ہفتہ, نومبر 19, 2016

گورا گاڑی کا حادثہ اور معشوقیں

منگل کو البینیازیگو ایک دوست کے میڈیکل اسٹور پر گیا۔ سڑک کے دوسری طرف گاڑی کھڑی کی، جہاں پر سفید لکیریں لگی ہوئی باقاعدہ پارکنگ تھی، جو کہ مفت ہوتی ہے، اور اسکو دیکھ کر ہی ہمارا دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔ ورنہ نیلی لکیروں والی پارکنگ بھی ہوسکتی ہے۔ جو سرخ آنکھوں والے جن کی طرح گھوررہی ہوتی ہے۔ یورپ میں “فری فنڈے” کی پارکنگ کا مل جانا بندے کی خوش قسمتی کی علامت ہے۔

ادھر کوئی دو گھنٹے تک بیٹھ کر “گلاں ماردے” رہے۔ ایریکا اپنی پرانی دوستوں میں سے ہے۔ میرے پاس بھی کافی فارغ وقت تھا۔ ایک دوسرے کے ساتھ اپنے معالجاتی تجربے شئر کرتے رہے۔ ایک دو نئی ادویات پر بھی بحث ہوئی، میں نے اسے اپنے زیر استعمال “ونکا مائیر” والے بال اگانے کے فارمولے کے بارے بتایا کہ کس طرح کام کرتا نظر آرہا ہے۔ اور میرا گنجا پن دور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پس اگر یہ کام کرگیا تو میں نے بالوں کو اگانے والے بابے کی طرح اپنے آپ کو اسپیشلسٹ قرار دے لینا ہے۔ سنا ہے اس شعبہ میں بہت “ کمائی “ ہے۔ مطلب “آم کے آم اور سونے کے دام”۔

بدھ کے روز صبح گھر سے نکلا ، گاڑی کے پاس پہنچاتو دیکھا تو گاڑی کی ونڈ اسکرین پر ایک پوسٹ اٹ پڑا ہوا تھا، وائیپر کے نیچے دبا ہوا۔ اس پر 
یہ تحریر تھی: بے احتیاطی سے آپ کی گاڑی کو”ٹھوک” دیا ہے۔ نیچے فون نمبر اور ایک نام لکھا ہوا تھا۔

لوجی فوراُ خیال آیا کہ کسی نے رات کو ٹھونک دی ہے۔ کوئی بچارا نیند کا مارا کام کرگیا، یا پھر "کوئی ٹُن" ہوگا۔
 پر دیکھو جی گورے کی تربیت اور اچھائی کہ اس نے “چٹ” چھوڑ دی ہے۔ فوراُ یہ خیال بھی آیا کہ اگر پاکستان میں ایسا ہوتا تو اول تو مارنے والا چپکے سے نکل لیتا، اور اگر کوئی دیکھ بھی لیتا تو بھاگ لیتا۔ پکڑے جانے پر اسکو کُٹ بھی پڑنی تھی۔ اور خرچہ بھی بھرنا پڑتا۔ پر گورے کو اپنے سسٹم پر اعتماد ہے۔ کہ انشورنس نے پیسے بھرنے ہیں۔

میں نے گاڑی کو آگے پیچھے سے دیکھا، تو کچھ کچھ نظر نہیں آیا کہ کدھر سے لگی اور کیا نقصان ہوا۔ پھر دیکھا کہ سامنے والے مڈگارڈ پر نیچے دھند والی لائیٹ کے ساتھ ایک ہلکا سا “چیر” آیا ہوا ہے۔ کچھ خاص نقصان نہ تھا۔ میں نے کہا چلو جی کچھ نہیں ہوا۔ چلو چھڈو پراں۔ ہیں جی۔ خیر ای اے۔ پرانی گاڑی ہے، کوئی گل نہیں۔


کل اس نمبر پر تجربہ کے طور پر فون کیا تو جواب ملا کہ میں تو کال کا اتنظار کررہا تھا۔ پریشان تھا کہ وہ “چٹ” کہیں ہوا میں ہی نہ اڑگئی ہو۔ بہت پریشان تھا میں، کہ منگل کو حادثہ ہوا تھا اور وہ بھی البیانیزیگو میں۔، میں نے بہانہ کردیا کہ مصروفیت کی وجہ سے فون نہ کرسکا۔ ۔ کہنے لگا کہ آپ کسی ڈینٹر سے پتا کروائیں
کتنا خرچہ آتا ہے اگر زیادہ ہوا تو انشورنس بھر دوں گا نہیں تو کیش دے دوں گا۔


آج صبح ایک ڈینٹر سے پتا کروایا تو اس نے کہا کہ مڈگارڈ تبدیل ہوگا 650 یورو کا خرچہ ہے۔ پھر ایک اور سے بات ہوئی تو کہنے لگا اس کو “جیل” لگا کر مرمت کردوں گا ، 200 یورو میں ہوجائے گا۔

میں نے میسج کردیا۔ جواب آیا کہ چار بجے ملیں جہاں آپ کہیں۔ میں نے اسی علاقہ میں ایک بار کا بتایا۔ ، میں البینیازیگو پہنچا۔ بندہ ادھر موجود تھا۔ اگلے   اس بندے نےمعذرت کی، کہ آپ کو خوامخواہ میں پریشانی ہوئی۔ اچھا چلو جو ہوا سو ہوا۔ اب چلیں بار میں کافی پیتے ہیں اور بات کرتے ہیں۔

میں نے کافی کا آرڈر کیا دونوںکےلئے  اور اس سے پوچھا: 
تو بتائیں جناب کیا کرنا ہے، میں نے کہا کہ بہتر ہے پیسے دو اور مرمت کروا لیتا ہوں مڈگارڈ کی، بدلی کروانے کی بجائے۔ اس نے  فوراُ 200 یورو نکال دئے، تب تک میں دو عدد کافی آرڈر کرچکا تھا۔ 

اور اس سے پوچھا: ہوا کیا تھا؟؟ ادھر تو پارکنگ بھی کافی تھی، میرے خیال میں۔ کہ زیادہ رش بھی نہ تھا۔ پھر؟؟
کہنے لگا کہ ہاں ایسے ہی ہے۔ ہم نے ڈاکٹر کے پاس جانا تھا۔ پاس ہی، ادھرگئے تو آپ کی گاڑی کے سامنے ایک گاڑی کی جگہ خالی تھی اور پھر ایک گاڑی کھڑی ھی۔ اسکے آگے تین گاڑیوں کی جگہ خالی تھی۔

تب تک اسکی آواز بدل چکی تھی۔ کہنے لگا میرے ساتھ میری معشوقہ بیٹھی ہوئی تھی۔ اور پتا ہے میں نے گاڑی کہاں کھڑی کی؟؟ جہاں پر ایک گاڑی کی جگہ تھی۔ وہ کہ کہنے لگی، پیچے پیچھے اور پیچھےاور ، اور ، اور ، اور پھر پتا اس وقت چلا جب آپ کی گاڑی کو ٹھوک چکا تھا۔ اب میں اتنا برا بھی نہیں کہ بھاگ جاؤں، میں نے، آپ کی گاڑی پر ایک پیغام چھوڑا اور کال کا انتظار کرنے لگا۔ پر میں ایک بات بتاؤں آپ کو، بندے کو یہ معشوقیں ہمیشہ مرواتی ہیں۔

چلو سستے چھوٹے،  ہم نے کافی پی، اور ایک دوسرے کے ساتھ معذرت کرتے ہوئے اپنی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔ اچھا جی، پھر ملیں، گے، ضرور، پھر سے معذرت۔ ہیں جی


مکمل تحریر  »

جمعرات, اگست 09, 2012

جان بچی سو لاکھوں پائے

لوجی  "جان بچی سو لاکھو ں پائے "   کا محاورہ تو ہمیشہ سے ہی سنتے اور استعمالتے چلے آئے ہیں مگر اس کی حقیقت کل ہی  معلوم ہوئی ہے،  بلکہ ابھی معلوم ہونے والی ہے،  واقعہ فیس بک پر تو کافی مشہور ہے۔ مگر سوچا کر ادھر بھی شئر کردیتے ہیں کرنے کو جو کچھ نہیں۔ 

موٹروے اے 4 جو وینس سے میلان کو ملاتا ہے، اپنی روڈ سروس، اور چوڑائی کے علاوہ ٹریفک کےلئے بھی مشہور ہے اور ۔ آج کل ہمارے زیر استعمال بکثرت رہتا ہے۔



 گزشتہ جمعہ کو  گھر واپسی پر  ادھر ویرونا  اور  ویچنزہ کے بیچ  مونتے بیلو  کے مقام پر  ہماری گاڑی  بلکہ اکلوتی گاڑی نے اچانک نہایت غیرشریفانہ انداز میں  ڈگ ڈگ کرنا شروع کردیا  وہ بھی اس وقت  جب ہم اورٹیک والی تیسری لین میں تھے اور مبلغ  120 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بے صبرے گھر کو پہنچنے کے چکر میں تھے ،  بس ہم فوراٗ ہی ٹینشن لی گئے  اور ارادہ باندھنا شروع کردیا کہ ابھی اس دائیں کے لے کر ایمرجنسی کے ٹریک پر لیے جائیں  اور دیکھیں کہ پچھلی بار کی طرح پھر تو ٹائر نے ڈرامہ نہیں لگا دیا ، مگر ماری ٹینشن میں فوری طور پر  120 سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا  کہ گاڑی نے باقاعدہ کودنا   شروع کردیا جسے بزبان انگریزی ببلنگ کہا جاتا ہے (اگر اردو میں کودنا کا متبادل کسی کو معلوم ہوتو ضرور بتائے، شرمانے کی بات نہیں)۔

پس  آؤ دیکھا نہ تاؤ ، چاروں اشارے لگادئے شیشے میں  پیچھے دیکھا، کچھ گاڑیاں تھیں مگر ذرا پیچھے، ایک کار  تھی دائیں ، اس بھلے مانس ڈرائیور نے ہمیں بریک لگا کر راستہ دیا  کہ " چل پائی توں پاسے ہولے"   ایک ٹرک پیچھے کافی دور پہلی لائین میں پایا گیا،  ویسے  جمعہ کا سہہ پہر اور وہ بھی  اگست کا پہلا جمعہ، مطلب موٹر وے بھر پڑا تھا ٹریفک سے،  مگر اٹالین لوگ نہیایت شرافت اور صبر سے ڈرائیو کرتے ہیں (پاکستانیوں  کی بنسبت، ورنہ ادھر یورپ میں انکو کھوتامار ڈرائیور ہی کہا جاتاہے)، ابھی دوجے اور پہلے ٹریک کے بیچ میں ہی تھا کہ گاڑی نے اچانک سے اسپیڈ پکڑلی اور بے قابو ہوکر سیدھی ہوگئی بس موٹروے سے باہر نکلنے کے چکر میں۔

بریک اسٹیرینگ سب جام اور بے کار، گاڑی نے گویا اعلان بغاوت کردیا ، یا    "کھوتا پہوُڑ ہوگیا کہہ لو"،  اور پلک جھپکتے ہی ٹکرائی سفیٹی گارڈر سے، جو موٹر وے کے کنارے لگا ہوا تھا۔

نیچے دور تک کھائی دیکھ کر فوراُ منہہ سے" کلمہ شریف  " نکلا ، اور دماغ میں آیا  کہ " لو جی خان صاحب آج اسٹوری ختم ہوئی"  کہ ابھی یہ منہ کے بل گرے گی کھائی میں، جیسے ہی گاڑی  ریلنگ سے ٹکرائی  ہمارا سربھی نیوٹن کے غالباُ دوجے قانون حرکت کے مطابق اسٹیرنگ سے ٹکرایا ، لپکا تو پورا جسم تھا مگر بیلٹ نے بچالیا (پس تب سے سب کو کہہ رہا ہوں کہ گاڑی میں بیلٹ لازم باندھ لیاکرو) ، گاڑی کے سامنے والے حصہ اور انجن کے پرزے فضا  میں بلند ہوئے  اور ہمارے دماغ پر تارے ناچنے لگے، جانے کس نے گاری روک لی،  سچ ہے کہ بچانے والا زیادہ بڑا ہے۔


مگر کہا ں جی، ایک ٹرک  نے پیچھے سے "پھانڈا " دیا مطلب گاڑی کا پیچھے بھی ناس مارا گیا، ہماری کمر کا بھی


 اور گاڑی صاحبہ پھر سے آگے کو ہو لیں،  اور کوئی  چارسو میٹر کے فاصلے پر جاکر خود ہی رک  گئیں، شاید ہم نے بھی کچھ بریک لگانے کی کوشش کیا تھی، شاید اگلی طر ف کا ایک ٹائیر  نکل چکا تھا،   تب تک آگے پیچھے کی گاڑیوں کے ڈرائیور سنھبل چکے تھے اور بہت احتیاط سے پولے پولے  صرف پہلے والے ٹریک  سے گزرنے لگے، شکر ہے ورنہ  خطرہ یہ بھی تھا کہ پیچھے سے کوئی پندرہ بیس گاڑیوں والے اور ٹھوکتے اور ہم بریشیا کو پہنتے یا   ادھر بلاگ پر لکھنے کی بجائے  " منکر نکیرین "  کو حساب دے رہے ہوتے،  روزہ کے دوران سوچی جانے والی ساری بے ایمانیوں کا، مگر "جان بچی تو لاکھوں پائے"  کیسے؟ وہ بعد میں بتائیں گے۔  

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش