بدھ, جولائی 31, 2013

نیا اسلامی انقلاب، گانا بجانا

عبدلروف روفی کی غزل پر وہ بات کرے تو سنا ہے پھول جھڑتے ہیں کو سن کر یا رسول اللہ کہنے والے مولوی باؤ محمد حمید مرحوم کے عشق رسول کی ایک عام مثال تھی، ہم ہنستے تھے کہ مولوی یار یہ کسی اور چکر میں گا رہا ہے، مگر مولوی اپنے چکر میں یارسول اللہ کہہ کر ہاتھ چومتا ہوا ہے، آنکھوں کو لگاتا ہوا، بس سر سے اوپر بالوں تک لے جاتا، مولوی کی محبت اپنی جگہ پر اور غزل گانے والے کی نظر اپنی جگہ پر  لکھنے والے نہیں جہاں لگائی وہ تو علم نہیں کیوں کہ شاعر کا نام معلوم نہ ہوسکا، مگر ہم جہاں پر لگا رہے تھے وہ وہی تھی جہاں عموماُ ایسی غزلیں لگتی ہیں، ہماری غزل کا معشوق اور تھا اور مولوی جی کی کیفیت کہیں اور لے جارہی تھی، خیر بھلے آدمی تھے بھلی نباہ گئے اور جوانی میں ہی داغ مفارقت دے گئے، 

آج جانے کیوں مجھے مولوئ جی بہت یاد آرہے، جب اس بلاگ کو لکھنے بیٹھا تو لگا کہ مولوی جی خود ہی سامنے مجسم آگئے اور کہہ رہے، یار ڈاکٹر جی سانوں بھل ہی گئے ہو، کدی یاد ہی نہیں کیتا، اب یاد تو بندہ دنیا دار جو ہے وہ دنیا والوں کو ہی کرے گا، جن سے لین ہے اور دین بھی، مگر جو ادھر سے نکل لئے انکا معاملہ اللہ کے سپرد، کبھی موقعہ ملے فرصت ہوئی تو یاد کرلیا، اور کہہ دیا اللہ مغفرت کرے۔  

مولوی محمد حمید اپنے آپ کو باؤ حمید کہلوانا پسند کرتے اور میں انکو مولبی جی کہنے پر مصر، کبھی بہت لاڈ پیار ہوا تو مولانا کہ لیا یا پھر حضرت جی تو بس پھر حضرت جی اپنا ہاتھ چوم لیتے، حضرت جی اٹلی میں ہمارے اولین رفقاء میں شام رہے، پہلے  سال کی سردیاں جب ایک کمرے میں 14 بندے ہوتے اور اوپر سے 3 مہمان بھی تو میں اور مولبی جی نے ایک سنگل بیڈ پر سوکر ایک رضائی میں گزار دی، انکے پاؤں میرا سر اور میرا سر انکا پاؤں۔ 

سدقے شالا انہاں پردیسیاں تیں گلیاں دے ککھ جہناں تیں  پہارے۔ 

مولوی جی کوئی باقاعدہ مدرسے کے طالبعلم نہیں رہے مگر بس دین نے انکو اپنے اندر سمولیا اور وہ اسلام سے زیادہ صوفی ازم کی طرف نکل گئے، مطلب پنجگانہ نماز اور ورد وظیفہ، پیروں کی باتیں، اور ولیوں کے قصے، جو شروع ہوتے ایک بزرگ نے ایک مقام پر فرمایا، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر کوئی اچھی بات ہی ہوتی، مولوی جی کی تعلیم عمومی مگر لگن پکی تھی،  ہم لوگ حوالہ مانگتے، مگر وہ اپنی بات پر پکے، بس جی جب لگن لگ گئی تو فیر لگ گئی، البتہ یہ قرآن اور حدیث کا حوالہ کم ہی ہوتا، مگر سادگی سے وہ اپنے رستے پر چلتے رہے، اور ہم اپنی لفنٹریوں پر، ہمارے حوالے اور دنیا داریاں اور انکے بغیر حوالے کی لگن اور سادگی، بس یہ درویشانہ عالم کہ کتنی باربحث ہوتی، زچ کرتے کہ مولوی تینوں ککھ پتا نہیں، مگر وہ ہنستے ہنستے نکل لیتے، سادیو ڈاکٹر جی تسیں نہیں سمجھو گے۔  البتہ ایک بات پکی تھی، مولوی جی میں کوئی شرعی عیب نہ تھا، باریش، یورپ میں بھی شلوار قمیض کہ بھئی مذہبی لباس ہے باوضو، نماز جہاں بھی وقت ہوگیا، پڑھ لینی نہیں تو موقع ڈھوندنا
 اللہ نے ان پر اپنا فضل رکھا اور دنیا کے معاملات وقت سے پہلے ہی سمیٹ کر مرحوم ہوگئے۔  اب تو شاید دو برس ہوگئے ہونگے، اللہ انکی مغفرت کرے اور انکو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا کرے۔ 

تب یہ پہلی غزل تھی نوے کی دہائی کے آخری برسوں کی بات ہے جب ہم مولوی کے ساتھ اس غزل پر جھگڑرہے ہوتے اور وہ اپنی کیفیت میں چلے جارہے، پھر اسکے بعد سنا کہ نعتیں باقاعدہ  غزل گوئی کی طرز پر گائی جانے لگیں، پھر قرآنی آیات کا گایا جانا بھی عام دیکھا گیا، پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ یہ دکان چل نکلی ہے تو بہت سے گانے والوں نے نعتیں اور حمدیں گانا شروع کیں اور ہم نے انکو بہت برا بھلا کہا، مولبی لوگ تو فل تپے ہوئے ہوتے، پہلے غزل گو نعت پڑھنے والی طاہر سید تھی، فیر بس جیسے برسات میں کھنبیاں پھوٹتی ہیں ایسے غزل گو اپنی جون بدل کر نعتیے ہوگئے، بعئی ہمارے علم کے مطابق تو گانا اسلام میں شرعی طور پر منع کیا گیا، اور قرآن کو گاکر پڑھنے والوں پر لعنت کی گئی، تو فیر یہ اب جو چل رہا ہے، وہ کیا سین ہے۔ ؟؟؟ یہ سب اگر مولوی جی حیات ہوتے تو انکے ساتھ بحث ہونی تھی اور انہوں نےکہنا تھا سادیوں تہانوں نہیں پتا، چھڈو، انہاں نوں اپنا کم کرن دیو، تے تسیں اپنا کم کرو۔ 

تو ہم کون سا توپ لئے گھوم رہے انکے پیچھے، گائیں جی نعتیں گائیں حمدیں گائیں، ، قرآنی آیات گائیں اور ہم تو اپنا کام کررہے ہیں، پوری قوم اپنا کام کررہی ہے۔ 

مکمل تحریر  »

اتوار, جولائی 28, 2013

میلانو اور چور بڑھیا





میلان اٹلی کا شمالی بڑا شہر اور اسکا معاشی ہب،
 میلان  کی سٹاک  مارکیٹ  کے اتار چڑھاؤ  کا اثر پورے یورپ کی منڈیوں پر ہوتا ہے ۔  میلانو جہاں فیشن اور مارک کا چلن ہے، کہا جاتا ہے کہ یورپ کا سارا فیشن ادھر سے ہی نکلتا ہے، ڈوم سے لیکرگلیریا ویٹوریو ایمانوئیولے اور اس کے ارد کا علاقہ فیشن اور مہنگی شاپنگ کا گڑھ ہے، یہاں پر آپ کو صرف فلمی اسٹارز ہی نہیں بلکہ وزرائے مملکت بھی بھاؤ تاؤ کرتے اور شاپنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، جارجو ارمانی، حوگو، اور اس طرح کے بہت سے نام پنے بڑی بڑی دکانوں اور ایمپوریمز کے ساتھ جلوہ افروز ہیں اور قیمتیں اتنی کہ بڑے بڑوں کا پتا پانی ہوجاوے، کسی نے یہاں حناربانی کھر اور سید یوسف رضاگیلانی کو اور بندے نہیں نے ادھر عارف لوہار کو ونڈو شاپنگ کرتے پایا، ہمارے دوست شاہ جی کے بقول مولانا طاہر القادری جب ہمی جمی میں اٹلی آتے تھے تو میلان شاپنگ کےلئے 
ضرور جاتے اور بات ہے کہ ادائیگی انکے مریدین ہی کرتے ، ہیں جی مطلب مال مفت میلان میں بھی ۔


ڈوم سے کوئی اڑھاءی کلومیٹر کے فاصلے پر ویا آرکیمیدے ہے، وہاں پام سپر مارکیٹ میں اینجلا نامی 76 برس کی معمر خاتون داخل ہوئِ، اندر جاکر اس نے اپنا چشمہ نکالا اور لگا کر گوشٹ کی قیمت بہت محتاط انداز میں دیکھنے لگی، گویا اسکی روز کی پراکسی  تھی،  کافی دیر گوشت کا وہ ٹکڑا ہاتھ میں پکڑے وہ سوچتی رہی  اور پھر واپس ریک پر رکھ دیا ، یہ گوشت کا سب سے کم قیمت پیس تھا، پھر خاتون   آپنی  شاپنگ کارٹ  جس میں کاریئے  کی بریڈ کا ایک پیکٹ اور ٹیونا  فش  کا  170 گرام ایک ٹن  پیک تھا  کو  دھکیلتے  ہوئے  آگے  بڑھ کر چیز فورماجو گرانا پادانا کے ریک پر رکی اور اسکا سب سے کم  قیمت  ٹکڑا اٹھایا اور غور سے اسکی قیمت دیکھنے لگی  اور پھر اس پر ہاتھ ہولے ہولے پھیرنے لگی، شاید اسکے ذائقہ  کومحسوس کررہی تھی،  پھر وہ  بھی واپس  رکھ دیا ۔  واپس  پے منٹ کاؤنٹر کی طرف مڑنے ہی والی تھی تو اچانک اسکی نظر ٹک ٹاک کی میٹھی اور خوش ذائقہ  گولیوں  کی ڈبی  پڑی  ،   یہ ڈبی جسکی قیمت  75 سینٹ تھی  ادھر کسی نے ایسے ہی رکھ دی تھی ۔

خاتون کے چہر ے  پر ایک مسکراہٹ سی چھا گئی  ، شاید اسکا ذائقہ اور مٹھاس  یاد آگئی اور جانے کیسے  اسکا ہاتھ بڑھا اور وہ ڈبی اس نے اپنے ہینڈ بیگ میں رکھ لی۔

 
     یہ سین مارکیٹ  کا مینجر  اپنے دفتر میں بیٹھا دیکھ  رہا تھا اس  کا ہاتھ  فورا ُ   انٹرکام کی طرف بڑھا  اور سکیوریٹی  آفیسر   کو اس سین  سے مطلع کیا۔

اور جب خاتون اپنا سامان آپنی کارٹ  سے پے منٹ کاؤئنٹر  پر رکھ چکیں تو  سیکیوریٹی آفیسر نے خاتون کو اپنا  بیگ چیک کروانے کو کہا، اب  خاتون کے ہاتھ کانپنے لگے اور اس  نے اپنا بیگ کھول دیا ، سیکیوریٹی آفیسر نے ٹک ٹاک کی ڈبی  نکال کر خاتون کو اپنے ساتھ  دفتر میں  چلنے کو کہا، خاتون  کانپتے ہوءے قدموں سے اسکے پیھے ہولی ۔

مینجر  نے نہایت غصہ سے خاتون  سے پوچھا کہ آپ نے چوری کیوں کی، تو خاتون کو صورتحال  کی سنجیدگی کا احساس ہوا ، اسکی انکھوں میں آنسو آگئے اور وہ ڈبڈباتی ہوئی آواز میں معذرت خواہانہ لہجے  میں  بولی :   میں کوئی عادی چور نہیں ہوں ،   میں اسکے پیسے بھی دینے کو تیار ہوں۔

مگر مینجر نہ مانا اور اس نے پراکسی کے طور پر پولیس کو فون کردیا

17.45 منٹ
پولیس کے دو کارپورل  آرتورو اورفرانچیسکو،  ٹھیک  3 منٹ کے بعد مارکیٹ کے اندر داخلہ ہوئے اور سیدھے مینجر   کے دفتر کو پہنچے  تب خاتون کے ماتھے پر پسینہ آچکا تھا،  کارپورل انتونیو نے مینجر کا بیان سنا اور پھر خاتون کی طرف دیکھا، تو خاتون نے باقاعدہ رونا شروع کردیا،  تھوڑا دلاسہ تسلی  کے بعد وہ خاتون کچھ یوں گویا ہوئیں، میں کوئی عادی چور نہیں ہوں، میں ایک مجبور پنشنر ہوں، میں نے اپنی ساری جوانی  کام، محنت مزدوری کی اور اپنا مکان بنایا، اپنے بچوں کی تعلیم و پرورش  کی ، اب وہ بڑے ہوگئے ہیں تو اپنے اپنے گھروں کو ہولئے ، انہوں  نے کبھی میری خبر نہیں لی،   اب  میری پنشن اتنی ہی ہے  کہ ایک ہفتہ اس سے چلتا ہے اور باقی ماہ صرف ٹیونا اور کارئے بریڈ  سے کام چلتا ہے وہ بھی دن میں ایک بار۔ گوشت، پنیر اور سلاد کا ذائقہ صرف پنشن کے پہلے دن ہی افورڈ کرسکتی ہوں۔ آج جب یہ ڈبی میرے سامنے آئی تو مجھے یاد آگیا کہ اسے چکھے ہوئے 16 برس ہوگئے ہیں، میں اب اس عیاشی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی،  جہاں یہ چیزیں ہوتی ہیں  وہاں میں کبھی گئی  ہی نہیں  مگر آج نہ جانے کس نے یہ ڈبی  ادھر رکھ  دی اور نہ جانتے  ہوئے میں نے یہ ڈبئی  اپنے بیگ میں منتقل کرلی۔میں اپنی پینشن میں جو معمولی سی ہے اپنا گزارہ کرتی آئی ہوں مگر آج جانے کیسے یہ ہاتھ چوک گیا، یا آنکھ چوک گئی۔ 

کارپورل آرتورو نے  پوچھا کہ آپ کی پنشن  کتنی ہے تو جواب ملا 350 یورو،  اور اس  کوصورت حال کی سمجھ آگئی  ، کہ جب میں  1780 یورو میں گزارہ  تنگی سے ہوتا ہے تو اس بچاری کااس معمولی رقم میں  کیسے ہوگا۔ فرانچیسکو نے  مینجر کو کہا کہ خاتون کو  قانونی  طور پر وارننگ دے کر چھوڑا جاتا ہے اور یہ کہ اسکا جو باقی کا سامان  ہے اس کے پیسے میں دیتا ہوں ، اسکو اپنی دادی  یاد آگئی تھی  جو اب اس دنیا میں نہیں تھی،  مگر اپنی پنشن  سے بھی  اسکو ٹک ٹاک کےلئے پیسے دیا کرتی تھی۔ تب تک ارد گرد بہت سے بندے اکٹھے ہوچکے تھے اور وہ مینجر کو لعن طعن کررہے تھے، ایک بندے نے معمر خاتون کےلئے کچھ اور کھانے کا سامان بھی لے لیا تھا۔ 

Arturo Scungio e Francesco Console
اور پھر ان دونوں پولیس والوں نے خاتون کو اپنی گاڑی میں اسکے گھر  پر چھوڑا اور نکل گئے۔
اس محلے کے لوگ ان دنوں اس واقعہ کا چرچہ کررہے ہیں جو بہت معمولی سا ہے مگر ایک بڑے معاشری تغیر کی نشاندہی کررہا ہے، ایک بڑے خلاء کی نشاندہی جو آئیس برگ کی طرح اوپر سے جتنا معمولی ہے نیچے اتنا ہی  بڑا ہے۔ مگر مینجر کو فل گالیاں مل رہی ہیں اور پولیس والوں کو شاباش دی جارہی ہے۔ 

یہ خبر میلانو  کے مقامی اخبار میں چھپی اور  مجھ  تک بعذریہ فیس بک پہنچی، ادھر بہت سے بندوں نے کمنٹس کیئے ہوئے تھے، کوئی سپر مارکیٹ کے مینجر کو گالیا ں دے رہا تھا تو کوئی اس پام چینل کی سپرمارکیٹس  کا بائی کاٹ کرنے کو کہہ رہا تھا، کوئی پولیس والوں کوشاباش دے رہا تھا،  کوئی حکومت کو کوس رہا تھا۔ کوئی مقامی حکومتوں  کے لتے لے رہا تھا۔
مگر کسی نے بھی نہیں کہا کہ ہمیں اپنے ارد گرد بسنے والےبزرگوں اور عمر رسیدہ افراد کا خیال رکھنا چاہئے ۔  
اس بارے آپ کا کیا کہنا ہے کس کو قصور وار ٹھہرایا جاوے؟؟ کون قصور وار ہے اس واقعہ کا ؟؟؟   

Milano, Via Arcimide, ladra Vecchia,  

مکمل تحریر  »

جمعرات, جولائی 25, 2013

خالد ابن ولید، مزارات اور شامی باغیوں کے حمائیتی

ملک شام کے ساتھ ہماری جان پہچان تب سے ہے جب سے ہوش سنبھالا، جب اردگرد دیکھنا شروع کیا اور جب پڑھنا شروع کیا، اسلام تاریخ کے جو بڑے نام ہیں اور جن کو ہم اپنا آئیڈیل مانتے ہیں، جن لوگوں کے نام سامنے آتے ہیں، انکی عظمت دل میں جاگ جاتی ہے، ان سے محبت کرنے کو دل کرتا ہے، ان میں سے ایک بڑا نام حضرت خالد بن ولید، رضی اللہ عنہ، سیف اللہ کا لقب پانے والے اس عظیم سپہ سالار کا ہے، جن کے بارے حضرت صدیق اکبر کا فرمان ہے کہ یہ اللہ کی وہ تلوار ہے جو نبی کریم صلی اللہ علی وآلہ وصلم نے نیام سے نکالی تو میں کیسے اسے نیام میں کردوں، پس پھر تاریخ نے قادسیہ کا معرکہ دیکھا جب مسلم افواج نے ایک کثیر تعداد میں دشمن کو ایسی شکست دی کہ وہ پھر سنبھل نہ سکا، حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ نے خلافت کی طرف سے سپہ سالار نہ ہونے کے باوجود اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اسلامی لشکر کو جس خوبی اور فراخدلی سے سنبھالا وہ تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتا، پھر دور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میں جب حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ کو معطل کیا گیا تو آپ نے پھر نظم کی مثال قائم کی، پھر اسلامی فوج میں بغیر عہدہ کے لڑے۔ اور اللہ کی یہ تلوار کسی کافر کے ہاتھوں نیام میں نہین گئی اور آپ غازی رہے، اللہ پاک آپ کے درجات بلند کرے۔

حضرت کے زمانہ حیات میں ابھی تک فتنہ شیعہ نے سر نہ اٹھایا تھا اور وہ ایک نہایت غیر متنازعہ شخصیت کے طور پر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
آپ نے بازنطینی اور ساسانی حکومتوں کی ناس ماردی، اور یہ کہ آپ کے فتح کئے ہوئے علاقہ ابھی تک مسلمانوں کے پاس ہی ہیں، سیف اللہ ہونے کی ایک بڑی دلیل۔

امیر تمور جب حمس کے پاس سے گزرہ تو وہ بھی اس جنگجو کے احترام میں اس شہر کو تباہ کئے بغیر گزر گیا، ایک بہادر جرنیل دوسرے کی قدر جانتا ہے۔۔

شام میں موجود مزار بی بی زینب رضی اللہ عنہ بھی کسی بحث کا باعث نہیں بنا کبھی بھی نہیں بنا۔ یہ مزارات صدیوں سے مراکز تجلیات و مرجع خلائق ہیں
اب جی شام ملک میں خانہ جنگی لگی ہوئی ہے اس بارے پہلے تو خبریں تھیں کہ باغیوں کی اسرائیل مدد کررہا، پھر اس میں یورپ اور امریکہ کی مدد بھی ٹپک پڑی، اب کل امریکہ نے باقاعدہ باغیوں کی اعانت اور سپوٹ کا اعلان کردیا ہے، انجمن اقوام متحدہ امریکہ کی سلامتی کونسل نے بھی باغیوں کے ساتھ گفت وشیند شروع کردی، یہ آجکی واشنگٹن پوسٹ میں لکھا ہوا،۔۔

اب میں یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہوں کہ، مملکت شام اس وقت بہت نازک حالات میں ہے، یہ مزار گرانے والے متنازعہ کام انکو کرنے ہوتے تو وہ پہلے کرتے جب سب کچھ انکے قابو میں تھا، اب تو انکےلئے اسطرح کا ہر قدم خودکشی کے مترادف ہے۔

اگر حکومت یہ کام نہیں کررہی تو پھر باغی کررہے ہیں، یہاں پر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے ک مسلمان تو ادھر ہمیشہ سے ہی ہیں، وہ تو مسجد پر حملہ نہیں کریں گے نہ ہی انہوں نے کیا ایسے ہی جیسے کسی ہندو کا مندر پر اور کسی عیسائی کا چرچ پر حملہ کرنا خارج از امکان ہے، میں نے اپنے انڈین دوست عبدالمالک صاحب سے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کیا ہندوستان میں جہاں سب اقوام و مذاہب موجود ہیں، وہاں پر مندر پر کون حملہ کرے گا تو جواب ملا کہ ہندو تو نہیں ہوگا
مسجد پر حملہ کرنے والا کون ہوگا، تو جواب ملا کہ مسلمان کے علاوہ کوئی ہوگا
اسی طرح چرچ پر حملہ کرنے والا عیسائی کے علاوہ ہی کوئی ہوگا۔

تو برادران یہ جو مزارات پر حملے ہورہے ہیں یہ باغیوں کے غیرمسلم معاونین کی طرف سے ہورہے ہین، تاکہ عام مسلمان کے دل میں مملکت شام کے خلاف نفرت پیدا کیا جاسکے اور کل کو  جب سکوت شام ہوگا تو اس پر کوئی رونے والا نہیں ہوگا۔ مزارات پر حملے کرنے والے وہی ساسانی اور بازنطینی ہی تو نہیں ہیں جو آج اپنا بدلہ لے رہے ہیں سنا ہے کہ چلو تب تو کچھ نہ ہوسکا اب موقع ہاتھ آیا ہے تو حضرت کے مزار و منسوب مسجد سے ہی بدلہ لے لو۔ ورنہ اور کوئی کیوں ان جیسی شخصیت کے مزار پر حملہ کرنے کی جرآت کرسکتا ہے جب امیر تیمور جیسا لڑاکا اور سنگ دل بھی حضرت کے شہر سے پرے ہوکر اپنا راستہ تبدیل کرلیتا ہے۔ 

خیر مکرو، مکراللہ، وللہ خیرالماکرین

مکمل تحریر  »

اتوار, جولائی 14, 2013

لالہ، ملالہ اور عالمی بدمعاش


لالہ  ہم لوگ پٹھانوں کو کہتے ہیں، پنجابی میں بڑے بھائی کو بھی کہا جاتا ہے، آجکل لالہ کے بجائے ملالہ ملالہ ہوئی پھری ہے،  یہ ایک سولہ برس کی چھوٹی بچی ہے  جس کو پاکستان  میں پسماندگی کے سمبل کے طور پر استعمالا جارہا ہے،     مجھے ملالہ کے بارے علم نہیں ہے۔   زیادہ سوات کے بارے بھی  نہیں کہ ایک بار ہی جانا ہوا،    تب وہاں روای چین لکھتا تھا اور بڑے مزے سے اپنی فیملی کے ساتھ  بھی ادھر لالوں کی مہمان نوازی  اور گرمیوں میں  دریاءے سوات کے ٹھنڈے پانی سے لطف اندوز ہوسکتے تھے۔    یہ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں ہے  کوئی 1995 کے اردگرد کا ذکر ہے،  جولوگ اس  کے بعد بھی ادھر کو ہولئے وہ میرے گواہ ہیں کہ مزے کی جگہ ہے۔



پھر  افغانستان پر امریکی حملہ اور  اسکے فوراُ بعد پاکستانی طالبان کا قیام  ، بس سب کچھ تبدیل ،    یہ پاکستانی طالبان ایک سوالیہ نشان ہیں،  دھماکہ یہ مسجد میں کرتے ہیں،   جنازہ  و مزار کو تو بلکل بھی نہیں بخشتے،  اسکول ہو ، کہ بازار، ہسپتال  یا پھر پولیس اسٹیشن   ، پار کرجاتے ہیں اڑا کے رکھ دیتے ہیں، نہیں چھیڑا انہوں نے تو کسی چرچ کو نہیں  چھیڑا، بھئی مذہبی رواداری بھی کوئی چیز ہے،  عام آدمی  جو بازار میں خریداری کررہے ہوں ، مزدور جو اپنی روزی کے چکر میں ہوں،  ان سے نہیں بچ سکتے، مگر بہت حیرت کی بات ہے انہوں نے آج تک کسی جواء خانہ، کسی  کلب، کسی فیشن شو  یا پھر کسی لچر ٹی وی چینل کو کبھی نہیں چھیڑا۔ شکل انکی شدید اسلامی ہے،  یہ دھاڑی، یہ  پگڑی ،  نام امارت اسلامیہ افغانستان والے طالبان کا،   نام سے پہلے ملا ضرور لکھنا اور کام  سارے اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف،  اسکول بند، نمازی نماز نہیں پڑھ سکتے، دھماکہ جنازہ میں،   بندہ پوچھے وہ کونسے مذہبی ہیں جو اپنی ہی عبادت گاہ کے دوالے   ہورہے،  اسی کو ہی تباہ کرنے پر تلے ہوءۓ۔

اب تو کہا جاسکتا ہے  انکا کام صرف دہشت پھیلانا  ہے اور کچھ نہیں،   بندہ پوچھے کہ اس سے وہ حاصل کرنا کیا چاہتے تھے؟؟؟   انکا مقصد کیا تھا اس فساد فی لارض سے ؟؟؟   مستفید کون ہوا اس کاؤس سے؟؟؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات ہر بندہ جانتا ہے  اور جو نہیں جانتا اسے بتلانے کی ضرورت نہیں۔

پاکستان کا یہ لالوں کا علاقہ سوات ، گزرشتہ کئی دہائیوں سے  مشکلات کا شکارہے،  روس کے افغانستان پر حملہ کے نتیجہ میں آنے والی امیگریشن کا رخ اس طرف ہونے کی وجہ انکی معاشرت و  زبان کا ایک ہونا تھا۔   جغرافیائی طور پر پہاڑوں اور دشوارگزار،  وادیوں  پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ،موسم کی شدت اور برفباری و سردی کا طویل سلسلہ،  اس علاقے کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ رہا۔   انگریز کے وقت سے اسکی حثیت ایک غیرمستقل  حیثیت ہونے کی وجہ سے،  وہاں ترقیاتی کام خاطر خواہ نہ ہوپایا،  مشرف صاحب اور ذرداری حکومتیں بھی اپنی امریکہ تولیہ پالیسی کی وجہ سے ادھر  توجہ دینے سے کنارہ کشی کرتی رہیں۔

ایسے میں ملالہ ظہور پزیر ہوئی،  ایسے وقت میں جب فوج نے ادھر کنٹرول سنبھال لیا اور اسکول کھل گئے، لڑکیا ں لڑکے سب اسکول کو جانے کے قابل ہوگئے،  طالبان کو قابو کرلیا گیا،    روز خبریں آرہی ہیں کہ ادھرآج میلہ لگا ہوا ہے، آج کرکٹ کا ٹورنمنٹ ہورہا،   مگر ملالہ جی کے بیانات سے لگتا ہے کہ ادھر بس برے حالات ہیں اور 8 برس پہلے جو اسکول جلاءے جاتے تھے اب بھی وہی ہے۔  ملالہ کے بیانات سے زیادہ  ڈر اسکو دئے جانے والے پروٹوکول سے لگ رہا، کبھی تو وہ  اوباہامہ کی چہیتی ہوتی ہے،  اسکی سولویں سالگرہ   کا اقوام متحدہ  میں منا یا جانا بھی ایک سوالیہ نشان ہے،   سوال یہ نہیں  ہے کہ ملالہ کا جنم دن کیوں منایا گیا؟  سوال یہ ہے کہ ملالہ علاوہ دیگر  پاکستانی بیٹیوں کو بھی تو گولیاں لگیں، ان پر تو بھی تو ستم ہوءے، کشمیر میں  کتنی ملالاؤں پر کیا نہیں بیتا،  کتنی ملالاءں اور اس کی عمر کی لڑکیا ں امریکن ڈرونز کا شکار ہوئیں اور ماری گئیں، بغیر جانے کہ انکا قصور کیا تھا،  فلسطین میں  کیا ملالائیں موجود نہیں، کیا وہ   کچھ نہیں لکھ سکتیں، کیا وہاں کوئی  بی بی سی کا نمائندہ نہیں جو فلسطین کی ملالہ کے بلاگ کی نوک پلک سنوارے؟؟ اقوام متحدہ کا ان معصوم ملالاؤں کے بارے کیا خیال ہے جو گزشتہ 70 دہائیوں سے پس رہیں  ظلم کی چکی میں؟؟؟؟ 
 
آگے کیا ہوگا؟؟؟    وقت کا قاضی   فیصلہ سنائے گا وقت آنے پر ہی ،  مگراب تک کی  تاریخ تو یہی ہے کہ مغرب نے یہ چوتھی عالمی جنگ  اپنے میڈیا سے لڑی اور لڑرہے،  جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ انہوں نے ہی کیا،   گیارہ ستمبر سے اسامہ بن لادن تک،  صدام حسین عراق کے جراثیمی ہتھیار اور تیل پر قبضہ،  لیبیا  پر حملہ اور مصری حکومت کا تختہ الٹنا، ایران  اور پھر سوریا  کی شورش، پاکستان میں مولبی قادری کی شورش اور نظام کو سبوتاژ کرنے کا پروغرام  ،   اور اب ملالہ کی پروجیکشن  دیکھو ،  اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔  مجھے تو یہ سب عالمی بدمعاشوں کی ایک اور چال لگ رہی،  ہمارا میڈیا تو انکی بولی بول رہا، ادھر سوشل میڈیا پر بھی،  یورپی لوگ پاغل ہوئے بیٹھے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اٹالین ٹی وی دیکھتے ہیں اور برلسکونی کو ووٹ دیتے ہیں۔  اب ملالہ ملالہ کرتے پھر رہے ہیں، جیو نیوز بتلا رہا کہ  کسی بینڈ نے آئی ایم ملالہ  بھی گادیا۔ ہور دسو، ڈرون حملوں میں مرنے والی ملالوں کا شاید حساب دینے کی بجاءے اس پر پردہ ڈالنے کی ایک بھونڈی کوشش 




مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش