ہفتہ, جنوری 17, 2015

زبان دانی یا زبان درازی

چرب زبانی اپنی جگہ اور بدزبانی اپنی جگہ ،   ہمارا اس بحث سے کوئی تعلق نہیں، آج کا موضوع ایک عام پاکستانی غریب طالبعلم کا المیہ ہے، جس ناکامی کی بڑی وجہ زبان ہے۔ ماہر لسانیات کا خیال ہے ، بلکہ انکو پکا یقین ہے کہ زبان علم نہیں ہے، بلکہ علم سیکھنے کا وسیلہ ہے، ایک ذریعہ ہے۔

تو صاحبو اس حساب سے تو ہمارے ساتھ ہاتھ ہی ہوگی، جسے انگریزی میں  "ھینڈ ہوگیا" کہا جائے گا۔






واقع  یو ں ہے کہ اللہ اللہ کر کے ہم نے جب بات چیت شروع کی تو سنا ہے کہ گالیاں سیکھیں اور وہ بھی پنجابی میں، یہ موٹی موٹی گالیاں۔ کہ  " وڈے نکے" توبہ توبہ کرجاتے۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ تو ایسی مفصل گالیاں دیا کرتا تھا کہ بس ۔ 

کہا جاتا ہے کہ گالی اور لطیفے کا اصل مزہ آپ کی مادری زبان میں ہی ہوتا ہے، یعنی کہ گالی اور لطیفے پنجابی کے،  جوکہ ہماری مادری زبان قرار پائی۔  یعنی کہ گالی اور لطیفہ پنجابی زبان میں ہی سواد دیتا ہے،  آج بھی یہی حال ہے کہ جب فل غصہ آئے تو پھر پنجابی ہی منہ سے نکلتی ہے۔

ویسے اس بارے سنا بھی ہے کہ اگر گالیوں اور لطیفوں میں کوئی زبان پنجابی کا مقابلہ کرسکتی ہے تو وہ عربی ہے اور پھر اٹالین،  اگر ثانی الزکر آپ کی مادری زبانیں ہون تو۔

خیر جب اسکول میں داخل ہوئے تو الف ب پ ت ٹ ث شروع ہوئی اور یہ اردو تھی۔ ساتھ میں ہی مسجد میں قرآنی پٹی شروع کروا دی گئی   ،  الف مد آ  ، آ ب الف با، با ، ت الف تا، تا۔ یہ ہماری عربی شریف تھی۔

یعنی مجھ پانچ سالہ " مشوم" پر ظلم بسیار ، ہیں جی۔  فیل کروانے کا فل پروگرام۔ جانے کیسے اسکول میں بھی پاس ہوتے رہے اور مسجد میں بھی  " پٹی سے قرانی قیدہ" اور قرانی قیدے سے پٹی  تک منتقل ہوتے ہوتے، جانے ایک دن استاد جی نے اعلان کردیا کہ کل سے "توں پہلاسپارہ لیا"۔ بس جی دوسرے دن پہلا سپارہ اور "مکھانڑیں"  مسجد پہنچ گئے۔

پانچویں جماعت پاس کر کے  "منڈا" پڑھے لکھوں میں شمارہوتو گیا مگر آگے کچھ انگریزی اور فارسی بھی ہمارا راہ دیکھ رہی تھی۔ تب تک گو ناظرہ قرآن شریف ، مسنون دعوائیں، ایمان کی صفتیں یاد کرکے عربی پر کم از کم قرآت کا عبور ہوچکا تھا۔ چھ ماہ پڑھ کر علم ہوا کہ فارسی تو ختم ہوگئی ہے، اور اسکی جگہ ڈرائینگ آگئی ہے،  ماسٹر لاٹری کو ہمارا ڈرائینگ کا استاد مقررکردیا گیا۔ اس بچارے کو خود بھی ڈرائینگ نہیں آتی تھی۔  خیر انگریزی ایسے چمٹی جیسے غریب کو بھوک، ۔ بس برس ہابرس تک نہ انگریزی نے جان چھوڑی نہ ہم نے سیکھی۔  یعنی کہ تادم تحریر سطور ھذا انگریزی سے ہمارا ہاتھ تنگ ہی رہا۔

آٹھویں  جماعت تک یہ عالم تھا کہ گھر میں پنجابی بولی جاتی، نیم پوٹھوہاری۔ اسکول میں ماسٹر سارے گالیاں اور بھاشن  پنجابی میں دیتے اور پڑھاتے اردو میں ۔  قرآن مجید کی کئی بار دھرائی کرکے عربی ناظرہ پر گرفت مضبوط ہوچکی تھی، بہت سی سورتیں، آیات، دعائیں وغیرہ بمعہ تراجم از بر ہوچکی تھیں۔ فارسی البتہ ایں چیست۔ پکوڑہ است، ایں صندلی است تک ہی رہی۔فارسی تو نہ آئی مگر ڈرائنگ کی کچھ لکیریں سیکھ ہی گئے۔ بس جی، شکر ہے، پھر فارسی کا حملہ ہوا کلام اقبال اور میرزا غالب کے خطوط کے ذریعے، جسے کسی نہ کسی طرح برداشت کر ہی لیا گیا۔ ایک یاد یہ رہی کہ سن پچانوے میں جب پشاور بطور سپرٹینڈینٹ امتحانات میری اتفاقیہ تعیناتی ہوئی تو، میرا ہوٹل  " خانہ ء فرھنگ ایران" کے پاس ہی تھا۔ کیا کرتا ادھر جاکر لائیبریری میں تلاشی لیتا رہتا، غالب اور اقبال کے نام دیکھ دیکھ کر ہی خوش ہوتا رہتا۔ مگر سنا ہو ا تھا کہ " پڑھو فارسی ، بیچو تیل" پس  ہم فارسی سے دور ہی رہے، اب پچھتارہے کہ سیکھ ہی لیتے تو اچھا تھا۔ بلکہ اب کوئی موقع ملے تو، ورنہ اب تک " خانم خوبے"  تک ہی چل رہا۔ 

پھر ہم شہر میں  "انتقال " کرگئے ، اناللہ واناالیہ راجعون ، پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ وہ والا اتنقال نہیں جس میں بندہ اس جہان سے اگلے جہان میں منتقل ہوتا ہے، بلکہ یہاں مرآد گاؤں کے "کھوتی اسکول" سے شہر اسکول میں منتقل ہونا تھا۔ وہاں پر خیر سے سارے استاد اردو میں ہی بات چیت بھی کرتے، سر عنایت اللہ خان اور فاضل بڈھی، گالیاں بھی اردو میں ہی دیتے۔ طلباء بھی اپنے آپ کو شہری بچہ ثابت کرنے کےلئے صاف اردو بولنے کی کوشش کرتے، اس کوشش میں میرا خیال ہے کہ راقم سب سے آگے تھے، آخر احساس کمتری اور کس بلا کا نام ہے؟؟ یہاں پر خان صاحب سے اردوئے معلیٰ پڑھی، کہ بس، جنابو، پوچھ کچھ نہ، انہوں نے اسکول میں نصاب کی مروج کتاب کے ساتھ ساتھ غالب اقبال حالی، سےلیکر ابن انشاء اور اکبر الہ آبادی جیسے مزاح نگاروں سے بھی متعارف کروادیا، تب ہی علم ہوا کہ اردو مٰیں بھی لطیفے ہوتے ہیں، مگر بہت عرصہ تک تو سمجھ نہ آتی کہ ہنسنا کب ہے اور یہ کہ اب لطیفہ ختم ہوچکا ہے۔ 
تب دوسرے شعراء کے کلام کی ٹانگ مروڑ کے اپنے نام سے دوسرے ہم جماعتوں کو سنانا بھی عام تھا۔  تبھی معلوم ہوا کہ اردئے معلٰی اور اردوئے محلہ میں کیا فرق ہے، جب روؤف نے لیٹ آنے کی وجہ دریافت کرنے پر بتایا کہ " سر ہمارا راستہ کاچا ہے" ۔  اور اس پر قہقہ پڑا، بعد میں سب محتاط ہوگئے میرے سمیت۔ 


انگریزی میں بھی پاس ہوتے ہی رہے۔ مضامین سارے اردو میں تھے،   پھر کالج میں وہی مضامین انگریزی میں تھے اور ہم پاگل بلکہ "پھاوے " ہوچکے تھے۔ ہیں جی۔سبجیک، اوبجیکٹ، تینس اور ہم ٹینس، بس پورا کُت خانہ ہی سمجھو جی، پھر انگریزی کی لکھائی الگ بول چال الگ، اسپینگنگ انگلش الگ، گرائمر کے کورسز الگ، مضامین و خطوط کا سیکشن الگ۔ بندہ پوچھے یہ زبان ہے یا شیطان کی آنت۔ قابو انے میں ہی نہیں دے رہی۔ 

ہومیوپیتھی معالجات کی تعلیم شروع ہوئی تو پہلے سال اردو میڈیم طے پایا اس میں بھی پنگا یہ تھا کہ ساری اصطلاحات عربی اور فارسی کی اردو میں گھسیڑدی گئی تھیں۔ کچھ چیزیں عربی ڈکشنری میں ملتیں تو کچھ فارسی سے غائیب ہوتیں۔ پھر انگریزی اصلاحات کو بھی کیا گیا۔
بعدمیں اسے بدلی کی اور انگریزی میں آسانی سے دستیاب مواد کی بنیاد پر محسوس کیا کہ انگریزی میں زیاد ہ آسانی ہے۔

سنہ 1992 میں، گزرتے ہوئے اسپرانتوزبان کا بورٹ جہلم شاندار چوک کے پاس لگا دیکھا، کہ مفت سیکھئے، مفت تو ہمیں کوئی موت دے تو ہم نہ کریں، چلے گئے۔ آگے جمیل صاحب بھی کھڑے تھے انتظامیہ میں، اوئے توں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ واہ جی واہ، بہت عرصے بعد ملاقات ہوئی ، ہیں جی۔

 ویسے یہ زبان بہت آسان ہے اور آپ  ایک ماہ کی محنت سے اچھی سیکھ جاؤگے، فائدے۔ انگریزی جیسی ہے، لکھتے دیکھ کر لوگوں پر رعب رہے گا کہ بندے کو انگریزی آتی ہے، پھر بیرون ملک سے اس زبان میں قلمی دوستی کا بہت رواج ہے۔ کسی گوری سے قلمی دوستی کرلینا، کیا پتا۔ فلاں نے تین گوریوں سے قلمی دوستی کی ہوئی اور فلاں نے پانچ سے۔ یہ لو رسالہ اس میں قلمی دوستی کے انٹرنیشنل اشتہارات ہیں۔ شبابشے، ویسے ایک فائدہ ہوا کہ اس زبانے کے بولنے والے تو تھوڑے ہیں مگر ہیں پوری دنیا میں، بس جہاں بھی جاؤ، سالوتون سالوتون کرنے کو کوئی نہ کوئی مل ہی جاتا ہے۔  

سن ستانوے میں جب عازم اطالیہ ہوئے تو اطالویں بھی پولی پولی سیکھ ہی لی۔ مجبوری تھی کہ یہاں پر پہلے سے سیکھی ہوئی کوئی زبان کارآمد نہ تھی، اسپرانتو کے بولنے والے صرف چالیس پچاس بندے تھے پورے شہر میں۔ اردو بولنے والے تین، پنجابی بولنے والے کوئی سو کے قریب۔ انگریزی تو انکو آتی ہو تو کام پر نہ بولیں۔

پھر اٹالین سیکھی، کئی برس سکھائی بھی، اسپرانتو بھی بولی، عربی بول چال، کچھ گالیاں سیکھ لیں، یہی حال یونانی کا بھی تھا مگر اسکا استعمال نہ ہوسکا۔ تو بھول ہی گئ۔ پھر اسپین میں اور برازیل مین بار بارجانے کی وجہ سے اسپینش میں بھی "اولا بوئناس دیاس، قوئے تال؟ " وغیرہ وغیرہ کرلیا ،  آخری تجربہ گزشتہ برس فرانس جانے  پر موقع پاکر فرینچ کے دوچارلفظ بھی یاد کرلئے۔ میسی مسیو۔ میسی بکو۔

عالم یہ ہے صاحب، بلکہ ظلم یہ ہے کہ جو اردو اور انگریزی میں پڑھا تھا وہ اطالوی میں پڑھانا پڑ رہا۔ بہت بڑی معصیت ہے۔ 
اب بندہ کس کی جان کو روئے، پڑھانا ایک طرف پورا سمجھانا پڑتا ہے بحث کرنی پڑتی ہے، پڑھا ہوا اردو اور انگریزی ملا کر ہے، اب اسکو اطالوی میں تبدیل کرنا ، بندے کو پسینہ آجاتا ہے۔ 

اب یہ بندے کے ساتھ زیادتی ہے کہ نہیں، کہ ساری زندگی زبانیں سیکھتے ہی گزاردی، علم توں پڑھیا ای نئیں، اور کھوتے کے کھوتے ہی رہے ،  کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ زبان دانی ہے، اللہ ہی جانے کہ یہ زبان دانی ہے کہ زبان درازی۔
دن میں کئی بار تو دماغی کمپوٹر کی لینگیوئج بدلی کرنی پڑتی ہے، اسکو تو چھڈو، موبائیل فون میں اردو، انگریزی، اطالیانو، اسپرانتو موجود ہیں، اور بار بار ایک زبان سے دوسری میں سلپ ہونا پڑتا ہے، "ہنرں ایتھے کوئی مرے"   توبہ توبہ
 اتنی زبان، بے شرم ، بے حیا



مکمل تحریر  »

سوموار, اگست 27, 2012

چلتے یونان کو

ملک یونان سے ہماری واقفیت مرحلہ وار ہوئی تو اس کو اسی تربیت سے بیان کیا جاتا ہے 


حکیم محمد یوسف  (یونانی)
یونا ن سے ہمارا واسطہ حکیم محمدیوسف  (یونانی)  آئمہ پٹھاناں والے کے مطب پر لکھی تختی سے ہی ہوتا تھا، ادھر بھی ہمارا جانا تب ہی ہوتا جب بھینسیں گم ہوجاتیں اور ہماری ڈیوٹی ادھر شمال کو ڈھونڈنے  کی ہوتی، گزرتے ہوئے اگر حکیم صاحب جو نہایت نیک صورت و سیرت بزرگ تھے  باہر سڑک پر دھوپ سینکتے نظر آجاتے ،   تو ان سے پوچھ لیتے کہ حکیم صاحب سلام، کہیں آپ نے ہماری مجھیں تو ادھر جاتی نہیں دیکھیں، باوجود اس کے کہ ہمیں انکا جواب معلوم ہوتا کہ : " پتر میں تو ابھی ایک مریض کو چیک کرکےنکلاہوں"۔

اسکندر اعظم عرف سکندر یونانی
اس شخصیت کے بارے ہمیں  اپنے  چڑھتی جوانی سے پہلے ہی علم ہوچکا تھا، میاں لطیف صاحب  اکثر جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے   نعرہ مارتے " گیا جب اسکندر اس دنیا سے تو اسکے ہاتھ خالی تھے"  تب ہم میاں جی کے علم کے اور انکے پہنچے ہوئے ہونے کے" فل  "قائل تھے ، پھر یہی نعرہ ہم  نے بعد میں بھیک شہر میں بھیک مانگنے والوں سے بھی سنا تو وہ بھی بہت دور تک پہنچتے ہوئے لگے جبکہ ہم بھی ان سے دور رہنے کی کوشش کرتے۔  ہمارے پنڈ کے تاریخ دان بابوں کا  خیال تھا  بلکہ سرٹیفائیڈ بات تھی کہ اسکندر اعظم کی فوج نے جو دریائے جہلم عبور کیا راتوں رات تو ہو نہ ہو، یہ  ہمارے گاؤں  کے مقام سے تھا اور اس میں لازمی طور پر ہمارے گاؤں والوں کی ملی بھگت بھی رہی ہوگی،  جبکہ ہمارے دوست غ کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے جب ماسی ضہری ادھر  گلی میں سے ککڑ تو گزرنے نہیں دیتی ، کوئی ڈیڑھ سوگالی ہمیں دیتی ہے اگر دن میں دوسری بار ادھر جاتے دیکھ لے تو،  پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اسکندر یونانی ادھر سے نکل لیا ار ماسی ضہری کو پتا نہ چلا، اسلئے یہ سب بکواس ہے، بابا لوگ ایویں ہی اپنے نمبر ٹانگ رہے ہوتے ہیں،   پھر اسکے ساتھ فوجی بھی تھے،  فوجیوں کی ایسی کی تیسی جو ہمارے ادھر سے گزریں بھی ، انکوپتا ہے کہ یہ علاقہ" آوٹ آف باؤنڈ " ہے

حکمت یونانی
یونانی حکمت  کا ہم تب علم حاصل ہوا جب  علم معالجات پڑھنے کی ٹھانی، کہ یہ علم طب کی وہ قسم ہے جس کو یونان نے بہت فروغ دیا، پھر ادھر سے عربوں تک پہنچا اور پھر ادھر ہمارے پاس، اس علم میں چار علتیں بیان کی جاتیں : خون، سودا، صفرا  اور بلغم اور علا ج بلضد کے طور پر معالجات  ہیں ابتداء میں جڑی بوٹی اور پھر مختلف معدنیات وہ زہریں  استعمال ہوتیں،  ہمارے لئے دلچسپی کاباعث  "کشتے  " ہوتے ، جی بلکل وہی  والے جو " بوڑھے کو جوان  اور جوان کو  فٹ " کردیتے ہیں۔مگر ایسا کشتہ بیچنے والے تو بہت ملے مگر بتانے والا کوئی نہ ملا، اگر کوئی حکیم تب بتادیتا تو ہم بھی " دکان بڑھاجاتے"۔

مولبی انور حسین قادری
یہ مولبی جی سرائے عالمگیر سے آتے تھے اوراپنے سفید کرتے پاجامہ اور سبز پگڑی  پھر لہک لہک کے نعتیں گانے کی وجہ سے ہمارے گروپ میں فل مشہورتھے بلکہ بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتے، اندر سے پورے لچے اور تاڑو تھے جبکہ اوپر سے بہوت شریف ، انکی ہمارے مشٹنڈا گروپ میں شمولیت ہمارے لئے انتظامیہ  کی نظروں میں شریف بننے کی ایک کوشش تھی۔ تیسرے  درجے میں  جب ہم پہنچے تو ایک دم سے مولبی جی غائب ، معلوم ہوا کہ یونان چلےگئے، ان ہی دنوں یہ خبریں آنے لگیں کہیونان کے ذریعے  ایجنٹ یورپ میں پہنچاتےہیں،  بس بندہ کسی طریقہ سے ترکی پہنچے تو ادھر سے یونان اور پھر یورپ کی اینٹری، ہیں جی۔اور ادھر یورپ میں گوریاں، پس مولبی جی قسمت پر رشک کرتے ، ہیں جی ،  کہ لٹ موجاں گئے ہیں یہ مولبی جی تو، ہیں جی

چلتے ہو تو یونان کو چلئے
اٹلی آکر احباب  سے علم حاصل ہوا کہ ہمیں یونان پہنچنا چاہئے۔  اسکی دو وجوہا ت  تھیں  ہمارے لئے، مولبی جی  کے علاوہ  ایک تو یہ کہ ہمارے ہیلنک ہومیوپیتھیک میڈیکلایسوسی  ایشن کا  کورس اور دوسرے ادھر کاغذ کھلے ہوئے ہیں، مطلب پھر ہم ویزہ  کے جنجھٹ سے آزاد ہوجائیں گے۔ تو بس جناب پہنچ گئے ادھر کو یوں  مارچ  1998 کو،  اب ادھر اپنے جاننے والے تو کافی تھے،  ہمارا کام ہوتا پڑھنا اور فارغ رہنا، پھر کاغذوں کی فکر ہوئی تو جانے کیسے کچھ جاننے والوں نے ایک دن ایک سفید کارڈ ہمارے ہاتھ لا کر دے دیا کہ جی آپ کی  "سفید خرطی بن گئی" اور ہم اسی پر خوش،  اس کے بعد سبز ہوئیں گی اور پھر آپ ادھر پکے،  ہائے ہائے کیا دن تھے ہیں جی،  دن بھر ادھر انگریزی بولو، شام کو ہیلنااسپرانتو ایسوسی ایشن کے کسی  پنچ ست ممبران  کے ٹولے کے ساتھ گپیں اسپرانتو میں اور پھر رات کو ڈیرے پر آکر پنجابی بولو، ہیں جی،  البتہ تب  کچھ کچھ چیزیں یونانی زبان کی بھی سمجھ آتیں ، جن میں  "مالاکا " اور "ماگا" کے دوالفاظ ہمارے کانوں میں اکثر پڑتے اور پھر تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ دونوں گالیوں کے زمرے میں آتے ہیں ،  پس ہم نے بھی یونانی زبان صرف گالیوں کی حد تک ہی سیکھی ، اب ایسی بھی کوئی بات نہیں کہ ہمیں صرف دو گالیاں ہی یاد تھیں، یاد تو بہت سی تھیں مگر اب یہ دو ہی دماغ میں رہ  گئی ہیں۔

پھر جناب ادھر جون اور جولائی کے دن اور بیچز "کالاماکی " کے اور ہم ،  ایک پرانی جینز کا کاٹا اور ادھر گھٹنو ں تیک اور پھر پورا  دن لگا کر اسکے دھاگے نکال کے "پھمن " بنائے اور نیچے نائیک کے کالے جوگرز ، اور  رے بین  کی عینک زیب تن کئے ہم ادھر امونیا اسکوائیر سے کالاماکی تک پھر تے کئے،  تب یونانی دیویاں  غیر ملکیوں پر اتنی کرم نواز نہیں تھیں۔  بس دور دور ہی رہتیں اور ہم راجہ اندر کی طرح اپنی کورس میٹس میں نہایت شریف اور مسلمان ہونے کے گھرے رہتے ۔  ہیں جی، کبھی کبھی  شریفت کا حجاب بھی بندے کو کھجل کرکے رکھ دیتا ہے۔  

مولبی انور قادری کوبھی ادھر ڈھونڈھ نکالا مگر معلوم ہوا کہ یہ بندہ کسی کام نہیں رہا، ادھر آکر پکا مولبی ہوگیا ہے اور یہ کہ مسجد سے باہر کسی سے ملتا ہی نہیں، کام اور پھر مسجد، گویا انک کی کایا کلپ ہوگئی ہے۔ ہیں جی

ویک اینڈ  کا مزہ
ادھر سمجھ آئی کہ وییک اینڈ کیا ہوتا ہے، ملازمین کو تنخواہ جمعہ کی شام کو ملتی اور اگر ہفتہ کو کام نہیں کرنا تو بس پھر آپ کا ویک اینڈ شروع، آپ کی جیب میں کوئ پچیس تیس ہزار درخمے پڑے ہیں جو عوامی تنخواہ تھی تو پھر  کرو موجاں، یار لوگ جمعہ کی شام کو ہی  بئیر کے گلاس پر "پارئیا" کرنے مطلب گپ لگانے چلے جاتے اور رات کو دو دو بجے لوٹتے ، جو ہفتے کو کام کرتے وہ ہفتے کی شام کو نکل لیتے۔

بتی والا گھر
ہماری یاری چوہدری رمضان کے ساتھ تھی کہ ہمارے ساتھ کے پنڈ کا تھا اور جب پاکستان میں تھا توہماری زمین میں ٹریکٹر سے ہل چلایاکرتا تھا، جانے کب ادھر کو نکل آیا،  ایک دن جمعہ کی رات کو ٹن ہوکر آیا تو کہنے لگا : :ڈاکٹر آپ بتی آلے گھر گئے؟" نہ چوہدری وہ کیا ہوتا ہے اور کدھر ہوتا؟  لو  دسو آپ کو بتی آلے گھر کا نہیں پتا ، ایسا نہیں ہوسکتا،   وائی کسمیں چوہدری نہیں پتا،  میں ماننے والا تو نہیں مگر آپ کہتے ہو تو مان لیتا ہوں ، بس آپ کل تیار ہوجاؤ صبح ہی اور ہم نکل لیں گے، مگر کسی کے سامنے نام نہ لینا، اب اتنے مولبی تو ہم بھی نہ تھے سنا ہوا تو سارا کچھ تھا، پس کل کا پروغرام دماغ میں لے کر سورہے۔

دوسرے دن "ارلی ان دی مارننگ" مطلب کوئی گیارہ بجے آنکھ کھلی ، اور ناشتہ ، اگلے ہفتے کی خریداری، تین بجے فارغ ہوکر ، رمضان نے آنکھ ٹکائی کہ نکل ، اور ہم جو دیر سے اس لمحے کو "اڈیک" رہے تھے  پس نکل لئے، آج ہمارے دل میں چور تھا۔  ہیں جی۔

اومونیا اسکوارئر  کو پہنچے  اور ادھر دیکھا کہ کوئی پاکستانی تو نہیں دیکھ رہا ، کم ازکم مولبی انور تو نہیں گھوم رہا۔  ہیں جی
اور کسی چور کی طرح رمضان کے پیچھے چلتے رہے، اس دن اسکی چال واقعی کسی چوہدری کی چال تھی، پورے لطف میں تھا۔
بس پھر ہم  "پلاکا"   کی گلیوں میں گھومتے رہے، ان گلیوں میں جو ایتھنز کا قدیم مطلب انٹیک حصہ تھا۔
بس پھر رمضان نے ہمارے ہاتھ دبایا یہ یہ جو گھر ہیں جن  کے دروازے پر دن دھیاڑے جو بلب جل رہا ہے "گویا سورج کو چراغ دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے" یہ ہی ہماری منزل مقصود ہے اور ادھر ہی سے وہ گوہر نایاب ملنے والا ہے۔
مگر اس میں نہیں جانا کہ ادھر مال پرانا ہوتا ہے، ادھر بھی نہیں جانا کہ ادھر مال  مہنگا ہے ، ان کے بستر گندے ہیں، یہ والے غیرملکیوں کو پسند نہیں کرتے، یہ والے ، بس ہم پہنچ گئے، ادھر کھلے دروازے میں سے ہم لوگ اندر گھسے تو بس کچھ کچھ اور ہی منظر تھا،  عجیب سرخ کی روشنی میں نہا سے گئے،  ایک بڑا سا ہال تھا اور اسکے کونے میں کرسی پر ایک پرانی پھاپھڑ قسم کی مائی نے بہت بڑا منہ کھول کر ہمیں " یاسس " کہا جواب رمضان نے ہی دیا اور لگے ہاتھوں اسکا احوال بھی پوچھ ڈالا اور یہ بھی بتادیا یہ "یاترو" ہے  جو پاکستان  سے آیا ہے اور ادھر اسکی خدمت کرنا مانگتا، رمضان نے اشارہ کیا اور اسکے ساتھ ہی میں بھی کرسی پر ٹک سا گیا۔  بس پھر غور کیا تو اس ہال میں دونوں طرف اور سامنے چھوٹی چھوٹی گیلریاں 
تھیں جنکے اندر دونوں اطراف میں دروازے تھے ، شایدکمرے ہوں گے۔

ہمارے بیٹھے بیٹھے ہی ایک دروازہ کھلا اور ایک لڑکی  اس میں سے نمودار ہوئی، بس لڑکی کیا جناب، ایک حسینہ وہ جمیلہ، وہ بھی صرف بریزیر اور چڈی میں، ہائے ہائے، ہمارا تو بس دل ہی دہل گیا، ہیں جی،  ہمارے ادھر سامنے سے ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے ، دیدے  مٹکاکر گزری اور یاسسس کہتی  ہوئی ، گویا ہمیں دعوت شباب   و شتاب دی جارہی ہے، ایک کمرے میں دوسری طرف گھس گئی۔   ہم تو  قریب المرگ ہی ہوگئے تھے قسمیں۔  پر رمضان نے ہاتھ تھپ تھپایا اور کہا پولا سا ہمارے کان میں کہ یہ وہ مال نہیں ، صبر۔
پھر ایک اور   ، ہیں جی
پھر ایک اور ، اور پھر ایک اور ہیں۔
اور پھر رمضان نے بڈھی سے کسی کا پوچھا  اور انکار ی  جواب پاکر ہم کو اشارہ کہ ادھر سے نکل، کہ وہ مال نہیں ہے ۔ باہر آکر بولا  کہ ادھر وہ دانہ نہیں ہے ایک اور جگہ چلتے ہیں ، راستے میں  دوچار دروازوں میں داخل ہوئے اور تھوڑی دیر مال دیکھا اور پھر نکل لیئے، کہیں رمضان کو مطلوبہ بندی نہ نظر آئی اور کہیں پیسے  زیادہ تھے۔ پھر ایک جگہ  بیٹھے ہوئے تھے اور "یہ چیز "کا نعرہ رمضان نے مارا ، لڑکی حسب دستور یاسس کہہ کر دیدے مٹکاتی اور کولہے ہلاتی ہمارے سامنے سے گزر گئی اور ہم دل پکڑ کررہ گئے۔ ہیں جی لڑکی تھی یا قیامت ، ہیں جی،  دل میں ہی کھب گئی اور ہم ہزار جان عاشق ہوگئے۔ ہیں جی

رمضان نے بات کی مائی سے ، چھ ہزار مبلغ میں بات طے پائی اور رمضان نے مجھے کہا کو وہ دائیں کو سامنےآلے کمرے میں ہو لو،  مگر وہی چولوں والی حرکتیں ہماری کہ نہ چوہدری پہلے تم ،  ہیں جی، آخر میں عمر میں ہم سے بڑا تھا۔ ہیں جی ،  اور وڈوں کو احترام ہی تو ہم نے سیکھا ہے۔چونکہ یہ پہلی بار تھی ادھر جانے کی تو ایک جھجک  سی بھی شاید ، یا پھر خورے کیوں؟  ہیں جی۔

رمضان  میری طرف غور سے دیکھتا ہوا ، پولا سا اٹھ کر اس دروازے میں داخل ہوگیا،  اب میں ادھر بیٹھ  ہوا تھا اور ادھر ادھر دیکھنے اور اواسیاں لینے کے علاوہ میرے پاس کچھ کرنے کو نہ تھا۔  چند منٹ بعد ایک آدمی نکلا بیلٹ باندھتا ہوا،  شاید اسی کمرے سے نکلا تھا جس میں سے وہ حسینہ برآمد ہوئی تھی  یا اسکے سامنے والے سے۔ ہیں جی، پر سانوں  کی؟ ہیں جی۔
کوئی پندرہ بیس منٹ کے انتظار کے بعد وہی دل چیر حسینہ پھر برآمد ہوئی اور  ہمیں یاسس کہتی ہوئی اس بار بڈھی کے اشارے  پر رمضان کے کمرہ  میں، اس دوران ہم نے نوٹ کیا کہ ہماری طرح کے کافی لوگ آکر جابھی چکے تھے  ہر آنے والے کہ چہر ے پر ایک مسکراہٹ بھی تھی  یا کچھ روشنی سی۔ اور یہ بھی کہ مختلف اطراف سے تین چار لڑکیاں ایک گیلری کے  دروازے سے نکل کردوسری گیلری کے دروازے میں داخل ہورہی تھیں اور انکے پیچھے سے کچھ دیر بعد کوئی بندہ بھی نکلتا اور نظریں چراتاہوا  ہمارے سامنے سے گزر کے باہر کا منہہ کرتا،  تب کوئی بھی سلام دعا نہ کررہا تھا، شاید انکو یاد نہ رہتی ہوگی، ہیں جی ، آخر بندہ بے دھیانہ بھی تو ہوہی جاتا ہے، ہیں جی۔

پھر  ہم نے نوٹ کیا کہ اسی دروازے سے جدھر سے وہ حسینہ عالم برآمد ہوئی ایک آدمی بیلٹ کستا ہوا نکلا اور بڈھی تب تک ایک اور بندے سے چھ ہزار درخمے لےکر اسے اس کمرے  سے پہلے میں جانے کا اشارہ کرچکی تھی۔

کچھ دیر بعد شاید بیس منٹ کے بعد رمضان والا دروازہ کھلا اور وہ ہی حسینہ نکلی اور ہمیں یاسس کہہ کر دعوت دیتی ہوئی بڈھی کے اشارے پر دوسرے والے کمرے میں چلی گئی، رمضان بھی تھوڑی دیر بعد نکلا اور منہہ نیچے کرکے مجھے سے پوچھا" ہاں ؟ ہے پروغرام؟ " جانے کیوں میرے منہہ سے نکل گیا نہیں یار،   پر کیوں؟ رمضان پر حیرت ٹوٹ پڑی،  اس سے خوب مال پورے ایتھنز میں کہیں نہیں ملے گا،  پر میرا دل نہیں ہے،  پر کیوں؟ پیسے میں دوں گا، نہیں یار میرا دل نہیں کررہا ، چل واپس چلیں،   پر کیوں؟  کیا ہوا ؟ اگر یہ والی پسند نہیں ہے تو کسی اور جگہ چلیں؟ میری نظر میں اور بھی  مال ہے۔ نہیں یار میری طبیعت صحیح نہیں ہے، گھر کو چل۔ اچھا چل کچھ کھاتو لیتے ہیں،  تو کھالے یار میرا دل نہیں۔  چل اب آئے ہیں تو تیرو پتا  ہی کھالے ، نہیں یار میرا دل نہیں تو کھالے میں ادھر ہی ہوں  تیرے ساتھ بیٹھاتا ہوں۔
شاید میرا من ہی مارا گیا تھا۔ شاید مجھے وہ میکانزم سمجھ آگیا تھا، شاید  میں بہت سیانا تھا اور دور کی سوچ رہا تھا، نہیں شاید واقعی میری طبیعت خراب ہوگئی تھی،  مگر ایک بات ہے ، اسکے بعد بھی جب کبھی اس علاقے سے  یا اس جیسے کسی محلے سے گزر ہا تو ، اندر جھانکنے کا حوصلہ نہ پڑتا اور جب بھی اس بتی والے گھر کے بارے میں ذکر ہوتا ہے میری طبیعت اب بھی خراب ہوجاتی ہے۔ ویسے بندے کو ایڈا وی حساس نہیں ہونا چاہئے۔  ہیں جی



ایک وضاحت، رات کو نہ لکھ سکے اس پوسٹ کا عذاب ثواب علی حسن پر ہے، کہ یہ بندہ ہمیشہ ایسی آدھی سی پوسٹ لکھ کر ہمیں ٹینش دلوادیتا ہے، کہ جی بس پرانی یادوں میں غوتے لگاؤ اور کھوتے بنو






مکمل تحریر  »

منگل, جولائی 03, 2012

سیر پولینڈ کی، دل کے ارمان


زمانہ قدیم میں جب آتش جواں ہوا کرتا تھا اور  یورپ گردی کا نیا نیا شوق سر پر سوار ہوا تو،  ہنگری اور پولینڈ ان ممالک میں سے تھے جہاں ہماری  قلمی دوستی بہت  تسلسل کے ساتھ تھی اور چونکہ بہت سے اسپرانتو دان بھی ادھر بستے ہیں اور بہت منظم ہیں   تب بھی اور اب بھی کسی نہ کسی پروغرام کی دعوت موصول ہوتی، مگر کہ ہر دعوت دعوت شیراز نیست   گر پیسہ  در جیب نیست،  دوسری وجہ پولینڈ کی موندا تورزمو   اور ہنگری کے گرم چشموں کے مساج و ہییلتھ سینٹرز کی فوٹوئیں تھیں۔

پھر وہ دن بھی آیا جب عالمی اسپرانتو میڈیکل ایسوسی ایشن نے ایک خاص دعوت نامہ دے مارا ، بلکہ سرکاری طور پر ارسال کیا  مگر چھڈو جی کہہ کر ایک طرف رکھ دیا،    پھر ایک پروگرام اٹلی سے بھی اسی برس موصول ہوا  ، چونکہ  دونوں کے درمیان کوئی دس دن کا وقفہ تھا تو سوچا  پھر سے پولینڈ کے بارے کہ کیوں کہ ادھر سے ہوتے ہوئے اٹلی کو نکل لیں گے بعذریہ ٹرین اور یہ بھی کہ جرمن اور آسٹریا وغیرہ کی سیر مفت میں ہوجائے گی۔  مگر پولینڈ کی ایمبیسی والوں نے تب  چائنہ ایمبیسی کے عقب میں ہوا کرتی تھی، ادھر ڈپلومیٹو انکلو کے پچھلے پاسے،  کوئی چار چکر لگواکر   ہمارے پاسپور ٹ پر  ایک چھوٹی سی مہر  لگا دی کہ جی ہم مطمعن نہیں اور یہ کہ آپ نے
درخواست بھی لیٹ دی ہے ویزہ کےلئے لہذا  رہن دو۔

میں اسکو برا بھلا کہتا ہوا اٹالین ایمبیسی کو   نکل لیا، ویزہ آفیسر نے پوچھا  بھی  کہ تم نے پولینڈ کا ویزہ اپلائی کیا تھا؟؟ تو جواباُ  ہم نے جو گالیاں بزبان انگریزی زبانی یاد تھیں وہ بھی اور جوپنجابی  کی تھیں انکو  بھی   ترجمہ کرکےپولش  ویزہ آفیسر کی خدمت میں  پیش کیا ، تو اسکے بعد اس نےمذید کوئی سوال نہ کیا، لازمی طور پر بھلے مانس  سمجھ گیا ہوگا کہ اگر اس کا ویزہ نہ لگایا تو اس سے ڈبل قصیدہ خوانی میری بھی ہونی ہے۔
خیر ہم برطانیہ میں شب بسری کرتے ہوئے ادھر اٹلی میں جلسہ پڑھنے پہنچ گئے،  مگر پولینڈ والی مہر پاسپورٹ پرہی رہی،   اور منہ چڑاتی رہی، پھر ادھر مستقل رہنے کا پروغرام ایسا بنا  کہ بس لٹک ہی رہے۔ گاہ بگاہے کسی پروغرام میں کسی نہ کسی پولش اسپرانتودان سے ملاقات ہو ہی جاتی ہے اور پھر سے ادھر کی دعوت تازہ ہوجاتی ہے۔ ابھی پھر اگست میں ایک جلسہ کی دعوت  ہے۔ جاتے ہیں یا نہیں مگر  راشد صاحب سے فیس بک پر بات کر بیٹھے اور انہوں نے اپنی طرف سے بھی دعوت  دے ڈالی کے جناب ضرور آؤ اور رہو ہمارے ، پاس ، اگر موڈہو تو آپ کا ویاہ بھی کروایا جاسکتا ہے۔  خیر بات  مذاق میں رہی اور اچھا دیکھیں گے کہہ کر آئی گئی ہوگئی۔

آج اپنے علی حسن صاحب سے بات ہورہی تھی تو انہوں نے بھی  ہماری  پروگرام کو پکا کرنے کی حتٰی المقدور کوشش کی۔  آپ کو بھی شامل کرتے ہیں اس گفتگو میں  اور پھر فیصلہ آپ کے ہاتھ میں  کہ ہن  ایتھے مریئے،

جناب چینی گندے نہیں ہوتے بلکہ کہ پاکستانیوں کی طرح ہر ماحوال میں ڈھل جانے اور سروائیول  کرنے والی قوم ہے، پیسے نہیں  ہیں تو  فیکٹری میں 16 گھنٹے کام کرلو اور ایک کمرے میں 12 بندے رہ لو،   ہیں تو پھر گلیانی کی  بیگم کی شاپنگاں کے قصے پڑھ لو ، پس ثابت ہوا کہ 
دنیا میں یا تو چینی چھا جائیے گے یا پاکستانی، مگر چونکہ پاکستانی ذرداری کو بھگت رہے ہین لہذا انکے چانس کچھ کم ہین،

جناب  آپ بھی پولینڈ اگست سے پہلے پہنچ جائیں کہ ہوسکتا ہے میرا بھی چکر لگ جائے تو دونوں ملک کر ادھر ایک یورپین اردوبلاگر کانفرنس کرلیں گے اور آپس میں تقسیم اتعامات و اوارڈ بھی ہوجائے ،  اور پھر    ادھر تو ایک راشد صاحب نے مجھے معشوق و شادی بھی آفر کردی پولینڈ میں، وہ بھی فری میں، آپ بتاؤ،
بلکہ دعا سے پہلے ہی آجاؤ

ضرور جائو جی یقین مانیں انکا کوئی احسان نہیں انکو تو ایک بئیر میں پڑ رہی ہو گی
ہا ہا ہا، مگر میں تو آپ کے بلاگ پڑھ پڑھ کر انکی دعوت کو ٹھکرا گیا،  یہ صاحب ادھر میرے مہمان ہوئے تھے ایک بار، ابھی ادھر ہیں اور چلتا پرزہ ہیں
جائیں جی ضرور جائیں پر وارسا میں کچھ خاص نہیں ایک ہے مازوری ریجن وہاں 
جائیں آجکل تو جنت ہو گی وہ زمین پر

نہین مجھے کراکوو جانا ہے

وہ بھی اچھا ہے بلکہ بہترین شہروں میں ایک پولینڈ کے

ہاں ادھر ہے انکا جلسہ۔   پر سنا ہے بڈھوں کا شہر ہے۔    اور جنہوں نے مجھے مدعو کیا ہوا ان میں سے کوئی بھی 55 سے کم نہ ہوگا،       ہا ہا ہا
سارے ہی کھوسٹ قسم کے اور ہتھرو سیکس بڈھاس ہیں

ہا ہا ہا ہا ۔ایک بندہ ملا تھا شکل و صورت سے ایسا تھا کہ ہمارے نوکر اور بھنگی بھی بہتر ہوتے ہیں کہتا تھا کہ ٹائون میں جائو تے کڑیاں آپے فون نمبر دے جاندیاں نے
جائو جی تسی وی پولیاں نوں آزمائو

یہ سنا ہےکوئی بیس برس پہلے کی کہاوت ہے، جسے ہمارے لوگ بھولنے کو تیار نہیں، میرا خیال ہے ابھی حالات وہ نہیں رہے

نہ جی آزما کے ویکھ لو جے واپسی تے اکیلے گئے تو تہاڈی نیت دے فتور کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں ہو گی

اگر یہ قول ہے تو فیر وہ راشد سچا ہے، مگر یہ گل آپ نے اپنے بلاگ پر کیوں نہیں لکھی، مین تو اسے ایویں ہی لتاڑ گیا

ہا ہا بھائی جان اب ہم کیوں مولوی بنیں مفت میں دوسروں کے سامنے :)اگر کہہ دیتا کہ پھنس جاتی ہیں تو مزاح کہاں سے آتا ہیں جی؟ ویسے اس میں کوئی شک نہیں شاید ہی کوئی اور قوم اتنی واہیات ہو خود میری ایک استانی تھی پولش پڑھاتی تھی کہتی تھی کہ ساری دنیا میں ہمارا تاثر ہے کہ ایک بئیر پر رات گزار لیتی ہیں اور یہ کوئی اتنا غلط بھی نہیں

ہا ہا ہا اگر یہ بات ہے تو فیر بھائی جان کہنا جھڈ دو، اور یرا کہا کرو
میرا تو ادھر پولینڈ جانے کو سخت دل کررہا

بلکہ سنہ انیصد ستانوے مین پاکستان سے پولینڈ کا ویزہ بھی ریجیکٹ کروا چکا

ضرور جائیں اور بقلم خود دیکھ کر آئیں کہ دنیا میں ایسے ایسے لوگ بھی ہیں اور ہمکو اجازتاں دیں 2 بج گئے ہیں اور 4 بجے لائٹ جانی ہے 2 گھنٹے سو لیں
اچھا فیر شب بخیر
اوئے ہوئے 1997 میں پولینڈ ، بھائی جان اور نہیں تو 25،30 معاشقے ایک ہفتے میں ہی کر لیتے
چلو جی عمر باقی تے صحبت یاراں باقی

نہ تپاؤ

اوس کنجر ایمسڈر نے ویزہ نہیں دیا تھا کہ جی میں مطمعن نہیں ہوں، دسو

تب تو میں نے ٹینش نہ لی اور ادھر اٹالین ایمبسی سے لے کر ادھر نکل لیا مگر اب اس کی ماں بہن ایک کردینے کو دل کررہا

ہا ہا ہا اپنی بہو بیٹیاں بچا لے گیا جی صاف

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش