ہفتہ, فروری 13, 2016

سفرنامہ روم۔ ویتوریانو Vittoriano

ویتوریانو Vittoriano   المشہور قیصر روم کا محل

اطالیہ  یا اٹلی کا  "انتخابی نشان"  یہ عمارت جوکہ منصوب ہے،اطالیہ  کے پہلے بادشاہ ویتوریو ایمانیویلےدوئم   Vittorio Emanuele II کے نام سے۔  

دیکھنے میں یہ ایک بہت بڑا محل ہے، عام  طور پر پاکستانی اسے  قیصرروم کا محل  کہتے ہیں ۔ یہ ایک  یادگاری عمارت ہے، جس
کو ویتوریانو یا پھر سرزمین  کی قربان گاہ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ایک قومی یادگار ہے جو اٹلی کے دارالحکومت روم میں واقع ہے۔ اور مشہور اطالوی ماہرتعمیرات Giuseppe sacconi کا  ڈیزائنر کردہ  ایک شاہکار ہے۔ اس عمارت کا نام  "ویتوریانو" اطالیہ کے پہلے بادشاہ  ٗویتوریو ایمانیولے دوئم  کے نام سے لیا گیا ہے۔  اس بادشاہ نے آج کے اطالیہ متحد کیا تھا جو بہت سی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ بس پھر کیا ہے اطالیہ میں ہر شہر میں ان صاحب کے نام کی مرکزی گلی ہوتی ہے،  کوئی کھلی سی سڑک، اسی طرح دالخلافہ میں انکے نام کی یادگار تعمیر کردی گئی، جو ریاست عوام اور حکومت کی علامتی طور پر نمائندگی کرتی ہے۔ 

جب 1921 میں یہاں  ایک گمشدہ سپاہی کو دفن کیا گیا ، تب اس عمارت کو ایک نئی علامتی حیثیت ملی، اس مقبرے میں پہلی جنگ عظیم  کے دوران  ھلاک ہونے والے ایک ایسے سپاہی  کی نعش کو دفن کیا گیا جسکی شناخت نہ ہوسکی۔ ، یوں  حقیقتاُ   یہ  عمارت  اطالیہ کی قومی،  ریاستی اور سرزمین کی نمائندگی کے طور پہچانی جاتی ہے۔  یہ عمارت اپنی پوری تاریخ  میں کبھی بھی کسی بھی بادشاہ کا محل نہیں رہی۔ اور نہ اس میں کبھی کسی نے سرکاری یا غیرکاری طور پر ہائش رکھی ۔
جب  1878 میں موجودہ اطالیہ کے پہلے بادشاہ کی وفات ہوئی  تو  ایک یادگاری عمارت کی تعمیرکا فیصلہ کیا گیا۔ جو سرزمین  اطالیہ کی نمائندگی کرے اور اسکی نشاط ثانیہ کی علامت ہو۔ یوں 1880 میں اس عمارت کی تعمیر کےلئے باقاعد منصوبہ بندی کا آغاز ہوا،1885 میں اسکا سنگ بنیاد اس وقت کے بادشاہ Umberto I نے رکھا ، 1888میں اسکی تعمیر کا پہلا حصہ مکمل ہوا جبکہ 1927  تک اس میں وقتاُ فوقتاُ تبدیلیاں  و اضافے ہوئے۔  1911 میں  اس عمارت کا باقاعدہ افتتاح کردیا گیا تھا۔

اس عمارت کو جدید اطالیہ  کی علامت بھی کہا جاتا ہے، وہ  اطالیہ جس کو ہم جانتے ہیں کیونکہ یہ قدیم اور المشہور سلطنت روم کے شاہی محلات کی بغل میں واقع ہے، اسی طرح پا پائے روم کا علاقہ بھی ادھر پاس ہی ہے اور اوپر "چو بارے" سے دکھائی دیتا ہے۔ اگر آپ کو کوئی شک ہے تو میری فیس بک پر شیئر  کردہ  ویڈیو  دیکھ کر اپنے علم میں مزید "بالٹی بھر" اضافہ فرماویں۔ اور اگر آپ کو میرے علم پر بھی شک ہے تو وصیت لکھوا کر، خود اطالیہ کا ٹکٹ کٹوائیں،  روم تشریف لائیں، اس عمارت کے چو بارے پر جائیں،  کلمہ پڑھیں اور نیچے چھلانگ لگائیں۔ انشا اللہ لو گ آپ کو پا پائے روم کے محلے میں پائیں گے اور عبرت حاصل کریں گے۔

اس عمارت کی اونچائی 81 میٹر ، چوڑائی 135 میٹر ہے ، جبکہ کل رقبہ 17000 اسکوائر میٹر ہے۔  اسکی تعمیر میں بوتیچینو سنگ مرمر کا استعمال ہوا ہے۔ جو شمالی اطالیہ کے شہر بریشیا کے گاؤں بوتیچینو  Botticino  سے لایا گیا ہے اور  اس کو  آسانی سے ڈھالا  جا سکتا ہے جبکہ یہ سفید سنگ مرمر سے کافی مشابہہ ہے۔

باہر سے دیکھنے پر پہلی نظر میں یہ ایک سادہ ، پر وقار اور روشن  عمارت دکھائی دیتی ہے۔ چونکہ یہ ایک بہت بڑی عمارت ہے اس  لئے اس کا بغور مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اسے بہت پیچیدگی  اور نفاست سے تعمیر کیا گیا ہے۔
بظاہر اس عمارت میں سب اہم نظر آنے والی سیڑھیاں ،  سامنے ایک طویل  دیوار جسکے ایک طرف سے دوسری طرف تک
  سنگ مرمر پر ابھرے  ہوئے  مجسمے، انکے درمیان میں  اور انکے اوپر بڑے بڑے ستونوں پر مشتمل ایک بہت بڑا  "بر آمدہ"  ہے ، یہ ایک U  شکل کی تعمیر ہے،  اور دونوں کونوں میں چھت  پر گھوڑوں والے مجسمے نصب ہیں ، جو رومن کے زمانے سے ہی طاقت کی علامت سمجھے جاتے ہیں، جبکہ عمارت کے عین درمیان میں   اگر آپ عمارت کے سامنے کھڑے ہوں تو آپ کو سب  سے پہلے سیڑیوں کے آغاز میں ہی دائیں بائیں دو ستونوں پر کانسی  کے بنے ہوئے فوجیوں  کے علامتی مجسمے  اور رومن  دیوی  Minervaکے مجسمے دکھائی  دیں گے۔

سنگر مرمر کی سیڑھیوں  کو چڑھ کر آپ عمارت کے مرکز میں کھڑے ہوتے ہیں  تو آپ کے سامنے ، عمارت کے عین درمیان میں  ایک بلند بالا ستون پر بادشاہ   کا گھوڑے پر سوار مجسمہ کھڑا ہے۔ اس کو آج کے اطالیہ کے ھیرو کے طور پر مانا جاتا ہے۔  جبکہ اسے دائیں بائیں کچھ مقدس مجسمے ہیں۔ بادشاہ کے مجسمے کے عین نیچے ایک  طویل سنگ مرمر کی دیوار ہے جسکے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کنندہ کاری سے ابھار کے  لوگوں کے تسلسل  سے مجسمے بنا کر لوگوں اور عوام کی نمائندگی کی گئی ہے۔ اس تسلسل کے درمیاں میں ایک چوکھٹ بنا کر اس کے بیچ ایک بڑا سا فوجی کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے جس کے عین نیچے  " گمشدہ فوجی"  کی قبر ہے اس پر پھول  چڑھے ہوتے  ہیں اور اطراف میں دومسلح فوجی ساکن پہرہ دے رہے ہیں ، انکے سامنے دو ستونوں پر آتشدانوں میں آگ جل رہی  ہے جبکہ دنوں ستونوں پر دو سطروں میں لکھا ہوا ہے " پردیس میں پائے جانے والے اطالویوں اور مادر وطن کے نام"۔


اطراف میں سیڑھیاں ہیں جن سے آپ اوپر کی منزل پر جاتے ہیں، بیرونی دیواروں کے ساتھ ساتھ اٹلی کے مختلف صوبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے  مجسمے ترتیب سے نصب ہیں۔

دائیں ہاتھ ھال سے آپ اندر جاتے ہیں اور درحقیت یہ ایک تین منزلہ عمارت ہے پہلی منزل پر استقبالیہ اور دوسری منزل پر
جہاں سے آپ جھانک کر پہلی منزل کو بھی دیکھ سکتے ہیں ، پر اطالوی نشاط ثانیہ کا میوزیم موجود ہے، جسکے اندر توپیں اور جنگی ہتھیار رکھے ہوئے ۔ جبکہ دائیں ہاتھ میں آپ باہر چھت پر تشریف لے جا سکتے ہیں اور ارد گرد شہر کا نظارہ کر سکتے ہیں، ایک طرف آپ کو پاپائے روم کے محلات تو پچھلی طرف  قیصر روم کے زمانے کے محلات و کھنڈرات دکھائی دینگے۔ جبکہ عمارت کے سامنے جدید روم ہے۔ جدید روم بھی بہرحال کافی پرانا ہے۔ ادھر قدیم و جدید میں یہ فرق ہے کہ 2ہزار برس یا اس سے قبل کی تعمیرات قدیم اور پانچ سات سو برس والی عمارات جدید ہیں۔

 تو جنابو، یہ قیصر روم کا محل جو ہے یہ روم کے تینوں ادوار کے بیچ میں  پیاسا وینزیا  کے مقام پر کھڑا ہے، پیچھے قدیم سلطنت روم کے کھنڈرات اور دائیں طرف پاپائے روم کے پاپائی محلات،  بائیں جانب medioevo  کے زمانے کے محلات ہیں، بس اس مرکزی مقام پر بہت سی medioevo کے زمانے کی عمارات کو گرا کر یہ  شاندار عمارت تعمیر ہوئی۔ آج اطالیہ میں ہونے والی قومی دنوں کی تقریبات اور پریڈ وغیرہ اسی عمارت کے سامنے ہوتی ہے، صدر صاحب کا قوم سے خطاب بھی ادھر سے ہی ہوتا ہے

اوپر کے برآمدے میں جانے کا ہمارے پاس وقت بھی نہ تھا اور بارش کے باعث حوصلہ بھی۔  بہرحال بہت صاف ستھرا  لشک پشک قسم کا ماربل کا کام اندھے کو بھی دکھائی دے رہا تھا۔ بلکل ایسے ہی عمارت کے سامنے والے اوپر ٹیرس کی طرف جانے کا بھی نہ سوچا۔ سنا ہے کہ لفٹ کا کوئی  "جغاڑ " بھی ہے۔ وللہ اعلم ، آپ کوشش کر لینا موقع ملا تو۔ یا پھر صبر کریں کہ اگلی بار کبھی ہمارا چکر لگا اور قت بھی ہوا تو ۔


اگر آپ کو مذید  طالبعلمی  کا  "چسکا"  چڑھا ہوا ہے تو " سائیں گوگلو" سرکار سے رجوع فرمائیں۔ تاکہ آپ کے علم میں مذید اضافہ ہوسکے۔ 
۔



مکمل تحریر  »

ہفتہ, مئی 04, 2013

چاؤ! (اردو بلاگ نگاروں کی پہلی سمندر پار کانفرنس) بندے وصول پائے

داغ بیل
لاہور میں ہونے والی المشہور آل پاکستان اردو بلاگز کانفرنس کے فوٹو و اسٹریمنگ پورا دن   دیکھ دیکھ کر ہم شدید جیلسی کا شکار  ہوچکے تھے، مطلب دل سڑا ہوا تھا۔ پاکستان  جا نہ سکتے تھے،  جی جی وہی غم روزگار،  اور ادھر چپکے پڑے رہنا دشوار تھا۔ پس اپنی فسادی طبیعت کے زیر اثر یاسر خواہ مخواہ جاپانی جی سے رابطہ ہوا ، ویسے تو وہ عام بندے کا حال بیان کرتے ہیں مگر اس بار ہم نے انکو  اپنی روداد سنائی ،اور  کہ مرشد کچھ کرنا چاہئے ، مرشد بھی بھرے پڑے تھے،  کہنے لگے کہ خیال تو نیک ہے مگر کہاں، ؟؟ میں نے کہا کہ ادھر ہی آجاؤ ،  میرے پاس ، وینس میں۔
وینس مشہور ہے، اردو کے لئے تو نہیں مگر سیر سپاٹے و لچے پن کی وجہ سے، فل ٹورسٹ پوائنٹ ہے  اور سمندر کے کوئی 7 کلومیٹر اندر آباد شہر، عمارات قدیم و بندے جدید ،  رہائشی لوگوں سے سیاحوں کی تعداد کہیں زیادہ، اندازہ لگاؤ، کہ ایک رہائشی بندے کے حصے 700 سے زیادہ بستر آتے ہیں،   یار لوگ ادھر یا تو ہنی مون کے لئے  آتے ہیں یا  پھر رومانٹک  سیر سپاٹے کےلئے ، ہم  اردو کو اپنی محبوبہ  مان کر  کام چلا لیں گے،    مان گئے اور یوں بندہ نے اعلان کردیا کہ چلو اللہ کرے گا  کچھ بندے  اکٹھے ہو ہی جاویں گے،  علی حسان ، ٹالن  والے ، چشم و چراغ سانتا فامیلیا ملتانو، مطلب ملتان سے شاہ جی، اس طرف سے، رابطہ ہوا تو وہ ترنت تیار،   خاورکھوکھر جی سے بات ہوئی چڑھتے سورج کی سرزمین سے تو وہ بھی تیار، بلکہ انکی باتوں سے تو یہ بھی اندازہ تھا کہ سارے جلسہ کا خرچہ وہی اٹھائیں گے،  یاسر صاحب  کا بھی خیال تھا کہ  خاور کھوکھر امیر بندے ہیں، یہ کام وہی کریں تو اچھا،  ویسے خاور صاحب سے میری ازمہ قدیم کے دور کی سلام دعا ہے، تب ہم کوئی بیس کے قریب بلاگر ہوتے تھے،  ہیں  جی۔  جاوید گوندل صاحب  بے لاگ ، سے اسپین میں رابطہ ہوا فیس بک کے ذریعے مگر ، ٹیلی فون کرنے کی فرصت نہ مل سکی،  اسکائیپ پر وہ دستیاب نہ تھے۔

پاکستان سے مولوی محمد سعد  مذلہ عالیہ  بھی تیار تھے اگر ہم ، ٹکٹ پاسپورٹ  ویزہ وغیرہ کے اخراجات  اپنے ذمہ لیتے تو، مگر ایسا تکنیکی وجوہات کی بنا پر ممکن نہ تھا، ایک صاحب کا دبئی سے بھی دل للچایا  مگر انکی چھٹیاں ساتھ نہ دیتی تھیں،  جب اعلان ہوا کہ روٹی کپڑا اور مکان اپنے اپنے ذمہ ، ہم صرف ادھر کے انتظامی امور سر انجام دیں گےتو، پاکستان سے بہت سے ممکنہ شرکاء ، جو بس پاؤں بہ رکاب و نے بہ دست تھے، نے  اسے وجہ دل شکنی جانا اور  اور پھر ہمارے پروگرام کے صفحہ پر منہہ بھی نہ کیا۔  چلو جی  البتہ جرمنی سے عمیر ملک   صاحب نے کنفرمیشن دے دی، جی وہی پانچویں درویش والے  بزرگ۔

پروگرام 
پروگرام  اپریل  کے اختتامی ہفتہ کا طے پایا،  اسکی دو وجوہات تھیں،   بہار کا  موسم  اور اٹلی کا نظر آنا، سردیوں میں سب کچھ ڈھکا ہوا ہوتا ہے سردی کیوجہ  سے،  سب کچھ سے مراد زمین پہاڑ وغیرہ  ہیں، سبزہ ، پھول  وکلی  نایاب،  ہوں بھی تو بس ایویں  شہدے سے۔  دوسری وجہ  یہ تھی کہ ہمارے ادھر 25 اپریل کو یوم آزادی کی چھٹی تھی، جمعرات کی، جمعہ کو ایک چھٹی کرنے  پر  ویک اینڈ شامل کیا جاسکتا تھا،  رونق کے چانس زیادہ تھے،   ویسے بھی ادھر یورپ میں کام کے دن کام اور چھٹی کے دن ہی چھٹی ہوتی ہے، ہاں اگر کسی ماہ بیچ ہفتہ کے کوئی چھٹی آجاوے تو وارے نیارے۔

پروگرام کی ترتیب کچھ یوں طے کی تھی کہ اگر دس تک بندے ہوجاتےہیں تو پھر وینس یونیورسٹی کے شعبہ  لسانیات الشرقیہ  کے ہال میں ایک مرکزی سیشن ہوتا،  دوسرا پادوا یونیورسٹی کے  شعبہ لسانیات کے ساتھ اور تیسرا،  بریشیا  میں پاک اٹلی پریس کلب   کے ساتھ، مطلب پاکستانی کمونٹی کے ساتھ ایک ملاقات، مگر  بیل منڈے نہ چڑھی،  علی نے فروری میں ٹکٹ کی نقل فیس بک پر پیسٹ کردی۔   مگر شرکاء کی تعداد کو دیکھتے ہوئے دوسروں کو تکلیف دینا مناسب  نہ سمجھا اور اپنی گاڑی میں ہی جلسہ گاہ قائم کرلی،    خیال ہوا کہ شرکاء کی مہمانداری ، مطلب  روٹی کپڑا اور مکان  کا ذمہ اپنے سر ہی لیا جائے،   ہیں ہی کتنے جنے، بس کانفرنس کو ملاقات  یاراں میں تبدیل کردیا گیا اور اسکی فارمل حیثیت ختم شد۔

جلسہ نےچونکہ ایک ملاقات کی شکل اختیار کرلی تھی،پس  میں   پوری  ڈیموکریسی سے  میں سب سے پوچھتا گیا کہ اس کے بعد یہ کرلیں، ادھر کو چلیں اور سارے شرکاء یہ سر ہلاتے پاءے جاتے۔ 

شرکاء
یاسر خوامخواہ جاپانی    صاحب کے سرکاری  طور پر معذرت کرلینے   اور خاو ر کھوکھر صاحب کے سلیمانی ٹوپی پہننے کے بعد ملغ دو عدد شرکاء بچے جو باہر سے آرہے تھے،  علی احسان  ایسٹونیا سے اور   عمیر ملک  جرمنی سے، انکے شہر کا نام مجھے آج تک یاد نہیں ہوسکا ، بس یہ سمجھ لو کہ لیپزگ سے ایک گھنٹے کے سفر پر ہے بقول انکے، اب   ایک ہفتہ پہلے  مجھ پر انکشاف ہوا کہ  پھنس گئے،   علی  احسان  ادھر بیرگامو ائیر پورٹ پر  23  تاریخ کو آرہے مطلب  منگل کو 2 بجے  اور  انکی اتوار 28 کی واپسی وہیں سے ہے،  اور عمیر ملک  وینس مارکوپولو  پر آرہے 24 تاریخ کو صبح  نو بجے اور واپسی سوموار 29 کو وہیں سے کررہے ہیں۔  مطلب ایک مجھ سے 230 کلو میٹر شمال میں اور دوسرے 70 کلو  جنوب میں ،    علی کو تو  میں نے  سوکھے منہہ کہہ دیا تھا کہ تم خود ہی آجانا،  یا کسی کو بھیج دوں گا   جو اردو بلاگز کا بورڈ پکڑے کھڑا ہوگا اور بعد میں تمہیں ٹرین پر بٹھا دے گا، بندہ راضی ہوگیا۔   اور عمیر کو نزدیک سے پک کرلوں گا ۔مگر  ایسا نہیں ہوا۔   دل نہیں مانا   ، کہ بندہ اتنی دور سے آئے اور وہ بھی پہلی بار ، اور اسے ائیر پورٹ  لینے بھی نہ  جاؤں،  صبح ہی گاڑی لے کر پولا پولا نکل لیا اور عین وقت مقررہ پر آمد کے گیٹ کے سامنے  موجود تھا،  رائن ائیر    ہے تو شہدی ائر لائن کہ دوران پرواز کھانے پینے کے بھی پیسے وصولتی ہے، پی آی اے کی طرز پر شاہی چوول، مگر اکثر پی آئی اے کے برعکس  اپنے مقررہ وقت سے 10 منٹ پہلے ہی پہنچتی ہے ، پس اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ وللہ  سامنے کھڑا ہوگیا گیٹ کے، بھانت بھانت کے لوگ نکل  رہے تھے ،  اور میں سوچ رہا تھا کہ  علی کو دیکھا بھی  نہیں ، نہ اس نے مجھے، نہ میرے ہاتھ میں بلاگرز کا کارڈ ہے، ایک دوجے کو کیسے پہچانیں گے۔   پھر ایک بندہ نکلا باہر  ، دیکھتے ہی بے اختیار ہاتھ ہل پڑا اور وہ حضرت بھی بغیر جھجکے  ادھر کو آلپکے، یہ گلے ملے گویا کوئی دو جنموں کے بچھڑ ہوئے اور بس پھر  ۔ ۔ ۔ ۔ ایک کے بعد ایک بولتا ہی رہا، ہمارے پاس بہت کچھ تھا  کہنے سننے کو، جس پر بات ہوتی رہی، بلا وقفہ،  بریشیا سے ان کو ایک ڈونر کباب کھلایا گیا کہ 3 بجے اور کیا ملتا،  اور پادووا کو روانہ ہوءے، وہی پولے پولے، موٹر وے پر نہیں بلکہ لوکل روڈ پر کہ چلوں کچھ منظر نظارہ  ہوجاوے۔  ہیں جی۔

دوسرے دن  ہم صبح ہی ایک گھنٹہ  لے کر  دونوں ایک ساتھ ایئر پورٹ  وینس مارکو پولو کو پہنچے،  10 منٹ لیٹ تھے، عمیر کا ایس ایم ایس  آچکا تھا اور اسے لیٹ ہونے کی اطلاع باہم کرچکے تھے،  ائیر پورٹ  کے اندر پہنچ کر میں ادھر آمد کی طرف کو تیز قدموں سے جارہا تھا کہ اہو ہو ، لیٹ ہوگئے ،  ادھر علی نے کہا وہ ایک بندہ عینک والا بیٹھا ہوا ہے، میں عمیر کی فیس بک پر عینک والی فوٹو ہی دیکھی تھی اور مجھے عینک ہی یاد تھی،  ہم ادھر کو لپکے تو وہ بندہ بھی تاک میں تھا کہ ہماری طرف کولپکا،  یہ بھی جس تپاک سے ملا، لگا کوئ اپنا ہی بچھڑا ہوا پیس ہے ۔

پادووا واپس آکر عمیر کو ناشتہ کے بعد سونے کا موقع دیا گیا اور میں اور علی ( اب چونکہ ہم ایک دوسرے کےساتھ فری ہوگئے ہیں لہذا شارٹ نام ہی چلیں گے) مطلب میں، عمیر اور علی، چلو جی،  باہر چہل قدمی، ڈرائیو کو نکل لئے۔اصل میں میرا ایک کام تھا۔ جو ائیر پورٹ سے واپسی پر رستہ میں کرنا تھا، بھول گیا، پھر 30کلو کا فاصلہ طے کرکے گیا، تو اگلا بندہ نکل چکا تھا، اور میں پرس ایک بار پر کافی پنیے کے بعد چھوڑ آیا، بیچ میں ڈرائیونگ لائسنس اور بنک کارڈ بھی تھے، پھر بھاگا بھاگا واپس گیا تو مل گیا مطلب 120 کلو کا پینڈ خوامخواہ میں اور علی بچارہ میرے ساتھ ایویں ہی کھجل ہوگیا۔ 

شرکاء کی کوالٹیفیکشن
  دونوں حضرات تالابان علم ہیں ،  اور نہایت برخوردار طبیعت کے واقع ہوئے ہیں،  ذاتی طور پر ان سے ملک کر مجھے ایسے لگا کہ بہت اچھے مسلمان ہیں،  علم  حاصل کرنا ہر مسلمان  مرد  اور عور ت پر فرض ہے کو دل جمی سے نبا   رہے ہیں،   بس عورت کا اس پورے پروگرام میں دور دور تک نام و نشان نہ تھا،   جس کو ہم اچھا مسلمان قرار دیتے  یا کردیتے۔  اول الزکر  ایسٹونیا میں واحد پاکستانی  طالبعلم ہیں اور سب سے زیادہ تعلیم یافتہ  پاکستانی بھی،  میرے خیال میں کیونکہ ادھر ہیں ہی کل تین جنے۔  مارکیٹنگ میں  پی ایچ ڈی کررہے ہیں،  دعا ہے کہ اللہ انکی شاگردی سے پاکستانیوں کو بچائے ۔ ثانی الزکر ادھر جرمنی میں بڑی برخورداری سے  موبائیل سافٹ انجینرنگ کررہے ہیں  ،  بس امید ہے جلد ہی کسی ملٹی نیشنل  کمپنی کے ہتھے چڑھ جاویں گے،  جو پاکستان کے حالات ہیں لگتا نہیں کہ انکا ادھر ٹکنا ممکن ہو، ہا ں اگر سیاہ ست یا اس طرح کا کچھ اور شغل اختیار کرلیں تو۔   میرے بارے میں دیگر جضرات سے معلوم کرلیجئے ،   اب بندہ اپنے بارے کیا لکھے، اچھا لکھے تو اپنی منہہ میاں مٹھو،  اور برا لکھنا اور اپنے کیڑے نکالنا  وہ بھی اپنے بارے ، یہ تو ممکن ہی نہیں، سو کریں  پاکستانی ہیں۔ یا یا

جاری ہے Inizio modulo



مکمل تحریر  »

منگل, ستمبر 04, 2012

فرعون کے پیچھے پیچھے


لنڈن  میں فرعون کی تلاش
فرعون کے ساتھ ہمارا یارا نہ بہت پکا ہے اور پرانا بھی،  کوئی کل کی بات تھوڑی ہے، بلکہ کئی برس گئے جب لنڈن کو سدھارے تھے سنہ 2002 میں،  تو  بھی فرعو ن اور مایا کےلئے اپنی فلائیٹ مس کرنے کی کوشش کربیٹھے،  تب  ہمارا مقصد برٹش میوزیم میں توتن خام صاحب کے سونے کے ماسک کی زیارت کرنا تھا، مگر گورا صاحب نے اسے ہمارے جانے سے چند ماہ قبل ہی قاہرہ میوزیم  روانہ کردیا اور ہم ہاتھ ملتے رہ گئے، کہ خان صاحب اگر چند ماہ پہلے آجاتے ادھر تو کون سی موت پڑنی تھی۔ یہ توتن خامن صاحب  بہت مشہور معروف فرعون ہوئے،  سنہ 1332 سے 1323 قبل مسیح ادھر حکمران رہے اور جدید فراعین  کی تاریخ میں  پڑھا ئے جاتے ہیں،  انکا تعلق اٹھارویں ڈینسیٹی سے تھا جو  سنہ  1550 سے 1292 قبل مسیح تک ادھر حکمران رہے، حضرت موسٰی علیہ سلام والا فرعون رعمسس دوئم اس سے پہلے بھگت چکا تھا۔ ، یہ صاحب  اپنے سونے کے ماسک اور سونے کے تخت کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے، مطلب موٹی اسامی تھے۔  توتن خامن کے مقبرے کی جب کھدائی ہوئی  1920 میں تو کارٹر صاحب نے عادتاُ  اسکے مقبرے سے ہونے والا سونے کاماسک بھی چپکے سے نکال کر کھیسے کیا اور پھر ولائیت کو سدھارے، جی ، جی، بلکل اسی طرح جس طرح  ہندوستان کے مقبروں کے تختے بھی لے اڑے تھے اور آپ کو آج بھی لاہور ، دہلی اور آگرہ کے مقبروں کی دیوراوں میں  "موریاں" نظرآتی ہیں، جہاں سے قیمتی پتھر نکالے گئے۔ توتن خامن  کا ماسک 2007 سے اسوان کے میوزیم میں توتن خامن کے مقبرے کے اندر زیارت کو دستیاب ہے۔   



میڈرڈ میں فرعون کا پیچھا
میڈرڈ میں جب سنہ 2009 میں جانا ہوا تو ادھر بھی ہماری فرعون سے یاری نے جوش مارا اور ہم ادھر نکل لئے ٹمپل آف دیبود  کی تلاش میں ، جو پلاسا سپانیہ کے ادھر قریب ہی پایا گیا، خیر سے ادھر  فرعون تو نہ پایا گیا نہ "وڈا نہ چھوٹا" مگر چلو  اسکے پاس کی چیز ہے ، یہ ٹیمپل ادھر جنوبی مصر میں اسوان کے علاقہ میں دریائے نیل سے کوئی 15 ک م کی نزدیکی پر تھا ،   یہ دوسری صدی قبل مسیح میں "عیسس" نامی دیوی کےلئے  تب کے بادشاہ  "میروئے" نے تعمیر کروایا،   اسکا چھوٹا کمرہ البتہ "ہاموں" نامی دیوتا کے لئے مختص ہوا،   یہ معبد اپنے علاقے کی جامعہ مسجد ہی سمجھا گیا،   پھر جب 1960 میں  جب عظیم اسوان  ڈیم کا منصوبہ بنا تو پھر اسے  ادھر میڈرڈ کو یاری کی علامت کے طور پر  گفٹ کردیا گیا،   بہر حال ادھر جا کر معلوم ہوا کہ اس کا براہ  راست فرعون کے سا تھ کوئی تعلق نہیں ہے، اور یہ کہ یار لوگوں نے ایویں  "چوول" ہی ماری ہے ۔  جو لو گ میڈر ڈ  میں رہتے ہیں   ی جو لوگ ادھر غلطی  سے پہونچ  جائیں  اوریہ مضمون  پڑھنے کے باوجود بھی   اگر ادھر جانا چاہیں تو  یہ معبد ادھر میڈرڈ کے رائل پیلس کے پچھواڑے میں پایا جاتا ہے۔  ہیں جی۔
 
نہ جاسکے تو صرف قاہرہ نہ جاسکے، رہی بات تورینی کے میوزیم کی تو چونکہ اس کی  سیر حد سے دلچسپ رہی ، جی جی ، کمپنی کی وجہ سے بھی، تو اسبارے کل لکھا جاوے گا۔ ابھی جولکھا گیا اسی کو ہضم کریں اور صبر کہ سہج پکے سو میٹھا ہو۔  

مکمل تحریر  »

اتوار, ستمبر 02, 2012

فرعون اصلی والا

کچھ دنوں سے ادھر فیس بک پر دیکھ رہا ہوں کہ کسی بھی مصری ممی  کی تصویر پکڑ کر اسے فرعون قراد دے کر جاری کردیا جاتا ہے کہ" جی توبہ توبہ ، دیکھا فیر کیا حال ہوا اس ظالم کا"  ، ایک صاحب سے اس موضوع پر بات ہوئی تو انکا کہنا تھا کہ اچھا یہ فرعون نہیں ہے تو پھر کون ہے کہ اس کے منہہ پر بھی لعنت پڑی ہوئی ہے، کوئی پوچھے کہ میاں ہم ایک دن منہہ نہ دھوئیں تو یار لوگ کہہ دیتے ہیں کہ کیا پٹھکار پڑئی ہوئی ہے، یہ بچارہ جانے کون ہے اور کب سے اس کی لاش حنوط شدہ پڑی تھی کسی مقبرے میں، مصر میں لاشوں کو حنوط کرنا اتنا ہی عام ہے جس طرح ہمارے ملک میں زندوں کو ٹھکانے لگانا ، مگر وہ سارے ہی فرعون تو نہ تھے، البتہ اسکے چیلے چانٹے، لگتے لائے، منشی مشدے، نوکر چاکر  ضرور ہوسکتے ہیں، پھر یہ بھی کہ فرعون مصر کے بادشاہ کا خطاب تھا جس طرح ہمارے ہاں  ہر رشوت خور کو ذرداری کہا جاتا ہے۔ 

ادھر اٹھارویں صدی کے دوسرے نصف میں ادھر سے ہزاروں کے حساب سے ممیاں مقبروں سےبرآمد ہوئیں اور یار لوگوں نے حسب توفیق ان پر اور انکے ساتھ ملنے والی قیمتی اشیاء پر ہاتھ صاف کیا، مگر یہ کہ ممیاں کوئ  انہوں نے چوپنی تھوڑی تھیں، پس ادھر مختلف میوزمز کی زینت بنی، مگر دوران کھودائی پائے جانے والے دیگر مال بیش قیمت و زروجواہرات 
کا کبھی ذکر تک نہ ملا۔ 


چند ایک ایسی عالمگیر شخصیات جنکو ہم بغیر دیکھے  ہی جان گئے اور یہی نہیں اسکی موجودگی پر بھی کبھی کسی شک کا اظہار نہیں کیا میں سے ایک فرعون بھی، ہم ہی کیا بہت سے لوگوں کا یہی احوال ہے،  کچھ تو فرعون کو اتنے نزدیک سے جانتے ہیں گویا ایک ساتھ پڑھتے رہے ہوں،  فوراُ کہہ دیں گے" لو جی ، یہ تو ہے ہی فرعون، میں نے تو دیکھتے ہی کہہ دیا تھا"۔ ایک الگ بات ہے کہ  عمومی طور پر اسے کوئی نیک نام آدمی نہیں سمجھا جاتا، بلکہ  کچھ بزرگوں  کے اقوال ذریں و غیر سے تو یہی لگتا ہے، نہیایت کھوچل اور بدنام آدمی تھا۔  خیر بقول شاعر "بدنام ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا"۔

بعد میں معلوم ہوا کہ  فرعون ہر بندے کے اندر گھسا ہوا ہوتا ہے، اور ہمارے اندر بھی، اسی لئے تو کچھ لوگ   کبھی کبار ہمیں بھی فرعون کہہ دیتے ہیں، آپ کو بھی کہتے ہوں گے،  ہم کیا جانیں۔

ویسے تو ہمارا دل ہےہی" ٹھرکی" قسم کا،  بس جو چیز دل کو لگی ادھر چل دیئے۔  مصر بھی دنیا کے ان بہت سے ممالک و مقامات میں سے  ایک  ایریا ہے جہاں  شروع سے ہی ہمارا جانے کو دل کرتا تھا  خیر، اب بھی کرتا ہے، ادھر جانے کی وجہ بھی حضرت موسیٰ  علیہ سلام   کم اور فرعون زیادہ  رہا، شاید اسکی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے تاریخ دانوں نے فرعون کے بارے لکھ لکھ کر کشتوں کے پشتے لگا دیئے  ، حضرت موسٰی ؑ کے بارے میں کچھ لوگوں نے لکھا ،  ظاہر جو جس پارٹی سے ہوگا اسی بارے ہی لکھے گا۔

مصر جانےکی ہماری آس تب بندھی  اور لگا کہ "وقت وصال فرعون " قریب ہے  جب ہم نے ٹورازم کے شعبہ میں قدم رکھا، مگر ہائے وہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا اور مصر ائیر لائیز کی طرف سے فرعون کی ممی والی ایک پورٹریٹ پر ہی گزارا کرنا پڑا۔  پھر کچھ عرصہ بعد  پاکستان گھر کو منہ کیا تو وہ پورٹریٹ بطور خاص ابا جی کےلئے تحفہء  نایاب کے طور پر رکھ لیا، مگر جب نکال انکے سامنے کیا تو ماحوال کچھ اور ہوگیا، انہوں نے پسندیدگی تو کیا بس پکڑ کرفوراُ ادھر پھینکا  کہ " کنجرا میں کوئی فرعون دا یار ہاں"  اور یہ کہ میں اور فرعون کو گھرمیں گھسنے دوں اس نحش کو۔

مئی میں جو تورینو میں جب  ایک کورس کےسلسلہ میں  جانا ہوا  تو  ایجیصیو میوزیم  دیکھے بنا   نہ رہا گیا، کہ قاہرہ کے بعد مصری تہذیب کا دوسرا بڑا میوزیم ہے اور مصر سے باہر یہ واحد میوزم ہے جو صرف اور صرف مصری تہذیب کے بارے ہے، گویا فرعون سے پکی یاری ہے ان تورینو والوں کی،   کورس کے دورا ن  مقامی اطالوی  کورس میٹ   اور کولیگ "کوستانسا" سے اس خواہش کا ذکر کیا،  تس پر محترمہ فوراُ رضامند ہوگئیں کہ میں بھی اس شہر میں کوئی 4 برس سے رہ رہی ہوں مگر   نہ دیکھ سکی، پرسوں کورس کے آخری دن  تمھارے ساتھ ہی چلوں گی،  ہائے ہائے وہ کہہ رہی تھی اور ہمارے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے۔ مطلب چوپڑی  بھی اور دو دو بھی

یہ جو تصاویر ہیں یہ بھی کوستانسا نے ہی سینڈی ہیں بعد میں

مکمل تحریر  »

سوموار, اگست 27, 2012

چلتے یونان کو

ملک یونان سے ہماری واقفیت مرحلہ وار ہوئی تو اس کو اسی تربیت سے بیان کیا جاتا ہے 


حکیم محمد یوسف  (یونانی)
یونا ن سے ہمارا واسطہ حکیم محمدیوسف  (یونانی)  آئمہ پٹھاناں والے کے مطب پر لکھی تختی سے ہی ہوتا تھا، ادھر بھی ہمارا جانا تب ہی ہوتا جب بھینسیں گم ہوجاتیں اور ہماری ڈیوٹی ادھر شمال کو ڈھونڈنے  کی ہوتی، گزرتے ہوئے اگر حکیم صاحب جو نہایت نیک صورت و سیرت بزرگ تھے  باہر سڑک پر دھوپ سینکتے نظر آجاتے ،   تو ان سے پوچھ لیتے کہ حکیم صاحب سلام، کہیں آپ نے ہماری مجھیں تو ادھر جاتی نہیں دیکھیں، باوجود اس کے کہ ہمیں انکا جواب معلوم ہوتا کہ : " پتر میں تو ابھی ایک مریض کو چیک کرکےنکلاہوں"۔

اسکندر اعظم عرف سکندر یونانی
اس شخصیت کے بارے ہمیں  اپنے  چڑھتی جوانی سے پہلے ہی علم ہوچکا تھا، میاں لطیف صاحب  اکثر جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے   نعرہ مارتے " گیا جب اسکندر اس دنیا سے تو اسکے ہاتھ خالی تھے"  تب ہم میاں جی کے علم کے اور انکے پہنچے ہوئے ہونے کے" فل  "قائل تھے ، پھر یہی نعرہ ہم  نے بعد میں بھیک شہر میں بھیک مانگنے والوں سے بھی سنا تو وہ بھی بہت دور تک پہنچتے ہوئے لگے جبکہ ہم بھی ان سے دور رہنے کی کوشش کرتے۔  ہمارے پنڈ کے تاریخ دان بابوں کا  خیال تھا  بلکہ سرٹیفائیڈ بات تھی کہ اسکندر اعظم کی فوج نے جو دریائے جہلم عبور کیا راتوں رات تو ہو نہ ہو، یہ  ہمارے گاؤں  کے مقام سے تھا اور اس میں لازمی طور پر ہمارے گاؤں والوں کی ملی بھگت بھی رہی ہوگی،  جبکہ ہمارے دوست غ کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے جب ماسی ضہری ادھر  گلی میں سے ککڑ تو گزرنے نہیں دیتی ، کوئی ڈیڑھ سوگالی ہمیں دیتی ہے اگر دن میں دوسری بار ادھر جاتے دیکھ لے تو،  پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اسکندر یونانی ادھر سے نکل لیا ار ماسی ضہری کو پتا نہ چلا، اسلئے یہ سب بکواس ہے، بابا لوگ ایویں ہی اپنے نمبر ٹانگ رہے ہوتے ہیں،   پھر اسکے ساتھ فوجی بھی تھے،  فوجیوں کی ایسی کی تیسی جو ہمارے ادھر سے گزریں بھی ، انکوپتا ہے کہ یہ علاقہ" آوٹ آف باؤنڈ " ہے

حکمت یونانی
یونانی حکمت  کا ہم تب علم حاصل ہوا جب  علم معالجات پڑھنے کی ٹھانی، کہ یہ علم طب کی وہ قسم ہے جس کو یونان نے بہت فروغ دیا، پھر ادھر سے عربوں تک پہنچا اور پھر ادھر ہمارے پاس، اس علم میں چار علتیں بیان کی جاتیں : خون، سودا، صفرا  اور بلغم اور علا ج بلضد کے طور پر معالجات  ہیں ابتداء میں جڑی بوٹی اور پھر مختلف معدنیات وہ زہریں  استعمال ہوتیں،  ہمارے لئے دلچسپی کاباعث  "کشتے  " ہوتے ، جی بلکل وہی  والے جو " بوڑھے کو جوان  اور جوان کو  فٹ " کردیتے ہیں۔مگر ایسا کشتہ بیچنے والے تو بہت ملے مگر بتانے والا کوئی نہ ملا، اگر کوئی حکیم تب بتادیتا تو ہم بھی " دکان بڑھاجاتے"۔

مولبی انور حسین قادری
یہ مولبی جی سرائے عالمگیر سے آتے تھے اوراپنے سفید کرتے پاجامہ اور سبز پگڑی  پھر لہک لہک کے نعتیں گانے کی وجہ سے ہمارے گروپ میں فل مشہورتھے بلکہ بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتے، اندر سے پورے لچے اور تاڑو تھے جبکہ اوپر سے بہوت شریف ، انکی ہمارے مشٹنڈا گروپ میں شمولیت ہمارے لئے انتظامیہ  کی نظروں میں شریف بننے کی ایک کوشش تھی۔ تیسرے  درجے میں  جب ہم پہنچے تو ایک دم سے مولبی جی غائب ، معلوم ہوا کہ یونان چلےگئے، ان ہی دنوں یہ خبریں آنے لگیں کہیونان کے ذریعے  ایجنٹ یورپ میں پہنچاتےہیں،  بس بندہ کسی طریقہ سے ترکی پہنچے تو ادھر سے یونان اور پھر یورپ کی اینٹری، ہیں جی۔اور ادھر یورپ میں گوریاں، پس مولبی جی قسمت پر رشک کرتے ، ہیں جی ،  کہ لٹ موجاں گئے ہیں یہ مولبی جی تو، ہیں جی

چلتے ہو تو یونان کو چلئے
اٹلی آکر احباب  سے علم حاصل ہوا کہ ہمیں یونان پہنچنا چاہئے۔  اسکی دو وجوہا ت  تھیں  ہمارے لئے، مولبی جی  کے علاوہ  ایک تو یہ کہ ہمارے ہیلنک ہومیوپیتھیک میڈیکلایسوسی  ایشن کا  کورس اور دوسرے ادھر کاغذ کھلے ہوئے ہیں، مطلب پھر ہم ویزہ  کے جنجھٹ سے آزاد ہوجائیں گے۔ تو بس جناب پہنچ گئے ادھر کو یوں  مارچ  1998 کو،  اب ادھر اپنے جاننے والے تو کافی تھے،  ہمارا کام ہوتا پڑھنا اور فارغ رہنا، پھر کاغذوں کی فکر ہوئی تو جانے کیسے کچھ جاننے والوں نے ایک دن ایک سفید کارڈ ہمارے ہاتھ لا کر دے دیا کہ جی آپ کی  "سفید خرطی بن گئی" اور ہم اسی پر خوش،  اس کے بعد سبز ہوئیں گی اور پھر آپ ادھر پکے،  ہائے ہائے کیا دن تھے ہیں جی،  دن بھر ادھر انگریزی بولو، شام کو ہیلنااسپرانتو ایسوسی ایشن کے کسی  پنچ ست ممبران  کے ٹولے کے ساتھ گپیں اسپرانتو میں اور پھر رات کو ڈیرے پر آکر پنجابی بولو، ہیں جی،  البتہ تب  کچھ کچھ چیزیں یونانی زبان کی بھی سمجھ آتیں ، جن میں  "مالاکا " اور "ماگا" کے دوالفاظ ہمارے کانوں میں اکثر پڑتے اور پھر تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ دونوں گالیوں کے زمرے میں آتے ہیں ،  پس ہم نے بھی یونانی زبان صرف گالیوں کی حد تک ہی سیکھی ، اب ایسی بھی کوئی بات نہیں کہ ہمیں صرف دو گالیاں ہی یاد تھیں، یاد تو بہت سی تھیں مگر اب یہ دو ہی دماغ میں رہ  گئی ہیں۔

پھر جناب ادھر جون اور جولائی کے دن اور بیچز "کالاماکی " کے اور ہم ،  ایک پرانی جینز کا کاٹا اور ادھر گھٹنو ں تیک اور پھر پورا  دن لگا کر اسکے دھاگے نکال کے "پھمن " بنائے اور نیچے نائیک کے کالے جوگرز ، اور  رے بین  کی عینک زیب تن کئے ہم ادھر امونیا اسکوائیر سے کالاماکی تک پھر تے کئے،  تب یونانی دیویاں  غیر ملکیوں پر اتنی کرم نواز نہیں تھیں۔  بس دور دور ہی رہتیں اور ہم راجہ اندر کی طرح اپنی کورس میٹس میں نہایت شریف اور مسلمان ہونے کے گھرے رہتے ۔  ہیں جی، کبھی کبھی  شریفت کا حجاب بھی بندے کو کھجل کرکے رکھ دیتا ہے۔  

مولبی انور قادری کوبھی ادھر ڈھونڈھ نکالا مگر معلوم ہوا کہ یہ بندہ کسی کام نہیں رہا، ادھر آکر پکا مولبی ہوگیا ہے اور یہ کہ مسجد سے باہر کسی سے ملتا ہی نہیں، کام اور پھر مسجد، گویا انک کی کایا کلپ ہوگئی ہے۔ ہیں جی

ویک اینڈ  کا مزہ
ادھر سمجھ آئی کہ وییک اینڈ کیا ہوتا ہے، ملازمین کو تنخواہ جمعہ کی شام کو ملتی اور اگر ہفتہ کو کام نہیں کرنا تو بس پھر آپ کا ویک اینڈ شروع، آپ کی جیب میں کوئ پچیس تیس ہزار درخمے پڑے ہیں جو عوامی تنخواہ تھی تو پھر  کرو موجاں، یار لوگ جمعہ کی شام کو ہی  بئیر کے گلاس پر "پارئیا" کرنے مطلب گپ لگانے چلے جاتے اور رات کو دو دو بجے لوٹتے ، جو ہفتے کو کام کرتے وہ ہفتے کی شام کو نکل لیتے۔

بتی والا گھر
ہماری یاری چوہدری رمضان کے ساتھ تھی کہ ہمارے ساتھ کے پنڈ کا تھا اور جب پاکستان میں تھا توہماری زمین میں ٹریکٹر سے ہل چلایاکرتا تھا، جانے کب ادھر کو نکل آیا،  ایک دن جمعہ کی رات کو ٹن ہوکر آیا تو کہنے لگا : :ڈاکٹر آپ بتی آلے گھر گئے؟" نہ چوہدری وہ کیا ہوتا ہے اور کدھر ہوتا؟  لو  دسو آپ کو بتی آلے گھر کا نہیں پتا ، ایسا نہیں ہوسکتا،   وائی کسمیں چوہدری نہیں پتا،  میں ماننے والا تو نہیں مگر آپ کہتے ہو تو مان لیتا ہوں ، بس آپ کل تیار ہوجاؤ صبح ہی اور ہم نکل لیں گے، مگر کسی کے سامنے نام نہ لینا، اب اتنے مولبی تو ہم بھی نہ تھے سنا ہوا تو سارا کچھ تھا، پس کل کا پروغرام دماغ میں لے کر سورہے۔

دوسرے دن "ارلی ان دی مارننگ" مطلب کوئی گیارہ بجے آنکھ کھلی ، اور ناشتہ ، اگلے ہفتے کی خریداری، تین بجے فارغ ہوکر ، رمضان نے آنکھ ٹکائی کہ نکل ، اور ہم جو دیر سے اس لمحے کو "اڈیک" رہے تھے  پس نکل لئے، آج ہمارے دل میں چور تھا۔  ہیں جی۔

اومونیا اسکوارئر  کو پہنچے  اور ادھر دیکھا کہ کوئی پاکستانی تو نہیں دیکھ رہا ، کم ازکم مولبی انور تو نہیں گھوم رہا۔  ہیں جی
اور کسی چور کی طرح رمضان کے پیچھے چلتے رہے، اس دن اسکی چال واقعی کسی چوہدری کی چال تھی، پورے لطف میں تھا۔
بس پھر ہم  "پلاکا"   کی گلیوں میں گھومتے رہے، ان گلیوں میں جو ایتھنز کا قدیم مطلب انٹیک حصہ تھا۔
بس پھر رمضان نے ہمارے ہاتھ دبایا یہ یہ جو گھر ہیں جن  کے دروازے پر دن دھیاڑے جو بلب جل رہا ہے "گویا سورج کو چراغ دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے" یہ ہی ہماری منزل مقصود ہے اور ادھر ہی سے وہ گوہر نایاب ملنے والا ہے۔
مگر اس میں نہیں جانا کہ ادھر مال پرانا ہوتا ہے، ادھر بھی نہیں جانا کہ ادھر مال  مہنگا ہے ، ان کے بستر گندے ہیں، یہ والے غیرملکیوں کو پسند نہیں کرتے، یہ والے ، بس ہم پہنچ گئے، ادھر کھلے دروازے میں سے ہم لوگ اندر گھسے تو بس کچھ کچھ اور ہی منظر تھا،  عجیب سرخ کی روشنی میں نہا سے گئے،  ایک بڑا سا ہال تھا اور اسکے کونے میں کرسی پر ایک پرانی پھاپھڑ قسم کی مائی نے بہت بڑا منہ کھول کر ہمیں " یاسس " کہا جواب رمضان نے ہی دیا اور لگے ہاتھوں اسکا احوال بھی پوچھ ڈالا اور یہ بھی بتادیا یہ "یاترو" ہے  جو پاکستان  سے آیا ہے اور ادھر اسکی خدمت کرنا مانگتا، رمضان نے اشارہ کیا اور اسکے ساتھ ہی میں بھی کرسی پر ٹک سا گیا۔  بس پھر غور کیا تو اس ہال میں دونوں طرف اور سامنے چھوٹی چھوٹی گیلریاں 
تھیں جنکے اندر دونوں اطراف میں دروازے تھے ، شایدکمرے ہوں گے۔

ہمارے بیٹھے بیٹھے ہی ایک دروازہ کھلا اور ایک لڑکی  اس میں سے نمودار ہوئی، بس لڑکی کیا جناب، ایک حسینہ وہ جمیلہ، وہ بھی صرف بریزیر اور چڈی میں، ہائے ہائے، ہمارا تو بس دل ہی دہل گیا، ہیں جی،  ہمارے ادھر سامنے سے ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے ، دیدے  مٹکاکر گزری اور یاسسس کہتی  ہوئی ، گویا ہمیں دعوت شباب   و شتاب دی جارہی ہے، ایک کمرے میں دوسری طرف گھس گئی۔   ہم تو  قریب المرگ ہی ہوگئے تھے قسمیں۔  پر رمضان نے ہاتھ تھپ تھپایا اور کہا پولا سا ہمارے کان میں کہ یہ وہ مال نہیں ، صبر۔
پھر ایک اور   ، ہیں جی
پھر ایک اور ، اور پھر ایک اور ہیں۔
اور پھر رمضان نے بڈھی سے کسی کا پوچھا  اور انکار ی  جواب پاکر ہم کو اشارہ کہ ادھر سے نکل، کہ وہ مال نہیں ہے ۔ باہر آکر بولا  کہ ادھر وہ دانہ نہیں ہے ایک اور جگہ چلتے ہیں ، راستے میں  دوچار دروازوں میں داخل ہوئے اور تھوڑی دیر مال دیکھا اور پھر نکل لیئے، کہیں رمضان کو مطلوبہ بندی نہ نظر آئی اور کہیں پیسے  زیادہ تھے۔ پھر ایک جگہ  بیٹھے ہوئے تھے اور "یہ چیز "کا نعرہ رمضان نے مارا ، لڑکی حسب دستور یاسس کہہ کر دیدے مٹکاتی اور کولہے ہلاتی ہمارے سامنے سے گزر گئی اور ہم دل پکڑ کررہ گئے۔ ہیں جی لڑکی تھی یا قیامت ، ہیں جی،  دل میں ہی کھب گئی اور ہم ہزار جان عاشق ہوگئے۔ ہیں جی

رمضان نے بات کی مائی سے ، چھ ہزار مبلغ میں بات طے پائی اور رمضان نے مجھے کہا کو وہ دائیں کو سامنےآلے کمرے میں ہو لو،  مگر وہی چولوں والی حرکتیں ہماری کہ نہ چوہدری پہلے تم ،  ہیں جی، آخر میں عمر میں ہم سے بڑا تھا۔ ہیں جی ،  اور وڈوں کو احترام ہی تو ہم نے سیکھا ہے۔چونکہ یہ پہلی بار تھی ادھر جانے کی تو ایک جھجک  سی بھی شاید ، یا پھر خورے کیوں؟  ہیں جی۔

رمضان  میری طرف غور سے دیکھتا ہوا ، پولا سا اٹھ کر اس دروازے میں داخل ہوگیا،  اب میں ادھر بیٹھ  ہوا تھا اور ادھر ادھر دیکھنے اور اواسیاں لینے کے علاوہ میرے پاس کچھ کرنے کو نہ تھا۔  چند منٹ بعد ایک آدمی نکلا بیلٹ باندھتا ہوا،  شاید اسی کمرے سے نکلا تھا جس میں سے وہ حسینہ برآمد ہوئی تھی  یا اسکے سامنے والے سے۔ ہیں جی، پر سانوں  کی؟ ہیں جی۔
کوئی پندرہ بیس منٹ کے انتظار کے بعد وہی دل چیر حسینہ پھر برآمد ہوئی اور  ہمیں یاسس کہتی ہوئی اس بار بڈھی کے اشارے  پر رمضان کے کمرہ  میں، اس دوران ہم نے نوٹ کیا کہ ہماری طرح کے کافی لوگ آکر جابھی چکے تھے  ہر آنے والے کہ چہر ے پر ایک مسکراہٹ بھی تھی  یا کچھ روشنی سی۔ اور یہ بھی کہ مختلف اطراف سے تین چار لڑکیاں ایک گیلری کے  دروازے سے نکل کردوسری گیلری کے دروازے میں داخل ہورہی تھیں اور انکے پیچھے سے کچھ دیر بعد کوئی بندہ بھی نکلتا اور نظریں چراتاہوا  ہمارے سامنے سے گزر کے باہر کا منہہ کرتا،  تب کوئی بھی سلام دعا نہ کررہا تھا، شاید انکو یاد نہ رہتی ہوگی، ہیں جی ، آخر بندہ بے دھیانہ بھی تو ہوہی جاتا ہے، ہیں جی۔

پھر  ہم نے نوٹ کیا کہ اسی دروازے سے جدھر سے وہ حسینہ عالم برآمد ہوئی ایک آدمی بیلٹ کستا ہوا نکلا اور بڈھی تب تک ایک اور بندے سے چھ ہزار درخمے لےکر اسے اس کمرے  سے پہلے میں جانے کا اشارہ کرچکی تھی۔

کچھ دیر بعد شاید بیس منٹ کے بعد رمضان والا دروازہ کھلا اور وہ ہی حسینہ نکلی اور ہمیں یاسس کہہ کر دعوت دیتی ہوئی بڈھی کے اشارے پر دوسرے والے کمرے میں چلی گئی، رمضان بھی تھوڑی دیر بعد نکلا اور منہہ نیچے کرکے مجھے سے پوچھا" ہاں ؟ ہے پروغرام؟ " جانے کیوں میرے منہہ سے نکل گیا نہیں یار،   پر کیوں؟ رمضان پر حیرت ٹوٹ پڑی،  اس سے خوب مال پورے ایتھنز میں کہیں نہیں ملے گا،  پر میرا دل نہیں ہے،  پر کیوں؟ پیسے میں دوں گا، نہیں یار میرا دل نہیں کررہا ، چل واپس چلیں،   پر کیوں؟  کیا ہوا ؟ اگر یہ والی پسند نہیں ہے تو کسی اور جگہ چلیں؟ میری نظر میں اور بھی  مال ہے۔ نہیں یار میری طبیعت صحیح نہیں ہے، گھر کو چل۔ اچھا چل کچھ کھاتو لیتے ہیں،  تو کھالے یار میرا دل نہیں۔  چل اب آئے ہیں تو تیرو پتا  ہی کھالے ، نہیں یار میرا دل نہیں تو کھالے میں ادھر ہی ہوں  تیرے ساتھ بیٹھاتا ہوں۔
شاید میرا من ہی مارا گیا تھا۔ شاید مجھے وہ میکانزم سمجھ آگیا تھا، شاید  میں بہت سیانا تھا اور دور کی سوچ رہا تھا، نہیں شاید واقعی میری طبیعت خراب ہوگئی تھی،  مگر ایک بات ہے ، اسکے بعد بھی جب کبھی اس علاقے سے  یا اس جیسے کسی محلے سے گزر ہا تو ، اندر جھانکنے کا حوصلہ نہ پڑتا اور جب بھی اس بتی والے گھر کے بارے میں ذکر ہوتا ہے میری طبیعت اب بھی خراب ہوجاتی ہے۔ ویسے بندے کو ایڈا وی حساس نہیں ہونا چاہئے۔  ہیں جی



ایک وضاحت، رات کو نہ لکھ سکے اس پوسٹ کا عذاب ثواب علی حسن پر ہے، کہ یہ بندہ ہمیشہ ایسی آدھی سی پوسٹ لکھ کر ہمیں ٹینش دلوادیتا ہے، کہ جی بس پرانی یادوں میں غوتے لگاؤ اور کھوتے بنو






مکمل تحریر  »

جمعرات, اگست 16, 2012

برازیل، جوس اور پیپسی

برازیل گئے اب تو کئی برس بیت گئے مگر چند ایک ان ممالک سے ہے جو ہم دیکھ پائے اور پھر کبھی نہ بھول سکے،   نہ اس ملک کی صفائی ستھرائی کو نہ بندوں کی مہمان نوازی کو، گو کہ تھا ایک مکمل طور بزنس ٹور مگر،  جہاں بھی گئے ، کسی بھی دفتر میں  ، اٹلی کے حوالے سے کسی جاننے والے کے ہاں یا کسی اسپرانتودان کے ہاں، خود سے یا کسی کے ساتھ  تو جیسے ہی انکو معلوم ہوا کہ   یہ مہمان اٹلی سے ہے  مگر ہے پاکستانی ،  گویا کہ بہت دور کا مہمان ہے،  تو پھر کیا تھا فوراُ دعوت  دے ڈالتے ،کہ آج شام کا کھانا ہمارے ادھر، کل  دوپہر کو ہمارے ہاں، نہیں تو سہہ پہر کی کافی تو لازمی ہے،  اچھا نہیں تو  "ڈیگر " کو ادھر سمندر پر چہل قدمی کے لئے ہیں تمھیں پک کرلیں گے، پاکستانیوں کی طرح وہ بھی ایک گاڑی میں اکیلے کم ہی سفر کرتے ہیں بلکہ ہمیشہ جوڑے کی  صورت میں۔

آج کل رمضان کی وجہ سے جوسز اور مشروبات کا بکثرت استعمال  ہمیں پھر برازیل کی یاد دلا گیا، کچھ یوں کہ جب بھی کسی کے گھر پہنچتے تو سوال ہوتا: کونسا ڈرنک لوگے؟ کیلے کا،  مالٹے کا،  کیوی یا آم کا، امرود یا لیچی کا، اسٹرابری یا  ٹماٹو جوس، خوبانی یا آڑو  ؟   " کج تے دسو سرکار؟ کج تے منہ پھوٹو؟"  

اور سرکار  ادھر بے ہوش ہونے کے قریب ، کہ:
انہوں نے اتنے سارے پھلوں کے جوس گھر میں اسٹاک کئے ہوئے ہیں ، ہیں جی
بڑی مالدار "پارٹی" لگ رہی ہے ، ہیں جی
سنا تھا کہ برازیل تو تھرڈ  ولڈ کا ملک ہے، ہیں جی
ادھر تو تنخواہیں بھی بہت کم ہیں ،مگر پھر بھی انی عیاشیاں ،  ہیں جی۔

حیرت  کو ایک طرف رکھ کر منہ سے "امرود " کا لفظ نکلا ،  کہ لو جی  پاکستانی پھل ہے، لازمی طور پر مسلمان بھی ہوگا، مگر "قسمیں" ہم  نے پاکستان میں امرود کا جوس کبھی نہیں پیا، بلکہ دیکھا بھی ادھر اٹلی آکر ، کہ ادھر ملک مصر سے آتا ہے۔ جی ، جی وہی فرعون  کا ملک ، بلکل وہی والا۔

پس اگلی نے  فوراُ  ،  آمین  کہتے ہوئےمہمان خانے میں ہمارے سامنے رکھی پھلوں کی ٹوکری میں سے دو امرود نکالے، انکو دھویا، چھوری سے دو ٹکڑے چوڑائی میں کاٹا،   چمچ لی، اور امرود کے بیچ میں ایک بار گھما کر بیج  ادھر باہر "بن"  میں ، دوسری بار پھر چمچ گھمائی اور گودا  جوسر بلینڈر میں اور چھلکا پھر سے  "بِن  " میں اور  یوں  چار بار کے ٹونہ کے بعد دو امرود ز کا گودا نکال،  اس میں چار چمچ چینی، چٹکی بھر نمک   اور کوئی جگ بھر پانی ڈال ، برف ڈال  ، گلاس میں انڈیل، ہمارے سامنے پیش کردیا ، کہ لوجی  امرود کا ڈرنک تیار ہے، نوش جان کیجئے۔

جب بھی پاکستان جائیں تو جس کے گھر بھی جائیں پیپسی اور کوک سامنے آجاتی ہے، یا پھر روح افزاء، ادھر اٹلی میں جوس کا ڈبہ اگلے لاکر سامنے رکھ دیتے ہیں ۔  پیپسی ، کوک میں تو خیر سے کیمکیلز کے سوائے کیا ہونا ہے، پانی بھی "خورے" کونسی صدی میں بھرا گیا اور کس گھاٹ سے۔  مگر ادھر اٹلی کے جوسز میں بھی اکثر میں  جوس 25٪ ہی ہوتا ہے، باقی پانی، چینی اور کیمیکلز منافع میں،  بندہ پوچھے کہ جب پچیس فیصد جوس ہی پینا ہے تو پھر برازیلین ڈرنک ہی کیوں نہ اپنا لیا جائے کہ سستا بھی ، تازہ بھی اور بغیر کیمیکلز اور کنزرویٹرز کے۔

اب  ہمیں حکیم لقمان نہ سمجھ لیا جائے، کوئی بنائے نہ بنائے سانوں کی،  ساڈی تے اپنی وائف  نے بھی ایک بار بنایا تھا، بہت پسند کیا مگر پھر وہی پیپسی کہ جی لوگ کیا کہیں گے؟ آپ بتاؤ جی کہ ناک بھی رکھنی ہوتی ہے کہ نہیں، ہم اگلو ں کے جائیں اور وہ پیپسی پلائیں مگر  ہم ان کے سامنے گھر کا بنا ہوا ڈرنک رکھیں، مطلب ہم غریب ہیں کوئی؟  نہ جی  ناں، ہم غریب کتھوں ؟  آپ سب کو پیپسی پلاؤ جی۔ سانوں کی

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش