جمعہ, اگست 30, 2013

جھگڑا کرنا

جھگڑا دو یا دو سے زیادہ بندوں کے بیچ فساد کو قرار دیا جاتا ہے، جس کی حد زیادہ سے زیادہ ہاتھا پائی تک ہے اور کم سے کم منہ بنانا اور ایک دوسرے کو آنکھیں دکھانا۔  شہدے لوگ سنا ہے سڑی ہوئی باتوں سے بھی کام چلا لیتے ہیں، مگر میں اسے شہدہ کام ہی سمجھتا ہوں۔  

جھگڑے کی وجوہات
یوں تو جھگڑے کی بہت سی وجوہات ہیں، مگر سب سے بڑی وجوہات دو ہوتی ہیں اول تو جھگڑا کرنے کی نیت۔ دوئم دوسرے بندے کا چوول خانہ، مطلب جھگڑے میں جو دوسرا فریق ہوتا ہے وہ ہمیشہ ہی شہدہ اور بد نیت ہوتا ہے اور ہمیشہ کچھ ایسا کرتا ہے جس کی وجہ سے جھگڑا ہوتا ہے، راوی ہمشہ نیک اور شریف، ہمہ تن گوش بلکہ خرگوش ہوتا ہے۔ کہ میں تو اگیوں اک لفظ نہیں پھوٹیا، اور  اگر وہ مان لے کہ ایسا نہیں  اور کچھ غلطی اسکی بھی ہے  تو یہ اس فریق مخالف سے بھی بڑا چوول اور شہدہ ہے۔ 

جھگڑے کے درجات
چونکہ ہم،  آپ جھگڑے کو بہت سے درجات میں تقسیم کرسکتے ہیں حسب ضرورت یا  و بلکہ اور حسب لیاقت،  سنا ہے کہ ماہرین ابھی تک اسکی ساری اقسام دریافت نہیں کرسکے، کہ آئے دن اسکی کوئی نہ کوئی نئی قسم دریافت یا ایجاد ہوتی رہتی ہے۔

 ذیل میں کچھ مثالیں دی جاتی ہیں تاکہ قارئین  کے علم میں اضافہ ہو اور پھر وہ اسکی مزید اقسام دریافت کرسکیں، مطلب چاند ماری کی دعوت۔

 دوستوں کے بیچ جھگڑا۔ یہ جھگڑے کی وہ قسم ہے  جو عام پائی جاتی ہے اور عموماُ وقتی کیفیات کے نتیجے میں پائی جاتی ہے، اسکی وجہ عمومی طور پر کوئی بھی لایعنی قسم کی اور غیر مطقی ہوسکتی ہے، اور اسکا اختتام بھی ایسے ہی ہوتا۔ 

رشتہ داروں کے بیچ جھگڑا۔ یہ ہے تو بہت عام مگر عمومی کیفیات کے نتیجے میں نہیں پائی جاتی بلکہ یہ کیفیت مستقل رہتی ہے۔ یہ جھگڑے کی عالمگیر قسم ہے اور دنیا کے ہر ملک میں بکثرت پائی جاتی ہے، اس سے تنگ آکر کے پاکستان میں کہتے ہیں کہ رشتہ دار ماردو سپ چھڈ دو۔ اٹلی والے کہتے ہیں رشتہ اور سپ ایک برابر، مطلب دونوں ہی ماردو۔ دیگر ممالک  میں مروج اقوال کے بارے ان ممالکے کے اہل زباں سے دریافت کیا جاوے۔ 


میاں بیوی کے بیچ جھگڑا، یہ جھگڑے کی وہ واحد قسم ہے میرے خیال سے جس میں طرفین کے علاوہ لوگ ملوث ہوتے ہیں جن میں نندیں، دیورانیاں، ساس اور دیگر پھپھے کٹنیوں کے نام گنوائے جاسکتے ہیں، اکثر مار کٹائی پر ختم ہوتا ہے اور ہفتے میں تین سے چار بار اس کی براڈکاسٹنگ ہو تو پھر طلاق پر نوبت پہنچے کے چانس زیادہ ہیں، طلاق کے بع یہ پھپھے کٹنیاں دونوں کو  الگ الگ دلاسے دے رہی ہوتی ہین، یہ صبر تینون ہور لب جاسی۔ بھئ جب اور ہی تلاشنی تھی یا تھا تو اسی کے ساتھ نباہ کرلیتے، مگر عقل کسی دکان سے ملتی تو۔ 

عاشق و معشوق کے درمیان جھگڑا، یہ عمومی طور پر بہت کم ہوتا ہے اور اگر تسلسل سے ہفتے میں دو سے تین بار ہونے لگے تو نتیجہ منگنی کے اختتام پر ہوتا ہے، اورشتہ دار و قریبی لوگ اکثر بعد میں مثبت کردار بن جاتے ہیں۔ 

والدین بچوں کے درمیان جھگڑا، اس صورت میں اکثر تھپڑ بھی چل جاتے ہیں اور قصور وار بچے ہی ہوتے ہیں، والدین جوانی کی عمر میں اور بچے بچپن میں پائے جاتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہو کہ والدین کا ٹیمپر بھی لوز ہوتا ہے، مگر یہ کیفیت وقتی ہونے کے ساتھ ساتھ نیک نیتی پر مبنی ہوتی ہے۔  بہت کم مگر کئی بار دیکھا گیا ہے کہ والدین کے آپس کے جھگڑے کے سائیڈ ایفکٹ کے طور پر بچے پھنڈے جاتے ہیں، اس طرح کرنے والی عموماُ پھوہڑ عورتیں ہوتی ہیں۔ 

بچوں اور والدین کے درمیان جھگڑا۔ اس صورت میں بھی تھپڑ چل سکتے ہیں قصور وار ادھر بھی بچے ہی ہوتے ہیں اور اپنا ٹمپر بھی لوز کرلیتے ہیں، تب والدین بوڑھے ہوتے ہیں اور بچے جوان، اکثر اسکی وجہ والدین کی پنیشن کا نہ ہونا یا پھر کم ہونا ہوتا ہے۔

محلے میں جھگڑا۔   اسکی وجہ بے وقتا چاند دیکھنا اور دوسرے محلے کے چاند پر نظر رکھنا ہی ہوتی ہے، جب گلیاں نالیاں بن رہی ہوں تو بھی ان جھگڑوں کا موسم عروج پر ہوتا ہے۔ ہیں جی۔ 


مالک نوکر کا جھگڑا، یہ ایک مکمل طور پر یک طرفہ کاروائی ہوتی ہے، اسکی شدت کا پیمانہ مالک کی معاشی و سماجی قوت ہے اور اسکے ملک اور قومیت پر اسکا انحصار ہے، مثلاُ ادھر یورپ میں مالک صرف اونچی آواز میں چخ چخ کرسکتا ہے، زمین پر پاؤں پٹخ سکتا ہے، پاکستان میں کتوں کو بھی کھلایا جاسکتا ہے، عربوں میں سنا ہے، خروج لگوا کر وطن کو روانہ کردیا جاتے ہے، اور اس  سے پہلے کچھ ماہ جو بیسیوں بھی ہوسکتے ہیں جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔ مطلب طوبہ پہلے سے ہی کرلینی چاہئے۔ 

بچوں کے درمیاں جھگڑا، یہ جھگڑے کی سب سے خالص قسم ہے اس کےلئے کسی وجہ کا ہونا درکار نہین، بس کسی بات پر بھی ہوسکتا ہے اور بلا بات بھی، مگر اس کا دورانیہ حد سے حد کچھ گھنٹے ہے یا پھر اگلی صبح تک، پھر سب باہم شیرو شکر 

ضروری اوزار
جھگڑے میں ہونے والے ضروری اوزار میں سے گالیوں کا بخوبی یاد ہونا، اور بوقت ضرورت انکے مفصل استعمال پر ملکہ ہونا سب سے بڑا ہتھیار ہے، جو پوری دنیا میں امریکہ کے ڈرون کی طرح بغیر پائیلٹ کے استعمالا جاسکتا ہے۔ 
پھر جسمانی پھرتی، برادری، رشتہ دار، اور ڈانگ سوٹا، بندوقیں، چھڑی، سوٹی اور چھمکین بھی حسب موقع مفید ثابت ہوسکتےہیں۔ 

احتیاج۔ پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی۔ 
اگر مخالف پارٹی زور آور ہے، جسمانی طور پر یا افرادی قوت کے طور پر تو فوراُ ادھر سے نکل لو، یورپ میں رہنے والے فوراُ پولیس کو فون کریں۔ بچے سوشل سروس کا سہارا لینا بخوبی جانتے ہیں، پاکستان میں رہنے والے ان سروسز سے پرھیز کرتے ہوئے اپنے چاچے مامے کو بلائیں۔
انتباہ 

جھگڑا کرنے کی حد تک خیریت ہی ہوتی ہے اگر اس میں طوالت نہ ہو تو، ہاں اگر اسکو ناراضگی پر مشتمل کرلیا جاءے تو پھر نہ حل ہونے والی پیچیدگیا جنم لتی ہیں اور نتائج، تھانہ کچہری، طلاق، ڈانگ ماری، گالی گلوچ، پھینٹی، و قتل عمد تک پہنچ سکتی ہے۔ 


مشورہ
جمہ احباب کو مشورہ ہے دل کی اتھاگہرائیوں سے کہ بھائیوں جھگڑا کرنے کی اجازت ہے مگر اسکو ناراضگی میں تبدیل مت کرو، اگر لازم ہو تو بچوں کے درمیان جھگڑے کو اپنایا جاوے۔ جو دوسرے دن تو لازمی ایک ہوئے پھرتے ہیں۔ 




مکمل تحریر  »

بدھ, اگست 21, 2013

میرے خوابوں کا پاکستان





خواب  تو ہر بندہ ہی دیکھتا ہے اور ہم بھی، بس، بلکہ ہم تو کچھ زیادہ ہی خوابناک واقع ہوچکے ہیں، ذاتی طور پر بھی اور من حیث القوم بھی۔  خیر اسکا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ بندہ کچھ نہیں کرتا اور خواب دیکھتا رہتا ہے اور علامہ خوابناک ہوچکا ہے وغیرہ وغیرہ، جی نہیں اب ایسی بھی کوئی بات نہیں،   پھر بھی جاگتے میں کچھ خواب دیکھنا تو بنتا ہے۔ 

 علم نفسیات کے مطابق خواب بندے کی ذہنی و جسمانی کیفیت کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں ایسے ہی عمر کے مطابق بھی، آج چونکہ ہمارا موضوع چونکہ ہمارے خوابوں کا پاکستان ہے تو پاکستان کے بارے کچھ خواب بیان کئے جاویں گے۔ 

پہلاخواب
ملک میں رزق، یہ بڑا خواب تھا اور پہلا بھی، بعد از تعلیم وتعمیر جب کالج میں بطور لیکچرار آفر ہوئی اور ساتھ ہی اپنا کلینک بھی بنا لیا شام کے اوقات کےلئے تو خواب پورا ہوتا ہوا نظر آیا مگر پھر وہی چکنا چور ہو گیا کہ اس اسٹیٹس میں اور اس آمدن میں گزارہ کون اور کیسے کرے، بس کھینچ تان کے مہینہ پورا ہوتا اور ہم ہوتے، فالتو کے کسی بھی خرچہ کےلئے ابا جی کی خدمت میں درخواست جمع کروانی پڑتی ۔ ہیں جی۔ اللہ اللہ یہ خواب ابھی تک ایسا ہی ہے کہ ہر نوجوان کو پاکستان کے اندر ایسا روزگار ملک جاوے جو اسکے سارے بنیادی اخراجات پورا کرنے کا ضامن ہو اور کوئی بندہ پھر ملک سے باہر جانے کا نام بھی نہ لے۔ 

دوسرا خواب 
چونکہ ہماری پیدائش و تربیت ایک دیندار اور ایماندار گھرانے میں ہوئی ہے تو ہماری تربیت میں شامل ہے کہ دوسروں کا خیال رکھو، کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہونے پائے، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے شفقت کا برتاؤ ہونا چاہئے یہ ہمارا خواب بن گیا کہ پاکستان میں سب ایسے ہی ہوں۔

پردیسی کے خواب 
جب دیس سے دانہ پانی اٹھا تو پردیسی ہوئے، کچھ اور طرح کے خواب جانے کیوں خود بخود ہی بن گئے۔ بہت سے ممالک کی یاترا کے دوران، کسی کانفرنس میں، کسی جلسہ و کورس کے دوران، یہ سوال اٹھ ہی جاتا ہے کہ تم کہاں کے ہو؟ پاکستان کا۔ اوہو، اچھا تو کیسا ہے پاکستان؟؟  حقیقتاُ یہ سوال وہ کوئی شغل کےلئے نہیں کرتے، کیوں کہ کسی عوامی درجہ کے بندے کو پاکستان کے بارے آگاہی ہے ہی نہیں، ہے بھی تو بہت کم۔ بس پھر ہمارے خوابوں کا پاکستان شروع ہوجاتا ہے۔ خوابوں سے بھی زیادہ خواہشات کا پاکستان۔

 وہ پاکستان جو میرا ہے، جہاں دنیا کے بلند بالا پہاڑ ہیں، گلیشیرز ہیں اور انکی ٹھٹھرتی ہوائیں بھری گرمیوں میں یخ بستہ ہوتی ہیں، جہاں کی جھیلوں کا شفاف پانی آپ چلو میں لیکر پی سکتے ہیں، جہاں ٹرواؤٹ مچھلی کو ایسے ہی شلوار کو گانٹھ لگا کر آپ پکڑ سکتے ہیں 
ہمارے پاکستان میں پٹھان ہیں جو اپنی مہمانداری اور شجاعت میں ثانی نہیں رکھتے، دشمن انکے نام سے ہی کانپتے ہیں، جنکی دینداری مسلمہ ہے،  جہاں پنجابی دہکان زمین کا سینہ چیر کر سال میں تین فصلیں اگاتا  اور پورے ملک ملک کو گہیوں، گنے چاول دالوں کی کمی نہیں ہونے دیتا، جس کا سندھی اپنی مچھلی اور سبزیوں و کھجوروں سے ملک کو خودکفیل کرتے ہیں، جہاں بلوچی کوہ شکن پہاڑوں کو چیر کر تیل گیس، کوئلہ سے لیکر یورینیم سونا تانبہ تک اور ہیرے وغیرہ بھی نکال لاتا ہے، جہاں مہاجر اپنے آپ کو ملک کو عام باشندہ سمجھتے ہیں اور صنعتی ترقی میں اپنا پورا کردار ادا کررہے ہیں۔ 

پاکستان میں پانچ دریا اور پانچ ہی موسم ہیں جو خوبانی سے لیکر کھجور تک میں ہمیں خود کفیل بناتے ہیں۔ جہاں زمیں سونا اگلتی ہے اور پانی کے جھرنے چاندی کےہیں، جہاں درخت زمرد کے بنے ہوئے ہیں۔ اللہ کا اتنا کرم ہے کہ کوئی غریب نہیں، ہو بھی کیسے سب لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ دریاؤں کا پانی اس حد تک صاف کہ بس چلو میں لو اور پی لو، منرلز سے بھرا ہوا، خریدنے کی ضرورت ہی نہیں۔ بس

 پاکستان میں لوگ بہت دیندار ہیں اور ایماندار اس سے بھی بڑھ کر، اتنے کہ پولیس تھانہ ہے تو سہی مگر لوگوں کو یاد ہی نہیں رہتا کہ ہے کہاں پر، جرائم تو ہیں ہی نہیں، اول تو کوئی چورا چکاری ہیرا پھیری کانام ہی نہیں کوئی ایک ادھ واقعہ پیش آبھی جائے تو کوئی بزرگ لعن طعن کردیتا ہے اور اگلا توبہ کرلیتاہے۔ پولیس کا کام صرف یہ ہے کہ وہ رفاع عامہ کا خیال رکھے، کسی کی گاڑی راستہ میں خراب ہوگئی تو پولیس والے نے ٹائر بدلی کردیا، کسی مائی کا پرس کھو گیا تو وہ تھانے چلی گئی اور بس تھانیدار نے اسکو سفر کا کرایہ اپنی جیب سے نکال دیا۔  کوئی کہہ رہا تھا کہ پولیس اب آگ بجھانے کا کام بھی کرتی ہے۔  

انصاف کا یہ عالم کہ عدالتوں میں تو لوگ جاتے ہی نہیں، ضرورت ہی نہیں، بس بھول چوک یا کوئی غلطی ہوگئی اور اگلے نے فوراُ معافی مانگ لی اور دوسرا کوئی بات نہیں بشری غلطی کہہ کر نکل لیتا ہے۔ دل میں بغض و کینہ تو نام کو نہیں، عدالتیں تو اب صرف اکا دکا اتفاقیہ جرائم اور حادثات نپٹاتی ہیں، سنا ہے کہ یہ محکمہ ہی ختم کیا جارہا ہے کہ جب ضرورت ہی نہیں تو پھر۔ جب ایمانداری کا یہ عالم ہو کہ آپ اپنا پر بس اسٹاپ پر چھوڑ آئیں اور شام کو وہ آپ کے گھر پہنچ جاوے، گھروں کو تالا کوئی نہ لگاتا ہو، تو پھر عدالتیں کیا کریں گی آپ ہی بتلاؤ۔ تلخ کلامی اور چیخ چیخ تو بھول ہی جاؤ بس۔ 

پاکستان میں مسجدیں نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوتی ہیں اور امام صاحب صرف تقریریں نہیں کرتے بلکہ لوگوں کے مسئلے حل کررہے ہوتے ہیں، تفرقہ تو نام کو نہیں اور مسجد میں لوگ صرف نماز پڑھنے نہیں جاتے، وہاں تو جناب ایک دوسرے کا حال احوال دریافت ہوتا ہے، کسی کو کوئی پریشانی، کوئی مشکل، ہوتو فوراُ حل، اور مسجد چندہ بھی نہیں مانگتی، بلکہ مسجد کے اتنے وسائل ہوتے ہیں کہ وہ غریبوں، مسکینوں کی مدد کردیتی ہے، فقراء اور بھکاری تو خیر ہیں ہی نہیں۔ اسلحہ لیکر مسجد کے پاس سے گزرنا تو درکنار، لوگ تو مسجد سے 500 میٹر کے فاصلے تک بحث نہیں کرتے احتراماُ۔ لوگ ملک سے محبت کرنے والے، خبردار ہے جو کوئی ملک کے خلاف بات تک کرجاوئے۔ دنیا بھر کے پھڈے مسجد میں بیٹھ کر ہی نمٹادیے جاتے ہیں۔  

لڑکے بالے ابھی کالج کے آخری برس میں ہوتے ہیں تو انکوحسب لیاقت ملازمت مل جاتی ہے، تنخواہ بہت اچھی اور اوپر سے عوامی سادگی کی انتہاء نمود نمائش تو دیکھنے میں نہیں ملتی، لوگ اپنے نمائش پر خرچنے کی بجائے دوسروں پر خرچنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ بس ہر طرف سکون ہی سکون۔ چین ہی چین۔ 

مرد اور عورتیں سب کے سب تعلیم یافتہ مگر اپنے کام سے کا رکھنے والے، مجال ہے جو کسی کو کوئی گھور کردیکھ جائے، بی بیاں بھی بہت نیک سیرت اور باپردہ اور مرد لوگ ان سے بھی بڑھ کر محتاط۔ بچے بزرگوں کا ہاتھ تھام لیتے ہیں کہ بابا جی آپ کو گھر تک چھوڑ آئیں اور بزرگ بچوں پر جان نچھاور کرتے ہوئے کہ بچے تو سب کے سانجھے ہوتے  ہیں۔
رشوت نام کو نہیں، غلہ اسٹاک بلکل نہیں ہوتا، سسفارش کی ضرورت نہیں ہوتی کہ سب کام خود ہی ہوجاتے ہیں۔ ماسٹر صرف اسکولوں میں پڑھاتے ہیں اور وہی کافی ہوتاہے، ڈاکٹر ہیں کہ مریض کےلئے بچھ بچھ جاتے ہیں اور سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو اڈیک رہے ہوتے ہیں اور لوگ بیمار ہوتے ہی نہیں، خوراکیں بھی تو اچھی ہیں، ہر چیز خالص، ہر بندہ صبح کی سیر کرتا ہے، نکھٹو ہے کوئی نہیں تو بیمار کون ہوگا۔ لوڈشیڈنگ بلکل نہیں ہوتی اوپر سے بجلی بھی بہت سستی ہے، گیس تو قریباُ مفت ہی ہے۔ پیٹرول بہت سستاہونے کے باوجود لوگ سائیکل سے آتے جاتے ہیں کہ صحت کی صحت اور بچت کی بچت۔ 

ٹیکنالوجی کا یہ عالم ہے کہ بس کچھ نہ پوچھو، یہ ایٹمی روبوٹ سے لیکر میزائیل اور فاؤل پروف دفاعی نظام تو ہماری پہچان ہے، دشمن کی مجال جو ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکے، یوں بھی ہم ایک قوم ہیں، زندہ قوم ہیں۔ فوج دفاع کو تیار ہے تو لوگ فوج پر جان نچھاور کررہے ہیں، بس ترقی دن دگنی اور رات چوگنی۔


سیاستدان صرف عوام کی فلاح کا کام کرتے ہیں اور سرکاری ادارے خدمت عوام کا۔ جہاں نہ کوئی بڑا ہے نہ کوئی چھوٹا، جہاں کسی گورے کو کالے پر فوقیت نہیں اور کسی کالے کو گورے پر، نہ کوئی امیرکسی غریب کا حق مارتا ہے اور نہ کوئی غریب کسی امیر کو دیکھ کر صدا لگاتا ہے۔ ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھتا ہے اور دوسرے کی حق تلفی ایک کبیرہ گناہ سمجھی جاتی ہے۔ 

پاکستان سے کوئی بندہ بیرون ملک روزگار تلاش کرنے نہیں جاتا، جو پہلے چلے گئے تھے وہ واپس آگئے ہیں  یاسر خومخواہ جاپانی صاحب بھی واپس آگئے ہیں، خاور کھوکھر گاڑیاں پاکستان سے جاپان سپلائی کررہے ہیں، علی حسان اور عمیرملک بس تعلیم حاصل کرنے کو ادھر ہیں  پھر انہوں نے بھی واپس ہولینا ہے، میں بھی ادھر صرف پڑھنے پڑھانے کو ہوں، یہ ختم تو ہمارا ادھر کیا ہےکہ جب ملک کے اندر ہی اتنے وسائیل ہیں اتنا نظام ہے تو کیا کرنا پردیس جھیل کر۔ ہمارے پاسپورٹ پر پوری دنیا میں کہیں ویزے کی ضرورت نہیں ہے، بس ٹکٹ لو اور چلے جاؤ۔ لوگ دنیا میں قرآنی حکم کے مطابق صرف سیرکرنے اور علم حاصل کرنے جاتے ہیں۔

ہر خواب کی ایک تعبیر بھی ہوتی ہے، کہتے ہیں کہ ایک ایسے ہی پاکستان کا خواب علامہ اقبال رحمتہ اللہ نے بھی دیکھا تھا، بڑوں کی زبانی بھی ایسے ہی پاکستان کا سنا اور انکی آنکھوں میں بھی کچھ ایسے ہی خواب دیکھے، ابھی تو آنکھ کھلی ہے لیکن امید پوری ہے کہ یہ سچا خواب ہے، ہوسکتا ہے کہ  اس کی تعبیر میں نہ دیکھ سکوں مگر آنے والی نسلیں ضرور دیکھیں گی، 
انشاء اللہ

مکمل تحریر  »

اتوار, اگست 18, 2013

وصال یار

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا 
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
تِرے وعدے پر جِئے ہم، تو یہ جان، جُھوٹ جانا
کہ خوشی سے مرنہ جاتے، اگراعتبار ہوتا
تِری نازُکی سے جانا کہ بندھا تھا عہدِ بُودا
کبھی تو نہ توڑ سکتا، اگراستوار ہوتا
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نِیمکش کو
یہ خلِش کہاں سے ہوتی، جو جگر کے پار ہوتا
یہ کہاں کی دوستی ہےکہ، بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا
رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہوکہ، پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو، یہ اگر شرار ہوتا
غم اگرچہ جاں گُسل ہے، پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا، غمِ روزگار ہوتا
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے، شبِ غم بُری بلا ہے
مجھے کیا بُرا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا
ہوئے مرکے ہم جو رُسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا 
نہ کبھی جنازہ اٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا
اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بُو بھی ہوتی توکہیں دوچار ہوتا
یہ مسائلِ تصّوف، یہ ترا بیان، غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ بادہ خوار ہوتا

مکمل تحریر  »

بدھ, اگست 14, 2013

جشن آزادی 2013 مبارک



چونکہ اب رات کے ہمارے ادھر بارہ بج چکے ہیں تو کمپوٹر نے وی تاریخ بدلی کردی ہے، مطلب چودہ اگست ہوئی، سن سنتالی سے لیکر سنا ہے منارہے ہیں، مگر ہمیں بھی کوئی 30 برس باہوش ہوگئے تب سے کی تو پکی گواہی ہے، جلسے، جھنڈیاں، تقریریں، سب یوں لگتا ہے جیسے پاکستان کے دیوانے ہیں، 

سربراہاں مملکت کی تقریریں، قوم سے خطابات پہلے بھی ہوتے رہے اور کل بھی ہوگا، شاید نواز شریف کرے گا۔  وہی بڑی بڑی باتیں ہونگی، بلند بانگ قسم کے دعوہ جات اور حال جو ہے وہ آپ کے سامنے ہے، ہمارے ساتھ کے حالات یا بدتر حالات والے ممالک میں چین اور انڈیا کے نام گنوائے جاسکتے ہیں، ایران کو دیکھا جاسکتاہے، ملائشیا و انڈونیشیا وغیرہ کو دیکھا جاسکتا ہے۔ مگر 

مگر یہ کہ آپنا ایک قدم پیچھے کوئ ہی آرہا ہے، امریکہ نے کہا تھا کہ میں تھمیں پتھر کے زمانے میں پہنچادوں گا، تو انہوں نے ذرداری بھٹو اینڈ کو ہمارے اوپر مسلط کرکے وہ کام کردیا، آج ملک میں نہ امن ہے نہ امان، نہ بجلی نہ پانی، سفر کی سہولیات، ہوائی ریلوئے اور جہاز رانی بیٹھ گئی ہے، اسٹیل مل سے لیکر چھوٹے ادارے تک خسارے میں ہیں گوڈے گوڈے


میں بندہ قنوطی نہیں ہوں یہ تو نہیں کہہ رہا کہ نئی حکومت کل ہی یہ باندر کلے باندھ دے، مگر کچھ نہ کچھ کرتے تو نظ آئیں، بہت سے کام ہونے والے ہیں جو گزشتہ 18 برس میں انفراسٹرکچر کی ترقی رکی ہوئی ہے وہ بحال کرنا ہوگا، ادارے بنانے ہونگے۔ 

ابھی ہماری حکومت چاہے وہ مرکزی ہے  کہ خیبر پختون خواہ کی یا بلوچستان کی وہ اپنی گڈ ول شو کررہی ہیں، رہی بات سندھ میں تو وہاں وہ پرانی چوولیں ہی ہیں، جو برسوں سے اقتدار اور حکومتی پارٹیوں سے چمٹ کر اپنے وزراء بنوا کر انقلاب کا نعرہ لگاتے ہیں
نئی مرکزی و صوبائی حکومتوں کو چاہئے نہیں بلکہ ان پر فرض ہے کہ وہ فوراُ عوامی فلاح اور ملکی بہبود کے کام کریں، فیصلے مشکل بھی لینے ہونگے، قوم پر بوجھ بھی ڈالنا ہوگا۔ قوم بوجھ اٹھائے گی بھی، مگر کچھ ہوتا ہوا تو دکھے، ایک قومی پالیسی سامنے آئے، اور ساری جماعتیں بلکہ آنے والی حکومتیں تک اسی پر چلیں جس طرح ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ وللہ 

یاد رہے پی پی کو صرف ووٹ نہیں ملے اور اسکا بمعہ اے این پی اور ایم کیو ایم دھڑن تختہ ہوا ہے، اور اگر ان حکومتوں نے ڈیلور نہ کیا، کچھ کر نہ دکھایا تو عوام اب کو کھانے والی جگہ پر بھی ماریں گے اور تشریف پر بھی چھترول ہوسکتی ہے، کچھ سیاہ ست دان ٹنگے بھی جاسکتےہیں، تو مشتری ہوشیار باش، پھرنہ کہنا خبر نہ ہوئی۔ 

رہی بات ملک دشمنوں کی تو انکو معلوم ہوجانا چاہئے کہ پاکستان کوئی کاغذ کی پتنگ نہیں ہے جو بو کاٹا ہوجاوے گی، چاے وہ آزادی کے دنوں کی ریشہ دوانیہ ہوں اور بیانات کہ یہ ملک تو ایک برس نہیں چل سکے گا یا اکتہر کی خباثت، کارگل کا پنگا اور مشرف کا ڈرامہ ہو یا نیو ورلڈآرڈر کی ریشہ دوانیہ مگر پاکستان ہے اور رہے گا۔ 

ایک طرف ہم نے سپریم کورٹ، فوج اور نادرہ جیسے ایکٹو اور کارکردگی والے ادارے بنا لئے ہیں تو دوسری طرف دفاع کی فل تیاری ہے۔  اب وقت ہے کہ سیاہ ست دان بھی سیکھ لیں پارلیمان بھی ایک ڈیلیور کرنے والا ادارہ بن جاوے تو فیر ستے ہی خیراں ہیں جی


سب کتا کھائی اور چوول خانے کے سب کو جشن آزادی مبارک، ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کی دعا کے ساتھ، اور امن و امان کی تمنا کے ساتھ

مکمل تحریر  »

جمعہ, اگست 09, 2013

آپ کی عید ہے؟ عید مبارک عیدین مبارک

اپنے ہاں تو پرسوں سے ہی عید عید ہوءی پڑی ہے، پہلے تو میاں ثاقب صاحب نے خبر دی کہ سعودی میں مولبی ہوشیار باش ہوگءے اور باباز دوربینیں لے بیٹھے اور یہ کہ شاید آج چاند نظر آجاوے۔ 

ہیں ؟مگر آج تو اٹھائیسواں روزہ ہے مولبی، اپنے ادھر بھی اور ادھر سعودی میں بھی تو  پھر؟؟  تفصیل موصول ہوءی کہ بہت برس بعد امسال بھی مون برتھ کے ایک دن پہلے ہونے کے شدید خطرات ہیں،۔ خیر دیر تک کمپوٹر کو ٹکٹکی لگانے کے بعد علم حاصل ہوا کہ خطرہ ٹل گیا اور یہ کہ کل روزہ ہی رکھنا پڑے گا، اور ہ پاسہ مار کے سو رہے کہ سحری کےلئے اٹھنا پڑے گا۔  یوں ہمارے ارمانوں پر اوس پڑگئ۔ 

کل تو خیر شام کو ہی ہال ہال کار مچ گئ کہ سعودیہ میں روزہ ہوگیا، انڈونیشیا سے بھی ایک بی بی نے میسج کرکے کنفرم کردیا کہ ہمارے بھی روزہ ہے، ہیں جی

علامہ رضا مرزا کا بولونیا سے فون آنا اور چاند رات کی مبارک و پپیاں ہیں جی، یہ علامہ بوت مزاکیہ واقع ہوئے ہیں، ہیں جی

میاں سلام شانی صاحب کا میرپور آزاد کشمیر سے فیسی بکی پیغام آیا ہے کہ اگر آپ آج عید کررہے ہیں تو عید مبارک اور اگر نہیں تو ایڈوانس میں قبولئَے۔  مطلب کل ہم تکلیف نہیں کریں گے  ہیں جی۔ 

ہمارے مامون جان راجہ بابر خان البزرگ الصغیر جو ہم سے عمر میں 3 ورے چھوٹے ہیں، مگر چونکے رشتہ میں ماموں ہیں تو ہیں، نے مفصل بتایا کہ کل عید کررہے ہیں بعد از 30 روزے، جبکہ ہم 29 کے بعد آج بھگت چکے، ہیں جی

لنڈن کزن کو فون کیا تو ادھر سے خبر ملی کہ بھائی خیرمبارک، ہم بھی آج ہی عید کررہے ہیں، ہماری اسٹریٹ کی تین مساجد سے آج عید کا اعلان ہوا، جبکہ دو نے کل پاکستان کے ساتھ کرنی ہے، مطلب وہ پکے پاکستانی ہوئے، ہیں جی

سنا ہے کہ گلف کے کچھ ممالک میں بھی عید مبارک کل ہی ہوگی، جبکہ پاکستان میں بھی سرکاری عید کل ہے مگر، کچھ شمالی علاقاز میں چاند دیکھنے و عید کرنے کی شنید ہے۔ 

اب اگر عید دو مختلف دنوں میں ہوگی تو خطبہ بھی دو دن ہی ہوگا، ۔ ہین جی
ایسے میں اپنے یاسر خوامخواہ جاپانی صاحب جی اس صورت حال کےلئے عیدین کا لفظ استعمالا تو برا کیا کیا، مان لیا کہ پہلے یہ لفظ عیدین  دو عیدوں مطلب عیدالفطر اور بقرہ عید دونوں کےلئے اجتمائِ طور پر استعمال ہوتا تھا اب اس لفظ عیدین کو اس نئی عیدوں والی صورت حال پر بھی استعمالا جاسکتا ہے۔ 

سنا ہے کہ ولایت میں  کسی کونسل میں مسلوں نے درخواست دی کہ عید والے دن ہمیں چھٹی ہونی چاہیے، کونسل والوں نے کے انکار پر خوب شور اور ہنگامہ مچا، یہ جلوس اور احتجاج کہ ہماری مذہبی آزادی پر روک لگائی  گئ ہے، مئیر نے کچھ لوگوں مطلب اپنے اپنوں سیانوں سیانوں سے صلاح لی، مگر بات نہ بنی احتجاج بڑھتا جاتا، مگر پھر وہاں پر ایک دھاگہ مولبی ق نمودار ہوئے اور مبلغ فیس وصول پانے کے بعد مشورہ دیا، اس مشورے کے مطابق مسلوں کو کہا گیا کہ چلو ٹھیک ہے، دسو فیر کس دن عید کرنی؟؟ تم سب متفقہ طور پر بتلادو کہ کس دن تمھاری عید ہوگی، ہم چھٹی کردیں گے بمعہ تنخواہ، اس بات کو کتنے ورے ہوگئے مگر نہ مسلوں کا ایک عید پر اتفاق ہوا، نہ پھر چھٹی کی بات ہوئِ۔

اللہ فرماتا ہے وعتصمو بحبل اللہ جمیعا ولاتفرقو

اللہ بادشاہ جی جو مرضی فرمائے ہم کون ہوتے ہیں دخل دینے والے مگر تفرقہ ہم نے کرنا ہے چاہے وہ چاند دیکھنے پر ہو، کہ عید منانے پر، روزہ پر ہو کہ درود شریف کو باآواز بلند وہ زیر لب پڑھنے پر، نماز ہاتھ چھوڑکر پڑھنے پر اور باندھ کر، 
رفع یدین کرنے اور نہ کرنے پر بھی۔ 

جب ایسا ہوگا تو فیر عید کی نماز سنگین کے سائے تلے ہی ہوگی۔ اللہ خطبہ سننے اور سنانے والوں کے علم اور عقل میں اضافہ کرے اور انکو بم بلاسٹ سے بچائے، اور بعد از خطبہ اپنے گھر تک بحفاظت پہنچاءے، آمین۔ ہم اللہ کی مانیں یا نہ مانیں مگر اللہ تو ہمارا ہے ہماری ضرور سنے گا۔ ہیں جی۔ 

اب چونکہ آپ پڑھتے پڑھتے یہاں تک پہنچ چکے ہیں تو آپ کو بھی عید مبارک ، بھلے آپ نے آج والے مسلوں کے ساتھ کی ہے یا کل والے مسلوں کے ساتھ کررہے ہیں، عید عید ہی ہوتی ہے، تو فیر عید مبارک ہیں جی



مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش