ہفتہ, نومبر 19, 2016

گورا گاڑی کا حادثہ اور معشوقیں

منگل کو البینیازیگو ایک دوست کے میڈیکل اسٹور پر گیا۔ سڑک کے دوسری طرف گاڑی کھڑی کی، جہاں پر سفید لکیریں لگی ہوئی باقاعدہ پارکنگ تھی، جو کہ مفت ہوتی ہے، اور اسکو دیکھ کر ہی ہمارا دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔ ورنہ نیلی لکیروں والی پارکنگ بھی ہوسکتی ہے۔ جو سرخ آنکھوں والے جن کی طرح گھوررہی ہوتی ہے۔ یورپ میں “فری فنڈے” کی پارکنگ کا مل جانا بندے کی خوش قسمتی کی علامت ہے۔

ادھر کوئی دو گھنٹے تک بیٹھ کر “گلاں ماردے” رہے۔ ایریکا اپنی پرانی دوستوں میں سے ہے۔ میرے پاس بھی کافی فارغ وقت تھا۔ ایک دوسرے کے ساتھ اپنے معالجاتی تجربے شئر کرتے رہے۔ ایک دو نئی ادویات پر بھی بحث ہوئی، میں نے اسے اپنے زیر استعمال “ونکا مائیر” والے بال اگانے کے فارمولے کے بارے بتایا کہ کس طرح کام کرتا نظر آرہا ہے۔ اور میرا گنجا پن دور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پس اگر یہ کام کرگیا تو میں نے بالوں کو اگانے والے بابے کی طرح اپنے آپ کو اسپیشلسٹ قرار دے لینا ہے۔ سنا ہے اس شعبہ میں بہت “ کمائی “ ہے۔ مطلب “آم کے آم اور سونے کے دام”۔

بدھ کے روز صبح گھر سے نکلا ، گاڑی کے پاس پہنچاتو دیکھا تو گاڑی کی ونڈ اسکرین پر ایک پوسٹ اٹ پڑا ہوا تھا، وائیپر کے نیچے دبا ہوا۔ اس پر 
یہ تحریر تھی: بے احتیاطی سے آپ کی گاڑی کو”ٹھوک” دیا ہے۔ نیچے فون نمبر اور ایک نام لکھا ہوا تھا۔

لوجی فوراُ خیال آیا کہ کسی نے رات کو ٹھونک دی ہے۔ کوئی بچارا نیند کا مارا کام کرگیا، یا پھر "کوئی ٹُن" ہوگا۔
 پر دیکھو جی گورے کی تربیت اور اچھائی کہ اس نے “چٹ” چھوڑ دی ہے۔ فوراُ یہ خیال بھی آیا کہ اگر پاکستان میں ایسا ہوتا تو اول تو مارنے والا چپکے سے نکل لیتا، اور اگر کوئی دیکھ بھی لیتا تو بھاگ لیتا۔ پکڑے جانے پر اسکو کُٹ بھی پڑنی تھی۔ اور خرچہ بھی بھرنا پڑتا۔ پر گورے کو اپنے سسٹم پر اعتماد ہے۔ کہ انشورنس نے پیسے بھرنے ہیں۔

میں نے گاڑی کو آگے پیچھے سے دیکھا، تو کچھ کچھ نظر نہیں آیا کہ کدھر سے لگی اور کیا نقصان ہوا۔ پھر دیکھا کہ سامنے والے مڈگارڈ پر نیچے دھند والی لائیٹ کے ساتھ ایک ہلکا سا “چیر” آیا ہوا ہے۔ کچھ خاص نقصان نہ تھا۔ میں نے کہا چلو جی کچھ نہیں ہوا۔ چلو چھڈو پراں۔ ہیں جی۔ خیر ای اے۔ پرانی گاڑی ہے، کوئی گل نہیں۔


کل اس نمبر پر تجربہ کے طور پر فون کیا تو جواب ملا کہ میں تو کال کا اتنظار کررہا تھا۔ پریشان تھا کہ وہ “چٹ” کہیں ہوا میں ہی نہ اڑگئی ہو۔ بہت پریشان تھا میں، کہ منگل کو حادثہ ہوا تھا اور وہ بھی البیانیزیگو میں۔، میں نے بہانہ کردیا کہ مصروفیت کی وجہ سے فون نہ کرسکا۔ ۔ کہنے لگا کہ آپ کسی ڈینٹر سے پتا کروائیں
کتنا خرچہ آتا ہے اگر زیادہ ہوا تو انشورنس بھر دوں گا نہیں تو کیش دے دوں گا۔


آج صبح ایک ڈینٹر سے پتا کروایا تو اس نے کہا کہ مڈگارڈ تبدیل ہوگا 650 یورو کا خرچہ ہے۔ پھر ایک اور سے بات ہوئی تو کہنے لگا اس کو “جیل” لگا کر مرمت کردوں گا ، 200 یورو میں ہوجائے گا۔

میں نے میسج کردیا۔ جواب آیا کہ چار بجے ملیں جہاں آپ کہیں۔ میں نے اسی علاقہ میں ایک بار کا بتایا۔ ، میں البینیازیگو پہنچا۔ بندہ ادھر موجود تھا۔ اگلے   اس بندے نےمعذرت کی، کہ آپ کو خوامخواہ میں پریشانی ہوئی۔ اچھا چلو جو ہوا سو ہوا۔ اب چلیں بار میں کافی پیتے ہیں اور بات کرتے ہیں۔

میں نے کافی کا آرڈر کیا دونوںکےلئے  اور اس سے پوچھا: 
تو بتائیں جناب کیا کرنا ہے، میں نے کہا کہ بہتر ہے پیسے دو اور مرمت کروا لیتا ہوں مڈگارڈ کی، بدلی کروانے کی بجائے۔ اس نے  فوراُ 200 یورو نکال دئے، تب تک میں دو عدد کافی آرڈر کرچکا تھا۔ 

اور اس سے پوچھا: ہوا کیا تھا؟؟ ادھر تو پارکنگ بھی کافی تھی، میرے خیال میں۔ کہ زیادہ رش بھی نہ تھا۔ پھر؟؟
کہنے لگا کہ ہاں ایسے ہی ہے۔ ہم نے ڈاکٹر کے پاس جانا تھا۔ پاس ہی، ادھرگئے تو آپ کی گاڑی کے سامنے ایک گاڑی کی جگہ خالی تھی اور پھر ایک گاڑی کھڑی ھی۔ اسکے آگے تین گاڑیوں کی جگہ خالی تھی۔

تب تک اسکی آواز بدل چکی تھی۔ کہنے لگا میرے ساتھ میری معشوقہ بیٹھی ہوئی تھی۔ اور پتا ہے میں نے گاڑی کہاں کھڑی کی؟؟ جہاں پر ایک گاڑی کی جگہ تھی۔ وہ کہ کہنے لگی، پیچے پیچھے اور پیچھےاور ، اور ، اور ، اور پھر پتا اس وقت چلا جب آپ کی گاڑی کو ٹھوک چکا تھا۔ اب میں اتنا برا بھی نہیں کہ بھاگ جاؤں، میں نے، آپ کی گاڑی پر ایک پیغام چھوڑا اور کال کا انتظار کرنے لگا۔ پر میں ایک بات بتاؤں آپ کو، بندے کو یہ معشوقیں ہمیشہ مرواتی ہیں۔

چلو سستے چھوٹے،  ہم نے کافی پی، اور ایک دوسرے کے ساتھ معذرت کرتے ہوئے اپنی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔ اچھا جی، پھر ملیں، گے، ضرور، پھر سے معذرت۔ ہیں جی


مکمل تحریر  »

ہفتہ, فروری 13, 2016

سفرنامہ روم۔ ویتوریانو Vittoriano

ویتوریانو Vittoriano   المشہور قیصر روم کا محل

اطالیہ  یا اٹلی کا  "انتخابی نشان"  یہ عمارت جوکہ منصوب ہے،اطالیہ  کے پہلے بادشاہ ویتوریو ایمانیویلےدوئم   Vittorio Emanuele II کے نام سے۔  

دیکھنے میں یہ ایک بہت بڑا محل ہے، عام  طور پر پاکستانی اسے  قیصرروم کا محل  کہتے ہیں ۔ یہ ایک  یادگاری عمارت ہے، جس
کو ویتوریانو یا پھر سرزمین  کی قربان گاہ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ایک قومی یادگار ہے جو اٹلی کے دارالحکومت روم میں واقع ہے۔ اور مشہور اطالوی ماہرتعمیرات Giuseppe sacconi کا  ڈیزائنر کردہ  ایک شاہکار ہے۔ اس عمارت کا نام  "ویتوریانو" اطالیہ کے پہلے بادشاہ  ٗویتوریو ایمانیولے دوئم  کے نام سے لیا گیا ہے۔  اس بادشاہ نے آج کے اطالیہ متحد کیا تھا جو بہت سی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ بس پھر کیا ہے اطالیہ میں ہر شہر میں ان صاحب کے نام کی مرکزی گلی ہوتی ہے،  کوئی کھلی سی سڑک، اسی طرح دالخلافہ میں انکے نام کی یادگار تعمیر کردی گئی، جو ریاست عوام اور حکومت کی علامتی طور پر نمائندگی کرتی ہے۔ 

جب 1921 میں یہاں  ایک گمشدہ سپاہی کو دفن کیا گیا ، تب اس عمارت کو ایک نئی علامتی حیثیت ملی، اس مقبرے میں پہلی جنگ عظیم  کے دوران  ھلاک ہونے والے ایک ایسے سپاہی  کی نعش کو دفن کیا گیا جسکی شناخت نہ ہوسکی۔ ، یوں  حقیقتاُ   یہ  عمارت  اطالیہ کی قومی،  ریاستی اور سرزمین کی نمائندگی کے طور پہچانی جاتی ہے۔  یہ عمارت اپنی پوری تاریخ  میں کبھی بھی کسی بھی بادشاہ کا محل نہیں رہی۔ اور نہ اس میں کبھی کسی نے سرکاری یا غیرکاری طور پر ہائش رکھی ۔
جب  1878 میں موجودہ اطالیہ کے پہلے بادشاہ کی وفات ہوئی  تو  ایک یادگاری عمارت کی تعمیرکا فیصلہ کیا گیا۔ جو سرزمین  اطالیہ کی نمائندگی کرے اور اسکی نشاط ثانیہ کی علامت ہو۔ یوں 1880 میں اس عمارت کی تعمیر کےلئے باقاعد منصوبہ بندی کا آغاز ہوا،1885 میں اسکا سنگ بنیاد اس وقت کے بادشاہ Umberto I نے رکھا ، 1888میں اسکی تعمیر کا پہلا حصہ مکمل ہوا جبکہ 1927  تک اس میں وقتاُ فوقتاُ تبدیلیاں  و اضافے ہوئے۔  1911 میں  اس عمارت کا باقاعدہ افتتاح کردیا گیا تھا۔

اس عمارت کو جدید اطالیہ  کی علامت بھی کہا جاتا ہے، وہ  اطالیہ جس کو ہم جانتے ہیں کیونکہ یہ قدیم اور المشہور سلطنت روم کے شاہی محلات کی بغل میں واقع ہے، اسی طرح پا پائے روم کا علاقہ بھی ادھر پاس ہی ہے اور اوپر "چو بارے" سے دکھائی دیتا ہے۔ اگر آپ کو کوئی شک ہے تو میری فیس بک پر شیئر  کردہ  ویڈیو  دیکھ کر اپنے علم میں مزید "بالٹی بھر" اضافہ فرماویں۔ اور اگر آپ کو میرے علم پر بھی شک ہے تو وصیت لکھوا کر، خود اطالیہ کا ٹکٹ کٹوائیں،  روم تشریف لائیں، اس عمارت کے چو بارے پر جائیں،  کلمہ پڑھیں اور نیچے چھلانگ لگائیں۔ انشا اللہ لو گ آپ کو پا پائے روم کے محلے میں پائیں گے اور عبرت حاصل کریں گے۔

اس عمارت کی اونچائی 81 میٹر ، چوڑائی 135 میٹر ہے ، جبکہ کل رقبہ 17000 اسکوائر میٹر ہے۔  اسکی تعمیر میں بوتیچینو سنگ مرمر کا استعمال ہوا ہے۔ جو شمالی اطالیہ کے شہر بریشیا کے گاؤں بوتیچینو  Botticino  سے لایا گیا ہے اور  اس کو  آسانی سے ڈھالا  جا سکتا ہے جبکہ یہ سفید سنگ مرمر سے کافی مشابہہ ہے۔

باہر سے دیکھنے پر پہلی نظر میں یہ ایک سادہ ، پر وقار اور روشن  عمارت دکھائی دیتی ہے۔ چونکہ یہ ایک بہت بڑی عمارت ہے اس  لئے اس کا بغور مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اسے بہت پیچیدگی  اور نفاست سے تعمیر کیا گیا ہے۔
بظاہر اس عمارت میں سب اہم نظر آنے والی سیڑھیاں ،  سامنے ایک طویل  دیوار جسکے ایک طرف سے دوسری طرف تک
  سنگ مرمر پر ابھرے  ہوئے  مجسمے، انکے درمیان میں  اور انکے اوپر بڑے بڑے ستونوں پر مشتمل ایک بہت بڑا  "بر آمدہ"  ہے ، یہ ایک U  شکل کی تعمیر ہے،  اور دونوں کونوں میں چھت  پر گھوڑوں والے مجسمے نصب ہیں ، جو رومن کے زمانے سے ہی طاقت کی علامت سمجھے جاتے ہیں، جبکہ عمارت کے عین درمیان میں   اگر آپ عمارت کے سامنے کھڑے ہوں تو آپ کو سب  سے پہلے سیڑیوں کے آغاز میں ہی دائیں بائیں دو ستونوں پر کانسی  کے بنے ہوئے فوجیوں  کے علامتی مجسمے  اور رومن  دیوی  Minervaکے مجسمے دکھائی  دیں گے۔

سنگر مرمر کی سیڑھیوں  کو چڑھ کر آپ عمارت کے مرکز میں کھڑے ہوتے ہیں  تو آپ کے سامنے ، عمارت کے عین درمیان میں  ایک بلند بالا ستون پر بادشاہ   کا گھوڑے پر سوار مجسمہ کھڑا ہے۔ اس کو آج کے اطالیہ کے ھیرو کے طور پر مانا جاتا ہے۔  جبکہ اسے دائیں بائیں کچھ مقدس مجسمے ہیں۔ بادشاہ کے مجسمے کے عین نیچے ایک  طویل سنگ مرمر کی دیوار ہے جسکے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کنندہ کاری سے ابھار کے  لوگوں کے تسلسل  سے مجسمے بنا کر لوگوں اور عوام کی نمائندگی کی گئی ہے۔ اس تسلسل کے درمیاں میں ایک چوکھٹ بنا کر اس کے بیچ ایک بڑا سا فوجی کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے جس کے عین نیچے  " گمشدہ فوجی"  کی قبر ہے اس پر پھول  چڑھے ہوتے  ہیں اور اطراف میں دومسلح فوجی ساکن پہرہ دے رہے ہیں ، انکے سامنے دو ستونوں پر آتشدانوں میں آگ جل رہی  ہے جبکہ دنوں ستونوں پر دو سطروں میں لکھا ہوا ہے " پردیس میں پائے جانے والے اطالویوں اور مادر وطن کے نام"۔


اطراف میں سیڑھیاں ہیں جن سے آپ اوپر کی منزل پر جاتے ہیں، بیرونی دیواروں کے ساتھ ساتھ اٹلی کے مختلف صوبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے  مجسمے ترتیب سے نصب ہیں۔

دائیں ہاتھ ھال سے آپ اندر جاتے ہیں اور درحقیت یہ ایک تین منزلہ عمارت ہے پہلی منزل پر استقبالیہ اور دوسری منزل پر
جہاں سے آپ جھانک کر پہلی منزل کو بھی دیکھ سکتے ہیں ، پر اطالوی نشاط ثانیہ کا میوزیم موجود ہے، جسکے اندر توپیں اور جنگی ہتھیار رکھے ہوئے ۔ جبکہ دائیں ہاتھ میں آپ باہر چھت پر تشریف لے جا سکتے ہیں اور ارد گرد شہر کا نظارہ کر سکتے ہیں، ایک طرف آپ کو پاپائے روم کے محلات تو پچھلی طرف  قیصر روم کے زمانے کے محلات و کھنڈرات دکھائی دینگے۔ جبکہ عمارت کے سامنے جدید روم ہے۔ جدید روم بھی بہرحال کافی پرانا ہے۔ ادھر قدیم و جدید میں یہ فرق ہے کہ 2ہزار برس یا اس سے قبل کی تعمیرات قدیم اور پانچ سات سو برس والی عمارات جدید ہیں۔

 تو جنابو، یہ قیصر روم کا محل جو ہے یہ روم کے تینوں ادوار کے بیچ میں  پیاسا وینزیا  کے مقام پر کھڑا ہے، پیچھے قدیم سلطنت روم کے کھنڈرات اور دائیں طرف پاپائے روم کے پاپائی محلات،  بائیں جانب medioevo  کے زمانے کے محلات ہیں، بس اس مرکزی مقام پر بہت سی medioevo کے زمانے کی عمارات کو گرا کر یہ  شاندار عمارت تعمیر ہوئی۔ آج اطالیہ میں ہونے والی قومی دنوں کی تقریبات اور پریڈ وغیرہ اسی عمارت کے سامنے ہوتی ہے، صدر صاحب کا قوم سے خطاب بھی ادھر سے ہی ہوتا ہے

اوپر کے برآمدے میں جانے کا ہمارے پاس وقت بھی نہ تھا اور بارش کے باعث حوصلہ بھی۔  بہرحال بہت صاف ستھرا  لشک پشک قسم کا ماربل کا کام اندھے کو بھی دکھائی دے رہا تھا۔ بلکل ایسے ہی عمارت کے سامنے والے اوپر ٹیرس کی طرف جانے کا بھی نہ سوچا۔ سنا ہے کہ لفٹ کا کوئی  "جغاڑ " بھی ہے۔ وللہ اعلم ، آپ کوشش کر لینا موقع ملا تو۔ یا پھر صبر کریں کہ اگلی بار کبھی ہمارا چکر لگا اور قت بھی ہوا تو ۔


اگر آپ کو مذید  طالبعلمی  کا  "چسکا"  چڑھا ہوا ہے تو " سائیں گوگلو" سرکار سے رجوع فرمائیں۔ تاکہ آپ کے علم میں مذید اضافہ ہوسکے۔ 
۔



مکمل تحریر  »

ہفتہ, نومبر 29, 2014

سفر نامہء پیرس ۔ میلان سے پرواز

میلان ائیرپورٹ  کا احوال
یورپمیں رہنے اور کئی بار نیت باندھنے کے باوجود پیرس نہ جا سکے اس برس  پیرس میں منعقدہ  فارماسیوٹیکل کی ایگزیبیشن  میں  جب کمپنی نےاسٹینڈ لگانے کا  اور کرڈالا  مجھے فون ، کہ خان صیب  ادھر چلو ہمارے ساتھ، آپ کی زبان دانیوں کی ضرورت ہے۔
فلائیٹ  اور ہوٹل کی بککنگ کی رسیدیں بعذریہ ای میل وصول ہوگئیں۔

ہم پانچ بندے تھے، کمپنی کا ڈائیریکٹر ، سیلز مینجر  انکی سیکرٹریز اور راقم
میری ایزی جیٹ کی فلائٹ تھی۔ فلائیٹ سے چند دن پہلے آن لائن بورڈنگ کرنی  تھی،  ساتھ میں ہوٹل کو چیک کیا گیا گوگل میپ پر تو علم ہوا کہ ہوٹل تو چارلس دے گال ائرپورٹ سے 30 کلومیٹردور "بوبینی  Bobigni "  کے علاقہ میں ہے، جبکہ ایگزیبیشن  چارلس دے گال سے ٹرین کے پانچ منٹ کےسفر پر ہے۔مطلب یہ تھا کہ مجھے پیرس اورلی سے ہوٹل پہنچنے تک پورا پیرس گزر کرجانا پڑے گا۔  ہت  تیرے کی۔ ۔ میلان کی ائیرپورٹس سے تو خیر واقفیت ہے پرانی سی۔ مگر پھر بھی اپنی پھرتیوں اور لیٹ نہ ہوجانے سے بچنے کو تین گھنٹے پہلے ائیر پورٹ پر تھے۔

یہ بات مجھے ہمیشہ حیران کردیتی ہے کہ جب آپ جلدی نکلیں تو سب ہی جلدی نکل آتے ہیں اور آپ وقت سے پہلے ہی منزل پر پہنچ چکے ہوتے ہیں، جب آپ لیٹ ہوں تو ٹریفک کے اشارے تک سرخ ہوئے  آنکھیں دکھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ رک جا۔
میری ایک بجے فلائیٹ تھی اور  میں گیارہ بجے ائیر پورٹ پر تھا۔ ہے ظلم کہ نہیں۔

اب وقت گزارنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ موبائیل اور فیس بک۔  میلان کی  Milano"لیناتے Linate" ائیرپورٹ پر مفت وائی فائی تھی۔  مگر ہونا کیا تھا , وہی جو ہوا۔ بیٹری جواب دے گئی۔
اب یار لوگوں نے چارجرکا  "جغاڑ" لگانے کا سوچا،  ادھر اُدھر  دھیان فرمایا تو علم ہوا کہ ابھی ترقی میں کچھ کمی ہے وائی فائی تو فری کردیا ہے انہوں نے مگر چارجنگ کے بارے نہیں سوچا۔  مطلب گورا  رہ ہی گیا۔
پوچھتے پوچھتے    معلوم ہوا کہ Europa Assistance  والوں کے کاونٹر پر پتا کروبس پھر ہم پہنچ گئے۔
ادھر ایک خاتون بہت خوش اخلاق و خوش شکل ،  میرے فون چارج  کرنے کی اجازت مانگنے پر وہ مسکراہتی ہوئی اپنی سیٹ سے اٹھیں اور میرے سامنے ہی ایک گول سے کاؤئنٹر پر بنے سوئیچ بورڈ کو دکھاتے ہوئے  فون چارج کرنے کی دعوت دی۔
اب میرے پاس تقریباُ ایک گھنٹہ تھا اور لالچ بھی کہ فون پورا چارج ہوہی جائے ۔
ویٹنگ لاؤنج میں اکا دکا بندہ گھوم رہا تھا۔  لوگ تو فلائیٹ کے وقت پر ہی آتے ہیں، کوئ  میری طرح  "ویلے" تھوڑی ہیں کہ گھنٹوں پہلے ہی آجاویں۔
چند منٹوں بعد وقت گزاری کےلئے خاتون سے اسکی سروسز کے بارے پوچھنا شروع کردیا ، مقصد ایویں چسکے لگانا اور وقت گزارنا تھا،
مگر نتیجہ الٹا نکلا ، خاتون نے بہت ہی محبت سے اور مسکرا ہٹیں بکھیرتے ہوئے اپنی سروسز بیان کرنی شروع کردیں,  اور ایسے  طریقے سے بیان کیں،  کہ بس معلوم تب ہوا جب میں اس سے اپنے پیرس کے اسٹے کی انشورنس کروا چکا تھا۔ چھ دنوں کی آٹھ  یورو  میں۔ 
جب میں نے فارم پر اپنی قومیت پاکستانی لکھی تو فوراُ بولی " اچھا تو آپ بھی غیرملکی ہی ہین؟"
 میں :   ہیں، ہاں، میں بھی کا کیا مطلب؟
وہ: "مطلب یہ کہ میں بھی غیرملکی ہوں اور آپ ہی سمجھ سکتے ہیں کہ غیرملک میں جاکر رہنا اور سیٹنگ بنانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔"
میں : جی، ایسے ہی ہے۔ آپ کہاں سے ہین؟؟ میں تو آپ کو اٹالین سمجھے بیٹھا تھا
وہ: " ارے نہیں ، میں پولینڈ سے ہوں۔ کراکوو سے ۔  اور میرا نام  "صوفیہ" ہے۔
میں: ہیں،  اچھا استاد یہ تو "پولی " ہے،  مجھے اپنے علی حسان کی پولیوں کے بارے میں سنائی گئی ساری کہانیاں یاد آگئیں۔
اور چونکہ غیر ملکی سب ایک دوسرے کے رشتہ دار ہوتے ہیں، تو ہم فوراُ  آپ سے تم پر آگئے، اٹالین لسانیات کے مطابق  آپ دوری  اور تم قربت کی علامت ہے۔  "جیلس ہونے کی مطلب حسد کرنے کی ضرورت نہیں"، یہاں قربت سے مرآد انگریزی والی فرینکنس ہے۔
ایویں  اسے دعوت دی کہ میں تو کافی پینے کے موڈ میں ہوں، اگر تم چاہو تو میں تمھیں آفرکرتا ہوں۔
وہ ۔۔۔ لو یہ بات، بہت شکریہ، ابھی میں نے کافی پی نہیں بس سوچ ہی رہی تھی۔ چلیں پھر؟؟
میں دل میں علی حسان کو اپنا پیرومرشد قرار دیتا ہوا چل پڑا ادھر کافی بار پر۔  وہاں پر دو کالی زہر کافی  (بقول اپنے میاں سلام شانی صاحب کے)   کا کہا تو اگلے نے پوچھا۔ تو آپ ادھر سروس میں ہیں، میرے بولنے سے پہلے  صوفیہ نے ہاں میں مونڈی ہلائی ، کاوئنٹر مین کی طرف سے ایک یورو ساٹھ سینٹ کی پرچی تھما دی گئی۔ جبکہ عام طور پر ائیر پورٹ پر کافی کی قیمت اڑھائی یورو فی کس ہوتی ہے۔
پس  اس قول پر میرا  ایمان پکا ہوگیاکہ ہر جو بھی آتا ہے اپنا رزق لاتا ہے۔ اگر میں اکیلا کافی پیتا تو اڑھائی یورو دیتا۔ ادھر ڈیڑھ یورو دئیے اور کمپنی بھی ساتھ میں۔ مگر یہ یادکرادینا بھی مناسب ہے کہ مہمان  جسے آپ کافی آفر کررہے ہیں وہ ہو جس کے گلے میں ائیرپورٹ کا ٹیگ ہو۔ ورنہ اڑھائی کو پانچ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ 


مکمل تحریر  »

منگل, جنوری 14, 2014

پردیسیوں کے دکھڑے

ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ایک دوست، جاننے والی آلینا کا فون آیا، تو میں اٹینڈ نہیں کرسکا، پھر ایک اور کال ایک اور کال، آلینا میری کافی عرصہ سے جاننے والی ہے، ہم لوگ اکٹھے کام کرتے رہے ہین ۔ مین نے جاب چھوڑ دی، اور بعد میں اسے کمپنی نے بندے چھانٹے کرنے کے چکر مین نکال دیا، بہت برس پہلے، اس کے بعد بھی کبھی کبھی کی یاد اللہ ہو ہی جاتی، کہ عیدمبارک، نیا سال مبارک، بیچ مین رابطہ زیادہ ہوجاتا اور ختم بھی ہوجاتا، مگر ہم ایک دوسرے کے دوست ہی ہیں۔ 

آج بہت دنوں بعد اسکی کالز دیکھیں تو فوراُ فون کرلیا کہ خیریت، عمومی طور پر وہ ایسے نہین کرتی، فون کرے گی، نہین جواب دیا تو جب مین نے فون کرلیا، ایسا ہی مین بھی کرتا ہوں کہ فون کرلیا جواب ملا تو ٹھیک نہین ملا تو جب اغلی فون کرلے۔ لہذا بار بار کی کالز نے میرے لئے ایک تجسس کھڑا کردیا۔ 

فوراُ کال کی تو اسکی رونے والی آواز سنائی دی، بچاری رو رہی تھی۔ وہ ایک گھر میں کام کرتی تھی، ایک بڑھیا کی دیکھ بھال کا۔ چار گھنٹے، پھر ایک گھر میں صبح کو، اور شام کو اپنے کرائے کے گھر مین آجاتی ہے۔ اسکی دو بیٹیاں ہیں، اور اسکا خیال تھا کہ وہ اس گرما کے موسم مین انکو اپنے پاس لے  آئے گی۔ 

بڑی ہی روہانسی اواز مین بتانے لگی کہ، وہ جہاں پر میں صبح کام کرتی ہوں وہ کہہ رہے ہین کہ تم ادھر ہی آکر رہو  اب مین ادھر جاکر رہوں تو، میری اپنی زندگی کیا ہوگی؟؟ بچے آئیں گے تو کس کے پاس رہین گے؟؟ اگر نہین جاتی تو کام ختم ہوجائے تو اب اور تلاش کرنا پڑے گا۔ کام چھوٹ گیا تو بچے کیسے آئین گے۔ اب تم بتاؤ؟؟ میں کیا کروں؟؟؟


مین اسے کیا بتاتا۔۔۔۔۔۔۔۔ مین ہی کیا سارے لوگ جو پردیس مین رہتے ہین انکی یہی پریشیانیاں ہین اوریہی ٹینشنز
یہی دکھڑے یہی المیئے۔ 

مکمل تحریر  »

ہفتہ, مئی 04, 2013

چاؤ! (اردو بلاگ نگاروں کی پہلی سمندر پار کانفرنس) بندے وصول پائے

داغ بیل
لاہور میں ہونے والی المشہور آل پاکستان اردو بلاگز کانفرنس کے فوٹو و اسٹریمنگ پورا دن   دیکھ دیکھ کر ہم شدید جیلسی کا شکار  ہوچکے تھے، مطلب دل سڑا ہوا تھا۔ پاکستان  جا نہ سکتے تھے،  جی جی وہی غم روزگار،  اور ادھر چپکے پڑے رہنا دشوار تھا۔ پس اپنی فسادی طبیعت کے زیر اثر یاسر خواہ مخواہ جاپانی جی سے رابطہ ہوا ، ویسے تو وہ عام بندے کا حال بیان کرتے ہیں مگر اس بار ہم نے انکو  اپنی روداد سنائی ،اور  کہ مرشد کچھ کرنا چاہئے ، مرشد بھی بھرے پڑے تھے،  کہنے لگے کہ خیال تو نیک ہے مگر کہاں، ؟؟ میں نے کہا کہ ادھر ہی آجاؤ ،  میرے پاس ، وینس میں۔
وینس مشہور ہے، اردو کے لئے تو نہیں مگر سیر سپاٹے و لچے پن کی وجہ سے، فل ٹورسٹ پوائنٹ ہے  اور سمندر کے کوئی 7 کلومیٹر اندر آباد شہر، عمارات قدیم و بندے جدید ،  رہائشی لوگوں سے سیاحوں کی تعداد کہیں زیادہ، اندازہ لگاؤ، کہ ایک رہائشی بندے کے حصے 700 سے زیادہ بستر آتے ہیں،   یار لوگ ادھر یا تو ہنی مون کے لئے  آتے ہیں یا  پھر رومانٹک  سیر سپاٹے کےلئے ، ہم  اردو کو اپنی محبوبہ  مان کر  کام چلا لیں گے،    مان گئے اور یوں بندہ نے اعلان کردیا کہ چلو اللہ کرے گا  کچھ بندے  اکٹھے ہو ہی جاویں گے،  علی حسان ، ٹالن  والے ، چشم و چراغ سانتا فامیلیا ملتانو، مطلب ملتان سے شاہ جی، اس طرف سے، رابطہ ہوا تو وہ ترنت تیار،   خاورکھوکھر جی سے بات ہوئی چڑھتے سورج کی سرزمین سے تو وہ بھی تیار، بلکہ انکی باتوں سے تو یہ بھی اندازہ تھا کہ سارے جلسہ کا خرچہ وہی اٹھائیں گے،  یاسر صاحب  کا بھی خیال تھا کہ  خاور کھوکھر امیر بندے ہیں، یہ کام وہی کریں تو اچھا،  ویسے خاور صاحب سے میری ازمہ قدیم کے دور کی سلام دعا ہے، تب ہم کوئی بیس کے قریب بلاگر ہوتے تھے،  ہیں  جی۔  جاوید گوندل صاحب  بے لاگ ، سے اسپین میں رابطہ ہوا فیس بک کے ذریعے مگر ، ٹیلی فون کرنے کی فرصت نہ مل سکی،  اسکائیپ پر وہ دستیاب نہ تھے۔

پاکستان سے مولوی محمد سعد  مذلہ عالیہ  بھی تیار تھے اگر ہم ، ٹکٹ پاسپورٹ  ویزہ وغیرہ کے اخراجات  اپنے ذمہ لیتے تو، مگر ایسا تکنیکی وجوہات کی بنا پر ممکن نہ تھا، ایک صاحب کا دبئی سے بھی دل للچایا  مگر انکی چھٹیاں ساتھ نہ دیتی تھیں،  جب اعلان ہوا کہ روٹی کپڑا اور مکان اپنے اپنے ذمہ ، ہم صرف ادھر کے انتظامی امور سر انجام دیں گےتو، پاکستان سے بہت سے ممکنہ شرکاء ، جو بس پاؤں بہ رکاب و نے بہ دست تھے، نے  اسے وجہ دل شکنی جانا اور  اور پھر ہمارے پروگرام کے صفحہ پر منہہ بھی نہ کیا۔  چلو جی  البتہ جرمنی سے عمیر ملک   صاحب نے کنفرمیشن دے دی، جی وہی پانچویں درویش والے  بزرگ۔

پروگرام 
پروگرام  اپریل  کے اختتامی ہفتہ کا طے پایا،  اسکی دو وجوہات تھیں،   بہار کا  موسم  اور اٹلی کا نظر آنا، سردیوں میں سب کچھ ڈھکا ہوا ہوتا ہے سردی کیوجہ  سے،  سب کچھ سے مراد زمین پہاڑ وغیرہ  ہیں، سبزہ ، پھول  وکلی  نایاب،  ہوں بھی تو بس ایویں  شہدے سے۔  دوسری وجہ  یہ تھی کہ ہمارے ادھر 25 اپریل کو یوم آزادی کی چھٹی تھی، جمعرات کی، جمعہ کو ایک چھٹی کرنے  پر  ویک اینڈ شامل کیا جاسکتا تھا،  رونق کے چانس زیادہ تھے،   ویسے بھی ادھر یورپ میں کام کے دن کام اور چھٹی کے دن ہی چھٹی ہوتی ہے، ہاں اگر کسی ماہ بیچ ہفتہ کے کوئی چھٹی آجاوے تو وارے نیارے۔

پروگرام کی ترتیب کچھ یوں طے کی تھی کہ اگر دس تک بندے ہوجاتےہیں تو پھر وینس یونیورسٹی کے شعبہ  لسانیات الشرقیہ  کے ہال میں ایک مرکزی سیشن ہوتا،  دوسرا پادوا یونیورسٹی کے  شعبہ لسانیات کے ساتھ اور تیسرا،  بریشیا  میں پاک اٹلی پریس کلب   کے ساتھ، مطلب پاکستانی کمونٹی کے ساتھ ایک ملاقات، مگر  بیل منڈے نہ چڑھی،  علی نے فروری میں ٹکٹ کی نقل فیس بک پر پیسٹ کردی۔   مگر شرکاء کی تعداد کو دیکھتے ہوئے دوسروں کو تکلیف دینا مناسب  نہ سمجھا اور اپنی گاڑی میں ہی جلسہ گاہ قائم کرلی،    خیال ہوا کہ شرکاء کی مہمانداری ، مطلب  روٹی کپڑا اور مکان  کا ذمہ اپنے سر ہی لیا جائے،   ہیں ہی کتنے جنے، بس کانفرنس کو ملاقات  یاراں میں تبدیل کردیا گیا اور اسکی فارمل حیثیت ختم شد۔

جلسہ نےچونکہ ایک ملاقات کی شکل اختیار کرلی تھی،پس  میں   پوری  ڈیموکریسی سے  میں سب سے پوچھتا گیا کہ اس کے بعد یہ کرلیں، ادھر کو چلیں اور سارے شرکاء یہ سر ہلاتے پاءے جاتے۔ 

شرکاء
یاسر خوامخواہ جاپانی    صاحب کے سرکاری  طور پر معذرت کرلینے   اور خاو ر کھوکھر صاحب کے سلیمانی ٹوپی پہننے کے بعد ملغ دو عدد شرکاء بچے جو باہر سے آرہے تھے،  علی احسان  ایسٹونیا سے اور   عمیر ملک  جرمنی سے، انکے شہر کا نام مجھے آج تک یاد نہیں ہوسکا ، بس یہ سمجھ لو کہ لیپزگ سے ایک گھنٹے کے سفر پر ہے بقول انکے، اب   ایک ہفتہ پہلے  مجھ پر انکشاف ہوا کہ  پھنس گئے،   علی  احسان  ادھر بیرگامو ائیر پورٹ پر  23  تاریخ کو آرہے مطلب  منگل کو 2 بجے  اور  انکی اتوار 28 کی واپسی وہیں سے ہے،  اور عمیر ملک  وینس مارکوپولو  پر آرہے 24 تاریخ کو صبح  نو بجے اور واپسی سوموار 29 کو وہیں سے کررہے ہیں۔  مطلب ایک مجھ سے 230 کلو میٹر شمال میں اور دوسرے 70 کلو  جنوب میں ،    علی کو تو  میں نے  سوکھے منہہ کہہ دیا تھا کہ تم خود ہی آجانا،  یا کسی کو بھیج دوں گا   جو اردو بلاگز کا بورڈ پکڑے کھڑا ہوگا اور بعد میں تمہیں ٹرین پر بٹھا دے گا، بندہ راضی ہوگیا۔   اور عمیر کو نزدیک سے پک کرلوں گا ۔مگر  ایسا نہیں ہوا۔   دل نہیں مانا   ، کہ بندہ اتنی دور سے آئے اور وہ بھی پہلی بار ، اور اسے ائیر پورٹ  لینے بھی نہ  جاؤں،  صبح ہی گاڑی لے کر پولا پولا نکل لیا اور عین وقت مقررہ پر آمد کے گیٹ کے سامنے  موجود تھا،  رائن ائیر    ہے تو شہدی ائر لائن کہ دوران پرواز کھانے پینے کے بھی پیسے وصولتی ہے، پی آی اے کی طرز پر شاہی چوول، مگر اکثر پی آئی اے کے برعکس  اپنے مقررہ وقت سے 10 منٹ پہلے ہی پہنچتی ہے ، پس اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ وللہ  سامنے کھڑا ہوگیا گیٹ کے، بھانت بھانت کے لوگ نکل  رہے تھے ،  اور میں سوچ رہا تھا کہ  علی کو دیکھا بھی  نہیں ، نہ اس نے مجھے، نہ میرے ہاتھ میں بلاگرز کا کارڈ ہے، ایک دوجے کو کیسے پہچانیں گے۔   پھر ایک بندہ نکلا باہر  ، دیکھتے ہی بے اختیار ہاتھ ہل پڑا اور وہ حضرت بھی بغیر جھجکے  ادھر کو آلپکے، یہ گلے ملے گویا کوئی دو جنموں کے بچھڑ ہوئے اور بس پھر  ۔ ۔ ۔ ۔ ایک کے بعد ایک بولتا ہی رہا، ہمارے پاس بہت کچھ تھا  کہنے سننے کو، جس پر بات ہوتی رہی، بلا وقفہ،  بریشیا سے ان کو ایک ڈونر کباب کھلایا گیا کہ 3 بجے اور کیا ملتا،  اور پادووا کو روانہ ہوءے، وہی پولے پولے، موٹر وے پر نہیں بلکہ لوکل روڈ پر کہ چلوں کچھ منظر نظارہ  ہوجاوے۔  ہیں جی۔

دوسرے دن  ہم صبح ہی ایک گھنٹہ  لے کر  دونوں ایک ساتھ ایئر پورٹ  وینس مارکو پولو کو پہنچے،  10 منٹ لیٹ تھے، عمیر کا ایس ایم ایس  آچکا تھا اور اسے لیٹ ہونے کی اطلاع باہم کرچکے تھے،  ائیر پورٹ  کے اندر پہنچ کر میں ادھر آمد کی طرف کو تیز قدموں سے جارہا تھا کہ اہو ہو ، لیٹ ہوگئے ،  ادھر علی نے کہا وہ ایک بندہ عینک والا بیٹھا ہوا ہے، میں عمیر کی فیس بک پر عینک والی فوٹو ہی دیکھی تھی اور مجھے عینک ہی یاد تھی،  ہم ادھر کو لپکے تو وہ بندہ بھی تاک میں تھا کہ ہماری طرف کولپکا،  یہ بھی جس تپاک سے ملا، لگا کوئ اپنا ہی بچھڑا ہوا پیس ہے ۔

پادووا واپس آکر عمیر کو ناشتہ کے بعد سونے کا موقع دیا گیا اور میں اور علی ( اب چونکہ ہم ایک دوسرے کےساتھ فری ہوگئے ہیں لہذا شارٹ نام ہی چلیں گے) مطلب میں، عمیر اور علی، چلو جی،  باہر چہل قدمی، ڈرائیو کو نکل لئے۔اصل میں میرا ایک کام تھا۔ جو ائیر پورٹ سے واپسی پر رستہ میں کرنا تھا، بھول گیا، پھر 30کلو کا فاصلہ طے کرکے گیا، تو اگلا بندہ نکل چکا تھا، اور میں پرس ایک بار پر کافی پنیے کے بعد چھوڑ آیا، بیچ میں ڈرائیونگ لائسنس اور بنک کارڈ بھی تھے، پھر بھاگا بھاگا واپس گیا تو مل گیا مطلب 120 کلو کا پینڈ خوامخواہ میں اور علی بچارہ میرے ساتھ ایویں ہی کھجل ہوگیا۔ 

شرکاء کی کوالٹیفیکشن
  دونوں حضرات تالابان علم ہیں ،  اور نہایت برخوردار طبیعت کے واقع ہوئے ہیں،  ذاتی طور پر ان سے ملک کر مجھے ایسے لگا کہ بہت اچھے مسلمان ہیں،  علم  حاصل کرنا ہر مسلمان  مرد  اور عور ت پر فرض ہے کو دل جمی سے نبا   رہے ہیں،   بس عورت کا اس پورے پروگرام میں دور دور تک نام و نشان نہ تھا،   جس کو ہم اچھا مسلمان قرار دیتے  یا کردیتے۔  اول الزکر  ایسٹونیا میں واحد پاکستانی  طالبعلم ہیں اور سب سے زیادہ تعلیم یافتہ  پاکستانی بھی،  میرے خیال میں کیونکہ ادھر ہیں ہی کل تین جنے۔  مارکیٹنگ میں  پی ایچ ڈی کررہے ہیں،  دعا ہے کہ اللہ انکی شاگردی سے پاکستانیوں کو بچائے ۔ ثانی الزکر ادھر جرمنی میں بڑی برخورداری سے  موبائیل سافٹ انجینرنگ کررہے ہیں  ،  بس امید ہے جلد ہی کسی ملٹی نیشنل  کمپنی کے ہتھے چڑھ جاویں گے،  جو پاکستان کے حالات ہیں لگتا نہیں کہ انکا ادھر ٹکنا ممکن ہو، ہا ں اگر سیاہ ست یا اس طرح کا کچھ اور شغل اختیار کرلیں تو۔   میرے بارے میں دیگر جضرات سے معلوم کرلیجئے ،   اب بندہ اپنے بارے کیا لکھے، اچھا لکھے تو اپنی منہہ میاں مٹھو،  اور برا لکھنا اور اپنے کیڑے نکالنا  وہ بھی اپنے بارے ، یہ تو ممکن ہی نہیں، سو کریں  پاکستانی ہیں۔ یا یا

جاری ہے Inizio modulo



مکمل تحریر  »

ہفتہ, ستمبر 08, 2012

وقت اور پیشے

کل رات کو ہی پیاچنزہ میں پہنچ گئے تھے، ہوٹل میں کمرہ کمپنی کی طرف سے بک تھا،  خیر جاتے ہیں دھڑام سے گرے اور سو گئے۔ صبح دس بجے میٹنگ کا وقت تھا ، جبکہ میری آنکھ حسب عادت سات بجے سے پہلے ہی کھل گئی، شاید اسکی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کمرے کہ ایئر کنڈیشنر بند ہوچکا تھا اور کھڑکی مکمل بندہونے کی وجہ  پسینہ پسینہ ہوچکا تھا۔

بعد از غسل، ٹائی شائی لگا، جب بوٹوں کے تسمے بند کرنے لگا تو محسوس ہوا کہ لو جی بوٹ کا تلوہ تو اکھڑ گیا ہے،  چلو کوئی بات نہیں،  نیچے  گیا  اور کاؤنٹر سے پتہ کیا کہ کمپنی کا کوئی اور  بندہ نیچے اترا ہے تو، جواب آیا کہ "کتھوں"؟  دس بجے جلسہ شروع ہونا ہے تو پھر ساڑے نو بجے ہی آمد ہوگی۔  "اچھا جی، چلو،  اگر کوئی  نیچے اتر ے تو کہنا کہ ڈاکٹر صاحب ادھر ذرا چہل قدمی عرف مارننگ واک کو نکلےہیں،  موبائیل پر فون کرلو" کہا اور نکلے لئے باہر،  یورو ہوٹل کے سامنے کی روڈ کراس کی تو  ایک دکان دار سے پوچھا کہ کوئی موچی کی دکان ؟ جو جوتے مرمت کردے۔  اس نے سوچ کر کہا کہ ایک وقت میں تو بہت تھے مگر اب میرے ذہن میں کوئی بھی نہیں آرہا،  اچھا سینٹر کس پاسے ہے؟ "ادھر سجھے کو کہہ کر وہ اپنے کام کو لگ گیا "۔   اور میں  سجے کو  ہولیا ۔  پوچھتا اور دیکھتا رہا ، کچھ دیر بعد ایک مرد بزرگ نے بتایا کہ یہ جو گلی ہے اسے سے کھبے ہوجاؤ اور تیسری گلی میں سجے ہوکر پوچھ لینا، ادھر قریب ہی موچی کی دکا ن تھی، کہنے لگا کہ اکھڑے تلوے والا جوتا فوری مرمت نہیں ہوتا، آپ جوتا چھوڑ جاؤ، تین دن بعد ملے گا۔ مجھے شام کو واپس جانا ہے ، میں ادھر کا نہیں ہوں، معذرت کی، اور نکل لیا۔

واپسی پر جانے کیوں میرے دماغ میں آیا کہ میں کوئی بیس کے قریب کمپوٹر اور الیکٹرونکس کی دکانیں دیکھی ہیں،  مگر بیس برس ایسا نہیں تھا، تب موچی، دھوبی اور اس قبیل کی دکانیں کافی بھی تھیں مگر کمپوٹر کی شاید ایک یا دو،   کوئی سیانہ بابا سچ ہی کہہ گیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز بدل جاتی ہے،  کام پیشہ سب کچھ۔ بیس برس جو پیشے تھے وہ اب نہیں اور جو اب ہیں ان میں سے پیشتر تب نہیں تھے، ہیں جی

مکمل تحریر  »

منگل, ستمبر 04, 2012

فرعون کے پیچھے پیچھے


لنڈن  میں فرعون کی تلاش
فرعون کے ساتھ ہمارا یارا نہ بہت پکا ہے اور پرانا بھی،  کوئی کل کی بات تھوڑی ہے، بلکہ کئی برس گئے جب لنڈن کو سدھارے تھے سنہ 2002 میں،  تو  بھی فرعو ن اور مایا کےلئے اپنی فلائیٹ مس کرنے کی کوشش کربیٹھے،  تب  ہمارا مقصد برٹش میوزیم میں توتن خام صاحب کے سونے کے ماسک کی زیارت کرنا تھا، مگر گورا صاحب نے اسے ہمارے جانے سے چند ماہ قبل ہی قاہرہ میوزیم  روانہ کردیا اور ہم ہاتھ ملتے رہ گئے، کہ خان صاحب اگر چند ماہ پہلے آجاتے ادھر تو کون سی موت پڑنی تھی۔ یہ توتن خامن صاحب  بہت مشہور معروف فرعون ہوئے،  سنہ 1332 سے 1323 قبل مسیح ادھر حکمران رہے اور جدید فراعین  کی تاریخ میں  پڑھا ئے جاتے ہیں،  انکا تعلق اٹھارویں ڈینسیٹی سے تھا جو  سنہ  1550 سے 1292 قبل مسیح تک ادھر حکمران رہے، حضرت موسٰی علیہ سلام والا فرعون رعمسس دوئم اس سے پہلے بھگت چکا تھا۔ ، یہ صاحب  اپنے سونے کے ماسک اور سونے کے تخت کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے، مطلب موٹی اسامی تھے۔  توتن خامن کے مقبرے کی جب کھدائی ہوئی  1920 میں تو کارٹر صاحب نے عادتاُ  اسکے مقبرے سے ہونے والا سونے کاماسک بھی چپکے سے نکال کر کھیسے کیا اور پھر ولائیت کو سدھارے، جی ، جی، بلکل اسی طرح جس طرح  ہندوستان کے مقبروں کے تختے بھی لے اڑے تھے اور آپ کو آج بھی لاہور ، دہلی اور آگرہ کے مقبروں کی دیوراوں میں  "موریاں" نظرآتی ہیں، جہاں سے قیمتی پتھر نکالے گئے۔ توتن خامن  کا ماسک 2007 سے اسوان کے میوزیم میں توتن خامن کے مقبرے کے اندر زیارت کو دستیاب ہے۔   



میڈرڈ میں فرعون کا پیچھا
میڈرڈ میں جب سنہ 2009 میں جانا ہوا تو ادھر بھی ہماری فرعون سے یاری نے جوش مارا اور ہم ادھر نکل لئے ٹمپل آف دیبود  کی تلاش میں ، جو پلاسا سپانیہ کے ادھر قریب ہی پایا گیا، خیر سے ادھر  فرعون تو نہ پایا گیا نہ "وڈا نہ چھوٹا" مگر چلو  اسکے پاس کی چیز ہے ، یہ ٹیمپل ادھر جنوبی مصر میں اسوان کے علاقہ میں دریائے نیل سے کوئی 15 ک م کی نزدیکی پر تھا ،   یہ دوسری صدی قبل مسیح میں "عیسس" نامی دیوی کےلئے  تب کے بادشاہ  "میروئے" نے تعمیر کروایا،   اسکا چھوٹا کمرہ البتہ "ہاموں" نامی دیوتا کے لئے مختص ہوا،   یہ معبد اپنے علاقے کی جامعہ مسجد ہی سمجھا گیا،   پھر جب 1960 میں  جب عظیم اسوان  ڈیم کا منصوبہ بنا تو پھر اسے  ادھر میڈرڈ کو یاری کی علامت کے طور پر  گفٹ کردیا گیا،   بہر حال ادھر جا کر معلوم ہوا کہ اس کا براہ  راست فرعون کے سا تھ کوئی تعلق نہیں ہے، اور یہ کہ یار لوگوں نے ایویں  "چوول" ہی ماری ہے ۔  جو لو گ میڈر ڈ  میں رہتے ہیں   ی جو لوگ ادھر غلطی  سے پہونچ  جائیں  اوریہ مضمون  پڑھنے کے باوجود بھی   اگر ادھر جانا چاہیں تو  یہ معبد ادھر میڈرڈ کے رائل پیلس کے پچھواڑے میں پایا جاتا ہے۔  ہیں جی۔
 
نہ جاسکے تو صرف قاہرہ نہ جاسکے، رہی بات تورینی کے میوزیم کی تو چونکہ اس کی  سیر حد سے دلچسپ رہی ، جی جی ، کمپنی کی وجہ سے بھی، تو اسبارے کل لکھا جاوے گا۔ ابھی جولکھا گیا اسی کو ہضم کریں اور صبر کہ سہج پکے سو میٹھا ہو۔  

مکمل تحریر  »

اتوار, ستمبر 02, 2012

فرعون اصلی والا

کچھ دنوں سے ادھر فیس بک پر دیکھ رہا ہوں کہ کسی بھی مصری ممی  کی تصویر پکڑ کر اسے فرعون قراد دے کر جاری کردیا جاتا ہے کہ" جی توبہ توبہ ، دیکھا فیر کیا حال ہوا اس ظالم کا"  ، ایک صاحب سے اس موضوع پر بات ہوئی تو انکا کہنا تھا کہ اچھا یہ فرعون نہیں ہے تو پھر کون ہے کہ اس کے منہہ پر بھی لعنت پڑی ہوئی ہے، کوئی پوچھے کہ میاں ہم ایک دن منہہ نہ دھوئیں تو یار لوگ کہہ دیتے ہیں کہ کیا پٹھکار پڑئی ہوئی ہے، یہ بچارہ جانے کون ہے اور کب سے اس کی لاش حنوط شدہ پڑی تھی کسی مقبرے میں، مصر میں لاشوں کو حنوط کرنا اتنا ہی عام ہے جس طرح ہمارے ملک میں زندوں کو ٹھکانے لگانا ، مگر وہ سارے ہی فرعون تو نہ تھے، البتہ اسکے چیلے چانٹے، لگتے لائے، منشی مشدے، نوکر چاکر  ضرور ہوسکتے ہیں، پھر یہ بھی کہ فرعون مصر کے بادشاہ کا خطاب تھا جس طرح ہمارے ہاں  ہر رشوت خور کو ذرداری کہا جاتا ہے۔ 

ادھر اٹھارویں صدی کے دوسرے نصف میں ادھر سے ہزاروں کے حساب سے ممیاں مقبروں سےبرآمد ہوئیں اور یار لوگوں نے حسب توفیق ان پر اور انکے ساتھ ملنے والی قیمتی اشیاء پر ہاتھ صاف کیا، مگر یہ کہ ممیاں کوئ  انہوں نے چوپنی تھوڑی تھیں، پس ادھر مختلف میوزمز کی زینت بنی، مگر دوران کھودائی پائے جانے والے دیگر مال بیش قیمت و زروجواہرات 
کا کبھی ذکر تک نہ ملا۔ 


چند ایک ایسی عالمگیر شخصیات جنکو ہم بغیر دیکھے  ہی جان گئے اور یہی نہیں اسکی موجودگی پر بھی کبھی کسی شک کا اظہار نہیں کیا میں سے ایک فرعون بھی، ہم ہی کیا بہت سے لوگوں کا یہی احوال ہے،  کچھ تو فرعون کو اتنے نزدیک سے جانتے ہیں گویا ایک ساتھ پڑھتے رہے ہوں،  فوراُ کہہ دیں گے" لو جی ، یہ تو ہے ہی فرعون، میں نے تو دیکھتے ہی کہہ دیا تھا"۔ ایک الگ بات ہے کہ  عمومی طور پر اسے کوئی نیک نام آدمی نہیں سمجھا جاتا، بلکہ  کچھ بزرگوں  کے اقوال ذریں و غیر سے تو یہی لگتا ہے، نہیایت کھوچل اور بدنام آدمی تھا۔  خیر بقول شاعر "بدنام ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا"۔

بعد میں معلوم ہوا کہ  فرعون ہر بندے کے اندر گھسا ہوا ہوتا ہے، اور ہمارے اندر بھی، اسی لئے تو کچھ لوگ   کبھی کبار ہمیں بھی فرعون کہہ دیتے ہیں، آپ کو بھی کہتے ہوں گے،  ہم کیا جانیں۔

ویسے تو ہمارا دل ہےہی" ٹھرکی" قسم کا،  بس جو چیز دل کو لگی ادھر چل دیئے۔  مصر بھی دنیا کے ان بہت سے ممالک و مقامات میں سے  ایک  ایریا ہے جہاں  شروع سے ہی ہمارا جانے کو دل کرتا تھا  خیر، اب بھی کرتا ہے، ادھر جانے کی وجہ بھی حضرت موسیٰ  علیہ سلام   کم اور فرعون زیادہ  رہا، شاید اسکی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے تاریخ دانوں نے فرعون کے بارے لکھ لکھ کر کشتوں کے پشتے لگا دیئے  ، حضرت موسٰی ؑ کے بارے میں کچھ لوگوں نے لکھا ،  ظاہر جو جس پارٹی سے ہوگا اسی بارے ہی لکھے گا۔

مصر جانےکی ہماری آس تب بندھی  اور لگا کہ "وقت وصال فرعون " قریب ہے  جب ہم نے ٹورازم کے شعبہ میں قدم رکھا، مگر ہائے وہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا اور مصر ائیر لائیز کی طرف سے فرعون کی ممی والی ایک پورٹریٹ پر ہی گزارا کرنا پڑا۔  پھر کچھ عرصہ بعد  پاکستان گھر کو منہ کیا تو وہ پورٹریٹ بطور خاص ابا جی کےلئے تحفہء  نایاب کے طور پر رکھ لیا، مگر جب نکال انکے سامنے کیا تو ماحوال کچھ اور ہوگیا، انہوں نے پسندیدگی تو کیا بس پکڑ کرفوراُ ادھر پھینکا  کہ " کنجرا میں کوئی فرعون دا یار ہاں"  اور یہ کہ میں اور فرعون کو گھرمیں گھسنے دوں اس نحش کو۔

مئی میں جو تورینو میں جب  ایک کورس کےسلسلہ میں  جانا ہوا  تو  ایجیصیو میوزیم  دیکھے بنا   نہ رہا گیا، کہ قاہرہ کے بعد مصری تہذیب کا دوسرا بڑا میوزیم ہے اور مصر سے باہر یہ واحد میوزم ہے جو صرف اور صرف مصری تہذیب کے بارے ہے، گویا فرعون سے پکی یاری ہے ان تورینو والوں کی،   کورس کے دورا ن  مقامی اطالوی  کورس میٹ   اور کولیگ "کوستانسا" سے اس خواہش کا ذکر کیا،  تس پر محترمہ فوراُ رضامند ہوگئیں کہ میں بھی اس شہر میں کوئی 4 برس سے رہ رہی ہوں مگر   نہ دیکھ سکی، پرسوں کورس کے آخری دن  تمھارے ساتھ ہی چلوں گی،  ہائے ہائے وہ کہہ رہی تھی اور ہمارے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے۔ مطلب چوپڑی  بھی اور دو دو بھی

یہ جو تصاویر ہیں یہ بھی کوستانسا نے ہی سینڈی ہیں بعد میں

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش