جمعہ, فروری 27, 2015

آج کے بے لگام بچے

گھر میں سب بیٹھے ہوئے تھے ، ادھر ادھر کی گپیں ہانک رہے تھے ، 

اچانک کسی نے کہہ دی کہ ایک فقرے میں فعل ماضی، فعل حال اور فعل مستقبل کو  استعمال کرنا ہے ،   
" تو فیر کوئی مائی کا لال؟؟  "

پس فورا ہی ہماری خاتون اول الواحد نے ہاتھ کھڑا کردیا کہ " میں دساں؟؟"   

چلو جی آپ بتاؤ، بسم اللہ، اب کسی اور کی کیا مجال جو،  "چوں"  کرجائے۔

اچھا دسو۔

تو بیان ہوتا ہے ایک لمبی سانس لےکر" میں خوبصورت تھی، خوبصورت ہوں اور خوبصورت رہوں گی"۔

سب کو سانپ سونگھ گیا ، اب کسی کی ہمت  نہ تھی کہ اس جلالی فقرے کی تردید کرتا ۔

ایسے میں سب ایک دوسرے کا منہ  دیکھ رہے تھے۔ ہکے بکے۔

 تو ہماری بیٹی نے ہاتھ کھڑا کردیا۔  اب میری باری ، اب میری باری۔

چلو جی آپ بتاؤ

تو وہ کچھ یوں گویا ہوئیں " ماما یہ آپ کا وہم تھا، آپ کا وہم ہے اور آپ کا وہم رہے گا۔


اس پر لگا صاحبو وہ فلک شگاف قہقہہ

 اور محترمہ روہانسی ہوکر اٹھاجوتی لگیں چھوٹی کے پیچھے،

ایسے میں بچے کس کے ہاتھ آتے ہیں۔ 

مکمل تحریر  »

اتوار, اگست 24, 2014

ڈڈھو نکالنا

ڈڈھو   نکالنا
جون  میں شمالی پنجاب کی گرمی بہت شدید ہوتی ہے، خاص طور پر جہلم کی سطح مرتفع  کی گرمی  جہاں پر درجہ حرارت شدید ہو جاتا ہے ، پچاس  سینٹی گریڈ تک تھرمامیٹر کا پارہ پہنچ جاتا ہے۔  گویا اب تھرما میٹر پھٹا کہ پھٹا ،  ہر طرف   دھوپ کی چمک اور گرم لو۔ 
ایسے میں گھاس تک جل جاتی ہے اور جانوروں کےلئے سبز چارہ کا حصول بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ گرمی کی شدت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ انسان تو کیا جانور تو جانور بھی چھپتے پھرتے ہیں، درختوں کے سائے تلے ہوں یا دیوار کی اوٹ میں ایک جیسی جی جلانے والی گرمی سب کو تپائے ہوئے ہوتی ہے۔  کسی پل آرام نہیں ہوتا

دریا کر کنارے رہنے والے تو دریا کے پانی میں گھس جاتے ہیں مگر وہ بھی کب تک ۔ باہر نکلیں تو پھر دو تین منٹ بعد وہی حال ہوتا ہے۔
چونکہ گھاس و سبزہ سب خشک ہوچکا ہوتا ہے تو  رات کو شبنم بھی نہیں ہوتی۔ گویا بلکل خشکی اور شدید گرمی۔ ایسے ماحول میں جب سب جی جلائے بیٹھے ہوتے ہیں تو سہ پہر کو جانے کب کسی من چلے کو    " ڈڈھو"  نکالنے کی پہلی بار سوجھی۔     اور پھر ایک رواج ہی  بن گیا بس۔

ڈڈھو پنجابی میں مینڈک کو کہتے ہیں، خاص طور پر وہ جو بڑا سا  ہوتا ہے۔  ساون کے موسم میں جب برسات سے ہر طرف جل تھل ہوتی ہے تو نظر آتا ہے گویا یہ ساون کے ہرے بھر ے موسم کی علامت ہوا۔

تقریب اس میں یہ ہوتی ہے کہ  لڑکے بالے    مسجد سے نکلتے ہوئے نمازیوں پر پانی پھینکتےہیں اچانک سے،  کہ انکو ٹھنڈ پڑے، انکا تراہ نکلے۔  عام طور پر اس شدید گرمی میں ٹھنڈا پانی بہت خوشگوار ہوتا ہے اور ہر بندے پر اسکا بہت اچھا اثر ہوتا ہے۔ تو نمازی لوگ دعائیں دیتے ہیں۔ اور اللہ کے نیک بندوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اللہ ابرکرم برسا دیتا ہے۔
یہ تو ہو گیا   ڈڈھو نکالنے کا سنجیدہ پہلو۔ اسکے ساتھ ساتھ اسکا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ دعائیں دینے کی بجائے گالیاں دینے لگتے ہیں،
کہ "تہاڈی ماں نوں۔۔۔۔  ،   تہاڈی پہینڑں نوں۔۔۔۔۔۔
اب لڑکے بالے اس بات کا برا منانے کی بجائے اس بات کا مزاق  بنا لیتے ہیں اور ٹھٹھا بنا لیتے ہیں ، ادھر "باباز "گالیاں دے رہے ہوتے ہیں اور ادھر لڑکے بالے اور بڑے بوڑھے قہقے لگا رہے ہوتے ہیں۔
ایسے میں کوئی من چلا یہ کرتا ہے کہ نالی میں  سے دیکھ داکھ کر  کہیں نہ کہیں سے ، کیچڑ سے لتھڑا ہوا مینڈک کسی ڈبے میں ڈال لاتا ہے اور جو بابا یا مائی سب سے زیادہ گالیاں دے رہا ہوتا ہے اس پر پھینک دیا جاتا ہے
بس پھر ادھر سے پرزور گالیاں پڑرہی ہوتی ہیں اور ادھر سے پرزور قہقہے

اب ہم بڑے ہوگئے ہیں اور عرصہ سے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے نہیں علم کہ اب بھی ڈدھو نکالا جاتا ہے یا نہیں  مگر فیس بک پر ایک بابا پکڑا گیا ہے۔ ان دنوں ایسا ہی ۔  بات بے بات گالیاں دیتا ہے اور آج میں نے پوچھ لیا ، باوا جی آپ کی گالیاں دینے کی تربیت کس استاد نے کی؟؟ بہت مشاق ہیں آپ اس شعبہ میں تو اپنے استاد کا نام تو بتائیں۔
بس پھر   وہی  ادھر کی گالیاں اور ادھر کے قہقہے



مکمل تحریر  »

ہفتہ, نومبر 30, 2013

کچھ اپنے بارے میں

منظر نامہ پر شائع ہونے والا اپنا ایک انٹرویو، ادھر بھی کاپی پیسٹ کررہا تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کے منظرنامہ کے مہمان ہیں جناب راجہ افتخار خان صاحب ۔آپ ڈاکٹر ہونےکے ساتھ ساتھ اردو بلاگر بھی ہیں اور ” ہم اور ہماری دنیا “ کے عنوان سے بلاگ لکھتے ہیں ۔
خوش آمدید !
وعلیکم خوش آمدید کہ جیسے میں آن لائن آیا ایسے ہی آپ بھی۔
کیسے مزاج ہیں ؟
@چنگے بھلےہیں جی، اللہ کا شکرہے، وہ اپنے بندوں کا بڑا خیال رکھتا ہے۔
اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟
@یہ اس انٹرویو کا سب سے اوکھا سوال ہے۔  کہ اپنے بارے میں اب اپنے منہ کیا بتاؤں ، اپنی اچھائی بیان کروں گا تو اسے اپنے منہ میاں مٹھو بننا کہا جاوے گا اور اپنے بارے برا بولنا تو مجھے پسند ہے بھی نہیں، تو اس مناسب ہے کہ اس بارے  ہمارے احباب سے دریافت کیا جاوئے، مگر جو کچھ وہ بتلائیں گے اس پر اپنے مولانا اکبر الٰہ آبادی پہلے ہی روشنی ڈال گئے،
کیا کہیں احباب کیا کارنمایاں کرگئے
 بی  اے کیا نوکر ہوئے پنشن ملی مرگئے
پیشے کےلحاظ سے ہومیوپیتھیک معالجات میں ڈاکٹر ہوں،  پاکستان میں کالج میں پڑھتا تھا، عرصہ سے ادھر اٹلی میں مقیم ہوں جانے کیوں، یہاں پرپہلے تو سیاحت کے پیشے کے ساتھ منسلک ہوگیا تھا، مگر اب پھر سے اسی پیشے کے ساتھ منسلک ہوں، ہومیوپیتھک میڈیسن اور ڈاکٹرز کے اسپیشلائزیشن اسکول میں پڑھاتا بھی ہوں،  اطالوی زبان کی تعلیم بھی بہت عرصے سے غیر ملکیوں کو دے رہا ہوں۔ مزید کچھ نہیں کہوں گا۔
آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟
@میری جائے پیدائش ضلع جہلم میں میں جہلم اور منگلا کے بیچ میں دریائے جہلم کے کنارے ایک چھوٹا ساگاؤں ہے، اب وہاں بندے جینز پہنے پھرتے ہیں، بلکہ کوئی کوئی بی بی بھی آپ کو نظر آجاوے گی، پس اسے گاؤں کہنا ظلم الکبیر ہے مگر ہے گاؤں ہی۔
اپنی تعلیم اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
@اپنی تعلیم کی کیفیت بہت پیچیدہ ہے، اگر کوئی سمجھ لے تو، ہومیوپیتھیک میڈیسن میں ڈاکٹر بنےاور پھر ایک جاپانی انسٹیوٹ سے کمرکی  ریہبیلیٹیشن  میں ڈپلومہ کیا، فیر اٹلی آگئے، ادھر ایک ماسٹر کیا بزنس ایڈمنسٹریشن اور ٹورزم منجمینٹ میں،  پھر ہسٹری اور مونومنٹنس کا ایک کلچرل کورس جسکادورانیہ ایک برس تھا کیا۔ ہیں جی مجھے تاریخ بہت پسند ہے، ثابت ہوا۔ بس اپنی تاریخ پیدائش یاد نہیں رہتی۔
اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟
@میں اردو بلاگنگ کی طرف نہیں آیا بلکہ اردو بلاگنگ میری طرف آئی تھی۔ لکھنا پڑھنا اپنی پرانی لت ہے، تو اردو لائیف کے اردو پیڈ میں لکھ کر اور ادھر سے کاپی پیسٹ کرکے پہلا اردو بلاگ شروع کیا تھا ، تین مگرمچھ اور آنسو دوہزار چار کے شروع میں، بس تب کوئی دس کے قریب بلاگرز تھے، اور یہ  کہ یونیکوڈ  کوئی بھی نہیں لکھتا تھا۔ سوائے چند ایک سائیٹس کے اور بیس کے قریب بندوں کے۔
کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟
@کچھ بھی تو نہیں صرف پڑھنے والے نہیں تھے، شروع میں نستعلیق نیٹ پر تھا نہیں تو جنتا چیں چیں کرتی تھی۔ بس لکھنے کا مسئلہ، کہیں لکھو فیر کاپی پیسٹ کرو، پھر کوئی نہ کوئی کٹا کھل جانا کہ لائنیں مکس ہورہی ہیں، لفظ پھنس رہے، بہت برس تو ہجے ہی سہی نہیں ہورہے تھے، ہیں جی اور اب تو جنتا گرافکس کے مسائل میں الجھی ہوئی ہوی ہے، خوبصورتی پسند ہے ہیں جی، تب صرف لکھنا ہی بڑی بات تھی  یونی کوڈ میں، نہیں تو جنگ جیسی سائیٹس تصویری اردو سے کام چلاتیں تھیں اور لوگ پوچھتے تھےکہ آپ کرکیسے لیتے ہو  اب سانوں کی پتا۔
بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟
@جی شروع میں تو بہت کام ہوا، میں آئی ٹی ایکسپرٹ نہیں ہوں مگر کتنے بندوں کو ترغیب دی، کسی کو فونٹ اور کسی کو اردو سپورٹ انسٹال کرکے دینا، یہ بھی ایک پور ی سائنس تھی تب، اب اللہ بھلا کرے م  بلال م  میاں کا، جو کام کسی ادارےنے کرنا تھا وہ اس بندے نے اردو کےلئے کردیا۔
کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟
@میں متاثرین میں سے نہیں ہوں، بلکہ محبین میں سے ہوں، بہت سے بلاگرز سےمحبت کا رشتہ ہے، جن میں، یاسر خوامخواہ جاپانی، خاور کھوکھر، م بلال م ، علی حسان، عمیر ملک،  افتخار اجمل بھوپال، محمد قدیر،  نجیب صاحب،  مولوی محمد سعد،  جاوید گوندل، شعیب صفدر، محمد یاسر علی اور دیگر بہت سے  قدیم و جدید احباب شامل ہیں سب کے نام گنوانا  طوالت کے باعث مناسب نہیں،   البتہ ان حضرات سے براہ راست یا بلواسطہ میری  ملاقات یا بات چیت ہوئی۔
لفظ ” بلاگ “ سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟
@اچھے سے تو یاد نہیں مگر شاید دوہزار دو یا تین کی بات ہے، تب پہلے بلاگ اٹالین زبان میں لکھنا شروع کیا تھا۔
اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟
@نہ جی یہ کوئی ڈاکٹری کا مقالہ تو ہے نہیں، بس بیٹھے  اور ہو گئے شروع، میں تو غلطیاں بھی  نہیں نکالتا، نو ایڈیٹنگ، نہیں تو فیر فرق کیا رہا بلاگ میں اور رسالے میں،  بلاگ ایک فطری روانی کی  جبکہ رسالہ ایک مرحلہ وار عمل  کی پیداوار ہوتا ہے ، موضوع ہوسکتا ہے دونوں کا ایک ہی ہو۔ اسی لئے تو آپ کو میرے بلاگ پر اسپیلنگ کی غلطیاں، ٹائپنگ مسٹیکس، اور دیگر کھچ خانیاں ملیں گی۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
@معاشی فائدے کا تو سوچا کبھی نہیں البتہ یہ جو اوپر مذکور بندے ہیں یہ  بلاگ سے ہی کمائے ہیں۔
آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟
@معیاری بلاگ  وہ ہوتا ہے جو بے لاگ ہو، بغیر لگی لپٹی کے اور بغیر ایڈیٹنگ کے، بس دل کی بات کرے بھلے اپنے دل کی کرے اور دوسروں کے دل ساڑے۔    بھلے اگلے کہہ  اٹھیں   ع   چمن  سے آرہی ہے بوئے کباب ،                    پر کرے دل  کی بات۔
آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟
@ہاں  تو اور کیا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، ساٹھ سو برس کسی زبان کےلئے بہت تھوڑا عرصہ ہوتا ہے، الحمدللہ اردو نے آج جتنے دل جیتے ہیں،  وہ کہنے کو کافی ہیں کہ اردو ہی یہ کام کرسکتی تھی،  آج پوری دنیا میں اردو بولی جاتی ہے اور میرا نہیں خیال دنیا کا کوئی ایسا ملک ہو جہاں پر یہ باقاعدہ پڑھی نہ جاتی ہو۔ پھر اردو اور اردو دانوں کی آپس میں محبت کیا کہنے۔  میں تو گھومنے پھرنے والا بندہ ہوں، کہہ سکتا ہوں بقول شاعر
اور جس شہر میں اردو کا چلن ہوگا
وہاں کا ہر باشندہ شریفانہ ملے گا
اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟
@کچھ یوں کہ میری مادری زبان پنجابی ہے،  اب بھی ساری گالیاں اور لطیفے پنجابی میں ہی چلتے ہیں، بنیادی  تعلیم اردو میں اور ہومیوپیتھک میڈیسن  انگریزی میں پڑھی،  پھر اسپرانتو سیکھی، اور یونانی  و جرمن  و عربی سیکھنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اطالوی سیکھ بیٹھے، پر اب بھی پڑھنے اور لکھنے کی زبان اردو ہی ہے، پہلے اردو میں لکھ کر پھر کسی زبان میں  ،    اب البتہ  یہ ہے کہ  کچھ وقت سے نوٹس وغیرہ اٹالین میں لکھنے لکھوانے  ہوتے ہیں تو بس اردو میں لکھنے پڑھنے کا  کام کچھ کم ہویا ہوا ہے۔
آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟
@چونکہ پاکستان سے باہر ہوں عرصہ تو مجھے صحیح طور پر علم نہیں کہ پاکستان میں ان پندرہ برس میں کیا ہوا اردو کےلئے میری، اردو ابھی تک وہی انی سو پچانوے والی ہے، بغیر انگریزی کے،  جیسے برطانیہ والوں کی پنجابی انیسو ستر  والی۔
آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟
@اپنے آپ کو ہنوز زمین پر دیکھنے کا خواہش مند ہوں، اللہ نے چاہا تو،   اور اٹلی میں ہی ہوں گا،  اور اردو بلاگنگ کو پروفیشنل میڈیا کی مت مارتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔   اردو کا مستقبل روشن اور اردو بلاگز کا روشن تر، اب چونکہ پاکستان میں انٹرنیٹ عام بندے کی دسترس میں آیا ہے تو آپ دیکھئے گا کہ آنے والے برسوں میں اردو بلاگنگ کو بہت سے م بلال م ملیں گے۔
کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟
@پیغام  ہے میرا محبت جہاں تک پہنچے،   اردو خود ہی محبت ہے اور اس سے محبت کرنے والوں کو مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے، ویسے بھی میں ایک عام سا بندہ ہوں کسی کو بھلا کیا مشورہ دے سکتا ہوں  ہاں اردو کی خدمت کرنے والے اور اردو بلاگز اگر کوئی صلاح مجھے دینا چاہئے تو میری  خوش نصیبی ہوگی۔
بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟
@بلاگ میری مصروفیات میں آخری کام ہے، جب تپا ہوا ہوں تو لکھتا ہوں، ملازمت ہے،  وہ کرتا ہوں،  اس کےلئے چونکہ پڑھنا پڑھتا تو پڑھنا بھی بہت پڑتا ہے۔
آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟
@درد دل کے واسطے پیدا کیا تھا انساں کو     والی بات نہیں ہے، آج تک خود سمجھ نہیں آئی کہ کیا چاہتاہوں، اور زندگی کا مقصد کیا ہے، کماؤ، کھاؤ، گھر والوں کو کھلاؤ، دنگے فساد  سہو اور کرو، یہ غیبتیں اور چغل خوریاں جہان بھر کی، جانے زندگی کا مقصد کیا ہے، مگر پی ایچ ڈی کرنے کی خواہش اپلائیڈالٹرنیٹیو میڈیسن میں ، دیکھو فیر پوری ہوتی ہےکہ نہیں۔
اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔
پسندیدہ:
1۔ کتاب ؟
@ الکیمسٹ پاؤلو کوئلہو کی
2۔ شعر ؟
@چمن ہے مقتل نغمہ اب اور کیا کہئے
ہر طرف اک سکوت کا عالم ہے جسے نوا کہئے
اسیر بند زمانہ ہوں اے صاحبان چمن
گلوں کو میری طرف سے بہت دعا کہئے
3۔ رنگ ؟
@نیلا اور سفید ،   ایک وقت میں میرے سارے کپڑے نیلے یا سفید ہوا کرتے تھے یابھی سفید اور نیلے اور یاپھر نیلے اور سفید ہیں جی
4۔ کھانا ؟
@اس بارے میں کنفیوژن کا شکار ہوں شدید، کنفوشس سے بھی بڑھ کر، صرف کھانے کو کھالیتا ہوں جو بھی مل جاوے بس اس میں مرچیں نہ ہوں اور سمندری مخلوق نہ ہو۔
5۔ موسم ؟
@گرما، اٹلی میں جب آپ کاچھا اور بنیان پہن کا پورا شہر گھوم سکتے ہیں اور پورا اٹلی دیکھ سکتے ہیں، پاکستان میں بہار کا جب پھول میرے گھر میں کھلے ہوتے ہیں تو۔
6۔ ملک ؟
@اگر پسندیدہ ملک پوچھو گے تو پاکستانی ہونے کے باوجود پاکستان نہیں کہہ سکتا کہ ادھر پاکستانی ہوتے ہیں، اٹلی میں رہنے کے باوجو ادھر اٹالین کی وجہ سے دل نہیں لگتا، برازیل میرا پسندیدہ ملک ہے،   کیوں چونکہ آپ نے پوچھا نہیں تو میں نے بتایا نہیں۔
7۔ مصنف ؟
@اردو میں پطرس بخاری، مستنصر حسین تارڑ ، برگیڈئر شفیق الرحمان ، ابن انشاء ، نسیم حجازی اور بہت سے،  انٹرنیشنل لٹریچر میں  پاؤلو کوئلہو کی ساری کلیکشن اٹالین اور انگریزی کی میرے پاس ہے،   انگریزی میں ادب میں نے پڑھا ہی نہیں اور صرف میڈیسن کی ریسرچ دیکھتا ہوں اور میڈیکل انگلش ہی مجھےآتی ہے۔
8۔ گیت؟
@منی بیگم کی غزل بوتل کھلی ہے رقص میں جام شراب ہے۔   ویسے میں موسقی سنتا نہیں ہوں۔
9۔ فلم ؟
@گو میں زیادہ فلمیں نہیں دیکھتا مگر دو فلمیں تاریخ موضوعات کی جب بھی ملیں دیکھ لوں گا پھر سے، ایک ہے گلیڈی ایٹر اور دوسری کنگڈم آف ہیون، جو کروسیڈز کے نام سے بھی ریلیز ہوئی۔
غلط /درست:
1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔
@درست
2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟
@غلط
3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟
@درست
4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟
@بہت درست
5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟
@درست
6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟
@درست
7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟
@غلط
8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟
@اگلے بندے پر منحصر ہے۔
منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟
@چونکہ مجھے اردو بلاگنگ کا چچاجان کہا جاسکتا ہے بابا جی چھڈ دو تو، لہذا اگلی بار میرا انٹرویو پہلی فرصت میں کیا جاوے۔
آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟
@پیغام ہے میرا محبت جہاں تک پہنچے، بس محبت کیجئے اپنے آپ سے، اپنے عزیزواقارب سے، آپ اردگرد سے،  اپنے ماحول سے، اپنی گلی  اپنےمحلے سے۔ (محلے والیوں کا آپ کے دماغ میں خود ہی آرہا، میں نئیں کہہ ریا) اپنے یاردودستوں سے اور اپنے شہدے و سڑیل رشتہ داروں سے بھی، ملک زبان  دنیا  سے، مطلب اپنی ہرچیز سے پیار کرو اور اسکا خیال رکھو جسے آپ میری یا ہماری کہہ سکو۔  ہیں جی
اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ
@آپ کا وی شکریہ، ہیں جی

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جنوری 26, 2013

بلاگنگ اور رسہ گیری

ویسے تو  کہا جاتا ہے کہ بلاگنگ  ایک ذاتی فعل ہے ،  یہ بات ہے بھی سچ بادی النظر میں  کہ بلاگر کا بلاگ اپنا ہوتا ہے، گویا اسکی اپنی دنیا یا اسکا اپنا گھر، کہنے والے چمن بھی کہتے سکتے ہیں،  جیسے مرضی اسکو سجائے سنوارے، اسکو ترتیب دے، جو مرضی لکھے، جیسے مرضی اور جب مرضی،  مطلب فل آزادی،  چاہے ذرداری کو گالیاں دے، چاہے، مولبی طاہر القادری کے کیڑے نکالے  یا نواز شریف کےنئے نئے بالوں کا ذکر کرے، بھلے عمران خان کی ساٹھ سالہ نوجوان قیادت کا ڈھنڈورا پیٹے، الطاف بھائی کا بڑاں بڑا ں والا خطاب سنائے۔  یا  پھر میری طرح سفر نامے لکھے یا  بدمغزیاں مارے۔

خیال تھا کہ ایک آزاد میڈیا کے طور پر چلے گا، جس میں ہر بندہ بلاگ بنا کر اپنے دل کے پھھپولے پھوڑے۔  دوسروں کو گالیاں دے۔  لطیفے بھی سنائے، سیاہ ست اور سیاہ ست دانوں پر لمبے تبصرے۔ پوری قوم کو بھلا برُا کہنا،   مگر سب ایسا نہیں ہے۔ جب آپ بلاگ لکھتے ہیں تو اسکے پڑھنے والے بھی ہوتے ہیں اب آپ کے بلاگ کے پڑھنے والے وہی  ہونگے جو آپ جیسے ہوں، جو وہی پڑھنا چاہتے ہیں  جو آپ لکھ رہے ہیں ، نہیں تو اگلے نے دوسری بار نہیں آنا۔

مگر سب کچھ یہاں تک نہیں ہے، بلاگنگ نے ایک  سرکل کی شکل اختیار کرلی ،  جس میں  کچھ لوگ جو ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں وہ  ایک دوسرے کے قریب ہوگئے، ہوتے جارہے ہیں۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ بلاگرز ہی ایک دوسرے  کے بلاگز پر تبصرہ کرتے ہیں اور جوابی تبصرہ کرنے کا انتظار بھی، میرے ادھر بھی ، تقریباُ  وہی احباب تبصرہ کریں گے جنکے بلاگز پر میں جاتا ہوں۔ مطلب   یہ ایک قسم کی رسہ گیری بھی ہوگئی ہے، آپ کے جتنے ذاتی تعلقات ہیں آپ کے بلاگ پر اتنے لوگ ہی آئیں گے،  ورنہ  اگر کوئی آ بھی گیا تو تبصرہ کئے بغیر نکل لے گا جس طرح آپ سے پہلے دو صاحبان نے  پوسٹ پڑھی اور بغیر تبصرہ کئے "اڑنچھو" ہوگئے۔
وہی اکبر آلہ آبادی کے بقول :     اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے

آج تو ادھر جلسہ بھی ہورہا ہے اردو بلاگز کا، ادھر بھی  جو جسکی تعریف کرے گا اگلا اسکی    " تریفوں" کے ٹل  باندھ دے گا۔  منہ پر ویسے بھی ہمارے ادھر  تنقید کرنے کا رواج نہیں ہے نہ ہیں ہمت۔ اگر میں بھی ہوتا تو لازمی طور پر یہ پوسٹ لکھنے کی بجائے ادھر کسی کی تعریف کررہا ہوتا یا پھر سن رہا ہوتا۔  گویا   انسانی  طور پر  وہی کچھ لو اور کچھ دو۔

تبصرہ کرو تبصرہ کرواؤ،  اچھا تبصرہ ہوگا تو جواب بھی اچھا ملے گا، اگر میں آپ کے بلاگ پر چیں چیں کرکے آیا ہوں تو ادھر بھی لازمی طور پر " چیں چیں"  ہی ہوگی۔
نتیجہ :  جیسی کرنی ویسے بھرنی۔  


مکمل تحریر  »

اتوار, دسمبر 23, 2012

ہماری سستیاں یا بدمغزیاں

ان  دنوں کچھ عجیب سے بد مغزی و سستی چھائی ہوئی ہے،   باوجود کوشش کے کچھ لکھا ہی نہیں جارہا،    حالانکہ ،  بہت سے موضوعات ایسے ہیں جن  پر لکھنا چاہ رہا تھا،  مثلاُ    ، فرعون  کے بارے  میں مذید کچھ ، پھر پاکستانی  بتوں کے بارے،  پھر مولبی قادری کے بارے،     بہن کے عاشق کے ہاتھوں ہونے والی شہید کے بارے،     مگر جب بھی لکھنے بیٹھتا ہوں تو  لکھ کر چھوڑ دیتا ہوں،   لکھ کر سیو کرنے کی بجائے پھر لکھنے کو کہہ کر ترک کردینا۔

وہ بھی دن ہوتے ہیں جب ایک دن میں دو دو پوسٹیں لکھ ماریں،  یا کسی دوست نے کہہ دیا تو ہم نے ادھ گھنٹے میں لکھ مارا،  مگر اب کی بار تو بس چپ ہی لگ گئی۔


میرے خیال میں تو یہ سب بدمغزی ہے، یہ پھر اس کو سستی کہہ لو،  کچھ اسے لاپرواہی   کہہ لو،  یا کچھ اور کہہ ، مگر سمجھ یہ نہیں آرہا کہ یہ سب کیوں ہورہا ہے، اب تو مایا کے کلینڈر کو بھی موردالزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔   تو پھر کیا ہوسکتا ہے۔ 

مکمل تحریر  »

منگل, جولائی 03, 2012

سیر پولینڈ کی، دل کے ارمان


زمانہ قدیم میں جب آتش جواں ہوا کرتا تھا اور  یورپ گردی کا نیا نیا شوق سر پر سوار ہوا تو،  ہنگری اور پولینڈ ان ممالک میں سے تھے جہاں ہماری  قلمی دوستی بہت  تسلسل کے ساتھ تھی اور چونکہ بہت سے اسپرانتو دان بھی ادھر بستے ہیں اور بہت منظم ہیں   تب بھی اور اب بھی کسی نہ کسی پروغرام کی دعوت موصول ہوتی، مگر کہ ہر دعوت دعوت شیراز نیست   گر پیسہ  در جیب نیست،  دوسری وجہ پولینڈ کی موندا تورزمو   اور ہنگری کے گرم چشموں کے مساج و ہییلتھ سینٹرز کی فوٹوئیں تھیں۔

پھر وہ دن بھی آیا جب عالمی اسپرانتو میڈیکل ایسوسی ایشن نے ایک خاص دعوت نامہ دے مارا ، بلکہ سرکاری طور پر ارسال کیا  مگر چھڈو جی کہہ کر ایک طرف رکھ دیا،    پھر ایک پروگرام اٹلی سے بھی اسی برس موصول ہوا  ، چونکہ  دونوں کے درمیان کوئی دس دن کا وقفہ تھا تو سوچا  پھر سے پولینڈ کے بارے کہ کیوں کہ ادھر سے ہوتے ہوئے اٹلی کو نکل لیں گے بعذریہ ٹرین اور یہ بھی کہ جرمن اور آسٹریا وغیرہ کی سیر مفت میں ہوجائے گی۔  مگر پولینڈ کی ایمبیسی والوں نے تب  چائنہ ایمبیسی کے عقب میں ہوا کرتی تھی، ادھر ڈپلومیٹو انکلو کے پچھلے پاسے،  کوئی چار چکر لگواکر   ہمارے پاسپور ٹ پر  ایک چھوٹی سی مہر  لگا دی کہ جی ہم مطمعن نہیں اور یہ کہ آپ نے
درخواست بھی لیٹ دی ہے ویزہ کےلئے لہذا  رہن دو۔

میں اسکو برا بھلا کہتا ہوا اٹالین ایمبیسی کو   نکل لیا، ویزہ آفیسر نے پوچھا  بھی  کہ تم نے پولینڈ کا ویزہ اپلائی کیا تھا؟؟ تو جواباُ  ہم نے جو گالیاں بزبان انگریزی زبانی یاد تھیں وہ بھی اور جوپنجابی  کی تھیں انکو  بھی   ترجمہ کرکےپولش  ویزہ آفیسر کی خدمت میں  پیش کیا ، تو اسکے بعد اس نےمذید کوئی سوال نہ کیا، لازمی طور پر بھلے مانس  سمجھ گیا ہوگا کہ اگر اس کا ویزہ نہ لگایا تو اس سے ڈبل قصیدہ خوانی میری بھی ہونی ہے۔
خیر ہم برطانیہ میں شب بسری کرتے ہوئے ادھر اٹلی میں جلسہ پڑھنے پہنچ گئے،  مگر پولینڈ والی مہر پاسپورٹ پرہی رہی،   اور منہ چڑاتی رہی، پھر ادھر مستقل رہنے کا پروغرام ایسا بنا  کہ بس لٹک ہی رہے۔ گاہ بگاہے کسی پروغرام میں کسی نہ کسی پولش اسپرانتودان سے ملاقات ہو ہی جاتی ہے اور پھر سے ادھر کی دعوت تازہ ہوجاتی ہے۔ ابھی پھر اگست میں ایک جلسہ کی دعوت  ہے۔ جاتے ہیں یا نہیں مگر  راشد صاحب سے فیس بک پر بات کر بیٹھے اور انہوں نے اپنی طرف سے بھی دعوت  دے ڈالی کے جناب ضرور آؤ اور رہو ہمارے ، پاس ، اگر موڈہو تو آپ کا ویاہ بھی کروایا جاسکتا ہے۔  خیر بات  مذاق میں رہی اور اچھا دیکھیں گے کہہ کر آئی گئی ہوگئی۔

آج اپنے علی حسن صاحب سے بات ہورہی تھی تو انہوں نے بھی  ہماری  پروگرام کو پکا کرنے کی حتٰی المقدور کوشش کی۔  آپ کو بھی شامل کرتے ہیں اس گفتگو میں  اور پھر فیصلہ آپ کے ہاتھ میں  کہ ہن  ایتھے مریئے،

جناب چینی گندے نہیں ہوتے بلکہ کہ پاکستانیوں کی طرح ہر ماحوال میں ڈھل جانے اور سروائیول  کرنے والی قوم ہے، پیسے نہیں  ہیں تو  فیکٹری میں 16 گھنٹے کام کرلو اور ایک کمرے میں 12 بندے رہ لو،   ہیں تو پھر گلیانی کی  بیگم کی شاپنگاں کے قصے پڑھ لو ، پس ثابت ہوا کہ 
دنیا میں یا تو چینی چھا جائیے گے یا پاکستانی، مگر چونکہ پاکستانی ذرداری کو بھگت رہے ہین لہذا انکے چانس کچھ کم ہین،

جناب  آپ بھی پولینڈ اگست سے پہلے پہنچ جائیں کہ ہوسکتا ہے میرا بھی چکر لگ جائے تو دونوں ملک کر ادھر ایک یورپین اردوبلاگر کانفرنس کرلیں گے اور آپس میں تقسیم اتعامات و اوارڈ بھی ہوجائے ،  اور پھر    ادھر تو ایک راشد صاحب نے مجھے معشوق و شادی بھی آفر کردی پولینڈ میں، وہ بھی فری میں، آپ بتاؤ،
بلکہ دعا سے پہلے ہی آجاؤ

ضرور جائو جی یقین مانیں انکا کوئی احسان نہیں انکو تو ایک بئیر میں پڑ رہی ہو گی
ہا ہا ہا، مگر میں تو آپ کے بلاگ پڑھ پڑھ کر انکی دعوت کو ٹھکرا گیا،  یہ صاحب ادھر میرے مہمان ہوئے تھے ایک بار، ابھی ادھر ہیں اور چلتا پرزہ ہیں
جائیں جی ضرور جائیں پر وارسا میں کچھ خاص نہیں ایک ہے مازوری ریجن وہاں 
جائیں آجکل تو جنت ہو گی وہ زمین پر

نہین مجھے کراکوو جانا ہے

وہ بھی اچھا ہے بلکہ بہترین شہروں میں ایک پولینڈ کے

ہاں ادھر ہے انکا جلسہ۔   پر سنا ہے بڈھوں کا شہر ہے۔    اور جنہوں نے مجھے مدعو کیا ہوا ان میں سے کوئی بھی 55 سے کم نہ ہوگا،       ہا ہا ہا
سارے ہی کھوسٹ قسم کے اور ہتھرو سیکس بڈھاس ہیں

ہا ہا ہا ہا ۔ایک بندہ ملا تھا شکل و صورت سے ایسا تھا کہ ہمارے نوکر اور بھنگی بھی بہتر ہوتے ہیں کہتا تھا کہ ٹائون میں جائو تے کڑیاں آپے فون نمبر دے جاندیاں نے
جائو جی تسی وی پولیاں نوں آزمائو

یہ سنا ہےکوئی بیس برس پہلے کی کہاوت ہے، جسے ہمارے لوگ بھولنے کو تیار نہیں، میرا خیال ہے ابھی حالات وہ نہیں رہے

نہ جی آزما کے ویکھ لو جے واپسی تے اکیلے گئے تو تہاڈی نیت دے فتور کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں ہو گی

اگر یہ قول ہے تو فیر وہ راشد سچا ہے، مگر یہ گل آپ نے اپنے بلاگ پر کیوں نہیں لکھی، مین تو اسے ایویں ہی لتاڑ گیا

ہا ہا بھائی جان اب ہم کیوں مولوی بنیں مفت میں دوسروں کے سامنے :)اگر کہہ دیتا کہ پھنس جاتی ہیں تو مزاح کہاں سے آتا ہیں جی؟ ویسے اس میں کوئی شک نہیں شاید ہی کوئی اور قوم اتنی واہیات ہو خود میری ایک استانی تھی پولش پڑھاتی تھی کہتی تھی کہ ساری دنیا میں ہمارا تاثر ہے کہ ایک بئیر پر رات گزار لیتی ہیں اور یہ کوئی اتنا غلط بھی نہیں

ہا ہا ہا اگر یہ بات ہے تو فیر بھائی جان کہنا جھڈ دو، اور یرا کہا کرو
میرا تو ادھر پولینڈ جانے کو سخت دل کررہا

بلکہ سنہ انیصد ستانوے مین پاکستان سے پولینڈ کا ویزہ بھی ریجیکٹ کروا چکا

ضرور جائیں اور بقلم خود دیکھ کر آئیں کہ دنیا میں ایسے ایسے لوگ بھی ہیں اور ہمکو اجازتاں دیں 2 بج گئے ہیں اور 4 بجے لائٹ جانی ہے 2 گھنٹے سو لیں
اچھا فیر شب بخیر
اوئے ہوئے 1997 میں پولینڈ ، بھائی جان اور نہیں تو 25،30 معاشقے ایک ہفتے میں ہی کر لیتے
چلو جی عمر باقی تے صحبت یاراں باقی

نہ تپاؤ

اوس کنجر ایمسڈر نے ویزہ نہیں دیا تھا کہ جی میں مطمعن نہیں ہوں، دسو

تب تو میں نے ٹینش نہ لی اور ادھر اٹالین ایمبسی سے لے کر ادھر نکل لیا مگر اب اس کی ماں بہن ایک کردینے کو دل کررہا

ہا ہا ہا اپنی بہو بیٹیاں بچا لے گیا جی صاف

مکمل تحریر  »

جمعہ, مارچ 02, 2012

ثقافتی ثالث، چلتے ہو تو اٹلی کو چلئے

معاملہ  انڈیا سے تعلق رکھنے والے  ایک سکھ خاندان کا ہے، جو باپ   ، ماں، سولہ سالہ بیٹے  اور دو چھوٹی بیٹیوں  پر مشتمل ہے۔ باپ جو سن بانوے میں اٹلی آیا اور اسکاتعلق پنجاب کے ایک گھرانے سے ہے  جو زمین کا مالک ہے ، مطلب کھاتے پیتے لوگ،  ماں  اٹلی میں دس برس  بل آئی  ، شادی کے  چند برس بعد ، تب یہ لڑکا اسکی گود میں تھا،  دو چھوٹی بیٹیاں انکے ہا ں ادھر اٹلی میں  پیدا ہوئیں۔باپ ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے جہاں پر اسے مٹی وغیرہ کو ہٹانا ہوتا ہے، بہت ہی گندا اور بھاری کام، بقول اسکے بہت ہی غلیظ کام ، جو میرے علاوہ کوئی کرنے کو تیار ہی نہیں ہے، جبکہ میرے پاس اور کوئی چارہ  نہیں، پس اس نے شراب پینی شروع کردی اور ٹن ہوکے پیتا، وجہ اس لال پری کی یہ بیان کرتا ہے  کہ پیتا ہوں غم کو مٹانے کو اور ٹینشن کو گھٹانے کو۔
ماں انڈیا کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اسکا دادا پنڈ کا لمبردار ہے نہ صرف  بلکہ گرہنتھی بھی ہے، اپنی طرف  امام صاحب کہہ لو۔     شادی دونوں خاندانوں کی رضامندی سے ہوئی تھی  شادی کے پورے نو ماہ بعد انکے بچہ پیدا ہوا۔
یہ  ادھر بسنے والے ہر دوسرے خاندان کی  فوٹو اسٹیٹ ہے جو پنجاب سے ادھر آبسا،   یہ خاندان اداروں کی نظر میں اس وقت آیا جب   ایک شام کو  یہ بزرگ اپنی دونوں بچیوں کے ساتھ چہل قدمی فرماتے ہوئے سڑ ک  پر لڑھک  پڑے اور غین ہوگئے۔  بچیاں جو دس اور آٹھ برس کی ہیں اپنے والد کو سنبھال نہ سکیں اور  ڈرکر رونے چلانے لگیں،  چلتے پھرتے راہگیروں میں سے کچھ لوگ نزدیک ہوگئے اور کسی نے  پاس سے گزرتی ہوئی پولیس کی گاڑی کو ہاتھ دے لیا، ادھر پولیس  صرف مجرم ہیں پکڑتی بلکہ ہر ایمرجنسی میں آپ کی معاونت کرنے کی ذمہ دار ہے،  پس ایمبولنس بھی کال ہوگئی اور سردارجی کو  اٹھا کر ہسپتال پہنچادیا گیا، جہا ں پر معلوم ہوا کہ یہ حضرت ٹن  پڑے ہیں،  اور انکے اندر الکحل کی موجودگی  کا درجہ دوسو بیس پایاگیا ، بس الارم کھڑک گئے، کہ  دیکھو یہ کیسا باپ ہے جو اس حالت میں  پایا گیا کہ بجائے اپنی بچیوں کی دیکھ بھال کرسکتا  خود سے بھی بے خبر ہے،  یہ واقعہ ایک برس پیشتر کا ہے، بس پھر تفتیش شروع ہوگئی اور ادارے حرکت میں آگئے، معاملہ عدالت تک پہنچا تو عدالت نے فوراُ فیصلہ سنا دیا کہ اس نشئی بندے کو اس طرح بچوں کے ساتھ نہیں رہنے دیا ، جاسکتا، بہت برا اثر پڑے گا ان پر،  پس   عدالت کے حکم پر سردار جی کوگھر سے بے دخل کردیا گیا، کہ جاؤ میاں اپنا بندوبست کرو،  اور   ایک ماہر نفسیات، ایک سماجی مسائل کی ماہر، ایک ایجوکیٹر،  اور ایک ثقافتی ثالث  کو تعینات کردیا گیا کہ لو جی  دیکھو ذرا اس خاندان کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ 

مکمل تحریر  »

ثقافتی ثالث

ایک بندہ  جو دوسرے ملک میں جابستا  ہے اور مہاجر کہلاتا ہے ثقافتوں کے درمیان  پل کا کردار ادا کرسکتا ہے۔
یہ مہاجر ثقافتی ثالث کب بنتا ہے؟؟
ثقافتی ثالث ایک ایسا بندہ ہے جو کو اٹلی میں کچھ عرصہ سے رواج دیا گیا، ایک بندہ جو اٹلی کی زبان کو ہی نہیں بلکہ ادھر کے ماحول کو اور سماجی معاملات کو بھی اچھی طر ح سمجھتا ہو، نہ صرف بلکہ اپنے  یا دوسرے ملک کی ثقافت اور سماجی معاملات پر کڑی نظر رکھتا ہو، جو ادھر کے رہن سہن کا ادھر کے معاملات سے موازنہ کرسکے،  سماجیات کے اس شعبہ میں اب اٹالین لوگ بھی بہت دلچسپی سے شامل ہونے لگے ہیں مگر۔۔۔
روداد ایک میٹنگ کی جو ویرونا یونیورسٹی اور سماجی و صحت کے شعبے میں کام کرنے والوں کے درمیان تھی اس ملاقات میں کوئی بیس کے قریب لوگ  کی موجودگی  اس بات کی غماز تھی کہ معاملہ کچھ سیریس ہے،   یونیورسٹی کے نفسیاتی، سماجی اور ثقافتی شعبوں کے تین پروفیسرز،  کوئی دس کے قریب  سماجی و معاشرتی اداروں اور غیر حکومتی  انجمنوں کے ماہرین،  پاکستان اور انڈیا کے پنجاب کے  مختلف علاقوں  سے تعلق رکھنے والے  ہم تین بندے اور دو بندیاں۔  یہ بندے بھی وہ جومعاملات میں اپنی رائے رکھتے ہیں،  جو پنجاب کی ثقافت کو بھی جانتے ہیں اور اطالیہ کے معاملات زندگی پر بھر پور نظر ہی نہیں رائے بھی رکھتے ہیں۔  پنجاب سے اٹلی میں ہونے والی ہجرت کے فنامنا کو  دیکھنے  اور اسکا  مطالعہ کرنے کے پروگرام کی ایک نشست کا احوال ،  ایک کڑی نظر ہمارے ارد گرد  پر ۔ 
میری کوشش ہوگی کہ اس چار گھنٹوں کی نشست کا احوال من وعن کے ساتھ بیان کروں،   سب ایک ساتھ لکھنے کی بجائے مختلف حصوں میں  واقعات بیان کرتے ہوئے ، جو سوالات اٹھتے ہیں اور جو معاملات سامنے آتے ہیں انکا تجزیہ بھی  آپ کے ساتھ شئر کرسکوں

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش