ہفتہ, نومبر 19, 2016

گورا گاڑی کا حادثہ اور معشوقیں

منگل کو البینیازیگو ایک دوست کے میڈیکل اسٹور پر گیا۔ سڑک کے دوسری طرف گاڑی کھڑی کی، جہاں پر سفید لکیریں لگی ہوئی باقاعدہ پارکنگ تھی، جو کہ مفت ہوتی ہے، اور اسکو دیکھ کر ہی ہمارا دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔ ورنہ نیلی لکیروں والی پارکنگ بھی ہوسکتی ہے۔ جو سرخ آنکھوں والے جن کی طرح گھوررہی ہوتی ہے۔ یورپ میں “فری فنڈے” کی پارکنگ کا مل جانا بندے کی خوش قسمتی کی علامت ہے۔

ادھر کوئی دو گھنٹے تک بیٹھ کر “گلاں ماردے” رہے۔ ایریکا اپنی پرانی دوستوں میں سے ہے۔ میرے پاس بھی کافی فارغ وقت تھا۔ ایک دوسرے کے ساتھ اپنے معالجاتی تجربے شئر کرتے رہے۔ ایک دو نئی ادویات پر بھی بحث ہوئی، میں نے اسے اپنے زیر استعمال “ونکا مائیر” والے بال اگانے کے فارمولے کے بارے بتایا کہ کس طرح کام کرتا نظر آرہا ہے۔ اور میرا گنجا پن دور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پس اگر یہ کام کرگیا تو میں نے بالوں کو اگانے والے بابے کی طرح اپنے آپ کو اسپیشلسٹ قرار دے لینا ہے۔ سنا ہے اس شعبہ میں بہت “ کمائی “ ہے۔ مطلب “آم کے آم اور سونے کے دام”۔

بدھ کے روز صبح گھر سے نکلا ، گاڑی کے پاس پہنچاتو دیکھا تو گاڑی کی ونڈ اسکرین پر ایک پوسٹ اٹ پڑا ہوا تھا، وائیپر کے نیچے دبا ہوا۔ اس پر 
یہ تحریر تھی: بے احتیاطی سے آپ کی گاڑی کو”ٹھوک” دیا ہے۔ نیچے فون نمبر اور ایک نام لکھا ہوا تھا۔

لوجی فوراُ خیال آیا کہ کسی نے رات کو ٹھونک دی ہے۔ کوئی بچارا نیند کا مارا کام کرگیا، یا پھر "کوئی ٹُن" ہوگا۔
 پر دیکھو جی گورے کی تربیت اور اچھائی کہ اس نے “چٹ” چھوڑ دی ہے۔ فوراُ یہ خیال بھی آیا کہ اگر پاکستان میں ایسا ہوتا تو اول تو مارنے والا چپکے سے نکل لیتا، اور اگر کوئی دیکھ بھی لیتا تو بھاگ لیتا۔ پکڑے جانے پر اسکو کُٹ بھی پڑنی تھی۔ اور خرچہ بھی بھرنا پڑتا۔ پر گورے کو اپنے سسٹم پر اعتماد ہے۔ کہ انشورنس نے پیسے بھرنے ہیں۔

میں نے گاڑی کو آگے پیچھے سے دیکھا، تو کچھ کچھ نظر نہیں آیا کہ کدھر سے لگی اور کیا نقصان ہوا۔ پھر دیکھا کہ سامنے والے مڈگارڈ پر نیچے دھند والی لائیٹ کے ساتھ ایک ہلکا سا “چیر” آیا ہوا ہے۔ کچھ خاص نقصان نہ تھا۔ میں نے کہا چلو جی کچھ نہیں ہوا۔ چلو چھڈو پراں۔ ہیں جی۔ خیر ای اے۔ پرانی گاڑی ہے، کوئی گل نہیں۔


کل اس نمبر پر تجربہ کے طور پر فون کیا تو جواب ملا کہ میں تو کال کا اتنظار کررہا تھا۔ پریشان تھا کہ وہ “چٹ” کہیں ہوا میں ہی نہ اڑگئی ہو۔ بہت پریشان تھا میں، کہ منگل کو حادثہ ہوا تھا اور وہ بھی البیانیزیگو میں۔، میں نے بہانہ کردیا کہ مصروفیت کی وجہ سے فون نہ کرسکا۔ ۔ کہنے لگا کہ آپ کسی ڈینٹر سے پتا کروائیں
کتنا خرچہ آتا ہے اگر زیادہ ہوا تو انشورنس بھر دوں گا نہیں تو کیش دے دوں گا۔


آج صبح ایک ڈینٹر سے پتا کروایا تو اس نے کہا کہ مڈگارڈ تبدیل ہوگا 650 یورو کا خرچہ ہے۔ پھر ایک اور سے بات ہوئی تو کہنے لگا اس کو “جیل” لگا کر مرمت کردوں گا ، 200 یورو میں ہوجائے گا۔

میں نے میسج کردیا۔ جواب آیا کہ چار بجے ملیں جہاں آپ کہیں۔ میں نے اسی علاقہ میں ایک بار کا بتایا۔ ، میں البینیازیگو پہنچا۔ بندہ ادھر موجود تھا۔ اگلے   اس بندے نےمعذرت کی، کہ آپ کو خوامخواہ میں پریشانی ہوئی۔ اچھا چلو جو ہوا سو ہوا۔ اب چلیں بار میں کافی پیتے ہیں اور بات کرتے ہیں۔

میں نے کافی کا آرڈر کیا دونوںکےلئے  اور اس سے پوچھا: 
تو بتائیں جناب کیا کرنا ہے، میں نے کہا کہ بہتر ہے پیسے دو اور مرمت کروا لیتا ہوں مڈگارڈ کی، بدلی کروانے کی بجائے۔ اس نے  فوراُ 200 یورو نکال دئے، تب تک میں دو عدد کافی آرڈر کرچکا تھا۔ 

اور اس سے پوچھا: ہوا کیا تھا؟؟ ادھر تو پارکنگ بھی کافی تھی، میرے خیال میں۔ کہ زیادہ رش بھی نہ تھا۔ پھر؟؟
کہنے لگا کہ ہاں ایسے ہی ہے۔ ہم نے ڈاکٹر کے پاس جانا تھا۔ پاس ہی، ادھرگئے تو آپ کی گاڑی کے سامنے ایک گاڑی کی جگہ خالی تھی اور پھر ایک گاڑی کھڑی ھی۔ اسکے آگے تین گاڑیوں کی جگہ خالی تھی۔

تب تک اسکی آواز بدل چکی تھی۔ کہنے لگا میرے ساتھ میری معشوقہ بیٹھی ہوئی تھی۔ اور پتا ہے میں نے گاڑی کہاں کھڑی کی؟؟ جہاں پر ایک گاڑی کی جگہ تھی۔ وہ کہ کہنے لگی، پیچے پیچھے اور پیچھےاور ، اور ، اور ، اور پھر پتا اس وقت چلا جب آپ کی گاڑی کو ٹھوک چکا تھا۔ اب میں اتنا برا بھی نہیں کہ بھاگ جاؤں، میں نے، آپ کی گاڑی پر ایک پیغام چھوڑا اور کال کا انتظار کرنے لگا۔ پر میں ایک بات بتاؤں آپ کو، بندے کو یہ معشوقیں ہمیشہ مرواتی ہیں۔

چلو سستے چھوٹے،  ہم نے کافی پی، اور ایک دوسرے کے ساتھ معذرت کرتے ہوئے اپنی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔ اچھا جی، پھر ملیں، گے، ضرور، پھر سے معذرت۔ ہیں جی


مکمل تحریر  »

ہفتہ, جون 18, 2016

بارسیلونہ، روم اور راولپنڈی

اکتوبر میں بارسلونہ فارماسیوٹیکل ایکسپو میں  جانے کا پرو گرام ہے، ایسے ہی آج صبح دیکھ رہا تھا کہ ادھر ائیرپورٹ سے ایکسپو اور پھر شہر کا کیا نظام ہے ٹرانسپورٹ کا۔ اچھی ویب  سائیٹ ہے جوہمیں بہت سی معلومات دیتی ہے۔  اگر بارسیلونہ میٹرو کی تفصیل میں جایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ 1920 میں بنی تھی، اسکی گیارہ لائینں ہیں  113 کلومیٹر لمبائی ہے اور 148 اسٹیشنز ہیں۔ ایسے ہیں جیسے جہلم سے اسلام آباد کوئی جائے۔ 

مطلب یہ سب کچھ آج سے  صدی قبل، چار برس باقی ہیں  2020 آنے میں، ہمارے ہاں شاید تب تک کوئی سب وے میٹرو ٹرین  ایک لائین کی ہی بن ہی جائے۔ اللہ کرے۔ 


ہمارے ہاں اسکے جواب میں ایک بس سروس شروع ہوئی جسکو میٹرو بس کہا گیا، اور یار لوگ اس پر بھی احتجاج کرتے ہیں کہ جنگلا بس چلا دی ہے۔ آہو ہو ہو، چنگچی والے غریبون کا کیا ہوگا۔ مگر نہیں سوچتے کہ دریا پر  پُل بنانے سے کشتی بانو ں کا بھی رزق جاتا ہے، تو پھر پُل بھی نہ بنایا جائے؟؟  خیر یہ سب تو پوری دنیا میں ہی چلتا ہے۔  
شاید بارسلونہ میٹرو کے بارے بھی ایسے ہی ہوتارہا ہوگا، کچھ نعرے بازی تو ہوتی ہی ہے۔

چین جاپان اور فرانس میں تیز رفتار ٹرینیں چلانے کا مقابلہ ہے، اٹلی میں بھی چلارہے ہیں، کچھ برس سے پراجیکٹ پر کام ہورہا ، نئی  ریلوے لائنیں بچھ رہی ہیں اور نئے پل بھی بن رہے ہیں۔  اور جگہ جگہ no tavکے سلوگن  بھی لکھے ہوتے ہیں، مطلب ادھر بھی کچھ لوگ ہیں جو اس طرح کے میگا پراجکیٹس کی مخالفت کرتے ہیں۔ 

میں اٹلی کے شمال میں رہتا ہوں اور مجھے پاسپورٹ کی تجدید کےلئے روم پاکستان ایبمیسی میں جانا ہوتا ہے ۔ روم یہاں سے تقریبا چھ سو کلومیٹر ہے ، پہلے اسکےلئے تین طریقے اختیار کئے گئے ہیں ، مختلف اوقات میں۔ 

  ایک بعذریہ نائیٹ ٹرین، مطلب رات کو نو بجے ٹرین پکڑی، گیارہ بجے ویرونا سے بدلی کی اور پھر صبح پونے سات بجے، روم تیرمینی اسٹیشن پر جا منہہ دھویا۔ اور وہاں سے دو بسیں بدلی کرکے پاکستان ایمبیسی پہنچے۔پاسپورت تو رینیو وہوگیا  پر دوراتوں  کا جاگراتا اور سفر کی طوالت اگلے دو دن کام کرنے کے قابل نہیں چھوڑتی۔

دوسرا طریقہ ہوائی جہاز کا سفر ہے تھا، بظاہر سستا محسوس ہوا، کہ یہ ڈیڑھ گھنٹے کی فلائیٹ ہے، چلوجی، مگر یہ کیا، چالیس منٹ پر ائیرپورٹ ہے، لوکل فلائیٹ ہے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے پہنچنا کافی ہے مگر کسی غیرمتوقع ٹریفک بلاک میں پھنسنے کی صورت میں دوگھنٹے کا وقت لے کر نکلنا مناسب ہے۔صبح سات  بجے کی فلائیٹ تھی، بس تین بجے اٹھ کھڑے ہوئے، چاربجے گھر سے نکلے اور پانچ بجے  ائیر پورٹ پر پہنچ کر گاڑی پارکنگ میں چھوڑی اور انکو 12 یورو یومیہ کے حساب سے پیسے دے کر جہاز پکڑنے نکلے۔ اب ادھر دو گھنٹے "میں جہاج نوں اڈیکاں"  پھر روم پہنچے تو معلوم ہوا کہ ائیرپورٹ سے تیرمینی  ریلواسٹیشن تک پہنچنے کےلئے شٹل بس ہے جو ایک گھنٹہ لیتی ہے اور اسکو چلنے میں مذیدادھ گھنٹہ ہے۔ یوں صبح 5 بجے کے گھر سے نکلے ہوئے گیارہ بجے روم اسٹیشن پر پہنچے اور وہاں سے ایمبیسی کو فون کرنا پڑا کہ جنابو لیٹ آویں گے، بھلے مانس تھے کہنے لگے آجاؤ، گیٹ بند ہوا تو فون کردینا کھولوا دیں گے۔ یہی کرنا پڑا۔ اسکے بعد حساب لگایا تو ہمارے پاس کل تین گھنٹے تھے، پاسپورٹ آفیسر کو عرض کیا کہ جناب 7 بجے کی واپسی  فلائیٹ ہے۔ کمال شفقت سے فرمانے لگے، اہو، اچھا کوئی کوئی بات نہیں، آپ کو جلدی فارغ کردیں گے۔ واقعی ہم سب اہل خانہ ایک گھنٹہ بعد فارغ تھے۔ وہاں سے ٹیکسی پکڑی اور ریلوے اسٹیشن اور پونے چار بجے والی بس پکڑ کے پونے پانچ بجے ائیرپورٹ موجود تھے، اس دوران ہمارے پاس وقت صرف ایک سینڈویچ کھانے کا تھا، پون گھنٹہ،  پھر ائیرپورٹ پر پہنچ کر فلائیٹ کا انتطار اور رات کو جب گھر پہہنچے تو تھکن سے چور تھے، دوسرے دن سب کو بخار چڑھا ہوا تھا۔ اسٹریس اور تھکن کی وجہ سے۔بس اس سے توبہ ہماری۔ 

تیسرا طریقہ یہ اختیار کیا کہ گاڑی پر چلتے ہیں، ایک دوست ڈاکٹر سمیر صاحب ہیں، ان سے بات ہوئی کہنے لگے میرا بھی کام ہے، اچھا جی دو اور پکڑو تاکہ خرچہ فی کس تقسیم ہوکر کم ہوجائے۔ اب کے 6گھنٹوں کا سفر ایک طرف کا کرنا تھا، مطلب نوبجے ایمبیسی پہنچنے کےلئے، صبح تین بجے، روانگی، بس جی ہمہ یاراں جنت ہمہ یاراں بہشت۔ وہی نو بجے ایمبیسی پہنچے، بارہ بجے فارغ ہوئے، دو گھنٹے کھانا وغیرہ کھایا اور واپسی کی راہ لی، عشاءکے وقت گھر پہنچے، کمر تختہ ہوگئی تھی بیٹھ بیٹھ کر، ڈاکٹرسمیر صاحب کی ہمت جو اتنی طویل ڈرائیونگ کرگئے۔ خیر اتنا برا بھی نہیں۔ 

اس بار پھر جانا ہوا تو تیز رفتار ٹرین کا علم ہوا،  یہ نئی نئی سروس ہے اڑھائی سو کلومیٹر فی گھنٹہ میں نے پھر ڈاکڑسمیر صاحب سے بات کی تو وہ بھی تیار تھے، ویلنٹائن ڈے پر آفر لگی ہوئی تھی کہ ایک ٹکٹ میں دو بندے سفر کرسکتے ہیں۔ بس ہم دونوں نے ایک دوسرے کو اپنا ویلنٹائن مانا اور چڑھ گئے ٹرین پر، صبح پونے سات بجے کی ٹرین تھی اور ساڑے نو بجے ہم روما تیرمینی اسٹیشن پر تھے، مزے سے ایمبیسی پہنچے ایک بجے فارغ ہوئے اور اب ہمارے پاس رات کو نو بجے تک وقت
تھا، بس پھر میٹرو اور ہم بلکہ پیدلو پیدلی، روم کلوسیو۔ پیاسا ہسپانیہ، پیاسا تریوی۔ پیاسا وینیزیا اور ویتوریانو (اس بارے آپ پہلے پڑھ چکے ہیں، اگر نہیں تو یہاں کلک کرکے پڑھ لیں)۔ سے ہوتے ہوئے پھر سے میٹرو پکڑ کر ویتی کن سٹی پہنچے، پاپائے روم کی زیارت تو نہ ہوسکتی پر چلو۔
مزے سے رات نو بجے ٹرین پکڑی اور ساڑے گیارہ بجے گھر تھے۔

نہ کھجل خراب ہوئے نہ بے خوابی اور نہ ہی تھکن، بلکہ بہت خوش بھی تھے، کہ جنابو اس بار پھر روم کی اچھی سیر ہوگئی، کچھ پرانی دیکھی ہوئی چیزیں کچھ نئیں دیکھ لیں۔ گویا تیز رفتار سفر کے ذرائع ایک عمدہ سہولت ہیں۔

مجھے لاہور میں زیادہ جانے کا موقع نہیں ملا مگر راولپنڈی تو اپنا دوسرا گھر ہی سمجھو۔ موتی محل سے اسلام آباد جانا کوئ خالہ جی کا گھر نہ تھا۔ تین سے چار گھنٹے اور وہ بھی ہائی ایس میں بندہ کبھا ہوجاتا تھا۔ اب بتانے والے بتاتے ہیں کہ سفر آسان بھی ہوگیا ہے  اور کم وقت میں بندہ اپنی منزل پر پہنچ سکتا ہے۔ رزائع رسل و رسائل قوموں اور ملکوں کی ترقی میں اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں، جتنے ڈیم اور اسکول، میں تو اس رائے پر ہوں کہ جو لوگ، ذرائع آمدورفت اور ڈیموں کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ملک و قوم کے خیرخواہ نہیں۔ ہاں اسکول ہسپتال اور دیگر ضروریات پر حکمرانوں کو ضرورت کھینچ تان کیجئے، مگر یہ مت کہیں کہ میٹرو بس اور سرکلر ریلوے کیوں اور ہسپتال کیوں نہیں۔


یہ کہئے کہ انڈرگرائونڈ بھی چلاؤ اور ہسپتال بھی اور اسکول بھی،  کھیل کے گرائونڈ بھی اورتفریحی پارک بھی۔ انصاف کی عدم فراہمی پر شور کرنے کی ضرورت ہے، رشوت اور قربا پروری  کی طرف توجہ دینے کی شدید ضرورت ہے۔ صفائی اور پینے کے پانی پر کھپ ڈالیں، اور جو کچھ آپ کے دماغ شریف میں آتا ہے اس پر بھی ۔ 



مکمل تحریر  »

ہفتہ, فروری 13, 2016

سفرنامہ روم۔ ویتوریانو Vittoriano

ویتوریانو Vittoriano   المشہور قیصر روم کا محل

اطالیہ  یا اٹلی کا  "انتخابی نشان"  یہ عمارت جوکہ منصوب ہے،اطالیہ  کے پہلے بادشاہ ویتوریو ایمانیویلےدوئم   Vittorio Emanuele II کے نام سے۔  

دیکھنے میں یہ ایک بہت بڑا محل ہے، عام  طور پر پاکستانی اسے  قیصرروم کا محل  کہتے ہیں ۔ یہ ایک  یادگاری عمارت ہے، جس
کو ویتوریانو یا پھر سرزمین  کی قربان گاہ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ایک قومی یادگار ہے جو اٹلی کے دارالحکومت روم میں واقع ہے۔ اور مشہور اطالوی ماہرتعمیرات Giuseppe sacconi کا  ڈیزائنر کردہ  ایک شاہکار ہے۔ اس عمارت کا نام  "ویتوریانو" اطالیہ کے پہلے بادشاہ  ٗویتوریو ایمانیولے دوئم  کے نام سے لیا گیا ہے۔  اس بادشاہ نے آج کے اطالیہ متحد کیا تھا جو بہت سی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ بس پھر کیا ہے اطالیہ میں ہر شہر میں ان صاحب کے نام کی مرکزی گلی ہوتی ہے،  کوئی کھلی سی سڑک، اسی طرح دالخلافہ میں انکے نام کی یادگار تعمیر کردی گئی، جو ریاست عوام اور حکومت کی علامتی طور پر نمائندگی کرتی ہے۔ 

جب 1921 میں یہاں  ایک گمشدہ سپاہی کو دفن کیا گیا ، تب اس عمارت کو ایک نئی علامتی حیثیت ملی، اس مقبرے میں پہلی جنگ عظیم  کے دوران  ھلاک ہونے والے ایک ایسے سپاہی  کی نعش کو دفن کیا گیا جسکی شناخت نہ ہوسکی۔ ، یوں  حقیقتاُ   یہ  عمارت  اطالیہ کی قومی،  ریاستی اور سرزمین کی نمائندگی کے طور پہچانی جاتی ہے۔  یہ عمارت اپنی پوری تاریخ  میں کبھی بھی کسی بھی بادشاہ کا محل نہیں رہی۔ اور نہ اس میں کبھی کسی نے سرکاری یا غیرکاری طور پر ہائش رکھی ۔
جب  1878 میں موجودہ اطالیہ کے پہلے بادشاہ کی وفات ہوئی  تو  ایک یادگاری عمارت کی تعمیرکا فیصلہ کیا گیا۔ جو سرزمین  اطالیہ کی نمائندگی کرے اور اسکی نشاط ثانیہ کی علامت ہو۔ یوں 1880 میں اس عمارت کی تعمیر کےلئے باقاعد منصوبہ بندی کا آغاز ہوا،1885 میں اسکا سنگ بنیاد اس وقت کے بادشاہ Umberto I نے رکھا ، 1888میں اسکی تعمیر کا پہلا حصہ مکمل ہوا جبکہ 1927  تک اس میں وقتاُ فوقتاُ تبدیلیاں  و اضافے ہوئے۔  1911 میں  اس عمارت کا باقاعدہ افتتاح کردیا گیا تھا۔

اس عمارت کو جدید اطالیہ  کی علامت بھی کہا جاتا ہے، وہ  اطالیہ جس کو ہم جانتے ہیں کیونکہ یہ قدیم اور المشہور سلطنت روم کے شاہی محلات کی بغل میں واقع ہے، اسی طرح پا پائے روم کا علاقہ بھی ادھر پاس ہی ہے اور اوپر "چو بارے" سے دکھائی دیتا ہے۔ اگر آپ کو کوئی شک ہے تو میری فیس بک پر شیئر  کردہ  ویڈیو  دیکھ کر اپنے علم میں مزید "بالٹی بھر" اضافہ فرماویں۔ اور اگر آپ کو میرے علم پر بھی شک ہے تو وصیت لکھوا کر، خود اطالیہ کا ٹکٹ کٹوائیں،  روم تشریف لائیں، اس عمارت کے چو بارے پر جائیں،  کلمہ پڑھیں اور نیچے چھلانگ لگائیں۔ انشا اللہ لو گ آپ کو پا پائے روم کے محلے میں پائیں گے اور عبرت حاصل کریں گے۔

اس عمارت کی اونچائی 81 میٹر ، چوڑائی 135 میٹر ہے ، جبکہ کل رقبہ 17000 اسکوائر میٹر ہے۔  اسکی تعمیر میں بوتیچینو سنگ مرمر کا استعمال ہوا ہے۔ جو شمالی اطالیہ کے شہر بریشیا کے گاؤں بوتیچینو  Botticino  سے لایا گیا ہے اور  اس کو  آسانی سے ڈھالا  جا سکتا ہے جبکہ یہ سفید سنگ مرمر سے کافی مشابہہ ہے۔

باہر سے دیکھنے پر پہلی نظر میں یہ ایک سادہ ، پر وقار اور روشن  عمارت دکھائی دیتی ہے۔ چونکہ یہ ایک بہت بڑی عمارت ہے اس  لئے اس کا بغور مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اسے بہت پیچیدگی  اور نفاست سے تعمیر کیا گیا ہے۔
بظاہر اس عمارت میں سب اہم نظر آنے والی سیڑھیاں ،  سامنے ایک طویل  دیوار جسکے ایک طرف سے دوسری طرف تک
  سنگ مرمر پر ابھرے  ہوئے  مجسمے، انکے درمیان میں  اور انکے اوپر بڑے بڑے ستونوں پر مشتمل ایک بہت بڑا  "بر آمدہ"  ہے ، یہ ایک U  شکل کی تعمیر ہے،  اور دونوں کونوں میں چھت  پر گھوڑوں والے مجسمے نصب ہیں ، جو رومن کے زمانے سے ہی طاقت کی علامت سمجھے جاتے ہیں، جبکہ عمارت کے عین درمیان میں   اگر آپ عمارت کے سامنے کھڑے ہوں تو آپ کو سب  سے پہلے سیڑیوں کے آغاز میں ہی دائیں بائیں دو ستونوں پر کانسی  کے بنے ہوئے فوجیوں  کے علامتی مجسمے  اور رومن  دیوی  Minervaکے مجسمے دکھائی  دیں گے۔

سنگر مرمر کی سیڑھیوں  کو چڑھ کر آپ عمارت کے مرکز میں کھڑے ہوتے ہیں  تو آپ کے سامنے ، عمارت کے عین درمیان میں  ایک بلند بالا ستون پر بادشاہ   کا گھوڑے پر سوار مجسمہ کھڑا ہے۔ اس کو آج کے اطالیہ کے ھیرو کے طور پر مانا جاتا ہے۔  جبکہ اسے دائیں بائیں کچھ مقدس مجسمے ہیں۔ بادشاہ کے مجسمے کے عین نیچے ایک  طویل سنگ مرمر کی دیوار ہے جسکے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کنندہ کاری سے ابھار کے  لوگوں کے تسلسل  سے مجسمے بنا کر لوگوں اور عوام کی نمائندگی کی گئی ہے۔ اس تسلسل کے درمیاں میں ایک چوکھٹ بنا کر اس کے بیچ ایک بڑا سا فوجی کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے جس کے عین نیچے  " گمشدہ فوجی"  کی قبر ہے اس پر پھول  چڑھے ہوتے  ہیں اور اطراف میں دومسلح فوجی ساکن پہرہ دے رہے ہیں ، انکے سامنے دو ستونوں پر آتشدانوں میں آگ جل رہی  ہے جبکہ دنوں ستونوں پر دو سطروں میں لکھا ہوا ہے " پردیس میں پائے جانے والے اطالویوں اور مادر وطن کے نام"۔


اطراف میں سیڑھیاں ہیں جن سے آپ اوپر کی منزل پر جاتے ہیں، بیرونی دیواروں کے ساتھ ساتھ اٹلی کے مختلف صوبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے  مجسمے ترتیب سے نصب ہیں۔

دائیں ہاتھ ھال سے آپ اندر جاتے ہیں اور درحقیت یہ ایک تین منزلہ عمارت ہے پہلی منزل پر استقبالیہ اور دوسری منزل پر
جہاں سے آپ جھانک کر پہلی منزل کو بھی دیکھ سکتے ہیں ، پر اطالوی نشاط ثانیہ کا میوزیم موجود ہے، جسکے اندر توپیں اور جنگی ہتھیار رکھے ہوئے ۔ جبکہ دائیں ہاتھ میں آپ باہر چھت پر تشریف لے جا سکتے ہیں اور ارد گرد شہر کا نظارہ کر سکتے ہیں، ایک طرف آپ کو پاپائے روم کے محلات تو پچھلی طرف  قیصر روم کے زمانے کے محلات و کھنڈرات دکھائی دینگے۔ جبکہ عمارت کے سامنے جدید روم ہے۔ جدید روم بھی بہرحال کافی پرانا ہے۔ ادھر قدیم و جدید میں یہ فرق ہے کہ 2ہزار برس یا اس سے قبل کی تعمیرات قدیم اور پانچ سات سو برس والی عمارات جدید ہیں۔

 تو جنابو، یہ قیصر روم کا محل جو ہے یہ روم کے تینوں ادوار کے بیچ میں  پیاسا وینزیا  کے مقام پر کھڑا ہے، پیچھے قدیم سلطنت روم کے کھنڈرات اور دائیں طرف پاپائے روم کے پاپائی محلات،  بائیں جانب medioevo  کے زمانے کے محلات ہیں، بس اس مرکزی مقام پر بہت سی medioevo کے زمانے کی عمارات کو گرا کر یہ  شاندار عمارت تعمیر ہوئی۔ آج اطالیہ میں ہونے والی قومی دنوں کی تقریبات اور پریڈ وغیرہ اسی عمارت کے سامنے ہوتی ہے، صدر صاحب کا قوم سے خطاب بھی ادھر سے ہی ہوتا ہے

اوپر کے برآمدے میں جانے کا ہمارے پاس وقت بھی نہ تھا اور بارش کے باعث حوصلہ بھی۔  بہرحال بہت صاف ستھرا  لشک پشک قسم کا ماربل کا کام اندھے کو بھی دکھائی دے رہا تھا۔ بلکل ایسے ہی عمارت کے سامنے والے اوپر ٹیرس کی طرف جانے کا بھی نہ سوچا۔ سنا ہے کہ لفٹ کا کوئی  "جغاڑ " بھی ہے۔ وللہ اعلم ، آپ کوشش کر لینا موقع ملا تو۔ یا پھر صبر کریں کہ اگلی بار کبھی ہمارا چکر لگا اور قت بھی ہوا تو ۔


اگر آپ کو مذید  طالبعلمی  کا  "چسکا"  چڑھا ہوا ہے تو " سائیں گوگلو" سرکار سے رجوع فرمائیں۔ تاکہ آپ کے علم میں مذید اضافہ ہوسکے۔ 
۔



مکمل تحریر  »

جمعہ, جون 05, 2015

چاند چڑھانے پر جھگڑا

آج کا جمعہ کا خطبہ بہت لمبا تھا۔ مولوی جی نے سارا وقت چاند دیکھنے کےساتھ ساتھ سورج اور چاند کے اپنے مقررہ محور میں رہنے کی آیات و احادیث  بیان فرمائیں۔

انتشار امت کا ذکر فرمایا۔ چانددیکھ کر روزہ رکھنے اور چاند دیکھ کر عید کرنے والی حدیث کو بیان فرما کراجہتاد امت کا بیان بھی فرمایا، اور پھر سائنسی ترقی کا بھی بیان فرمایا۔ امت مین انتشار پھیلانے سے سختی سے منع کیا، پھر فرمایا کہ علماء یورپ کی کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ پہلا روزہ 18 جون کو بروز جمعرات ہوگا انشاء اللہ۔ تو جناب تمام اہل اسلام کو شعبان کی ساعتیں مبارک اور من تقبل رمضان۔


ہیں جی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اجتماع امت میں خیر ہے۔ امت کو چاہئے کہ علماء کے اس فیصلہ پر جمع ہوجائے۔ ہم کسی ملک بادشاہ یا حکمران کو نہیں مانتے۔

ہیں جی۔

پس ثابت ہوا، اجتماع امت صرف وہ ہے جس میں امت المولبیان الیورپ کے پیچھے چلے۔ نہ کہ امت کا اجتماع اس حدیث مبارکہ پر ہے کہ چاند دیکھو اور روزہ رکھو چاند دیکھو اور عید کرو۔ نہ نظر آئے تو قیاس کرلو۔

پاکستان میں پھر بھی کچھ نہ کچھ تردد کرتے ہیں کہ کچھ الموبیان القدیم  جو یہ موٹی سی دبیز شیشوں والی عینک لگائے موٹے حرفوں والا قرآن مجید پڑھتے ہیں، چھت پر چڑھ کر چاند دیکھ رہے ہوے ہیں، جبکہ حالت انکی یہ ہوتی ہے انکو اپنی عینک تک دکھائی نہیں دیتی۔ 
بندہ کہے مولانا جی کسی جوان " منڈے " کو ہی دوربین دے دو، شاید اسکو چاند نظرآبھی جائے۔ مگر یہ شک  ہی کرتے  ہیں کہ اس نے ضرور ساتھ والی چھت پرچاند دیکھا ہوگا۔ 

وللہ اعلم میں کوئی عالم دین نہیں ہوں مگر دین کے معاملے میں  المولبیان کے پیچھے چلنے کی بجائے سنت نبویﷺ پر عمل کرنا بہتر سمجھتا ہوں، چاند دیکھو، نہ نظرآئے تو کیلنڈر دیکھ لو ، یا المولبیان کے پیچھے چل پڑو۔ 

مکمل تحریر  »

اتوار, مئی 17, 2015

ہنزہ خوبانیاں اور کینسر

تو جنابو حاضر ہے داستان ہنزہ، 
Hunza apricotes and cancer 
یہ داستان امیر حمزہ نہیں ہے، نہ ہی اتنی پرانی ہے اور نہ ہی اتنی تاریخی  اور نہ ہی مذہبی ۔  بلکہ یہ داستان اٹلی سے شروع ہوتی ہے اور اٹلی میں ہی ختم ہوجاتی ہے۔ 
ڈاکٹر  "کاجانو"  بہت ماہر مالج ہیں، ایک فیملی ڈاکٹر ہیں وینس کے صوبے میں اور مشہور ہیں کینسر اور ٹیومرز کا نہ
صرف علاج کرنے میں بلکہ ان  امراض میں مبتلا مریضوں کی دلجوئی کرنے میں بھی، انکی ہرممکن خدمت کرتے ہیں، سو کلومیٹر کا سفر کرکے مریض کی دلجوئی کو چلے جائیں گے۔ صرف سرکاری طریقہ علاج پر ہی نہیں بلکہ ہومیوپیتھی ، و ہربل میڈیسن پر کماحقہ عبور رکھتے ہیں اور جہاں ضرورت پیش آئے استعمال بھی کرتے ہیں۔ 
میری ان سے ملاقات  ایک مشترکہ دوست ڈاکٹر جوانی آنجیلے کی وساطت سے ہوئی اور پھر کیا تھا کہ ہم بھی دوست ٹھہر ے، مختلف سیمینارز   و جلسوں میں ملاقات بھی ہونے لگی اور کھانے کی دعوتیں بھی شروع ہوگئیں۔ 
بس جناب  اپریل  میں انکا دعوت نامہ پہنچ گیا کہ ایک کانفرس ہورہی ہے، " خدائی ٹیومرز والے"   مطلب کینسر میں مبتلا مریضوں کی صورت حال، انکی امداد کے کچھ متبادل ذرائع۔  ڈاکٹر کاجانو ، کے علاوہ ایک ماہر نفسیات اورایک ہربل میڈیسن کی ماہر ڈاکٹر بھی تھیں، جو کہ اس صورت حال میں اپنا سالوں پر محیط تجربہ رکھتی ہیں۔  نہ صرف حاضری کا کہا گیا بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ " ہمیں خوشی ہوگئی اگر آپ بھی اس شعبہ میں  اپنے کچھ تجربات کو ہومیوپیتھیک معالجات کے حوالہ سے بیان کریں، جلسہ عام پبلک کے لئے ہے، تاکہ لوگوں کو تربیت دی جاسکے کہ ایسے صورت میں اگر کوئی مریض ہوتو اسکی کیسے معاونت کی جاسکتی ہے۔ میں نے کہہ دیا کہ ادھر میں ایک ایسے خطہ کے بارے بات کروں گا جہاں پر کینسر نہیں ہے۔ 
جلسہ شروع ہوا تو ڈاکٹر کاجانوں  نے اپنے کچھ کیسز بیان کئے، کہان پر مریض کی کیسے مدد ممکن تھی نہ ہوسکی اور کہاں پر کیا کیا گیا۔ آپریشن کے بعد مریض کی دیکھ بھال اور کیموتھیراپی اور ریڈیوتھیراپی کب ضروری ہوتی ہے، اور اسکے اثرات مابعد۔ ان سے بچنے کی تراکیب۔ اسکے بعد سائیکولوجسٹ کی باری تھی۔ ان محترمہ نے بہت ہی جانفشانی کے ساتھ " ذہنی دباؤ ، اسٹریس stress   " کو ٹیومرز کی ایک بڑی وجہ بیان کیا۔ ایک اسٹڈی کا بھی حوالہ دیا کہ 20 چوہوہوں کے دوگرپس کو  پنجروں میں، انفرریڈ شعاؤں کے سامنے رکھا گیا۔ ایک گروپ  عام حالت میں رہتا جبکہ دوسرے گروپ  کے پنجرے کے پاس لومڑی کا پیشاب چھڑکا جاتا، لومڑی کے پیشاب سے چوہے ، بہت خوفزدہ ہوتے ہیں، تو جناب تین ماہ بعد پہلے گروپ کے تین چوہوں میں ٹیومرز پائ گئیں اور دوسرے گروپ کے  16 چوہوں میں، پس ثابت ہوا کہ  اسٹریس فیکٹر ٹیومرز کی پیدائش میں بہت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے، اگر آ پ  ٹیومز یا کینسر سے بچنا چاہتے ہیں تو جنابو اسٹریس سے جان چھڑاؤ، ٹینشن نہ لو نہ دو۔ ۔ 
پھر میری باری آئی اور اسکے بعد ڈاکٹر دے لازاری نے اپنے تجربات اس سلسلہ میں بطریق احسن بیان کئے۔ تو میں نے ہومیوپیتھک معالجات پر بات نہین کی بلکہ اپنی سلائیڈز کےذریعے جلسہ کے شرکاء کو پاکستان کی ہنزہ وادی  hunza vally  میں لے گیا :


وادئ ہنزہ  پاکستان کے شمال میں پائی جاتی ہے، اور اپنے قدرتی حسن کی وجہ سے مشہور سیاحتی مقام ہے۔ اسکے چاروں طرف ہندوکش اور قراقرم سلسلہ کے برف پہاڑ ہیں، گلیشئرز ہیں، معدنیات قدر ت نے اتنی ہی دی ہیں جتنے پھل ، تازہ اور ٹھنڈے پانی کی آبشاریں اور جھرنے، وادی کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔ 
ہنزہ کے لوگ ہندوستانی کالے  نہیں بلکہ نیلی آنکھوں والے یورپین لگتے ہیں، کچھ کا یہ بھی دعوہ ہے کہ یہ کیلاش کی طرح
اسکندر اعظم کے دستوں کی باقیات ہیں، جبکہ کچھ دعوجات کے مطابق یہ شمال مغربی روسی علاقوں  سے تعلق رکھنے والے خضر Khazar  ہیں ، وللہ اعلم، مگر ایک بات جوہ بہت اہم ہے وہ یہ کہ  یہ لوگ طویل قامت ، صاف رنگتے رکھتے ہیں ، نیلی آنکھیں اور سنہرے بال ادھر کی خواتین کے حسن کو چارچاندلگائے پڑے ہیں۔ 
ان کی وجہ شہرت ہنزہ لوگوں کی طویل العمری ہے۔ عام عمر سو برس ہے، جبکہ ایک سو پینتیس چالیس برس کے بزرگ آپ کو گلیوں کوچوں میں بازاروں میں عام دکھائی دیتے ہیں، صرف عمر ہی نہیں انکی صحت عامہ بہت زبردست ہے۔ سوسال کی عمر میں بچے پیدا کرنا انکی وہ خاصیت ہے جو پوری دنیا میں مشہور ہے۔  کینسر ، دمہ ٹی بی۔ سانس کے دیگر امراض، جوڑوں کے درد گنٹھیا اوسٹیوپوروزی  gout and osteoporosi عدم موجود ہے۔  اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب ہنزہ لوگ وادی سے باہر جاتے ہیں تو بیمار پڑتے ہیں ۔ 
ہنزہ لوگوں میں کینسر نہیں پایاجاتا اس بات کا انکشاف  پہلی بار r. Robert McCanison نے  1922 میں امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے رسالے میں کیا تھا۔ اسکی وجہ وہ  یہ قرار دیتا ہے کہ "ہنزہ لوگوں خوبانی کی بہت زیادہ پیدوار رکھتے ہیں، ان کو دھوپ میں خشک کرتےہیں اور اپنی خوراک میں بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ 
پس اسکا جو نتیجہ ہونا تھا وہی ہوا۔ پوری دنیا کے سائینسدان جو طویل عمری  Geriatria پر کام کررہے ہیں ریسرچ کررہے
ہین ادھر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ۔ 
ان لوگوں کے رہن سہن اور عادات کے بارے میں کچھ باتیں یہاں پر آپ سے شئر کرنا خارج از دلچسپی نہ ہوگا۔ 
پانی:  ہنزہ لوگ دریائے ہنزہ کا تازہ اور بہتا ہوا پانی پیتے ہیں ، کوک اور اس قبیل کے دیگرکیمیائی مشروبات استعمال نہیں کرتے۔  دریا کا پانی گلیشرز سے آتا ہے اور معدنیات سے بھرپور ہے۔ اسکے علاوہ اسکی پی ایچ الکلائن Ph   ہے ۔ جبکہ جو پانی باقی عام دنیا میں استعمال ہوتا ہے وہ تیزیابی کی طرف ph  رکھتا ہے۔ 
خوارک: ہنزہ لوگ اپنی خوراک بہت سادہ رکھتے ہیں، سبزیاں، پھل اور دالیں انکی خوراک کا عام حصہ ہیں۔ گوشت کبھی کبھار، بہت کم۔ مطلب عیدو عید۔ 
خوبانی:ہنزہ لوگوں کی زندگی میں خوبانی کا بہت دخل ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ہنزہ وادی میں خوبانی کی بہتات ہے، اور اسکی اہمیت کا یہ عالم ہے کہ کسی ہنزہ فرد کی امارت کا جائزہ اسکی ملکیت میں خوبانی کے پودوں کی تعداد سے ہوتا ہے۔ جیسے ہی بچہ پیدا ہوتا ہے اسکے نام کا خوبانی کا پودہ لگادیا جاتا ہے۔ جبکہ بیٹیوں کےلئے باغ لگائے جاتے ہیں جو انکو جہیز میں دئیے جاتے ہیں۔ 
خوبانی کو دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے اس طرح یہ وٹامن ڈی سے بھرپور ہوتی ہے۔ وٹامن ڈی کینسر کی روک تھام اور عمرکے اثرات کو ذائل کرنے میں اہم کردار اداکرتا ہے۔ 
عام ہنزہ فرد کھانے کے بعد پندرہ سے بیس خوبانیاں بطور سویٹ ڈش ٹھونگ جاتا ہے، اسی طر چائے کے ساتھ بھی خوبانی یا خوبانی سے بنا ہوا کیک یا مٹھائی پیش کی جاتی ہے۔ 


خوبانی کے بادام یا اسکی گریاں apricote kernels پیس کر انکا آٹا بنایاجاتا ہے اور اسکی روٹی اور کیک وغیرہ روز مرہ میں استعمال ہوتے ہیں  جو کہ Amigdalina, vitamina B17 سے بھر پور ہے اور اسکے حصول کا سب سے بڑا ریسورس ہے۔ 
وٹامن بی 17 ایک   glicosidi cianogenetici, ہے جو rosacea کی نسل کے پھلوں کے بیجوں میں پایاجاتا ہے۔ جیسے کہ سیب  آڑو، خوبانی۔ جبکہ ہنزہ کی خوبانی اس نعمت سے مالا مال ہے اور اسکا پوری دنیا میں کوئی ثانی نہیں ہے۔ 
اماگدالینا  کو جاننے والے یا اسکے اسپورٹرز اسے Laetrile "the perfect chemotherapeutic agent  قرار دیتے ہیں جو کینسر سیلز کو ھلاک کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 
پب میڈ جوکہ امریکہ کا سرکاری میڈیکل پبلشنگ ادارہ ہے اس کے ریکارڈ میں اس موضوع پر 630 تحقیقی مطالعہ جات موجود ہیں 
ایک بڑا نام ہے Dr Ernst T Krebs Jr., the biochemist who first produced laetrile (concentrated amygdalin) in the 1950s  اسکا  کہنا ہے کہ بندے کو کینسرسے بچنے کےلئے ہروز پندرہ خوبانی کے بادام کھانے چاہییں اور پھر بھلے وہ چرنوبل  CHERNOBYL  میں گھس جائے اسے کچھ نہ ہوگا۔  یہ ایک بڑا دعوہ ہے مگر ڈاکٹر کریبز کے دعوہ کو مسترد کرنا شاید اتنا آسان نہ ہوگا۔ 

کچھ باتیں اور 
ہنزہ لوگ صرف خوبانیاں ہی نہیں پھانکتے بلکہ انکی زندگی میں دو اہم باتیں میں نے نوٹ کی ہیں، ایک تو ہے پیسے کی عدم موجودگی۔ ہنزہ لوگ آپس میں لین دین پیسے سے نہیں کرتے بلکہ ابھی تک آپس میں اشیاء کے تبادلہ بارٹر سسٹم سے کام چلائے ہوتے ہیں، جو اسٹریس STRESS  کو بہت حد تک کم رکھتا ہے، 
دوسرے ہنزہ لوگ بہت ایکٹو اور متحرک زندگ گزارتے ہیں۔ سخت پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے ہمسائے کے گھرجانے کےلئے بھی اترائی چڑھائی کرنی پڑتی ہے۔ پھر کھیتی باڑی، گلہ بانی  کرتے ہیں، اس میں بھی اچھی خاصی بھاگ دوڑ ہوجاتی ہے۔ پانی لانا لکڑی اکٹھی کرنی۔ اگر پھر بھی انرجیاںہوں تو کوہ پیمائی کی جاسکتی ہے۔ ویسے وہ ڈانس اور ناچ کے بھی بہت شوقین ہیں آئے دن کوئی نہ کوئی وجہ مقررکرکے ناچ کے اپنے جسم کے متحرک کیئے ہوتےہیں ہیں سوسالہ بزرگ تک اپنی ٹانگوں کو حرکت دینے کو میدان میں اتر آتےہیں۔ 


تو پھر کیا نتیجہ نکالتے ہیں آپ ؟؟ صرف خوبانیاں چبائی جاویں یا پھر تازہ پانی، سادہ خوراک، متحرک زندگی  اور پریشانی و اسٹریس سے بچکر بھی کیسے بچنے کی کوشش کی جاسکتی ہے؟؟؟ میرا تو یہی خیال ہے کہ ہم لوگ اگر سادہ خوارک استعمال کریں، اپنے آپ کو جسمانی طور پر متحرک رکھیں اور اسٹریس سے بچنے کےلئے لالچ کم لیں اور اللہ پر توکل زیادہ رکھیں تو کینسر، ٹیومرز یا ان جیسے دیگر موزی امراض سے بچا جاسکتا ہے۔

ممکن ہے کہ ساری ریسرچ غلط ہی ہو مگر پھر بھی اتنے سادہ طریقہ کو اپنانے میں کونسا بل اتا ہے؟؟ 

ایک شکریہِ یہ مضمون مجھے سے زبردستی لکھوایا گیا ہے، فیس بک کے گروپ پہچان کےلئے، تو اسکی انتظامیہ کے اصرار کےلئے انکا میں بھی شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ بھی کردیں۔ 

مکمل تحریر  »

سوموار, مئی 04, 2015

علوق علی پاشا Uluc Ali Pascia

علوق علی پاشا Uluc Ali  Pascia,  کامیابی اور شجاعت کا ایک اور نام

اٹلی کے جنوبی علاقہ کلابریہ Calabria  میں غالباُ  1519 میں پیدا ہوا، اسکا مقام پیدائش ساحلی مقام  le castella   تھا، ۔ اسکا تعلق عیسائی مذہب  سے تھا،    سنہ 1538 میں خیر الدین بربروسا کے ہاتھوںLe castella  پر حملہ کے دوران قید ہوااور غلام بنا لیا گیا، کچھ سالوں کے بعد اس نے عیسائی مذہب کو ترک کردیا، اور پھر ایک ترک کو جس نے اسے تھپڑ مارا تھا ، قتل کیا اور سزائے موت سے بچنے کو مسلمان ہوگیا۔  

اس نے ایک کلابریہ کے ہی ایک مسلمان کی بیٹی سے شادی کرلی اور پھر ترک نیوی میں شامل ہوگیا۔  اس نے بہت تیزی سے ترقی کی، پہلے الیکسندریہ کے بحری بیڑہ کا کماندار بنا، پھر تریپولی کا بے (گورنر) بنا اور پھر اس نے اطالوی ساحلوں پر تباہی پھیلا دی تھی، نہ صرف جنوبی اطالیہ  کے ساحلوں پر بلکہ مالٹا، سسلی، کورسیکا، ساردینیا کے جزیروں  علاوہ جینوا اور نیس  ( آج کا فرانس) اس کی تباہ کاریوں سے نہ بچ سکے، اس نے یہاں کے باشندو  ں کو غلام بنالیا تھا، اور ساتھ لے جاتا تھا۔ ان  میں سے بڑے بڑے نامور لوگ شامل تھے جو اسکے ہاتھوں غلام ہوئے۔



 1565 میں مالٹا کے محاصرہ کے دوران یہ کماندار تھا اور مرتے مرتے بچا۔  1571 میں کوسولا Curzola کروشیا  کو فتح کیا اور ترکی کے بحری بیڑے کے سب سے عمدہ ایڈمرل کا خطاب حاصل کیا۔ 

اس  نے 1571 میں جنگ لےپانطو lepanto میں   ترک سلطان معین زادہ علی پاشا    جو مرکز کی کمان کررہا تھا، دائیں ہازو کے بیڑے کی کمان  مراد دراگوت کے ہاتھ تھیں جب کہ بائیں بازو کے بیڑے کی کمان علوق علی پاشا کے ہاتھ میں تھی،  اس بیڑے کا مقابلہ پوری عیسائی دنیا کے متحدہ بیڑے سے تھا، جووینس سارڈینیا،  اور اٹلی کے دیگر ریاستی بیڑوں کے علاوہ فرانس اسپین اور بادشاہ چارلس چہارم  کے بیڑے شامل تھے ، انکی متحدہ کمان  کی کمان  جوانی دی آسٹریا کے ہاتھ میں تھی، اس بحری جنگ میں تعداد کی شدید کمی کے باعث ترک سنبھل نہ سکے   ( اندازہ یہ ہے کہ ترک بیڑے کی تعدا کے برابر صرف وینس کا بیڑا تھا) ترکوں  کو شکست فاش ہوئی،    

علی پاشا کا پرچم عیسائیوں کے ہاتھ لگ گیا جو آج بھی  Pisa  پیسا کے  عجائب گھر میں موجود ہے، دائیں بازو ور مرکز  کے ماتحت  تمام جہاز یا غرق ہوگئے یا قابوکرلئے گئے،  ترک سلطان علی پاشا شہید ہوگیا۔ مگر علوق علی پاشا  نے کمال مہارت کے ساتھ اپنے  ساتھ تیس جہازوں کو اور بہت سے سپاہیوں کو سلامتی سے نکال لیا اور استنبول پہنچادیا۔ 

ترک سلطان سلیم دوئم کی طرف سے اسے خلق علی کا خطاب دیا گیا اور ترک بحری بیڑے کیا کمان عطا کی گئی۔  اسکے بعد اس نے کئی فتوحات حاصل کیں، جن میں مالٹا پر پھر سے قبضہ تھا اسکے علاوہ  1574 میں تیونس  کو دوبارہ سے فتح کرکے سلطنت عثمانیہ کے زیرنگوں کردیا کیونکہ ایک برس قبل اس پر عیسائی بحری بیڑے نے قبضہ جمالیا تھا۔  

علوق علی پاشا 1587 میں استنبول کے قریب ایک گاؤں میں  واقع  اپنے محل میں طبی موت مرا، یہ گاؤں اس نے خود آباد کیا تھا اور اسکانام نیا  کلابریہ رکھا تھا ،   علوق علی پاشا نے  اپنی وصیت کے طور پر اپنے غلاموں اور ملازموں کےلئے جائیدادیں اور مکانات جن میں وہ رہتے تھے بطور ملکیت چھوڑے۔ 
کلابریہ کے ساحلی شہر Le castela  میں آج بھی علوق علی پاشا  کا مجسمہ نصب ہے۔ 
اور کلابریہ کے باشند ے اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ علوق علی پاشا اس سرزمیں کا سپوت تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جرات اور بہادری کو سلام ہے

مکمل تحریر  »

بدھ, جنوری 07, 2015

میں کیا ہوں؟؟؟


اسکول کے زمانے سے ہی تاریخ پڑھنے کا  بہت شوق تھا،  صرف تاریخ ہی کیا، سفرنامے، آپ بیتیاں، جغرافیہ ہو ،  یا پھر کوئی اورموضوع، بس کتاب ہونی چاہئے اور وہ بھی نصاب کی نہ ہو،  یہ نسیم حجازی کے اور ایم  اسلم راہی کو موٹے موٹے ناول لاتے اور راتوں رات پڑھ کر سوتے۔ عمران سیریز، عنایت اللہ، سے لیکر شہاب نامہ تک پڑھ ڈالا مگر ان ساری کتابوں کے اندر اپنا کوئی ذکر تک نہ تھا، نہ کوئی حوالہ نہ  کوئی نام و نشان۔
تاریخ ابن خلدون کی کئی جلدیں کھنگال ماریں۔ یہ اسکندر اعظم سے لیکر انگریزوں کی آمد و جامد تک سب دیکھ مارا۔ مگر وہی ڈھاک کے
تین پات، اپنے بارے کچھ بھی نہیں ملا، گویا اپنا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ یہی حال پوری تحریک پاکستان میں رہا، پوری تحریک پاکستان میں اپنا کوئی حصہ نہیں نظر آیا،  سرسید احمدخان ، مولانا برادران، علامہ اقبال ، قائد اعظم،  لیاقت علی خان اور بہت سے لوگوں بلکہ رہنماؤں (کہ وہ لوگ نہیں تھے)  تک کے حالات زندگی پڑھ ڈالے مگر اپنے بارے مجال ہے جو چار الفاظ بھی ملے ہوں یا کہیں ذکر ہوا ہو۔

پھر تاریخ پاکستان  کا مطالعہ ہوا،   کیا پہلے افراتفری کے سال، پھر ایوب خان کی ترقی اور بحالی کے سال۔  اپنا اس میں کوئی کردار نہ تھا، نہ کسی نے لکھا ، کوئی حوالہ نہیں ہے۔ ہاں سنہ اکہتر بہتر کی افراتفری میں ایک اندراج اپنے نام کا یونین کونسل کے رجسٹر پیدائش میں درج پایا گیا۔ اس میں اپنا کوئی عمل دخل نہ تھا، کہاں پیدا ہوئے، نام کس نے  رکھا، کیا رکھا، کیوں رکھا، سب کسی اور نے طے کیا اور ہم آموجود ہوئے، پھر گاؤں کے اسکول میں داخل کروایا گیا۔ جن اساتذہ  کے پاس پڑھا، جو کلاس فیلو تھے، یہ بھی اپنا فیصلہ نہ تھا۔

دنیا کی کچھ سمجھ آنے لگی کالج میں داخل ہوئے، اچھا ۔   تیرے لئے اس کالج کے فارم جمع کروا آیا ہوں، یہ رسید ہے، فلاں تاریخ کو داخلہ کی فہرست لگے گی۔ جاکر اپنا نام کلاس سیکشن دیکھ آنا، یہ بھائی جان کا فرمان تھا۔ اور میں اچھا جی کہہ کر رہ گیا۔
چل ہومیوپیتھی پڑھ لے، سنا ہے کہ بہت اچھا طریقہ علاج ہےاور  کہ ادھر پڑھنا کم پڑھتا ہے اور نقل بہت لگتی ہے، بس بندہ پاس ہوجاتا ہے۔ تو بھی ڈاکٹر بن جائے گا۔ سستے میں۔ چل ٹھیک ہے، ورنہ تیرے پاس ہونے کے چانس کم ہیں،  میں اچھا جی ٹھیک ہے۔

پہلا سال اسی پر رہے، مرمرا کر پاس ہوئے۔ اگر سالوں میں محنت کرنے کی جانے کیوں عادت سی ہوگئی۔ اور ہم پوزیشنیں  لینے والوں میں سے ہوگئے، اس میں اپنا کوئی کمال نہیں تھا، مجبوری تھی۔ کسی نے کہہ دیا کہ پڑھا کرو۔ ہم پڑھنا شروع ہوگئے۔ تعلیم ختم کی تو اسی سال ایک لیکچرار کی سیٹ خالی ہوئی، اس  پر درخواست دے دی۔ تعیناتی ہوگئی۔ کیسے ہوئی اپنا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔

پھر ایک کانفرنس کے بارے معلومات ملیں جو پولینڈ ہورہی تھی۔ ویزہ اپلائی کیا ، اگلوں نے انکار کردیا، اسکے کچھ دن بعد ہونے والی کانفرنس کا ویزہ لیکر ادھر جاپہنچے،  رات کا ٹرانزٹ لنڈ ن کا رہا ، ماموں شاہد نے بہت شور کیا کہ ادھر ہی رہ جا، کنجرا،  تیری کوئی ازیل وغیرہ ہوجائے گی، تیرا ویاہ کروا دیا ں گا۔   نہیں۔ اٹلی آگئے، ادھر آکر پیسے کمانے میں لگ گئے،  نوکریاں کیا کیا کیں اور کیوں کیں، ان میں اپنا کوئی عمل دخل نہیں، جو پوسٹ کسی نے بتادی میں نے اپلائی کردیا۔  جس نے بلا لیا  وہ کام شروع کردیا۔ سفر، ادھر جا ادھر جا۔ کام کے چکر میں  برازیل تک گھوم آئے۔

ایک بزنس کرنے کی ناکام کوشش کی، چار سال بعد نتیجہ۔ صحت کی خرابی چلنے پھر نے سے معذور ، بستر پر۔ بس کاروبار بھی ٹھپ۔
پھر اللہ نے صحت واپس کی، اور  دوستوں کی راہنمائی سے پولے پولے ہومیوپیتھک معالجات میں آگئے، تین سال بہت مزے سے گزرے۔ مگر اس میں بھی اپنی کوئی قابلیت نہ تھی۔ بس سبب بنتے رہے۔
پڑھتے، پڑھاتے، یہ فیس بک ، یہ بلاگ۔ یہ دوست احباب، یہ ملاقاتیں ۔ یہ سب چلتا ہی رہا اور ہم پھر سے کمر کی سرجری کروا کر بستر پر،
آج ایک ماہ سے زیادہ ہوگیا، اس کمرے میں  اور اس بستر پر، اور میں صبح سے سوچ رہا کہ ساری دنیا کا نظام تو پھر بھی چل رہا۔ میرے ہونے نہ ہونے سے تو کوئی فرق نہیں  پڑا  اور نہ ہی پڑنے والا۔ 

تو پھر میں کیا ہوں؟؟؟  شاید کچھ بھی نہیں۔
اس دنیا کے اندر میرا کیا کردار ہے؟؟؟ کچھ بھی نہیں۔
تو پھر؟؟؟؟


مکمل تحریر  »

ہفتہ, نومبر 29, 2014

سفر نامہء پیرس ۔ میلان سے پرواز

میلان ائیرپورٹ  کا احوال
یورپمیں رہنے اور کئی بار نیت باندھنے کے باوجود پیرس نہ جا سکے اس برس  پیرس میں منعقدہ  فارماسیوٹیکل کی ایگزیبیشن  میں  جب کمپنی نےاسٹینڈ لگانے کا  اور کرڈالا  مجھے فون ، کہ خان صیب  ادھر چلو ہمارے ساتھ، آپ کی زبان دانیوں کی ضرورت ہے۔
فلائیٹ  اور ہوٹل کی بککنگ کی رسیدیں بعذریہ ای میل وصول ہوگئیں۔

ہم پانچ بندے تھے، کمپنی کا ڈائیریکٹر ، سیلز مینجر  انکی سیکرٹریز اور راقم
میری ایزی جیٹ کی فلائٹ تھی۔ فلائیٹ سے چند دن پہلے آن لائن بورڈنگ کرنی  تھی،  ساتھ میں ہوٹل کو چیک کیا گیا گوگل میپ پر تو علم ہوا کہ ہوٹل تو چارلس دے گال ائرپورٹ سے 30 کلومیٹردور "بوبینی  Bobigni "  کے علاقہ میں ہے، جبکہ ایگزیبیشن  چارلس دے گال سے ٹرین کے پانچ منٹ کےسفر پر ہے۔مطلب یہ تھا کہ مجھے پیرس اورلی سے ہوٹل پہنچنے تک پورا پیرس گزر کرجانا پڑے گا۔  ہت  تیرے کی۔ ۔ میلان کی ائیرپورٹس سے تو خیر واقفیت ہے پرانی سی۔ مگر پھر بھی اپنی پھرتیوں اور لیٹ نہ ہوجانے سے بچنے کو تین گھنٹے پہلے ائیر پورٹ پر تھے۔

یہ بات مجھے ہمیشہ حیران کردیتی ہے کہ جب آپ جلدی نکلیں تو سب ہی جلدی نکل آتے ہیں اور آپ وقت سے پہلے ہی منزل پر پہنچ چکے ہوتے ہیں، جب آپ لیٹ ہوں تو ٹریفک کے اشارے تک سرخ ہوئے  آنکھیں دکھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ رک جا۔
میری ایک بجے فلائیٹ تھی اور  میں گیارہ بجے ائیر پورٹ پر تھا۔ ہے ظلم کہ نہیں۔

اب وقت گزارنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ موبائیل اور فیس بک۔  میلان کی  Milano"لیناتے Linate" ائیرپورٹ پر مفت وائی فائی تھی۔  مگر ہونا کیا تھا , وہی جو ہوا۔ بیٹری جواب دے گئی۔
اب یار لوگوں نے چارجرکا  "جغاڑ" لگانے کا سوچا،  ادھر اُدھر  دھیان فرمایا تو علم ہوا کہ ابھی ترقی میں کچھ کمی ہے وائی فائی تو فری کردیا ہے انہوں نے مگر چارجنگ کے بارے نہیں سوچا۔  مطلب گورا  رہ ہی گیا۔
پوچھتے پوچھتے    معلوم ہوا کہ Europa Assistance  والوں کے کاونٹر پر پتا کروبس پھر ہم پہنچ گئے۔
ادھر ایک خاتون بہت خوش اخلاق و خوش شکل ،  میرے فون چارج  کرنے کی اجازت مانگنے پر وہ مسکراہتی ہوئی اپنی سیٹ سے اٹھیں اور میرے سامنے ہی ایک گول سے کاؤئنٹر پر بنے سوئیچ بورڈ کو دکھاتے ہوئے  فون چارج کرنے کی دعوت دی۔
اب میرے پاس تقریباُ ایک گھنٹہ تھا اور لالچ بھی کہ فون پورا چارج ہوہی جائے ۔
ویٹنگ لاؤنج میں اکا دکا بندہ گھوم رہا تھا۔  لوگ تو فلائیٹ کے وقت پر ہی آتے ہیں، کوئ  میری طرح  "ویلے" تھوڑی ہیں کہ گھنٹوں پہلے ہی آجاویں۔
چند منٹوں بعد وقت گزاری کےلئے خاتون سے اسکی سروسز کے بارے پوچھنا شروع کردیا ، مقصد ایویں چسکے لگانا اور وقت گزارنا تھا،
مگر نتیجہ الٹا نکلا ، خاتون نے بہت ہی محبت سے اور مسکرا ہٹیں بکھیرتے ہوئے اپنی سروسز بیان کرنی شروع کردیں,  اور ایسے  طریقے سے بیان کیں،  کہ بس معلوم تب ہوا جب میں اس سے اپنے پیرس کے اسٹے کی انشورنس کروا چکا تھا۔ چھ دنوں کی آٹھ  یورو  میں۔ 
جب میں نے فارم پر اپنی قومیت پاکستانی لکھی تو فوراُ بولی " اچھا تو آپ بھی غیرملکی ہی ہین؟"
 میں :   ہیں، ہاں، میں بھی کا کیا مطلب؟
وہ: "مطلب یہ کہ میں بھی غیرملکی ہوں اور آپ ہی سمجھ سکتے ہیں کہ غیرملک میں جاکر رہنا اور سیٹنگ بنانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔"
میں : جی، ایسے ہی ہے۔ آپ کہاں سے ہین؟؟ میں تو آپ کو اٹالین سمجھے بیٹھا تھا
وہ: " ارے نہیں ، میں پولینڈ سے ہوں۔ کراکوو سے ۔  اور میرا نام  "صوفیہ" ہے۔
میں: ہیں،  اچھا استاد یہ تو "پولی " ہے،  مجھے اپنے علی حسان کی پولیوں کے بارے میں سنائی گئی ساری کہانیاں یاد آگئیں۔
اور چونکہ غیر ملکی سب ایک دوسرے کے رشتہ دار ہوتے ہیں، تو ہم فوراُ  آپ سے تم پر آگئے، اٹالین لسانیات کے مطابق  آپ دوری  اور تم قربت کی علامت ہے۔  "جیلس ہونے کی مطلب حسد کرنے کی ضرورت نہیں"، یہاں قربت سے مرآد انگریزی والی فرینکنس ہے۔
ایویں  اسے دعوت دی کہ میں تو کافی پینے کے موڈ میں ہوں، اگر تم چاہو تو میں تمھیں آفرکرتا ہوں۔
وہ ۔۔۔ لو یہ بات، بہت شکریہ، ابھی میں نے کافی پی نہیں بس سوچ ہی رہی تھی۔ چلیں پھر؟؟
میں دل میں علی حسان کو اپنا پیرومرشد قرار دیتا ہوا چل پڑا ادھر کافی بار پر۔  وہاں پر دو کالی زہر کافی  (بقول اپنے میاں سلام شانی صاحب کے)   کا کہا تو اگلے نے پوچھا۔ تو آپ ادھر سروس میں ہیں، میرے بولنے سے پہلے  صوفیہ نے ہاں میں مونڈی ہلائی ، کاوئنٹر مین کی طرف سے ایک یورو ساٹھ سینٹ کی پرچی تھما دی گئی۔ جبکہ عام طور پر ائیر پورٹ پر کافی کی قیمت اڑھائی یورو فی کس ہوتی ہے۔
پس  اس قول پر میرا  ایمان پکا ہوگیاکہ ہر جو بھی آتا ہے اپنا رزق لاتا ہے۔ اگر میں اکیلا کافی پیتا تو اڑھائی یورو دیتا۔ ادھر ڈیڑھ یورو دئیے اور کمپنی بھی ساتھ میں۔ مگر یہ یادکرادینا بھی مناسب ہے کہ مہمان  جسے آپ کافی آفر کررہے ہیں وہ ہو جس کے گلے میں ائیرپورٹ کا ٹیگ ہو۔ ورنہ اڑھائی کو پانچ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ 


مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش