ہمارے بارے



اپنے بارے میں لکھنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا دوسروں کے بارے میں لکھنا اور بولنا آسان، زمانے ہوئے یہ صفحہ ایسے ہی رکھ چھوڑا تھا، مگر کبھی اپنے بارے میں کچھ لکھ نہ پائے، لکھیں بھی تو کیا، ہم کوئ مشہور آدمی تو ہیں نہیں کہ اپنی سوانح عمری ادھر لکھتے پھر یں ویسے بھی  بقول اکبر آلہ آبادی:

کیا کہیں احباب کیا کارنمایاں کرگئے
بی اے کیا نوکر ہوئے پنشن ملی مرگئے

اپنے ادھر تو خیر بی اے کی بھی نوبت نہ آئی اور پینشن کے بارے  "ہنوز دلی دور است" ، تو مرے بھی نہیں ابھی تک اس بارے بھی قسم دینے کو تیار ہیں بلکہ بطور ثبوت اپنے بلاگ کو وقتاُ فوقتاُ  چھیڑتے رہتے ہیں۔

اگر تعلیم کے بارے لکھیں تو کیا لکھیں کہ بس پاس ہی ہوتے رہے، سنا ہے بچپن میں فشٹ آیا کرتے تھے مگر ہمیں یاد نہیں ،  مطلب گزرا چلتا ہی رہا،  فوج میں بھرتی ہونے کا خواب تھا بعد از انٹر میڈیت اور ابتدائی امتحان بھی پاس کرلیا مگر پھر کزن کی جوت پرچھات پر  ڈاکٹر بننے کی  ٹھانی وہ بھی سادہ نہیں بلکہ ہومیوپیتھک ڈاکٹر ، خیر سے وہ بھی بن گئے اور پھر اسی کالج میں لیکچرار مقر ر ہوئے،  اپنے بقول پروفیسر اور یاروں کے بقول ماشٹر لگ گئے۔ ساتھ میں ایک کلینک بھی بنا لیا اور یوں ہمارا شمار معالجین میں ہوا،  سنہ 1997 کر عازم یورپ ہوئے کچھ جلسے پڑھنے کے اور بس ادھر ہی دل لگ گیا، یو ں  جلسوں سے فراغت پانے کے بعد  جب دوستوں سے ملنے ملانے کا موقع ملا تو پھر بس " اہو ہو ، آپ کو تو یوکے سے ہی ادھر نہیں آنا چاہئے تھا، بس آگئے ہوتو پاکستان مت جانا، پھر دوسرے دن  چلو کام پر اور ایک نائیٹ بار میں  کام کرنا شروع کردیا، مہینے بھر تنخواہ ملی تو و ہ اتنی تھی جو پاکستان کے چھ ماہ کی کمائی پوت لائق کے برابر تھی، ایسے میں تو کسی کا بھی دل ادھر اٹکنا تھا کہ  پھر 1998 کے اواخر میں اٹلی والوں نے پھر سے دعوت دی کہ جی آکر ورک پرمٹ بنوالو، ہم آگئے اور پھر ادھر کے ہی ہوکر رہے گئے، ادھر ہر وہ کام کیا جو پاکستان میں نیچ سمجھا جاتاہے، یا  جسے کرنے میں یارلوگ 
عار محسوس کرتے ہیں۔

یوں تو ہم نے اسپرانتو زبان بھی سیکھ رکھی تھی مگر اٹلی میں اسکے جاننے والے بھی اتنے ہی ہیں جتنے پاکستان میں، پھر اٹالین 
زبان سیکھی بھی اور سکھلائی بھی، کام بھی کرتے رہے اور جب موقع ملا پڑھتے بھی رہے۔ ایک ماسٹر کرلی بزنس ایدمنسٹریشن میں  مگر اپنی ہومیوپیتھیک کی ڈگری کو ادھر نہ منوا سکے کہ یہاں پر پہلے ڈاکٹر بنو پھر ہومیوپتھک معالجات میں اسپیشلائیزیشن کرو، اب پہلے ڈاکٹر کون بنے، پس ابھی بہت عرصے بعد  ایک ہومیوپیتھک ادویات کی کمپنی نے اس قابل سمجھا اور وینس کرقریبی چار اضلاع میں نمائیندہ کے طور پر مقرر کردیا،  پھر میلان میں فارماسسٹس کے ایک گروپ کو جانے کیا سوجھی کہ ہم سے 
کلاسیکل ہومیوپیتھی سیکھنے کی ٹھان لی،   اب ہمیں کیا اعتراض ہے۔
پھر کیا ہوا، ایک مقامی اسپیشلائیزیشن کے اسکول نے کہہ دیا کہ آپ ہمارے ڈاکٹرز کو کچھ پڑھا بھی دیا کرو۔
پس زندگی جہاں سے شروع ہوئی تھی پھر سے اسی ڈگر پہ چل رہی، ادویات، پڑھنا پڑھانا اور مریض دیکھو۔ 

بلاگ ازمنہ قدیم سے لکھ رہے ہیں، کیا اور کیوں اس بارے کبھی نہیں سوچا۔ مگر جو محسوس کیا لکھ دیا۔ 

4 تبصرے:

  • اسد says:
    8/13/2012 08:15:00 AM

    عازم یورپ ہوئے کچھ جلسے پڑھنے کے. بھائی یہ جلسے کیا ہوتے ہیں

  • اسد says:
    8/13/2012 08:18:00 AM

    عازم یورپ ہوئے کچھ جلسے پڑھنے کے. بھائی یہ جلسے کیا ہوتے ہیں

  • Raja Iftikhar Khan نے لکھا :۔
    8/13/2012 09:24:00 AM

    جناب جلسہ کانفرنس کا اردو ترجمہ کیا گیاہے بزبان انگریزی اگر لکھتا تو کچھ یوں ہوتا، پارٹیسیپیشن ان ا کانفرنس

  • Hamza Waqar says:
    7/11/2014 10:12:00 AM

    آپ کے بارے میں پڑھ کر اچھا لگا۔ شعر تو بڑا اچھا لکھا ہے پسند آیا۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش