جمعہ, نومبر 18, 2016

عزت طوائف میراثی شریف اور پانامہ لیکس

 آپ نے اکثر فلموں میں ایک عدالتی سین دیکھا ہوگا جس میں ایک خاتون اپنی عزت لوٹنے والے ولن پر مقدمہ کرتی ھے، اور پھر اس ولن کا وکیل اس عورت سے کچھ اس قسم کے سوال کرتا ھے کہ:


ملزم نے تمہاری عزت بستر پر لوٹی یا زمین پر؟

کیا عزت لوٹتے وقت ملزم نے شراب پی رکھی تھی؟ کیا اس نے تمہیں بھی زبردستی پلائی؟

عزت لوٹنے سے پہلے کیا ملزم نے تمہیں چوما، یا جسم کے کسی حصے پر ہاتھ لگائے؟ اگر ہاں، تو عدالت کو بتایا جائے کہ کیسے لگائے؟

کیا ملزم نے تمہارے کپڑے پھاڑے تھے یا تم نے ڈر کر خود اتار دیئے؟

اس پورے عمل میں کتنی دیر لگی؟

یہ سوال پوچھنے کا مقصد یہ ہوتا ھے کہ غریب دکھیا لڑکی جو پہلے تنہائی میں اپنی عزت لٹوا چکی تھی، اب وہ ساری دنیا کے سامنے ایک دفعہ پھر اپنی عزت لٹوائے۔ ان سوالات سے تنگ آکر وہ لڑکی اپنا کیس چھوڑ دیتی ھے۔ یہ سین آپ کو بھارتی فلم دامنی، اعتراض اور ایسی دوسری کئی فلموں میں ملے گا۔

پانامہ لیکس میں انکشاف کیا گیا کہ کیسے حکمرانوں نے اپنی اپنی قوم کی عزت لوٹی۔ جو غیرتمند قومیں تھیں وہ فوراً سڑکوں پر آئیں اور آئس لینڈ کے وزیراعظم سے لے فرانس میں ایک عام بزنس مین تک، جس نے ٹیکس چوری کی، اسے جواب دینا پڑا۔

پاکستان میں لیکن حساب الٹا ھے۔ یہاں ہماری قوم کی عزت تو لٹی لیکن یہ تسلی بخش بے غیرت بن کر بیٹھی رہی۔ عمران خان کی غیرت نے گوارا نہ کیا تو وہ اپنے حامی لے کر سڑکوں پر نکل آیا تاکہ تاریخ اس قوم کو مکمل بے غیرت کے طور پر یاد نہ کرے۔ 7 مہینے کی لگاتار جدوجہد 
اور احتجاج کے بعد خان صاحب نے سپرم کورٹ کو معاملات اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور کردیا۔

اب سپیرم کورٹ میں عمران خان کے علاوہ تمام لوگ بشمول جج، ن لیگ سمیت دوسری پارٹیاں اور ان کی حامی عوام بڑی تسلی سے یہ جاننے کی کوشش کررھے ہیں کہ

نوازشریف نے قوم کی عزت لوٹنے سے پہلے کیا اس کے کپڑے پھاڑے؟ اگر پھاڑے تو ان کی ٹاکیاں کہاں گئیں؟

نوازشریف جب اس قوم کی عزت لوٹ رہا تھا تو کیا قوم کو درد ہوئی؟ اگر ہوئی تو اس نے چیخیں ماریں یا سسکیاں بھریں؟ اگر درد نہیں ہوئی تو کیا قوم کو مزہ آرہا تھا؟

نوازشریف نے اس قوم کی عزت فرش پر لوٹی یا بستر پر؟

معزز جج صاحبان سے دست بستہ گزارش ھے کہ آپ سمیت اس پوری قوم کی عزت شریف فیملی لوٹ چکی ھے۔ بجائے اس کے کہ آپ عزت لوٹنے کی فلم ریوائنڈ کرکے دیکھیں اور مزے لیں، آپ وہ ایکشن کیون نہیں لیتے جو دوسری غیرتمند اقوام نے پانامہ لیکس آنے پر لیا؟

کیا ایسا تو نہیں کہ یہ پوری قوم عزت لٹوانے کی عادی ہوچکی ھے اور اب ایک طوائف کی طرح معمولی رقم پر بھی اپنے آپ کو پیسے والوں کے بستر کی زینت بنا لیتی ھے؟

قصور حامد خان کا نہیں، قصور ججوں کا ھے جو نیب اور ایف آئی اے سے ثبوت نکلوانے میں ناکام نظر آرھے ہیں۔ ویسے تو پانامہ رپورٹ بذات خود بھی ایک
ثبوت ھی ھے، لیکن طوائفوں کو یہ ثبوت نظر نہیں آسکتے!!!

 
کچھ عرصہ قبل ایک میراثی کا رائےونڈ سے گزر ھوا۔ رات کا وقت تھا- میراثی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی، اس نے سوچا کہ کیوں ناں رات یہاں ہی گزار لی جائے- لہذا اس نے قریبی گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک شریف شخص باہر نکلا میراثی نے ان سے رات  گزارنے کے لئے ایک چارپائی کی درخواست
کی، شریف بزرگ نے میراثی کو بتایا کہ ان کے گھرصرف 5 چارپایاں ھیں جن پر گھر والے کچھ اس طرح سوتے ہیں:-

"
ایک چارپائی پر میں اور میری بہو دوسری پر میرا داماد اپنی ساس کے ساتھ تیسری پر میرا بڑا بیٹا چھوٹی بہو کے ساتھ چوتھی پر میرا چھوٹا بیٹا نوکرانی کے ساتھ اور پانچویں پر میرا نوکر میری بیٹی کے ساتھ سوتا ہے لہذا ان کے پاس کوئی چارپائی نہ ہے- میراثی یہ تفصیل سن کر تلملا اٹھا اور شریف بزرگ کو کہا مجھے چارپائی
دیں یا نہ دیں مگر اپنے سونے کی ترتیب تو ٹھیک کر لیں:”

Morale of the story:-


پانامہ لیک میں فلیٹس کسی کے ہیں یا نہیں لیکن کم از کم تمام گھر والے اپنے بیانات کی ترتیب تو ٹھیک کر لیں😂


-------------------------------


خبردار: اس تحریر کے مصنف کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہے۔ 

مکمل تحریر  »

سوموار, اپریل 25, 2016

غیر محرم خواتین سے ہاتھ ملانا

مسلمان، بلکہ اچھے مسلمان 1400 سو برس سے غیر محرم خواتین سے مصافحہ نہیں کررہے، فوراُ منع ہوجاتے ہیں۔
نظریں جھکا لیتے ہیں۔
عرض کردیتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں جائز نہیں۔
اور دوسرے مزاہب والے بھی برا نہیں مناتے،
اگر کوئی کم ظرف سوال اٹھائے بھی تو
"پھاں" کرکے اسکا منہ بند کردیا جاتا ہے۔
کہ مذہب ساڈا ہے، تہاڈا نئیں۔ "ہیں جی" ۔
پھر تو اگلا چپ ہی کرجاتا ہے۔
اگر کسی موقع پر کوئی " بُڑ بُڑ" کرے تو
اسکا "کھنہ بھی سینکا" جاتا ہے۔
کہ توں ساڈے مذہب دے وچ پنگے کریں، سانوں دسیں گا ہنڑں؟؟
پھر اگلا چپ ہی سمجھو۔ مجال ہے جو چوں بھی کرجائے۔


مگر


اسکے باوجود بھی ہمارے مسلمانوں کی حالت خاصی پتلی ہے۔
پوری دنیا میں "چوہڑے" ہوکر رہے گئے ہیں۔
ادھر حجاب کرکے ٹائلٹ صاف کررہے ہوتےہیں۔
دنیا کی ترقی میں نام کردار نہیں ہے۔
معاشرتی اور اخلاقی ہر برائی موجود ہے۔
غریبی سے لیکربے حیائی، جھوٹ، فریب، بے ایمانی، کم تولنا، دوسرے کا حق مارنا، رشوت، سفارش اقربا پروری ہمارے اندر رچی پڑی ہے۔
اور ہم کسی گندے "رینو" کی طرح اس کیچر میں لت پت پڑے ہوئے ہیں۔




غامدی صاحب نے اگر عمومی طور پر خاتون سے مصافحہ کرنے کے بارے کہہ ہی دیا ہے کہ اس بارے دین نہین منع کرتا تو انکی بات پر چیں بہ جبیں ہونے کی بجائے اس کا قرآن و سنت سے رد کیا جائے، نہ کو اسکو  گالیاں دینے، ٹھٹھہ کرنے، اور تذلیل کی جائے، اس کی بجائے کیون نہ اس کو یکسر مسترد کیوں نہ کردیا جائے۔


اور توجہ دی جائے ان امور پر جن کی وجہ سے آج ہم پوری دنیا میں جوتے کھا رہے ہیں۔
جن کی وجہ سے آج ہم چھترو چھتری ہورہے ہیں۔
مگر کیوں؟؟ اگر ایسا ہوتو پھر ہم وہ رینو تو نہ ہوئے۔




اچھا چھڈو یہ رینو والی فوٹو ویرونا والے سفاری پارک میں بنائی تھی میں نے اصلی ہے


مکمل تحریر  »

جمعرات, فروری 05, 2015

یوم یک جہتی کشمیر

آج پانچ فروری ہے، یوم یک جہتی کشمیر، 
عام آدمی کی حالت، مار مار نعرے شام تک گھلے بٹھا لیں گے، پھر چار دن تک گرم پانی مین نمک ڈال کر غرارے کرتے رہین گے۔ یہ وہ ہین جو اسکے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔ آواز اٹھارہے ہیں 

حکمرانوں کی حالت، لوٹ کھسوٹ مین مگر، ممکن ہے کوئی ویلا آدمی ایک ادھا بیان دے بھی دے، مگر اپنی تماشبینی میں مگن، یہاں حکمرانوں سےمراد سیاہ ست دان ہیں، چاہے وہ کسی پارٹی کے ہوں، ٹی پارٹی کے بھی، وہ اپنے آپ کو حاکم تصور کرتے ہیں۔ 

حالانکہ ثانی الزکر کشمیر کےلئے بہت کچھ کرسکتے ہیں، مگر اس سے پہلے انکو پاکستان کےلئے کچھ کرنا ہوگا، ایک مضبوط پاکستان ہی کشمیر کی آزادی کے اور وہاں پر لوگوں کے حقوق کا ضامن ہوسکتا ہے، کشمیری عوام کے ساتھ یک جہتی کرنے سے پہلے اپنے اندر یک جہتی پیدا کرلو،  یہ بات تو بہت اچھی ہے اور لازم بھی ، 

مگر

لگتا اایسے ہی ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو پاکستان کی عوام سے نہ صرف یہ کہ ہمدردی کوئی نہیں، بلکہ لگتا یہ ہے کہ انسے کوئی خدا واسطے کا بیر ہے۔ 
ویسے اس بیر کی وجہ کیا ہے؟؟ کوئی ہے بھی کہ نہین؟؟



مکمل تحریر  »

جمعرات, جنوری 22, 2015

علی بھائی بسم اللہ

علی بھائی ہمارے سب جاننے والوں کے علی بھائی ہیں،   یہ ہمارے کوئی سگے بھائی نہیں ہیں، مگر جانے کیوں سب انکو علی بھائی ہی کہتے ہیں
ویسے بھی ہم اس شہر میں پاکستانی ہیں بھی کتنے ساٹھ نہیں تو ستر ہونگے،  ہیں جی، وہ بھی ہر کوئی اپنے کام کاج میں مصروف ، جیسے یورپ کی پھڑلو پھڑلو والی زندگی ہوتی ہے۔ صبح کے گئے شام کو آئے،  تو ایسے میں جو واقف ہیں ان سے ملکر بہت ہی خوشی ہوتی ہے، اور علی بھائی جیسا بندہ کیا کہنے۔

علی بھائی کوئٹہ کا ہوں ، بتاتے ہیں، اردو بولتےہیں اور اس میں کافی مہارت رکھتے ہیں، گو انکے لہجے سے میں پشتون سمجھتا رہا، مگر کہنے لگے  ”نہیں نہیں بھائی جان  میں ہزارہ ہوں"۔  یہ اسٹیشن کے سامنے ہی میں اسٹریٹ پر انکا ٹیک اوے   Take away  ہے ، چار پانچ بندے کام کرتے ہیں ، مگر یہ خود  ہروقت ادھر موجود ہوتے ہیں۔
یہ درمیانہ سا جسم، جھک  کر دونوں ہاتھوں سے سلام کرنے والے،  "اسلام 
علیکم  بھائی، کیسے ہیں آپ، سب خیر خریت ہے، الحمدللہ الحمدللہ، بس اللہ کا بہت شکر ہے، آپ کی دعا ہے آپ کی دعا ہے، اچھا تو جناب کام کا ٹیم ہے ، اجازت؟؟ اسلاما لیکم ۔ انشاء اللہ پھر تفصیلی ملاقات ہوگی، کبھی لگائیں چکر، تو جناب خدا حافظ، اسلام علیکم "۔ 

اب ایسے ملنسار و بااخلاق بندہ میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا، ہاں کتابوں میں پڑھا ہے، وہ لکھنو کے لوگوں کے رکھ رکھاؤ یاد آجاتے ہیں۔ بس۔  تو جب بھی ملاقات ہوتی ہے بہت محبت چاہت سے ، وللہ بہت خوشی ہوتی ہے۔ انکے چہرہ پر مسکراہٹ بھی ہروقت ہوتی ہے، جھکے ہوئے کندے ظاہر کرتے ہیں  کہ دوسروں کا بہت احترام کرتے ہیں، ایسی شخصیات  جو آپ کو خال خال ہی نظر آتی ہیں۔

 میں کبھی کبھی آتے جاتے انکے پاس ہی اپنے مولوی صاحب کے پاس رک جاتا ہوں ،   مولوی ثاقب ہمارے یاران غار میں سے ہیں، بس پھر دیسی دودھ والی چائے مولوی صاحب خود کہہ کر آتے ہیں  اور علی بھائی دینے آتے ہیں ، اہو ہو ڈاکٹر صاحب آپ بھی آئے ہوئے ہیں، بسم اللہ جناب، مجھے تھوڑا شک ہوا تو میں خود چائے دینے چلا آیا۔ کہ ڈاکٹر صاحب کی بھی زیارت ہوجائے گی۔  تو جناب کیسے ہیں  مزاج شریف؟؟  کبھی چکر لگائیں ناں۔ میں تو آپ کا انتظار ہی کرتا رہتا ہوں۔



اب ایسے میں ان سے ملاقات کرنے انکے ٹیک آوے پر کب تک بندہ نہ جاتا۔  مروتاُ ہر بار وعدہ کرلیتا، مگر اس بار سوچا کہ ملاقات کرتے ہیں، مولوی صاحب کو ساتھ لیا اور ادھر جا پہنچے، تو جناب علی بھائی کا معلوم ہوا کہ اندر نماز پڑھ رہے ہیں،  ہم رک گئے، سلام پھیرا،  انہوں نے، مختصر سی دعا مانگی۔ جائنماز کو تہہ کیا اور ایک کلائی پر ڈال لیا، اور یوں چہک اٹھے۔
آخا، آج ہمارے حضرت صاحب آئے ہوئے ہیں، بسم اللہ بسم اللہ
اور آج تو ڈاکٹر صاحب بھی آئے ہوئے ہیں زہے نصیب بسم اللہ بسم اللہ،
ساتھ میں ہی ہمارے پیچھے کاؤنٹر پر ایک "مروکی "   بھی کھڑا تھا،  اور کاؤنٹر پرلڑکی کو عربی نہیں آتی تھی اور مروکی کو اٹالین شاید نہیں آتی تھی۔ ،  تو ہم سے فورا مصافحہ کرکے، آپ تشریف رکھیں  ، اگر اجازت ہو تو میں اس گاہک کو دیکھ لوں۔

جی ضرور ، ضرور، تو جناب اس مروکی کی طرف متوجہ ہوئے، اسی طرح ، سر پر سفید ٹوپی، بازو پر جانماز،  اس مروکی کی طرف متوجہ ہوئے، " اسلام وعلیکم ورحمتہ اللہ۔
وعلیکم سلام۔
اسکے بعد انکی آپ س میں گفتگو عربی میں ہوئی، اور پھر کاؤنٹر پر لڑکی سے یوں گویا ہوئے،
بسم اللہ، بھائی کو ایک ٹھنڈی بئر دے دو۔ بسم اللہ بسم اللہ،   مروکی نے بئیر لی اور جزاک اللہ کہہ کر پیسے دے کر چل دیا۔ میں اور  مولوی جی ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ 





مکمل تحریر  »

جمعرات, دسمبر 04, 2014

تاریخ انسانیت اور کفار

پوری تاریخ انسانیت چاہے وہ اسلام ہو، قبل از اسلام ہویا بعد از اسلام،  اگر واہ  واہ  کئے بغیر  اسکے بغور جائزہ لیں تو  ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے لوگ ایسے بگڑے ہوئے ہیں کہ انکو کچھ نہ کچھ جھگڑا کرنے کو مل ہی جاتا ہے،
پہلے زمانے میں سنا ہے کہ لوگ لڑا کرتے تھے، نعرہ نیکی اور بدی  کےنام پر جنگ جاری رہے گی
لوگ جھگڑ رہے تھے، پانی ، بکری، کھوتی، کھجور، ہر شئے پر جھگڑا۔ جنگ جاری رہی

پھر اسلام آگیا اور یار لوگوں نے نعرہ بدلی کرلیا،   اسلام اور کفر کے درمیان جنگ جاری رہے گی۔ باوجود اسکے کہ اسلام سارے کا سارے امن کا درس دیتا رہا،جب بھی موقع ملتا آرام سے رہنے کی کوشش کرتے مگر پھر بھی چاہتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے جنگ جاری رہی
پھر اسلام میں بھی خارجی آگئے اورنعرہ تبدیل،    خارجیوں کےخلاف جنگ جاری رہے گی۔  
پھر مسلمان ترقی کرکے سنی اور شعیہ ہوگئے۔  نعرہ لگا، شعیہ سنی کے درمیان جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے انکو مارا، انہوں نے انکو مارا، اور جنگ جاری ہے۔  جسکو موقع لگتا ہے وہ دوسرے کی کٹ اور کُٹ لگانے سے بلکل نہیں چوکتا۔
پاکستان شریف بن گیا، قلعہ اسلام کا۔
پہلے تو بنگالی اور غیر بنگالی ایک دوسرے کے لہو کے پیاسے ہوئے۔ فائدہ اٹھایا انڈیا نے جنرل نیازی نے 16 دسمبر 1971 کو ہتھیار ڈال دیئے۔

اسکے بعد قادیانی الگ کرکے واجب القتل قرار پائے۔
اب شعیہ سنی سے ترقی کرکے بریلوی دیوبندی ہوگئے اور آپس میں جھگڑرہے۔ فسادات کررہے۔  ایک کہتا ہے میں اسکو چھوڑوں گا نہیں،  دوسرے اسے تلاش کررہا ہوتاہے۔
اب قتال کی شکل تبدیل ہوگئی ہے، جس کا دل کرے وہ کسی پر بھی توہین رسالت کا الزام لگا دے اور پھر اسکی گردن ٹوکے سے الگ اور خون معاف۔  سارے مولوی ٹوکے بنے ہوئے۔

یہ بات بھی پرانی ہوگی، وقت گزر گیا۔ توہین صحابہ کا الزام لگا کر بھی آپ کسی کو ککڑکٹ لگا سکتے ہیں، یہ نسخہ بھی قدیم قرار پایا اب آپ کسی پیر صاحب کی توھین کے مرتکب قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ حتٰیکہ آپ کو بادشاہ خان کی توہین کا مرتکب قرار دے کر بھی واصل جہنم کیا جاسکتا ہے۔

ان دنوں دو مہنگے مہنگے کرتوں والی سرکار آپس  میں گھتم گھتاہیں۔ اور ساری مسلکی پارٹیاں اپنے اپنے "وٹ"  نکال رہیں۔  بندہ جائے تو کدھر جائے، معافی مل سکتی ہے، معافی نہیں مل سکتی، کرلو جو کرنا،  کل ایک صاحب  کہہ رہے تھے کہ با ت دور تک جائے گی۔
بندہ پوچھے بھائی جان اگر لڑنا ہی ہے تو لڑو مگر کرتے تو سستے کرتے جاؤ۔

لڑمذہب کے نام پر رہے سب کے سب اور مذہب یہ کہتا ہے کہ " ملکر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت کرو"۔ مگر اس طرف کس نے دھیان دینا ،

ویسے غزہ میں آج بھی دو میزائل مارکر ایک بڑی بلڈنگ گرادی دی گئی۔ جانے کتنے لوگ مرے ہونگے، ان میں مرد عورتیں، بچے، سب نہتے۔ یہ بھی یاد کروادوں کہ غزہ میں سارے مسلمان ہیں محصور اور مارنے والے یہودی، یہودی بھی نہیں زیونسٹ۔

کافرسب کو مسلمان کرکے اپنے   ”وٹ   نکالی جارہے "  اور مسلمان  ایک دوسرے کو  "کافر قرار دے کر اپنے وٹ نکالی جارہے"۔




مکمل تحریر  »

بدھ, اکتوبر 01, 2014

الزام لگانے کا پروگرام

قائدہ کیا ہے؟؟ 

جو کسی پر الزام لگائے وہ اس کا ثبوت دے کہ میرا الزام سچا ہے یا پھر ملزم کو اپنی بےگناہی کا ثبوت دینا ہوتا ہے؟؟


اگر ملزم کو ہی اپنی بے گناہی کا ثبوت دینا ہے تو پھر کوئی آدمی بھی کسی پر الزام لگا دے اور جواباُ اگلا اپنی بے گناہی ثابت کرکرکے پھاوا ہوجائے۔ 

ہمارے ملک میں جو انصاف کا دور دورہ ہے وہ ایسے ہی ہے۔ الزام لگانے والا مزے کرتا ہے اور ملزم جس پر الزام لگایا جاتا ہے وہ بچارہ کھجل ہوجاتاہے۔ 
جبکہ ترقی یافتہ معاشروں میں اگر آپ کسی پر الزام لگاتے ہیں اور ثابت نہیں کرسکتے تو جو اسکا جو نقصان ہوتا ہے وہ اور مقدمہ کی فیس، پلس اس الزام کے سزا، الزام لگانے والے پر ہوتی ہے۔ پس کوئی بندہ ایویں ای کسی کو رشوت خور یا چور، یا فراڈیا نہیں کہہ دیتا منہ اٹھا کے۔ جب تک ثبوت نہ ہو۔

اور اگر ثبوت ہوں تو پھر ملزم کا بولو رام ہی سمجھو

مکمل تحریر  »

منگل, ستمبر 30, 2014

تجاوزات



دکان کے آگے فٹ پاتھ پر تھڑا بنانا 
ریڑھی لگانا چھاپہ لگانا
رستہ بند کر دینا
یہ تو ایک عام سی بات ہے ۔
عموماً عوام بھی کچھ کہے بغیر موٹر سائیکل ، گاڑی ، گدھا گاڑی سے جان بچاتے ہوئے سڑک پر سے گذر جاتے ہیں۔
میں نے ایک کارنر والی دکان کے سامنے کے رستے پر تجاوز کرکے بنے ہوئے تندور کو دیکھا اور ساتھ والے سے کہا کہ ادھر سے نکلنے والے کو سیدھی طرف سے آنی والی گاڑی یا پیدل لوگ نظر نہیں آتے یہاں ایکسیڈنٹ ہو چکا ہو گا۔اگر نہیں ہوا تو ضرور ہو گا۔
سننے والے نے کہا تھا ہے تو غلط بات لیکن آج تک کوئی حادثہ نہیں ہوا،اس لئے ہم نے بھی کبھی سوچا نہیں۔
بس میری "کالی" زبان" اور اسی دن بچوں کو سکول لانے لے جانے والی گاڑی نے گاڑی افورڈ نہ کر سکنے والے بچوں میں گاڑی اسی جگہ گھسیڑ دی۔
ہاہا کار ہائے ہائے مچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور میں دیکھ رہا تھا کہ تندروچی مزے سے روٹیاں لگا رہا تھا۔ کچھ بچے چوٹیں سہلاتے گھروں کو واپس جارہے تھے جو لمبے پڑے چیخ رہے تھے انہیں آس پاس کے لوگ گاڑی لاؤ اوئے۔
زخمی بچوں کو اسپتال لیکر جانا ہے کا شور مچا رہے تھے۔
آپ اس طرح کے حادثے کے بعد لوگوں کی بے لوثی اور خلوص کے ساتھ "متاثرین" کی مدد دیکھ کر فخر محسوس کر سکتے ہیں۔
دیکھو ہماری قوم "زندہ" ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہیں جی
یہاں جاپان میں میرے گھر کے بالکل پیچھے ایک سیون الیون فرنچائیز کنوینینس سٹور ہے۔ لوکیشن اچھی اور کارنر پر ہونے کی وجہ سے اس کے وسیع و عریض پارکنگ لاٹ میں چوبیس گھنٹے گاڑیوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔
پارکنگ بڑی ہونے کی وجہ سے ہیوی ڈیوٹی ٹرک رات کو آتے ہیں اور ڈرائیور رات کو گاڑی کھڑی کرکے سوجاتے ہیں۔
گرمیاں ہوں یا سردیاں ان ٹرکوں کے انجن سٹارٹ رہتے ہیں ، جس کی وجہ سے ہم رات کو کھڑکی کھول کر سو نہیں سکتے۔
اس کے علاوہ بھی قریبی علاقے کے لوگ جو کہ اس سٹور سے خریداری کیلئے آتے ہیں ہمارے گھروں اور باغیچوں سے گذرنا شروع ہو گئے تھے۔
بچے اور آجکل ہمارے علاقے کچھ "دیسیوں" اور دیگر غیر ملکیوں کے بچے ہمارے اور پڑوسیوں کے باغیچوں سے گذرنا شروع ہو گئے تھے۔
سٹور کی پچھلی طرف کھلی جگہ ہونے کی وجہ سے بچوں نے کھیلنا شروع کر دیا تھا اور گیند ہماری دیواروں سے ٹکراتی تھی،
بچے گیند اٹھانے کیلئے ہمارے باغیچے میں گھس جاتے تھے۔ کھا پی کر کچرا پھینک دیتے تھے۔ جس کی وجہ سے گندگی ہونا شروع ہو گئی تھی۔
ایک دو بار بچوں کو منع کیا لیکن کوئی اثر نہیں ہوا۔
تنگ آکر سٹور کے مالکان سے شکایت کی تو سٹور کے مالک کے نے ہفتے میں ایک بار صفائی کرنا شروع کر دی۔
ہم مزید تنگ ہوئے تو "سٹور کی فرنچلائیز کمپنی" سے کہا کہ کچھ کیجئے ورنہ ہماری مجبوری ہے عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا۔
شکایت کے فوراً بعد کمپنی والے آئے معذرت کی اور کہا کہ جتنی جلد ہو سکا تحقیق کرکے ہم مسئلہ حل کر دیں گے۔
دو ماہ بعد آج آئے "تحائف" ساتھ لائے اور ہمیں انتہائی مودبانہ انداز میں "رپورٹ" پیش کی کہ 
سٹور کی پچھلی طرف چاردیواری بنائی جائے گی اور چاردیواری بھی وہ والی جس سے "شور " کو دبا کر ختم کر دیا جائے گا۔
تاکہ آپ کی راتوں کی نیند پُرسکون رہے۔ اتنا عرصہ جو آپ کو تکلیف ہوئی ہم اس کی معذرت چاہتے ہیں۔ 
ساتھ میں انہوں نے نقشہ اور تعمیراتی پلان کی تفصیل بتائی ، اخراجات بتائے اور ہماری رضامندی کیلئے ایک عدد کنٹریکٹ پر دستخط کروائے۔
اخراجات جو آنے ہیں پاکستانی تقریباً ایک کروڑ روپے کی خطیر رقم ہے جو کہ جاپان میں بھی خطیر رقم ہی ہے۔
صرف تین گھروں کیلئے جو کہ سٹور کے "پڑوسی" ہیں صرف ان کی راتوں کی نیند کے سکون اور دیگر پریشانیوں کیلئے "ایک کروڑ" کی رقم لگائی جا رہی ہے۔ 
یہ صرف قانون کی حکمرانی کی وجہ سے ہے ورنہ جاپانی تو ایسی وحشی قوم تھی کہ جنگ میں کھانے کو نہ ملنے کی وجہ سے بندے بھون کا کھا جاتے تھے اور وہ "خیال" کرکے کہ "جاپانی" نہیں کھانا۔
کسی دوسری قوم کا ہے تو کھانے میں کو حرج نہیں 

اور میری قوم کے لوگ دوسری قوم کیطرف دیکھتے ہی نہیں پہلے جس پر "ہاتھ" پڑے اسے ہی کچا چبا ڈالتے ہیں۔۔
رو عمران رو
گو نواز گو 

  بشکریہ، محترمی و مرشدی یاسر خوامخوہ جاپانی مذلہ علیہ و عفی اللہ عنہ
آپ جناب نے اپنے بلاگ پر چھاپنے کی بجائے ادھر شائع کرنے کی اجازت مرحمت فرماکر راقم الحروف کو عزت بخشی۔ 
گو نواز گو، 
رو عمران رو



مکمل تحریر  »

ہفتہ, مارچ 08, 2014

بابائے قوم کا مزار، بے حیائی اور ہماری قوم

کل رات بابے قائد اعظم کے مزار کے بارے آے آور وائی کی ٹیم سرعام کی رپورتاژ دیکھی،


قسمیں مجھے تو روتا آرہا، جو لوگ بابے کی قبر والے کمرے کو فحاشی و جنسی امور کےلئے کرائے پر دے رہے پیسے لیکر وہ تو ظلم کر ہی رہے، مگر جو لوگ پیسے دے کر ایک قبر والا کمرہ کرائے پر لے رہے اس کام کو انکو بھی شرم نہین آرہی ہوگی۔ پیسے ہی دینے ہین تو کسی ہوٹل مین جاؤ مرو……… ایک قبر، ایک مزار کا تقدس پھر صاحب قبر کی عظمت….کونڑں لوک ہو  تسیں اوئے کنجرو،   


لعنت بھیجنے  سے منع کیا گیا ہے  ورنہ لکھتا  کہ لعنت ہے ان پاکستانیوں پر اور ایسے پاکستان پر

ویسے ہوسکتا ہے ایسے موقعوں پر چپ ہی کرجاتے ہوں مگر کیا کرو جیسے جیسے عمر بڑھ رہی ہے زیادہ حساس ہورہا ہوں، سارے یہی کہتے ہیں، کہ آپ ایویں ہی ٹینش لے جاتے ہو ہر بات کی چل مارو، اچھا پھر ٹھیک ہے پوری قوم چل مارے

میرا تو ادھر بابے کے مزار کا فوٹو لگانے کو بھی حوصلہ نہین ہورہا
اب آنسو پونچھنے کو آج پورے پاکستان  اور بلخصوص کراچی کو بابے کے مزار پر اکھٹا ہوجانا چاہئے۔ ادھر فاتحہ پڑھو اور چپ کرکے احترام میں بیٹھے رہو۔

مکمل تحریر  »

جمعرات, نومبر 28, 2013

مسکرانا ضروری ہے




میں بہت دنوں سے کچھ لکھنا چاہ رہا تھا مگر، ہمت نہیں پڑتی تھی، کچھ ایسے گھمبیر حالات کہ کچھ لکھتا تو وہ سڑا ہوا ہوتا، سب اچھا ہے کی نوید نہیں دی جاسکتی تھی۔ ایسے میں احباب اعتراض کرتے ہیں کہ سڑے ہوئے لکھنے والے تو بہت سے ہیں، آپ کے ادھر تو ہم مسکرانے کےلئے آتے ہیں، سچ بات تو یہی ہے کہ میں خود بھی مسکرانا چاہتا ہوں مگر کچھ ایسا ہوجاتا ہے کہ پھر وہی سنجیدگی وہی اداسی، جب دل ہی بندے کا اداس ہے، بہت سے معاملات گھائیں گھائیں کرکے دماغ میں گھوم رہے ہوں تو پھر یہ نہیں ہوسکتا کہ ادھر لکھا جاوے اور اپنے جو چھ پڑھنے والے ہیں انکو بھی اداس کیا جائے، بقول مولوی لطیف صاحب کے دوزخ کے عذاب سے ڈرانے والے پہلے ہی بہت ہیں ۔ 
اچھی خبریں جہاں پر آتی ہیں وہیں پر کچھ نہ کچھ بری خبر بھی آجاتی ہے، ویسے ایسا سب کچھ تو چلتا ہی رہتا ہے، مگر کچھ ایسا ہے ہوتا ہے جس سے آپ بہت زیادہ پریشان ہوجاتے ہیں وہ ہے لوگوں کے روئیے، کیا کہتے ہیں کہ چور وہ ہوتا ہے جو چوری کرتا ہوا پھڑا جاوے، ورنہ آپ اسے چور نہیں کہہ سکتے، یہ اور بات ہے کہ کچھ شاہئ قسم کے چور ایسے بھی ہوتے ہیں جو رات کے پچھلے پہر نقب لگاتے ہوئے جاتے پھڑے جاتے ہیں مگر دوسرے دن کہہ رہے ہوتے ہیں  کہ لو دسو میں تو تہجد کی نماز کو جارہا تھا، اب بندے پوچھے کہ میری سرکار مسجد دوسری طرف ہے۔ مگر نہیں مانیں گے، الٹے پکڑنے والوں کے لتے لے جاویں گے۔ 

ویسے اگر یہ چور بادشاہ کسی صاحب اقتدار سیاہ ست دان کے لگتے لائے ہیں تو پھر بس کیا کہنے آپ اگلے دن الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ 

خیر اگر کوئی عام چور ہو اور وہ چوری کرتا پھڑا جاوے تو کوئی بات نہٰیں کہہ کر چھوڑا جاسکتا ہے، مگر ایسے چور کا کیا کیا جائے کو آپ کا اعتماد ہی چرا کر لے جائے، آپ کسی پر بہت سے بھروسہ کرو اور اگلا دھائیں کرکے آپ کا بھروسہ توڑ دے اور الٹا آپ کو چوول قرار بھی دے تو پھر کیا ہوگا، پھر آپ مسکرانا بھول جاؤ گے، مگر چونکہ مسکرانا صحت مند دماغ کی علامت ہے لہذا مسکرانا ضروری ہے، چاہے حالات کچھ بھی ہوں، ہیں جی

مکمل تحریر  »

جمعہ, اگست 09, 2013

آپ کی عید ہے؟ عید مبارک عیدین مبارک

اپنے ہاں تو پرسوں سے ہی عید عید ہوءی پڑی ہے، پہلے تو میاں ثاقب صاحب نے خبر دی کہ سعودی میں مولبی ہوشیار باش ہوگءے اور باباز دوربینیں لے بیٹھے اور یہ کہ شاید آج چاند نظر آجاوے۔ 

ہیں ؟مگر آج تو اٹھائیسواں روزہ ہے مولبی، اپنے ادھر بھی اور ادھر سعودی میں بھی تو  پھر؟؟  تفصیل موصول ہوءی کہ بہت برس بعد امسال بھی مون برتھ کے ایک دن پہلے ہونے کے شدید خطرات ہیں،۔ خیر دیر تک کمپوٹر کو ٹکٹکی لگانے کے بعد علم حاصل ہوا کہ خطرہ ٹل گیا اور یہ کہ کل روزہ ہی رکھنا پڑے گا، اور ہ پاسہ مار کے سو رہے کہ سحری کےلئے اٹھنا پڑے گا۔  یوں ہمارے ارمانوں پر اوس پڑگئ۔ 

کل تو خیر شام کو ہی ہال ہال کار مچ گئ کہ سعودیہ میں روزہ ہوگیا، انڈونیشیا سے بھی ایک بی بی نے میسج کرکے کنفرم کردیا کہ ہمارے بھی روزہ ہے، ہیں جی

علامہ رضا مرزا کا بولونیا سے فون آنا اور چاند رات کی مبارک و پپیاں ہیں جی، یہ علامہ بوت مزاکیہ واقع ہوئے ہیں، ہیں جی

میاں سلام شانی صاحب کا میرپور آزاد کشمیر سے فیسی بکی پیغام آیا ہے کہ اگر آپ آج عید کررہے ہیں تو عید مبارک اور اگر نہیں تو ایڈوانس میں قبولئَے۔  مطلب کل ہم تکلیف نہیں کریں گے  ہیں جی۔ 

ہمارے مامون جان راجہ بابر خان البزرگ الصغیر جو ہم سے عمر میں 3 ورے چھوٹے ہیں، مگر چونکے رشتہ میں ماموں ہیں تو ہیں، نے مفصل بتایا کہ کل عید کررہے ہیں بعد از 30 روزے، جبکہ ہم 29 کے بعد آج بھگت چکے، ہیں جی

لنڈن کزن کو فون کیا تو ادھر سے خبر ملی کہ بھائی خیرمبارک، ہم بھی آج ہی عید کررہے ہیں، ہماری اسٹریٹ کی تین مساجد سے آج عید کا اعلان ہوا، جبکہ دو نے کل پاکستان کے ساتھ کرنی ہے، مطلب وہ پکے پاکستانی ہوئے، ہیں جی

سنا ہے کہ گلف کے کچھ ممالک میں بھی عید مبارک کل ہی ہوگی، جبکہ پاکستان میں بھی سرکاری عید کل ہے مگر، کچھ شمالی علاقاز میں چاند دیکھنے و عید کرنے کی شنید ہے۔ 

اب اگر عید دو مختلف دنوں میں ہوگی تو خطبہ بھی دو دن ہی ہوگا، ۔ ہین جی
ایسے میں اپنے یاسر خوامخواہ جاپانی صاحب جی اس صورت حال کےلئے عیدین کا لفظ استعمالا تو برا کیا کیا، مان لیا کہ پہلے یہ لفظ عیدین  دو عیدوں مطلب عیدالفطر اور بقرہ عید دونوں کےلئے اجتمائِ طور پر استعمال ہوتا تھا اب اس لفظ عیدین کو اس نئی عیدوں والی صورت حال پر بھی استعمالا جاسکتا ہے۔ 

سنا ہے کہ ولایت میں  کسی کونسل میں مسلوں نے درخواست دی کہ عید والے دن ہمیں چھٹی ہونی چاہیے، کونسل والوں نے کے انکار پر خوب شور اور ہنگامہ مچا، یہ جلوس اور احتجاج کہ ہماری مذہبی آزادی پر روک لگائی  گئ ہے، مئیر نے کچھ لوگوں مطلب اپنے اپنوں سیانوں سیانوں سے صلاح لی، مگر بات نہ بنی احتجاج بڑھتا جاتا، مگر پھر وہاں پر ایک دھاگہ مولبی ق نمودار ہوئے اور مبلغ فیس وصول پانے کے بعد مشورہ دیا، اس مشورے کے مطابق مسلوں کو کہا گیا کہ چلو ٹھیک ہے، دسو فیر کس دن عید کرنی؟؟ تم سب متفقہ طور پر بتلادو کہ کس دن تمھاری عید ہوگی، ہم چھٹی کردیں گے بمعہ تنخواہ، اس بات کو کتنے ورے ہوگئے مگر نہ مسلوں کا ایک عید پر اتفاق ہوا، نہ پھر چھٹی کی بات ہوئِ۔

اللہ فرماتا ہے وعتصمو بحبل اللہ جمیعا ولاتفرقو

اللہ بادشاہ جی جو مرضی فرمائے ہم کون ہوتے ہیں دخل دینے والے مگر تفرقہ ہم نے کرنا ہے چاہے وہ چاند دیکھنے پر ہو، کہ عید منانے پر، روزہ پر ہو کہ درود شریف کو باآواز بلند وہ زیر لب پڑھنے پر، نماز ہاتھ چھوڑکر پڑھنے پر اور باندھ کر، 
رفع یدین کرنے اور نہ کرنے پر بھی۔ 

جب ایسا ہوگا تو فیر عید کی نماز سنگین کے سائے تلے ہی ہوگی۔ اللہ خطبہ سننے اور سنانے والوں کے علم اور عقل میں اضافہ کرے اور انکو بم بلاسٹ سے بچائے، اور بعد از خطبہ اپنے گھر تک بحفاظت پہنچاءے، آمین۔ ہم اللہ کی مانیں یا نہ مانیں مگر اللہ تو ہمارا ہے ہماری ضرور سنے گا۔ ہیں جی۔ 

اب چونکہ آپ پڑھتے پڑھتے یہاں تک پہنچ چکے ہیں تو آپ کو بھی عید مبارک ، بھلے آپ نے آج والے مسلوں کے ساتھ کی ہے یا کل والے مسلوں کے ساتھ کررہے ہیں، عید عید ہی ہوتی ہے، تو فیر عید مبارک ہیں جی



مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش