اتوار, اکتوبر 12, 2014

قوم کا زوال اور معاشرتی ناانصافیاں

دلی۔ بھوپال۔ اور حیدرآباد دکن کا جس قدر ڈاکومینٹری ، مطالعاتی و مشاہداتی مطالعہ ہماری نظر سے گزرا ہے ۔ اسمیں اس دور کی دلی اور دیگر مسلم تہذیبوں کے گڑھ میں ۔ انگریزی قبضہ سے قبل اور بعد میں اور آج تک ۔ جس خاص چیز نے ہندؤستان میں اور اسکے تسلسل کی صورت میں پاکستان میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا اور جس پاکستان میں مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے ۔ اور اس نقصان کی شدت اس حد تک ہے کہ جس سے بالآخر تب ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانیہ و انگریزوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی آزادی و تہذیب ختم ہوئی اور اسی تسلسل سے آج پاکستان میں امریکہ و مغرب ۔ آئی ایم ایف او ورلڈ بنک کے ہتکنڈوں سے پاکستان کی ۔ اور پاکستانی مسلمانوں کی خود مختاری و آزادی۔ سکون ۔ عزت سے سے جینے کا حق و اختیار ۔اور آبرو کو خطرہ لا حق ہے۔ اور پاکستان بہ حیثیت ایک بااختیار ملک ہر گزرنے والے دن کے ساتھ پیچھے ہٹ رہا ہے۔ اور کسی سانپ کی پھنکارتا ہوا وہ سنگین مسئلہ ہے،

عدم مساوات


امیر اور غریب کے رہن سہن میں زمین و آسمان کا فرق ۔ امراء کے اللے تللوں کے لئے ہر طرح کی لُوٹ کھسوٹ جائز۔
اور غریب ۔باوجود چودہ گھنٹے کی مشقت کے۔ روزی روٹی اور زندگی گھسیٹنے کی بنیادی ضروریات کے لئے سسکتا ہوا۔ 
ایک طرف اربوں اور کھربوں کے اثاثوں کی مالک۔ ملک کی چند فیصد اشرافیہ ۔اگر تو اسے اشرافیہ کہا جاسکتا ہے۔
اور دوسری طرف غربت اور غربت کی لکیر سے نیچے بے توقیر دو وقت کے روٹی کا جتن کرتی ملکی اکثریت۔

تب اور آج بھی ملک کے تمام وسائل پہ قابض مگر مزید ہوس کے مارے۔ملکی عزت و وقار اور آزادی اختیار کو بیچ کر دام کھرے کرنے والے امراء ۔

اور دوسری طرف ایک مناسب زندگی کی نعمتوں سے محروم ۔ دو وقت کے روٹی کے مارے بے وقعت و بے اختیار ۔ زندگی گھسیٹتے ۔ زندگی بھگتتے۔اسی فیصد سے زائد محروم عوام ۔ 

تب بھی نظام و سرکار و دربار پہ قابض رزیل ترین امراء ۔
اور آج بھی پاکستان کے ہر قسم کے وسائل پہ قابض ۔ اور پاکستان کے تمام وسائل کو اپنا پیدائشی حق سمجھنے والا۔ملکی آبادی کا چند فیصد فرعونی طبقہ۔

بے اختیار اور مجبور رعایا تب بھی جہاں پناہ اور ظل الہی کے الاپ جابتی اور آج بھی فلاں ابن فلاں کے زندہ باد اور پائیندہ باد کے نعرے لگاتی ۔
اور بدلے میں کل بھی نظام کو بدلنے سے محروم۔ بے بس رعایا اور آج بھی عوام پاکستان میں مروجہ تمام نظاموں میں اپنی رائے سے ۔ اپنی طرح کے غریب نمائندوں کے ذریعے ۔اپنی طرح کا کوئی غریب حکمران چننے سے محروم عوام۔ 
تب بھی رعایا کو عملا نظام میں کسی طور پہ مداخلت سے محروم رکھنے کے لئیے ۔ دربار ۔ سرکار۔ اور افضل النسل ہونے کے تفاخر میں جاگیروں۔ نوابیوں اور حکمرانی کے پیدائشی اور مورثی ہتکنڈے۔

اور آج بھی پاکستان کے نظام کو ترتیب دینے کے لئیے بالا دست طبقے کے لئے کروڑوں خرچ کر کے۔ پی این اے اور ایم این اے بننے کے مواقع اور نظام اور اسکی پالیسیوں کو بالا دست طبقے کی لوٹ کھسوٹ اور بندر بانٹ کے مواقع پیدا کرنے کے نت نئے طریقے۔
تب بھی اعلی تعلیم اور کارِ سرکار میں ملازمت کے لئے اور اشرافیہ کا امتیاز ۔ تفاخر۔ اور اعلی شناخت برقرار رکھنے کے لئے ان کی اپنی غیر ملکی درآمد شدہ زبان فارسی ۔  اور آج بھی عوام پہ امراء کے تسلط کو قائم رکھنے کے لئے کام کرنے والوں کے ”انگریزی کلب“ میں داخلے اور تسلط کے لئیے دو فیصد سے کم ملکی آبادی کی سمجھ میں آنے والی درآمد شدہ زبان انگریزی۔

القصہ مختصر کل بھی رعایا کو اور آج بھی عوام کو ملک کے وسائل میں سے کچھ نصیب نہیں ہوتا تھا ۔ اور آج بھی ملکی وسائل پہ قابض چند فیصد اشرافیہ ۔زندہ رہنے کی جستجو کرنے والے اسی فیصد سے زائد عوام کو کمال نخوت سے دھتکار دیتی ہی۔ اور انھی عوام کی محنت اور وسائل سے رزیل ترین اشرافیہ دن بدن طاقتور ہو رہی ہے۔ جبکہ عوام کی اکثریت کے پیٹ کمر سے جا لگے ہیں ۔  نظام اور وسائل پہ قابض لوگوں نے طرح طرح کے ہتکھنڈے ایجاد کر رکھے ہیں جن سے انکے مفادات کی تعمیل و تکمیل تو بہ احسن ہورہی ہے مگر پاکستان کی اسی فیصد آبادی کا جسم اور سانس کا تعلق مشکل ہوتا جارہا ہے۔

انگریزوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی سے تب بھی یہی اشرافیہ معاملات کرتی تھی اور بالآخر ملک کی آزادی کو بھی بیچ ڈالا ۔ اور آج بھی وہی اشرافیہ عام عوام کو دبائے رکھنے اور اپنے تسلط اور لوٹ کھسوٹ اور ملکی وسائل کی بندر بانٹ کے لئے ۔ امریکہ ۔ مغرب ۔ بڑے ٹھیکے۔ ارپوریشنوں سے معاملات۔ عوام پک یہ ٹیکس ۔ وہ ٹیکس ۔ قومی اداروں اور اثاثوں کو درست کرنے کی بجائے انکی پرائیویٹیشن ۔ آئی ایم ایف۔ ورلڈ بنک ۔ اپنے عوام کی عزت نفس کو رگڑ کر اغیار کی چاپلوسی ۔

نہ تب مسکین اور بے بس رعایا کو کویئ حق حاصل تھا۔ نہ آج ملکی معشیت اور نظام کا پہیہ چلانے والی۔ اس ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی اسی فیصد آبادی کو اختیار ، عزت سے جینے کا کوئی حق حاصل ہے۔

یہ قرین انصاف نہیں کہ کل بھی رذیل اشرافیہ نے آنکھیں بند کر کے ملک و قوم کو انگریزوں کے حوالے کر دیا تھا ۔ اور آج بھی محض اپنے اللوں تللوں کے لئے ، ملک و قوم کے وسائل اور قسمت پہ قابض۔ وہی چند فیصد طبقہ ایک بار پھر ملک و قوم کی آزادی اور عزت کو ماضی کی طرح داؤ پہ لگائے ہوئے ہے۔
ملک کی قسمت کے فیصلوں میں تب بھی رعایا بے زبان تھی ۔ اور آج بھی عوام اپنی تقدیر بدلنے اور اپنے ملک کی قسمت کے فیصلوں میں بے اختیار ہیں ۔حکمران اور حکمرانی کے امیدوار سب ہی چارٹر طیاروں میں سفر کررہے ہیں اور سینکڑوں ایکڑز کے محلات میں رہ رہے ہیں۔ 

ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
پاکستان کی آزادی اور آختیار کا سودا جاری ہے۔

نوٹ:
 یہ داستان المناک و حزن و ملال ایک مرثیہ ہے ایک ماتم ہے اس قوم کا جس نے اپنے کل سے سبق نہیں سیکھا اور آج بھی اسی روش پر چل رہے ہیں۔ یہ داستان جناب محترمی  وہ مشفی جاوید گوندل صاحب نے بارسلونہ سے لکھی ہے فیس بک نوٹ کی شکل میں، اس کو وقت کی گرد سے بچانے کےلئے ادھر شئر کردیا گیا ہے۔
  

مکمل تحریر  »

اتوار, اپریل 08, 2012

انیٹی نارکوٹکس کے جھلے

گیلانی کےمنڈے یعنی نکے شاہ جی کے ساتھ جانے سارے تفتیشی محکمو ں  کو کوئی خداواسطے کا بیتر ہے، کہ اب انکے پیچھے اینٹی نارکوٹیکس فورس والے بھی پڑ گئے، خبروں کے مطابق ان پر ہیروئین کی تیاری میں استعمال ہونے والے کسی حساس کیمیکل کی درآمدمیں ملوث ہونے کا الزام ہے،  کوئی پوچھے کہ جناب حاجیوں کو لوٹنے کا الزام تھوڑا تھا کہ ابھی آپ کوبھی یاد آگئی ہے۔ ہیں جی۔
 ظلم ۔۔۔۔۔۔۔سارے محکمے اوس معصوم کے پیچھے لٹھ لے کر پڑے ہوئے ہیں،
 اوے خیال کرو ۔۔۔وہ شاہ جی بھی ہے اور پسر وزیراعظم بھی،    یعنی دو بار شاہ جی۔
ابھی شاہ جی کی بدعا سے سنا ہے کہ اس محکمہ کا ڈی جی واپس فوج کو اپنی خدمات سونپ چکا ہے، مطلب کھڈے لائن، مگر اس ظالم اور نا عاقبت اندیش محکمے نے سپریم کورٹ میں اپنے ڈی جی کی بحالی کےلئے درخواست دے دی ہے۔ حد ہوتی ہے  ، ہیں جی

اگر اس میں تھوڑی سی بھی رتی ۔۔۔۔۔ہوئی تو کل وزیراعظم ہوگا،کیونکہ جس طرح فوجی کا پتر فوجی ، ماشٹر کا پتر ماشڑ ، 
زمیندار کا پتر زمیندار اور سپ کا پتر سب، اور علیٰ ہذالقیاس ۔

 تو پھر ہوسکتا ہے حج اور اینٹی نارکوٹکس کے محکمے ہی کیا یہ الفاظ ہی ختم کردے، جناب شاہ جی کے جلال کا کیا پتا، اگر آپ کو 

پتا ہے تو بتلاؤ ہم کو؟؟؟  پھر کوئی کیا کرلے گا۔ پاغل کہیں کے، عقل کرو اور نکے شاہ جی پر انگلیاں اٹھانا بند کردو۔

نوٹ  ایک حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ جب میں نے سن آف پرائم منسٹر آف پاکستان  کو گوگلو پر سرچ کیا تو سارے فوٹو ذرداری اور اس کے منڈے کے ہی نکلے، اس بارے کوئی کچھ سمجھائے  میرے تو سر پر سے ہی بات گزر گئی ہے۔  
 ہیں جی یہ کیا چکر ہے؟؟

مکمل تحریر  »

ہفتہ, اپریل 07, 2012

جمہوریت کی ہماری اپنی تعریف

 جمہوریت کا بہت  بڑا نام ہے جی۔
پوری دنیا میں جمہوریت ہونی چاہئے۔ 
جب ساری دنیا میں جمہوریت ہے تو ہمارے ادھر کیوں نہیں۔ 
جمہوریت کےلئے قربانیاں تو دینی پڑتی ہیں۔ 

 یہ وہ فقرے ہیں جو آج کل ٹی وی پر اور ٹی وی کے باہر سننے پڑتے ہیں۔  اتنی دفعہ سن چکے ہیں کہ اب تو کانوں کے کیڑے بھی نکل آئے ہیں۔ 
میں نے کچھ کوشش اپنے طور پر کی ہے کہ معلوم کرسکوں کہ جمہوریت اصل  میں کیا ہے، معلومات یہ حاصل ہوئیں کہ یہ ڈیموکریسی کے عربی ترجمہ ہے۔ مطلب عوام کی حکمرانی عوام کےلئے۔  کسی بھی نفسیاتی تعریف کے طرح یہ سمجھ میں آیا کہ اس کی تعریف ہر بندے نے حسب ضرورت کی ہوئی ہے۔ 

ہمارے حکمران اور سیاہ ست دان تو میرے خیال میں یہ سمجھتے ہیں کہ جمہوریت  ایک ایسی مقدس گائے کا نام ہے جس کا عوام سے کوئی لینا دینا نہیں البتہ چند برس بعد کچھ لوگ ووٹ ڈالیں اور جس کو مرضی دیں مگر وہی چند گنے چنے خاندانوں کے لگتے لائے جیتیں گے اور پھر وی آئی پی بن کر، ملک کے حکمران بن جائیں گے۔ چاہے ریلوے کو پی جائیں، یا پی آئی اے کو ڈکار جائیں، حاجیوں کو  لوٹ لیں، سب جائیز۔ بس حکمران ٹولے کے چہیتے ہونے چاہئیں۔  کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ان سے۔  یہ ساری دنیا میں ہی چلتا رہتا ہے اور اسکینڈل بنتے رہتے ہیں مگر ہمارے ہاں کچھ زیادہ ہی چل گیا ہے۔ 

مگر ہمارے خیال سے جمہوریت ایک رویے کا نام ہے کہ جی کچھ لوگ عوام مطلب جمہور کی بہتری کےلئے کام کریں اور وہ جمہور کی نمائیندگی بھی کرتے ہوں، عوام نے ہی انکا انتخاب کیا ہو، بھلے نہ بھی کیا ہو مگر جمہور کی بہتری کےلئے کام کریں تو پھر سب چلتا ہے، چاہئے تو ٹینک پر بیٹھ کر آئیں یا ووٹ لےکر، اور اگر یہ نہ کریں تو پھر اسے جو مرضی کہہ لو مگر جمہوریت نہ کہو، 
خدا کا واسطہ  ہے آپ کے ٹل جاؤ۔ 

مکمل تحریر  »

منگل, مارچ 13, 2012

صوبے بنوالو

فیس بک پر ایک  تصویر چلتی دیکھ کر جھٹکا سا لگا اور دماغ میں کچھ تاریخی حقائق فلیش ہونے لگے،  کچھ چیزیں جو دیکھی تو نہیں مگر سنی ضرور تھیں، کچھ چیزوں جو ہمیں  آج بتائی جاتی ہیں مگرانداز کچھ اور ہے، یہ تصویر نہیں بلکہ تحریر تھی جو تصویری فارمٹ میں کہ فوراُ پڑھی جاسکے  گھوم رہی ہے، نیچے کومینٹس پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں، کومنٹس ادھر لکھنا طوالت کو دعوت دینا ہوگا مگر تصویر کا لگانا  خارج از دلچسپی نہ ہوگا۔  یہ تحریر ایک صاحب محمد عابد علی خان کی ہے جو ایم کیو  ایم  کے پالیمنٹیرین رہ چکے ہیں، بقول انکے  اپنے۔

 پانڈے قلعی کروالو کا نعرہ اب معدوم ہوگیا ہے، جب ہم چھوٹے تھے تو آئے دن گلی میں یہ نعرہ سننے کو ملتا کہ، پانڈے قلعی کروالو، ہماری دادی بھگاتیں ہمیں جا پتر، اس پہائی کو روک  اور وہ پہائی  گلی میں شہتوت کے نیچے ہی اپنے چولہا جما لیتا اور پورے پنڈ کی عورتیں اپنے پہانڈے قلعی کروارہی ہوتیں ، یہ ایک فن تھا جو بہت سے دوسرے فنون کے ساتھ خود ہی ترقی کی نذر ہوکر آپ موت مرگیااپنی موت، مگر تھا بہت کمال کا فن کہ پرانے دیگچے اور دیگر دھاتی برتن دئے جاتے اور وہ انکو قلعی کردیتا اسطور پر کہ نئے معلوم ہوتے،  مگر ہوتے تو وہی تھے پرانے ہی ، جو ٹیڑھا تھا تو رہے گا، جس دیگچی کا کنارا تڑخا ہوا تھا تو وہ رہے گا۔ حتٰی کہ اگر کوئی ایسا برتن بھی چلا گیا جس میں سوراخ تھا تو وہ بھی باقی رہے گا مگر چم چم کرتے ہوئے، اور آنکھوں کو خیرہ کرتے ہوئے، لشکارے   مارتے ہوئے۔  یعنی پرانے کا پرانا مگر چمک نئی۔ 

کچھ یہی حال ہماری حکومت  کا بھی ہے کہ صوبے بنوالو، کوئی پوچھے میاں پہلے جو پانچ چھ بشمول آزاد کشمیر کے بنے ہوئے ہیں ان کی حالت تو بہت پتلی ہےوہ تو سنبھالنے سے تم لوگ قاصر ہو اور یہ کہ نئے بنا کر کیا کرلوگے،  برتن قلعی ہوکر نیا تو نہیں ہوجاتا، بھلے 
چمک اس میں آجاتی ہے، رہے گا تو وہی، ہے پرانا ہی جس میں  چھید بھی ہیں اور جسکے کنارے ٹوٹے ہوئے بھی ہیں ، 

    جب یہ صوبہ صوبہ  کی کت کت شروع ہوئی تھی تو میرا خیال تھا اوراب بھی ہے یا تو اس بحث پر پابندی لگا دی جائے یا پھر ہر محلے کا اپنا صوبہ بنا دیا جائے کہ جا میرا پتر کھیل اپنے صوبے سے۔   ایم کیو ایم پر تو مجھے پہلے ہی شک تھا کہ یہ سارا فساد اسی نے پھیلایا ہوا ہے کہ آج پشتون صوبہ بنے گا، کل ہزارہ، پرسوں سرائیکی اور چوتھ مہاجر ، سچ کو سامنے آتے  دیر نہیں لگتی، بقول ہمارے چچا ضیاءاللہ خاں  ، عشق ، مشک اور کھرک چھپائے نہیں چھپتے،۔

ایک اور تاریخ  قسم کا سوال میرے دماغ میں کلبلا رہا ہے  وہ یہ کہ 1963 میں بھٹو وزیر خارجہ بنا اور  تب وہ جنرل ایوب خان کا  دست راست وہ مشیر خاص تھا،  1967 میں پی پی پی کو عوام میں جاری کیا گیا  1970 کے الیکشن میں عوامی لیگ کی اکثریت کے باوجود ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ لگایا اور بن گیا مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش،   جمہوریت اور بچہ جمہورا کھیلتےہوئے بابائے جمہوریت   پاکستان کے پہلے اور  واحد سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹیرٹر بن گئے۔ 

کیا یہ ایک تاریخی اتفاق ہے کہ اب پھر جب صوبہ صوبہ کھیلا جارہا ہے اور ادھر تم اور ادھر ہم کا نعرہ لگ رہا ہے تو پی پی پی کا ہی دور حکومت ہے اور اتفاق سے انکو زمام حکومت سنبھالئے کچھ برس بھی بیت گئے ہیں۔  ابھی گیلانی صاحب اپنے وزارت اعلٰی پکی کرنے کے چکر میں پنجاب کو تو تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں مگر کل کو مہاجر کراچی بھی لے اڑیں گے، میرےمنہ میں خاک، تقسیم پاکستان کی سازشیں تو لگاتار ہورہی ہیں اگر اس ماندہ پاکستان کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تو باقی کیا بچے گا۔  پہانڈے قلعی کروانے سے وہ تو نئے نہیں ہوتے اور نہ صوبے بنانے سے ملک کے حالات تبدیل ہونے والے ہیں،  ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ملک کے اندر سے رشوت، اقرباپروری،بدامنی، ناانصافی، جہالت اور غربت کے خلاف محاظ بنایا جائے، یہ چیزیں جس معاشرے سے بھی نکل گئی ہیں وہ  پر سکون ہوگیا ہے، چاہے وہ سعودیہ کی بادشاہت ہو یا امریکہ کا صدارتی نظام ، چاہے جرمنی کی چانسلری کا سسٹم ہو کہ ہالینڈ کی جمہوریت۔  اس سے عوام کو جو جمہور کہلاتی ہے کوئی مطلب و اعتراض نہ ہوگا۔ 

مکمل تحریر  »

بدھ, فروری 22, 2012

ہاتھی روایت اور ڈیموں کریسی

راوی اپنی ایک پرانی سی کتاب میں روائت  کرتا ہے  کہ ایک زمانے میں ، ایک ملک  کے، ایک دور دراز گاؤں میں، ایک بزرگ نہایت   قدیم و عقیل اور جھنجھلاہٹ میں مبتلا،  رہتا تھا اور اوس گاؤں کے لوگ بھی اتنے جاہل و کھوتے دماغ کے تھے کہ ہر بات  پوچھنے اس بزرگ کی طر ف دوڑ پڑتے،   گاؤں والوں کی اسی سادگی کو دیکھ کر ایک دن ہاتھی بھی ادھر کو چلا آیا ، ہوسکتا ہے  اسے بھی کچھ کام ہو یا کوئی بات پوچھنی ہو، مگر راوی نے اس بارے نہیں لکھا، خیر اگر لکھ بھی دیتا تو کس نے یاد رکھنا تھا،   اس گاؤں کے سارے باشندے ادھر کھڑے ہوکر تالیاں بجارہے تھے اور چار اندھوں سے  جنکے نام بوجمان ملک، جابر اعوان ، خالہ فردوس کی عاشق  اور کیصل عابدی تھے  ہاتھ لگوا لگوا کر پوچھ رہے تھے کہ بتلاو ہاتھی کیسا ہے؟؟؟ 
اب بوجمان ملک کے ہاتھ سونڈ آئی تو اوس نے فیصلہ دے دیا کہ لو جی ہاتھی پائیپ کی طرح لمبا ہے،  جابر اعوان  کے ہاتھ میں چونکہ ہاتھی  کے کان  آئے، تو اوس نے دعوہ  ٹھونک دیا کہ لوجی ہاتھی پنکھے کی طرح ہوا دینے اور جھلنے والی کوئی چیز ہے،  فردوس کی عاشق خالہ کے ہاتھ  ہاتھی کی  دم لگی تو ہت تیر ے کی کہہ کر فرماگئی،  کہ لو جی، کرلو گل، یہ تو رسی کی مانند پتلا سا ہے، میری آنکھیں ہوتیں تو یہ ضرور سپ کی طرح دکھائی دیتا، ادھر کیصل عابدی نے جانے کیادھونڈتے ہوئے نیچے کی طرف ہاتھ  مارا تو ٹانگ ہاتھ میں آگئی ، شکر کرے کہ کچھ اور ہاتھ نہیں آیا، توللکار دیا کہ ہاتھی ایک کھمبے کی طرح کی چیز ہے۔
ایک سب سے بد اندیش اورجاہل قسم کا بندہ جو رضا کھانی  نام کا تھا،  اس نے بابا جی سے پوچھا کہ بزرگو  ، آپ کے  اللہ اللہ کرنے کے دن ہیں، کل آپ مرے تو پرسوں اگلا دن ہوتا،  ادھر کیا امب لینے آئے ہیں ، چلو،  ادھر موجود ہو ہی تو یہ بتلادو کہ یہ کیا  شئے ہے؟؟

بابا جی نے ایک چیخ ماری اور روئے پھر ایک قہقہ لگایا  اور ہنس پڑے  اور یوں گویا ہوئے،   سن اے ناہنجار اورعاقبت نا اندیش،  رویا میں اس لئے تھا کہ اب اتنی حرام کھائی کرلی ہےکہ جانے اگلے الیکشن  کے بعد مجھے جیل میں کیوں نہ ڈالا جائے،  اور اگر ایسا نہ کیا گیا  توجیتنے والوں پر تف  ہے ، پھٹکار ہے، لخ دی لعنت ہے، پھر یوں متوجہ ہوئے،  سن لے کہ خو ش میں اسلئے ہویا ہوں، کہ اس چیز کا تو مجھے بھی علم نہیں البتہ اسے بیچ کھاؤں گا۔


 یہ بات لکھی پڑھی ہے اور اسی کا نام ڈیموں کریسی ہے کہ دوسروں کو دیموں لڑاؤ اور خود ہاتھی بھی بیچ کھاؤ۔

دروغ بردگردنِ دریائے راوی۔       میرے جو دماغ میں آیا میں نے لکھ دیا۔

سوالات:

کیا ملک پاکستان کے علاوہ بھی کہیں اس قبیل کے لوگ پائے جاتےہیں؟؟؟
اس حرام خور بزرگ کا نام ذورداری ہونے کا اندازہ آپ کو کیسے ہوا؟؟؟
ان لوگوں کے پاس ان عقل کے ادندھوں کے علاوہ کوئی اور بندہ نہ تھا  جس کو وزیر بنالیتے؟؟؟
یہ رضا کھانی جو اتنا سیانہ ہے ہر بات پوچھنے کیوں چلا جاتا ہے اپنے بزرگ کے پاس؟؟؟
اس پورے قصے سے جوسبق آپ کو حاصل ہوا ہے  اسے دہرائے اور اس گاؤں کے  چار اور حرام خوروں کے نام لکھئے ، 
مگر تھوڑا دور رہ کر۔
آپ کو ہاتھی کیسا دکھائی دیتا ہے؟؟؟ بلوچستان جیسا نہیں تو پھر کیسا؟؟   اور کہ آپ عقل چھوڑ کر پی کھا پاٹی کے وزیر بننا پسند کریں گے؟؟؟


مکمل تحریر  »

جمعرات, فروری 16, 2012

گیدڑ اٹلی اور ووٹ

سنا  ہے کہ  گیدڑ کی جب موت آتنی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے اور پھر بندے اس کو اتنی پھینٹی لگاتے ہیں کہ بس اسکی موت واقع ہوجاتی ہے، ویسے حق بات یہ ہے کہ گیدڑ کی موت کا فسوس کسی کو بھی نہیں ہوتا،   ہم نے بھی اپنے لڑکپن میں اپنے مرغی خانے کے گرد گھومنے والے کئی گیدڑوں  کے ساتھ اس محاورے پر علم درآمد پوری نیک نیتی اور ایمانداری سے کیا ہے  کسی نے کبھی کچھ کہا  اور نہ ٹوکا، اور بات ہے کہ کبھی کبھی  یہ گیدڑانسان نما بھی ہوا کرتے تھے،  انکی موت تو خیر کیا واقع ہونی تھی بس چھترو چھتری ہوجاتی۔ کوئی بڑا بزرگ کہہ دیتا اوئے چھڈ دو اے بڑا شریف بچہ ہے، ککڑ چھپانے تھوڑی آیا تھا، یہ تو بس ادھر سے گزر رہا تھا،  جبکہ ہمارا اصرار ہوتا کہ یہ ضرور ککڑوں کے چکر میں تھا، بس کچھ گالیاں اس کو اور کچھ ہمیں پڑتیں اور معاملہ  مک چک۔ شاید ہر طرف یہی کچھ چل رہا تھا، کہ رزق نے اٹھا کر ادھر پھینک دیا اور سب ختم ایک خوا ب کی طرح نہ محاورے اور نہ گیدڑ، نہ  کوئی ککڑیاں نکالنے کے چکر میں نظر آتا  اور نہ ہی گیدڑ کٹ چلتی۔
ادھر کئی برس گزر گئے ،اپنا کام کرو، گھر جاؤ، تھوڑا آرام، اگر کہیں پرھنے پڑھانے جانا ہے تو ٹھیک نہیں تو  ٹی وی، تھوڑا مطالعہ اور شب بخیر، چھٹی ہے تو ، کدھر سیر کو نکل جاؤ ، کسی کو مل لو ، نہیں تو کاچھا پہن کر پورا دن گھر میں بیڈ سے صوفے پر اور صوفے سے بیڈ  تک گزراردو،  جبکہ ادھر بسنے والے  بہت سے اپنے ہم وطن  ایمان ملا کی طرح برائے فساد فی سبیل اللہ ، آئے دن نئی نئی جماعتیں بناتے رہتے ہیں اور انکے صدر بنتے رہتے ہیں ، گزشتہ یہ عالم تھا کہ ہر بندہ دو دو تین تین جماعتوں کا عہدیدار تھا۔ مقصد ؟؟ آج تک معلوم  نہیں ہوسکا۔  پھر دور آیا سیاہ ست دانوں کا  ، ہر سیاہ سی جماعت کی ایک برانچ کھل گئی، ہر ساجھا ، مھاجا، مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، فلاں جماعت، فلاں جماعت   کا عہدیدار بنا اور پھر قومی سطح پر اور پھر یورپی سطح پر  بھی صدر اور صدر اعظم کے نام سنے گئے،  ہر جماعت کے کوئی بیس کے قریب صدر ہونگے، جنکو تولیہ مارنے میں ہمارے آن لائن اور آف لائینں اخبارات کو مہارت بدرجہ کمال حاصل ہے،
مقامی طور پر جدھر ہم رہتے ہیں ادھر کسی کو علم نہیں کہ کیا ہورہا ہے، ہیں اچھا الیکشن ہورہے ہیں،  مینوں تے کسی نے نہیں دسیا،  ہین اچھا برلسکونی وزیراعظم بن گیا ہے  مینو تے کسی نے نہیں دسیا
اچھا جی اوس نے استعیفٰی دے دیتا ہے ، مینوں تے کسی نے نہین  دسیا۔
اس کے علاوہ کوئی ٹینشن نہیں تھی،  نہ الیکشن نہ سلیکشن ،  نہ کسی سے ملو نہ کسی کو منہ دکھلاؤ،
اب خبر آئی ہے  ادھرسے بھی ووٹ جائے گی تو پھر وہی  کچھ ہونے کا ڈر لگ رہا ہے،  جنتا اپنے کام کاج چھوڑ کے جلسے کیا اور سنا کرے گی، ہیں جی ۔   وہی ووٹ خریدے جائیں گے ہیں،  وہیں چوول قسم کے بندے الیکٹ ہوئیں گے ہیں جی، پوچھو جو ایتھے پہڑے او لاہور وی پہڑے، اگر پاکستان میں رہنے والے 16 کروڑ  صرف گیلانی اور ذرداری کی قبیل کے بندوں کو ہی منتخب کر سکے ہیں تو یہ پینتیس لاکھ کیا توپ  چلا لیں گے، ہیں جی آپ ہی بتاؤ

مکمل تحریر  »

منگل, جنوری 10, 2012

عوامی کھسرے

پاکستان کی عدلیہ کہتی ہے کہ وزیر اعظم گیلانی کوئی ایماندار بندہ نہیں ہے، بئ عوام تو کب سے چیخ رہی ہے، اب بھی کیا ہوگا، بیان دے دیا، کام ختم۔ ابھی جو کچھ جیسا ہے ویسا ہے کی بنیاد پر ہی کام چلے گا۔ کھسرے صرف بدعا ہی دیتے ہیں کسی کو برابھلا کہہ کہ چپ ہوجاتےہیں اور نقصان نہیں پہنچاتے، یہاں تک تو کھسرا ہومیوپیتھک دوا کے موافق  ہوا کہ نقصان والی گل کوئی نہیں۔

پنڈ میں جب کھسرے آتے تو یار لوگوں کی رونق ہوجاتی مگر بڑی بوڑھیاں ، دادیاں نانیاں یہ کہتیں کہ کھسرا بڑا معصوم ہوتا ہے اور یہ کہ کھسرے کو ستانا نہیں اور نہ ہی انکار کرنا کسی چیز سے ،  اس کا دل نہیں دکھانا کہ کھسرے اور بلی کی بدعاساتویں آسمان تک جاتی ہے۔

میرے خیال سے بات غلط العام کے طور پر مشہور تھی ،  اگر یہ بات سچ ہے تو فیر ہمارے ملک میں بسنے والے بیس کروڑ عوام کی بدعاؤں سے ذرداری کو ہارٹ اٹیک کیون نہیں  ہوا، اسرائیل کی توپوں میں کیڑے کیوں نہیں پڑے، امریکی مزائیلوں میں سے چیچڑ کیوں نہیں نکلے،  بس جی چار دنوں کی چاندنی پھر اندھیری رات ہے، ہم یہ سب لے دے کر بھی جو جیسے ہے جہاں پر ہے ایسے ہی اور وہین پر ہی کام چلائے

مکمل تحریر  »

سوموار, جنوری 02, 2012

سیاہ ست دانیاں

کچھ سیاہ سی بیانات پر ہماری عقل سلیم کے مطابق عوامی تبصرے ایک آم آدمی کی حیثیت سے میں تو یہی کہہ سکتا ہوں کہ جناب ہن رہن دیو تے عوام نوں وی کج کہن دیو


   پاکستان کے وفاقی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم نے کہاگیس بحران کو سیاسی رنگ دیا جارہاہے 
تو کیا سے مذہبی رنگ دیا جاہئے فیر آپ کے خیال شریف میں

پاکستانی راستےسپلائی کی بحالی نیٹوپرمید   ، افغانستان میں موجود نیٹو فوج
جی بلکل جب تک رزرداری موجود ہے تب تک آپ کو امید سے ہونے سےکون روک سکتا ہے۔

عدالتی سزاپرحقانی کوصدارتی معافی دینےکاامکان,  ، ایکسپریس نیوز
صدر صاحب کو چاہئے کہ وہ اس سزا یافتہ قوم کو بھی صدارت سے معافی دینے کا سوچیں،

پتہ نہیں صدر سے کون ملاقات کرانا چاہتا ہے        ، نواز شریف
میاں صاحب کیا واقعی آپ اتنے سادے ہیں، بال لگوا کر تو بندے کو اس طرح کی باتین نہیں کرنی چاہئیں

میموگیٹ تحقیقاتی کمیشن کا اجلاس، حسین حقانی پیش نہ ہوئے،      جنگ نیوز
کیوں اس نے کوئی گھاس کھایا ہوا ہے کہ پیش ہوکر چھتر کھائے، اپنے کئے ہوئے سب کو پتا ہوتے ہیں

       ڈاکٹر فاروق ستارالطاف حسین نے نئے صوبے بنانے کا وعدہ پورا کردیا
تو فیر الطاف حسین جان کی امان، باقی کراچی کے امن ، خوشحالی دینے اور غربت دور کرنے کے وعدے تھے انکا کیا ہوا، وہ   بھی پورے کر کے جلدی سے لوٹ آؤ وطن کو


  عمران خان کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا آج    نہ تنقید کی کیسی پر  نہ ہی نعرے
اللہ خیر کرے، نصیب دشمناں کہیں خانصاب کی طبیعت تو خراب نہیں؟ یا چپ کا روزہ رکھ لیا ہے


یہ سب کچھ جو میرے دماغ میں آیا، اگر آپ اس سے مختلف سوچتے ہیں تو لکھ دیں تبصرہ میں 

مکمل تحریر  »

بدھ, دسمبر 07, 2011

بیمار کو بدعائین

ہم پاکستانی بڑی ہی  سادہ ،  سچی ،   جذباتی اور حساس قوم ہیں ۔
دوست تو دوست دشمن بھی اگر بیمار ہوجائے تو فوراُ سب کچھ بھلا کر پنڈ کے بڑے بوڑھےبزرگ لوگ لاٹھیاں کھڑکاتے اس کی تیمارداری کو چل نکلتے ہیں۔   ادھر جاکر حال پوچھا جاتا ہے اور بیماری کے بارے میں مفصل معلومات حاصل کی جاتی ہیں، پھر  ان کی وجوہات پر سیر حاصل بحث ہوتی ہے اور اس سے گزشتہ پچاس برس میں مرنے والوں کا ذکر ہوتا ہے، علاج کے بارےمیں معلومات کا حصول اور معالج کی قابلیت  پر شک کا اظہار اور اسکی اکثر ناتجربہ کاری کا رونا رویا جاتا ہے، تب تک مریض کا رنگ فق اور ہونٹوں پر پپڑی جم چکی ہوتی ہے گویا اسے  بھی اپنا وقت قریب دکھائی دے رہا ہو  ۔    پھر اس معمولی ا ور سستے والے معالج    ڈاکٹر ا ختر میں سے تین سو کے قریب نقائص و کیڑے نکال کر اسکو ریجیکٹ کردیا جاتا ہے   ، اہو ہو ، آپ کیا جانو بابا جی  اوس بچارے کو تو کھانسی اور زکام کا علاج کرنا ہی نہیں آتا  اس پیچیدہ بیماری کا وہ کیا علاج کرے گا اور فیر یہ جو تیس رو پئے کی دوائی وہ دے رہا ہے اس  میں کیا ہوگا، جی، بابا جی آپ بتا ؤ تیس روپئے کے  تو ہانڈی کے ٹماٹر نہیں آتے اس  ڈاکٹر نے ان میں سے خود کیا رکھا ہوگا اور انکو کیا دیا ہوگا،  تب تک مریض  کا دل دوائیاں اتھا کر پھینک دینے کو کررہا ہوتا ہے  مگر  اسکے ساتھ ہی ایک اچھے اور مہنگے والے معالج کا پتا بتایا جاتا ہے  کہ فیس تو بہت لیتا ہے کوئی دو ہزار روپئے اور دوائی الگ سے لکھ کر دیتا ہے وہ بھی بہت اعلیٰ قسم کی ولائیتی دوائی، پہائی کوئی ڈیڑھ ہزار کی آتی ہی مگر آفرین ہے اس ڈاکٹر پر کہ اس میں سے ایک پیسہ نہیں لیتا  ، میڈیکل اسٹور سے خود خریدو اور خود ہی پیسے دو،   اب مریض   حساب لگا چکا ہوتا ہے کہ کل ملا کر  ساڑے تین ہزار کا نسخہ بنتا ہے جبکہ میرے منڈے  کی مہینے کی تنخوا ہ  6 ہزار ہے کام نہیں چلنے کا، بابا لوگ تب مریض کو دعا بھی دے رہے ہوتے ہیں کہ بھی اللہ تمھیں شفاء دے اور صحت تندرستی دے اور  لمبی عمردے  اور یہ کہ اللہ تھماری مشکلیں آسان کرے۔ 

اکثر دیکھا گیا ہے کہ اسکے فوراُ بعد مریض تندرست ہوجاتا ہے اور جب بابا لوگ دعاؤں کے بعد جانے کو اٹھتے ہیں کہ چلو وی پہائیا  چل،  تو مریض اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے اور  چہر ے مسکراہٹ سے انکو رخصت کرتا ہے ۔ اس بارے میں دو آرائیں اول جو  میرے  جیسے مادہ پرست لوگوں کی ہے  اور ان کا خیال ہے کہ مریض  کو علاج کی قیمت سن کر ہی افاقہ ہوجاتا ہے ، جبکہ دوسری رائے  جو زیادہ  صائب لگتی ہے وہ  روحانیت پرست اور اللہ والوں کی ہے کہ دعا بہر حال اثر کرتی ہے، بابا لوگ چونکہ دل سے صاف ہوتے ہیں اور سچے دل سے دعا دیتے ہیں پس اللہ جو اپنے بندوں کے دل میں بستا ہو وہ اس 
ادھر پاس سے ہی نکلی ہوئی دعا کو فوراُ سن کر شرف قبولیت بخشتا ہے اور بندہ فٹ ٹھیک  اور  فٹ فاٹ۔

ایک ہمارے ملک کے صدراعظم ہیں جو پیؤ کھاؤ پارٹی کے صدر بھی ہیں، ملک کے ہونے والے صدر کے باپ بھی،  ہوچکی وزیر اعظم کے خاوند ارجمند  بھی اور اپنے سسر صاحب  بھٹو کے پس از مرگ  بننے والے خود ساختہ پسر بھی   ہیں ، ان دنوں بیمار ہیں 
یعنی چشم بیمار ہے
چشم نرگس بیمار ہے  ،  ہائے ہائے    کیا دل کا آزار ہے
چشم نرگس بیمار ہے  ،   بات پر اسرار ہے
چشم نرگس بیمار ہے تیرے بغیر  ہائے ہائے
باقی سب کچھ بے کار ہے تیر ے بغیر ہےہائے ہاے
 چشم نرگس بیمار ہے یا ملک سے فرار ہےہائے ہائے

آج ایک عجیب بات دیکھی ہے کہ فیس بک پر اور گوگل پلس پر یار لگ اوس کے مرنے کی دعا ئیں کررہے ہیں کوئی پوچھ رہا کہ یہ مرا کیوں نہیں؟؟  دوسرا جواب دے رہا ہے کہ کہ پلید برتن بھی ٹوٹا ہے،  کسی کا جواب ہے کہ کتے آسانی سے نہیں مرتے، کوئی کہہ رہا ہے کہ یااللہ اگر یہ بیمار ہوہی گیا ہے تو اس کو موت ہی دے دے، باقی اس کے نیچے آمین آمین کی قطار لگی ہوتی ہے۔  میں سوچتا ہوں ہوں کہ یہ ملک کا صدر ہے ، پورا ملک اور اٹھارہ کروڑ لوگ اسے کے اپنے ہیں تو پھر وہ اس کو بدعائیں کیوں دے رہے ہیں،  میں نے پورا پاکستان تو نہیں گھوما مگر اپنے پنڈکے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ کبھی کسی نے کسی بیمار بندے کو نہیں کہا کہ اللہ کرے یہ مرجائے،   اگر لوگ یہ کہہ رہےہیں تو پھر کتنے تپے ہوئے  ہوں گے، انکے دل کتنے جلے ہوں گے؟؟؟

مکمل تحریر  »

سوموار, دسمبر 05, 2011

بون اور ڈنڈہ

سوئس سے نکلے اور سینٹ گلین سے آسٹریا میں جاگھسے، وہاں سے پھر جرمنی میں اور  فرینکفورٹ کی طرف منہ کرلیا کہ سہیل بھائی کا کوئی یار ادھر رہتا ہے اس سے بھی مل لیں گے اور فرینکفورٹ کی سیر بھی ہوجائے گی کہ بھئی آخر کار انٹر نیشنل شہر ہے دیکھنا چاہئے۔   ہمارے پاس کوئی پروگرام نہیں تھا،   اگر تھا تو یہ کہ  ہم چاروں ہیں علامہ صاحب، سہیل بھائی ، جمیل میاں جو ہمارے  مشاق ڈرائیور بلکہ پائلٹ تھے،  اور راقم، تب نئے لائسنس یافتہ مگر گاڑی چلانے کا مطلق تجربہ نہ تھا  ،  دس چھٹیاں ہیں اور یہ اوپل آسٹرا گاڑی ہے کہیں جانا ہے،  کہاں ؟؟ کون جانے،  رات زیورخ  پہنچے اور پوچھا کہ بھئی ادھر کیا دیکھا جاسکتا ہے، جواب آیا کہ اہو ہو، تمھیں ملوم نہیں کہ ادھر آج اسٹریٹ پریڈ کی رات ہے بس تم ادھر جھیل کو نکل لو جدھر لوگ جارہے ہیں فیر میلہ لگتا ہی ہوگا۔ سٹریٹ پریڈ  کو لو پریڈ بھی کہا جاتا ہے، عوام اور مشٹنڈا پارٹی، چرسی و عشاق سارے ہی ایک ساتھ ہوتے ہیں  سڑکو ں پر سرعام میوزک کنسر ٹ اور عوام کی ناچ مستی، جوڑے ٹن ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے بوس و کنار میں مصروف، شرابی لوگ شراب کی بوتلیں لئے گھوم رہے، دوشیزائیں نہائت غربت کےعالم میں بس دو چیتھڑون سے جسم چھپانے کی کرشش میں ناکام، عوام ناچ رہی ہے اور گارہی ہے۔ پی رہی اور پلارہی،   ہم نے بھی حسب توفیق  میلہ دیکھا (بقول سہیل بھائی بھونڈی کی)،  صبح صادق کے وقت ادھر پوہ  پھوٹی  ادھر یارلوگ  اپنی اپنی راہ کو چل دئے، ہم بھی  دو گھنٹے گاڑی میں ہی نیند کو چکمہ دے، ٹھنڈے پانی سے منہ دھو، خود ایک بار  اور جمیل کو دو بار کافی پلوا کہ گاڑی اس نے چلانی ہے، اسکی نیند پوری طرح اڑنی چاہئے،  نکل پڑے  جرمنی کے راستوں میں ،بھول جاتے اور کسی اور شہر کی طرف نکل لیتے، پھر علامہ صاحب  جو جرمنی میں رہ چکے تھے اور جرمن زبان سے کماحقہ واقفیت بھی رکھتے تھے  بقول انکےعلامہ صاحب  کو  بھیجا جاتا بلکہ وہ ہمارے  خود ساختہ ناویگیٹر بنے ہوئے تھے، اور خالصہ جی کی پریڈ کے موافق سجا، کھبا کراتے جاتے، پھر شور مچا دیتے کہ ڈائیریکشن جو بابے نے بتائی تھی وہ نہیں مل رہی،  لگتا ہے راستہ بھول گئے ہیں اہو ہو ہو، ایدھر ہی گاڑی روکو اور میں اس مائی سے راستہ کے بارے علم حاصل کرکے آتا ہوں، کہہ کر گزرتی ہوئی لڑکی کو تاک کر روک لیتے اور دس منٹ گٹ مٹ کرتے، یا یا یا کرنے کے بعد واپس آتے اور ماتھے پر دو ہاتھ مارکرکے فرماتے لو جی فیر چوک گیا راستہ واپس مڑو اور ساٹھ کلومیٹر پر فیر ڈائیریکشن ملے گی۔ چلو،  اور ہم چلتے رہے، مطلب ہم بیٹھے رہے اور گاڑی چلتی رہی،  رستے میں علامہ صاحب کے موبائیل پرکال آگئی اور انہوں نے اعلان کردیا کہ فرینکورٹ کو ہاتھ لگا کر ادھر بو ن کو نکل چلو کہ میری لالا جی سے بات ہوئی ہے اور وہ رات کے کھانے پر ہمارا انتظار کریں گے۔  یہ لالا جی موصوف علامہ صاحب کے برادر کبیر مرزا ضیاء  صاحب ہیں جو ادھر آخن یونیورسٹی کو ڈاکٹر قدیر کےبعد ٹاپ کرنے والے دوسرے غیر ملکی اور دوسرے ہی پاکستانی ہیں،  اور یہ کہ بون کے حلقہ 
کے موٹروے کے انچارج انجینئر ہیں۔

بون پہنچے تو رات کے پہر تھے ، وسط اگست کا سورج ڈوب چکا تھا، مرزا صاحب نہ میری طرف دیکھا اور کہنے لگے اسٹریٹ پریڈ سے ہوکر آئے ہو؟؟ ان بزرگوں کے بالوں میں رات کے ستارے ابھی تک چمک رہے ہیں،  کھانا ہمارے انتظار میں  ٹھنڈا ہو چکا تھا  جو ہم پھر سے گرم کرکے  مرزا صاحب نے ہمیں بڑی محبت سے کھلایا کہ  بھئی میں نے آج کوئی ایک ماہ بعد گھر میں اور وہ بھی پاکستانی کھانا بنایا ہے، برتن بھی انہون نے  دھوئے کہ علامہ صاحب گلاس پر پانی کے نشان چھوڑ دیتے ہیں اور ہم تینوں تو ہیں ہی خیر سے مہمان، اور اوپر سے پہلی بار آئے ہیں۔

پھر ہم نکلے شہر کی سیر کو دو کاروں میں بھر کے،   مرزا صاحب نے کمال محبت سے ہمیں کمپنی دی اور پورا شہر پھرا دیا، ساتھ میں بھر پور تبصرہ بھی،  سٹی ہال کے سامنے رکے اور فوٹو سیشن ہوا کہ بھئی یادگاری فوٹو  بن جائیں گے۔  مرزا صاحب کو درخواست کی گئی کہ جناب ہم دلی سے آنےو الے چارسواروں کےگروپ کی تصویر بنادیں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے،  مرزا صاحب کافی دیر کوشش کرتے رہے اور پھر بولے یار یہ جھنڈا نہیں آرہا،  فوراُ  جمیل کے منہ سے جواب نکلا کہ ڈنڈا تو آرہا ہے ناں
بس پھر قہقہے ابل پڑے۔
اور وہ تصویر بغیر جھنڈے کے ہی بنی البتہ ڈنڈہ ہمارے عقب میں غور سے دیکھا جاسکتا تھا ۔ 

آج کل  بون کا عالمی سطح پر اور خبروں میں پورا چرچا ہے کہ افغانستان سے متعلق ہونے والی  کانفرنس میں پاکستان کا جھنڈانہیں آرہا، مگر بہوتوں کو ڈنڈہ ضرور آرہا ہے، حامد قرضئی سے لیکر چاچی ہیلری کلنک ٹیکن تک سبھی باؤلے ہوئے پھر رہے ہیں،  اگر اس طرح کی غیرت دس بار ہ برس پہلے ہی کھالی ہوتی تو آج سو چھتر بھی نہ کھانے پڑتے اور  نہ ہی سو گنڈھے 

مکمل تحریر  »

ہفتہ, دسمبر 03, 2011

نیو ورلڈ آرڈر اور بدمعاش


برطانیہ میں لارڈ نزیر احمد بڑا نام ہیں، ایک بڑا کردار ، ایک مثال ، شاید پاکستان کے اوباہامہ جو دوسرے ملک میں جاکر اس معاشرے کا حصہ بنے اور اور اوباہامہ سے بھی بڑھ کر کہ وہاں پر سب کچھ ہوکر بھی اپنے وطن اور اہلیان وطن کےلئے درد سے بھر پور دل رکھنے والے، میری ان سے ادھر اٹلی میں معنقد ایک پروگرام میں ملاقات ہوئی تھی کچھ برس پیشتر، نہیں کہہ سکتا کہ ذاتی قسم کی ملاقات تھی مگر اجتمائی طور پر ، البتہ ان کی باتیں قریب سے سنیں اورچونکہ سارے لوگ ان فارمل ہی تھے تو عام سی باتیں ہی تھیں، مگر ایسا لگا کہ بنیادی طور پر یہ ایک نیک اور اچھا بندہ ہے، ہمدرد قسم کا، جو ہر پلیٹ فارم پر پاکستان ، کشمیر ، اسلام اور لمانوں کی بات کرتا ہے اور بڑی ہمت اور بردباری سے کرتا ہے، گویا برطانیہ اور مغرب میں ایک ایسا سفیر جو مفت میں ہمارے لئے سفارت کاری کرتا ہے، نہ کچھ مانگتا ہے اور نہ ہی کچھ لیتا ہے۔ کہہ لو کہ اللہ نے ایک تحفہ دے دیا کہ جا چولا تیرا بھی بھلا ہ

لو جی خبر آگئی کہ آزاد کشمیر کی حکومت نے انکو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیا ہے۔
میں تو حیرت زدہ ہی رہ گیا اور سمجھ ہی نہ آئی کہ ہوا کیا اور کیونکر؟؟ بات کو آئی گئی کردیا، خبر ختم ہوئی تو بھائی کہتے ہیں یار یہ لارڈ نزیر نے پاکستان اور کشمیر کےلئے کیا برا کیا ہے ؟؟ تب دماغ میں پھر سے فلم چلی اور سمجھ آیا کہ کیا ہوا اور اسکا کیا سبب ہوسکتا ہے۔ شہباز شریف نے لاہور کے جلسے میں بدمعاشوں ، ڈاکوؤں کو الٹا لٹکانے کی بات کی تو مہاقینچی موومنٹ فوراُ سڑکوں پر آئی ، اب اگربرطانیہ میں ہونے والے ڈاکٹر عمران کے قاتلوں کو پکڑنے اور لٹکانے کی بات ذولفقار مرزا کرے گا تو ذرداری پارٹی کےلوگ میدان میں آگئے۔
پس تجربہ سے ثابت ہوا کہ چوروں کے یار چور اور بدمعاشوں کے یار بدمعاش، ٹھگوں کے یار ٹھگ، بڑے بڑگ سچ ہی کہہ گئے ہیں۔
کبھی کبھی تو یوں بھی لگتا ہے کہ یہ ذرداری ، کالے بھائی، ملک، اعوان اور اس قبیل کے دیگر لوگ باقائدہ طور پر امریکہ کے نیو ورلڈ ارڈر پر عمل پیرا ہونے کی ٹریننک لے کر آئے ہوئے ہیں، کہ جی ہم سب کچھ کرسکتے ہیں اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کےلئے۔ یہی تو چکر ہے کہ ذرداری اور اسکے گماشتے ایک ایک کرکے اس ملک کی یا اس سے متعلقہ ہر اچھی چیز کو تہس نہس کرنے پر تلے ہوئے ہیں، کیونکہ نیو ورلڈ آرڈر کے مطابق پاکستان نام کے ملک کو ختم ہوناہے، کیسے ؟؟ کوئی ایسا طریقہ نہیں، بس ہونا ہے۔ جیسے بھی ہو، اداروں کو تباہ کرکے، لوگوں کو برباد کرکے، کسی کو پانی بجلی بند کرکے کھجل کردو اور کسی کو ناپسندیدہ قرار دے کر۔ مطلب ہر بندے کو اتنا تنگ کردو کو وہ بے غیرتی اور بے شرمی کی حد تک پہنچ جائے، اتنی افراتفری پھیلا دو کہ کسی کی سمجھ میں ہی نہ آئے کہ کیا ہوا ، کون کرگیا اور کیوں کرگیا، بقول ہمارے بزرگ حکیم علی صاحب مقیم لندن ہر ف پھڑ لو پھڑ لو مچی ہونی چاہئے، میرا تو خیال ہے کہ ہم سبھی اس نیو ورلڈ آرڈر کے ڈسے ہوئے ہیں ، ہوسکتا ہے کہ آپ کو اس سے اختلاف ہو؟؟ تو پھر آپ کیا سمجھتے ہیں بتلانا پسند کریں گے؟؟

مکمل تحریر  »

اتوار, نومبر 27, 2011

امریکہ کے خلاف



ویسے یہ جو کتا کھائی امریکن کررہے ہیں اسکا ہمارے حکمرانون کو کیا جواب دینا چاہئے؟؟
کیا جوابی کاروائی ہونی چاہئے؟؟ صرف احتجاج اور مادام کے دو فون ہی تو کافی نہیں ہیں؟؟ نہ ہی جرنیلی قول کہ اگلی بار جواب دیں گے،
کچھ تو مزید ہونا چاہئے

 شاید طویل المدتی پالیسی, مگر کیا؟؟؟اور  کون بنائے گا؟؟ کیا ہماری یہ لومڑ حکومت کسی جوگی ہے کہ ان کو حلال ہی کروانا پڑے گا مطلب قصائی کو بلا کر چھری پھروانی پڑے گی

مکمل تحریر  »

جمعرات, نومبر 03, 2011

جمہوریت آمریت اور بچہ لوگ

بہت  دیر سے لائین  میں کھڑے  رہنے کے بعد میں نے بھائی  جان سے پوچھا کہ کیا یہ مٹی کا تیل ہم اپنے کھیت کی مٹی  سے  نہیں بنا سکتے؟؟ بھائی  جان نے ڈانٹ دیا کہ چپ کر اور ادھر کھڑا رہ نہیں تو تیل نہیں ملے گا  اور رات کو لالٹین نہیں جل پائے گی۔  تب میری عمر کوئی چھ برس تھی،   نا سمجھی اور بچپن کے دن مگر وہ منظر میں آج تک نہیں بھول سکا جب روح افزا کے شربت والی شیشی کی کالی  سی بوتل ہاتھ میں پکڑے بھائی جان گھر سے مٹی کا تیل لینے نکلے اور میں خوامخواہ ضد کرکے انکے ساتھ ہولیا۔

  سن 1976 کی بات ہے جب ملک میں یہی آج والی صورت حال  تھی، تیل مٹی کا  نہیں ملتا تھا تب مٹی کے تیل کا ستعمال بھی یہی تھا کہ  لالٹین میں ڈال لو  اور شام کو گھر میں روشنی کرلو، لالٹین بھی ایک  دو گھروں میں ایک  ادھ ہی ہوتی ،   نہیں تو  تارہ میرا کے تیل  والا چراغ جلتا  ، جو روشنی کم اورکڑوا  دھواں زیادہ دیتا،   اور یہ رواج بھی  تھاکہ  ہمسائیوں کا لڑکا کہہ رہا ہوتا     ماسی میری اماں کہتی ہے لالٹین میں تیل ڈال دو،  اور ہماری دادی جان  کہہ رہی ہوتیں بسم اللہ میرا پتر، لا ادھر کرلالٹین ،  رات گئے  لالٹین بجھا دی جاتی کہ اب چاند نکل آیا ہے اورچاندنی کی موجودگی میں روشنی کا کیا کام،  مگر بھائی  جان چیخ رہے ہوتے  کہ  ابھی نہیں میں نے پڑھنا ہے۔  

حیرت ہوتی کہ ہمارے ملک میں  مٹی اتنی ہے اور مٹی کا تیل نایاب؟؟  بچپن اور ناسمجھی کے سوالات۔۔۔۔ صرف یہی نہیں ، تب   چینی، آٹا ،  پیاز کچھ بھی تو  نہیں ملتا تھا۔  خیرسے چینی آٹا کے بارے میں ہمارے خاندان خود کفیل تھا  کہ چینی چچا جان پنڈی سے اپنی یونٹ سے  اپنی فوجی گاڑی میں بھجواتے   ،  آدھی پورے پنڈ میں فوراُ بانٹ دی جاتی اور آدھی اگلی پہلی تک  رکھ دی جاتی کہ بھئی کوئی  غمی خوشی ہوجائے تو کام آئے گی،   اگر مذید ضرورت پڑتی تو سرگودھا سے ہمارے رشتہ دار وں کے ہاں سے گڑ آجاتا ، جو بہت مزے کا ہوتا  اور ہم لوگ  اتنا کھاتے کہ   پھوڑے نکل آتے فیر  ڈاکٹر عنصر سے کوڑوا شربت بھی ملتا  اور ٹیکہ بھی لگتا۔     آٹے کے معاملے میں گھر کی گندم کی پسوائی کروانی ہوتی اور فکرناٹ،  ڈیپو کا یہ عالم ہوتا کہ چچا سرور المشور چاچا سبو کے نام ڈیپو تھا  اور پہلے تو چینی فی کن مطلب فی بندہ   ایک  کلو دیتا اور بعد میں اس نے  ایک پاؤ کردی تھی، پھر فی بندہ سے فی گھر کے حساب سے تقسیم ہونے لگی۔

ماسٹر قربان صاحب کو دیکھا کہ کپڑے پھٹے ہوئے اور برے حال  میں لڑکھڑاتےٹانگے سے  اترے،      ہیں انکو کیا ہوا؟؟   کوئی بتا رہا تھا کہ یہ لاہور جلوس کےلئے جارہے تھا ماشٹروں کی ہڑتال میں  اور رستہ میں حکومت کے کہنے پر انکو پولیس نے پھینٹی لگائی ہے۔  پھر دیکھا کہ بھائی جان بھی روز لڑلڑا کر آتے اور دادا جان  سے گالیاں کھاتے    مگر بد مزہ نہ ہوتے،  کہ جی کالج اسٹوڈنٹ یونین  کا حق ہے کہ وہ اپنی آزادی کےلئے لڑے۔  کس کے خلاف لڑے ؟؟                       تب سمجھ نہ آتی۔

یہ زمانہ تھا بھٹو کے دور عنان کا ،   ملک بلکل اسی افراتفری کا شکار تھا جو آج ہے۔  ضروریات زندگی دستیاب نہ تھیں،   نہ ہی  ملک کے اندر کچھ سکون تھا، عوام بے چینی اور افراتفری کے عالم میں جی رہی  تھی،   فوجی روتے کہ اس بھٹو ٹن نے پاکستان توڑ دیا ہے ، بنگال کو بنگلہ دیش بنا دیا ہے،   اور مغربی پاکستان کو کل پاکستان قرار دے کر  اپنی  حکمرانی  کو جلا دی ہے،  اکثر  کوئی نہ کوئی  یہی کہہ رہا ہوتا کہ ایوب خان کے زمانے میں اچھے خاصے کام ہورہے تھے۔  ڈیم بن رہے تھے، صنعتیں لگ رہی تھیں، سڑکیں گلیا ں بن رہیں تھیں، کاروباری خوشحال ہورہا تھا،      ملک پینسٹھ کی جنگ لڑ کر آپ ایک قوم کی صورت میں سامنے آیا تھا  ، ہر کوئی وطن  پرستی کے جذبات سے سرشار تھا کہ  بھٹو نامی ایک ڈرامہ باز اٹھا اور اس نے روٹی کپڑا اور مکان کا فریب دے کر غریب لوگوں کو گھر سے نکال لیا،  ملک کے اندر وہ ہڑبونگ مچی کہ اللہ امان،     ایوبی حکومت ختم اور ملک میں پہلے اور واحد سول مارشل لاء کا نفاذہوا جس کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا۔  پھر وہ صدر بنا اور ملک کو ادھرتم ادھر ہم کر کے وزیر اعظم بن گیا،   مگر وہ ستر کی دھائی ملک کے اندر افراتفری  کےلئے یادگار  تھی، فوج کا مورال ڈاؤن،  عوام سڑکوں پر،  ہتھوڑا گروپ کا خوف،   چوریاں اور ڈاکے  ،   طلباء  اور ٹرانسپورٹروں کے فسادات،  اس یونین کا جلسہ اور اس یونین کا جلوس ،   نہ ہی کچھ کھانے کے ، نہ ہی تحفظ  ، نہ سکون نہ عزت،   مہنگائی تھی کہ دن بدن ہوشربا طور پر بڑھے جارہی تھی، قومیائے جانے کی وجہ سے صنعتیں بھیگی بلی بن چکی تھیں۔
 
ن دنوں میں ایک دم  ریڈیو پر خبر آگئی کہ فوج نے ملک کا کنٹرول سنھبال لیا ہے اور بڑی بڑی مونچھوں والا ایک جرنیل للکار رہا تھا  کہ اب جو فساد فی سبیل اللہ کرے گا ،  جو زخیرہ اندوزی کرے گا چوک میں الٹا لٹکادیا جائے گا،    چوری ، شراب  ، مجرا بازی، ہینکی پھینکی ،  چکری مکری سب منع  ، نہیں تو فوجی عدالت اور پھر بازارمیں کوڑے،    سنا تھا کہ جہلم  میں بھی کسی کو پڑے ۔

بس پھر کیا تھا جیسےجلتی  آگ پر پانی پڑ گیا ہو، چینی فوراُ بازار میں دستیاب ہوگئی، آٹا مل گیا، مٹی کا تیل وہی ڈپو کے بھاؤ  ہر جگہ دستیاب تھا،    مہنگائی  رک گئی  اور پھر سالوں چیزوں کی قیمتیں ادھر ہی ،  طلباء نے پڑھنا شروع کردیا ، صلوات کمیٹیا ں بن گئیں ،  زکوات کمیٹیاں بھی غریبوں کی امداد کو آگے بڑھیں، جتنی لچا پارٹی تھی سب مسجد کو پہنچی،   محلوں کے بدمعاش  چھپتے پھرتے۔
فوجیوں  کاجی پھر سے جذبہ شہادت سے شرشارہوا،  دفاع اور صنعت نے پھر سے ترقی کرنا شروع کردی،  ایٹمی صلاحیت حاصل ہوگئی،   ملک میں آنے والے افغان بھائیوں  کی کثیر تعداد کوبھی سنبھال لیا گیا،      افغانوں  کے ساتھ ملکر روسیوں کی  ایسی کی تیسی کردی، انڈیا کی فوجیں بارڈر پر لگیں تو صدر صاحب کرکٹ کے میچ دیکھنے پہنچے اور پھر جو ہوا وہ دنیا نے دیکھا، انڈیا کی فوج چپکے سے بارڈرز سے واپسی کو نکلی۔ 
  
بھٹو کی موت بعذریہ عدالتی سزائے موت ،   پھانسی ہوئی ،   تو  دوسروں کو کیا دیتا اپنے خاندان کےلئے  محل اور عوام کےلئے غربت  چھوڑ گیا،    کچھ لوگ رونے والے تھے کچھ مٹھائی بانٹنے والے،   عوام نے کچھ خاص نوٹس نہ لیا ،  بس کچھ سیاسی جلسے جلوس اور بات ختم ۔ کسی نے کہا شہید ہے تو کسی نے کہا کہ اگر یہ شہید ہے تو اسے شہید کرنے والے کو کتنا ثواب ملا ہوگا۔ 

پھر چشم فلک نے دیکھا کہ  یہ مرد مومن  جب شہادت کے درجہ کو پہنچا تو  ہزاروں نہیں لاکھوں نہیں کروڑوں آنکھیں اشکبار تھیں،   لاکھو ں  کا مجمع جنازہ میں شریک تھا اور خاندانوں   کے خاندان ٹی وی کے سامنے بیٹھے دھاڑیں مار رہے تھے۔ ہمارے اپنےپورے پنڈ  میں بھی ماتم   بچھی ہوئی تھی،      اس نے ملک کو سب کچھ دیا مگر اپنے اہل خانہ  کےلئے ایک زیر تعمیر مکان چھوڑ، کچھ ہزار کا بنک بلنس  اور ملک کےلئے بڑھتی ہوئی معیشت، ایک نظام اور فعال ادارے۔   تب پاکستان عالم میں ایک راہنما  اسلامی ملک کے طور پر ابھر چکا تھا۔کچھ نے اسے آمر کہا اور کچھ نے مرد مومن اور  شہید کا خطاب دیا، مردہ بدست زندہ مسجد میں دفن کردیا گیا

ہم  بطور قوم اس بچے کی طرح ہیں جو اپنے اچھے برے کو نہیں پہچانتا ، جو جمہوریت کی لولی پاپ سے خوش ہوتا ہے مگر  سخت قوانین کی کڑوی گولی سے ڈرتا ہے   سمجھائے نہیں سمجھتا کہ  ہرچمکتی ہوئی جمہوریت سونا  نہیں ہوتی  ،   آج ہم مذہب کے ہر علمبردار کو جاہل و بنیاد پرست قرار دے رہے ہیں بلکہ دل کرتا کہ ہے مولویوں کو ڈاکو قراردے کر مار ہی دیا جائے۔ اہل مغرب نے جو کہہ دیا ،    جمہوریت ہے تو اس کے نام پر ذرداری،  گیلانی،  اعوان، ملک، الطاف سب  بھائی بھائی اور بھائی لوگ سر آنکھوں پر۔
                  
آج پھر لالٹین میں تیل نہیں، آٹا نہیں، چینی نہیں، مہنگائی آسمانوں کو چھو رہی ہے،  فوج کا مورال ڈاؤن ہے، قوم  بے حس ہے، چور ڈاکو،  ہڑ ہڑ کرتے پھر رہے ہیں،  لچے عزتیں اچھال رہے ہیں، زکوات کمیٹی تو دور کی بات وزارت حج  و مذہبی امور غبن پر غبن کئے جارہی ہے، فراڈئے ، قاتل  ، دھانسے والے سب حکمرانوں کی فہرست میں شامل ہیں اور مجھے پھر انتظار ہے اس دن کا  جب پھر منادی کہہ دے گا ۔۔۔۔۔بس آج کے بعد بس۔۔۔۔۔۔۔۔ جس نے ہیرا پھیری کی، چکری مکری کی،  چوں چلاکی کی   اسکی شامت ،     پھر بچے پڑھنے لگیں گے،   پھر صنعت کا پہہہ چلنے لگے گا،      پھر آٹا ، چینی ، بجلی دستیاب ہوگی،  پھر  بدمعاشی کرنے والے کو چوک میں لکایا جائے گا،     اس وقت کا جب شریف آدمی سکون کا سانس لے سکے گا، 

اس وقت کا انتظار جب  میں اپنے اٹالین دوستوں کو کہہ سکونگا  کہ میاں میں تو چلا اپنے دیس  کہ ادھر راوی چین ہی چین لکھتا

مکمل تحریر  »

جمعرات, اکتوبر 27, 2011

اپنا ہیرو

ہیرو  ہمیشہ ہی بڑا ہوتا ہے اور کچھ کرجاتا ہے یہاں کچھ سے مراد واقعی کچھ  ہے ،    ورنہ ہیرو نہیں اور جو کچھ بھی ہو،  یہ ہیرو  ہر فلم کا اپنا  ہوتا اور پوری فلم اسی کے گرد ہی نہیں بلکہ اسکی کے سر بھی ہوتی ہے۔ مگر فلم کے باہر بھی ہیرو ہوتے ہیں عام زندگی کے خاص لوگ ،     ہر محلے کا ہیرو بھی ہوتا ہے اور کالج کا بھی ،  اس طرح کے ہیرو بابے لوگوں کو ایک آنکھ نہیں بہاتے اور باباز کہتے پھرتے ہیں بڑا ہیرو بنا پھرتا ہے۔

کالج و محلے کے علاوہ کچھ عام زندگی کے خاص ہیرو ہوتے ہیں جو اکثرقومی درجہ کے ہوتے ہیں کچھ وہ جو کچھ کرتے ہیں اور نام پاتے ہیں تمغے حاصل کرتے ہیں ،   مربعے ا ور بنگلے بھی پاتے  ہیں اور کچھ وہ جو بہت کچھ کرجاتےہیں  مگرانکا  نام کوئی نہیں جانتا انکو بہت ہی گھمسانی اردو میں گمنام ہیرو کہا جاتا ہے اس سے کمزور دل لوگ یہ   نہ  سمجھ لیں کہ خدا ناخواستہ  اس کا نام کہیں گم ہوجاتا ہے بلکہ یہ لوگ اتنے غنی ہوتے ہیں کہ  بہت کچھ دینے کے باوجود کچھ بھی نہیں لیتے  انکا کوئی نام تک نہیں جانتا،   البتہ کچھ ہیرو عالمی ہوجاتے ہیں گریٹ الیگزنڈر   طرز کے جو پوری دنیا کے لوگوں کے دماغوں میں گھس بیٹھتے ہیں۔ 

ادھر اٹلی میں جب بھی کبھی تاریخ و ثقافت پر بات ہوتی ہے تو انکے اپنے ہیرو ہیں فلم کے بھی اور تاریخ کے بھی جو جولیس سیزر سے لیکر گارلی بالدی تک پھیلے ہوئے ہیں  جس طرح ہماری تاریخ پاکستان میں محمد بن قاسم سے لیکر ٹیپوسلطان اور پھر قائداعظم کی طرح کے سنگ میل قسم کے ہیرو ملتے ہیں حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم ان  کے ہیروز کو نہیں جانتے اور یہ ہمارے والوں کو ماننے کو تیار نہیں ہیں۔
 
 ملک کے اندر اس وقت جو صورت حال ہے اس میں بھی مختلف لوگوں کے مختلف ہیرو ہیں بقول   مولوی خالدصاحب کے اس وقت پانچ ہیرو موجود  ہیں  ب   ز  ن  ع  اور ف   ۔   ان میں سے ہر کوئی   اپنا  اپنا گروہ رکھتا ہے اور اسکا گروہ دوسرے کو کچھ سمجھتا  نہیں ۔   آج کل ہیرو کےلئے ضروری نہیں ہے کہ وہ باکردار ہو، بہت طاقتور ہو یا پھر ہاتھ میں توپ لئے گھوم رہا ہو۔  ناں  بلکہ پکی ناں ہم اس ہیرو کو  صرف اس لئے ہیرو مانیں گے کیونکہ وہ ہمیں پسند ہے  بھلے اس پر جتنے ہی کیس ہیں رشوت خوری کے یا فیر حرام خوری کے،  بھلے وہ بندے مروا کر ولائت جا بیٹھے، یا پھر ایک دن امریکہ سے فنڈ لائے اور دوسرے دن اسکے خلاف دو دن کا دھرنا دے مارے۔  جتنی بار اسکے دل کرے وسیع ترقومی مفاد میں حکومت میں چلا جائے یہ باہر ہوجائے۔  کوئی مرے کوئی جئے کھسرا گھول پتاسے پیئے کے مطابق عوام مرے یا جئے وہ اپنے بال لگوائے گا یا کبھی کبھار کہہ بھی دے گا کہ جناب اب بس کرو۔

کسی سیانے بندے کے بقول  ہر بندے کا اصلی ہیرو وہ خود ہوتا ہے اور اپنے جیسے سارے بندے اسے اچھے لگتے ہیں،  اگر یہ صاحب قول واقعی سیانا ہے پھر تو خطرے کی گھنٹی ہے اس کی بات  کیونکہ اسکا مطلب ہے کہ ہم  سب ان ہیں جیسے ہیں اگر ہم سب  ب ز ن ع اور ف کی  طرح کے ہیں تو پھر  بطور قوم  ہمارے دن گنے گئے ہیں۔   آپ کا کیا  کہ خیال ہے  بجائے اس  کے کہ کوئی اور سیانا بھی اس طرح کی باتاں کرے  ہمیں اپنے ہیرو تبدیل کر نہیں لینے چاہئیں؟؟

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش