جمعہ, مارچ 30, 2012

اپریل فول کی مچھلی

مجھے ادھر اٹلی میں زمانے ہوگئے ہیں  مگر کم ہی  اپریل فول کے واقعات دیکھے ہیں، یہاں پر اپریل فول کی علامت مچھلی ہے، بس آنکھ چرا کر چپکا دی، کسی کے کاغذ کی بنی ہوئی مچھلی اور منچلے تالیاں بجاتے ہوئے نکل لیے، مزید معلومات کے مطابق، فلپائین والے یکم اپریل کو منحوس سمجھتے ہیں اور اس دن سفر کرنے سے کتراتے ہیں، چائنا کی عوام کو اس کا اکثر علم نہیں، روس والے اسے مذاق کا دن قرار دیتے ہیں اوربالک لوگ ایک دوسرے کو بے وقوف بناتے اور ٹھٹھا کرتے ہیں۔

 میرا اٹلی میں پہلا اور واحد اپریل فول دیکھنے کا اتفاق یہ تھا کہ فیکٹری میں جاب کرتا تھا، چھٹی کی، گیٹ پر رکا ہوا تھا کہ مین روڈ پر آتی ہوئی گاڑی نکل لے تو ہم بھی نکلیں، بس اس گاڑی کے پیچھے ہم بھی نکل لیئے، میرے ساتھ بیٹھے دوریانو (اطالوی کولیگ) کی ہنسی نکل گئی میں بھی حیرت زدہ رہ  گیا ، کہ اس گاڑی کے پیچھے ایک بڑی سی موٹے کارڈ کی بنی ہوئی مچھلی چپکی ہوئی تھی اور اسکے اوپر لکھا ہوا تھا  ٗ کہ میرے پیچھے مت آنا میں تو خود رستہ بھولا ہوا ہوںٗ  ، دوریانو نے بتا کہ آج پہلی اپریل ہے اور اس کو کسی نے فول بنا دیا ہے، پھر مجھے مچھلی چپکانے کا قصہ بتایا، دیکھا تو تین مچھلیاں اوس کے چپکی ہوئی تھیں اور دو میرے۔

کل رات ہر پاکستانی چینل پر اپریل فول  کے بائیکاٹ کی ہا ل ہال مچی ہوئی ہے، ادھر فیس بک پر بھی یہی حال ، کہ جی میں اپریل فول نہیں مناتا میں مسلمان ہوں، رات کو بھائی سے پوچھا کہ آپ نے گزشتہ برسوں میں کتنی دفعہ اپریل فول بنتے، بناتے دیکھا؟  کہنے لگے کہ مجھے تو کوئی یاد نہیں ، مجھے بھی وہ اوپر والا واقعہ ہی یاد ہے،  مگر پاکستان میں ہے کہ عوام اپریل فول کا ہوا بنا کر اسکا بائیکاٹ کرنے پر تلی ہوئی ہے، کوئی پوچھے کہ میاں جی یہ کیا چکر ہے آپ کے پاس اپریل فول کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ہے؟؟ ہیں جی
جاؤ جاکر اپنا کام کاج کرو، اور چھوڑ دو اپریل فول کا کھتا۔ ہیں جی


اور پھر یہ کہ جب سب کچھ مغرب سے لے لیا ہے، ٹیکنالوجی، رقم، کاروبار، تعلیم، سود، حکومت، جمہوریت، حتیٰ کہ ضرورت پر وزراعظم اور دیگر وزراء بھی باہر سے لئے جاتے ہیں تو پھر اپریل فول  تو معمولی سی چیز ہے، ویسے بھی ہم فول تو بنے ہوئے ہیں گزشتہ کئی دھائیوں سے، اگر اپریل کے ایک دن میں یار لوگ تھوڑا ہنسی مذاق کر بھی لیں گے تو کون سے دوزخ کے دروازے کھل جائیں گے جو پہلے پاکستانیوں پر بند ہیں۔ 

مکمل تحریر  »

بدھ, مارچ 28, 2012

امریکہ کے کھاتے میں


"السلام علیکم سر جی" وعلیکم سلام حضور، ہاؤ ڈو ڈسکو؟ "حضرت جی مجھے ایک جاب آفر ہوئی ہے بلکہ شروع کردی ہے۔"
 کون سی؟
 "،اٹالین فارماسسٹس کو ہومیوپیتھی پڑھانا3 سال کا پروجیکٹ ملا ہے فی الحال"
مباڑخ ہو جی, ویسے وہ ہومیوپیتھی کو گھاس ڈالتے ہیں یورپی؟
"خیر مباڑخ جی، ادھر ڈاکٹر اسپیشلائیزیشن کرتے ہیں,  ہماری طرح کا سسٹم کم ملکوں میں ہے"
ادھر تو میں پاغل ہو رہا ہوں۔ اپنے عزیز ہموطن بھی عجیب مخلوق ہیں, پچھلے دنوں جو طوفان آئے تھے
"کونسے؟؟"
مشرق وسطیٰ سے پاکستان تک ریت کے طوفان
"ہاں اباجی بتارہے تھے، گرد آلود ہوا کے بارے"
,آج ایک کزن صاب فرماتے ہیں کہ یہ امریکہ کے ایٹم بموں کا اثر تھا  ہور سناؤ  ہر چیز امریکہ کے ذمے بس اب یہی بچا ہے کہ انکل سام کی مورتیاں بنا کر انہیں پوجنا شروع کر دیں، خدا جیسا طاقت ور تو پہلے ہی سے سمجھتے ہیں،   ہیں جی؟
"تو آپ مان لو، پہلےکونسی ادھر ہر معاملے پر ریسرچ شروع کررکھی ہے انہوں نے,اتنا تو پھر چلے گا ناں"
وہ جو سیلاب آیا تھا، اس موقع پر بھی آپ کو یاد ہوگا کہ اسے بھی امریکہ کے کھاتے میں ڈال دیا تھا,  اور زلزلے کو بھی
"ظاہری بات ہے کہ خدا کے کھاتے میں ڈالیں گے تو اپنے اوپر الزام لینا پڑے گا کہ ہمارے کرتوتوں کی سزا ہے۔ ہیں جی؟
"میں تو کہتا ہوں ذرداری کو بھی اپنے کھاتے پر ڈال دوں, میں یہ سارا کچھ اپنےبلاگ پر پھینکے لگا ہوں
اپنے کھاتے پر کیوں؟ امریکہ ہے نا۔ اسی کے کھاتے میں ڈال دیں,  سب آپ کی ہاں میں ہاں بھی ملائیں گے,   بلاگ پر کیا پھینکنے لگے ہیں؟  
میرا ٹریڈمارک تیزاب؟

 یہ اپنے مولوی صاحب ہیں، جو ابھی میرے ساتھ آن لائین  تھے، بزرگ آدمی ہیں، جانے کیا کیا سوچتے رہتے ہیں، کوئی پوچھے حضرت اگر امریکہ یہ سب نہیں کرتا تو کیا میں اور آپ کرتے ہیں، ہیں جی



مکمل تحریر  »

منگل, مارچ 13, 2012

صوبے بنوالو

فیس بک پر ایک  تصویر چلتی دیکھ کر جھٹکا سا لگا اور دماغ میں کچھ تاریخی حقائق فلیش ہونے لگے،  کچھ چیزیں جو دیکھی تو نہیں مگر سنی ضرور تھیں، کچھ چیزوں جو ہمیں  آج بتائی جاتی ہیں مگرانداز کچھ اور ہے، یہ تصویر نہیں بلکہ تحریر تھی جو تصویری فارمٹ میں کہ فوراُ پڑھی جاسکے  گھوم رہی ہے، نیچے کومینٹس پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں، کومنٹس ادھر لکھنا طوالت کو دعوت دینا ہوگا مگر تصویر کا لگانا  خارج از دلچسپی نہ ہوگا۔  یہ تحریر ایک صاحب محمد عابد علی خان کی ہے جو ایم کیو  ایم  کے پالیمنٹیرین رہ چکے ہیں، بقول انکے  اپنے۔

 پانڈے قلعی کروالو کا نعرہ اب معدوم ہوگیا ہے، جب ہم چھوٹے تھے تو آئے دن گلی میں یہ نعرہ سننے کو ملتا کہ، پانڈے قلعی کروالو، ہماری دادی بھگاتیں ہمیں جا پتر، اس پہائی کو روک  اور وہ پہائی  گلی میں شہتوت کے نیچے ہی اپنے چولہا جما لیتا اور پورے پنڈ کی عورتیں اپنے پہانڈے قلعی کروارہی ہوتیں ، یہ ایک فن تھا جو بہت سے دوسرے فنون کے ساتھ خود ہی ترقی کی نذر ہوکر آپ موت مرگیااپنی موت، مگر تھا بہت کمال کا فن کہ پرانے دیگچے اور دیگر دھاتی برتن دئے جاتے اور وہ انکو قلعی کردیتا اسطور پر کہ نئے معلوم ہوتے،  مگر ہوتے تو وہی تھے پرانے ہی ، جو ٹیڑھا تھا تو رہے گا، جس دیگچی کا کنارا تڑخا ہوا تھا تو وہ رہے گا۔ حتٰی کہ اگر کوئی ایسا برتن بھی چلا گیا جس میں سوراخ تھا تو وہ بھی باقی رہے گا مگر چم چم کرتے ہوئے، اور آنکھوں کو خیرہ کرتے ہوئے، لشکارے   مارتے ہوئے۔  یعنی پرانے کا پرانا مگر چمک نئی۔ 

کچھ یہی حال ہماری حکومت  کا بھی ہے کہ صوبے بنوالو، کوئی پوچھے میاں پہلے جو پانچ چھ بشمول آزاد کشمیر کے بنے ہوئے ہیں ان کی حالت تو بہت پتلی ہےوہ تو سنبھالنے سے تم لوگ قاصر ہو اور یہ کہ نئے بنا کر کیا کرلوگے،  برتن قلعی ہوکر نیا تو نہیں ہوجاتا، بھلے 
چمک اس میں آجاتی ہے، رہے گا تو وہی، ہے پرانا ہی جس میں  چھید بھی ہیں اور جسکے کنارے ٹوٹے ہوئے بھی ہیں ، 

    جب یہ صوبہ صوبہ  کی کت کت شروع ہوئی تھی تو میرا خیال تھا اوراب بھی ہے یا تو اس بحث پر پابندی لگا دی جائے یا پھر ہر محلے کا اپنا صوبہ بنا دیا جائے کہ جا میرا پتر کھیل اپنے صوبے سے۔   ایم کیو ایم پر تو مجھے پہلے ہی شک تھا کہ یہ سارا فساد اسی نے پھیلایا ہوا ہے کہ آج پشتون صوبہ بنے گا، کل ہزارہ، پرسوں سرائیکی اور چوتھ مہاجر ، سچ کو سامنے آتے  دیر نہیں لگتی، بقول ہمارے چچا ضیاءاللہ خاں  ، عشق ، مشک اور کھرک چھپائے نہیں چھپتے،۔

ایک اور تاریخ  قسم کا سوال میرے دماغ میں کلبلا رہا ہے  وہ یہ کہ 1963 میں بھٹو وزیر خارجہ بنا اور  تب وہ جنرل ایوب خان کا  دست راست وہ مشیر خاص تھا،  1967 میں پی پی پی کو عوام میں جاری کیا گیا  1970 کے الیکشن میں عوامی لیگ کی اکثریت کے باوجود ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ لگایا اور بن گیا مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش،   جمہوریت اور بچہ جمہورا کھیلتےہوئے بابائے جمہوریت   پاکستان کے پہلے اور  واحد سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹیرٹر بن گئے۔ 

کیا یہ ایک تاریخی اتفاق ہے کہ اب پھر جب صوبہ صوبہ کھیلا جارہا ہے اور ادھر تم اور ادھر ہم کا نعرہ لگ رہا ہے تو پی پی پی کا ہی دور حکومت ہے اور اتفاق سے انکو زمام حکومت سنبھالئے کچھ برس بھی بیت گئے ہیں۔  ابھی گیلانی صاحب اپنے وزارت اعلٰی پکی کرنے کے چکر میں پنجاب کو تو تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں مگر کل کو مہاجر کراچی بھی لے اڑیں گے، میرےمنہ میں خاک، تقسیم پاکستان کی سازشیں تو لگاتار ہورہی ہیں اگر اس ماندہ پاکستان کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تو باقی کیا بچے گا۔  پہانڈے قلعی کروانے سے وہ تو نئے نہیں ہوتے اور نہ صوبے بنانے سے ملک کے حالات تبدیل ہونے والے ہیں،  ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ملک کے اندر سے رشوت، اقرباپروری،بدامنی، ناانصافی، جہالت اور غربت کے خلاف محاظ بنایا جائے، یہ چیزیں جس معاشرے سے بھی نکل گئی ہیں وہ  پر سکون ہوگیا ہے، چاہے وہ سعودیہ کی بادشاہت ہو یا امریکہ کا صدارتی نظام ، چاہے جرمنی کی چانسلری کا سسٹم ہو کہ ہالینڈ کی جمہوریت۔  اس سے عوام کو جو جمہور کہلاتی ہے کوئی مطلب و اعتراض نہ ہوگا۔ 

مکمل تحریر  »

جمعہ, مارچ 09, 2012

سنی، شعیہ یا مسلمان؟؟

ابھی ٹی وی دیکھ رہا ہوں اور تکبیر چینل پر ایک مولبی صاحب بہت کڑیل قسم کی دھاڑی رکھ کر فرمارہے ہیں کہ وہ سنی ہی نہیں  جو پنج تن پاک کو نہ مانے،  شیعہ حضرات جو ہیں وہ خوامخواہ  سنیوں پر  الزام لگا رہے ہیں، 

میں نہیں سمجھ سکا کہ کیا یہ مسلمانوں کے علاوہ کوئی مذاہب ہیں؟؟ جنکا مسلمانوں سے بھی کوئی لینا دینا ہے کہ نہیں؟؟  اور  یہ کہ  میں جو سیدھا سیدھا مسلمان ہوں ، جو اللہ کو ایک مانتا ہے اور حضرت محمد ﷺ کو اللہ کے آخری نبی مناتا ہوں، یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہوں، قرآن اور دیگر کتب اور انبیاء پر مکمل ایمان کی حالت میں ہوں، کوشش ہوتی ہے کہ کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچے، کم از کم دانستہ ، کوئی ہے جو سمجھائے۔  

 میرا پھر کیا فرقہ ہوا؟؟

مکمل تحریر  »

جمعرات, مارچ 08, 2012

ثقافتی ثالث،اٹلی میں تنتر منتر

ساری روداد سننے کے بعد ہمارے علم میں  یہ بات بھی آئی  کہ اس گھر میں چند ماہ پیشتر کچھ لوگ آئے سادھو کی طرز کے جنہوں نے عجیب و غریب کپڑے پہنے ہوئے تھے اور منہ پر اور جسم پر رنگ ملا ہوا تھا،  جانے کس طرح گھر کے اندر گھس آئے اور انہوں نے کچھ توڑپھوڑ کی، کچھ اشلوگ پڑھے،  باپ گھر پر نہیں بلکہ عدالتی حکم پر کہیں اور رہ رہا ہے، بیٹا ماں کے کہنے سے باہر ہے اور وہ اپنی من مرضی کررہا ہے، اور اب یہ توڑ پھوڑ، شگون کچھ اچھا نہیں ہے، ارد گرد رہنے والی انڈین کمیونٹی کے بقول ان لوگوں نے کچھ اور گھروں میں اور پھر اس علاقے کے گردوارے میں بھی جاکرہلڑ بازی کی ، بدعائیں دیں اور کسی مائی کے بقول کچھ تنتر منتر بھی کیا، اٹالین لوگوں کے خیال میں یہ ٹن پارٹی تھی، کچھ انڈینز کے خیال میں یہ ڈھونگی تھے ، اس واقعہ سے چند دن پیشتر کسی نے چھوٹی بچی کو اسکول سے آتے ہوئے یا کسی اور موقع پر بیس یورو کا نوٹ پکڑا دیا جس پر کیسر کا رنگ ملا ہوتا تھا، انڈین معاشرے میں اسکو بھی تنتر گمان کیا گیا کہ اس گھر میں رہے گا اور اس گھر کی روزی بند ہوجائے گی،  آپ اور میں اگر ان سب چیزوں پر یقین نہ بھی کریں  اور فوراُ کہہ دیں کہ اوہو ہو یہ تو سب ٹھیٹیر اور ڈھونگ بازی ہے، سب ٹوپی ڈرامہ ہے ، مگر سوال یہ پیدا ہوا کہ آخر یہ سب اسی گھر کے ساتھ ہی کیوں پیش آرہا ہے، ہر مصیبت انہی پر ہی کیوں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ انکو کسی کی نظر لگ گئی ہو یا ان پر کسی نے جادو ٹونہ کردیا ہو، جس کو     بقول تنتر کہاجاتا ہے؟ یہ سب کچھ اٹلی میں ہی ہورہا ہے۔ 

مکمل تحریر  »

بدھ, مارچ 07, 2012

ثقافتی ثالث، ہاتھ سے نکلتی اولاد

گزشتہ داستان کو آگے بڑھاتے ہوئے
اس خاندان کا بیٹا جو اب لڑکپن کی عمر میں  ہے اور ادھر اسکول پڑھنے کی وجہ سے اسکی مقامی  اطالوی زبان پر مناسب اور قابل استعمال حد تک دسترس ہے۔ یہ اس خاندان کا ترجمان ہے، کہیں پر جانا ہے کسی بھی دفتر یا محکمہ میں تو یہی ان کا چاچا بنا ہوتا ہے، اور ابھی کچھ عرصہ سے اس نے یہ بھی کہنا شروع کردیا ہےکہ آپ کو کیا پتا، اس خاندان کی نگرانی کرنے والے لوگوں کے مطابق اس لڑکے نے ماں اور باپ کے ساتھ بدتمیزیاں بھی شروع کردی ہیں اور انکو بلیک میل بھی کرتا ہے۔ کہ مجھے پچاس یورو دو نہیں تو  ۔ ۔ ۔،  مجھے لیوز کی جینز کی پینٹ لے کر دو نہیں تو، ۔۔۔۔ اسکول بھی اپنی مرضی سے جاتا ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ابھی کچھ عرصہ سے اس نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ مجھے اتنے پیسے دو نہیں تو میں پولیس کو فون کردوں گا کہ تم نے مجھے مارا ہے، یا پھر سماجی خدمت والوں کو بلا لوں گا، یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ اس لڑکے کی دوستی اپنی سے دوگنی عمر کے لوگوں سے ہے اور یہ کہ ان کا تعلق مختلف ممالک و مذاہب سے    کہے، زیادہ تر لچے ہیں اور کچھ پر نشہ کرنے و بیچنے کا بھی شبہ ظاہر کیا جاتا ہے،   ان اداروں کے کارکنان کے علم میں یہ بات بھی آئی ہے کہ یہ لڑکا  پیسے دیتا رہا کہ اس کو عورتیں لا کردی جائیں،اب یہ پیسے کہاں سے اسکے پاس آتے رہے، اس بارے یہ علم ہوا کہ وہ پیسے اپنے والدین کو دھمکا کر ان سے لیتا رہا ہے،  ایک چودہ سولہ برس کا لڑکا اس روش پر چل نکلے کیا یہ نارمل ہے؟؟ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ       سب ٹھیک  ہے؟  کیا ان والدین کی اپنی اولاد پر پرورش پر شک نہیں کیا جاسکتا؟؟   کہیں ایسے تو نہیں ہے کہ لڑکا جو خاندان کو اس معاشرے میں انسرٹ ہونے  میں معاون ہے اور پل کا کام کرتا ہے، اپنے آپ کو اتنا اہم سمجھنے لگا ہے کہ گویا وہ اپنے والدین کا بھی  چاچا ہے۔  کیا اسکو والدین کی کمزوری لیا جائے گا  یا ادھر کے اداروں کو اس تربیت کا ذمہ دار ٹھرایا جائے گا؟؟ 

مکمل تحریر  »

جمعہ, مارچ 02, 2012

ثقافتی ثالث، چلتے ہو تو اٹلی کو چلئے

معاملہ  انڈیا سے تعلق رکھنے والے  ایک سکھ خاندان کا ہے، جو باپ   ، ماں، سولہ سالہ بیٹے  اور دو چھوٹی بیٹیوں  پر مشتمل ہے۔ باپ جو سن بانوے میں اٹلی آیا اور اسکاتعلق پنجاب کے ایک گھرانے سے ہے  جو زمین کا مالک ہے ، مطلب کھاتے پیتے لوگ،  ماں  اٹلی میں دس برس  بل آئی  ، شادی کے  چند برس بعد ، تب یہ لڑکا اسکی گود میں تھا،  دو چھوٹی بیٹیاں انکے ہا ں ادھر اٹلی میں  پیدا ہوئیں۔باپ ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے جہاں پر اسے مٹی وغیرہ کو ہٹانا ہوتا ہے، بہت ہی گندا اور بھاری کام، بقول اسکے بہت ہی غلیظ کام ، جو میرے علاوہ کوئی کرنے کو تیار ہی نہیں ہے، جبکہ میرے پاس اور کوئی چارہ  نہیں، پس اس نے شراب پینی شروع کردی اور ٹن ہوکے پیتا، وجہ اس لال پری کی یہ بیان کرتا ہے  کہ پیتا ہوں غم کو مٹانے کو اور ٹینشن کو گھٹانے کو۔
ماں انڈیا کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اسکا دادا پنڈ کا لمبردار ہے نہ صرف  بلکہ گرہنتھی بھی ہے، اپنی طرف  امام صاحب کہہ لو۔     شادی دونوں خاندانوں کی رضامندی سے ہوئی تھی  شادی کے پورے نو ماہ بعد انکے بچہ پیدا ہوا۔
یہ  ادھر بسنے والے ہر دوسرے خاندان کی  فوٹو اسٹیٹ ہے جو پنجاب سے ادھر آبسا،   یہ خاندان اداروں کی نظر میں اس وقت آیا جب   ایک شام کو  یہ بزرگ اپنی دونوں بچیوں کے ساتھ چہل قدمی فرماتے ہوئے سڑ ک  پر لڑھک  پڑے اور غین ہوگئے۔  بچیاں جو دس اور آٹھ برس کی ہیں اپنے والد کو سنبھال نہ سکیں اور  ڈرکر رونے چلانے لگیں،  چلتے پھرتے راہگیروں میں سے کچھ لوگ نزدیک ہوگئے اور کسی نے  پاس سے گزرتی ہوئی پولیس کی گاڑی کو ہاتھ دے لیا، ادھر پولیس  صرف مجرم ہیں پکڑتی بلکہ ہر ایمرجنسی میں آپ کی معاونت کرنے کی ذمہ دار ہے،  پس ایمبولنس بھی کال ہوگئی اور سردارجی کو  اٹھا کر ہسپتال پہنچادیا گیا، جہا ں پر معلوم ہوا کہ یہ حضرت ٹن  پڑے ہیں،  اور انکے اندر الکحل کی موجودگی  کا درجہ دوسو بیس پایاگیا ، بس الارم کھڑک گئے، کہ  دیکھو یہ کیسا باپ ہے جو اس حالت میں  پایا گیا کہ بجائے اپنی بچیوں کی دیکھ بھال کرسکتا  خود سے بھی بے خبر ہے،  یہ واقعہ ایک برس پیشتر کا ہے، بس پھر تفتیش شروع ہوگئی اور ادارے حرکت میں آگئے، معاملہ عدالت تک پہنچا تو عدالت نے فوراُ فیصلہ سنا دیا کہ اس نشئی بندے کو اس طرح بچوں کے ساتھ نہیں رہنے دیا ، جاسکتا، بہت برا اثر پڑے گا ان پر،  پس   عدالت کے حکم پر سردار جی کوگھر سے بے دخل کردیا گیا، کہ جاؤ میاں اپنا بندوبست کرو،  اور   ایک ماہر نفسیات، ایک سماجی مسائل کی ماہر، ایک ایجوکیٹر،  اور ایک ثقافتی ثالث  کو تعینات کردیا گیا کہ لو جی  دیکھو ذرا اس خاندان کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ 

مکمل تحریر  »

ثقافتی ثالث

ایک بندہ  جو دوسرے ملک میں جابستا  ہے اور مہاجر کہلاتا ہے ثقافتوں کے درمیان  پل کا کردار ادا کرسکتا ہے۔
یہ مہاجر ثقافتی ثالث کب بنتا ہے؟؟
ثقافتی ثالث ایک ایسا بندہ ہے جو کو اٹلی میں کچھ عرصہ سے رواج دیا گیا، ایک بندہ جو اٹلی کی زبان کو ہی نہیں بلکہ ادھر کے ماحول کو اور سماجی معاملات کو بھی اچھی طر ح سمجھتا ہو، نہ صرف بلکہ اپنے  یا دوسرے ملک کی ثقافت اور سماجی معاملات پر کڑی نظر رکھتا ہو، جو ادھر کے رہن سہن کا ادھر کے معاملات سے موازنہ کرسکے،  سماجیات کے اس شعبہ میں اب اٹالین لوگ بھی بہت دلچسپی سے شامل ہونے لگے ہیں مگر۔۔۔
روداد ایک میٹنگ کی جو ویرونا یونیورسٹی اور سماجی و صحت کے شعبے میں کام کرنے والوں کے درمیان تھی اس ملاقات میں کوئی بیس کے قریب لوگ  کی موجودگی  اس بات کی غماز تھی کہ معاملہ کچھ سیریس ہے،   یونیورسٹی کے نفسیاتی، سماجی اور ثقافتی شعبوں کے تین پروفیسرز،  کوئی دس کے قریب  سماجی و معاشرتی اداروں اور غیر حکومتی  انجمنوں کے ماہرین،  پاکستان اور انڈیا کے پنجاب کے  مختلف علاقوں  سے تعلق رکھنے والے  ہم تین بندے اور دو بندیاں۔  یہ بندے بھی وہ جومعاملات میں اپنی رائے رکھتے ہیں،  جو پنجاب کی ثقافت کو بھی جانتے ہیں اور اطالیہ کے معاملات زندگی پر بھر پور نظر ہی نہیں رائے بھی رکھتے ہیں۔  پنجاب سے اٹلی میں ہونے والی ہجرت کے فنامنا کو  دیکھنے  اور اسکا  مطالعہ کرنے کے پروگرام کی ایک نشست کا احوال ،  ایک کڑی نظر ہمارے ارد گرد  پر ۔ 
میری کوشش ہوگی کہ اس چار گھنٹوں کی نشست کا احوال من وعن کے ساتھ بیان کروں،   سب ایک ساتھ لکھنے کی بجائے مختلف حصوں میں  واقعات بیان کرتے ہوئے ، جو سوالات اٹھتے ہیں اور جو معاملات سامنے آتے ہیں انکا تجزیہ بھی  آپ کے ساتھ شئر کرسکوں

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش