جمعرات, جولائی 25, 2013

خالد ابن ولید، مزارات اور شامی باغیوں کے حمائیتی

ملک شام کے ساتھ ہماری جان پہچان تب سے ہے جب سے ہوش سنبھالا، جب اردگرد دیکھنا شروع کیا اور جب پڑھنا شروع کیا، اسلام تاریخ کے جو بڑے نام ہیں اور جن کو ہم اپنا آئیڈیل مانتے ہیں، جن لوگوں کے نام سامنے آتے ہیں، انکی عظمت دل میں جاگ جاتی ہے، ان سے محبت کرنے کو دل کرتا ہے، ان میں سے ایک بڑا نام حضرت خالد بن ولید، رضی اللہ عنہ، سیف اللہ کا لقب پانے والے اس عظیم سپہ سالار کا ہے، جن کے بارے حضرت صدیق اکبر کا فرمان ہے کہ یہ اللہ کی وہ تلوار ہے جو نبی کریم صلی اللہ علی وآلہ وصلم نے نیام سے نکالی تو میں کیسے اسے نیام میں کردوں، پس پھر تاریخ نے قادسیہ کا معرکہ دیکھا جب مسلم افواج نے ایک کثیر تعداد میں دشمن کو ایسی شکست دی کہ وہ پھر سنبھل نہ سکا، حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ نے خلافت کی طرف سے سپہ سالار نہ ہونے کے باوجود اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اسلامی لشکر کو جس خوبی اور فراخدلی سے سنبھالا وہ تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتا، پھر دور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میں جب حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ کو معطل کیا گیا تو آپ نے پھر نظم کی مثال قائم کی، پھر اسلامی فوج میں بغیر عہدہ کے لڑے۔ اور اللہ کی یہ تلوار کسی کافر کے ہاتھوں نیام میں نہین گئی اور آپ غازی رہے، اللہ پاک آپ کے درجات بلند کرے۔

حضرت کے زمانہ حیات میں ابھی تک فتنہ شیعہ نے سر نہ اٹھایا تھا اور وہ ایک نہایت غیر متنازعہ شخصیت کے طور پر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
آپ نے بازنطینی اور ساسانی حکومتوں کی ناس ماردی، اور یہ کہ آپ کے فتح کئے ہوئے علاقہ ابھی تک مسلمانوں کے پاس ہی ہیں، سیف اللہ ہونے کی ایک بڑی دلیل۔

امیر تمور جب حمس کے پاس سے گزرہ تو وہ بھی اس جنگجو کے احترام میں اس شہر کو تباہ کئے بغیر گزر گیا، ایک بہادر جرنیل دوسرے کی قدر جانتا ہے۔۔

شام میں موجود مزار بی بی زینب رضی اللہ عنہ بھی کسی بحث کا باعث نہیں بنا کبھی بھی نہیں بنا۔ یہ مزارات صدیوں سے مراکز تجلیات و مرجع خلائق ہیں
اب جی شام ملک میں خانہ جنگی لگی ہوئی ہے اس بارے پہلے تو خبریں تھیں کہ باغیوں کی اسرائیل مدد کررہا، پھر اس میں یورپ اور امریکہ کی مدد بھی ٹپک پڑی، اب کل امریکہ نے باقاعدہ باغیوں کی اعانت اور سپوٹ کا اعلان کردیا ہے، انجمن اقوام متحدہ امریکہ کی سلامتی کونسل نے بھی باغیوں کے ساتھ گفت وشیند شروع کردی، یہ آجکی واشنگٹن پوسٹ میں لکھا ہوا،۔۔

اب میں یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہوں کہ، مملکت شام اس وقت بہت نازک حالات میں ہے، یہ مزار گرانے والے متنازعہ کام انکو کرنے ہوتے تو وہ پہلے کرتے جب سب کچھ انکے قابو میں تھا، اب تو انکےلئے اسطرح کا ہر قدم خودکشی کے مترادف ہے۔

اگر حکومت یہ کام نہیں کررہی تو پھر باغی کررہے ہیں، یہاں پر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے ک مسلمان تو ادھر ہمیشہ سے ہی ہیں، وہ تو مسجد پر حملہ نہیں کریں گے نہ ہی انہوں نے کیا ایسے ہی جیسے کسی ہندو کا مندر پر اور کسی عیسائی کا چرچ پر حملہ کرنا خارج از امکان ہے، میں نے اپنے انڈین دوست عبدالمالک صاحب سے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کیا ہندوستان میں جہاں سب اقوام و مذاہب موجود ہیں، وہاں پر مندر پر کون حملہ کرے گا تو جواب ملا کہ ہندو تو نہیں ہوگا
مسجد پر حملہ کرنے والا کون ہوگا، تو جواب ملا کہ مسلمان کے علاوہ کوئی ہوگا
اسی طرح چرچ پر حملہ کرنے والا عیسائی کے علاوہ ہی کوئی ہوگا۔

تو برادران یہ جو مزارات پر حملے ہورہے ہیں یہ باغیوں کے غیرمسلم معاونین کی طرف سے ہورہے ہین، تاکہ عام مسلمان کے دل میں مملکت شام کے خلاف نفرت پیدا کیا جاسکے اور کل کو  جب سکوت شام ہوگا تو اس پر کوئی رونے والا نہیں ہوگا۔ مزارات پر حملے کرنے والے وہی ساسانی اور بازنطینی ہی تو نہیں ہیں جو آج اپنا بدلہ لے رہے ہیں سنا ہے کہ چلو تب تو کچھ نہ ہوسکا اب موقع ہاتھ آیا ہے تو حضرت کے مزار و منسوب مسجد سے ہی بدلہ لے لو۔ ورنہ اور کوئی کیوں ان جیسی شخصیت کے مزار پر حملہ کرنے کی جرآت کرسکتا ہے جب امیر تیمور جیسا لڑاکا اور سنگ دل بھی حضرت کے شہر سے پرے ہوکر اپنا راستہ تبدیل کرلیتا ہے۔ 

خیر مکرو، مکراللہ، وللہ خیرالماکرین

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جنوری 12, 2013

مولبی قادری، اللہ نہ کرے


مولبی ظاہر القادری المعروف کینیڈین مولبی،  کا مارچ ادھر اسلام آباد میں۔

انڈین بارڈر پر گزشتہ دنوں سے فائرنگ کا تبادلہ ، جھڑپیں اور  دونوں طرف  ،  زخمی و  ہلاکتیں

شہر کا انتظام سیکورٹی فورسز کے حوالے کرنے کا فیصلہ ہوگیا۔

انڈین وزیر اعظم نے پاکستان  آنے سے انکار کردیا۔

طاہر القادری  کہتا ہے کہ اسلام آباد میں اکڑی ہوئی گردنیں جھکا دیں گے۔  مطلب زور آزمائی؟

پاکستان میں حکومت کے اعلان کہ سڑکوں پر لوگ غیر ضروری طور پر نہ جائیں،  جنازہ اجازت لے کر پڑھیں،  اسکول بند، 
ہسپتال جانا ناممکن۔

پورے ملک میں گیس، پیٹرول ، بجلی بند ،مطلب مکمل بحران۔

انڈین ائرفورس کے کمانڈر انچیف کا بیان کہ جوان تیار ہوجائیں، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

یہ ساری خبریں ہیں جو کل اور آج  کی ہیں، میرا دل دھڑک رہا، کہیں ایسے تو نہیں کہ ان مولبی جی کو باقاعدہ تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کو بھیجا گیا ہو۔ کہ آپ اسلام آباد کو جام کرو، انتظامیہ کو مفلوج کرو۔  ادھر سے انڈین ایئر فورس  کا آپریشن ہو، دوسری طرف سے امریکی اور نیٹو کا افغانستان  سے۔  اور  پھر دنیا کی تاریخ تبدیل

نہیں ایسا نہیں ہوسکتا،  اللہ نہ کرے،  اللہ پر بھروسا رکھو جی،  ہاں اللہ پر ہی بھروسا ہے،  ورنہ ہمارے لوگ تو اپنی کشتیاں جلا چکے۔

اللہ نہ کرے  ایسا کچھ ہو۔ اللہ نہ کرے۔   اللہ کرے  یہ وقت خیریت سے گزر جائے۔




مکمل تحریر  »

منگل, ستمبر 04, 2012

فرعون کے پیچھے پیچھے


لنڈن  میں فرعون کی تلاش
فرعون کے ساتھ ہمارا یارا نہ بہت پکا ہے اور پرانا بھی،  کوئی کل کی بات تھوڑی ہے، بلکہ کئی برس گئے جب لنڈن کو سدھارے تھے سنہ 2002 میں،  تو  بھی فرعو ن اور مایا کےلئے اپنی فلائیٹ مس کرنے کی کوشش کربیٹھے،  تب  ہمارا مقصد برٹش میوزیم میں توتن خام صاحب کے سونے کے ماسک کی زیارت کرنا تھا، مگر گورا صاحب نے اسے ہمارے جانے سے چند ماہ قبل ہی قاہرہ میوزیم  روانہ کردیا اور ہم ہاتھ ملتے رہ گئے، کہ خان صاحب اگر چند ماہ پہلے آجاتے ادھر تو کون سی موت پڑنی تھی۔ یہ توتن خامن صاحب  بہت مشہور معروف فرعون ہوئے،  سنہ 1332 سے 1323 قبل مسیح ادھر حکمران رہے اور جدید فراعین  کی تاریخ میں  پڑھا ئے جاتے ہیں،  انکا تعلق اٹھارویں ڈینسیٹی سے تھا جو  سنہ  1550 سے 1292 قبل مسیح تک ادھر حکمران رہے، حضرت موسٰی علیہ سلام والا فرعون رعمسس دوئم اس سے پہلے بھگت چکا تھا۔ ، یہ صاحب  اپنے سونے کے ماسک اور سونے کے تخت کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے، مطلب موٹی اسامی تھے۔  توتن خامن کے مقبرے کی جب کھدائی ہوئی  1920 میں تو کارٹر صاحب نے عادتاُ  اسکے مقبرے سے ہونے والا سونے کاماسک بھی چپکے سے نکال کر کھیسے کیا اور پھر ولائیت کو سدھارے، جی ، جی، بلکل اسی طرح جس طرح  ہندوستان کے مقبروں کے تختے بھی لے اڑے تھے اور آپ کو آج بھی لاہور ، دہلی اور آگرہ کے مقبروں کی دیوراوں میں  "موریاں" نظرآتی ہیں، جہاں سے قیمتی پتھر نکالے گئے۔ توتن خامن  کا ماسک 2007 سے اسوان کے میوزیم میں توتن خامن کے مقبرے کے اندر زیارت کو دستیاب ہے۔   



میڈرڈ میں فرعون کا پیچھا
میڈرڈ میں جب سنہ 2009 میں جانا ہوا تو ادھر بھی ہماری فرعون سے یاری نے جوش مارا اور ہم ادھر نکل لئے ٹمپل آف دیبود  کی تلاش میں ، جو پلاسا سپانیہ کے ادھر قریب ہی پایا گیا، خیر سے ادھر  فرعون تو نہ پایا گیا نہ "وڈا نہ چھوٹا" مگر چلو  اسکے پاس کی چیز ہے ، یہ ٹیمپل ادھر جنوبی مصر میں اسوان کے علاقہ میں دریائے نیل سے کوئی 15 ک م کی نزدیکی پر تھا ،   یہ دوسری صدی قبل مسیح میں "عیسس" نامی دیوی کےلئے  تب کے بادشاہ  "میروئے" نے تعمیر کروایا،   اسکا چھوٹا کمرہ البتہ "ہاموں" نامی دیوتا کے لئے مختص ہوا،   یہ معبد اپنے علاقے کی جامعہ مسجد ہی سمجھا گیا،   پھر جب 1960 میں  جب عظیم اسوان  ڈیم کا منصوبہ بنا تو پھر اسے  ادھر میڈرڈ کو یاری کی علامت کے طور پر  گفٹ کردیا گیا،   بہر حال ادھر جا کر معلوم ہوا کہ اس کا براہ  راست فرعون کے سا تھ کوئی تعلق نہیں ہے، اور یہ کہ یار لوگوں نے ایویں  "چوول" ہی ماری ہے ۔  جو لو گ میڈر ڈ  میں رہتے ہیں   ی جو لوگ ادھر غلطی  سے پہونچ  جائیں  اوریہ مضمون  پڑھنے کے باوجود بھی   اگر ادھر جانا چاہیں تو  یہ معبد ادھر میڈرڈ کے رائل پیلس کے پچھواڑے میں پایا جاتا ہے۔  ہیں جی۔
 
نہ جاسکے تو صرف قاہرہ نہ جاسکے، رہی بات تورینی کے میوزیم کی تو چونکہ اس کی  سیر حد سے دلچسپ رہی ، جی جی ، کمپنی کی وجہ سے بھی، تو اسبارے کل لکھا جاوے گا۔ ابھی جولکھا گیا اسی کو ہضم کریں اور صبر کہ سہج پکے سو میٹھا ہو۔  

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش