ہفتہ, جولائی 28, 2012

بلاگ ھیک ہوگیا

کوئی ہے،
یار ادھر میرے بلاگ کے ٹاپ پر ایک اشتہار آرہا ہے، بلکہ نہیں ہر واری بدل بدل کر آرہا ہے، لگتا ہے کہ کنجر ٹائیپ کا ہیکر چکر دے گیا، کوئی صاحب اس سے جان چھڑانے کے نسخہ تو بتائیں، بلکہ اس سے پہلے یہ بتلائیں کہ کیا آپ بھی دیکھ رہے ہیں، ٹاپ پر ایک بینر جس کے ساتھ لکھا ہوا کہ: " یہ اشتہار اس سائیٹ کا نہیں ہے"؟
 کوئی پوچھے ان سے کہ فیر تمھارے چاچے کا ہے

کوئی مومن اس خباثت سے جان چھڑانے کا طریقہ بلکہ حکیمی و سنیاسی قسم کا نسخہ تو بیان فرمایں اور ثواب داریں حاصل کریں

مکمل تحریر  »

لڑکی واپس

ہماری گزشتہ پوسٹ میں تلبلاہٹ اور جھنجھاہٹ سے بہت سے احباب اور ہم خود بھی "تلووصیلہ"  تھے، مگر آج انہی محترمہ کا پیغام تھا جنہوں نے اس خبر کی نشاندہی کی تھی کہ وہ لڑکی واپس آچکی ہے اور یہ کہ وہ اپنے اس  " یار"  عرف کلاس فیلو یعنی کہ اسکی غیرملکی لڑکے کے گھر موجود تھی جس کے ساتھ دکاندار نے اسے دیکھا ۔

میری تلبلاہٹ پھر وہیں ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ گھر والوں کو اس طرح کے حالات کا شائبہ تک نہ ہو اور یہ کہ "ایڈے سادے وی نہ بنڑو" اور اپنے بچوں پر نظر رکھو بلکہ انکو بچاکررکھو،  بچوں کی حفاظت کا مطلب ان پر جبری کنٹرول قطعی نہیں ہے، بلکہ ایک یہ بھی طریقہ ہے کہ آپ انکے اتنے قریب ہوں کہ وہ  اپنی ہر بات  آپ کے ساتھ شئر کریں اور لازمی طور پر آپ انکو کچھ صائب رائے ہی دیں گے، مگر ہمارے ہاں اس کے الٹ ہوتا ہے کہ بچوں کو اتنا ڈرا کر رکھا جاتا ہے اتنی ٹینشن دی جاتی ہے کہ  کوئی جائے مفر  نے پاکر کدھر جائیں ہم۔
اب کے جی تو چاہتا ہے کہ مرہی جائیں ہم
جو مرکے بھی چین نہ پائیں تو کدھر جائیں ہم   

اور یہ بھی کہ اس طرح کے واقعات پاکستان میں بھی ہوتے ہیں اٹلی میں ذرا زیادہ ہوسکتے ہیں، مگر جب ایک معاملہ ایک گھر کا ہو تو اسے اخبار کی زینت بننے سے بچانا چاہیئے ،  کیونکہ پھر بات ایک گھر کی نہیں ہوتی بلکہ پاکستانیوں کی ہوتی ہے۔
کہ یہ سارے ہی کنجر ہیں

مکمل تحریر  »

سوموار, جولائی 23, 2012

میں غلط ہوں


فقہ حنفیہ کے مطابق 22جولائی 2012 بروز اتوار افطار کے اوقات ( 2 رمضان )

کراچی میں افطار کا وقت 07:22 ہے ۔
اسلام آباد میں افطار کا وقت 07:16 ہے ۔
پشاور میں افطار کا وقت 07:23 ہے ۔
حیدر آباد میں افطار کا وقت 07:18 ہے ۔
فیصل آباد میں افطار کا وقت 07:11 ہے ۔
Inizio modulo
·          
o   
Muhammad Zohair Chohan لاہور میں سب فقہ وہابیہ سے تعلق رکھتے ہیں جو انکا کوئی ذکر نہیں؟
4 hours ago · Like
o    
Raja Iftikhar Khan مسلمانوں کے اوقات بھی بتلا دیتے تو اچھا ہوتا
4 hours ago · Like

Muhammad Zohair Chohan ^ مسلمانوں کو خود پتہ ہونے چاہیں۔
4 hours ago · Like
o    
Raja Iftikhar Khan اچھا فیر ٹھیک ہے
4 hours ago · Like
o 
Muhammad Zohair Chohan ویسے تو پوری دنیا میں دو ہی فقہ کے مطابق سحر و افطار کیا جاتا ہے، فقہ حنفیہ اور فقہ جعفریہ۔ لیکن پاکستان میں آج کل فقہ وہابیہ بھی شروع ہوگیا ہے جو سحری کے وقت 5 منٹ لیٹ اور افطاری 5 منٹ پہلے کرتے ہیں۔ (ذراع)
4 hours ago · Edited · Like
o    
Raja Iftikhar Khan پھر تو کچھ اور فرقے بھی ہونگے فرقہ کھتریہ، پھر یہ لا تفرقو کا کیا ہوا، بھائی جی یہ بھی بتا دو کہ سورج کا طلوع و غروب کونسی فقہ کے مطابق ہے، پھر ہم اسی کو فالو کرلیں
4 hours ago · Like
o 
Muhammad Zohair Chohan فقہ اور فرقہ میں کچھ فرق ہوتا ہے۔ ذرا دھوپ کا چشمہ اتار لیں حاجی صاحب۔
3 hours ago · Like
o    
Raja Iftikhar Khan میرا تو خیال ہے کہ دونوں کا مقصد آج تک تفرقہ ڈالنا ہی رہا ہے، یا حاج، ورنہ سوکھا کام وقت آغاز سحر و غروب آفتاب لکھ دو، ایک منٹ بعد روزہ افطار کرلو، ویسے نبی پاک اور صحابہ کونسی فقہ کے مطابق روزہ کھولتے تھے
3 hours ago · Like
o    
یعنی کہ آپ کو اعتراض اس بات پر ہے کہ حنفیہ نہ لکھا جائے؟ اگر آپ کو اتنی چڑ ہے تو جناب آپ اپنی مرضی سے سحر و افطار کر لیں کوئی زبردستی تو آپ کو کہا نہیں جارہا نہ؟ آپ چاہیے دن چڑھے سحری کر لیں یا آدھی رات کو افطار یہ آپ کا پرابلم ہے۔ ویسے آج کل کے دور میں تو وہ لوگ زیادہ تفرقہ ڈال رہے ہیں جو بظاہر الاپتے رہتے ہیں کہ تفرقہ نہ ڈالو وغیرہ وغیرہ۔

ابھی آپ نے بڑی ہوشیاری سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کو الگ پارٹی اور امام ابو حنیفہ اور انکے پیروکاران کو الگ پارٹی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر ڈالی۔ آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ امام اعظم فرماتے ہیں :

میں سب سے پہلے کسی مسئلے کا حکم کتاب اﷲ سے اخذ کرتا ہوں، پھر اگر وہاں وہ مسئلہ نہ پاؤں تو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے لیتا ہوں، جب وہاں بھی نہ پاؤں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے اقوال میں سے کسی کا قول مان لیتا ہوں اور ان کا قول چھوڑ کر دوسروں کا قول نہیں لیتا اور جب معاملہ ابراہیم شعبی، ابن سیرین اور عطاء پر آجائے تو یہ لوگ بھی مجتہد تھے اور اس وقت میں بھی ان لوگوں کی طرح اجتہاد کرتا ہوں۔
o    
Raja Iftikhar Khan یہ آپ نے تہترواں فرقہ بنا دیا، بھائی جی جب بات اللہ اور اللہ کے رسول کی ہورہی ہوتو باقی سب دلائل اور حوالے بے معنی اور ہیچ لگتے ہیں جو انکے مطابق ہے وہ تو ٹھیک ہےاور جو انکے مطابق نہیں ہے وہ ٹھیک نہیں ہے، جب حکم ہوگیا کہ بھئی سحر طلوع ہونے پر سحری بند اور سورج غروب ہونے پر روزہ افطار، اب اس کو کونسا مسلک دو گے آپ یا پھر کونسا فرقہ بناؤ گے، مجھے ہر اس نام پر اعتراض ہے جو اللہ اور اللہ کے رسول کے بعد آئے اور تفرقہ کا باعث بنے۔ بلکل ایسے ہی جیسے ترجمہ کے ساتھ قرآن پڑرہے ہو تو مترجم صاحب حاشیہ کے بیچ اپنا لقمہ دیتے ہیں گویا اللہ کو نعوذ باللہ بات سمجھانے کو اس لقمہ کی ضرورت تھی۔ جب ہر بات کا ماخذ ہی قرآن و حدیث ہے تو پھر ان پر رجوع کریں، ادھر منٹوں اور سیکنڈو ں کا نہیں کہیں ذکر نہیں، اگر کسی کا روزہ ایک ادھ منٹ کے فرق 
سے بھی کھل جاتا ہے تو اس کا فرقہ بننا عجب داستان ہے۔

یہ فیس بک پر ہونے والی ایک گفتگو کا احوال ہے جو فرقہ بندی پر ختم ہوئی،  
کبھی پانی پینے پلانے پر جھگڑا ،          کبھی کتا نہلانے پر جھگڑا
آج روزہ کھولنے کھلوانے پر جھگڑا ،  کل مسلا کہلوانے پر جھگڑا

میرا سوال پھر یہی رہا کہ کیا اللہ میاں روزے کے بارے ، اسکی نیت کے بارے   دلچسپی رکھتے ہیں کہ جو فلاں امام صاحب نے اور فلاں حضرت صاحب نے، کہا اس میں ، جب حکم آگیا کہ آج کے دن دین مکمل ہوا اور نعمت تمام ہوئ، تو ہم لوگ کیوں دین میں چیزوں کو شامل کرکرکے کفران نعمت کرنے پر تلے ہوئے ہیں،
مگر نہیں لگتا میری ہی مت ماری گئی ہے، میں ہی غلط ہوں، مگر پھر وہ کیا ہو ا اس حکم کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت کر،
پر مجھے تو لگتا ہے کہ ادھر ہر کوئی اپنے والی رسی پھڑے ہوئے گھوم رہا ہے، 
 نہیں نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ، ایک میں ہی تو نہیں ایک سیانہ  پوری دنیا میں  اور باقی سارے پاگل ہیں، نہیں جی ایسا کیسے ہوسکتا ہے، بس میری ہی مت وجی ہوئی ہے۔ کوئی رسی ہی پھڑا دو ساہنوں وی۔ ۔
Fine modulo


Fine modulo

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جولائی 21, 2012

لڑکی غائب

ایک محترمہ نے بعذریہ فیس بک پوچھا کہ اگر مجھے اس بارے کچھ علم ہے، تو مگر میری لاعلمی پر  " ایل جورنو "  نامی اخبار کا لنک فراہم کردیا،
ساری  خبر کا ترجمہ میں ادھر کردیتا ہوں،  باقی آپ جانیں کہ کس نظر سے دیکھتےہیں۔

میری بیٹی غائب ہوگئی ہے، اسے تلاش کرنے میں میری مدد کی جائے۔
مونزہ ،  سولہ سالہ پاکستانی لڑکی غائب۔
باپ: " وہ تو اسکول میں پہنچی ہی نہیں"  اسکے پاس پیسے تھے نہ ڈاکومنٹس،  مگر ایک دکاندار نے اسے ایک لڑکے کی کمپنی میں دیکھا۔
اچانک ہی گم ہوگئی  نو جولائی سے،  اسکا نام ہے  عائشہ پروین،   پاکستانی، سولہ برس کی ہے،  لمبے سیاہ بال جو چہر ے کو فریم میں لاتے ہیں،  ایک میٹر ساٹھ کی قامت، متناسب جسم،  وزم چالیس کلو کے قریب،   سرکاری طور پر وہ صبح گھرسے اسکول جانے کو نکلی ، جہاں وہ  بنیادی زبان کی تعلیم لیتی ہے، اور یہ اسکول گھر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے،  مگر عائشہ اس اسکول میں شاید کبھی گئی ہی نہیں۔

اسکول میں اس صبح اسے کسی نے دیکھا ہی نہیں ،  نہ پروفیسروں نے اور نہ ہیں اسکے کلاس فیلوز نے،  اسکا باپ عجائب حسین عمر 53 برس قومیت پاکستانی ، جو اٹلی میں دس برس سے زیادہ کے عرصہ سے مقیم ہے اور باغبانی کا کام کرتاہے،  ہمت ہارچکا ہے۔ وہ ، اسکے اہل خانہ، دوست، ہم وطن سب ملکر اسی شام سے اسے تلاش کررہے ہیں۔  اسکا بڑا بیٹا بلال ، ذاتی طور پر پرچا کٹوانے گیا تھا دوسرے دن ہی کاریبینیری کے متعلقہ دفتر میں۔

باپ کے بقول: " ساڑے بارہ بجے تک جب وہ واپس گھر نہیں آئی تو ، میرا بیٹا اسے اسکول میں تلاش کرنے گیا مگر وہاں پر معلوم ہوا کہ وہ تو اسکول گئی ہی نہیں ،   ہم نے اسے ہر جگہ تلاش کرنا شروع کردیا، ہسپتالوں میں ، مما ریٹا کے گھر میں ۔۔۔۔۔۔۔،  تین برس قبل عجائب حسین نے اپنی فیملی کو مونزہ میں بلاکر اکٹھا کیا، جس میں اسکی بیوی کے علاوہ چھ بچے بھی ہیں، بیس برس سے بارہ برس کی عمر تک کے۔ مسلمان اور رسم ورواج کے پابند،  "مگر ہم ان بریشیا کے پاکستانیوں کی طرح نہیں ہیں"،  عجائب حسین ہاتھ اگے رکھ کر   بریشیا میں چند برس قبل والد کے ہاتھوں قتل ہونے والی لڑکی حنا سلیم کا حوالہ دے رہا تھا،  جس پر مغربی طرز حیات کو اپنانے کا الزام تھا۔

جبکہ ٹوٹی پھوٹی اٹالین میں ، گلہ بھر کر بیان کررہا تھا کہ جب سے عائشہ گم ہوئی ہے تب پوری فیملی پریشان ہے  " ہم نے تو کھانا تک نہیں کھایا"۔ عجائب حسین اس دوران متعدد بار پھٹ پڑ ا ، رونا ضبط کرلیا مگر  اسکے آنسو نہ نکلے۔ تصویر جو بنتی ہے وہ سب مگر واضع نہیں: لڑکی صرف اردو میں ہی بات کرسکتی تھی جو پاکستان کی قومی زبان ہے، اسے اٹالین کا ایک لفظ نہیں آتا تھا  جبکہ وہ دو برس سے  بیلانی نامی مڈل اسکول میں زیر تعلیم ہے ، عین ممکن ہے کہ اسکول کے اساتذہ نے ہی اسے بنیادی اٹالین کے اسکول میں میں پڑھنے کا مشورہ دیا ہو۔


باپ کے بیان کے مطابق اسکے دوست نہ تھے اور لڑکے تو بلکل بھی نہیں،  (مگر اس صبح ایک دکاندار نے اس لڑکی کو ایک غیر ملکی لڑکے کے ساتھ دیکھا ہے)، صرف ٹی وی دیکھ لیتی تھی، ( وہ بھی انڈین فلمیں )،  وہ انٹرنیٹ کا استعمال نہیں جانتی تھی اپنے بھائیوں کے برعکس،  "بس اپنے کمرے میں گھنٹوں چپ چاپ  پڑی رہتی،نہ تو احتجاج کرتی تھی ، نہ ہی  کوئی مطالبہ نہیں کرتی تھی، نہ  ہی پیسے مانگتی تھی،  کچھ بھی تو نہیں کہتی تھی"۔ گم ہونے کی صبح اس نے گلابی رنگ کی چھوٹے بازوؤں والی قمیض  پہنی،  براؤن رنگ کی  پنتلون اور جوتے، اور دوپٹہ سر ڈھانپنے کو۔  تفتیش کاروں  کا جبکہ خیال ہے کہ عائشہ خود ایک طرف ہوگئی ہے، اور یہ کہ اسے ممکنہ طور پر کسی  کی پناہ حاصل ہے،  شاید کسی ہم وطن کی۔

"یہ  میرے بچوں میں سے چوتھے نمبر پرہے"۔ عجائب حسین بیان کررہا تھا۔ میں تو بس اسکےلئے ایک دن ایک اچھا شوہر تلاش کرنا چاہ رہا تھا، اٹلی میں ایک لڑکی کےکرنے کے کام نہیں ہیں۔   ایک شوہر شاید باپ کا منتخب کردہ،  جو گرمیوں کے بعد بڑی بیٹی کی شادی کرنے کا اہتمام کررہا تھا " ایک ہم وطن دوست کے بیٹے کے ساتھ۔۔ ۔ "  مزید کچھ کہنا اس نے مناسب نہ سمجھا:میری بیٹی اس لڑکے کا فوٹو دیکھ پائی تھی اور انٹرنیٹ پر اس سے رابطہ بھی کیا تھا،  "اگر وہ اسے پسند نہ آتا یا وہ اس سے شادی نہ کرنا چاہتی تو اسکےلئے ایک اور تلاش کرلیتا۔۔۔۔۔۔۔۔"۔

مکمل تحریر  »

جمعہ, جولائی 20, 2012

ہماری احتیاطیں

لوجی گزشتہ ہفتے کے لفڑے کے بعد اس بار ہم نے کسی پرانے بابے کی طرح سفر شروع کرنے سے پہلے گاڑی کے چاروں طرف گھوم کر اورٹائیروں کو لات  مارکر دیکھا کہ کہیں کوئی ہینکی پھینکی تو نہیں ہے، پھر گیس کا درجہ دیکھا  اور پہلے گیس اسٹیشن سے دوبارہ سے ٹینکی فل کروانے کی نیت کی۔

پانہ کو ہاتھ لگا کر دیکھا کہ ہے بھی یا صرف نظر آرہا ہے۔  پھر اندر پڑے ٹائیر کو بھی ٹٹولا کہ گزشتہ ہفتے کی طرح اس بار بھی کہیں ساتھ نہ چھوڑگیا ہو۔

کوئی چھ ماہ بعد انجن آئیل کا درجہ دیکھا کہ ادھر ہی ہے یا کہیں اور ہی تو نہیں نکل لیا۔  اصل میں  ہماری تیل چیک کرنے کی روٹین بھی یہی ہے کہ جب کبھی گاڑی  مرحلہ وار ٹیوننگ کروائی تو مکینک سے پوچھ لیا کہ تیل تو پورا ڈالا ہے کہ نہیں، مکینک بھی اپنا رمضان ہو تو پھر اعتبار نہ کرنے کی وجہ؟ پس جب اعتبار ہے تو پھر خود سے چیک کرنے کی وجہ، ایویں اگلا ناراض ہوجائے کہ پہاء جی آپ ہمارے ہوتے ہوئے بھی خود تیل چیک کرتے پھرتے ہو۔

پھر مرحلہ پانی کے چیک کرنے کا تھا مگر موٹر کے گرم ہونے کی وجہ سے اسے کل  صبح  پر ملتوی کردیا  ہے۔ چلتے ہوئے سفر کی نیت اس بار باقاعدگی سے گاڑی کو گئیر میں ڈالنے سے پہلے کی ورنہ پہلے تو ادھر گاڑی چلی اور ہماری نیت بعد میں شروع ہوئی۔


ویسے ہم تھوڑے مکینک بھی ہوگئے ہیں، کہ گاڑی کا بونٹ خود ہی کھول لیا اور پھر پلگ کی تاروں کو بھی خود ہی دبا کر دیکھا۔

مکمل تحریر  »

سوموار, جولائی 16, 2012

بابے کا فرض

یاد آیا کہ ہماری گاڑی کی انشورنس میں روڈاسسٹنس بھی تو شامل ہے اسکے بھی تو پندرہ یورو سالانہ دئے ہوئے ہیں،  چلو انکو ٹرائی کرکے دیکھتے ہیں، اب انشورنس کے کاغذات نکالے اورڈرتے ڈرتے  انکو فون کیا کہ چھتر مارے گی کہ بابا تو نے جو پیسے دیئے ہیں وہ کسی بڑی مصیبت کےلئے ہیں، ٹائر کا مسئلہ اتنی اہمیت کا حامل نہیں ہے،  اول تو موسیقی سنائی گئی ، پھر ایک خاتو ن کی مٹھاس بھری آواز ہمارے کانوں   میں رس گھولنے لگی، کہ آپ کی میں کیا خدمت کرسکتی ہوں، میں نے کہا بی بی آپ ہی تو خدمت کرسکتی ہو، اس نےگاڑی کی تفصیل لی،  موٹر وے کی لوکشن پوچھی، خرابی پوچھی تو میں نے بتایا کہ ذرا جی کڑا کر، مگر بھلے مانس نے کچھ نہ کہا ،صرف یہ کہ آدھ گھنٹے چالیس منٹ میں بس لفٹر آتا ہے اور آپ کو قریبی ورکشاپ پہنچایا جائے گا، گاڑی  کل ٹھیک ہوگی،  میں نے کہا بی بی کل پھر ادھر آنا بہت دشوار است، مطلب صاف لفڑا، آپ میری گاری اگلے سروس اسٹیشن تک پہنچادو، اور پھر میں جانوں اور میرا کام،  کہنے لگی گاڑی والے سے بات کرنا۔ اسلام علیکم اور یہ کہ فون کرنے کا شکریہ۔

ابھی انتظار شروع ہوا اور چالیسویں منٹ پر لفٹر ٹرک آن پہنچا، ڈرائیور ایک تھا  بزرگ  کوئی ساٹھ کے پیٹے میں ہوگا،   ساتھ میں کوئی نکا نہیں تھا، نہ ہی کوئی ہیلپر، اسے صورت حال بتائی تو کہنے لگا اگر ایسے کرنا ہے تو ٹائر تمھیں خود بدلنا پڑے گا،  میں نے اسے بتایا کہ میرا اس بارے کوئی تجربہ تو نہیں ہے مگر کوشش کروں گا، بابے نے نہایت بھلے مانسی سے گاڑی کو ٹرک پر چڑھایا اور ، ہم ڈیڑھ کلومیٹرکا فاصلہ عبور کرکے موٹر وے اسٹیشن پر پہنچے ، گاڑی اتاری گئی اور ٹائیر میں ہوا بھری گئی ، پھر ہم  نے بابے سے ہی پانہ مانگا اور کوشش کری نٹ کھولنے کی مگر وہ بھی ہمارا امتحان لینے کو تلے ہوئے تھے، یا پھر برسوں کے زنگ آلود ، کہ کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے، بابے نے  مجھے ہٹایا اور ہوپ کہہ کر ایک دو تین چار نٹ کھول دیئے، ٹائیر نکال کر یہ پھینکا اور دوجا لگا، کوئی پانچ منٹ میں گاڑی فٹ چاروں پہیوں پر چلنے کو تیار،چلتی کا نام گاڑی کے مصداق پھر سے چلنے کو تیار۔

دونوں نے کالخ بھرے ہاتھ  ادھر واش روم کے خوشبودار صابن سے دھوئے اور پھر بابے نے ایک فارم نکالا ، اس پر  مجھے نام اور گاڑی  کا نمبر لکھ کر دستخط کرنے کو کہا۔ پھر کہنے لگا کہ تمھارے ذمہ کچھ بھی نہیں، اس سے پہلے کہ میں اسکا شکریہ ادا کرتا، وہ کہنے لگے:  " ہماری سروس استعمال کرنے کا بہت شکریہ"۔

بابے کا شکریہ اداکرنے کے الفاظ جو میں نےپہلے سے  سوچ رکھے تھے وہ منہ میں ہی رہے۔ البتہ اسے کہا : "بابا جی آپ کا شکریہ کہ آپ نے میری اتنی مدد کی"،   تو کہنے لگا :  "ہ جی کوئی گل نہیں یہ تو میرا فرض تھا"۔  

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جولائی 14, 2012

طوطے اڑنا

گورے کے انتظامات کے اور پروگرامنگ کے تو ہم خیر روز اول سے قائل ہیں،  کہ جناب کسی چھوٹی سے چھوٹی  پروبلم کو حل کرنے اس کے پیچھے بس ہے،  اور وہ بھی پوری منصوبہ بندی  کے ساتھ  کہ دوبارہ اس کا سامنا نہ کرنا پڑے،   ہم سے مراد ہماری پوری قوم لیجئے،  بلکہ عوام الناس  پڑھا جائے،  البتہ اگر اس میں شامل نہیں ہیں تو ہمارے حکمران نہیں ہیں  کہ انکو نہ تو کسی مسئلہ سے کچھ لین دین  ہے اور نہ  ہی کسی طرح کی منصوبہ بندی سے۔ ویسے بہت سے ذاتی معاملات میں ہمیں بھی  دوسرے درجہ میں ہی شمار کیا جائے یعنی  نہایت ہی بدانتظام پارٹی میں،  بھلے ہمیں پیپلز پارٹی میں شامل کرلو اس ضمن میں، اس پر کوئ اعتراض نہ ہوگا جسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چلو حکومتی پارٹی تو ہے۔   

کل رات کو ساڑے سات بجے نکلا گھر کو واپس آنے کو،  لوٹ کہ بدھو گھر کو چلے۔  ابھی کوئی ایک سو ساٹھ کلومیٹر کا کل سفر ہے، ساتھ ہی ویرونا سے ایک کولیگ ڈاکٹرصاحبہ کے ہاں پڑاؤ کرنا تھا،   پروگرام تھا کو ادھر کو ئی  ایک گھنٹہ کا پڑاؤ کرکے نکل لوں گا،  پھر کیا تھا گاڑی کو لیتے ہی تیسرے ٹریک میں ڈال دیا اور سپیڈ لمٹ  پلس مارج ملا کر 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کے حساب سے بھگانا شروع کردیا،  بس کوئی  چالیس کلومیٹر پیشتر ہی گاڑی کچھ بھاری سی محسوس ہوئی، سوچا کہ گیس شاید کم ہورہی ہے، چلو پیٹرول پر کرلیتے ہیں، مگر تھوڑی دی میں ہی ڈگ ڈگ کی آوازیں اور پھر گاڑی کا ہونا بے قابو، بے اختیار منہ سے نکلا   کلمہ اور پھر یہ کہ لوجی ٹائیر پھٹ گیا ہے، میرے سال 13 برس کی ڈرائیونگ کے دوران یہ پہلا واقعہ  ہے۔ خیر چاروں اشارے لگائے اور گاڑی کرلی سیدھے ہاتھ کو، اللہ بھلا کرے اٹالین ڈرائیوروں کا جو بہت نیک دلی سے مجھے فوراُ بریکیں لگا کر رستہ دیتے چلے گئے، کسی نے بھی ہارن تک نہ دیا، ہمارے ادھر ہوتے تو دے دے کر ہارن بندے کو پزل کردیتے۔

خوش قسمتی سے ادھر ایمرجنسی کا ایریا تھا، اللہ اللہ کرکے گاڑی روکی، شکر کا کلمہ پڑھا  اور نیچے اتر کر دیکھا تو ٹائیر کے چیتھڑے اڑچکے تھے۔ایک بار پھر اللہ کا شکر ادا کیا کہ جان بچ گئی کون جانے کیا کچھ ہوسکتا تھا اتنی سپیڈ پر۔ 

ابھی ہماری منصوبہ بندی کا حال بھی سنئے،  فوراُ ڈگی کھولی اور اسٹپنی والا ٹائیر نکالا  ، اوہو ہو، اسکی تو ہوا ہی نکلی ہوئی ہے، پھر سوچا کہ چلو ٹائیر لگا لیتےہیں اور اسی پر پولے پولے اور ہولے ہولے اگلے آٹو اسٹیشن تکے پہنچ جاتے ہیں جو ہمارے اندازے کے مطابق ڈیڑ ھ سے دو کلومیٹر تھا۔ ، اب رسک تو لینا ہی پڑے گا ، کیوں جناب؟   

 ابھی جیک لگا کر گاڑی اٹھا ہی رہا تھا تو یاد آیا کہ ماشٹر نے کہا تھا کہ پہلے ٹائیر کے نٹ کھول لینا، ادھر پانہ ڈالا تو وہ خالی گھوم گیا، معلوم ہوا کہ وہ بھی فری ہویا ہوا ہے۔ اب تو سچ میں ہمارے ہوش کے طوطے ہی اڑگئے، ایک گبھراہٹ کا دورہ کہ اگر کوئی پاس ہوتا تو ضرور کہاتا کہ ایک رنگ جا رہا ہے اور ایک رنگ آرہاہے، یا پھر ہوسکتا ہے چہرے کا رنگ فق ہو چکا ہے۔ مگر اس وقت ادھر توجہ نہیں دی اور کمال دلیری اور بردباری سے جیب سے فون نکالا اور خالد صاحب کو ملایا کہ ہمارے مہربان ہیں اور ٹرک ڈرائیور ہیں ،  وہی ہوا جوآپ سوچ سکتے ہو، فون  بند، جمیل صاحب بھی ٹرک ڈرائیورہیں اور ہمارے لنگوٹئے بھی  گو کہ ان سے ملاقات ہوئے ایک ورہ بیت گیا ہے۔ جواب ندارد، شاہد کیانی ایک اور دوست ہیں جو ادھر نزدیک رہتے ہیں شاید 15 کلومیٹر کے فاصلہ پر کہ یار پانہ ہی پھڑا جاؤ، مگر وہی  بیل جانے کے بعد فون والی مائی نے صاف جواب دے دیا کہ صارف جواب دینے سے قاصرہے، بندے پوچھے جو جواب نہیں دے رہا تو ظاہر سی بات ہے قاصر ہی ہوگا، تو اپنی سائینس اپنے پاس ہی رکھ۔  

اب تو ہمارے فل طوطے اڑے ، بلکہ ساتھ ہی چیل کواُ ، کبوتر لالی بھی اڑے ہونگے۔  

مکمل تحریر  »

اتوار, جولائی 08, 2012

کتا پالنا


اب کتے کے بارے میں تو  اردو  میں مزید کچھ لکھنا توممکن نہیں ہے کہ پہلے ہی اتنا کچھ لکھا جاچکا ہے مگرہمارے خیال شریف میں   کتا پالنے کے بارے لکھنے کی گنجائش نظر آتی ہے  بادی انظر میں  ، گویا
مجنوں نظر آتی ہے لیلٰی نظر آتا ہے۔
کتے کی اقسام دنیاکے دیگر ممالک کی طرح اٹلی میں بھی آپ کو کتے  کی کئی اقسام نظر آئیں گی ایک اصلی کتا اور دوسرا نقلی کتا  اٹلی میں ہر طرف آپ کو کتے نظر آئیں گے، اصلی بھی اور نقلی بھی ، اصلی کتا وہ ہوتا ہے جو باہر سے ہی نظر آجاتا ہے اور آپ  کہہ اٹھتے ہیں اوئے کتا اور دُور ، دُور  بھی،   مگر وہ برا نہیں مناتا، جبکہ نقلی کتے کی پہچان کرنا اول تو ممکن نہیں ہے آپ کو تب پتا چلتا ہے جب آپ کی بوٹی نکل چکی ہوتی ہے اور آپ اگر اسے کتا کہیں تو  فوراُ سے پیشتر پھر سے آپ پر حملہ آور ہوجائے گا کہ آپ کی ایسے جرٰات، ہمارا آج کا موضوع اصلی والا کتا ہے، جی ہاں  وہی چار ٹانگوں والاجسکے ایک عدد دم بھی ہوتی ہے اور بے ضرورت بھونکتا ہے اور بوقت ضرورت کاٹتاہے۔

 کتا پالنا      اٹلی میں کتا پالتا بہت ہی مشکل کا م ہے جی بلکہ جان جوکھوں کا، پھر بھی لوگ کتے پالتےہیں  اور بے شمار پالتے ہیں،  انکے خیال میں انسان نما  مخلوق کو پالنے کی بجائے کتا پالتا ہی بہترہے، اور اس کے کچھ فوائد بھی بیان کرتے ہیں  مگر  ان سے ہمیں کچھ لینا دینا نہیں،  پر کہے دیتے ہیں کہ یہاں پر کتا پالنا اتنا آسان نہیں ہے، ہر گلی محلے میں کتا  ملے گا، اور وہ  بھی ہر سائیز کا،  چھوٹا بھی اور بڑا بھی،  اکثریت صرف بھونکنے والوں کی ہے۔  کاٹنے والے کم ہی نظر آتے ہیں۔ 

ہمارے سامنے کے گھر میں ایک اطالوی  خاتون نے بڑا سا جرمن شیفرڈ کتا پالا ہوا ہے، جسکا کام ہر ایرے غیرے کو جو بھی گلی میں داخل ہو دیکھ کربھونکنا ہوتا ہے،  اور وہ ظالم اس وقت تک بھونکتا ہے جب تک آپ  اسکی نظروں سےاوجل نہ ہو جائیں،  اپنے عبدلمالک صاحب کہہ رہتے تھے کہ جناب مجھے تو اس کتے نے بہت دکھی کیا ہوا ہے،   آتے جاتے بھونکتا ہے اور اس شدت کے ساتھ بھونکتا ہے کہ دل دہل جاتا ہے، کوئی پوچھے اس محترمہ 
سے کہ اسکی سارے دن کی ہاؤ ہاؤ سے تمھارا مغز خراب نہیں ہوتا۔

یہاں پر ایک اور بھی مسئلہ ہے کہ گھر کی دیواریں بہت چھوٹی چھوٹی ہیں اور خطرہ ہی رہتا ہے کہ کب یہ دیوار پھلانگ ہماری ٹانگ کو آ دبوچے،   ہمار ے دوست راجہ اسد کے بقول کہ اگر ایسے ہوجائے تو بس سمجھ لوکہ  آپ کے وارے نیارے ہوگئے، کیونکہ  ادھر تو ہر کتے کی انشورنس لازم  ہوتی ہے، اگر آپ کو کتا کاٹ کھائے تو انشورنس کے پیسے  ملیں گے اور وہ بھی جی بھر کے، پس ہمارے بھی ہر کتے کو دیکھ کر دل چاہتا ہے کہ آکتے ہمیں کاٹ کہہ کر اپنی ٹانگ اسکے  آگے رکھ لیں  مگر پھر فوراُ ناف میں لگنے والے چودہ ٹیکوں کا خیال آجاتا ہے۔ اور ہم  چپ  ۔

یہاں پر تو کتوں کی موجویں لگی ہوئی ہیں جی، صرف کتوں کےلئے اسکول ہی نہیں ہے   باقی کسر کوئی نہیں، ہر سپر مارکیٹ میں کتوں کےلئے الگ سے پورشن موجود،  ہر محلے میں کتا ہسپتال لازم اور وہ بھی رہ وقت  رش کے ساتھ،   یہیں تک نہیں بلکہ کتوں کےبال اور ناخن کاٹنے کے مراکز الگ سے ہیں، پھر اوپر سے خوبصورت خوبصورت بییبیاں انہیں سینے سے لگائے گھوم رہی ہوتی ہیں،  اور کئی کو تو ہم نے باقائدہ  پیار کرتے بھی دیکھا ،   اور یہ بھی سنا کہ وہ انہیں رات کو بھی ساتھ بستر میں سلاتی ہیں، اس سے زیادہ معلومات ہمارے پاس نہیں ہیں ،   مگر سچ بات ہے کہ ہم آواگون کے نظریہ کے قائل نہیں ورنہ اپنا اگلا جنم کتے کی شکل میں ہی مانگ لیتے مگر اس میں بھی خطرہ ہے،  کہ اگر بھگوان نے آدھی سن لی اور بنا کتا دیا مگر ادھر ایشیا ء میں تو پھر تو مٹی پلید ہوئی کہ ہوئی، پس   جو ہیں اسی پر قناعت منا سب ہے۔

ہمارے ممالک میں تو کتے کو نجس قراردیاجاچکا، اور ہمارے اپنے گھر میں کتے کا داخلہ ممنوع ہے،  صرف ایک ہی صورت ہے کہ کتا اگر رکھوالی کےلئے ہوتو،  جبکہ ادھر تو کتے سے پوری محبت ہے جی،  اور بندے کے سوشل ہونے معیار بھی، بلکہ میں تو کہتا ہوں کے جس نے ادھر ترقی کرنی ہے  وہ کتے سے محبت کرے پھر اسکی مالکن سے اور پھر بندے خود سیانے ہیں،  یورپ میں اول تو شادیاں ہوتی ہی کم ہیں مگر جو ہوتی ہیں سنا ہے کہ اکثریت کی لواسٹو ری  میں کتے کی محبت  ہی شامل ہے۔ ہماری ایک برازیل کی کلائینٹ تھی بڈھی ماریلینا، کوئی پچپن برس کا سن ہوگا،  اور سوشلی کنواری تھی،  مطلب قانونی و کاغذی طور پر ، مگر شادیاں کروانے کا ایک بڑا ادارہ چلاتی تھی۔ وہ بتا رہی تھی کہ پیٹ میچ کی ایک سوشل ویب سائیٹ پر کام کررہی ہے  اور اس پر دس ہزار یورو  کی انویسٹ منٹ کرے گی، کہ جی ادھر بندے کے پاس سہولت ہوگی کہ اپنے کتے کا میچ تلاش کرے اور پھر اپنا بھی،
آگے ہمت بندے کی اپنی،  ویسے تو دیکھا گیا ہے کہ ایک خوبصورت بی بی سے بات کرنا ایک کارمشکل ہے اور کالج کے زمانے میں تو یار لوگ باقاعدہ  منصوبہ بندی کرکے شرط باندھا کرتے تھے۔ ادھر اٹلی میں بھی کسی پاکستانی کا کسی لڑکی سے یوں ہڑہڑکر بات کرنا شاید اتنا آسان نہ وہ۔   مگر  ادھر جس بی بی کے ہاتھ میں کتے کی  ڈوری  کو بندہ اپنی قسمت کی ڈوری سمجھے،  بس  وہی اوپر کتے سے محبت  اور کتے والی سے محبت  کی ضرب المثل یادکرلیجئے۔ ہماری رائے میں ہر نئے آنے والے نوجوان کو ایک کتا ساتھ لے کر آنا چاہئے ، یاپھر ادھر آکر سب سےپہلا کام یہی کرنا چاہئے کہ کتا پالے۔  

 کتے کے بارے  اس سے قبل  پطرس بخاری اور ابن انشاء جیسے لوگ بہت کچھ لکھ چکے ہیں،   کچھ احباب   میری اس تحریر کا   مقصد عظیم  اپنے آپ کو اس فہر ست میں شامل کرنے کی ایک ناکام کوشش قرار دے سکتے ہیں، اس بارے ہم کوئی رائے نہیں دیں گے بلکہ قاری  کی رائے کا ہی احترام کریں گے۔


مکمل تحریر  »

منگل, جولائی 03, 2012

سیر پولینڈ کی، دل کے ارمان


زمانہ قدیم میں جب آتش جواں ہوا کرتا تھا اور  یورپ گردی کا نیا نیا شوق سر پر سوار ہوا تو،  ہنگری اور پولینڈ ان ممالک میں سے تھے جہاں ہماری  قلمی دوستی بہت  تسلسل کے ساتھ تھی اور چونکہ بہت سے اسپرانتو دان بھی ادھر بستے ہیں اور بہت منظم ہیں   تب بھی اور اب بھی کسی نہ کسی پروغرام کی دعوت موصول ہوتی، مگر کہ ہر دعوت دعوت شیراز نیست   گر پیسہ  در جیب نیست،  دوسری وجہ پولینڈ کی موندا تورزمو   اور ہنگری کے گرم چشموں کے مساج و ہییلتھ سینٹرز کی فوٹوئیں تھیں۔

پھر وہ دن بھی آیا جب عالمی اسپرانتو میڈیکل ایسوسی ایشن نے ایک خاص دعوت نامہ دے مارا ، بلکہ سرکاری طور پر ارسال کیا  مگر چھڈو جی کہہ کر ایک طرف رکھ دیا،    پھر ایک پروگرام اٹلی سے بھی اسی برس موصول ہوا  ، چونکہ  دونوں کے درمیان کوئی دس دن کا وقفہ تھا تو سوچا  پھر سے پولینڈ کے بارے کہ کیوں کہ ادھر سے ہوتے ہوئے اٹلی کو نکل لیں گے بعذریہ ٹرین اور یہ بھی کہ جرمن اور آسٹریا وغیرہ کی سیر مفت میں ہوجائے گی۔  مگر پولینڈ کی ایمبیسی والوں نے تب  چائنہ ایمبیسی کے عقب میں ہوا کرتی تھی، ادھر ڈپلومیٹو انکلو کے پچھلے پاسے،  کوئی چار چکر لگواکر   ہمارے پاسپور ٹ پر  ایک چھوٹی سی مہر  لگا دی کہ جی ہم مطمعن نہیں اور یہ کہ آپ نے
درخواست بھی لیٹ دی ہے ویزہ کےلئے لہذا  رہن دو۔

میں اسکو برا بھلا کہتا ہوا اٹالین ایمبیسی کو   نکل لیا، ویزہ آفیسر نے پوچھا  بھی  کہ تم نے پولینڈ کا ویزہ اپلائی کیا تھا؟؟ تو جواباُ  ہم نے جو گالیاں بزبان انگریزی زبانی یاد تھیں وہ بھی اور جوپنجابی  کی تھیں انکو  بھی   ترجمہ کرکےپولش  ویزہ آفیسر کی خدمت میں  پیش کیا ، تو اسکے بعد اس نےمذید کوئی سوال نہ کیا، لازمی طور پر بھلے مانس  سمجھ گیا ہوگا کہ اگر اس کا ویزہ نہ لگایا تو اس سے ڈبل قصیدہ خوانی میری بھی ہونی ہے۔
خیر ہم برطانیہ میں شب بسری کرتے ہوئے ادھر اٹلی میں جلسہ پڑھنے پہنچ گئے،  مگر پولینڈ والی مہر پاسپورٹ پرہی رہی،   اور منہ چڑاتی رہی، پھر ادھر مستقل رہنے کا پروغرام ایسا بنا  کہ بس لٹک ہی رہے۔ گاہ بگاہے کسی پروغرام میں کسی نہ کسی پولش اسپرانتودان سے ملاقات ہو ہی جاتی ہے اور پھر سے ادھر کی دعوت تازہ ہوجاتی ہے۔ ابھی پھر اگست میں ایک جلسہ کی دعوت  ہے۔ جاتے ہیں یا نہیں مگر  راشد صاحب سے فیس بک پر بات کر بیٹھے اور انہوں نے اپنی طرف سے بھی دعوت  دے ڈالی کے جناب ضرور آؤ اور رہو ہمارے ، پاس ، اگر موڈہو تو آپ کا ویاہ بھی کروایا جاسکتا ہے۔  خیر بات  مذاق میں رہی اور اچھا دیکھیں گے کہہ کر آئی گئی ہوگئی۔

آج اپنے علی حسن صاحب سے بات ہورہی تھی تو انہوں نے بھی  ہماری  پروگرام کو پکا کرنے کی حتٰی المقدور کوشش کی۔  آپ کو بھی شامل کرتے ہیں اس گفتگو میں  اور پھر فیصلہ آپ کے ہاتھ میں  کہ ہن  ایتھے مریئے،

جناب چینی گندے نہیں ہوتے بلکہ کہ پاکستانیوں کی طرح ہر ماحوال میں ڈھل جانے اور سروائیول  کرنے والی قوم ہے، پیسے نہیں  ہیں تو  فیکٹری میں 16 گھنٹے کام کرلو اور ایک کمرے میں 12 بندے رہ لو،   ہیں تو پھر گلیانی کی  بیگم کی شاپنگاں کے قصے پڑھ لو ، پس ثابت ہوا کہ 
دنیا میں یا تو چینی چھا جائیے گے یا پاکستانی، مگر چونکہ پاکستانی ذرداری کو بھگت رہے ہین لہذا انکے چانس کچھ کم ہین،

جناب  آپ بھی پولینڈ اگست سے پہلے پہنچ جائیں کہ ہوسکتا ہے میرا بھی چکر لگ جائے تو دونوں ملک کر ادھر ایک یورپین اردوبلاگر کانفرنس کرلیں گے اور آپس میں تقسیم اتعامات و اوارڈ بھی ہوجائے ،  اور پھر    ادھر تو ایک راشد صاحب نے مجھے معشوق و شادی بھی آفر کردی پولینڈ میں، وہ بھی فری میں، آپ بتاؤ،
بلکہ دعا سے پہلے ہی آجاؤ

ضرور جائو جی یقین مانیں انکا کوئی احسان نہیں انکو تو ایک بئیر میں پڑ رہی ہو گی
ہا ہا ہا، مگر میں تو آپ کے بلاگ پڑھ پڑھ کر انکی دعوت کو ٹھکرا گیا،  یہ صاحب ادھر میرے مہمان ہوئے تھے ایک بار، ابھی ادھر ہیں اور چلتا پرزہ ہیں
جائیں جی ضرور جائیں پر وارسا میں کچھ خاص نہیں ایک ہے مازوری ریجن وہاں 
جائیں آجکل تو جنت ہو گی وہ زمین پر

نہین مجھے کراکوو جانا ہے

وہ بھی اچھا ہے بلکہ بہترین شہروں میں ایک پولینڈ کے

ہاں ادھر ہے انکا جلسہ۔   پر سنا ہے بڈھوں کا شہر ہے۔    اور جنہوں نے مجھے مدعو کیا ہوا ان میں سے کوئی بھی 55 سے کم نہ ہوگا،       ہا ہا ہا
سارے ہی کھوسٹ قسم کے اور ہتھرو سیکس بڈھاس ہیں

ہا ہا ہا ہا ۔ایک بندہ ملا تھا شکل و صورت سے ایسا تھا کہ ہمارے نوکر اور بھنگی بھی بہتر ہوتے ہیں کہتا تھا کہ ٹائون میں جائو تے کڑیاں آپے فون نمبر دے جاندیاں نے
جائو جی تسی وی پولیاں نوں آزمائو

یہ سنا ہےکوئی بیس برس پہلے کی کہاوت ہے، جسے ہمارے لوگ بھولنے کو تیار نہیں، میرا خیال ہے ابھی حالات وہ نہیں رہے

نہ جی آزما کے ویکھ لو جے واپسی تے اکیلے گئے تو تہاڈی نیت دے فتور کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں ہو گی

اگر یہ قول ہے تو فیر وہ راشد سچا ہے، مگر یہ گل آپ نے اپنے بلاگ پر کیوں نہیں لکھی، مین تو اسے ایویں ہی لتاڑ گیا

ہا ہا بھائی جان اب ہم کیوں مولوی بنیں مفت میں دوسروں کے سامنے :)اگر کہہ دیتا کہ پھنس جاتی ہیں تو مزاح کہاں سے آتا ہیں جی؟ ویسے اس میں کوئی شک نہیں شاید ہی کوئی اور قوم اتنی واہیات ہو خود میری ایک استانی تھی پولش پڑھاتی تھی کہتی تھی کہ ساری دنیا میں ہمارا تاثر ہے کہ ایک بئیر پر رات گزار لیتی ہیں اور یہ کوئی اتنا غلط بھی نہیں

ہا ہا ہا اگر یہ بات ہے تو فیر بھائی جان کہنا جھڈ دو، اور یرا کہا کرو
میرا تو ادھر پولینڈ جانے کو سخت دل کررہا

بلکہ سنہ انیصد ستانوے مین پاکستان سے پولینڈ کا ویزہ بھی ریجیکٹ کروا چکا

ضرور جائیں اور بقلم خود دیکھ کر آئیں کہ دنیا میں ایسے ایسے لوگ بھی ہیں اور ہمکو اجازتاں دیں 2 بج گئے ہیں اور 4 بجے لائٹ جانی ہے 2 گھنٹے سو لیں
اچھا فیر شب بخیر
اوئے ہوئے 1997 میں پولینڈ ، بھائی جان اور نہیں تو 25،30 معاشقے ایک ہفتے میں ہی کر لیتے
چلو جی عمر باقی تے صحبت یاراں باقی

نہ تپاؤ

اوس کنجر ایمسڈر نے ویزہ نہیں دیا تھا کہ جی میں مطمعن نہیں ہوں، دسو

تب تو میں نے ٹینش نہ لی اور ادھر اٹالین ایمبسی سے لے کر ادھر نکل لیا مگر اب اس کی ماں بہن ایک کردینے کو دل کررہا

ہا ہا ہا اپنی بہو بیٹیاں بچا لے گیا جی صاف

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش