری گئی ہے، یا لازمی طور پر انہوں نے آج مشہور اٹالین شمپائن "کا دیل بوسکو   "کی بوتل چڑھا لی ہے، جی نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

ہاں کل سے زکام  نے مت ماری ہوئی ہے،  بلکہ ناس ماری ہوئی ہے،   ادھر تک پہنچتے وقت چار بار چھینک چکا ہوں، ناک میں گویا مرچیں بھری ہوئی ہیں  اور دماغ میں بھوسہ (یہ اگر میں نہ لکھتا تو آپ نے کہہ دینا تھا، بہت سے قارئین  کو جانتا ہوں اب)۔مگر اس کا مطلب قطعی طور پر یہ نہیں ہے کہ میں پاگل ہوگیا ہوں،    بلکہ یہ سوال اپنے آپ سے بقائمی ہوش  و حواس کررہا تھا،  میں بقلم خود  یعنی کہ مطلب ، چونکہ گویا کہ  چنانچہ۔ یہ میں نے ازراہٰ  تففن نہیں لکھا،  قسم  سے ،  
اسکا مقصد اپنے دماغ کو بہت چالو ثابت کرنا تھا کہ یہ باریکیاں ابھی بھی  یاد ہیں۔ ہیں جی

لوٹ کے بدھو گھر کو آئے۔ یعنی کہ  اپنے  شہر کی تعریفیں ،  جہلم  میں کہ پاکستان کا ترقی یافتہ ضلع گنا جاتا ہے، جہاں پڑھے لکھے لوگوں اور دراز قامت جوانوں کی بھر مارہے ، بقول سید ضمیر جعفر کے ، جہلم میں چھ فٹ قد معمولی ہے مطلب آپ اس کو حیرت سے نہیں دیکھو گے ، نہ طویل القامت میں شمار ہوگا اور نہ ہی پست قامت میں ،   تعلیم کا بھی کچھ احوال مختلف نہیں، جو لڑکا آپ کو بھینسو کے پیچھے گھومتا ہوا نظر آرہا ہوگا وہ عین ممکن ہے بی اے پاس ہو، یا سپلی کی تیاری میں مشغول ہو،  ہیں جی،  میں خود کالج کے آخری سالوں تک بھینسوں کو چراتا رہا ہوں، چرنا تو خیر انہوں نے خود ہی ہوتا تھا مگر اس بہانے گھر سے ہم فرار۔معاشی خوش حالی  کا یہ عالم  ہے  کہ  اگر آپ میرے پنڈ جاؤ گے تو بقول "پورے گاؤ ں میں ایک بھی دیوار کچی نظر  نہیں آئی"     یہ بیان تھا ایک سندھی ڈاکٹر صاحب کا جو سنہ 1995 میں  میرے ایک دن کے اتفاقاُ مہمان بنے۔  یہی  حال دیگر گاؤ ں کا ہے، اچھے گھر اور کوٹھیاں، مطلب ولاز ،  بنے ہوئے  دکھائی دیں گے آپ کو ، ہر گاؤں  میں، بلکہ پورے جہلم، میرپور، گوجرخان ، کھاریاں اور گجرات کے علاقوں میں ۔  جرنیٹر ، یو پی ایس ، کیبل  اور اب چند ایک برس سے وائی فائی انٹرنیٹ کی سہولت عام ہے۔ میں اپنے گاؤ ں کی بات کررہا ہوں۔  

علی جو میرے ماموں زاد ہیں  اور بلوچستان میں فوجی خدمات سرانجام دے چکے  ہیں انکے بقول بھی اور آج کل ٹی وی  پر آنے  والی خبروں کےمطابق  بھی بلوچستا ن  میں صورت حال اسکے بلکل برعکس ہے،وہاں پر پورے کے پورے گاؤں میں شاید ہی کوئی بندہ  اب بھی پڑھا لکھا  ملے، بیشتر علاقے کے علاقے  باقی سہولیات تو کجا ، پینے کے پانی  اور پرائمری اسکول کو ترس رہے ہیں،  حسرت و یاس بھری نگاہیں دیکھتی ہیں ان اسکولوں کو ، جن میں  نوابوں اور سرداروں کے  ڈھور  ڈنگر بندھے ہوتےہیں۔

ابھی تو آپ میرے دماغ کے خلل پر یقین کرچکے ہونگے کہ  خود ہی اپنے بیان کی نفی کردی، زمین آسمان کا فرق ثابت کردیا، مگر ایک مماثلت ہے اور وہ ہے بہت اہم اور بہت بری بھی  ( اسے بڑی مت پڑھئے)۔  کیوں ؟؟  پھر پڑ گئے پھر سوچ میں؟؟؟

بات یہ ہے جی کہ مماثلت دونوں طرف حکومتی کارکردگی  کی  ہے ،  جو ہر دور طرف ایک جیسی ہے ،  اگر ادھربندے پڑھے لکھے ہیں تو پرائیویٹ اسکولوں کی مہربانی سے،  اگر   کوئی دیوار کچی نہیں تو اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں،  ہر بندے نے اپنے  اپنے گھروں کو حسب اسطاعت خود تعمیر کیا ہے، اچھا یا اس سے بھی اچھا، گلیاں و نالیاں اکثر و بیشتر اپنی مدد آپ کے تحت ہیں، پانی کا نظام اپنا ذاتی ہے، ابھی میں  بھائی سے سولر سسٹم کی انسٹالیشن کے بارے پوچھ رہا تھا کہ واپڈا سے اگر جان چھڑائی جاسکے مستقل بنیادوں پر تو، ادھر بھی اتنے ہی ڈاکے پڑتے ہیں، اتنی ہی چوریاں ہوتی ہیں، اتنے ہی قتل ہوتے ہیں۔

حکومتی کارکردگی وہی ہے جو بلوچستان میں ہے، طاقتور کے ساتھ اور کمزور کو کچلنے کی اچازت۔
ہمارے یہاں پر جو کچھ بھی ہے وہ اٹلی، انگلینڈ ، فرانس، اسپین ، جاپان ، سعودیہ وغیرہ میں ہمارے جیسے   پردیسیوں کی بدولت ہے، ادھر سے لو ساٹھ کی دہائی میں انگلینڈ جانا شروع ہوئے تھے، پھر ستر میں سعودیہ ، اسی  میں فرانس و جاپان ، نوے  میں اٹلی ، اسپین  و یونان  اور اب تو ہر طر ف ، ایک پھڑلو پھڑلو مچی ہوئ ہے بقول حکیم علی صاحب کے۔

  اگر آپ ان لوگوں کے گھرروں اور پیسوں کو نکال دیں تو جہلم اور بلوچستان کے کسی پسماندہ  گاؤں میں شاید ہی کوئی فرق ہو


اظہار تشکر:  یہ مضمون حضرت یاسر خوامخواہ جاپانی کی ترغیب پر لکھے جانے والی تحاریر کی کڑی ہے


مکمل تحریر  »

بدھ, فروری 22, 2012

ہاتھی روایت اور ڈیموں کریسی

راوی اپنی ایک پرانی سی کتاب میں روائت  کرتا ہے  کہ ایک زمانے میں ، ایک ملک  کے، ایک دور دراز گاؤں میں، ایک بزرگ نہایت   قدیم و عقیل اور جھنجھلاہٹ میں مبتلا،  رہتا تھا اور اوس گاؤں کے لوگ بھی اتنے جاہل و کھوتے دماغ کے تھے کہ ہر بات  پوچھنے اس بزرگ کی طر ف دوڑ پڑتے،   گاؤں والوں کی اسی سادگی کو دیکھ کر ایک دن ہاتھی بھی ادھر کو چلا آیا ، ہوسکتا ہے  اسے بھی کچھ کام ہو یا کوئی بات پوچھنی ہو، مگر راوی نے اس بارے نہیں لکھا، خیر اگر لکھ بھی دیتا تو کس نے یاد رکھنا تھا،   اس گاؤں کے سارے باشندے ادھر کھڑے ہوکر تالیاں بجارہے تھے اور چار اندھوں سے  جنکے نام بوجمان ملک، جابر اعوان ، خالہ فردوس کی عاشق  اور کیصل عابدی تھے  ہاتھ لگوا لگوا کر پوچھ رہے تھے کہ بتلاو ہاتھی کیسا ہے؟؟؟ 
اب بوجمان ملک کے ہاتھ سونڈ آئی تو اوس نے فیصلہ دے دیا کہ لو جی ہاتھی پائیپ کی طرح لمبا ہے،  جابر اعوان  کے ہاتھ میں چونکہ ہاتھی  کے کان  آئے، تو اوس نے دعوہ  ٹھونک دیا کہ لوجی ہاتھی پنکھے کی طرح ہوا دینے اور جھلنے والی کوئی چیز ہے،  فردوس کی عاشق خالہ کے ہاتھ  ہاتھی کی  دم لگی تو ہت تیر ے کی کہہ کر فرماگئی،  کہ لو جی، کرلو گل، یہ تو رسی کی مانند پتلا سا ہے، میری آنکھیں ہوتیں تو یہ ضرور سپ کی طرح دکھائی دیتا، ادھر کیصل عابدی نے جانے کیادھونڈتے ہوئے نیچے کی طرف ہاتھ  مارا تو ٹانگ ہاتھ میں آگئی ، شکر کرے کہ کچھ اور ہاتھ نہیں آیا، توللکار دیا کہ ہاتھی ایک کھمبے کی طرح کی چیز ہے۔
ایک سب سے بد اندیش اورجاہل قسم کا بندہ جو رضا کھانی  نام کا تھا،  اس نے بابا جی سے پوچھا کہ بزرگو  ، آپ کے  اللہ اللہ کرنے کے دن ہیں، کل آپ مرے تو پرسوں اگلا دن ہوتا،  ادھر کیا امب لینے آئے ہیں ، چلو،  ادھر موجود ہو ہی تو یہ بتلادو کہ یہ کیا  شئے ہے؟؟

بابا جی نے ایک چیخ ماری اور روئے پھر ایک قہقہ لگایا  اور ہنس پڑے  اور یوں گویا ہوئے،   سن اے ناہنجار اورعاقبت نا اندیش،  رویا میں اس لئے تھا کہ اب اتنی حرام کھائی کرلی ہےکہ جانے اگلے الیکشن  کے بعد مجھے جیل میں کیوں نہ ڈالا جائے،  اور اگر ایسا نہ کیا گیا  توجیتنے والوں پر تف  ہے ، پھٹکار ہے، لخ دی لعنت ہے، پھر یوں متوجہ ہوئے،  سن لے کہ خو ش میں اسلئے ہویا ہوں، کہ اس چیز کا تو مجھے بھی علم نہیں البتہ اسے بیچ کھاؤں گا۔


 یہ بات لکھی پڑھی ہے اور اسی کا نام ڈیموں کریسی ہے کہ دوسروں کو دیموں لڑاؤ اور خود ہاتھی بھی بیچ کھاؤ۔

دروغ بردگردنِ دریائے راوی۔       میرے جو دماغ میں آیا میں نے لکھ دیا۔

سوالات:

کیا ملک پاکستان کے علاوہ بھی کہیں اس قبیل کے لوگ پائے جاتےہیں؟؟؟
اس حرام خور بزرگ کا نام ذورداری ہونے کا اندازہ آپ کو کیسے ہوا؟؟؟
ان لوگوں کے پاس ان عقل کے ادندھوں کے علاوہ کوئی اور بندہ نہ تھا  جس کو وزیر بنالیتے؟؟؟
یہ رضا کھانی جو اتنا سیانہ ہے ہر بات پوچھنے کیوں چلا جاتا ہے اپنے بزرگ کے پاس؟؟؟
اس پورے قصے سے جوسبق آپ کو حاصل ہوا ہے  اسے دہرائے اور اس گاؤں کے  چار اور حرام خوروں کے نام لکھئے ، 
مگر تھوڑا دور رہ کر۔
آپ کو ہاتھی کیسا دکھائی دیتا ہے؟؟؟ بلوچستان جیسا نہیں تو پھر کیسا؟؟   اور کہ آپ عقل چھوڑ کر پی کھا پاٹی کے وزیر بننا پسند کریں گے؟؟؟


مکمل تحریر  »

ہفتہ, فروری 18, 2012

بلوچستان، بنگال اور سازشیں

ہمارے ادھر آوے کا آوا  ہی نہین بلکہ باوے کا باوا بھی بگڑا ہوا ہے،     ہمیں ہر اس چیز پر بات کرنا ہی پسند ہے جو یورپ امریکہ میں ہورہی ہو، یا پھر جس پر یورپ و /یا امریکہ والے بات کررہے ہوں،   ملک بنا اور ٹوٹ گی ہم نے کہا چلو خیر ہے ادھر روز سیلاب آیا کرتا تھا جان چھوٹی سو لاکھوں پائے، ویسے بھی یہ چھوٹے چھوٹے بنگالی کونسے ہماری فوج میں بھرتی ہوسکتے تھے، دیکھو جی چھے فٹے جہلمی جوانوں کے سامنے سوا پانچ فٹ کا بیالیس کلو بنگالی کیا کرے گا، اسکی وقعت ہی کیا ہے، ہیں  جی  ،   اوپر سے وہ لحیم شیم سرخ و سپید پٹھان  واہ جی واہ ، وہ تو ہماری فوج کا حسن ہیں ،  یہ وہ باتیں تھیں جو ہمارے پنڈ کے سابقہ فوجی بابے کیکر کے نیچے بیٹھے کر تاش کھیلتے ہوئے کرتے تھے۔   ان  میں کئی ایسے بھی تھے جو 
اکہتر میں بنگالی قیدی بھی بنے۔ مگر کیا ہے فوجی کا کام ہے لڑنا مرنا اور ماردینا،   یقیناُ یہی اسکی قوت بھی ہے

مگر ان بابوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ پینسٹھ میں جب انڈیا پاکستان جنگ ہوئی تھی تو ہم دو محاذوں پر تھے اور انڈین فوج کو دوحصوں  میں تقسیم کردیا تھا،  وہی بنگالی پنجابی اور پٹھان کے شانہ بشانہ لڑرہے تھے، مگر چھ برس بعد وہی انہی پنجابی و پٹھان فوجیوں کو بنگال تل رہے تھے اور ادھر جو بنگالی  مغربی پاکستان میں تھے وہ ہمارے پنڈ کے ساتھ ہی چھاؤنی میں قید تھے،  انڈین فوج کو مغربی محاذ سے تو پھر بھی کچھ نہ ملا کہ ادھر کوئی بنگلالی نہ تھا مگر مشرقی محاذ پر پاکستانی فوج کو سرینڈر کرنا پڑھا کہ ادھر بھی کوئی بنگالی انکے ساتھ نہ تھا بلکہ مخالف تھے۔
انڈیا نے 1965 والی کتا کھائی کا بدلہ لیا اور اپنے آپ کو مشرقی اور مغربی پاکستان کے گھیراؤ میں سے نکال لیا ، ہیں جی ہے ناں سیانی بات۔
 رات گئی بات گئی ، روٹی کپڑا اورمکان کا نعرہ لگا اور ہم خوش۔ ہیں جی

امریکہ بہادر نے افغانسان میں ایڑی چوٹی کا ذور لگایا ، روس کی طرح مگر وہی ڈھاک کے تین پات ، بقول علامہ پہاڑ باقی افغان باقی۔ ہیں جی پہاڑ بھی ادھر ہی اورپٹھان بھی، مشرف کی حددرجہ بذدلی کے باوجود جب ہماری قیادت نے تعاون سے انکار کردیا اور امریکہ بہادر کو  افغانستان میں آٹے دال کا بہاؤ معلوم ہوگیا ہے تو اسے یاد آئی کہ اہو ہو ہو ، بلوچستان تو تاریخی طور پر پاکستان کا حصہ ہیں نہیں ہے، ہیں جی،
اس کو آزادی دلواؤ، لو بتاؤ جی، بلوچوں کے ساتھ بہت زیادتی ہورہی ہے، کوئی پوچھے ماموں جان آپ نے پہلے جو فلسطین ، عراق، افغانستان اور ویتنام کو آزادی دلوائی ہے وہ کیا کم ہے؟؟ جو ادھر چلے آئے مگر کون پوچھے ہیں جی۔

ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا ہیں جی  اور آپ نے بھی نہ بتایا، پہلے تو  ذرداری و حقانی سے اندر خانے معاہدہ کرنے کی سازش جو بعد میں میمو گیٹ کے نام سے چلی اور مشہور ہوئی، پھر  ابھی بلوچستان  اور بلوچوں کے حقوق کی یاد آگئی۔

اصل بات یہ ہے کہ اگر بلوچستان کی پٹی امریکہ بہادر کے ہتھے لگ جائے تو وہ اپنی  من مرضی سے  ادھر افغانستان میں رہ سکتا ہے بلکہ اسکا وہ جو نیورلڈ آرڈر والا نقشہ ہے اس پر بھی  کچھ عمل ہوجاتا ہے۔ ادھر سے نکلنے کا رستہ بھی تو چاہئے کہ نہیں،    مگر  ہمیں کیا ہیں جی  ہمارا تو آجکل ایک ہی نعرہ ہے جئے بھٹو ، پہلے ایک تھا اوراب تو دو ہیں بے نظیر بھی تو شہید بھٹو ہی ہے ، جانے کب تین ہوجاویں؟؟؟ کیونکہ ابھی جتنے ذرداری ہیں وہ بھی شیر کی کھال اوڑھ کر بھٹو بنے پھرتےہیں ان میں سے کل کلاں کوئی شہید ہوگیا تو ۔  میرا خیال ہے آپ سمجھ تو گئے ہی  ہوں گے، نہیں تو فیر آپ کو بتلانے کا فائدہ؟؟؟ ہیں جی

 نوٹ۔ یہ مضمون یاسر خومخواہ جاپانی کی ترغیب پرلکھا گیا 


مکمل تحریر  »

جمعرات, فروری 16, 2012

گیدڑ اٹلی اور ووٹ

سنا  ہے کہ  گیدڑ کی جب موت آتنی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے اور پھر بندے اس کو اتنی پھینٹی لگاتے ہیں کہ بس اسکی موت واقع ہوجاتی ہے، ویسے حق بات یہ ہے کہ گیدڑ کی موت کا فسوس کسی کو بھی نہیں ہوتا،   ہم نے بھی اپنے لڑکپن میں اپنے مرغی خانے کے گرد گھومنے والے کئی گیدڑوں  کے ساتھ اس محاورے پر علم درآمد پوری نیک نیتی اور ایمانداری سے کیا ہے  کسی نے کبھی کچھ کہا  اور نہ ٹوکا، اور بات ہے کہ کبھی کبھی  یہ گیدڑانسان نما بھی ہوا کرتے تھے،  انکی موت تو خیر کیا واقع ہونی تھی بس چھترو چھتری ہوجاتی۔ کوئی بڑا بزرگ کہہ دیتا اوئے چھڈ دو اے بڑا شریف بچہ ہے، ککڑ چھپانے تھوڑی آیا تھا، یہ تو بس ادھر سے گزر رہا تھا،  جبکہ ہمارا اصرار ہوتا کہ یہ ضرور ککڑوں کے چکر میں تھا، بس کچھ گالیاں اس کو اور کچھ ہمیں پڑتیں اور معاملہ  مک چک۔ شاید ہر طرف یہی کچھ چل رہا تھا، کہ رزق نے اٹھا کر ادھر پھینک دیا اور سب ختم ایک خوا ب کی طرح نہ محاورے اور نہ گیدڑ، نہ  کوئی ککڑیاں نکالنے کے چکر میں نظر آتا  اور نہ ہی گیدڑ کٹ چلتی۔
ادھر کئی برس گزر گئے ،اپنا کام کرو، گھر جاؤ، تھوڑا آرام، اگر کہیں پرھنے پڑھانے جانا ہے تو ٹھیک نہیں تو  ٹی وی، تھوڑا مطالعہ اور شب بخیر، چھٹی ہے تو ، کدھر سیر کو نکل جاؤ ، کسی کو مل لو ، نہیں تو کاچھا پہن کر پورا دن گھر میں بیڈ سے صوفے پر اور صوفے سے بیڈ  تک گزراردو،  جبکہ ادھر بسنے والے  بہت سے اپنے ہم وطن  ایمان ملا کی طرح برائے فساد فی سبیل اللہ ، آئے دن نئی نئی جماعتیں بناتے رہتے ہیں اور انکے صدر بنتے رہتے ہیں ، گزشتہ یہ عالم تھا کہ ہر بندہ دو دو تین تین جماعتوں کا عہدیدار تھا۔ مقصد ؟؟ آج تک معلوم  نہیں ہوسکا۔  پھر دور آیا سیاہ ست دانوں کا  ، ہر سیاہ سی جماعت کی ایک برانچ کھل گئی، ہر ساجھا ، مھاجا، مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، فلاں جماعت، فلاں جماعت   کا عہدیدار بنا اور پھر قومی سطح پر اور پھر یورپی سطح پر  بھی صدر اور صدر اعظم کے نام سنے گئے،  ہر جماعت کے کوئی بیس کے قریب صدر ہونگے، جنکو تولیہ مارنے میں ہمارے آن لائن اور آف لائینں اخبارات کو مہارت بدرجہ کمال حاصل ہے،
مقامی طور پر جدھر ہم رہتے ہیں ادھر کسی کو علم نہیں کہ کیا ہورہا ہے، ہیں اچھا الیکشن ہورہے ہیں،  مینوں تے کسی نے نہیں دسیا،  ہین اچھا برلسکونی وزیراعظم بن گیا ہے  مینو تے کسی نے نہیں دسیا
اچھا جی اوس نے استعیفٰی دے دیتا ہے ، مینوں تے کسی نے نہین  دسیا۔
اس کے علاوہ کوئی ٹینشن نہیں تھی،  نہ الیکشن نہ سلیکشن ،  نہ کسی سے ملو نہ کسی کو منہ دکھلاؤ،
اب خبر آئی ہے  ادھرسے بھی ووٹ جائے گی تو پھر وہی  کچھ ہونے کا ڈر لگ رہا ہے،  جنتا اپنے کام کاج چھوڑ کے جلسے کیا اور سنا کرے گی، ہیں جی ۔   وہی ووٹ خریدے جائیں گے ہیں،  وہیں چوول قسم کے بندے الیکٹ ہوئیں گے ہیں جی، پوچھو جو ایتھے پہڑے او لاہور وی پہڑے، اگر پاکستان میں رہنے والے 16 کروڑ  صرف گیلانی اور ذرداری کی قبیل کے بندوں کو ہی منتخب کر سکے ہیں تو یہ پینتیس لاکھ کیا توپ  چلا لیں گے، ہیں جی آپ ہی بتاؤ

مکمل تحریر  »

منگل, فروری 07, 2012

میں خود پردیسی


اٹلی میں  اگر آپ کو راستہ دریافت کرنے کی حاجت ہوجائے آجکل تو نہیں ہوگی کہ ٹام ٹام کا دور دورہ ہے، مگر  پھر بھی اگر کبھی پھنس  ہی جائیں  تو عام قول یہ ہےکہ کسی خاتون خوبصور ت   ، سیرت کے بارے ادھر کوئی بحث  نہیں ، مطلب حسینہ و جمیلہ  سے پوچھا جائے ورنہ کوئی گھوس قسم کا بڈھا بابا پکڑو کوئی صاحب پنشن   جسکا ستر کے اوپر کا سن ہو  اور اللہ اللہ کرنے کے دن ہوں ،   خاتون اپنی سمپےٹھیٹی کی وجہ سے اور بابالوگ اپنی فارغ البالی کی وجہ سے آپ کی مفصل راہنمائی کرنے کی کوشش کریں گے۔

 اگر آپ کی مت ماری گئی ہے یا قسمت یا ہاضمہ  خراب ہے  اور آ پ کسی پرانی مائ سے  پوچھیں گے تو لازمی طور پر یہی جواب ملے گا    نو لو سو اور  آپ کے مذید کسی سوال جواب ،کسی تاثر سے پہلے ہیں یہ  جا وہ جا، مجھے نہیں معلوم اور اگر سوال آپ کروگے کسی جوان پٹھے سے تو وہ کہے گا کہ میں  تو ادھر کا ہوں ہی نہیں،  خود پردیسی ہوں، پر دیسی ، پردیسی ،   یہ  پکا  اور سکہ بند قسم  کا حکیمی نسخہ ہے جو ادھر رہنے والی عوام نے بہت عرصہ کے تجر بہ کو نچوڑ کا نکالا ہے،  مطلب بہت  سی آپ بیتیوں کی بنیاد پر اسکو جگ بیتی درجہ حاصل ہے، ہیں جی

جب ہم لوگ بارسلونہ میں پہنچے تو میرا دماغ ماؤف ہوچکا تھا ،  لگاتار دس گھنٹے کی ڈرائیو  کا مطلب  ہے کہ  ہم  گیارہ سو کلومیٹر  طے کرچکے تھے،     وہ بھی  چھوٹی کلیو میں ، میرے تو بس گوڈے ہی جڑ گئے تھے،   اور دماغ بھوں بھوں کررہا تھا،  بارسلونہ شہر کی شیلڈ دیکھ کر شادی مرگ کی سی کیفیت طاری ہوگئی اور دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا، میں نے گاڑی ایک سائیڈ پر روکی  اور  امجد صاحب کو   ڈرائیو کرنے کو کہا اور خود انکی جگہ پر پچھلی سیٹ میں بیٹھ کر آنکھیں موندنے کی کوشش کرنے لگا مگر کہاں،  بارسلونہ  میں پہلی بار گئے تھے  رات کے کوئی اڑھائی بج رہے تھے اور مانی استاد کے بقول ہمیں ادھر رملہ کے ساتھ چھوٹے پریشان رملہ  پر ملے گا یہ پریشان  رملہ  پاکستانوں کا گڑھ  ہے اور ادھر گھومنے والے سارے پاکستانی ہوتے جو بے روزگار ی کی وجہ سے پریشان  گھومتے اور خود بھی پریشان ہوتے اور رملہ کو بھی پریشان کردیا کرتے،، ہمارے لئے تب  سوائے اسکے کوئی چارہ نہ تھا کہ ہم  کسی سے رملہ کے بارے پوچھتے ، آصف اگلی سیٹ پر بیٹھا 
اونگ رہا  تھا ، جبکہ کوئی دس منٹ کے بعد میرا دماغ پھر سےمتحرک ہونا شروع ہوگیا۔

ایک بندے سے راستہ پوچھا تو اس نے پہلے تو معذت کی کہ نو ہابلو اطالیانو، نادا انگلیزے، مگر پھر بھی دیریکتو، دیکسترا اور سنسترا  مطلب سیدھا  فیر سجا کھبا  سمجھانے لگا  ،  حسب توفیق ہماری مت ماری گئی  تو  اسکو گراسیاس  کہہ کر سلوٹ مارا اور    نکل پڑے دیریکتو کو ،  آگے جاکر پھر ایک جوڑے سے پوچھنے کی رائے آصف لمبے کی تھی، جو سڑک کنارے بوس کنار میں مصروف تھا،   جبکہ امجد صاحب کا خیال تھا کہ یہ صر ف انکے بوس کنار سے  سڑ کر اس میں اپنی لکڑی گھسیڑنا چاہ رہا  ہے، خیر سانوں کی کہہ کو انہوں نے گاڑی  بی بی کے عین منہ کے سامنے  روک دی اور میں نے  مونڈی نکال کر پوچھا، سکوزا،  دوندے ایستاس رملہ؟ پیر فاوور  پس وہ اپنا کاروبار ترک کرکےکمال مہربانی سے ہماری طر متوجہ ہوئی اور وہی کیسٹ چلادی دیریکتو، دیکسترا فیر سنسترا  اور دیکسترا رملہ،    ادھر اسکا جملہ ختم ہوا ادھر میں  نے گراسیاس پھینکا اور ادھر امجد ،  میاں نے گاڑی آگے بڑھا دی، ہیں  
آصف لمبےکی باچھیں کانوں تک کھلی ہوئی صاف نظر آرہی تھیں۔جی   

تھوڑا آگے جاکر دائیں بائیں موڑ مڑ کر یہ خیال دل میں گھر کرگیا کہ جی رملہ ادھر کہیں آسے پاسے ہی  ہےکہ ایک دم سے بندوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا جو رات کے اس پہر بھی روا دواں تھے، زندگی متحرک تھی اور لوگ چہل قدمی اور لوگیاں چہلوں میں مسصروف، لوجی  امجد صاحب نے پھر سے بریک لگا دی کہ پوچھ اس منڈے سے ہی پوچھ لو رملہ ادھر ہی کہیں ہوگا،  یہ ایک جوان لڑکا تھا  اور اسکے کندھوں پر لٹکے بیگ پر اٹلی کا جھندا بنا ہوا تھا، میں نے اس سے  وہی سوال دھرا دیا ، دوندے ایساتس رملہ پیرفاوور، پس ادھر  سے خالص اٹالین میں جوا ب آیا کہ میں ادھر  پردیسی ہوں تو میں بھی اس سے ترکی بہ ترکی خالص اٹالین میں ہی پوچھ لیا کہ میں اٹالین ہی  ہوں اور اٹلی سے ہی آرہا ہوں ، رملہ کے بارے جانکاری مانگٹا ، فوراُ وہی جواب میں نہیں جانتا میں تو ادھر خود پردیسی ہو، ہیں جی

فٹ کر کے ایک حسینہ اپنے محبوب کی باہوں سے لپکی ہوئی  بولی وہ سامنے  ہی تو رہا  ر ملہ  اور ہمارے گراسیاس کو سنے بغیر  پھر اپنے میں مگن ہوگئی ،   ہم  اس نتیجہ پر  پہنچے کہ سچ  کہ دنیا گول ہے اور یہ بھی سچ  ہے  کہ جو ایتھے  پہڑے اوبارسلونہ میں بھی یہیی کہیں گے کہ مجھے نہیں معلوم رملہ بھلے وہ سامنے ہی کیوں نہ ہو، ہیں جی ،  ابھی ہمیں پریشان رملہ بھی تلاشنا  تھا کہ  ہمار ا مانی ادھر ہی کہیں ہماراانتظار کررہا  تھا۔ 

مکمل تحریر  »

اتوار, فروری 05, 2012

شکریہ



یہ نیا سانچہ لگایا ہے تو جس بندے نے بنایا ہے اس کا شکریہ تو بنتا ہے کہ نہیں 
ویسے شکریہ ادا کرنے کا رواج صرف پاکستان اور اٹلی میں ہی نہین  ہے ورنہ دیگر ممالک میں تو شکریہ کی لائین لگا دیتے ہیں، اٹلی میں چلیں پھر بھی کوئی نہ کوئی گراتسے کہہ کر ٹل جاتا ہے مگراسپین جاتے ہوئے بعذریہ کار فرانس میں اس کا بہت تجربہ ہوا، فرانس کا ہمارا کل  تجربہ نیلے ساحل سے گزرتے ہوئے موٹر وے کا ہے جونیس ،    لیون اور ماونٹ پلئر سے ہوتا ہوا اسپین کو جاتا ہے، موٹر وے نے خیر کدھر جانا تھا، ابھی بھی ادھر ہی ہے، جانا ہم کو تھا اور دوجے دن واپس بھی آنا تھا، فرانس میں ایک پنگا یہ تھا کہ موٹر وے پر ہرضلع کی حدود ختم ہونے پر ادائیگی،بلکل پاکستانی نظام، کدھر دو یورو اور کدھر ڈھیڑ، بس جی آپ رکے اور ایک مسکراتی ہوئی حسینہ باہر مونڈی نکال کو سلام کرتی پائیں، لگتا کہ بس ہم پر ڈل مر ہی گئی ہے، اچھا تو اٹلی سے آئے ہو ؟اچھا  توکارڈ دے دو؟ مہر بانی ہوگی، آپ سوچتے رہیں کہ ٹول کارڈ تو دینا ہی ہے مہربانی جانے کدھر سے آگئی، آپ نے کارڈ دیا ، اس نے شکریہ ادا کیا، ٹک کرکے ،  اور ساتھ ہی آپ کو بل بھی بتا دیا،  آپ نے پانچ یورو کا نوٹ تھما دیا،   اسکا کا میسی مطلب شکریہ کہنا  اور بقایا لوٹا نا  اور پھر شکریہ کہ آپ نے بقایا قبول کرلیا ، کوئی پوچھے بندی کوئی اپنا بقایا بھی چھوڑ تا ہے کہ اور وہ بھی ہم پاکستانی ، لینے   تو کبھی نہ چھوڑ ، دینے دیں یا نہیں ، پھر آپ کو سفر بخیر کہنا اور آپ کا جواباُ شکریہ کہنے پر بھی آپ کا شکریہ،  

ادھر اسپین پنچنے تک  ہمارے منہہ سے بھی میسی اور میسی بکو نکل رہا تھا، شاید عادی ہو چکے تھے واپسی پر بھی وہی حشر مگراٹلی پہنچ کر پھر وہی نمک کی کان میں نمک ہوگیا بس

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش