جمعہ, اگست 09, 2013

آپ کی عید ہے؟ عید مبارک عیدین مبارک

اپنے ہاں تو پرسوں سے ہی عید عید ہوءی پڑی ہے، پہلے تو میاں ثاقب صاحب نے خبر دی کہ سعودی میں مولبی ہوشیار باش ہوگءے اور باباز دوربینیں لے بیٹھے اور یہ کہ شاید آج چاند نظر آجاوے۔ 

ہیں ؟مگر آج تو اٹھائیسواں روزہ ہے مولبی، اپنے ادھر بھی اور ادھر سعودی میں بھی تو  پھر؟؟  تفصیل موصول ہوءی کہ بہت برس بعد امسال بھی مون برتھ کے ایک دن پہلے ہونے کے شدید خطرات ہیں،۔ خیر دیر تک کمپوٹر کو ٹکٹکی لگانے کے بعد علم حاصل ہوا کہ خطرہ ٹل گیا اور یہ کہ کل روزہ ہی رکھنا پڑے گا، اور ہ پاسہ مار کے سو رہے کہ سحری کےلئے اٹھنا پڑے گا۔  یوں ہمارے ارمانوں پر اوس پڑگئ۔ 

کل تو خیر شام کو ہی ہال ہال کار مچ گئ کہ سعودیہ میں روزہ ہوگیا، انڈونیشیا سے بھی ایک بی بی نے میسج کرکے کنفرم کردیا کہ ہمارے بھی روزہ ہے، ہیں جی

علامہ رضا مرزا کا بولونیا سے فون آنا اور چاند رات کی مبارک و پپیاں ہیں جی، یہ علامہ بوت مزاکیہ واقع ہوئے ہیں، ہیں جی

میاں سلام شانی صاحب کا میرپور آزاد کشمیر سے فیسی بکی پیغام آیا ہے کہ اگر آپ آج عید کررہے ہیں تو عید مبارک اور اگر نہیں تو ایڈوانس میں قبولئَے۔  مطلب کل ہم تکلیف نہیں کریں گے  ہیں جی۔ 

ہمارے مامون جان راجہ بابر خان البزرگ الصغیر جو ہم سے عمر میں 3 ورے چھوٹے ہیں، مگر چونکے رشتہ میں ماموں ہیں تو ہیں، نے مفصل بتایا کہ کل عید کررہے ہیں بعد از 30 روزے، جبکہ ہم 29 کے بعد آج بھگت چکے، ہیں جی

لنڈن کزن کو فون کیا تو ادھر سے خبر ملی کہ بھائی خیرمبارک، ہم بھی آج ہی عید کررہے ہیں، ہماری اسٹریٹ کی تین مساجد سے آج عید کا اعلان ہوا، جبکہ دو نے کل پاکستان کے ساتھ کرنی ہے، مطلب وہ پکے پاکستانی ہوئے، ہیں جی

سنا ہے کہ گلف کے کچھ ممالک میں بھی عید مبارک کل ہی ہوگی، جبکہ پاکستان میں بھی سرکاری عید کل ہے مگر، کچھ شمالی علاقاز میں چاند دیکھنے و عید کرنے کی شنید ہے۔ 

اب اگر عید دو مختلف دنوں میں ہوگی تو خطبہ بھی دو دن ہی ہوگا، ۔ ہین جی
ایسے میں اپنے یاسر خوامخواہ جاپانی صاحب جی اس صورت حال کےلئے عیدین کا لفظ استعمالا تو برا کیا کیا، مان لیا کہ پہلے یہ لفظ عیدین  دو عیدوں مطلب عیدالفطر اور بقرہ عید دونوں کےلئے اجتمائِ طور پر استعمال ہوتا تھا اب اس لفظ عیدین کو اس نئی عیدوں والی صورت حال پر بھی استعمالا جاسکتا ہے۔ 

سنا ہے کہ ولایت میں  کسی کونسل میں مسلوں نے درخواست دی کہ عید والے دن ہمیں چھٹی ہونی چاہیے، کونسل والوں نے کے انکار پر خوب شور اور ہنگامہ مچا، یہ جلوس اور احتجاج کہ ہماری مذہبی آزادی پر روک لگائی  گئ ہے، مئیر نے کچھ لوگوں مطلب اپنے اپنوں سیانوں سیانوں سے صلاح لی، مگر بات نہ بنی احتجاج بڑھتا جاتا، مگر پھر وہاں پر ایک دھاگہ مولبی ق نمودار ہوئے اور مبلغ فیس وصول پانے کے بعد مشورہ دیا، اس مشورے کے مطابق مسلوں کو کہا گیا کہ چلو ٹھیک ہے، دسو فیر کس دن عید کرنی؟؟ تم سب متفقہ طور پر بتلادو کہ کس دن تمھاری عید ہوگی، ہم چھٹی کردیں گے بمعہ تنخواہ، اس بات کو کتنے ورے ہوگئے مگر نہ مسلوں کا ایک عید پر اتفاق ہوا، نہ پھر چھٹی کی بات ہوئِ۔

اللہ فرماتا ہے وعتصمو بحبل اللہ جمیعا ولاتفرقو

اللہ بادشاہ جی جو مرضی فرمائے ہم کون ہوتے ہیں دخل دینے والے مگر تفرقہ ہم نے کرنا ہے چاہے وہ چاند دیکھنے پر ہو، کہ عید منانے پر، روزہ پر ہو کہ درود شریف کو باآواز بلند وہ زیر لب پڑھنے پر، نماز ہاتھ چھوڑکر پڑھنے پر اور باندھ کر، 
رفع یدین کرنے اور نہ کرنے پر بھی۔ 

جب ایسا ہوگا تو فیر عید کی نماز سنگین کے سائے تلے ہی ہوگی۔ اللہ خطبہ سننے اور سنانے والوں کے علم اور عقل میں اضافہ کرے اور انکو بم بلاسٹ سے بچائے، اور بعد از خطبہ اپنے گھر تک بحفاظت پہنچاءے، آمین۔ ہم اللہ کی مانیں یا نہ مانیں مگر اللہ تو ہمارا ہے ہماری ضرور سنے گا۔ ہیں جی۔ 

اب چونکہ آپ پڑھتے پڑھتے یہاں تک پہنچ چکے ہیں تو آپ کو بھی عید مبارک ، بھلے آپ نے آج والے مسلوں کے ساتھ کی ہے یا کل والے مسلوں کے ساتھ کررہے ہیں، عید عید ہی ہوتی ہے، تو فیر عید مبارک ہیں جی



مکمل تحریر  »

بدھ, فروری 13, 2013

بابا افراتفری اور دوھری شہریت




چچا غالب ہمارے پسندیدہ چچا ہیں، یہ اردو   شاعری والے مرزا اسداللہ خان غالب  نہی ہیں بلکہ یہ ہمارے پنڈ کے ہیں اور پنجابی  ٹکا کے بولتے ہیں، والد صاحب کے کزن ہیں اور  راجہ غالب سلطان   لکھے جاتے ہیں،   ہمارے یہ چچاجی فل مخولیا  طبیعیت کے ہیں،  اتنے مخولیا کہ ہمارے اسکول کی تفریخ کوئی بھی افراتفریح کہتے،  ہم اسکول کی چھوٹی تفریح کرتے تو کتنی بار انکو باہر بابے لنگے کی دکان کے پاس کھڑے پایا اور اس دن بابا لنگا  ہمیں اور ہمارے درجے کے دیگر پنڈ کے لڑکوں کو  مفت میں  "پھلیاں مکھانے"  دیتا،  اور شام کو چچاغالب ہمیں چھیڑتے کہ  " اوئے تم لوگ  نکی افراتفری کے "ویلے" بابے  لنگے سے مفت پھلیاں  مکھانے کس چکر میں  کھارہے تھے۔ " بعد میں معلوم ہوا  کہ بابے لنگے کو انہوں نے خود ہی کہا ہوتا کہ میرے ہوتے ہوئے خبردار میرے بھتیجے بھانجوں سے پیسے لئے تو، اور خود اسکو پیسے چکا دیتے،  پورے پنڈ کے بچے ہی تو انکے بھتیجے بھانجے ہیں۔  اسی طرح بڑی تفریح کے وقت ہم گھر  روٹی کھانے جاتے تو  چچا غالب پھر ہمارے ساتھ مخول کررہے ہوتے  " کیوں بھئی ہر وقت کھاتے ہی رہتے ہو،  ہر وقت افراتفری میں ہی رہتے ہو، کدی نکی، تے کدی وڈی۔ 

ایک دن میں نے پوچھ لیا چچا آپ تفریح کو افراتفریح کیوں کہتے ہیں تو فرمانے لگے کہ "پتر جی جس تیزی اور چستی سے تم لوگ بھاگتے ہوئے گھر آتے ہو، کھانا کھاتے ہو اور پھر بھاگتے ہوئے اسکول پہنچتے ہو، پھر بھی لیٹ ہوجاتے ہو اور ماسٹر سے ڈنڈے بھی روز کھاتے ہو۔  تو پھر تفریح  تو نہ ہوئی، یہ تو افراتفریح ہی ہے ، نری افراتفری۔  ہیں جی

چچا غالب ویسے بھی بہت پر مزاح بندے ہیں، ابھی بھی گو باریش ہوچکے مگر  وہی ہنسی، وہی  محبت، وہی چاہت، پاکستا ن  پہنچیں تو پہلے جن بندوں سے ملاقات ہوتی ہے ان میں سے ہیں اور جن کو مل کر احساس ہوتا کہ گھر پہنچ گئے ہیں۔

ہمارے مولانا  یعنی کہ ڈاکٹر صاحب قادری جی المعروف شیخ الاسلام کینیڈوی اچانک چھلانگ مار کر پاکستان آگئے اور انہوں  نے اپنے ناچنے والے پروگرام کی طرح پورے ڈھول تاشوں سے اچھل کود مچادی،  ہرروز کوئی نہ کوئی دھما چوکڑی، جلسہ، جلوس، ملک میں جب پانچ برس بعد الیکشن ہونے والے ہیں، عوام کوووٹ ڈالنے کا حق ملے گا، شاید بغیر خون خرابے کے خبیثوں سے جان چھوٹے، اور آنے والے انکی ناکامی کو دیکھتے ہوئے اس سے بچنے کی کچھ تدبیر کریں اور مفادعامہ کی کچھ کام کرلیں۔ امید پر دنیا قائم ہے۔

مگر مولبی جی کا پروغرام  ہے کہ نہیں جی ایک ٹائم پاس حکومت ہو جو پہلے احتساب کرے، پھر الیکشن ہوں،  پر باوا جی سے بندہ پوچھے کہ  ایک طرح کی چھاننی سے ہی چھانو تو گند نکلے گا، اور جو بچے گا وہ ایک طرح کا مال ہی ہوگا، اگر آپ روز چھاننی بدلی کروگےتو ، پھر یہ جو نئے آنے والے ہیں انکے میرٹ کا تعین کون کرے گا، الیکشن ایک پراسس ہے جس  سے کچھ کچھ نہ کچھ گند صاف ہوتا رہتا۔ گو فل صفائی نہیں ہوسکتی۔  مگر پھر بھی۔ بصورت دیگر، وہی ون مین شو،  کون حکومت بنائے گا، کون بنوائے گا، انتظام کی ذمہ داری کس پر، محاسبہ ہوگا ؟ کون کرے گا۔ 


مولوی جی کو عدالت سے بھی صاف جواب ملا تو ایک نئی افراتفری ڈال دی کہ جی دوھری شہریت والوں کی  "بِیزتی  " ہوگئی، اب واقعی یہ کہ کہ جب کوئی بھی بندہ چوول کام کرے گا تو اسکی  بیزتی تو ہوگی، اگر پاکستانی شہریت والا مشرف کرے گا تو پاکستانی شہریت کی بیزتی، اگر دوھری شہریت والا  مولوی قادری اور حسین حقانی کرے گا تو دوھری شہریت کی بیزتی، اگر کوئی برطانوی شہریت والا جارج پٹھ کرے گا تو برطانوی شہریت پر  تھو، تھو ہو گی۔

پس  مسئلہ اکہری و دوہری شہریت نہیں ہے، بلکہ اعمال ہیں جیسی نیت ویس مراد، مولوی جی  کے ساتھ بھی وہی ہوا جو انکی نیت تھی۔   اللہ بڑا بے نیاز ہے

مکمل تحریر  »

منگل, جولائی 03, 2012

سیر پولینڈ کی، دل کے ارمان


زمانہ قدیم میں جب آتش جواں ہوا کرتا تھا اور  یورپ گردی کا نیا نیا شوق سر پر سوار ہوا تو،  ہنگری اور پولینڈ ان ممالک میں سے تھے جہاں ہماری  قلمی دوستی بہت  تسلسل کے ساتھ تھی اور چونکہ بہت سے اسپرانتو دان بھی ادھر بستے ہیں اور بہت منظم ہیں   تب بھی اور اب بھی کسی نہ کسی پروغرام کی دعوت موصول ہوتی، مگر کہ ہر دعوت دعوت شیراز نیست   گر پیسہ  در جیب نیست،  دوسری وجہ پولینڈ کی موندا تورزمو   اور ہنگری کے گرم چشموں کے مساج و ہییلتھ سینٹرز کی فوٹوئیں تھیں۔

پھر وہ دن بھی آیا جب عالمی اسپرانتو میڈیکل ایسوسی ایشن نے ایک خاص دعوت نامہ دے مارا ، بلکہ سرکاری طور پر ارسال کیا  مگر چھڈو جی کہہ کر ایک طرف رکھ دیا،    پھر ایک پروگرام اٹلی سے بھی اسی برس موصول ہوا  ، چونکہ  دونوں کے درمیان کوئی دس دن کا وقفہ تھا تو سوچا  پھر سے پولینڈ کے بارے کہ کیوں کہ ادھر سے ہوتے ہوئے اٹلی کو نکل لیں گے بعذریہ ٹرین اور یہ بھی کہ جرمن اور آسٹریا وغیرہ کی سیر مفت میں ہوجائے گی۔  مگر پولینڈ کی ایمبیسی والوں نے تب  چائنہ ایمبیسی کے عقب میں ہوا کرتی تھی، ادھر ڈپلومیٹو انکلو کے پچھلے پاسے،  کوئی چار چکر لگواکر   ہمارے پاسپور ٹ پر  ایک چھوٹی سی مہر  لگا دی کہ جی ہم مطمعن نہیں اور یہ کہ آپ نے
درخواست بھی لیٹ دی ہے ویزہ کےلئے لہذا  رہن دو۔

میں اسکو برا بھلا کہتا ہوا اٹالین ایمبیسی کو   نکل لیا، ویزہ آفیسر نے پوچھا  بھی  کہ تم نے پولینڈ کا ویزہ اپلائی کیا تھا؟؟ تو جواباُ  ہم نے جو گالیاں بزبان انگریزی زبانی یاد تھیں وہ بھی اور جوپنجابی  کی تھیں انکو  بھی   ترجمہ کرکےپولش  ویزہ آفیسر کی خدمت میں  پیش کیا ، تو اسکے بعد اس نےمذید کوئی سوال نہ کیا، لازمی طور پر بھلے مانس  سمجھ گیا ہوگا کہ اگر اس کا ویزہ نہ لگایا تو اس سے ڈبل قصیدہ خوانی میری بھی ہونی ہے۔
خیر ہم برطانیہ میں شب بسری کرتے ہوئے ادھر اٹلی میں جلسہ پڑھنے پہنچ گئے،  مگر پولینڈ والی مہر پاسپورٹ پرہی رہی،   اور منہ چڑاتی رہی، پھر ادھر مستقل رہنے کا پروغرام ایسا بنا  کہ بس لٹک ہی رہے۔ گاہ بگاہے کسی پروغرام میں کسی نہ کسی پولش اسپرانتودان سے ملاقات ہو ہی جاتی ہے اور پھر سے ادھر کی دعوت تازہ ہوجاتی ہے۔ ابھی پھر اگست میں ایک جلسہ کی دعوت  ہے۔ جاتے ہیں یا نہیں مگر  راشد صاحب سے فیس بک پر بات کر بیٹھے اور انہوں نے اپنی طرف سے بھی دعوت  دے ڈالی کے جناب ضرور آؤ اور رہو ہمارے ، پاس ، اگر موڈہو تو آپ کا ویاہ بھی کروایا جاسکتا ہے۔  خیر بات  مذاق میں رہی اور اچھا دیکھیں گے کہہ کر آئی گئی ہوگئی۔

آج اپنے علی حسن صاحب سے بات ہورہی تھی تو انہوں نے بھی  ہماری  پروگرام کو پکا کرنے کی حتٰی المقدور کوشش کی۔  آپ کو بھی شامل کرتے ہیں اس گفتگو میں  اور پھر فیصلہ آپ کے ہاتھ میں  کہ ہن  ایتھے مریئے،

جناب چینی گندے نہیں ہوتے بلکہ کہ پاکستانیوں کی طرح ہر ماحوال میں ڈھل جانے اور سروائیول  کرنے والی قوم ہے، پیسے نہیں  ہیں تو  فیکٹری میں 16 گھنٹے کام کرلو اور ایک کمرے میں 12 بندے رہ لو،   ہیں تو پھر گلیانی کی  بیگم کی شاپنگاں کے قصے پڑھ لو ، پس ثابت ہوا کہ 
دنیا میں یا تو چینی چھا جائیے گے یا پاکستانی، مگر چونکہ پاکستانی ذرداری کو بھگت رہے ہین لہذا انکے چانس کچھ کم ہین،

جناب  آپ بھی پولینڈ اگست سے پہلے پہنچ جائیں کہ ہوسکتا ہے میرا بھی چکر لگ جائے تو دونوں ملک کر ادھر ایک یورپین اردوبلاگر کانفرنس کرلیں گے اور آپس میں تقسیم اتعامات و اوارڈ بھی ہوجائے ،  اور پھر    ادھر تو ایک راشد صاحب نے مجھے معشوق و شادی بھی آفر کردی پولینڈ میں، وہ بھی فری میں، آپ بتاؤ،
بلکہ دعا سے پہلے ہی آجاؤ

ضرور جائو جی یقین مانیں انکا کوئی احسان نہیں انکو تو ایک بئیر میں پڑ رہی ہو گی
ہا ہا ہا، مگر میں تو آپ کے بلاگ پڑھ پڑھ کر انکی دعوت کو ٹھکرا گیا،  یہ صاحب ادھر میرے مہمان ہوئے تھے ایک بار، ابھی ادھر ہیں اور چلتا پرزہ ہیں
جائیں جی ضرور جائیں پر وارسا میں کچھ خاص نہیں ایک ہے مازوری ریجن وہاں 
جائیں آجکل تو جنت ہو گی وہ زمین پر

نہین مجھے کراکوو جانا ہے

وہ بھی اچھا ہے بلکہ بہترین شہروں میں ایک پولینڈ کے

ہاں ادھر ہے انکا جلسہ۔   پر سنا ہے بڈھوں کا شہر ہے۔    اور جنہوں نے مجھے مدعو کیا ہوا ان میں سے کوئی بھی 55 سے کم نہ ہوگا،       ہا ہا ہا
سارے ہی کھوسٹ قسم کے اور ہتھرو سیکس بڈھاس ہیں

ہا ہا ہا ہا ۔ایک بندہ ملا تھا شکل و صورت سے ایسا تھا کہ ہمارے نوکر اور بھنگی بھی بہتر ہوتے ہیں کہتا تھا کہ ٹائون میں جائو تے کڑیاں آپے فون نمبر دے جاندیاں نے
جائو جی تسی وی پولیاں نوں آزمائو

یہ سنا ہےکوئی بیس برس پہلے کی کہاوت ہے، جسے ہمارے لوگ بھولنے کو تیار نہیں، میرا خیال ہے ابھی حالات وہ نہیں رہے

نہ جی آزما کے ویکھ لو جے واپسی تے اکیلے گئے تو تہاڈی نیت دے فتور کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں ہو گی

اگر یہ قول ہے تو فیر وہ راشد سچا ہے، مگر یہ گل آپ نے اپنے بلاگ پر کیوں نہیں لکھی، مین تو اسے ایویں ہی لتاڑ گیا

ہا ہا بھائی جان اب ہم کیوں مولوی بنیں مفت میں دوسروں کے سامنے :)اگر کہہ دیتا کہ پھنس جاتی ہیں تو مزاح کہاں سے آتا ہیں جی؟ ویسے اس میں کوئی شک نہیں شاید ہی کوئی اور قوم اتنی واہیات ہو خود میری ایک استانی تھی پولش پڑھاتی تھی کہتی تھی کہ ساری دنیا میں ہمارا تاثر ہے کہ ایک بئیر پر رات گزار لیتی ہیں اور یہ کوئی اتنا غلط بھی نہیں

ہا ہا ہا اگر یہ بات ہے تو فیر بھائی جان کہنا جھڈ دو، اور یرا کہا کرو
میرا تو ادھر پولینڈ جانے کو سخت دل کررہا

بلکہ سنہ انیصد ستانوے مین پاکستان سے پولینڈ کا ویزہ بھی ریجیکٹ کروا چکا

ضرور جائیں اور بقلم خود دیکھ کر آئیں کہ دنیا میں ایسے ایسے لوگ بھی ہیں اور ہمکو اجازتاں دیں 2 بج گئے ہیں اور 4 بجے لائٹ جانی ہے 2 گھنٹے سو لیں
اچھا فیر شب بخیر
اوئے ہوئے 1997 میں پولینڈ ، بھائی جان اور نہیں تو 25،30 معاشقے ایک ہفتے میں ہی کر لیتے
چلو جی عمر باقی تے صحبت یاراں باقی

نہ تپاؤ

اوس کنجر ایمسڈر نے ویزہ نہیں دیا تھا کہ جی میں مطمعن نہیں ہوں، دسو

تب تو میں نے ٹینش نہ لی اور ادھر اٹالین ایمبسی سے لے کر ادھر نکل لیا مگر اب اس کی ماں بہن ایک کردینے کو دل کررہا

ہا ہا ہا اپنی بہو بیٹیاں بچا لے گیا جی صاف

مکمل تحریر  »

ہفتہ, دسمبر 03, 2011

نیو ورلڈ آرڈر اور بدمعاش


برطانیہ میں لارڈ نزیر احمد بڑا نام ہیں، ایک بڑا کردار ، ایک مثال ، شاید پاکستان کے اوباہامہ جو دوسرے ملک میں جاکر اس معاشرے کا حصہ بنے اور اور اوباہامہ سے بھی بڑھ کر کہ وہاں پر سب کچھ ہوکر بھی اپنے وطن اور اہلیان وطن کےلئے درد سے بھر پور دل رکھنے والے، میری ان سے ادھر اٹلی میں معنقد ایک پروگرام میں ملاقات ہوئی تھی کچھ برس پیشتر، نہیں کہہ سکتا کہ ذاتی قسم کی ملاقات تھی مگر اجتمائی طور پر ، البتہ ان کی باتیں قریب سے سنیں اورچونکہ سارے لوگ ان فارمل ہی تھے تو عام سی باتیں ہی تھیں، مگر ایسا لگا کہ بنیادی طور پر یہ ایک نیک اور اچھا بندہ ہے، ہمدرد قسم کا، جو ہر پلیٹ فارم پر پاکستان ، کشمیر ، اسلام اور لمانوں کی بات کرتا ہے اور بڑی ہمت اور بردباری سے کرتا ہے، گویا برطانیہ اور مغرب میں ایک ایسا سفیر جو مفت میں ہمارے لئے سفارت کاری کرتا ہے، نہ کچھ مانگتا ہے اور نہ ہی کچھ لیتا ہے۔ کہہ لو کہ اللہ نے ایک تحفہ دے دیا کہ جا چولا تیرا بھی بھلا ہ

لو جی خبر آگئی کہ آزاد کشمیر کی حکومت نے انکو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیا ہے۔
میں تو حیرت زدہ ہی رہ گیا اور سمجھ ہی نہ آئی کہ ہوا کیا اور کیونکر؟؟ بات کو آئی گئی کردیا، خبر ختم ہوئی تو بھائی کہتے ہیں یار یہ لارڈ نزیر نے پاکستان اور کشمیر کےلئے کیا برا کیا ہے ؟؟ تب دماغ میں پھر سے فلم چلی اور سمجھ آیا کہ کیا ہوا اور اسکا کیا سبب ہوسکتا ہے۔ شہباز شریف نے لاہور کے جلسے میں بدمعاشوں ، ڈاکوؤں کو الٹا لٹکانے کی بات کی تو مہاقینچی موومنٹ فوراُ سڑکوں پر آئی ، اب اگربرطانیہ میں ہونے والے ڈاکٹر عمران کے قاتلوں کو پکڑنے اور لٹکانے کی بات ذولفقار مرزا کرے گا تو ذرداری پارٹی کےلوگ میدان میں آگئے۔
پس تجربہ سے ثابت ہوا کہ چوروں کے یار چور اور بدمعاشوں کے یار بدمعاش، ٹھگوں کے یار ٹھگ، بڑے بڑگ سچ ہی کہہ گئے ہیں۔
کبھی کبھی تو یوں بھی لگتا ہے کہ یہ ذرداری ، کالے بھائی، ملک، اعوان اور اس قبیل کے دیگر لوگ باقائدہ طور پر امریکہ کے نیو ورلڈ ارڈر پر عمل پیرا ہونے کی ٹریننک لے کر آئے ہوئے ہیں، کہ جی ہم سب کچھ کرسکتے ہیں اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کےلئے۔ یہی تو چکر ہے کہ ذرداری اور اسکے گماشتے ایک ایک کرکے اس ملک کی یا اس سے متعلقہ ہر اچھی چیز کو تہس نہس کرنے پر تلے ہوئے ہیں، کیونکہ نیو ورلڈ آرڈر کے مطابق پاکستان نام کے ملک کو ختم ہوناہے، کیسے ؟؟ کوئی ایسا طریقہ نہیں، بس ہونا ہے۔ جیسے بھی ہو، اداروں کو تباہ کرکے، لوگوں کو برباد کرکے، کسی کو پانی بجلی بند کرکے کھجل کردو اور کسی کو ناپسندیدہ قرار دے کر۔ مطلب ہر بندے کو اتنا تنگ کردو کو وہ بے غیرتی اور بے شرمی کی حد تک پہنچ جائے، اتنی افراتفری پھیلا دو کہ کسی کی سمجھ میں ہی نہ آئے کہ کیا ہوا ، کون کرگیا اور کیوں کرگیا، بقول ہمارے بزرگ حکیم علی صاحب مقیم لندن ہر ف پھڑ لو پھڑ لو مچی ہونی چاہئے، میرا تو خیال ہے کہ ہم سبھی اس نیو ورلڈ آرڈر کے ڈسے ہوئے ہیں ، ہوسکتا ہے کہ آپ کو اس سے اختلاف ہو؟؟ تو پھر آپ کیا سمجھتے ہیں بتلانا پسند کریں گے؟؟

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش