سوموار, اپریل 25, 2016

غیر محرم خواتین سے ہاتھ ملانا

مسلمان، بلکہ اچھے مسلمان 1400 سو برس سے غیر محرم خواتین سے مصافحہ نہیں کررہے، فوراُ منع ہوجاتے ہیں۔
نظریں جھکا لیتے ہیں۔
عرض کردیتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں جائز نہیں۔
اور دوسرے مزاہب والے بھی برا نہیں مناتے،
اگر کوئی کم ظرف سوال اٹھائے بھی تو
"پھاں" کرکے اسکا منہ بند کردیا جاتا ہے۔
کہ مذہب ساڈا ہے، تہاڈا نئیں۔ "ہیں جی" ۔
پھر تو اگلا چپ ہی کرجاتا ہے۔
اگر کسی موقع پر کوئی " بُڑ بُڑ" کرے تو
اسکا "کھنہ بھی سینکا" جاتا ہے۔
کہ توں ساڈے مذہب دے وچ پنگے کریں، سانوں دسیں گا ہنڑں؟؟
پھر اگلا چپ ہی سمجھو۔ مجال ہے جو چوں بھی کرجائے۔


مگر


اسکے باوجود بھی ہمارے مسلمانوں کی حالت خاصی پتلی ہے۔
پوری دنیا میں "چوہڑے" ہوکر رہے گئے ہیں۔
ادھر حجاب کرکے ٹائلٹ صاف کررہے ہوتےہیں۔
دنیا کی ترقی میں نام کردار نہیں ہے۔
معاشرتی اور اخلاقی ہر برائی موجود ہے۔
غریبی سے لیکربے حیائی، جھوٹ، فریب، بے ایمانی، کم تولنا، دوسرے کا حق مارنا، رشوت، سفارش اقربا پروری ہمارے اندر رچی پڑی ہے۔
اور ہم کسی گندے "رینو" کی طرح اس کیچر میں لت پت پڑے ہوئے ہیں۔




غامدی صاحب نے اگر عمومی طور پر خاتون سے مصافحہ کرنے کے بارے کہہ ہی دیا ہے کہ اس بارے دین نہین منع کرتا تو انکی بات پر چیں بہ جبیں ہونے کی بجائے اس کا قرآن و سنت سے رد کیا جائے، نہ کو اسکو  گالیاں دینے، ٹھٹھہ کرنے، اور تذلیل کی جائے، اس کی بجائے کیون نہ اس کو یکسر مسترد کیوں نہ کردیا جائے۔


اور توجہ دی جائے ان امور پر جن کی وجہ سے آج ہم پوری دنیا میں جوتے کھا رہے ہیں۔
جن کی وجہ سے آج ہم چھترو چھتری ہورہے ہیں۔
مگر کیوں؟؟ اگر ایسا ہوتو پھر ہم وہ رینو تو نہ ہوئے۔




اچھا چھڈو یہ رینو والی فوٹو ویرونا والے سفاری پارک میں بنائی تھی میں نے اصلی ہے


مکمل تحریر  »

اتوار, جون 30, 2013

چاؤ، اردو پادوا سانتو انطونیو اور ہمارے پیر

پادوا  (Padova) یہ اٹلی کا شہر واقع ہوا ہے اور آجکل ہم اسی شہر میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔یہ ادھر وینس سے چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہوا ہے۔ اچھاتاریخی شہر ہے۔ 


جلسہ کی   کاروائی  کے سلسلہ میں،  سہ پہر کی چائے  پی کر ہم تینوں  یہ Prato del Valeجا پہنچے، یہ یورپ کے چند ایک بڑے اسکوائرز سے  ہے، اور اسکے نام کا اردو ترجمہ کریں تو اسے وادی کی  فصل کا نام دیا جاسکتا ہے، پراتو کو لفظی طور پر فصل یا گھاس کا ایک قطعہ کہا جاسکتا ہے،  مگر یہ پادوا میں  موجود پاکستانیوں میں پراتو دل والے کے  تلفظ سے   مشہور ہے،  ہم بھی  کئی روز اسی مخمصے میں پڑے رہے اور اس کا  "دل والے " کے ساتھ جوڑ ملانے کی کوشش میں رہے،    ادھر پہنچ کر بھی  یہی لگا:         کہ اپنے بندے سچ ہی کہتے ہیں۔


  ادھر یہ میدان ، فوارے چل رہے، پانی کی ندی اور اس پر پل، کناروں پر کھمبوں  کی مانند کھڑے یہ طویل القامت  و لحیم شہیم مجسمے اور ادھرگھاس کے قطعات و بینچوں پر اور  ہر اس جگہ پر جہاں تشریف رکھی جاسکتی تھی، گھاس جو ہے وہ اب لگائی گئی ہے، ورنہ یہ  دلدلی علاقہ تھا،   عاشق و معشوق ایک ہوئے پڑے ملیں گے،  اگر آپ کو انکو دیکھنا  ہے تو بے شرموں کی طرح دیکھیں،  مگر اگلے ہیں کہ آپ کے وجود سے بے خبر اور لاتعلق آپس میں مشغول ہیں۔  اب  جتنی دیر اس ماحول کو برداشت کرلے یہ بندے کی بے شرمی پر منحصر ہے۔


پس ہم لوگ بھی ادھر سے سانتو انطونیو کی طرف نکل پڑے، انکے انکے ذکر کے بغیر پادوا نامکمل ہے، آخر کا اس شہر کے پیر کامل ہوئے ہیں۔ 

 بقول ڈاکٹر جوانی کے ، پادوا میں  تین چیزیں بغیر نام کے ہیں،  سانتو  بغیر نام کے Santo senza nome،   فصل بغیر گھاس کے  Prato senza Erba، تیسری چیز کے بارے اس وقت مجھے یاد نہیں آرہا، ویسے بھی نامناسب سی تھی، جس کو مذید تجسس ہو وہ اکیلے میں ادھر پوچھ لے۔  تو آج کا ہمارا  موضوع ہے پراتو  دل والے کے بعد سانتو انطونیو۔ پادوا میں صرف سانتو  سے مراد سانتو انطونیو ہی ہے۔
یہ بزرگ کیتھولک چرچ کے بڑے سینٹ واقع  ہوئے ہیں،   سنہ 1195  میں لزبونہ  پرتگال میں پیدا ہوئے اور 1231 میں کوئی 36 برس کی عمر میں پادوا میں اس دارفانی سے کوچ کیا اور پادوا میں ہی دفن ہوئے،  (تب عیسائی مذہب میں دفناتے تھے، اب سنا ہے کہ بکثرت ساڑتے ہیں)،  انکے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ  یہ ایک بڑے بزرگ تھے اور انہوں نے بہت مسافت بھی کی۔

 ان سے بہت معجزات بھی منسوب ہیں،  ان کے ساتھ منسوب معجزات و کرامات میں ،  دوران حیات و پس از مرگ     بیماروں کو شفادینا،     ایک کھوتے کا بابا جی کو سجدہ کرنا،       ایک بندے کا ماں کو لات مارنا اور پھر بابا جی کے جوت پرچھات پر اپنی لات کاٹ لینا، پھر ماں کی چیخ وپکار اور بابا جی کی دعا سے کٹی ہوئی لات کا بحال ہوجانا،                نومولود بچے  کا کھولتے پانی میں گزرنا اور پھر بابا جی کی برکت سے بغیر کسی نقصان و تکلیف کے نکال دیا جانا،              مردہ  کا باباجی کے باغ میں چھپایا جانا اور الزام آنا انکے والدین پر پھر لاش کی گواہی،      اسی طرح مچھلی کے بولنا،  چوری کے مال کی برآمدگی،   بندے کے دل کا پھر جانا،   مطلب ہر وہ فن جو ہمارے ادھر کسی صاحب مزار کے ساتھ فٹ کیا جاسکتا ہے اور جاتا ہے،  ان باباجی کے ساتھ بھی منسوب بلکہ فٹ کردیا گیا ہے۔  ال انت ولاخیر، بابا جی کو شہر کا محافظ سینٹ قراردیا  جاچکا ہے۔  کہ   وڈیو ہن تسیں ہی شہر دی حفاظت کرنی ہے۔ بابا جی کا مزار مقام  توجہ وہ مزکز تجلیات  و برکات خلائق ہے۔




یہ بزرگ اتنی برکت والے ہیں کہ انکا مدفن عین چرچ کے اندر ہے اور چرچ بھی وہ  کہ جو پورے شہر کے ہر کونے سے نظر آتا ہے۔  میں اپنے ان دو مندوبین کو  چرچ کے اندر لے گیا کہ جی ادھر بہت  خوبصورتی ہے، اندر خیر سے ہمارے کسی مزار کی  طرح فل عبادتی پروگرام چل رہا تھا،    ہم اندر داخل ہو کر دائیں طرف کو ہولیے اور مرکزی قربان گاہ سے بچتے ہوئے، مقدس پانی کے حوض کے پاس سے گزرتے ہوءے مرکزی قربان گاہ کے پیچھے کو چل لئے ، وہ پر باباجی کے زیراستعمال اشیاء برکت و برائے حصول ثواب رکھی ہوءی ہیں، جن میں  کرسٹل سے لیکر چاندی و سونے کے برتن و دیگر سوءی سلائی،  بڑا کرتا، آزار بند،   جوتے  ، انگوٹھی ،  عصامبارک، وغیرہ ۔

مگر اس سے  بھی بڑھ کر ، بابا جی کی زبان مبارک بھی ایک خوب سونے  کے شوکیس میں رکھی گئ ہے ، اس کے بارے یہ شیند ہے کہ اب بھی مقدس کلام کی تلاوت میں مصروف ہے، مگر دیکھنے میں سوکھی ہوءی لگتی ہے۔ یہی نہیں بابا جی کے ووکل کارڈ ، آواز کے غدود بھی ادھر آپ ننگی آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں وہ بھی اس سونے کے شوکیس میں، سونے پر فل مال خرچہ گیا ہے۔ خیر ہمارے ہاں بھی کچھ کم نہین ہے ماحول۔ 


اور جب بابا جی کا عرص ہوتا ہے تو انکی پوری لاش  کی زیارت ہوکر برکت حاصل ہوسکتی ہے،   ہوا یوں کہ 1656 میں  بابا جی کے ماننے والوں کے صبر کی انتہا ہوگئی، اور الانت والاخیر کا نعرہ مار کر قبر میں سے بابا جی کا   تابوت نکال لائے،  کہ اب صرف قبر کی زیارت سے کام  نہیں چل سکتا تھا ۔ البتہ قبرانور آج بھی ادھر قربان گاہ  کے بائیں جانب  مرجع الخلائق ہے۔  لوگ  ادھر آج بھی دعا مانگ رہے اور کچھ تو اپنے پیاروں و بیماروں کا فوٹو بھی شفاء کےلئے چڑھارہے تھے۔
 
اور میں  کہہ رہا تھا  اپنے بندوں سے کہ یہ طریقہ ابھی ہمارے ہاں رائج نہ ہے، ادھر ابھی تک مزار کی جالی سے دھاگہ باندھ کر یہ مزار کے احاطے میں موجود درخت   میں کیل ٹھونک کر کام چلایا جارہا ہے۔ مزار پر سجدہ کرنا،  طواف کرنا وغیرہ عام ہے، اور مزارات پر ان معاملات کے ممنوع ہونے کی تختیاں اس امر کا ثبوت ہیں کہ لوگ یہ اعمال کرتے ہیں اور انکو منع کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ 


عیساءی مذہب ہم سے پرانا ہے کوئی چھ سو برس،  ہم بھی اللہ سے برکت  و ثواب کی امید رکھنے اور ہر اچھائی و سختی اسی کی طرف سے ہے پر ایمان رکھنے کی بجائے بزرگوں کی باقیات و متعلقات  ، قبرات سے  لو لگاگئے ہیں،  وہ اپنے قطب آن لائن والے تو باقاعدہ اس پر پروگرام کررہے۔  اگلے دن دیکھا میں نے۔


فیس بک پر بھی آئے دن کوئی پیالہ کوئی ، گھاگر، کوئی ٹوپی ،   کسی بزرگ کا عصامبارک،  کسی کی تلوار، کسی کے بال مبارک ،   کی اشاعت ہوتی ہی رہتی ہے، موئے مبارک کی زیارت کا ایک پروگرام تو میں نے ٹی وی میں لائیو دیکھا،   مگر ایدھر اخیر ہی  ہے ، انہوں نے سانتو انطونیو کی لاش کو ہی نکال کر اس سے براہ راست ثواب کا حصول شروع کردیا ہے، معتقدین و زائرین رات تین بجے سے لیکر پھر رات 8 بجے تک گھنٹوں کے حساب سے انتظار کرکے،  ادھر  کھڑے  رہ کر ، بابا جی کی ہڈیوں  کی زیارت کرکے ثواب حاصل کرنے کےلئے کوششا ں رہے۔

اپنے ادھر کے حالات دیکھ کرلگ تو یہی رہا ہے کہ  چند سو برس بعد ہمارے ادھر بھی  کچھ یہی نظارے ہوں گے۔ابھی تو ہم صرف قبر پر جاکر فاتحہ پڑھ کر، نذرنیاز، منت سے کام چلارہے ہیں، مگرپھر   کسی مہابزرگ کو بھی سانتو انطونیو کی طرح قبر سے  نکال کے ان سے براہ راست برکت کا حصول شروع ہو جاوے گا۔  مگر چونکہ ہم مسلمان ہیں لہذا سانتو انطونیو ہمارے کسی کام کے نہ ہیں، ان بزرگ کا مسلمان ہونا لازم ہوگا۔  اپنے علی اور عمیر کی خاموشی یہ بتلارہی تھی کہ میرے ساتھ متفق نہیں ہیں۔

استغفراللہ،  اے اللہ مجھے معاف کرنا، تو ہی بڑا معاف کرنے والا ہے

مکمل تحریر  »

اتوار, جنوری 20, 2013

اٹلی اور یورپ میں رہنے والے ہوشیار

مشتری ہوشیار باش، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی۔

آپ نے فوریکس کا نام سنا ہوا ہے، تیل اور سونے مطلب گولڈ مارکیٹ میں بڑا نام ہے، کرنسی کی مارکیٹ میں بھی اس کمپنی کا اچھا حصہ ہے۔ Xforex اور euro4x کی طرح کی یا ان سے ملنے جلتے ناموں کی سائیٹس و فیس بک و دیگر سوشل میڈیا میں آپ کو نظر آئیں گی، جو آپ کو اچھی آمدن مطلب چار چھ ہزار یورو ایک ماہ میں کما کر دینے کا دعوہ کرتے نظر آویں گے۔

ہوشیارِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوشیار۔۔۔۔۔۔۔سوبار ہوشیار۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ فراڈ ہیں۔

 یہ آپ سے سب پہلے تین چار سو یور بنیادی انویسٹمنٹ کے نام پر اپنے ادھر منتقل کرولیں گے اور پھر آپ انکو ڈھونڈتے رہو، آپ ایک دفعہ انکو فون کرلو، یا اپنا نمبر دے دو کسی طریقہ سے، بس پھر آپ کو یہ کال پر کال، انکی اٹالین بولنے سے میرا اندازہ ہے کہ یہ لوگ رومانیہ یا البانیہ وغیرہ کے ہیں۔ آپ کو پہلی کال میں ہی ٹرانزیکشن کروانے کا کہیں گے۔ اپنا دفتر میلان یا کسی بڑے شہر میں بتاتے ہیں مگر آپ وزٹ کرنا چاہیں تو پبلک کےلئے کھلا نہیں ہے، کسی بندے سے ملنا انکی پالیسی میں شامل نہیں، بس فون سنو ایی میل ریسیو کرو اور پیسے دو۔


 فیر ہاتھ لگا لگا کر دیکھ کہ اے کی ہویا

مکمل تحریر  »

اتوار, دسمبر 23, 2012

ہماری سستیاں یا بدمغزیاں

ان  دنوں کچھ عجیب سے بد مغزی و سستی چھائی ہوئی ہے،   باوجود کوشش کے کچھ لکھا ہی نہیں جارہا،    حالانکہ ،  بہت سے موضوعات ایسے ہیں جن  پر لکھنا چاہ رہا تھا،  مثلاُ    ، فرعون  کے بارے  میں مذید کچھ ، پھر پاکستانی  بتوں کے بارے،  پھر مولبی قادری کے بارے،     بہن کے عاشق کے ہاتھوں ہونے والی شہید کے بارے،     مگر جب بھی لکھنے بیٹھتا ہوں تو  لکھ کر چھوڑ دیتا ہوں،   لکھ کر سیو کرنے کی بجائے پھر لکھنے کو کہہ کر ترک کردینا۔

وہ بھی دن ہوتے ہیں جب ایک دن میں دو دو پوسٹیں لکھ ماریں،  یا کسی دوست نے کہہ دیا تو ہم نے ادھ گھنٹے میں لکھ مارا،  مگر اب کی بار تو بس چپ ہی لگ گئی۔


میرے خیال میں تو یہ سب بدمغزی ہے، یہ پھر اس کو سستی کہہ لو،  کچھ اسے لاپرواہی   کہہ لو،  یا کچھ اور کہہ ، مگر سمجھ یہ نہیں آرہا کہ یہ سب کیوں ہورہا ہے، اب تو مایا کے کلینڈر کو بھی موردالزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔   تو پھر کیا ہوسکتا ہے۔ 

مکمل تحریر  »

جمعہ, ستمبر 28, 2012

ہت تیرے گوگگلو سیانے کی

فرعون
4
مذہب بابا بھلے شاہ
2
urduonline.blogspot.com+blog-post_23
1
φερητησ ροζ
1
جرنل نالج
1
حنأ ربانى كى سيكس
1
دنیا
1
سندھی میں کہتے ہیں کہ
1
سیکسی ویب پانہ
1
شعیہ سنی اردو
یہ حال ہے سرچنے والوں اور ادھر بھیجنے والے گوگلو کی عقل کو بھی داد ہے، شباش ہے وائی شاوا، بلکہ دُور  شاوا

مکمل تحریر  »

جمعرات, ستمبر 27, 2012

میں کی کراں

یار یہ جو جم ہوتا ہے بہت کتی چیز ہے، قسم سے 3 دن سے شروع کیا ہوا، مگر جب تک ادھر رہو، فٹ فاٹ، فل آف انرجی اور ادھر سے نکل تو درداں، ہائے میں کی کراں

مکمل تحریر  »

منگل, اگست 14, 2012

جریدہ اور بلاگ

ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ بلاگ اور ویب سائیٹ میں کیا فرق ہے، بلاگ کو لوگ جریدہ کیوں بنانے پر تلے ہوئے ہیں ادھر سے کاپی ادھر پیسٹ، ادھر سے پکڑا ادھر سے نقل کیا اور لوجی بلاگ ہوگیا، ایک زمانے میں کتاب بھی ایسے ہی لکھا کرتے تھے بلکہ اب بھی لکھ رہے ہیں، پکڑا پکڑائی کے مال سے کام نکال کر۔ کتاب ہوگئی جی، جس کے پیچھے کوئی نہ کوئ ذاتی تجربہ ہوتا ہے اور نہ کوئی مشاہدہ، بس جی ان بابا جی نے 665 کتابیں لکھیں، کوئی پوچھے لکھین یا لکھوائیں، اگر ایسا ہی ہے توبندہ ایک جریدہ شائع کیوں نہیں کردے ، ہیں جی

کہ اس میں بھی لکھنے والے اور ہوتے ہیں اور شائع کرنے والے اور، بندہ دوسروں کا مال چوری بھی کرسکتا ہے اور خود لکھ کر کوئی پینتی کے قریب لوگوں کے نام سے بھی شائع کرسکتا ہے۔ قارین کے خطوط بھی خود لکھ کر شائع کئے اور انکے جوابات بھی دیئے جاتے ہیں۔ 

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جولائی 28, 2012

بلاگ ھیک ہوگیا

کوئی ہے،
یار ادھر میرے بلاگ کے ٹاپ پر ایک اشتہار آرہا ہے، بلکہ نہیں ہر واری بدل بدل کر آرہا ہے، لگتا ہے کہ کنجر ٹائیپ کا ہیکر چکر دے گیا، کوئی صاحب اس سے جان چھڑانے کے نسخہ تو بتائیں، بلکہ اس سے پہلے یہ بتلائیں کہ کیا آپ بھی دیکھ رہے ہیں، ٹاپ پر ایک بینر جس کے ساتھ لکھا ہوا کہ: " یہ اشتہار اس سائیٹ کا نہیں ہے"؟
 کوئی پوچھے ان سے کہ فیر تمھارے چاچے کا ہے

کوئی مومن اس خباثت سے جان چھڑانے کا طریقہ بلکہ حکیمی و سنیاسی قسم کا نسخہ تو بیان فرمایں اور ثواب داریں حاصل کریں

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جولائی 21, 2012

لڑکی غائب

ایک محترمہ نے بعذریہ فیس بک پوچھا کہ اگر مجھے اس بارے کچھ علم ہے، تو مگر میری لاعلمی پر  " ایل جورنو "  نامی اخبار کا لنک فراہم کردیا،
ساری  خبر کا ترجمہ میں ادھر کردیتا ہوں،  باقی آپ جانیں کہ کس نظر سے دیکھتےہیں۔

میری بیٹی غائب ہوگئی ہے، اسے تلاش کرنے میں میری مدد کی جائے۔
مونزہ ،  سولہ سالہ پاکستانی لڑکی غائب۔
باپ: " وہ تو اسکول میں پہنچی ہی نہیں"  اسکے پاس پیسے تھے نہ ڈاکومنٹس،  مگر ایک دکاندار نے اسے ایک لڑکے کی کمپنی میں دیکھا۔
اچانک ہی گم ہوگئی  نو جولائی سے،  اسکا نام ہے  عائشہ پروین،   پاکستانی، سولہ برس کی ہے،  لمبے سیاہ بال جو چہر ے کو فریم میں لاتے ہیں،  ایک میٹر ساٹھ کی قامت، متناسب جسم،  وزم چالیس کلو کے قریب،   سرکاری طور پر وہ صبح گھرسے اسکول جانے کو نکلی ، جہاں وہ  بنیادی زبان کی تعلیم لیتی ہے، اور یہ اسکول گھر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے،  مگر عائشہ اس اسکول میں شاید کبھی گئی ہی نہیں۔

اسکول میں اس صبح اسے کسی نے دیکھا ہی نہیں ،  نہ پروفیسروں نے اور نہ ہیں اسکے کلاس فیلوز نے،  اسکا باپ عجائب حسین عمر 53 برس قومیت پاکستانی ، جو اٹلی میں دس برس سے زیادہ کے عرصہ سے مقیم ہے اور باغبانی کا کام کرتاہے،  ہمت ہارچکا ہے۔ وہ ، اسکے اہل خانہ، دوست، ہم وطن سب ملکر اسی شام سے اسے تلاش کررہے ہیں۔  اسکا بڑا بیٹا بلال ، ذاتی طور پر پرچا کٹوانے گیا تھا دوسرے دن ہی کاریبینیری کے متعلقہ دفتر میں۔

باپ کے بقول: " ساڑے بارہ بجے تک جب وہ واپس گھر نہیں آئی تو ، میرا بیٹا اسے اسکول میں تلاش کرنے گیا مگر وہاں پر معلوم ہوا کہ وہ تو اسکول گئی ہی نہیں ،   ہم نے اسے ہر جگہ تلاش کرنا شروع کردیا، ہسپتالوں میں ، مما ریٹا کے گھر میں ۔۔۔۔۔۔۔،  تین برس قبل عجائب حسین نے اپنی فیملی کو مونزہ میں بلاکر اکٹھا کیا، جس میں اسکی بیوی کے علاوہ چھ بچے بھی ہیں، بیس برس سے بارہ برس کی عمر تک کے۔ مسلمان اور رسم ورواج کے پابند،  "مگر ہم ان بریشیا کے پاکستانیوں کی طرح نہیں ہیں"،  عجائب حسین ہاتھ اگے رکھ کر   بریشیا میں چند برس قبل والد کے ہاتھوں قتل ہونے والی لڑکی حنا سلیم کا حوالہ دے رہا تھا،  جس پر مغربی طرز حیات کو اپنانے کا الزام تھا۔

جبکہ ٹوٹی پھوٹی اٹالین میں ، گلہ بھر کر بیان کررہا تھا کہ جب سے عائشہ گم ہوئی ہے تب پوری فیملی پریشان ہے  " ہم نے تو کھانا تک نہیں کھایا"۔ عجائب حسین اس دوران متعدد بار پھٹ پڑ ا ، رونا ضبط کرلیا مگر  اسکے آنسو نہ نکلے۔ تصویر جو بنتی ہے وہ سب مگر واضع نہیں: لڑکی صرف اردو میں ہی بات کرسکتی تھی جو پاکستان کی قومی زبان ہے، اسے اٹالین کا ایک لفظ نہیں آتا تھا  جبکہ وہ دو برس سے  بیلانی نامی مڈل اسکول میں زیر تعلیم ہے ، عین ممکن ہے کہ اسکول کے اساتذہ نے ہی اسے بنیادی اٹالین کے اسکول میں میں پڑھنے کا مشورہ دیا ہو۔


باپ کے بیان کے مطابق اسکے دوست نہ تھے اور لڑکے تو بلکل بھی نہیں،  (مگر اس صبح ایک دکاندار نے اس لڑکی کو ایک غیر ملکی لڑکے کے ساتھ دیکھا ہے)، صرف ٹی وی دیکھ لیتی تھی، ( وہ بھی انڈین فلمیں )،  وہ انٹرنیٹ کا استعمال نہیں جانتی تھی اپنے بھائیوں کے برعکس،  "بس اپنے کمرے میں گھنٹوں چپ چاپ  پڑی رہتی،نہ تو احتجاج کرتی تھی ، نہ ہی  کوئی مطالبہ نہیں کرتی تھی، نہ  ہی پیسے مانگتی تھی،  کچھ بھی تو نہیں کہتی تھی"۔ گم ہونے کی صبح اس نے گلابی رنگ کی چھوٹے بازوؤں والی قمیض  پہنی،  براؤن رنگ کی  پنتلون اور جوتے، اور دوپٹہ سر ڈھانپنے کو۔  تفتیش کاروں  کا جبکہ خیال ہے کہ عائشہ خود ایک طرف ہوگئی ہے، اور یہ کہ اسے ممکنہ طور پر کسی  کی پناہ حاصل ہے،  شاید کسی ہم وطن کی۔

"یہ  میرے بچوں میں سے چوتھے نمبر پرہے"۔ عجائب حسین بیان کررہا تھا۔ میں تو بس اسکےلئے ایک دن ایک اچھا شوہر تلاش کرنا چاہ رہا تھا، اٹلی میں ایک لڑکی کےکرنے کے کام نہیں ہیں۔   ایک شوہر شاید باپ کا منتخب کردہ،  جو گرمیوں کے بعد بڑی بیٹی کی شادی کرنے کا اہتمام کررہا تھا " ایک ہم وطن دوست کے بیٹے کے ساتھ۔۔ ۔ "  مزید کچھ کہنا اس نے مناسب نہ سمجھا:میری بیٹی اس لڑکے کا فوٹو دیکھ پائی تھی اور انٹرنیٹ پر اس سے رابطہ بھی کیا تھا،  "اگر وہ اسے پسند نہ آتا یا وہ اس سے شادی نہ کرنا چاہتی تو اسکےلئے ایک اور تلاش کرلیتا۔۔۔۔۔۔۔۔"۔

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش