ہفتہ, جون 18, 2016

بارسیلونہ، روم اور راولپنڈی

اکتوبر میں بارسلونہ فارماسیوٹیکل ایکسپو میں  جانے کا پرو گرام ہے، ایسے ہی آج صبح دیکھ رہا تھا کہ ادھر ائیرپورٹ سے ایکسپو اور پھر شہر کا کیا نظام ہے ٹرانسپورٹ کا۔ اچھی ویب  سائیٹ ہے جوہمیں بہت سی معلومات دیتی ہے۔  اگر بارسیلونہ میٹرو کی تفصیل میں جایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ 1920 میں بنی تھی، اسکی گیارہ لائینں ہیں  113 کلومیٹر لمبائی ہے اور 148 اسٹیشنز ہیں۔ ایسے ہیں جیسے جہلم سے اسلام آباد کوئی جائے۔ 

مطلب یہ سب کچھ آج سے  صدی قبل، چار برس باقی ہیں  2020 آنے میں، ہمارے ہاں شاید تب تک کوئی سب وے میٹرو ٹرین  ایک لائین کی ہی بن ہی جائے۔ اللہ کرے۔ 


ہمارے ہاں اسکے جواب میں ایک بس سروس شروع ہوئی جسکو میٹرو بس کہا گیا، اور یار لوگ اس پر بھی احتجاج کرتے ہیں کہ جنگلا بس چلا دی ہے۔ آہو ہو ہو، چنگچی والے غریبون کا کیا ہوگا۔ مگر نہیں سوچتے کہ دریا پر  پُل بنانے سے کشتی بانو ں کا بھی رزق جاتا ہے، تو پھر پُل بھی نہ بنایا جائے؟؟  خیر یہ سب تو پوری دنیا میں ہی چلتا ہے۔  
شاید بارسلونہ میٹرو کے بارے بھی ایسے ہی ہوتارہا ہوگا، کچھ نعرے بازی تو ہوتی ہی ہے۔

چین جاپان اور فرانس میں تیز رفتار ٹرینیں چلانے کا مقابلہ ہے، اٹلی میں بھی چلارہے ہیں، کچھ برس سے پراجیکٹ پر کام ہورہا ، نئی  ریلوے لائنیں بچھ رہی ہیں اور نئے پل بھی بن رہے ہیں۔  اور جگہ جگہ no tavکے سلوگن  بھی لکھے ہوتے ہیں، مطلب ادھر بھی کچھ لوگ ہیں جو اس طرح کے میگا پراجکیٹس کی مخالفت کرتے ہیں۔ 

میں اٹلی کے شمال میں رہتا ہوں اور مجھے پاسپورٹ کی تجدید کےلئے روم پاکستان ایبمیسی میں جانا ہوتا ہے ۔ روم یہاں سے تقریبا چھ سو کلومیٹر ہے ، پہلے اسکےلئے تین طریقے اختیار کئے گئے ہیں ، مختلف اوقات میں۔ 

  ایک بعذریہ نائیٹ ٹرین، مطلب رات کو نو بجے ٹرین پکڑی، گیارہ بجے ویرونا سے بدلی کی اور پھر صبح پونے سات بجے، روم تیرمینی اسٹیشن پر جا منہہ دھویا۔ اور وہاں سے دو بسیں بدلی کرکے پاکستان ایمبیسی پہنچے۔پاسپورت تو رینیو وہوگیا  پر دوراتوں  کا جاگراتا اور سفر کی طوالت اگلے دو دن کام کرنے کے قابل نہیں چھوڑتی۔

دوسرا طریقہ ہوائی جہاز کا سفر ہے تھا، بظاہر سستا محسوس ہوا، کہ یہ ڈیڑھ گھنٹے کی فلائیٹ ہے، چلوجی، مگر یہ کیا، چالیس منٹ پر ائیرپورٹ ہے، لوکل فلائیٹ ہے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے پہنچنا کافی ہے مگر کسی غیرمتوقع ٹریفک بلاک میں پھنسنے کی صورت میں دوگھنٹے کا وقت لے کر نکلنا مناسب ہے۔صبح سات  بجے کی فلائیٹ تھی، بس تین بجے اٹھ کھڑے ہوئے، چاربجے گھر سے نکلے اور پانچ بجے  ائیر پورٹ پر پہنچ کر گاڑی پارکنگ میں چھوڑی اور انکو 12 یورو یومیہ کے حساب سے پیسے دے کر جہاز پکڑنے نکلے۔ اب ادھر دو گھنٹے "میں جہاج نوں اڈیکاں"  پھر روم پہنچے تو معلوم ہوا کہ ائیرپورٹ سے تیرمینی  ریلواسٹیشن تک پہنچنے کےلئے شٹل بس ہے جو ایک گھنٹہ لیتی ہے اور اسکو چلنے میں مذیدادھ گھنٹہ ہے۔ یوں صبح 5 بجے کے گھر سے نکلے ہوئے گیارہ بجے روم اسٹیشن پر پہنچے اور وہاں سے ایمبیسی کو فون کرنا پڑا کہ جنابو لیٹ آویں گے، بھلے مانس تھے کہنے لگے آجاؤ، گیٹ بند ہوا تو فون کردینا کھولوا دیں گے۔ یہی کرنا پڑا۔ اسکے بعد حساب لگایا تو ہمارے پاس کل تین گھنٹے تھے، پاسپورٹ آفیسر کو عرض کیا کہ جناب 7 بجے کی واپسی  فلائیٹ ہے۔ کمال شفقت سے فرمانے لگے، اہو، اچھا کوئی کوئی بات نہیں، آپ کو جلدی فارغ کردیں گے۔ واقعی ہم سب اہل خانہ ایک گھنٹہ بعد فارغ تھے۔ وہاں سے ٹیکسی پکڑی اور ریلوے اسٹیشن اور پونے چار بجے والی بس پکڑ کے پونے پانچ بجے ائیرپورٹ موجود تھے، اس دوران ہمارے پاس وقت صرف ایک سینڈویچ کھانے کا تھا، پون گھنٹہ،  پھر ائیرپورٹ پر پہنچ کر فلائیٹ کا انتطار اور رات کو جب گھر پہہنچے تو تھکن سے چور تھے، دوسرے دن سب کو بخار چڑھا ہوا تھا۔ اسٹریس اور تھکن کی وجہ سے۔بس اس سے توبہ ہماری۔ 

تیسرا طریقہ یہ اختیار کیا کہ گاڑی پر چلتے ہیں، ایک دوست ڈاکٹر سمیر صاحب ہیں، ان سے بات ہوئی کہنے لگے میرا بھی کام ہے، اچھا جی دو اور پکڑو تاکہ خرچہ فی کس تقسیم ہوکر کم ہوجائے۔ اب کے 6گھنٹوں کا سفر ایک طرف کا کرنا تھا، مطلب نوبجے ایمبیسی پہنچنے کےلئے، صبح تین بجے، روانگی، بس جی ہمہ یاراں جنت ہمہ یاراں بہشت۔ وہی نو بجے ایمبیسی پہنچے، بارہ بجے فارغ ہوئے، دو گھنٹے کھانا وغیرہ کھایا اور واپسی کی راہ لی، عشاءکے وقت گھر پہنچے، کمر تختہ ہوگئی تھی بیٹھ بیٹھ کر، ڈاکٹرسمیر صاحب کی ہمت جو اتنی طویل ڈرائیونگ کرگئے۔ خیر اتنا برا بھی نہیں۔ 

اس بار پھر جانا ہوا تو تیز رفتار ٹرین کا علم ہوا،  یہ نئی نئی سروس ہے اڑھائی سو کلومیٹر فی گھنٹہ میں نے پھر ڈاکڑسمیر صاحب سے بات کی تو وہ بھی تیار تھے، ویلنٹائن ڈے پر آفر لگی ہوئی تھی کہ ایک ٹکٹ میں دو بندے سفر کرسکتے ہیں۔ بس ہم دونوں نے ایک دوسرے کو اپنا ویلنٹائن مانا اور چڑھ گئے ٹرین پر، صبح پونے سات بجے کی ٹرین تھی اور ساڑے نو بجے ہم روما تیرمینی اسٹیشن پر تھے، مزے سے ایمبیسی پہنچے ایک بجے فارغ ہوئے اور اب ہمارے پاس رات کو نو بجے تک وقت
تھا، بس پھر میٹرو اور ہم بلکہ پیدلو پیدلی، روم کلوسیو۔ پیاسا ہسپانیہ، پیاسا تریوی۔ پیاسا وینیزیا اور ویتوریانو (اس بارے آپ پہلے پڑھ چکے ہیں، اگر نہیں تو یہاں کلک کرکے پڑھ لیں)۔ سے ہوتے ہوئے پھر سے میٹرو پکڑ کر ویتی کن سٹی پہنچے، پاپائے روم کی زیارت تو نہ ہوسکتی پر چلو۔
مزے سے رات نو بجے ٹرین پکڑی اور ساڑے گیارہ بجے گھر تھے۔

نہ کھجل خراب ہوئے نہ بے خوابی اور نہ ہی تھکن، بلکہ بہت خوش بھی تھے، کہ جنابو اس بار پھر روم کی اچھی سیر ہوگئی، کچھ پرانی دیکھی ہوئی چیزیں کچھ نئیں دیکھ لیں۔ گویا تیز رفتار سفر کے ذرائع ایک عمدہ سہولت ہیں۔

مجھے لاہور میں زیادہ جانے کا موقع نہیں ملا مگر راولپنڈی تو اپنا دوسرا گھر ہی سمجھو۔ موتی محل سے اسلام آباد جانا کوئ خالہ جی کا گھر نہ تھا۔ تین سے چار گھنٹے اور وہ بھی ہائی ایس میں بندہ کبھا ہوجاتا تھا۔ اب بتانے والے بتاتے ہیں کہ سفر آسان بھی ہوگیا ہے  اور کم وقت میں بندہ اپنی منزل پر پہنچ سکتا ہے۔ رزائع رسل و رسائل قوموں اور ملکوں کی ترقی میں اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں، جتنے ڈیم اور اسکول، میں تو اس رائے پر ہوں کہ جو لوگ، ذرائع آمدورفت اور ڈیموں کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ملک و قوم کے خیرخواہ نہیں۔ ہاں اسکول ہسپتال اور دیگر ضروریات پر حکمرانوں کو ضرورت کھینچ تان کیجئے، مگر یہ مت کہیں کہ میٹرو بس اور سرکلر ریلوے کیوں اور ہسپتال کیوں نہیں۔


یہ کہئے کہ انڈرگرائونڈ بھی چلاؤ اور ہسپتال بھی اور اسکول بھی،  کھیل کے گرائونڈ بھی اورتفریحی پارک بھی۔ انصاف کی عدم فراہمی پر شور کرنے کی ضرورت ہے، رشوت اور قربا پروری  کی طرف توجہ دینے کی شدید ضرورت ہے۔ صفائی اور پینے کے پانی پر کھپ ڈالیں، اور جو کچھ آپ کے دماغ شریف میں آتا ہے اس پر بھی ۔ 



مکمل تحریر  »

منگل, ستمبر 04, 2012

فرعون کے پیچھے پیچھے


لنڈن  میں فرعون کی تلاش
فرعون کے ساتھ ہمارا یارا نہ بہت پکا ہے اور پرانا بھی،  کوئی کل کی بات تھوڑی ہے، بلکہ کئی برس گئے جب لنڈن کو سدھارے تھے سنہ 2002 میں،  تو  بھی فرعو ن اور مایا کےلئے اپنی فلائیٹ مس کرنے کی کوشش کربیٹھے،  تب  ہمارا مقصد برٹش میوزیم میں توتن خام صاحب کے سونے کے ماسک کی زیارت کرنا تھا، مگر گورا صاحب نے اسے ہمارے جانے سے چند ماہ قبل ہی قاہرہ میوزیم  روانہ کردیا اور ہم ہاتھ ملتے رہ گئے، کہ خان صاحب اگر چند ماہ پہلے آجاتے ادھر تو کون سی موت پڑنی تھی۔ یہ توتن خامن صاحب  بہت مشہور معروف فرعون ہوئے،  سنہ 1332 سے 1323 قبل مسیح ادھر حکمران رہے اور جدید فراعین  کی تاریخ میں  پڑھا ئے جاتے ہیں،  انکا تعلق اٹھارویں ڈینسیٹی سے تھا جو  سنہ  1550 سے 1292 قبل مسیح تک ادھر حکمران رہے، حضرت موسٰی علیہ سلام والا فرعون رعمسس دوئم اس سے پہلے بھگت چکا تھا۔ ، یہ صاحب  اپنے سونے کے ماسک اور سونے کے تخت کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے، مطلب موٹی اسامی تھے۔  توتن خامن کے مقبرے کی جب کھدائی ہوئی  1920 میں تو کارٹر صاحب نے عادتاُ  اسکے مقبرے سے ہونے والا سونے کاماسک بھی چپکے سے نکال کر کھیسے کیا اور پھر ولائیت کو سدھارے، جی ، جی، بلکل اسی طرح جس طرح  ہندوستان کے مقبروں کے تختے بھی لے اڑے تھے اور آپ کو آج بھی لاہور ، دہلی اور آگرہ کے مقبروں کی دیوراوں میں  "موریاں" نظرآتی ہیں، جہاں سے قیمتی پتھر نکالے گئے۔ توتن خامن  کا ماسک 2007 سے اسوان کے میوزیم میں توتن خامن کے مقبرے کے اندر زیارت کو دستیاب ہے۔   



میڈرڈ میں فرعون کا پیچھا
میڈرڈ میں جب سنہ 2009 میں جانا ہوا تو ادھر بھی ہماری فرعون سے یاری نے جوش مارا اور ہم ادھر نکل لئے ٹمپل آف دیبود  کی تلاش میں ، جو پلاسا سپانیہ کے ادھر قریب ہی پایا گیا، خیر سے ادھر  فرعون تو نہ پایا گیا نہ "وڈا نہ چھوٹا" مگر چلو  اسکے پاس کی چیز ہے ، یہ ٹیمپل ادھر جنوبی مصر میں اسوان کے علاقہ میں دریائے نیل سے کوئی 15 ک م کی نزدیکی پر تھا ،   یہ دوسری صدی قبل مسیح میں "عیسس" نامی دیوی کےلئے  تب کے بادشاہ  "میروئے" نے تعمیر کروایا،   اسکا چھوٹا کمرہ البتہ "ہاموں" نامی دیوتا کے لئے مختص ہوا،   یہ معبد اپنے علاقے کی جامعہ مسجد ہی سمجھا گیا،   پھر جب 1960 میں  جب عظیم اسوان  ڈیم کا منصوبہ بنا تو پھر اسے  ادھر میڈرڈ کو یاری کی علامت کے طور پر  گفٹ کردیا گیا،   بہر حال ادھر جا کر معلوم ہوا کہ اس کا براہ  راست فرعون کے سا تھ کوئی تعلق نہیں ہے، اور یہ کہ یار لوگوں نے ایویں  "چوول" ہی ماری ہے ۔  جو لو گ میڈر ڈ  میں رہتے ہیں   ی جو لوگ ادھر غلطی  سے پہونچ  جائیں  اوریہ مضمون  پڑھنے کے باوجود بھی   اگر ادھر جانا چاہیں تو  یہ معبد ادھر میڈرڈ کے رائل پیلس کے پچھواڑے میں پایا جاتا ہے۔  ہیں جی۔
 
نہ جاسکے تو صرف قاہرہ نہ جاسکے، رہی بات تورینی کے میوزیم کی تو چونکہ اس کی  سیر حد سے دلچسپ رہی ، جی جی ، کمپنی کی وجہ سے بھی، تو اسبارے کل لکھا جاوے گا۔ ابھی جولکھا گیا اسی کو ہضم کریں اور صبر کہ سہج پکے سو میٹھا ہو۔  

مکمل تحریر  »

جمعرات, اگست 23, 2012

کچھ حلال کچھ حرام


علی حسن  کا سوال:
سلام بھائی جان ۔آپ سے دو باتیں پوچھنی تھیں،آپ پڑھے لکھے ہیں، کافی عرصہ سے یورپ میں رہ رہےہیں
یہ بتائیں یہ خوراک میں حلال حرام کا کیسے خیال کیا جائے؟
چلو گوشت سے بچا جا سکتا لیکن لوگ تو کہتے ہیں دودھ تک حرام آ سکتا ہے، اب یہاں ایسٹونیا یا پولینڈ میں کیا کیا جائے اب زندہ تو رہنا ہے میں دودھ، ڈبل روٹی، میٹھے کیک وغیرہ میں بس سئور اور شراب کا دیکھ کر لے لیتا ہوں۔ میکڈونلڈ سے فش 
برگر مجبوری میں کھا لیتا ہوں لیکن ان کا تیل۔۔۔بس دل میں رہتا ہے کہ یار کیا کریں۔ کوئی مشورہ عنیایت کریں۔

ہمارا جواب:
بات حلال حرام کی ہو تو اس بارے واضع لائین موجود ہے، جس میں کسی دوجے کا نقصان کیا گیا ہو، یا اگلے کی مرضی شامل نہ ہو،  وہ مال حرام ہے، مثلاُ دوجے کی بیوی، چوری کی ہوئی مرغی،  چاہے آپ نے تکبیر دونوں پر پڑھی ہوئی ہو، دونوں حرام مطلق قرارپائیں گی۔

گوشت کو دیکھ کر لو کہ بیچنے والا مسلمان ہے اور سرٹیفیکیٹ دیتا ہے مطلب کہتا ہے " قمسیں اللہ دی اے حلال ہے  " تو آپ پر حلال ہوا، یا پھر کسی مستند کمپنی یاادارے کا سندشدہ۔   اور کیک سارے حلال ہیں، کہ حرام نشہ ہے نہ کہ میٹھا، اگر آپ الکحل کی موجودگی یا عدموجودگی پر فیصلہ کرتے ہو تو پھر دیکھ لو کہ ہر اس چیز میں الکحل موجود ہے جس میں خمیر اٹھایا جاتا ہے، مثلاُ آپ کے بند، نان،  خمیری روٹی وغیرہ ،  پھر حکم ہے کہ شراب کا ذخیرہ کرنا بھی حرام ہے  مگر سرکہ تیار کرنے کو،  واضع  رہے کہ سرکہ شراب سے ہی کشید کیا جاتا ہے مگر اسکے حلال ہونے میں کسی کو کوئی شک نہیں۔ پس آپ کیک ، بروش اور اس قبیل کی دیگر ماقولات سے حظ اٹھاسکتے ہیں جب تک ان پر اینیمل فیٹ کی موجودگی کا لیبل نہ ہو، یورپین فوڈ ریگلولیشنز کے مطابق  اسکی موجودگی کی صورت میں اسے ظاہر کرنا لازم ہے، پس برانڈڈ مال ، مال حلال ہوا اور مقامی طور پر تیار کیا گیا مال مشکوک ، کہ کون جانے کس  جانور کی چربی ہے۔
لہذاحتٰی المقدور دوررہا جائے۔

فش برگر  پر گزرہ کرنے والے اسکے  تیل کے بارے میں مطمعن رہیں  کہ جو بندہ ککنگ کے بارے تھوڑا بھی جانتا ہے وہ اس بات کا بخوبی ادراک رکھتا ہے  کہ جس تیل میں مچھلی فرائی کی جاتی ہے اس میں اگر آپ کوئی اور چیز فرائی کریں تو مچھلی کی بساند آئے گی۔ آخر کوالٹی بھی کوئی چیز ہے میکڈونلڈز کےلئے، وہ کوئی پاکستانی تھوڑی ہیں کہ اسی تیل میں پکوڑے تلتے پھریں، ویسے سنا ہے کہ میک کا مال کوشر ہوتا ہے وللہ اعلم ، بہت سے پاکستانی ادھر اسی چکر میں  2 ہفتوں میں میک کھا کھا کر 10 کلو وزن بڑھالیتےہیں۔ ہم تو اسکے پاس بھی نہیں جاتے۔

پیزہ بھی لیتے وقت خاص احتیاط کیجائے کہ اس پر گوشت کسی صورت نہ ہو، نو میٹ،  خاص طور پر جب آپ اٹلی میں ہوں تو پھر آپ کے پاس ، نو میٹ کے بعد بھی بہت چوائس ہوتی ہے۔ اسکے انگریڈینٹس میں ، خمیری آٹا ، پنیر، ٹوماٹو ساس  اور مزید جو آپ کی مرضی ، لہذا مال حلال ، اگر پیسے دینے والا کوئی اور ہو توپھر پورا چسکا لو۔ ہیں جی۔

دودھ وغیر ہ کے بارے یہ کہ اگر یہ  گائے کا ہی ہوتا ہے اکثر ،  ادھر بھینس،  گدھی،  گھوڑی، بکری، سورنی کا ہوگا تو لازمی طور پر لکھا ہوگا اور اسکی قیمت بھی زیادہ ہوگی۔  ہیں جی، اب کو ئی  کم قمیت میں زیادہ قیمتی چیز کی ملاوٹ تو نہیں کرے گا۔

ویسے تومیں کچھ علم والا نہیں ہوں البتہ پڑھا لکھا ضرور ہوں، اگر آپ کو ایسا لگا تو ضرور کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے، البتہ ایک عام بندےکے طور پراپنا  تجربہ تحریر کردیا ، اگر کوئ صاحب اس کو فتویٰ سمجھیں تو  ایسی کوئ بات نہیں ،  اگر کوئی اسکو غلط ثابت کرنا چاہئیں تو بھی ضرور کریں۔ ہاں ایک بات ہے کہ بطور ایک مسلمان کے جو عرصہ دراز سے ادھر غیر مسلم معاشروں میں رہ رہا ہے ، یہی طریقہ  سروائیول کا دکھائی دیا،  باقی اللہ جو بار بار کہتا کہ میں بخشنے والا ہوں، میں معاف کرنے والا ہوں، تو وہ  پوری امید ہے کہ ہمیں بھی بخشےگا اور ہم پر بھی رحم کرےگا۔ 


صرف کھانے پینے کے علاوہ بھی بہت سے حلال حرام ہیں جن پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، مثلاُ سود، دوجے کا مال، دوست کے ساتھ دھوکا، فراڈ، وعدہ خلافی، جھوٹ، غیبت، تہمت وغیرہ وغیرہ۔ مگر کوئی اس طرف زیادہ بات کرنے کو تیار ہی نہیں ہے۔ ہیں جی۔  






مکمل تحریر  »

جمعرات, فروری 23, 2012

بلوچستان، جہلم اور اٹلی


ویسے تو آج کل ہر طرف بلوچستان بلوچستان ہورہی ہے، مگر میں سوچ رہا تھا،  کیا فرق ہوا  جہلم اور بلوچستان میں؟  یا میرپور آزاد کشمیر اور بلوچستان میں  ؟  یا نواب شاہ میں، یا لاڑکانہ میں؟؟؟ میرے گراں میں اور بلوچستان  کے ایک پسماند ہ  دور دراز گوٹھ میں؟؟؟

ابھی آپ کہیں گے کہ لو جی ڈاکٹر صاحب کی تو مت ہی ماری گئی ہے، یا لازمی طور پر انہوں نے آج مشہور اٹالین شمپائن "کا دیل بوسکو   "کی بوتل چڑھا لی ہے، جی نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

ہاں کل سے زکام  نے مت ماری ہوئی ہے،  بلکہ ناس ماری ہوئی ہے،   ادھر تک پہنچتے وقت چار بار چھینک چکا ہوں، ناک میں گویا مرچیں بھری ہوئی ہیں  اور دماغ میں بھوسہ (یہ اگر میں نہ لکھتا تو آپ نے کہہ دینا تھا، بہت سے قارئین  کو جانتا ہوں اب)۔مگر اس کا مطلب قطعی طور پر یہ نہیں ہے کہ میں پاگل ہوگیا ہوں،    بلکہ یہ سوال اپنے آپ سے بقائمی ہوش  و حواس کررہا تھا،  میں بقلم خود  یعنی کہ مطلب ، چونکہ گویا کہ  چنانچہ۔ یہ میں نے ازراہٰ  تففن نہیں لکھا،  قسم  سے ،  
اسکا مقصد اپنے دماغ کو بہت چالو ثابت کرنا تھا کہ یہ باریکیاں ابھی بھی  یاد ہیں۔ ہیں جی

لوٹ کے بدھو گھر کو آئے۔ یعنی کہ  اپنے  شہر کی تعریفیں ،  جہلم  میں کہ پاکستان کا ترقی یافتہ ضلع گنا جاتا ہے، جہاں پڑھے لکھے لوگوں اور دراز قامت جوانوں کی بھر مارہے ، بقول سید ضمیر جعفر کے ، جہلم میں چھ فٹ قد معمولی ہے مطلب آپ اس کو حیرت سے نہیں دیکھو گے ، نہ طویل القامت میں شمار ہوگا اور نہ ہی پست قامت میں ،   تعلیم کا بھی کچھ احوال مختلف نہیں، جو لڑکا آپ کو بھینسو کے پیچھے گھومتا ہوا نظر آرہا ہوگا وہ عین ممکن ہے بی اے پاس ہو، یا سپلی کی تیاری میں مشغول ہو،  ہیں جی،  میں خود کالج کے آخری سالوں تک بھینسوں کو چراتا رہا ہوں، چرنا تو خیر انہوں نے خود ہی ہوتا تھا مگر اس بہانے گھر سے ہم فرار۔معاشی خوش حالی  کا یہ عالم  ہے  کہ  اگر آپ میرے پنڈ جاؤ گے تو بقول "پورے گاؤ ں میں ایک بھی دیوار کچی نظر  نہیں آئی"     یہ بیان تھا ایک سندھی ڈاکٹر صاحب کا جو سنہ 1995 میں  میرے ایک دن کے اتفاقاُ مہمان بنے۔  یہی  حال دیگر گاؤ ں کا ہے، اچھے گھر اور کوٹھیاں، مطلب ولاز ،  بنے ہوئے  دکھائی دیں گے آپ کو ، ہر گاؤں  میں، بلکہ پورے جہلم، میرپور، گوجرخان ، کھاریاں اور گجرات کے علاقوں میں ۔  جرنیٹر ، یو پی ایس ، کیبل  اور اب چند ایک برس سے وائی فائی انٹرنیٹ کی سہولت عام ہے۔ میں اپنے گاؤ ں کی بات کررہا ہوں۔  

علی جو میرے ماموں زاد ہیں  اور بلوچستان میں فوجی خدمات سرانجام دے چکے  ہیں انکے بقول بھی اور آج کل ٹی وی  پر آنے  والی خبروں کےمطابق  بھی بلوچستا ن  میں صورت حال اسکے بلکل برعکس ہے،وہاں پر پورے کے پورے گاؤں میں شاید ہی کوئی بندہ  اب بھی پڑھا لکھا  ملے، بیشتر علاقے کے علاقے  باقی سہولیات تو کجا ، پینے کے پانی  اور پرائمری اسکول کو ترس رہے ہیں،  حسرت و یاس بھری نگاہیں دیکھتی ہیں ان اسکولوں کو ، جن میں  نوابوں اور سرداروں کے  ڈھور  ڈنگر بندھے ہوتےہیں۔

ابھی تو آپ میرے دماغ کے خلل پر یقین کرچکے ہونگے کہ  خود ہی اپنے بیان کی نفی کردی، زمین آسمان کا فرق ثابت کردیا، مگر ایک مماثلت ہے اور وہ ہے بہت اہم اور بہت بری بھی  ( اسے بڑی مت پڑھئے)۔  کیوں ؟؟  پھر پڑ گئے پھر سوچ میں؟؟؟

بات یہ ہے جی کہ مماثلت دونوں طرف حکومتی کارکردگی  کی  ہے ،  جو ہر دور طرف ایک جیسی ہے ،  اگر ادھربندے پڑھے لکھے ہیں تو پرائیویٹ اسکولوں کی مہربانی سے،  اگر   کوئی دیوار کچی نہیں تو اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں،  ہر بندے نے اپنے  اپنے گھروں کو حسب اسطاعت خود تعمیر کیا ہے، اچھا یا اس سے بھی اچھا، گلیاں و نالیاں اکثر و بیشتر اپنی مدد آپ کے تحت ہیں، پانی کا نظام اپنا ذاتی ہے، ابھی میں  بھائی سے سولر سسٹم کی انسٹالیشن کے بارے پوچھ رہا تھا کہ واپڈا سے اگر جان چھڑائی جاسکے مستقل بنیادوں پر تو، ادھر بھی اتنے ہی ڈاکے پڑتے ہیں، اتنی ہی چوریاں ہوتی ہیں، اتنے ہی قتل ہوتے ہیں۔

حکومتی کارکردگی وہی ہے جو بلوچستان میں ہے، طاقتور کے ساتھ اور کمزور کو کچلنے کی اچازت۔
ہمارے یہاں پر جو کچھ بھی ہے وہ اٹلی، انگلینڈ ، فرانس، اسپین ، جاپان ، سعودیہ وغیرہ میں ہمارے جیسے   پردیسیوں کی بدولت ہے، ادھر سے لو ساٹھ کی دہائی میں انگلینڈ جانا شروع ہوئے تھے، پھر ستر میں سعودیہ ، اسی  میں فرانس و جاپان ، نوے  میں اٹلی ، اسپین  و یونان  اور اب تو ہر طر ف ، ایک پھڑلو پھڑلو مچی ہوئ ہے بقول حکیم علی صاحب کے۔

  اگر آپ ان لوگوں کے گھرروں اور پیسوں کو نکال دیں تو جہلم اور بلوچستان کے کسی پسماندہ  گاؤں میں شاید ہی کوئی فرق ہو


اظہار تشکر:  یہ مضمون حضرت یاسر خوامخواہ جاپانی کی ترغیب پر لکھے جانے والی تحاریر کی کڑی ہے


مکمل تحریر  »

منگل, فروری 07, 2012

میں خود پردیسی


اٹلی میں  اگر آپ کو راستہ دریافت کرنے کی حاجت ہوجائے آجکل تو نہیں ہوگی کہ ٹام ٹام کا دور دورہ ہے، مگر  پھر بھی اگر کبھی پھنس  ہی جائیں  تو عام قول یہ ہےکہ کسی خاتون خوبصور ت   ، سیرت کے بارے ادھر کوئی بحث  نہیں ، مطلب حسینہ و جمیلہ  سے پوچھا جائے ورنہ کوئی گھوس قسم کا بڈھا بابا پکڑو کوئی صاحب پنشن   جسکا ستر کے اوپر کا سن ہو  اور اللہ اللہ کرنے کے دن ہوں ،   خاتون اپنی سمپےٹھیٹی کی وجہ سے اور بابالوگ اپنی فارغ البالی کی وجہ سے آپ کی مفصل راہنمائی کرنے کی کوشش کریں گے۔

 اگر آپ کی مت ماری گئی ہے یا قسمت یا ہاضمہ  خراب ہے  اور آ پ کسی پرانی مائ سے  پوچھیں گے تو لازمی طور پر یہی جواب ملے گا    نو لو سو اور  آپ کے مذید کسی سوال جواب ،کسی تاثر سے پہلے ہیں یہ  جا وہ جا، مجھے نہیں معلوم اور اگر سوال آپ کروگے کسی جوان پٹھے سے تو وہ کہے گا کہ میں  تو ادھر کا ہوں ہی نہیں،  خود پردیسی ہوں، پر دیسی ، پردیسی ،   یہ  پکا  اور سکہ بند قسم  کا حکیمی نسخہ ہے جو ادھر رہنے والی عوام نے بہت عرصہ کے تجر بہ کو نچوڑ کا نکالا ہے،  مطلب بہت  سی آپ بیتیوں کی بنیاد پر اسکو جگ بیتی درجہ حاصل ہے، ہیں جی

جب ہم لوگ بارسلونہ میں پہنچے تو میرا دماغ ماؤف ہوچکا تھا ،  لگاتار دس گھنٹے کی ڈرائیو  کا مطلب  ہے کہ  ہم  گیارہ سو کلومیٹر  طے کرچکے تھے،     وہ بھی  چھوٹی کلیو میں ، میرے تو بس گوڈے ہی جڑ گئے تھے،   اور دماغ بھوں بھوں کررہا تھا،  بارسلونہ شہر کی شیلڈ دیکھ کر شادی مرگ کی سی کیفیت طاری ہوگئی اور دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا، میں نے گاڑی ایک سائیڈ پر روکی  اور  امجد صاحب کو   ڈرائیو کرنے کو کہا اور خود انکی جگہ پر پچھلی سیٹ میں بیٹھ کر آنکھیں موندنے کی کوشش کرنے لگا مگر کہاں،  بارسلونہ  میں پہلی بار گئے تھے  رات کے کوئی اڑھائی بج رہے تھے اور مانی استاد کے بقول ہمیں ادھر رملہ کے ساتھ چھوٹے پریشان رملہ  پر ملے گا یہ پریشان  رملہ  پاکستانوں کا گڑھ  ہے اور ادھر گھومنے والے سارے پاکستانی ہوتے جو بے روزگار ی کی وجہ سے پریشان  گھومتے اور خود بھی پریشان ہوتے اور رملہ کو بھی پریشان کردیا کرتے،، ہمارے لئے تب  سوائے اسکے کوئی چارہ نہ تھا کہ ہم  کسی سے رملہ کے بارے پوچھتے ، آصف اگلی سیٹ پر بیٹھا 
اونگ رہا  تھا ، جبکہ کوئی دس منٹ کے بعد میرا دماغ پھر سےمتحرک ہونا شروع ہوگیا۔

ایک بندے سے راستہ پوچھا تو اس نے پہلے تو معذت کی کہ نو ہابلو اطالیانو، نادا انگلیزے، مگر پھر بھی دیریکتو، دیکسترا اور سنسترا  مطلب سیدھا  فیر سجا کھبا  سمجھانے لگا  ،  حسب توفیق ہماری مت ماری گئی  تو  اسکو گراسیاس  کہہ کر سلوٹ مارا اور    نکل پڑے دیریکتو کو ،  آگے جاکر پھر ایک جوڑے سے پوچھنے کی رائے آصف لمبے کی تھی، جو سڑک کنارے بوس کنار میں مصروف تھا،   جبکہ امجد صاحب کا خیال تھا کہ یہ صر ف انکے بوس کنار سے  سڑ کر اس میں اپنی لکڑی گھسیڑنا چاہ رہا  ہے، خیر سانوں کی کہہ کو انہوں نے گاڑی  بی بی کے عین منہ کے سامنے  روک دی اور میں نے  مونڈی نکال کر پوچھا، سکوزا،  دوندے ایستاس رملہ؟ پیر فاوور  پس وہ اپنا کاروبار ترک کرکےکمال مہربانی سے ہماری طر متوجہ ہوئی اور وہی کیسٹ چلادی دیریکتو، دیکسترا فیر سنسترا  اور دیکسترا رملہ،    ادھر اسکا جملہ ختم ہوا ادھر میں  نے گراسیاس پھینکا اور ادھر امجد ،  میاں نے گاڑی آگے بڑھا دی، ہیں  
آصف لمبےکی باچھیں کانوں تک کھلی ہوئی صاف نظر آرہی تھیں۔جی   

تھوڑا آگے جاکر دائیں بائیں موڑ مڑ کر یہ خیال دل میں گھر کرگیا کہ جی رملہ ادھر کہیں آسے پاسے ہی  ہےکہ ایک دم سے بندوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا جو رات کے اس پہر بھی روا دواں تھے، زندگی متحرک تھی اور لوگ چہل قدمی اور لوگیاں چہلوں میں مسصروف، لوجی  امجد صاحب نے پھر سے بریک لگا دی کہ پوچھ اس منڈے سے ہی پوچھ لو رملہ ادھر ہی کہیں ہوگا،  یہ ایک جوان لڑکا تھا  اور اسکے کندھوں پر لٹکے بیگ پر اٹلی کا جھندا بنا ہوا تھا، میں نے اس سے  وہی سوال دھرا دیا ، دوندے ایساتس رملہ پیرفاوور، پس ادھر  سے خالص اٹالین میں جوا ب آیا کہ میں ادھر  پردیسی ہوں تو میں بھی اس سے ترکی بہ ترکی خالص اٹالین میں ہی پوچھ لیا کہ میں اٹالین ہی  ہوں اور اٹلی سے ہی آرہا ہوں ، رملہ کے بارے جانکاری مانگٹا ، فوراُ وہی جواب میں نہیں جانتا میں تو ادھر خود پردیسی ہو، ہیں جی

فٹ کر کے ایک حسینہ اپنے محبوب کی باہوں سے لپکی ہوئی  بولی وہ سامنے  ہی تو رہا  ر ملہ  اور ہمارے گراسیاس کو سنے بغیر  پھر اپنے میں مگن ہوگئی ،   ہم  اس نتیجہ پر  پہنچے کہ سچ  کہ دنیا گول ہے اور یہ بھی سچ  ہے  کہ جو ایتھے  پہڑے اوبارسلونہ میں بھی یہیی کہیں گے کہ مجھے نہیں معلوم رملہ بھلے وہ سامنے ہی کیوں نہ ہو، ہیں جی ،  ابھی ہمیں پریشان رملہ بھی تلاشنا  تھا کہ  ہمار ا مانی ادھر ہی کہیں ہماراانتظار کررہا  تھا۔ 

مکمل تحریر  »

اتوار, فروری 05, 2012

شکریہ



یہ نیا سانچہ لگایا ہے تو جس بندے نے بنایا ہے اس کا شکریہ تو بنتا ہے کہ نہیں 
ویسے شکریہ ادا کرنے کا رواج صرف پاکستان اور اٹلی میں ہی نہین  ہے ورنہ دیگر ممالک میں تو شکریہ کی لائین لگا دیتے ہیں، اٹلی میں چلیں پھر بھی کوئی نہ کوئی گراتسے کہہ کر ٹل جاتا ہے مگراسپین جاتے ہوئے بعذریہ کار فرانس میں اس کا بہت تجربہ ہوا، فرانس کا ہمارا کل  تجربہ نیلے ساحل سے گزرتے ہوئے موٹر وے کا ہے جونیس ،    لیون اور ماونٹ پلئر سے ہوتا ہوا اسپین کو جاتا ہے، موٹر وے نے خیر کدھر جانا تھا، ابھی بھی ادھر ہی ہے، جانا ہم کو تھا اور دوجے دن واپس بھی آنا تھا، فرانس میں ایک پنگا یہ تھا کہ موٹر وے پر ہرضلع کی حدود ختم ہونے پر ادائیگی،بلکل پاکستانی نظام، کدھر دو یورو اور کدھر ڈھیڑ، بس جی آپ رکے اور ایک مسکراتی ہوئی حسینہ باہر مونڈی نکال کو سلام کرتی پائیں، لگتا کہ بس ہم پر ڈل مر ہی گئی ہے، اچھا تو اٹلی سے آئے ہو ؟اچھا  توکارڈ دے دو؟ مہر بانی ہوگی، آپ سوچتے رہیں کہ ٹول کارڈ تو دینا ہی ہے مہربانی جانے کدھر سے آگئی، آپ نے کارڈ دیا ، اس نے شکریہ ادا کیا، ٹک کرکے ،  اور ساتھ ہی آپ کو بل بھی بتا دیا،  آپ نے پانچ یورو کا نوٹ تھما دیا،   اسکا کا میسی مطلب شکریہ کہنا  اور بقایا لوٹا نا  اور پھر شکریہ کہ آپ نے بقایا قبول کرلیا ، کوئی پوچھے بندی کوئی اپنا بقایا بھی چھوڑ تا ہے کہ اور وہ بھی ہم پاکستانی ، لینے   تو کبھی نہ چھوڑ ، دینے دیں یا نہیں ، پھر آپ کو سفر بخیر کہنا اور آپ کا جواباُ شکریہ کہنے پر بھی آپ کا شکریہ،  

ادھر اسپین پنچنے تک  ہمارے منہہ سے بھی میسی اور میسی بکو نکل رہا تھا، شاید عادی ہو چکے تھے واپسی پر بھی وہی حشر مگراٹلی پہنچ کر پھر وہی نمک کی کان میں نمک ہوگیا بس

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش