اتوار, جون 30, 2013

چاؤ، اردو پادوا سانتو انطونیو اور ہمارے پیر

پادوا  (Padova) یہ اٹلی کا شہر واقع ہوا ہے اور آجکل ہم اسی شہر میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔یہ ادھر وینس سے چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہوا ہے۔ اچھاتاریخی شہر ہے۔ 


جلسہ کی   کاروائی  کے سلسلہ میں،  سہ پہر کی چائے  پی کر ہم تینوں  یہ Prato del Valeجا پہنچے، یہ یورپ کے چند ایک بڑے اسکوائرز سے  ہے، اور اسکے نام کا اردو ترجمہ کریں تو اسے وادی کی  فصل کا نام دیا جاسکتا ہے، پراتو کو لفظی طور پر فصل یا گھاس کا ایک قطعہ کہا جاسکتا ہے،  مگر یہ پادوا میں  موجود پاکستانیوں میں پراتو دل والے کے  تلفظ سے   مشہور ہے،  ہم بھی  کئی روز اسی مخمصے میں پڑے رہے اور اس کا  "دل والے " کے ساتھ جوڑ ملانے کی کوشش میں رہے،    ادھر پہنچ کر بھی  یہی لگا:         کہ اپنے بندے سچ ہی کہتے ہیں۔


  ادھر یہ میدان ، فوارے چل رہے، پانی کی ندی اور اس پر پل، کناروں پر کھمبوں  کی مانند کھڑے یہ طویل القامت  و لحیم شہیم مجسمے اور ادھرگھاس کے قطعات و بینچوں پر اور  ہر اس جگہ پر جہاں تشریف رکھی جاسکتی تھی، گھاس جو ہے وہ اب لگائی گئی ہے، ورنہ یہ  دلدلی علاقہ تھا،   عاشق و معشوق ایک ہوئے پڑے ملیں گے،  اگر آپ کو انکو دیکھنا  ہے تو بے شرموں کی طرح دیکھیں،  مگر اگلے ہیں کہ آپ کے وجود سے بے خبر اور لاتعلق آپس میں مشغول ہیں۔  اب  جتنی دیر اس ماحول کو برداشت کرلے یہ بندے کی بے شرمی پر منحصر ہے۔


پس ہم لوگ بھی ادھر سے سانتو انطونیو کی طرف نکل پڑے، انکے انکے ذکر کے بغیر پادوا نامکمل ہے، آخر کا اس شہر کے پیر کامل ہوئے ہیں۔ 

 بقول ڈاکٹر جوانی کے ، پادوا میں  تین چیزیں بغیر نام کے ہیں،  سانتو  بغیر نام کے Santo senza nome،   فصل بغیر گھاس کے  Prato senza Erba، تیسری چیز کے بارے اس وقت مجھے یاد نہیں آرہا، ویسے بھی نامناسب سی تھی، جس کو مذید تجسس ہو وہ اکیلے میں ادھر پوچھ لے۔  تو آج کا ہمارا  موضوع ہے پراتو  دل والے کے بعد سانتو انطونیو۔ پادوا میں صرف سانتو  سے مراد سانتو انطونیو ہی ہے۔
یہ بزرگ کیتھولک چرچ کے بڑے سینٹ واقع  ہوئے ہیں،   سنہ 1195  میں لزبونہ  پرتگال میں پیدا ہوئے اور 1231 میں کوئی 36 برس کی عمر میں پادوا میں اس دارفانی سے کوچ کیا اور پادوا میں ہی دفن ہوئے،  (تب عیسائی مذہب میں دفناتے تھے، اب سنا ہے کہ بکثرت ساڑتے ہیں)،  انکے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ  یہ ایک بڑے بزرگ تھے اور انہوں نے بہت مسافت بھی کی۔

 ان سے بہت معجزات بھی منسوب ہیں،  ان کے ساتھ منسوب معجزات و کرامات میں ،  دوران حیات و پس از مرگ     بیماروں کو شفادینا،     ایک کھوتے کا بابا جی کو سجدہ کرنا،       ایک بندے کا ماں کو لات مارنا اور پھر بابا جی کے جوت پرچھات پر اپنی لات کاٹ لینا، پھر ماں کی چیخ وپکار اور بابا جی کی دعا سے کٹی ہوئی لات کا بحال ہوجانا،                نومولود بچے  کا کھولتے پانی میں گزرنا اور پھر بابا جی کی برکت سے بغیر کسی نقصان و تکلیف کے نکال دیا جانا،              مردہ  کا باباجی کے باغ میں چھپایا جانا اور الزام آنا انکے والدین پر پھر لاش کی گواہی،      اسی طرح مچھلی کے بولنا،  چوری کے مال کی برآمدگی،   بندے کے دل کا پھر جانا،   مطلب ہر وہ فن جو ہمارے ادھر کسی صاحب مزار کے ساتھ فٹ کیا جاسکتا ہے اور جاتا ہے،  ان باباجی کے ساتھ بھی منسوب بلکہ فٹ کردیا گیا ہے۔  ال انت ولاخیر، بابا جی کو شہر کا محافظ سینٹ قراردیا  جاچکا ہے۔  کہ   وڈیو ہن تسیں ہی شہر دی حفاظت کرنی ہے۔ بابا جی کا مزار مقام  توجہ وہ مزکز تجلیات  و برکات خلائق ہے۔




یہ بزرگ اتنی برکت والے ہیں کہ انکا مدفن عین چرچ کے اندر ہے اور چرچ بھی وہ  کہ جو پورے شہر کے ہر کونے سے نظر آتا ہے۔  میں اپنے ان دو مندوبین کو  چرچ کے اندر لے گیا کہ جی ادھر بہت  خوبصورتی ہے، اندر خیر سے ہمارے کسی مزار کی  طرح فل عبادتی پروگرام چل رہا تھا،    ہم اندر داخل ہو کر دائیں طرف کو ہولیے اور مرکزی قربان گاہ سے بچتے ہوئے، مقدس پانی کے حوض کے پاس سے گزرتے ہوءے مرکزی قربان گاہ کے پیچھے کو چل لئے ، وہ پر باباجی کے زیراستعمال اشیاء برکت و برائے حصول ثواب رکھی ہوءی ہیں، جن میں  کرسٹل سے لیکر چاندی و سونے کے برتن و دیگر سوءی سلائی،  بڑا کرتا، آزار بند،   جوتے  ، انگوٹھی ،  عصامبارک، وغیرہ ۔

مگر اس سے  بھی بڑھ کر ، بابا جی کی زبان مبارک بھی ایک خوب سونے  کے شوکیس میں رکھی گئ ہے ، اس کے بارے یہ شیند ہے کہ اب بھی مقدس کلام کی تلاوت میں مصروف ہے، مگر دیکھنے میں سوکھی ہوءی لگتی ہے۔ یہی نہیں بابا جی کے ووکل کارڈ ، آواز کے غدود بھی ادھر آپ ننگی آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں وہ بھی اس سونے کے شوکیس میں، سونے پر فل مال خرچہ گیا ہے۔ خیر ہمارے ہاں بھی کچھ کم نہین ہے ماحول۔ 


اور جب بابا جی کا عرص ہوتا ہے تو انکی پوری لاش  کی زیارت ہوکر برکت حاصل ہوسکتی ہے،   ہوا یوں کہ 1656 میں  بابا جی کے ماننے والوں کے صبر کی انتہا ہوگئی، اور الانت والاخیر کا نعرہ مار کر قبر میں سے بابا جی کا   تابوت نکال لائے،  کہ اب صرف قبر کی زیارت سے کام  نہیں چل سکتا تھا ۔ البتہ قبرانور آج بھی ادھر قربان گاہ  کے بائیں جانب  مرجع الخلائق ہے۔  لوگ  ادھر آج بھی دعا مانگ رہے اور کچھ تو اپنے پیاروں و بیماروں کا فوٹو بھی شفاء کےلئے چڑھارہے تھے۔
 
اور میں  کہہ رہا تھا  اپنے بندوں سے کہ یہ طریقہ ابھی ہمارے ہاں رائج نہ ہے، ادھر ابھی تک مزار کی جالی سے دھاگہ باندھ کر یہ مزار کے احاطے میں موجود درخت   میں کیل ٹھونک کر کام چلایا جارہا ہے۔ مزار پر سجدہ کرنا،  طواف کرنا وغیرہ عام ہے، اور مزارات پر ان معاملات کے ممنوع ہونے کی تختیاں اس امر کا ثبوت ہیں کہ لوگ یہ اعمال کرتے ہیں اور انکو منع کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ 


عیساءی مذہب ہم سے پرانا ہے کوئی چھ سو برس،  ہم بھی اللہ سے برکت  و ثواب کی امید رکھنے اور ہر اچھائی و سختی اسی کی طرف سے ہے پر ایمان رکھنے کی بجائے بزرگوں کی باقیات و متعلقات  ، قبرات سے  لو لگاگئے ہیں،  وہ اپنے قطب آن لائن والے تو باقاعدہ اس پر پروگرام کررہے۔  اگلے دن دیکھا میں نے۔


فیس بک پر بھی آئے دن کوئی پیالہ کوئی ، گھاگر، کوئی ٹوپی ،   کسی بزرگ کا عصامبارک،  کسی کی تلوار، کسی کے بال مبارک ،   کی اشاعت ہوتی ہی رہتی ہے، موئے مبارک کی زیارت کا ایک پروگرام تو میں نے ٹی وی میں لائیو دیکھا،   مگر ایدھر اخیر ہی  ہے ، انہوں نے سانتو انطونیو کی لاش کو ہی نکال کر اس سے براہ راست ثواب کا حصول شروع کردیا ہے، معتقدین و زائرین رات تین بجے سے لیکر پھر رات 8 بجے تک گھنٹوں کے حساب سے انتظار کرکے،  ادھر  کھڑے  رہ کر ، بابا جی کی ہڈیوں  کی زیارت کرکے ثواب حاصل کرنے کےلئے کوششا ں رہے۔

اپنے ادھر کے حالات دیکھ کرلگ تو یہی رہا ہے کہ  چند سو برس بعد ہمارے ادھر بھی  کچھ یہی نظارے ہوں گے۔ابھی تو ہم صرف قبر پر جاکر فاتحہ پڑھ کر، نذرنیاز، منت سے کام چلارہے ہیں، مگرپھر   کسی مہابزرگ کو بھی سانتو انطونیو کی طرح قبر سے  نکال کے ان سے براہ راست برکت کا حصول شروع ہو جاوے گا۔  مگر چونکہ ہم مسلمان ہیں لہذا سانتو انطونیو ہمارے کسی کام کے نہ ہیں، ان بزرگ کا مسلمان ہونا لازم ہوگا۔  اپنے علی اور عمیر کی خاموشی یہ بتلارہی تھی کہ میرے ساتھ متفق نہیں ہیں۔

استغفراللہ،  اے اللہ مجھے معاف کرنا، تو ہی بڑا معاف کرنے والا ہے

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش