بدھ, جولائی 01, 2015

پہلا روزہ، کچھ یادیں

جب پوری طرح  ہوش و حواس سنبھالے اور جب سے یاداشت  نے کام کرنا شروع کیا تھا پوری طرح تو ہم پہلا روزہ رکھ چکے تھے، مطلب "چڑی روزہ"  جو صبح آٹھ بجے ناشتہ کے وقت رکھا جاتا تھا اور دوپہر کو کھولا جاتا ، پھر شام تک افطاری  کے دسترخوان تک "سفید ٹوپی" پہن کے روزہ داروں کے ساتھ روزہ کھولاجاتا۔ یا پھر پہلا اور آخری روزہ رکھ کر باقی کے روزے بیچ میں آجانے کا اعلان ، یہ بھی ہمیں نہ ملا۔ 


جب سے یاد ہے وہ یہ کہ روزے موسم " چیت بیساکھ " کے تھے، جس کو اردو میں موسم بہار کہا جاتا ہے۔ ایسے میں صبح کی خنکی میں سحری کےلئے جاگنا  اپنی جگہ مزیدار بات تھی۔ میں  چونکہ اپنی نوعیت کا سب سے چھوٹا بچہ تھا ، بڑے بھائی صاحب مجھے سے کوئی پندرہ برس بڑے تھے پس سب روزہ داروں کو دیکھ کر "بڑوں کے جوتے میں پاؤں" کب ڈلا  ، کچھ یاد نہیں ہے۔ 

البتہ یہ ضرور یاد ہے کہ ہمارے داداصاحب مرحوم جو بہت ہنس مکھ انسان تھے ہم انکو  "اجی جی"  کہتے ہیں۔ پہلے روزے کی سحری کو اٹھتے ہی نعرہ ماردیتے ہنستے ہوئے،  " گئے روز ے سوہاوڑے ، باقی رہ گئے نو تے  وی"  ( گئے روزے پاک باقی رہ گئے  نو اور بیس۔)  اور سب ہنس دیتے۔ کہ  "اجی جی" ابھی تو پہلے روزے کی سحری شروع ہوئی ہے ،   جواب ملتا  " بس پترو شروع ہوگئے تے مک گئے"   ۔   یوں ہنستے کھیلتے سحری میں روزہ رکھا جاتا۔ تازہ روٹی کی دیسی گھی میں بنی ہوئی چوری اور گنے کی شکر۔ ساتھ میں تازہ  دھی کا ادھ رڑکا۔  ادھر کہیں دور سے ہوٹر بجتا اور الحمدللہ۔  روزے داروں نے روزے رکھ لئے۔ 

روزہ کی افطاری کا وقت شروع ہوتا تو تیاری میں  سب سے پہلے گھر میں گھومتا ہوا سب سے موٹا ککڑ پکڑا جاتا اسکا سالن بنتا اور میں تازہ جو کے ستو اور گڑ کا شربت  ایک بڑی سی بالٹی میں بنتا،  کھجوریں ، تندور کی روٹیاں اور  پہلے روزے کی افطاری کی بھاگ دوڑ لگ جاتی۔  جا میرا پتر  " اپنی دادی شاد "کو افطاری پھڑا آ،   وہ تو تیرے ساتھ بہت پیار کرتی ہے۔ جابچہ بھاگ کرے دادی فرمان کو بھی پکڑآ ،وہ ماسی مختوماں بھی تو ہے،  جابچہ، جابچہ۔ 

اور ایسے میں افطاری کا وقت ہوجاتا، اور اجی جی ختم شریف شروع کردیتے، کافی دیر تک قرآن کی تلاوت ہوتی پھر تفصیل سے دعا مانگی جاتی جس میں سب فوت شدگان کو نام بنام یاد کیا جاتا، ادھر دعا ختم ہوئی ادھر ہوٹر  بجا اور ادھر روزہ کھلا اور ادھر سب بھاگے مسجد کی طرف۔

دوسرے دن آٹھ تے وی ، پھر ست تے وی، اور پھر جب پندرواں روزہ  ہوجاتا تو پھر  "اجی جی " گنتی چھوڑ دیتے۔ کہ اب روزے مہمان رہ گئے ہیں اور مہمانوں کے جانے کے دن نہیں گنا کرتے۔
اللہ ان سب مرحومین کی مغفرت کرے, زندوں کا روزہ قبول کرے اور نہ رک
ھنے والوں کو روزہ چکھنے کی توفیق عطافرمائے

نوٹَ
یہ تحریر لکھنے کی تحریک دینے کےلئے محترمہ کوثر بیگ صآحبہ کا بہت ہی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ جنکا حکم نازل ہوگیا، بھائی اپنے پہلے روزے بارے لکھ دو۔ 




مکمل تحریر  »

جمعرات, فروری 05, 2015

یوم یک جہتی کشمیر

آج پانچ فروری ہے، یوم یک جہتی کشمیر، 
عام آدمی کی حالت، مار مار نعرے شام تک گھلے بٹھا لیں گے، پھر چار دن تک گرم پانی مین نمک ڈال کر غرارے کرتے رہین گے۔ یہ وہ ہین جو اسکے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔ آواز اٹھارہے ہیں 

حکمرانوں کی حالت، لوٹ کھسوٹ مین مگر، ممکن ہے کوئی ویلا آدمی ایک ادھا بیان دے بھی دے، مگر اپنی تماشبینی میں مگن، یہاں حکمرانوں سےمراد سیاہ ست دان ہیں، چاہے وہ کسی پارٹی کے ہوں، ٹی پارٹی کے بھی، وہ اپنے آپ کو حاکم تصور کرتے ہیں۔ 

حالانکہ ثانی الزکر کشمیر کےلئے بہت کچھ کرسکتے ہیں، مگر اس سے پہلے انکو پاکستان کےلئے کچھ کرنا ہوگا، ایک مضبوط پاکستان ہی کشمیر کی آزادی کے اور وہاں پر لوگوں کے حقوق کا ضامن ہوسکتا ہے، کشمیری عوام کے ساتھ یک جہتی کرنے سے پہلے اپنے اندر یک جہتی پیدا کرلو،  یہ بات تو بہت اچھی ہے اور لازم بھی ، 

مگر

لگتا اایسے ہی ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو پاکستان کی عوام سے نہ صرف یہ کہ ہمدردی کوئی نہیں، بلکہ لگتا یہ ہے کہ انسے کوئی خدا واسطے کا بیر ہے۔ 
ویسے اس بیر کی وجہ کیا ہے؟؟ کوئی ہے بھی کہ نہین؟؟



مکمل تحریر  »

اتوار, جولائی 13, 2014

اسرائیل، عیسائی عرب اور شعیہ سنی ریاستیں


شمالی اٹلی کے شہر پادوا  (Padova) میں ہم لوگ ڈاکٹر ز کےلئے بنیادی ہومیوپیتھی کا ایک کورس متعارف کروا رہے ہیں،  اس سلسلہ میں میری مدد میری کولیگ اور بہت اچھی دوست  "ڈاکٹر دوناطیلہ"   (Donatella)کررہی  ہے۔  اسی سلسلہ میں ہمیں ایک کانفرنس ھال کی  ضرورت  ہے ،  مجھے رابطہ دیا گیا ایک ہوٹل کا جنکے ہاں کانفرنس ھال بھی ہے  اور ریسٹورنٹ بھی۔   یہ رابطہ مجھے دونا طیلہ نے دیا اور تاکید کی کہ   ریکاردو   ( Riccardo،انگریزی ریچرڈ  ) کے ساتھ  بات کرلو اور پہنچ جاؤ موقع پر ، بس میں نے فون کیا  ملاقات طے کی اور پہنچ گیا وقت مقررہ پر۔

ریکاردو بہت اخلاص سے ملا،  اس نے ہوٹل کا روٹین کے مطابق وزٹ کروایا،   ساری سیٹنگ دکھائی ، اچھا ہوٹل ہے فور اسٹار ،    کشادہ کانفرنس ہال، ریفریشمنٹ ایریا ، بہترین  کچن اور کمرے، مطلب سب کچھ جس کی ہمیں ضرورت تھی ۔ کرایہ  وغیرہ  کی بات ہوئی اور آخر میں مجھے کہنے لگا کہ تمھیں   کچھ پینے کی آفر کرسکتا ہوں؟؟
میں ۔۔ نہیں ،  بہت شکریہ ،  میں روزہ سے ہوں۔
ریکاردو۔۔ اوہ  ہو، مسلمان ہو؟؟
میں ۔۔ ہاں ہوں۔
ریکاردو۔۔تم اٹالین تو نہیں ہو؟ کہاں سے ہو؟؟
میں    ۔۔نہیں تو ۔   ابھی تک پاکستانی ہوں،   وہیں  پیدا ہوا تھا، وہیں پر تعلیم تعمیر ہوئی اور اب بہت برسوں سے ادھر ہوں۔
ریکاردو ۔۔ ہاں وہ تو تمھاری بات چیت سے ہی لگ رہا کہ  کافی عرصہ سے ہو،  ویسے تمھارے نام سے ہی میں سمجھ گیا تھاکہ برصغیر سے ہے کوئی، تو ملا ہاتھ ، میں  اسرائیلی شہری ہوں۔  مگر عرب ہوں۔
میں ۔۔ بہت خوشی ہوئی ، پھر تو ہم دونوں مسلمان ہوئے؟؟
ریکاردو ۔۔ پرجوش طریقے سے ہاتھ ملاتے ہوئے،  نہیں میں مسلمان تو نہیں ہوں  عیسائی ہوں، مگر عرب ہوں۔  عرصہ تیس  برس سے ادھر رہ رہا ہوں،  میں فلسطینی عرب ہوں پر اب اسرائیلی شہریت رکھتا ہوں، ہم فلسطینی  بھی عجیب  ہیں، وطن تو ہمارا  اسرائیلیوں کے قبضہ میں چلا گیا ہے اور ہم بھی اب تقسیم ہوگئے ہیں،   شامی فلسطینی، اسرائیلی فلسطینی،  لیبنانی فلسطینی، اردنی اور پتا نہیں کون کون سے۔
میں۔۔  مگر ریکاردو، یہ شام، فلسطین ،  لبنان، مصر سب چھوٹے چھوٹے ملک ہی تو ہیں،  اور سب ہیں بھی عرب ہی،  تو پھر ایک ہی بات ہوئی  کہ نہیں؟؟
ریکاردو۔۔ہاں  ،   بات تو   ایک ہی ہے ،   ہم  سب عرب ہیں، ہماری زبان ایک ہے، ہماری تہذیب ایک ہے، کھانے اور تہوار ایک ہیں، فرق ہے صرف مذہب کا، تو میں تمھیں یہ بتا  دوں کہ صرف مذہب کا فرق کچھ زیادہ نہیں ہوتا،  ہم لوگ صدیوں سے عیسائی ہیں، پر کبھی احساس ہی نہیں ہوا،     میں تمھیں بتاؤں   کہ میرا باپ جب ذبح کرتا تھا دنبہ تو مکہ کی طرف منہ  کرکے کرتا تھا  اور تکبیر پڑھتا تھا، سبحان اللہ  وللہ اکبر ولاالہ الااللہ ۔ حالانکہ وہ عیسائی ہی  ہے مگر یہ تو تہذیب کی اور رواج کی بات ہے۔ عیدین سب کی ہوتی ہیں، رمضان آتا ہے تو ہم لوگ روزہ  دار کے سامنے کھانا پینا بہت برا سمجھتے ہیں۔

بات یہ ہے کہ ہمارے لئے سب سے بڑی بات ہے ہمارا عرب ہونا،  گو کہ    میں بھی اسرائیلی شہری ہوں مگر اسرائیلی شہری ہونا اور بات ہے اور یہودی ہونا اور بات ہے،   اسرائیل ایک راشسٹ ملک ہے، اور یہودی  راشسٹ قوم،  کہنے کو تو اسرائیل ایک جمہور ی ریاست ہے مگر صرف یہودیوں کےلئے، عربوں کے ساتھ جو ہوتا ہے چاہے وہ مسلمان ہوں چاہے عیسائی،  وہ بہت ہی برا ہے،  ہم تیسرے درجہ کے شہری ہیں ،  اور جو کچھ ہمیں سمجھا جاتا ہے اسکا  اندازہ  ائرپورٹ پر پہنچ کر ہی ہوجاتا ہے۔ جو کتے والا سلوک ہم سے ہوتا ہے، جو ہر غیر یہودی سے ہوتا ہے۔
اب دیکھو یہ جو کچھ غزہ میں ہورہا ہے،   یہ ایک بڑی پلاننگ کا حصہ ہے،  اب غزہ کی پٹی کو بھی ختم کرد یا  جائے گا، مسلمانوں  اور عربوں کو صاف کردیا جائے گا اور پھر اسرائیلی سرحد بڑھنی شروع ہوجائے گی شام اور عراق کی حدود میں۔

 اس بات کی منصوبہ بندی گزشتہ صدی میں ہی کر دی گئی تھی۔  اسرائیل کے ارد گرد کا علاقہ چھوٹے  چھوٹے ممالک میں تقسیم کر  کے انکو آپس میں لڑا دو،    تاکہ وہ اسرائیل کا مقابلہ نہ  کرسکیں، سن لو اس خطہ میں عراق ایسا ملک تھا جو اسرائیل سے نزدیک ہونے کے ساتھ ساتھ اسے نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا تھا،  اور  گریٹر اسرائیل  کے راستہ میں رکاوٹ بن سکتا  تھا۔ بس اس کو ملیامیٹ کردیا گیا، سوریا ایک ملک تھا جو اسرائیل کو آنکھیں دکھاتا تھا ، اس کی بھی ناس ماردی گئی، اسی طرح  مصر میں آنے والی اسلامی حکومت اسرائیل کےلئے خطرہ بن سکتی تھی اسکو بھی قابو کرلیا گیا۔ ، دوسری  شفٹ کے طور پر مجاہدین  اسلام کو خلافت کے نام پر شام اور عراق میں وہ فساد ڈالنے کو بھیجا گیا ہے کہ ان ممالک  میں وہ  افراتفری نافذ ہوجائے کہ کوئی کسی کو پوچھنے کےلئے باقی ہی نہ رہے، لوگوں کو زندگی اور موت کی پڑی رہے، مذہب، ثقافت، مسلمانیت یا کچھ اور کی ہوش ہی نہ رہے۔

سن لو  کہ اب عراق کو شیعہ اور سنی ریاستوں میں تبدیل کردیا  جائے گا۔   بھئی کیوں؟؟ کیونکہ    سارا خطہ عرب ہے، سارے مسلمان ہیں تو اس خطہ میں یہودی ریاست کیسے وجود میں آسکتی ہے،   یا  اسکا وجود کیسے پنپ سکتا ہے،  وہ اسی صورت میں ہے،  جب ایک شیعہ ریاست ہے، ایک سنی ہو، ایک کرد ہو،  لیبنانی ، شامی ، مصری اردنی مصری ریاستیں تو پہلے ہیں موجود ہیں مگر وہ مذہب یا فرقہ کے نام پر نہیں ہیں، صرف     اسرائیل ہی ہے مذہب کے نام پر،  اس کا تو کوئی اخلاقی جواز ہی نہیں ہے۔   اب جب دیگر شیعہ ، سنی ریاستیں بنیں گی تو کہا جاسکے کہ "جناب اگر مذہبی فرقہ کی بنیاد پر ریاستیں بن سکتیں ہیں تو  یہودی تو ایک الگ مذہب ہے، انکی اپنی ریاست تو لازم   طور پر بنتی ہی بنتی ہے"۔ 


ایسے ہی  یہ جو مجاہدین اسلام چل نکلے ہیں یہ مسجدیں ، خانقاہیں اور مزارات کو اکھیڑ رہے ہیں، یہ گریٹراسرائیل کا ہراول دستہ ہے، یہ تمھارے طالبان کی طرح  ہی ہیں، جنکا کام صرف اور صرف ملک اور خطہ میں دہشت ، افراتفری اور شورش پھلانا ہے، کہ کوئی نظام زندگی رائج نہ ہوسکے اور عربوں اور مسلمانوں کوصرف زندگی بچانے کی جدوجہد تک ہی محدود رکھا جائے کیونکہ ایک صحت مند اور ترقی یافتہ قوم  اپنے ارد گرد بھی دیکھتی ہے۔   جوکہ گریٹر اسرائیل کےلئے شدید اور بڑی رکاوٹ ہے،  ویسے اس وقت بڑی رکاوٹ پاکستان اور اسکی  فوج ہے کہ یہ خطے میں واحد مسلمان ملک ہے جس میں اپنے مکمل دفاع کی ہی صلاحیت موجود نہیں ہے بلکہ یہ گریٹر اسرائیل کے راستہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے، پھر ایران اور پھر ترکی، اور سب سے آخر میں سعودی عرب کا نمبر آئے گا، کہ اگر پہلے اس پر ہاتھ  ڈالیں تو ساری دنیا کے مسلمان ممالک اسکے ساتھ ہیں۔

ریکاردو کی آنکھوں میں آنسو تھے اور سرجھکا ہوا تھا،   میں بھی خاموشی سے بغیر کچھ کہے سرجھکا کر  مصافحہ کرکے نکل آیا۔


مکمل تحریر  »

ہفتہ, جنوری 26, 2013

بلاگنگ اور رسہ گیری

ویسے تو  کہا جاتا ہے کہ بلاگنگ  ایک ذاتی فعل ہے ،  یہ بات ہے بھی سچ بادی النظر میں  کہ بلاگر کا بلاگ اپنا ہوتا ہے، گویا اسکی اپنی دنیا یا اسکا اپنا گھر، کہنے والے چمن بھی کہتے سکتے ہیں،  جیسے مرضی اسکو سجائے سنوارے، اسکو ترتیب دے، جو مرضی لکھے، جیسے مرضی اور جب مرضی،  مطلب فل آزادی،  چاہے ذرداری کو گالیاں دے، چاہے، مولبی طاہر القادری کے کیڑے نکالے  یا نواز شریف کےنئے نئے بالوں کا ذکر کرے، بھلے عمران خان کی ساٹھ سالہ نوجوان قیادت کا ڈھنڈورا پیٹے، الطاف بھائی کا بڑاں بڑا ں والا خطاب سنائے۔  یا  پھر میری طرح سفر نامے لکھے یا  بدمغزیاں مارے۔

خیال تھا کہ ایک آزاد میڈیا کے طور پر چلے گا، جس میں ہر بندہ بلاگ بنا کر اپنے دل کے پھھپولے پھوڑے۔  دوسروں کو گالیاں دے۔  لطیفے بھی سنائے، سیاہ ست اور سیاہ ست دانوں پر لمبے تبصرے۔ پوری قوم کو بھلا برُا کہنا،   مگر سب ایسا نہیں ہے۔ جب آپ بلاگ لکھتے ہیں تو اسکے پڑھنے والے بھی ہوتے ہیں اب آپ کے بلاگ کے پڑھنے والے وہی  ہونگے جو آپ جیسے ہوں، جو وہی پڑھنا چاہتے ہیں  جو آپ لکھ رہے ہیں ، نہیں تو اگلے نے دوسری بار نہیں آنا۔

مگر سب کچھ یہاں تک نہیں ہے، بلاگنگ نے ایک  سرکل کی شکل اختیار کرلی ،  جس میں  کچھ لوگ جو ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں وہ  ایک دوسرے کے قریب ہوگئے، ہوتے جارہے ہیں۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ بلاگرز ہی ایک دوسرے  کے بلاگز پر تبصرہ کرتے ہیں اور جوابی تبصرہ کرنے کا انتظار بھی، میرے ادھر بھی ، تقریباُ  وہی احباب تبصرہ کریں گے جنکے بلاگز پر میں جاتا ہوں۔ مطلب   یہ ایک قسم کی رسہ گیری بھی ہوگئی ہے، آپ کے جتنے ذاتی تعلقات ہیں آپ کے بلاگ پر اتنے لوگ ہی آئیں گے،  ورنہ  اگر کوئی آ بھی گیا تو تبصرہ کئے بغیر نکل لے گا جس طرح آپ سے پہلے دو صاحبان نے  پوسٹ پڑھی اور بغیر تبصرہ کئے "اڑنچھو" ہوگئے۔
وہی اکبر آلہ آبادی کے بقول :     اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے

آج تو ادھر جلسہ بھی ہورہا ہے اردو بلاگز کا، ادھر بھی  جو جسکی تعریف کرے گا اگلا اسکی    " تریفوں" کے ٹل  باندھ دے گا۔  منہ پر ویسے بھی ہمارے ادھر  تنقید کرنے کا رواج نہیں ہے نہ ہیں ہمت۔ اگر میں بھی ہوتا تو لازمی طور پر یہ پوسٹ لکھنے کی بجائے ادھر کسی کی تعریف کررہا ہوتا یا پھر سن رہا ہوتا۔  گویا   انسانی  طور پر  وہی کچھ لو اور کچھ دو۔

تبصرہ کرو تبصرہ کرواؤ،  اچھا تبصرہ ہوگا تو جواب بھی اچھا ملے گا، اگر میں آپ کے بلاگ پر چیں چیں کرکے آیا ہوں تو ادھر بھی لازمی طور پر " چیں چیں"  ہی ہوگی۔
نتیجہ :  جیسی کرنی ویسے بھرنی۔  


مکمل تحریر  »

اتوار, اگست 05, 2012

پاک چین رشتہ داری زندہ باد

لوجی پاک چین دوستی ایک اور قدم آگےبڑھی اور ہماری ایک کزن کی شادی ایک چینی نژاد  یوسف  سے بمعہ تمام مقامی رسومات اسلام آباد میں بخیر خوبی انجام پائی، بغیر ہماری شرکت ، مگر ہمارے اہل خانہ ہماری نمائندگی کو ادھرموجود تھے،  بقول ہماری خاتون اول کے مہمان آپس میں چینی زبان میں گفتگو کررہے تھے جبکہ ہمارے ساتھ انگریزی میں ، جبکہ کوئی کوئی بندہ اردو بھی بولتا تھا۔ ابھی ولیمہ چین میں ہوگا ،  جس کےلئے مہمان چین تشریف لے جائیں گے۔ مگر اندیشہ یہ ہے کہ ہوسکتا  ہے کہ ادھر ہمارے چینی رشتہ دار اردو و انگریزی بولنے سے انکاری ہوجائیں،  اور مہمانوں کی جان پھسی شکنجے اندر۔ 

   جناب  پاک چین دوستی ، پاک چین رشتہ داری  میں تبدیل ہوئی۔


اللہ اس نو بیاہتا جوڑے کوخوش خرم رکھے 

مکمل تحریر  »

اتوار, جولائی 08, 2012

کتا پالنا


اب کتے کے بارے میں تو  اردو  میں مزید کچھ لکھنا توممکن نہیں ہے کہ پہلے ہی اتنا کچھ لکھا جاچکا ہے مگرہمارے خیال شریف میں   کتا پالنے کے بارے لکھنے کی گنجائش نظر آتی ہے  بادی انظر میں  ، گویا
مجنوں نظر آتی ہے لیلٰی نظر آتا ہے۔
کتے کی اقسام دنیاکے دیگر ممالک کی طرح اٹلی میں بھی آپ کو کتے  کی کئی اقسام نظر آئیں گی ایک اصلی کتا اور دوسرا نقلی کتا  اٹلی میں ہر طرف آپ کو کتے نظر آئیں گے، اصلی بھی اور نقلی بھی ، اصلی کتا وہ ہوتا ہے جو باہر سے ہی نظر آجاتا ہے اور آپ  کہہ اٹھتے ہیں اوئے کتا اور دُور ، دُور  بھی،   مگر وہ برا نہیں مناتا، جبکہ نقلی کتے کی پہچان کرنا اول تو ممکن نہیں ہے آپ کو تب پتا چلتا ہے جب آپ کی بوٹی نکل چکی ہوتی ہے اور آپ اگر اسے کتا کہیں تو  فوراُ سے پیشتر پھر سے آپ پر حملہ آور ہوجائے گا کہ آپ کی ایسے جرٰات، ہمارا آج کا موضوع اصلی والا کتا ہے، جی ہاں  وہی چار ٹانگوں والاجسکے ایک عدد دم بھی ہوتی ہے اور بے ضرورت بھونکتا ہے اور بوقت ضرورت کاٹتاہے۔

 کتا پالنا      اٹلی میں کتا پالتا بہت ہی مشکل کا م ہے جی بلکہ جان جوکھوں کا، پھر بھی لوگ کتے پالتےہیں  اور بے شمار پالتے ہیں،  انکے خیال میں انسان نما  مخلوق کو پالنے کی بجائے کتا پالتا ہی بہترہے، اور اس کے کچھ فوائد بھی بیان کرتے ہیں  مگر  ان سے ہمیں کچھ لینا دینا نہیں،  پر کہے دیتے ہیں کہ یہاں پر کتا پالنا اتنا آسان نہیں ہے، ہر گلی محلے میں کتا  ملے گا، اور وہ  بھی ہر سائیز کا،  چھوٹا بھی اور بڑا بھی،  اکثریت صرف بھونکنے والوں کی ہے۔  کاٹنے والے کم ہی نظر آتے ہیں۔ 

ہمارے سامنے کے گھر میں ایک اطالوی  خاتون نے بڑا سا جرمن شیفرڈ کتا پالا ہوا ہے، جسکا کام ہر ایرے غیرے کو جو بھی گلی میں داخل ہو دیکھ کربھونکنا ہوتا ہے،  اور وہ ظالم اس وقت تک بھونکتا ہے جب تک آپ  اسکی نظروں سےاوجل نہ ہو جائیں،  اپنے عبدلمالک صاحب کہہ رہتے تھے کہ جناب مجھے تو اس کتے نے بہت دکھی کیا ہوا ہے،   آتے جاتے بھونکتا ہے اور اس شدت کے ساتھ بھونکتا ہے کہ دل دہل جاتا ہے، کوئی پوچھے اس محترمہ 
سے کہ اسکی سارے دن کی ہاؤ ہاؤ سے تمھارا مغز خراب نہیں ہوتا۔

یہاں پر ایک اور بھی مسئلہ ہے کہ گھر کی دیواریں بہت چھوٹی چھوٹی ہیں اور خطرہ ہی رہتا ہے کہ کب یہ دیوار پھلانگ ہماری ٹانگ کو آ دبوچے،   ہمار ے دوست راجہ اسد کے بقول کہ اگر ایسے ہوجائے تو بس سمجھ لوکہ  آپ کے وارے نیارے ہوگئے، کیونکہ  ادھر تو ہر کتے کی انشورنس لازم  ہوتی ہے، اگر آپ کو کتا کاٹ کھائے تو انشورنس کے پیسے  ملیں گے اور وہ بھی جی بھر کے، پس ہمارے بھی ہر کتے کو دیکھ کر دل چاہتا ہے کہ آکتے ہمیں کاٹ کہہ کر اپنی ٹانگ اسکے  آگے رکھ لیں  مگر پھر فوراُ ناف میں لگنے والے چودہ ٹیکوں کا خیال آجاتا ہے۔ اور ہم  چپ  ۔

یہاں پر تو کتوں کی موجویں لگی ہوئی ہیں جی، صرف کتوں کےلئے اسکول ہی نہیں ہے   باقی کسر کوئی نہیں، ہر سپر مارکیٹ میں کتوں کےلئے الگ سے پورشن موجود،  ہر محلے میں کتا ہسپتال لازم اور وہ بھی رہ وقت  رش کے ساتھ،   یہیں تک نہیں بلکہ کتوں کےبال اور ناخن کاٹنے کے مراکز الگ سے ہیں، پھر اوپر سے خوبصورت خوبصورت بییبیاں انہیں سینے سے لگائے گھوم رہی ہوتی ہیں،  اور کئی کو تو ہم نے باقائدہ  پیار کرتے بھی دیکھا ،   اور یہ بھی سنا کہ وہ انہیں رات کو بھی ساتھ بستر میں سلاتی ہیں، اس سے زیادہ معلومات ہمارے پاس نہیں ہیں ،   مگر سچ بات ہے کہ ہم آواگون کے نظریہ کے قائل نہیں ورنہ اپنا اگلا جنم کتے کی شکل میں ہی مانگ لیتے مگر اس میں بھی خطرہ ہے،  کہ اگر بھگوان نے آدھی سن لی اور بنا کتا دیا مگر ادھر ایشیا ء میں تو پھر تو مٹی پلید ہوئی کہ ہوئی، پس   جو ہیں اسی پر قناعت منا سب ہے۔

ہمارے ممالک میں تو کتے کو نجس قراردیاجاچکا، اور ہمارے اپنے گھر میں کتے کا داخلہ ممنوع ہے،  صرف ایک ہی صورت ہے کہ کتا اگر رکھوالی کےلئے ہوتو،  جبکہ ادھر تو کتے سے پوری محبت ہے جی،  اور بندے کے سوشل ہونے معیار بھی، بلکہ میں تو کہتا ہوں کے جس نے ادھر ترقی کرنی ہے  وہ کتے سے محبت کرے پھر اسکی مالکن سے اور پھر بندے خود سیانے ہیں،  یورپ میں اول تو شادیاں ہوتی ہی کم ہیں مگر جو ہوتی ہیں سنا ہے کہ اکثریت کی لواسٹو ری  میں کتے کی محبت  ہی شامل ہے۔ ہماری ایک برازیل کی کلائینٹ تھی بڈھی ماریلینا، کوئی پچپن برس کا سن ہوگا،  اور سوشلی کنواری تھی،  مطلب قانونی و کاغذی طور پر ، مگر شادیاں کروانے کا ایک بڑا ادارہ چلاتی تھی۔ وہ بتا رہی تھی کہ پیٹ میچ کی ایک سوشل ویب سائیٹ پر کام کررہی ہے  اور اس پر دس ہزار یورو  کی انویسٹ منٹ کرے گی، کہ جی ادھر بندے کے پاس سہولت ہوگی کہ اپنے کتے کا میچ تلاش کرے اور پھر اپنا بھی،
آگے ہمت بندے کی اپنی،  ویسے تو دیکھا گیا ہے کہ ایک خوبصورت بی بی سے بات کرنا ایک کارمشکل ہے اور کالج کے زمانے میں تو یار لوگ باقاعدہ  منصوبہ بندی کرکے شرط باندھا کرتے تھے۔ ادھر اٹلی میں بھی کسی پاکستانی کا کسی لڑکی سے یوں ہڑہڑکر بات کرنا شاید اتنا آسان نہ وہ۔   مگر  ادھر جس بی بی کے ہاتھ میں کتے کی  ڈوری  کو بندہ اپنی قسمت کی ڈوری سمجھے،  بس  وہی اوپر کتے سے محبت  اور کتے والی سے محبت  کی ضرب المثل یادکرلیجئے۔ ہماری رائے میں ہر نئے آنے والے نوجوان کو ایک کتا ساتھ لے کر آنا چاہئے ، یاپھر ادھر آکر سب سےپہلا کام یہی کرنا چاہئے کہ کتا پالے۔  

 کتے کے بارے  اس سے قبل  پطرس بخاری اور ابن انشاء جیسے لوگ بہت کچھ لکھ چکے ہیں،   کچھ احباب   میری اس تحریر کا   مقصد عظیم  اپنے آپ کو اس فہر ست میں شامل کرنے کی ایک ناکام کوشش قرار دے سکتے ہیں، اس بارے ہم کوئی رائے نہیں دیں گے بلکہ قاری  کی رائے کا ہی احترام کریں گے۔


مکمل تحریر  »

جمعہ, مارچ 09, 2012

سنی، شعیہ یا مسلمان؟؟

ابھی ٹی وی دیکھ رہا ہوں اور تکبیر چینل پر ایک مولبی صاحب بہت کڑیل قسم کی دھاڑی رکھ کر فرمارہے ہیں کہ وہ سنی ہی نہیں  جو پنج تن پاک کو نہ مانے،  شیعہ حضرات جو ہیں وہ خوامخواہ  سنیوں پر  الزام لگا رہے ہیں، 

میں نہیں سمجھ سکا کہ کیا یہ مسلمانوں کے علاوہ کوئی مذاہب ہیں؟؟ جنکا مسلمانوں سے بھی کوئی لینا دینا ہے کہ نہیں؟؟  اور  یہ کہ  میں جو سیدھا سیدھا مسلمان ہوں ، جو اللہ کو ایک مانتا ہے اور حضرت محمد ﷺ کو اللہ کے آخری نبی مناتا ہوں، یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہوں، قرآن اور دیگر کتب اور انبیاء پر مکمل ایمان کی حالت میں ہوں، کوشش ہوتی ہے کہ کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچے، کم از کم دانستہ ، کوئی ہے جو سمجھائے۔  

 میرا پھر کیا فرقہ ہوا؟؟

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش