جمعہ, فروری 17, 2017

رب ہے

ملحدوں کےلئے۔۔۔۔۔۔۔
شکم مادر میں دو جڑواں بچے تھے ۔
ایک دوسرے سے پوچھتا ہے: تم بعد از پیدائش حیات پر یقین رکھتے ہو؟؟
دوسرا جواب دیتا ہے: "یقیناُ، کچھ تو ہوگا پیدائش کے بعد۔ شاید ہم یہاں تیار ہورہے ہیں اس دوسری حیات کےلئے۔ جو بعد میں آوے گی"۔     " ایک دم بکواس" پہلا کہتا ہے۔ "بعد از پیدائش کوئی حیات نہیں ہے۔ کس طرح کی زندگی ہوسکتی ہے وہ   والی؟"
دوسرا جواب دیتا ہے: " مجھے نہیں معلوم، مگر یہاں سے زیادہ روشنی ہوگی، شاید ہم چل بھی سکیں گے اپنی ٹانگوں کے ساتھ اور اپنے منہ کے ساتھ کھا بھی سکیں۔ شاید ہماری اور حسیں بھی ہوں جو ہم اب نہیں سمجھ پا رہے"۔
پہلا اعتراض کرتا ہے: "یہ تو بلکل ہی بونگی ہے۔ چلنا ناممکن ہے۔ اور منہ کے ساتھ کھانا؟ ذلالت۔ ناف کے ذریعے ہمیں سب مل تو رہا ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔۔۔ اور پھریہ ناف  بہت چھوٹی ہے۔ بعد از پیدائش حیات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔"
دوسرا مسلسل اپنی بات پر اڑا رہتا ہے: بہرحال، مجھے یقین ہے کہ کچھ تو ہے اور شاید جو یہاں ہے اس سے مختلف ہو۔ شاید لوگوں کو اس ناف کی ضرورت ہی  نہ ہوتی ہو"۔
پہلا پھر سے اعتراض کرتا ہے: "سب بکواس، اور باوجودیکہ، بلفرض اگر کوئی حیات بعد از پیدائش ہے، تو پھر ادھر سے کبھی کوئی واپس کیوں نہیں آیا؟؟ پیدائش حیات کا اختتام ہے اور بعد از پیدائش کچھ بھی نہیں ہے سوائے غیرشفافیت، خاموشی اور فراموشی کے۔ پیدائش ہمیں کسی طرف نہیں لے کے جائے گی"۔
"اہو، مجھے یہ تو نہیں معلوم" دوسرا کہتا ہے "لیکن یقینا ہم ماں سے ملیں گے اور وہ ہماری دیکھ بھال کرے گی، ہمارا خیال رکھے گی"۔
پہلا گویا ہوتا ہے: "ماں؟" تم ماں پر یقین رکھتے ہو؟  اہو، یہ تو بکواس ہے بلکل ہی، اگر ماں بلفرض ہے، تو پھر، اس وقت کہاں ہے؟"
دوسرا جواب دیتا ہے: " وہ ہمارے ارد گرد ہے۔ ہم اسکے حصار میں ہیں۔ ہم اسکے اندر ہیں۔ اور اسکی وجہ سے ہی تو زندہ ہیں۔ اسکے بغیر تو اس دنیا کا وجود ہی ممکن نہیں ہے اور نہ ہی اسکی بقا ممکن ہے"۔
پہلا جواب دیتا ہے: توپھر، میں تو اسےنہیں   دیکھ  سکتا،  پس ثابت ہوا کہ ، اصولی طور پر اسکا کوئی وجود نہیں ہے"۔
اور پھر دوسرا  گویا ہوتا ہے: " کبھی کبار، جب خاموشی ہوتی ہے،   اگر سچی میں سننے کی کوشش کرو تو، اسکی موجودگی محسوس کی جاسکتی ہے اور اسکی آواز وہاںاوپر سے سنی جاسکتی ہے"۔
اس طور پر ایک ہنگارین لکھاری سمجھاتا ہے کہ "رب" ہے۔






مکمل تحریر  »

سوموار, اپریل 25, 2016

غیر محرم خواتین سے ہاتھ ملانا

مسلمان، بلکہ اچھے مسلمان 1400 سو برس سے غیر محرم خواتین سے مصافحہ نہیں کررہے، فوراُ منع ہوجاتے ہیں۔
نظریں جھکا لیتے ہیں۔
عرض کردیتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں جائز نہیں۔
اور دوسرے مزاہب والے بھی برا نہیں مناتے،
اگر کوئی کم ظرف سوال اٹھائے بھی تو
"پھاں" کرکے اسکا منہ بند کردیا جاتا ہے۔
کہ مذہب ساڈا ہے، تہاڈا نئیں۔ "ہیں جی" ۔
پھر تو اگلا چپ ہی کرجاتا ہے۔
اگر کسی موقع پر کوئی " بُڑ بُڑ" کرے تو
اسکا "کھنہ بھی سینکا" جاتا ہے۔
کہ توں ساڈے مذہب دے وچ پنگے کریں، سانوں دسیں گا ہنڑں؟؟
پھر اگلا چپ ہی سمجھو۔ مجال ہے جو چوں بھی کرجائے۔


مگر


اسکے باوجود بھی ہمارے مسلمانوں کی حالت خاصی پتلی ہے۔
پوری دنیا میں "چوہڑے" ہوکر رہے گئے ہیں۔
ادھر حجاب کرکے ٹائلٹ صاف کررہے ہوتےہیں۔
دنیا کی ترقی میں نام کردار نہیں ہے۔
معاشرتی اور اخلاقی ہر برائی موجود ہے۔
غریبی سے لیکربے حیائی، جھوٹ، فریب، بے ایمانی، کم تولنا، دوسرے کا حق مارنا، رشوت، سفارش اقربا پروری ہمارے اندر رچی پڑی ہے۔
اور ہم کسی گندے "رینو" کی طرح اس کیچر میں لت پت پڑے ہوئے ہیں۔




غامدی صاحب نے اگر عمومی طور پر خاتون سے مصافحہ کرنے کے بارے کہہ ہی دیا ہے کہ اس بارے دین نہین منع کرتا تو انکی بات پر چیں بہ جبیں ہونے کی بجائے اس کا قرآن و سنت سے رد کیا جائے، نہ کو اسکو  گالیاں دینے، ٹھٹھہ کرنے، اور تذلیل کی جائے، اس کی بجائے کیون نہ اس کو یکسر مسترد کیوں نہ کردیا جائے۔


اور توجہ دی جائے ان امور پر جن کی وجہ سے آج ہم پوری دنیا میں جوتے کھا رہے ہیں۔
جن کی وجہ سے آج ہم چھترو چھتری ہورہے ہیں۔
مگر کیوں؟؟ اگر ایسا ہوتو پھر ہم وہ رینو تو نہ ہوئے۔




اچھا چھڈو یہ رینو والی فوٹو ویرونا والے سفاری پارک میں بنائی تھی میں نے اصلی ہے


مکمل تحریر  »

ہفتہ, فروری 13, 2016

سفرنامہ روم۔ ویتوریانو Vittoriano

ویتوریانو Vittoriano   المشہور قیصر روم کا محل

اطالیہ  یا اٹلی کا  "انتخابی نشان"  یہ عمارت جوکہ منصوب ہے،اطالیہ  کے پہلے بادشاہ ویتوریو ایمانیویلےدوئم   Vittorio Emanuele II کے نام سے۔  

دیکھنے میں یہ ایک بہت بڑا محل ہے، عام  طور پر پاکستانی اسے  قیصرروم کا محل  کہتے ہیں ۔ یہ ایک  یادگاری عمارت ہے، جس
کو ویتوریانو یا پھر سرزمین  کی قربان گاہ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ایک قومی یادگار ہے جو اٹلی کے دارالحکومت روم میں واقع ہے۔ اور مشہور اطالوی ماہرتعمیرات Giuseppe sacconi کا  ڈیزائنر کردہ  ایک شاہکار ہے۔ اس عمارت کا نام  "ویتوریانو" اطالیہ کے پہلے بادشاہ  ٗویتوریو ایمانیولے دوئم  کے نام سے لیا گیا ہے۔  اس بادشاہ نے آج کے اطالیہ متحد کیا تھا جو بہت سی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ بس پھر کیا ہے اطالیہ میں ہر شہر میں ان صاحب کے نام کی مرکزی گلی ہوتی ہے،  کوئی کھلی سی سڑک، اسی طرح دالخلافہ میں انکے نام کی یادگار تعمیر کردی گئی، جو ریاست عوام اور حکومت کی علامتی طور پر نمائندگی کرتی ہے۔ 

جب 1921 میں یہاں  ایک گمشدہ سپاہی کو دفن کیا گیا ، تب اس عمارت کو ایک نئی علامتی حیثیت ملی، اس مقبرے میں پہلی جنگ عظیم  کے دوران  ھلاک ہونے والے ایک ایسے سپاہی  کی نعش کو دفن کیا گیا جسکی شناخت نہ ہوسکی۔ ، یوں  حقیقتاُ   یہ  عمارت  اطالیہ کی قومی،  ریاستی اور سرزمین کی نمائندگی کے طور پہچانی جاتی ہے۔  یہ عمارت اپنی پوری تاریخ  میں کبھی بھی کسی بھی بادشاہ کا محل نہیں رہی۔ اور نہ اس میں کبھی کسی نے سرکاری یا غیرکاری طور پر ہائش رکھی ۔
جب  1878 میں موجودہ اطالیہ کے پہلے بادشاہ کی وفات ہوئی  تو  ایک یادگاری عمارت کی تعمیرکا فیصلہ کیا گیا۔ جو سرزمین  اطالیہ کی نمائندگی کرے اور اسکی نشاط ثانیہ کی علامت ہو۔ یوں 1880 میں اس عمارت کی تعمیر کےلئے باقاعد منصوبہ بندی کا آغاز ہوا،1885 میں اسکا سنگ بنیاد اس وقت کے بادشاہ Umberto I نے رکھا ، 1888میں اسکی تعمیر کا پہلا حصہ مکمل ہوا جبکہ 1927  تک اس میں وقتاُ فوقتاُ تبدیلیاں  و اضافے ہوئے۔  1911 میں  اس عمارت کا باقاعدہ افتتاح کردیا گیا تھا۔

اس عمارت کو جدید اطالیہ  کی علامت بھی کہا جاتا ہے، وہ  اطالیہ جس کو ہم جانتے ہیں کیونکہ یہ قدیم اور المشہور سلطنت روم کے شاہی محلات کی بغل میں واقع ہے، اسی طرح پا پائے روم کا علاقہ بھی ادھر پاس ہی ہے اور اوپر "چو بارے" سے دکھائی دیتا ہے۔ اگر آپ کو کوئی شک ہے تو میری فیس بک پر شیئر  کردہ  ویڈیو  دیکھ کر اپنے علم میں مزید "بالٹی بھر" اضافہ فرماویں۔ اور اگر آپ کو میرے علم پر بھی شک ہے تو وصیت لکھوا کر، خود اطالیہ کا ٹکٹ کٹوائیں،  روم تشریف لائیں، اس عمارت کے چو بارے پر جائیں،  کلمہ پڑھیں اور نیچے چھلانگ لگائیں۔ انشا اللہ لو گ آپ کو پا پائے روم کے محلے میں پائیں گے اور عبرت حاصل کریں گے۔

اس عمارت کی اونچائی 81 میٹر ، چوڑائی 135 میٹر ہے ، جبکہ کل رقبہ 17000 اسکوائر میٹر ہے۔  اسکی تعمیر میں بوتیچینو سنگ مرمر کا استعمال ہوا ہے۔ جو شمالی اطالیہ کے شہر بریشیا کے گاؤں بوتیچینو  Botticino  سے لایا گیا ہے اور  اس کو  آسانی سے ڈھالا  جا سکتا ہے جبکہ یہ سفید سنگ مرمر سے کافی مشابہہ ہے۔

باہر سے دیکھنے پر پہلی نظر میں یہ ایک سادہ ، پر وقار اور روشن  عمارت دکھائی دیتی ہے۔ چونکہ یہ ایک بہت بڑی عمارت ہے اس  لئے اس کا بغور مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اسے بہت پیچیدگی  اور نفاست سے تعمیر کیا گیا ہے۔
بظاہر اس عمارت میں سب اہم نظر آنے والی سیڑھیاں ،  سامنے ایک طویل  دیوار جسکے ایک طرف سے دوسری طرف تک
  سنگ مرمر پر ابھرے  ہوئے  مجسمے، انکے درمیان میں  اور انکے اوپر بڑے بڑے ستونوں پر مشتمل ایک بہت بڑا  "بر آمدہ"  ہے ، یہ ایک U  شکل کی تعمیر ہے،  اور دونوں کونوں میں چھت  پر گھوڑوں والے مجسمے نصب ہیں ، جو رومن کے زمانے سے ہی طاقت کی علامت سمجھے جاتے ہیں، جبکہ عمارت کے عین درمیان میں   اگر آپ عمارت کے سامنے کھڑے ہوں تو آپ کو سب  سے پہلے سیڑیوں کے آغاز میں ہی دائیں بائیں دو ستونوں پر کانسی  کے بنے ہوئے فوجیوں  کے علامتی مجسمے  اور رومن  دیوی  Minervaکے مجسمے دکھائی  دیں گے۔

سنگر مرمر کی سیڑھیوں  کو چڑھ کر آپ عمارت کے مرکز میں کھڑے ہوتے ہیں  تو آپ کے سامنے ، عمارت کے عین درمیان میں  ایک بلند بالا ستون پر بادشاہ   کا گھوڑے پر سوار مجسمہ کھڑا ہے۔ اس کو آج کے اطالیہ کے ھیرو کے طور پر مانا جاتا ہے۔  جبکہ اسے دائیں بائیں کچھ مقدس مجسمے ہیں۔ بادشاہ کے مجسمے کے عین نیچے ایک  طویل سنگ مرمر کی دیوار ہے جسکے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کنندہ کاری سے ابھار کے  لوگوں کے تسلسل  سے مجسمے بنا کر لوگوں اور عوام کی نمائندگی کی گئی ہے۔ اس تسلسل کے درمیاں میں ایک چوکھٹ بنا کر اس کے بیچ ایک بڑا سا فوجی کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے جس کے عین نیچے  " گمشدہ فوجی"  کی قبر ہے اس پر پھول  چڑھے ہوتے  ہیں اور اطراف میں دومسلح فوجی ساکن پہرہ دے رہے ہیں ، انکے سامنے دو ستونوں پر آتشدانوں میں آگ جل رہی  ہے جبکہ دنوں ستونوں پر دو سطروں میں لکھا ہوا ہے " پردیس میں پائے جانے والے اطالویوں اور مادر وطن کے نام"۔


اطراف میں سیڑھیاں ہیں جن سے آپ اوپر کی منزل پر جاتے ہیں، بیرونی دیواروں کے ساتھ ساتھ اٹلی کے مختلف صوبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے  مجسمے ترتیب سے نصب ہیں۔

دائیں ہاتھ ھال سے آپ اندر جاتے ہیں اور درحقیت یہ ایک تین منزلہ عمارت ہے پہلی منزل پر استقبالیہ اور دوسری منزل پر
جہاں سے آپ جھانک کر پہلی منزل کو بھی دیکھ سکتے ہیں ، پر اطالوی نشاط ثانیہ کا میوزیم موجود ہے، جسکے اندر توپیں اور جنگی ہتھیار رکھے ہوئے ۔ جبکہ دائیں ہاتھ میں آپ باہر چھت پر تشریف لے جا سکتے ہیں اور ارد گرد شہر کا نظارہ کر سکتے ہیں، ایک طرف آپ کو پاپائے روم کے محلات تو پچھلی طرف  قیصر روم کے زمانے کے محلات و کھنڈرات دکھائی دینگے۔ جبکہ عمارت کے سامنے جدید روم ہے۔ جدید روم بھی بہرحال کافی پرانا ہے۔ ادھر قدیم و جدید میں یہ فرق ہے کہ 2ہزار برس یا اس سے قبل کی تعمیرات قدیم اور پانچ سات سو برس والی عمارات جدید ہیں۔

 تو جنابو، یہ قیصر روم کا محل جو ہے یہ روم کے تینوں ادوار کے بیچ میں  پیاسا وینزیا  کے مقام پر کھڑا ہے، پیچھے قدیم سلطنت روم کے کھنڈرات اور دائیں طرف پاپائے روم کے پاپائی محلات،  بائیں جانب medioevo  کے زمانے کے محلات ہیں، بس اس مرکزی مقام پر بہت سی medioevo کے زمانے کی عمارات کو گرا کر یہ  شاندار عمارت تعمیر ہوئی۔ آج اطالیہ میں ہونے والی قومی دنوں کی تقریبات اور پریڈ وغیرہ اسی عمارت کے سامنے ہوتی ہے، صدر صاحب کا قوم سے خطاب بھی ادھر سے ہی ہوتا ہے

اوپر کے برآمدے میں جانے کا ہمارے پاس وقت بھی نہ تھا اور بارش کے باعث حوصلہ بھی۔  بہرحال بہت صاف ستھرا  لشک پشک قسم کا ماربل کا کام اندھے کو بھی دکھائی دے رہا تھا۔ بلکل ایسے ہی عمارت کے سامنے والے اوپر ٹیرس کی طرف جانے کا بھی نہ سوچا۔ سنا ہے کہ لفٹ کا کوئی  "جغاڑ " بھی ہے۔ وللہ اعلم ، آپ کوشش کر لینا موقع ملا تو۔ یا پھر صبر کریں کہ اگلی بار کبھی ہمارا چکر لگا اور قت بھی ہوا تو ۔


اگر آپ کو مذید  طالبعلمی  کا  "چسکا"  چڑھا ہوا ہے تو " سائیں گوگلو" سرکار سے رجوع فرمائیں۔ تاکہ آپ کے علم میں مذید اضافہ ہوسکے۔ 
۔



مکمل تحریر  »

سوموار, مئی 11, 2015

اسلام میں سوالات کرنے کی روایات

یاد کیجیے اس وقت کو جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ کے موقع پر دباؤ کے ساته صلح کیے جانے پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال فرما رہے تهے اور آپ نہایت اطمینان کے ساتهہ ان کے ہر سوال کا جواب دے رہے تهے.
عمر رض: کیا آپ واقعی اللہ کے نبی نہیں ہیں ؟
رسول الله صلى الله عليه و سلم: کیوں نہیں.
کیا ہم لوگ حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں ؟
کیوں نہیں.
تو پهر ہم اپنے دین کے معاملے میں اتنی رسوائ کیں اٹها رہے ہیں ؟
میں اللہ کا رسول ہوں، اس کی نافرمانی نہیں کر سکتا اور وہی میری مدد فرمائے گا.
آپ ہی تو ہم سے بیان کیا کرتے تهے کہ ہم بیت اللہ پہنچ جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے ؟
بالکل، کیا میں نے یہ بهی بتایا تها کہ یہ سب اسی سال ہوگا ؟
نہیں.
تو بس جو کہہ دیا وہ ہو کر رہے گا. تم بیت اللہ پہنچ جاؤگے اور طواف بهی کروگے.
پهر بعینہ یہی سوال عمر رض ابو بکر رض سے بهی کرتے ہیں.
لیکن ابو بکر رض کا جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے ذرا بهی مختلف نہیں ہوتا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد صحابہ کرام کے مشورے سے آپ کو جانشین رسول مقرر کیا گیا.آپ کی تقرری امت مسلمہ کا پہلا اجماع کہلاتی ہے.بار خلافت سنبھالنے کے بعد آپ نے مسلمانوں کے سامنے پہلا خطبہ دیا.


میں آپ لوگوں پر خلیفہ بنایا گیا ہوں حالانکہ میں نہیں سمجھتا کہ میں آپ سب سے بہتر ہوں. اس ذات پاک کی قسم ! جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں نے یہ منصب و امارت اپنی رغبت اور خواہش سے نہیں لیا، نہ میں یہ چاہتا تھا کہ کسی دوسرے کے بجائے یہ منصب مجھے ملے، نہ کبھی میں نے اللہ رب العزت سے اس کے لئے دعا کی اور نہ ہی میرے دل میں کبھی اس (منصب) کے لئے حرص پیدا ہوئی. میں نے تو اس کو بادل نخواستہ اس لئے قبول کیا ہے کہ مجھے مسلمانوں میں اختلاف اور عرب میں فتنہ ارتدار برپا ہوجانے کا اندیشہ تھا. میرے لئے اس منصب میں کوئی راحت نہیں بلکہ یہ ایک بارعظیم ہے جو مجھ پر ڈال دیا گیا ہے. جس کے اٹھانے کی مجھ میں طاقت نہیں سوائے اس کے اللہ میری مدد فرمائے. اب اگر میں صحیح راہ پر چلوں تو آپ سب میری مدد کیجئے اور اگر میں غلطی پر ہوں تو میری اصلاح کیجئے. سچائي امانت ہے اور جھوٹ خیانت، تمہارے درمیان جو کمزور ہے وہ میرے نزدیک قوی ہے یہاں تک کے میں اس کا حق اس کو دلواؤں . اور جو تم میں قوی ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے یہاں تک کہ میں اس سے حق وصول کروں. ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی قوم نے فی سبیل اللہ جہاد کو فراموش کردیا ہو اور پھر اللہ نے اس پر ذلت مسلط نہ کی ہو،اور نہ ہی کبھی ایسا ہوا کہ کسی قوم میں فحاشی کا غلبہ ہوا ہو اور اللہ اس کو مصیبت میں مبتلا نہ کرے.میری اس وقت تک اطاعت کرنا جب تک میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم کی راہ پر چلوں اور ا گر میں اس سے روگردانی کروں تو تم پر میری اطاعت واجب نہیں (طبری. ابن ہشام)


امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ ایک بار منبر پر خطبے کےلئے کھڑے ہوئے اور کہا ”لوگو سنو اور اطاعت کرو“۔
 ایک عام شخص مجمع میں کھڑا ہوگیا اور کہا امیر المومنین !ہم نہ تمہاری بات سنیں گے اور نہ ہی اطاعت کریں گے۔ اس لئے کہ تمہارے جسم پر جو چوغہ لگا ہے وہ اس کپڑے سے زائد کا معلوم ہوتا ہے جو کپڑا مال غنیمت میں سے بحصہ مساوی آپ کو ملا تھا لہٰذا یہ خیانت ہے اور خائن خلیفہ کی اطاعت قوم کےلئے جائز نہیں ہے۔
 امیر المومنین حضرت عمرؓ نے اپنا خطبہ دینا روک دیا
اور اپنے بیٹے، عبد اللہ بن عمرؓ کی طرف اشارہ کیا، عبد اللہ بن عمرؓ نے کھڑے ہو کر کہا لوگو! یہ سچ ہے کہ مال غنیمت سے سب کو ایک ایک چادر ہی ملی تھی اور امیر المومنین کو بھی ایک ہی چادر ملی تھی۔ ان کا قد اونچا ہے اور لمبے قد کے اعتبار سے ان کا کُرتا ایک ہی چادر میں بننا ممکن نہیں تھا اس لئے میں نے اپنے حصہ کی چادر بھی امیر المومنین کو دے دی تھی اور دو چادروں سے میرے والد یعنی امیر المومین کا کرتا بنا۔ اب فرمائیے۔
عبد اللہ بن عمرؓ کی گواہی کے بعد معترض نے کہا میرا شک دور ہوگیا ہے۔ امیر المومنین اب فرمائیے ہم آپ کے حکم کی تعمیل بھی کریں گے اور آپ کی اطاعت بھی کریں گے۔
یہ حضرت عمرؓ کی عدالت کا انصاف تھا کہ ایک عام سے عام شخص بھرے مجمع میں سے کھڑے ہو کر خلیفہ وقت کو اس وقت تک خطبہ دینے سے روک سکتا تھا جب تک اس کا خلیفہ وقت پر لگایا گیا الزام غلط ثابت نہیں ہو جاتا تھا۔

اور ایک ہمارے علماء  ہیں جنکے  اوپر سوال  کرنے والے یا انکی مخالفت کرنے والے پر کفر کے فتوے لگ جاتے ہین۔

شاید یہی وجہ ہے ہماری امت کے زوال کی، عام آدمی تو عام آدمی  ، عالم دین کہلوانے والے بھی دین سے دور ہیں، دین کو صرف اپنے فائدہ کےلئے استعمال کرتے ہیں اور اگر کوئی ان پر اعتراض کرے یا اختلاف کرے تواسے کافر قرار دے دیا جاتا۔  حد تو یہ ہے کہ اس وقت ہرفرقے کو کوئی نہ کوئی کافر یا مشرک قرار دے چکا ہے۔
جبکہ واضع حکم ہے کہ " اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت کرو۔ "
مگر ہمارے علماء نے تفرقہ کو حلال کرکے بہت سے فرقے بنالئے ہیں۔
انا للہ و انا لیہ راجعون

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جنوری 17, 2015

زبان دانی یا زبان درازی

چرب زبانی اپنی جگہ اور بدزبانی اپنی جگہ ،   ہمارا اس بحث سے کوئی تعلق نہیں، آج کا موضوع ایک عام پاکستانی غریب طالبعلم کا المیہ ہے، جس ناکامی کی بڑی وجہ زبان ہے۔ ماہر لسانیات کا خیال ہے ، بلکہ انکو پکا یقین ہے کہ زبان علم نہیں ہے، بلکہ علم سیکھنے کا وسیلہ ہے، ایک ذریعہ ہے۔

تو صاحبو اس حساب سے تو ہمارے ساتھ ہاتھ ہی ہوگی، جسے انگریزی میں  "ھینڈ ہوگیا" کہا جائے گا۔






واقع  یو ں ہے کہ اللہ اللہ کر کے ہم نے جب بات چیت شروع کی تو سنا ہے کہ گالیاں سیکھیں اور وہ بھی پنجابی میں، یہ موٹی موٹی گالیاں۔ کہ  " وڈے نکے" توبہ توبہ کرجاتے۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ تو ایسی مفصل گالیاں دیا کرتا تھا کہ بس ۔ 

کہا جاتا ہے کہ گالی اور لطیفے کا اصل مزہ آپ کی مادری زبان میں ہی ہوتا ہے، یعنی کہ گالی اور لطیفے پنجابی کے،  جوکہ ہماری مادری زبان قرار پائی۔  یعنی کہ گالی اور لطیفہ پنجابی زبان میں ہی سواد دیتا ہے،  آج بھی یہی حال ہے کہ جب فل غصہ آئے تو پھر پنجابی ہی منہ سے نکلتی ہے۔

ویسے اس بارے سنا بھی ہے کہ اگر گالیوں اور لطیفوں میں کوئی زبان پنجابی کا مقابلہ کرسکتی ہے تو وہ عربی ہے اور پھر اٹالین،  اگر ثانی الزکر آپ کی مادری زبانیں ہون تو۔

خیر جب اسکول میں داخل ہوئے تو الف ب پ ت ٹ ث شروع ہوئی اور یہ اردو تھی۔ ساتھ میں ہی مسجد میں قرآنی پٹی شروع کروا دی گئی   ،  الف مد آ  ، آ ب الف با، با ، ت الف تا، تا۔ یہ ہماری عربی شریف تھی۔

یعنی مجھ پانچ سالہ " مشوم" پر ظلم بسیار ، ہیں جی۔  فیل کروانے کا فل پروگرام۔ جانے کیسے اسکول میں بھی پاس ہوتے رہے اور مسجد میں بھی  " پٹی سے قرانی قیدہ" اور قرانی قیدے سے پٹی  تک منتقل ہوتے ہوتے، جانے ایک دن استاد جی نے اعلان کردیا کہ کل سے "توں پہلاسپارہ لیا"۔ بس جی دوسرے دن پہلا سپارہ اور "مکھانڑیں"  مسجد پہنچ گئے۔

پانچویں جماعت پاس کر کے  "منڈا" پڑھے لکھوں میں شمارہوتو گیا مگر آگے کچھ انگریزی اور فارسی بھی ہمارا راہ دیکھ رہی تھی۔ تب تک گو ناظرہ قرآن شریف ، مسنون دعوائیں، ایمان کی صفتیں یاد کرکے عربی پر کم از کم قرآت کا عبور ہوچکا تھا۔ چھ ماہ پڑھ کر علم ہوا کہ فارسی تو ختم ہوگئی ہے، اور اسکی جگہ ڈرائینگ آگئی ہے،  ماسٹر لاٹری کو ہمارا ڈرائینگ کا استاد مقررکردیا گیا۔ اس بچارے کو خود بھی ڈرائینگ نہیں آتی تھی۔  خیر انگریزی ایسے چمٹی جیسے غریب کو بھوک، ۔ بس برس ہابرس تک نہ انگریزی نے جان چھوڑی نہ ہم نے سیکھی۔  یعنی کہ تادم تحریر سطور ھذا انگریزی سے ہمارا ہاتھ تنگ ہی رہا۔

آٹھویں  جماعت تک یہ عالم تھا کہ گھر میں پنجابی بولی جاتی، نیم پوٹھوہاری۔ اسکول میں ماسٹر سارے گالیاں اور بھاشن  پنجابی میں دیتے اور پڑھاتے اردو میں ۔  قرآن مجید کی کئی بار دھرائی کرکے عربی ناظرہ پر گرفت مضبوط ہوچکی تھی، بہت سی سورتیں، آیات، دعائیں وغیرہ بمعہ تراجم از بر ہوچکی تھیں۔ فارسی البتہ ایں چیست۔ پکوڑہ است، ایں صندلی است تک ہی رہی۔فارسی تو نہ آئی مگر ڈرائنگ کی کچھ لکیریں سیکھ ہی گئے۔ بس جی، شکر ہے، پھر فارسی کا حملہ ہوا کلام اقبال اور میرزا غالب کے خطوط کے ذریعے، جسے کسی نہ کسی طرح برداشت کر ہی لیا گیا۔ ایک یاد یہ رہی کہ سن پچانوے میں جب پشاور بطور سپرٹینڈینٹ امتحانات میری اتفاقیہ تعیناتی ہوئی تو، میرا ہوٹل  " خانہ ء فرھنگ ایران" کے پاس ہی تھا۔ کیا کرتا ادھر جاکر لائیبریری میں تلاشی لیتا رہتا، غالب اور اقبال کے نام دیکھ دیکھ کر ہی خوش ہوتا رہتا۔ مگر سنا ہو ا تھا کہ " پڑھو فارسی ، بیچو تیل" پس  ہم فارسی سے دور ہی رہے، اب پچھتارہے کہ سیکھ ہی لیتے تو اچھا تھا۔ بلکہ اب کوئی موقع ملے تو، ورنہ اب تک " خانم خوبے"  تک ہی چل رہا۔ 

پھر ہم شہر میں  "انتقال " کرگئے ، اناللہ واناالیہ راجعون ، پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ وہ والا اتنقال نہیں جس میں بندہ اس جہان سے اگلے جہان میں منتقل ہوتا ہے، بلکہ یہاں مرآد گاؤں کے "کھوتی اسکول" سے شہر اسکول میں منتقل ہونا تھا۔ وہاں پر خیر سے سارے استاد اردو میں ہی بات چیت بھی کرتے، سر عنایت اللہ خان اور فاضل بڈھی، گالیاں بھی اردو میں ہی دیتے۔ طلباء بھی اپنے آپ کو شہری بچہ ثابت کرنے کےلئے صاف اردو بولنے کی کوشش کرتے، اس کوشش میں میرا خیال ہے کہ راقم سب سے آگے تھے، آخر احساس کمتری اور کس بلا کا نام ہے؟؟ یہاں پر خان صاحب سے اردوئے معلیٰ پڑھی، کہ بس، جنابو، پوچھ کچھ نہ، انہوں نے اسکول میں نصاب کی مروج کتاب کے ساتھ ساتھ غالب اقبال حالی، سےلیکر ابن انشاء اور اکبر الہ آبادی جیسے مزاح نگاروں سے بھی متعارف کروادیا، تب ہی علم ہوا کہ اردو مٰیں بھی لطیفے ہوتے ہیں، مگر بہت عرصہ تک تو سمجھ نہ آتی کہ ہنسنا کب ہے اور یہ کہ اب لطیفہ ختم ہوچکا ہے۔ 
تب دوسرے شعراء کے کلام کی ٹانگ مروڑ کے اپنے نام سے دوسرے ہم جماعتوں کو سنانا بھی عام تھا۔  تبھی معلوم ہوا کہ اردئے معلٰی اور اردوئے محلہ میں کیا فرق ہے، جب روؤف نے لیٹ آنے کی وجہ دریافت کرنے پر بتایا کہ " سر ہمارا راستہ کاچا ہے" ۔  اور اس پر قہقہ پڑا، بعد میں سب محتاط ہوگئے میرے سمیت۔ 


انگریزی میں بھی پاس ہوتے ہی رہے۔ مضامین سارے اردو میں تھے،   پھر کالج میں وہی مضامین انگریزی میں تھے اور ہم پاگل بلکہ "پھاوے " ہوچکے تھے۔ ہیں جی۔سبجیک، اوبجیکٹ، تینس اور ہم ٹینس، بس پورا کُت خانہ ہی سمجھو جی، پھر انگریزی کی لکھائی الگ بول چال الگ، اسپینگنگ انگلش الگ، گرائمر کے کورسز الگ، مضامین و خطوط کا سیکشن الگ۔ بندہ پوچھے یہ زبان ہے یا شیطان کی آنت۔ قابو انے میں ہی نہیں دے رہی۔ 

ہومیوپیتھی معالجات کی تعلیم شروع ہوئی تو پہلے سال اردو میڈیم طے پایا اس میں بھی پنگا یہ تھا کہ ساری اصطلاحات عربی اور فارسی کی اردو میں گھسیڑدی گئی تھیں۔ کچھ چیزیں عربی ڈکشنری میں ملتیں تو کچھ فارسی سے غائیب ہوتیں۔ پھر انگریزی اصلاحات کو بھی کیا گیا۔
بعدمیں اسے بدلی کی اور انگریزی میں آسانی سے دستیاب مواد کی بنیاد پر محسوس کیا کہ انگریزی میں زیاد ہ آسانی ہے۔

سنہ 1992 میں، گزرتے ہوئے اسپرانتوزبان کا بورٹ جہلم شاندار چوک کے پاس لگا دیکھا، کہ مفت سیکھئے، مفت تو ہمیں کوئی موت دے تو ہم نہ کریں، چلے گئے۔ آگے جمیل صاحب بھی کھڑے تھے انتظامیہ میں، اوئے توں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ واہ جی واہ، بہت عرصے بعد ملاقات ہوئی ، ہیں جی۔

 ویسے یہ زبان بہت آسان ہے اور آپ  ایک ماہ کی محنت سے اچھی سیکھ جاؤگے، فائدے۔ انگریزی جیسی ہے، لکھتے دیکھ کر لوگوں پر رعب رہے گا کہ بندے کو انگریزی آتی ہے، پھر بیرون ملک سے اس زبان میں قلمی دوستی کا بہت رواج ہے۔ کسی گوری سے قلمی دوستی کرلینا، کیا پتا۔ فلاں نے تین گوریوں سے قلمی دوستی کی ہوئی اور فلاں نے پانچ سے۔ یہ لو رسالہ اس میں قلمی دوستی کے انٹرنیشنل اشتہارات ہیں۔ شبابشے، ویسے ایک فائدہ ہوا کہ اس زبانے کے بولنے والے تو تھوڑے ہیں مگر ہیں پوری دنیا میں، بس جہاں بھی جاؤ، سالوتون سالوتون کرنے کو کوئی نہ کوئی مل ہی جاتا ہے۔  

سن ستانوے میں جب عازم اطالیہ ہوئے تو اطالویں بھی پولی پولی سیکھ ہی لی۔ مجبوری تھی کہ یہاں پر پہلے سے سیکھی ہوئی کوئی زبان کارآمد نہ تھی، اسپرانتو کے بولنے والے صرف چالیس پچاس بندے تھے پورے شہر میں۔ اردو بولنے والے تین، پنجابی بولنے والے کوئی سو کے قریب۔ انگریزی تو انکو آتی ہو تو کام پر نہ بولیں۔

پھر اٹالین سیکھی، کئی برس سکھائی بھی، اسپرانتو بھی بولی، عربی بول چال، کچھ گالیاں سیکھ لیں، یہی حال یونانی کا بھی تھا مگر اسکا استعمال نہ ہوسکا۔ تو بھول ہی گئ۔ پھر اسپین میں اور برازیل مین بار بارجانے کی وجہ سے اسپینش میں بھی "اولا بوئناس دیاس، قوئے تال؟ " وغیرہ وغیرہ کرلیا ،  آخری تجربہ گزشتہ برس فرانس جانے  پر موقع پاکر فرینچ کے دوچارلفظ بھی یاد کرلئے۔ میسی مسیو۔ میسی بکو۔

عالم یہ ہے صاحب، بلکہ ظلم یہ ہے کہ جو اردو اور انگریزی میں پڑھا تھا وہ اطالوی میں پڑھانا پڑ رہا۔ بہت بڑی معصیت ہے۔ 
اب بندہ کس کی جان کو روئے، پڑھانا ایک طرف پورا سمجھانا پڑتا ہے بحث کرنی پڑتی ہے، پڑھا ہوا اردو اور انگریزی ملا کر ہے، اب اسکو اطالوی میں تبدیل کرنا ، بندے کو پسینہ آجاتا ہے۔ 

اب یہ بندے کے ساتھ زیادتی ہے کہ نہیں، کہ ساری زندگی زبانیں سیکھتے ہی گزاردی، علم توں پڑھیا ای نئیں، اور کھوتے کے کھوتے ہی رہے ،  کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ زبان دانی ہے، اللہ ہی جانے کہ یہ زبان دانی ہے کہ زبان درازی۔
دن میں کئی بار تو دماغی کمپوٹر کی لینگیوئج بدلی کرنی پڑتی ہے، اسکو تو چھڈو، موبائیل فون میں اردو، انگریزی، اطالیانو، اسپرانتو موجود ہیں، اور بار بار ایک زبان سے دوسری میں سلپ ہونا پڑتا ہے، "ہنرں ایتھے کوئی مرے"   توبہ توبہ
 اتنی زبان، بے شرم ، بے حیا



مکمل تحریر  »

جمعرات, نومبر 28, 2013

مسکرانا ضروری ہے




میں بہت دنوں سے کچھ لکھنا چاہ رہا تھا مگر، ہمت نہیں پڑتی تھی، کچھ ایسے گھمبیر حالات کہ کچھ لکھتا تو وہ سڑا ہوا ہوتا، سب اچھا ہے کی نوید نہیں دی جاسکتی تھی۔ ایسے میں احباب اعتراض کرتے ہیں کہ سڑے ہوئے لکھنے والے تو بہت سے ہیں، آپ کے ادھر تو ہم مسکرانے کےلئے آتے ہیں، سچ بات تو یہی ہے کہ میں خود بھی مسکرانا چاہتا ہوں مگر کچھ ایسا ہوجاتا ہے کہ پھر وہی سنجیدگی وہی اداسی، جب دل ہی بندے کا اداس ہے، بہت سے معاملات گھائیں گھائیں کرکے دماغ میں گھوم رہے ہوں تو پھر یہ نہیں ہوسکتا کہ ادھر لکھا جاوے اور اپنے جو چھ پڑھنے والے ہیں انکو بھی اداس کیا جائے، بقول مولوی لطیف صاحب کے دوزخ کے عذاب سے ڈرانے والے پہلے ہی بہت ہیں ۔ 
اچھی خبریں جہاں پر آتی ہیں وہیں پر کچھ نہ کچھ بری خبر بھی آجاتی ہے، ویسے ایسا سب کچھ تو چلتا ہی رہتا ہے، مگر کچھ ایسا ہے ہوتا ہے جس سے آپ بہت زیادہ پریشان ہوجاتے ہیں وہ ہے لوگوں کے روئیے، کیا کہتے ہیں کہ چور وہ ہوتا ہے جو چوری کرتا ہوا پھڑا جاوے، ورنہ آپ اسے چور نہیں کہہ سکتے، یہ اور بات ہے کہ کچھ شاہئ قسم کے چور ایسے بھی ہوتے ہیں جو رات کے پچھلے پہر نقب لگاتے ہوئے جاتے پھڑے جاتے ہیں مگر دوسرے دن کہہ رہے ہوتے ہیں  کہ لو دسو میں تو تہجد کی نماز کو جارہا تھا، اب بندے پوچھے کہ میری سرکار مسجد دوسری طرف ہے۔ مگر نہیں مانیں گے، الٹے پکڑنے والوں کے لتے لے جاویں گے۔ 

ویسے اگر یہ چور بادشاہ کسی صاحب اقتدار سیاہ ست دان کے لگتے لائے ہیں تو پھر بس کیا کہنے آپ اگلے دن الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ 

خیر اگر کوئی عام چور ہو اور وہ چوری کرتا پھڑا جاوے تو کوئی بات نہٰیں کہہ کر چھوڑا جاسکتا ہے، مگر ایسے چور کا کیا کیا جائے کو آپ کا اعتماد ہی چرا کر لے جائے، آپ کسی پر بہت سے بھروسہ کرو اور اگلا دھائیں کرکے آپ کا بھروسہ توڑ دے اور الٹا آپ کو چوول قرار بھی دے تو پھر کیا ہوگا، پھر آپ مسکرانا بھول جاؤ گے، مگر چونکہ مسکرانا صحت مند دماغ کی علامت ہے لہذا مسکرانا ضروری ہے، چاہے حالات کچھ بھی ہوں، ہیں جی

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش