بدھ, جولائی 08, 2015

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ کا خطبہ خلافت

حضور  کی تدفین سے فارغ ہونے کے بعد دوسرے روزمسجد میں بیعت عامہ ہوئی، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ممبر پر بیٹھ کر ان الفاظ میں اپنے طرز عمل کی توضیح فرمائی:

یا ایہاالناس! فانی قد ولّیت علیکم و لست بخیرکم فان احسنت فاعینونی و ان اسأت فقومونی، الصدق امانۃ و الکذب خیانۃ والضعیف فیکم قوی عندی حتی ازیح علیہ حقہ انشاء اللہ ، والقوی فیکم ضعیف عندی حتی اٰخذ الحق منہ انشاء اللہ، لا یدع قوم الجھاد فی سبیل اللہ الا ضربھم اللہ بالذل ، ولا تشیع الفاحشۃ فی قوم الا عممھم اللہ بالبلاء و اطیعونی ما اطعتُ اللہ و رسولہ فاذا عصیت اللہ و رسولہ فلا طاعۃ لی علیکم فقومولی صلاتکم یرحمکم اللہ ۔ (۸)

"صاحبو! میں تم پر حاکم مقرر کیا گیا ہوں ، حالانکہ میں تم لوگوں میں سب سے بہتر نہیں ہو،اگر میں اچھا کروں تو میری اعانت کرو اور اگر برائی کی طرف جاؤں تو مجھے سیدھا کردو، صدق امانت ہے اور کذب خیانت ہے، انشاء اللہ تمہارا ضعیف فرد میرے نزدیک قوی ہے یہاں تک میں اس کا حق واپس دلادوں ، انشاء اللہ اور تمہارا قوی فرد بھی میرے نزدیک ضعیف ہے یہاں تک کہ میں اس سے دوسروں کا حق دلادوں ، جو قوم جہاد فی سبیل اللہ چھوڑدیتی ہے اس کو خدا ذلیل و خوار کردیتا ہے اور جس قوم میں بدکاری عام ہوجاتی ہے خدا اس کی مصیبت کو بھی عام کردیتا ہے، میں خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کروں تو میری اطاعت کرو، لیکن جب خدا اور اس کے رسول  کی نافرمانی کروں تو تم پر اطاعت نہیں ، اچھا اب نماز کے لئے کھڑے ہوجاؤ، خدا تم پر رحم کرے"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو صاحبو میں نے ادھر لکھ دیا یاد دہانی کےلئے بغیر کسی ترمیم و اضافہ کے، تاکہ بار بار پڑھتا رہوں اور سمجھ آتی رہے کہ ہمارے دین کی حکمرانی کیا ہے اور حاکمیت کیا ہے۔ 
رضی اللہ عنہ

مکمل تحریر  »

بدھ, جولائی 01, 2015

پہلا روزہ، کچھ یادیں

جب پوری طرح  ہوش و حواس سنبھالے اور جب سے یاداشت  نے کام کرنا شروع کیا تھا پوری طرح تو ہم پہلا روزہ رکھ چکے تھے، مطلب "چڑی روزہ"  جو صبح آٹھ بجے ناشتہ کے وقت رکھا جاتا تھا اور دوپہر کو کھولا جاتا ، پھر شام تک افطاری  کے دسترخوان تک "سفید ٹوپی" پہن کے روزہ داروں کے ساتھ روزہ کھولاجاتا۔ یا پھر پہلا اور آخری روزہ رکھ کر باقی کے روزے بیچ میں آجانے کا اعلان ، یہ بھی ہمیں نہ ملا۔ 


جب سے یاد ہے وہ یہ کہ روزے موسم " چیت بیساکھ " کے تھے، جس کو اردو میں موسم بہار کہا جاتا ہے۔ ایسے میں صبح کی خنکی میں سحری کےلئے جاگنا  اپنی جگہ مزیدار بات تھی۔ میں  چونکہ اپنی نوعیت کا سب سے چھوٹا بچہ تھا ، بڑے بھائی صاحب مجھے سے کوئی پندرہ برس بڑے تھے پس سب روزہ داروں کو دیکھ کر "بڑوں کے جوتے میں پاؤں" کب ڈلا  ، کچھ یاد نہیں ہے۔ 

البتہ یہ ضرور یاد ہے کہ ہمارے داداصاحب مرحوم جو بہت ہنس مکھ انسان تھے ہم انکو  "اجی جی"  کہتے ہیں۔ پہلے روزے کی سحری کو اٹھتے ہی نعرہ ماردیتے ہنستے ہوئے،  " گئے روز ے سوہاوڑے ، باقی رہ گئے نو تے  وی"  ( گئے روزے پاک باقی رہ گئے  نو اور بیس۔)  اور سب ہنس دیتے۔ کہ  "اجی جی" ابھی تو پہلے روزے کی سحری شروع ہوئی ہے ،   جواب ملتا  " بس پترو شروع ہوگئے تے مک گئے"   ۔   یوں ہنستے کھیلتے سحری میں روزہ رکھا جاتا۔ تازہ روٹی کی دیسی گھی میں بنی ہوئی چوری اور گنے کی شکر۔ ساتھ میں تازہ  دھی کا ادھ رڑکا۔  ادھر کہیں دور سے ہوٹر بجتا اور الحمدللہ۔  روزے داروں نے روزے رکھ لئے۔ 

روزہ کی افطاری کا وقت شروع ہوتا تو تیاری میں  سب سے پہلے گھر میں گھومتا ہوا سب سے موٹا ککڑ پکڑا جاتا اسکا سالن بنتا اور میں تازہ جو کے ستو اور گڑ کا شربت  ایک بڑی سی بالٹی میں بنتا،  کھجوریں ، تندور کی روٹیاں اور  پہلے روزے کی افطاری کی بھاگ دوڑ لگ جاتی۔  جا میرا پتر  " اپنی دادی شاد "کو افطاری پھڑا آ،   وہ تو تیرے ساتھ بہت پیار کرتی ہے۔ جابچہ بھاگ کرے دادی فرمان کو بھی پکڑآ ،وہ ماسی مختوماں بھی تو ہے،  جابچہ، جابچہ۔ 

اور ایسے میں افطاری کا وقت ہوجاتا، اور اجی جی ختم شریف شروع کردیتے، کافی دیر تک قرآن کی تلاوت ہوتی پھر تفصیل سے دعا مانگی جاتی جس میں سب فوت شدگان کو نام بنام یاد کیا جاتا، ادھر دعا ختم ہوئی ادھر ہوٹر  بجا اور ادھر روزہ کھلا اور ادھر سب بھاگے مسجد کی طرف۔

دوسرے دن آٹھ تے وی ، پھر ست تے وی، اور پھر جب پندرواں روزہ  ہوجاتا تو پھر  "اجی جی " گنتی چھوڑ دیتے۔ کہ اب روزے مہمان رہ گئے ہیں اور مہمانوں کے جانے کے دن نہیں گنا کرتے۔
اللہ ان سب مرحومین کی مغفرت کرے, زندوں کا روزہ قبول کرے اور نہ رک
ھنے والوں کو روزہ چکھنے کی توفیق عطافرمائے

نوٹَ
یہ تحریر لکھنے کی تحریک دینے کےلئے محترمہ کوثر بیگ صآحبہ کا بہت ہی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ جنکا حکم نازل ہوگیا، بھائی اپنے پہلے روزے بارے لکھ دو۔ 




مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش