اتوار, فروری 16, 2014

ویلنٹائن ڈے منانا ہمارا


ویسے تو  ادھر اٹلی میں رہتے  ہوئے  کئی برس ہوگئے ہیں مگر ویلنٹائن ڈے کے بارے کچھ خاص علم نہیں ہوتا،  آتا تو ہر برس ہے اور گزر بھی جاتا ہے، جبکہ عمومی طور پر کام پر ہوتے ہیں تو سب ادھر مصروف ہوتے ہیں، کسی کو سر کان کھرکنے کی فرصت نشتا۔  اتنے مین کسی کو یاد آگئی اور اس   نے کہ  دیا کہ لو جی آج ویلنٹائن ڈے ہے، اچھا اچھا  لو جی کیا بات ہے، مبارکاں ۔ ۔    ہیں جی      اور پھر یار باگھ اپنے اپنے کام کاج میں سر گھسیڑلیتے ہیں،   کہ ادھر کام کرنا پڑتاہے، حرام خوری کی گنجائش ناں۔            ا     ور  اگر اس دن چھٹی ہوتو  سو کر گزرتی ہے، اب سوئے بندے کو کیا علم کہ ویلنٹائن ڈے آیا کہ نہیں آیا۔

   یا پھر پھول فروشوں کی دکا  ن  کے سامنے سے گزرتے ہوئے معلوم ہوجاتا ہے کہ لو جی  بھائی جان ویلٹائن ڈے آرہا۔    ہیں جی  پھول جو بھیچنے اگلے نے۔   پھر سپر مارکیٹ میں کوئی دو دن پہلے چاکلیٹ کے خانہ  میں ایک پوسٹر دل کا بنا کر لگا دیا جاتا ہے اور دل کی شکل والے سرخ ڈبے میں کچھ چاکلیٹیں مہنگے داموں  سج جاتی ہیں شیلفوں میں۔   آخر کوئی دکان داری بھی کوئی چیز ہے  ، ہیں جی ،   ہاں جی   اس دن ترکیب یہ ہوتی ہے کہ ہر کوئی اپنی چاہتے کے اظہار کےلئے یہی دو طریقے اپناتا ہے، بیوی یا محبوبہ کو پھول اور بچوں کو چاکلیٹ دے کر آئی لو یو  کہہ دیا جاتا ہے ،   ہیں جی۔  اگوں تسیں آپ سیانڑے ہو۔۔

پاکستان میں تھے تو اس کا کچھ علم نہ تھا کہ کیا بلا ہے اور کس چیز کے ساتھ لگا کے اسکو کھانا ہے۔ کرلو گل   ، بقول ہمارے شاہ جی  کے ، ہوسکتا ہے تب ویلنٹائن ڈے کا وجود ہی نہ  ہو،    پر ادھر آکر علم ہوا کہ یہ تو صدیوں پرانا تہوار ہے،  بس ایک دوسرے سے محبت جتلانے کا تہوار، موسم بہار کا پہلا تہوار ہے جب پھول کھلے ہوتے ہیں تو پس دکان داری شروع ہوگئی۔  ویسے شاہ صاحب کی بات اس لحاظ سے صد فی صد درست ہے کہ تب پاکستان میں ویلنٹائن ڈے کا وجود ہی کوئی نہیں تھا۔

ادھر آکر بھی ہم نے اس کو بہت برس تک لفٹ نہیں کرائی۔ کہ سانوں کی، جیسے ہماری عید کا انکو کچھ نہیں ہوتا، ایسے ہی انکے  تہواروں کا ہمیں کیا،   بس دن کلنڈر پر چھٹی نظر آگئی اس دن ہم بھی خوش ہولئے کہ لو جی خان جی کل تو چھٹی ہے پکی، سرخ والی، ہیں جی، رج کے نیندراں پوریاں کرساں۔  ہیں جی۔  اور  ویلنٹائن ڈے کی تو کلینڈر کی بھی چھٹی نہیں  ہوتی  ۔ بس فیر سانوں  کی۔   ہیں جی۔

یہ لوگ گو ہمیں عید منانے سے روکتے نہیں بلکہ مبارک باد بھی دے دیتے ہیں لگے ہاتھوں کہ سنا ہے خان جی کل تمھارا تہوار ہے تو ہماری طرفوں مبارک باد قبولو ، ہیں جی۔  اسی  طرح ہم شکریہ ادا کرتے ہوئے انکے تہواروں  پر مبارک باد دینے میں چوکس رہتے۔ کہ  نیک تمناؤں کے تبادلہ سے محبت میں  اضافہ ہوتا ہے،  اگر نہیں بھی ہوتا تو امکان لازم ہے۔   اگر متکلم ثانی کوئی میم یا اطالوی خاتون ہو تو مبارک بادوں تو تقریباُ فرض کرلیا جاتا ہے کہ یہی موقع ہوتا ہے جب انکے ساتھ گال سے گال لگا کر چومی دی جاتی ہے ، ہیں جی، پھر تو مبارک بنتی ہے کہ نہیں۔  باوجود اسکے کے المولبیان الباکستان فرماتے ہیں کہ کافروں کو مبارک باد نہیں  دینی چاہئے مگر ہم کہتے ہیں کہ کافر کو ہی تو دینی بنتی  ہے مبارک باد، ہیں  جی۔

گزشتہ چند برسوں سے چونکہ  سیٹلائیٹ چیلز بھی دستیاب ہیں اور سوشل میڈیا بھی متحرک ہے اور  ہر  ایرا غیرا ادھر ماشٹرلگا ہوا ہے تو ویلٹائین ڈے کی خبر کوئی ہفتے بھر پہلے ہی ہوگئی جاتی ہے۔ اس برس بھی کوئی ایک ہفتہ قبل حیاداری  کے حق میں، بے حیائی اور بے غیرتی کے خلاف ہال ہال کرکے  نوٹس اور اسٹیٹس آنے شروع ہوئے تو علم ہوگیا۔ جی  ویلنٹائن ڈے آگیا ہے اور المولبیان الباکستان  پوری طور پر  ڈیڈاروں کی طرح چھڑ چکے ہیں۔  اس ایک ہفتے میں ویلنٹائین کی ماں بہن ایک کی گئی، اسکو منانے والوں کے   کانوں کو بھی پگلا ہوا سیسہ ڈال کر بند کیا گیا۔   بقول اپنے حکیم علی صاحب کے  ہر طرف تھیا تھیا اور پھڑلو پھڑلو مچی ہوئی تھی۔

اٹالین اخبارات اور ٹی وی  پر معمول کی ہی خبریں تھیں،   وہی کرونکس ،   سیاست وغیرہ وغیرہ  ۔۔۔۔۔۔ ہیں جی انکو دلچسپی ویلنٹائن ڈے سے ہوتو ۔ پر تہوار موجود ہے بیچ بیچ میں کسی پروگرام میں اسکا ذکر آجاتا، یا پھر دکاندار کے سودے کے اشتہار۔  دکان داری تو آپ کو علم ہے کہ جدھر چلتی ہو یار لوگ ادھر ہی دکان بڑھالے جاتے ہیں۔ ۔


کل صبح روٹین میں ہی اپنے کام کاج پر نکلے، دو ڈاکٹرز کولیگز سے ملاقات تھی۔  پھر دوپہر کو ایک اور دوست کے ساتھ لنچ تھا اسکے ساتھ ایک کیس ڈسکس کرنا تھا۔ ، پھر ایک مریضہ کو دیکھنا تھا، ادھر کوئی اڑھائی گھنٹے کی  میٹنگ رہی۔ مگر ویلنٹائن ڈے کا ذکر کہیں نہیں ہوا،  نہ ہی کسی نے مبارک باد دی، ہاں ہر چوک پر بنگالی سرخ گلاب بیچنے کو تلے ہوئے تھے اور انکی کوشش رہی کہ مجھے بھی پانچ یورو کے تین پھول تھمادئے جاویں، جو عام دنوں میں وہ دو یورو کے بیچتے ہیں، پر یہ تو دکانداری ہوگئی ، ہیں  جی اسکو چھڈو، کاٹھ مارو۔



آج  دن بھر ٹی وی کے سامنے بیٹھنے کا موقع ملا تو جیو والوں نے نسیم وکی کے ساتھ پورا پروگرام فٹ کیا ہوا تھا۔ اور اسکو دیکھ کر انکی چالیں  اور حرکات دیکھ کر اپنے  علامہ مرحوم کا  جواب شکوہ کا مصرع یاد آگیا
یہ وہ مسلماں ہیں جن کو دیکھ کے شرمائیں یہود


اپنے المولبیان الپاکستان سچے ہیں ،  ہمارے ملک میں نودولتئے  اور حرام کی کمائی سے یکا یک امیر بننے والے جو ہیں وہ  اب ویلنٹائن ڈے منارہے اور کھل کھلا کر منارہے، جس طریقہ سے  وہ منارہے اسکو اٹالین بھی دیکھ کر شرماجائیں۔  ہیں جی۔








مکمل تحریر  »

جمعہ, اگست 09, 2013

آپ کی عید ہے؟ عید مبارک عیدین مبارک

اپنے ہاں تو پرسوں سے ہی عید عید ہوءی پڑی ہے، پہلے تو میاں ثاقب صاحب نے خبر دی کہ سعودی میں مولبی ہوشیار باش ہوگءے اور باباز دوربینیں لے بیٹھے اور یہ کہ شاید آج چاند نظر آجاوے۔ 

ہیں ؟مگر آج تو اٹھائیسواں روزہ ہے مولبی، اپنے ادھر بھی اور ادھر سعودی میں بھی تو  پھر؟؟  تفصیل موصول ہوءی کہ بہت برس بعد امسال بھی مون برتھ کے ایک دن پہلے ہونے کے شدید خطرات ہیں،۔ خیر دیر تک کمپوٹر کو ٹکٹکی لگانے کے بعد علم حاصل ہوا کہ خطرہ ٹل گیا اور یہ کہ کل روزہ ہی رکھنا پڑے گا، اور ہ پاسہ مار کے سو رہے کہ سحری کےلئے اٹھنا پڑے گا۔  یوں ہمارے ارمانوں پر اوس پڑگئ۔ 

کل تو خیر شام کو ہی ہال ہال کار مچ گئ کہ سعودیہ میں روزہ ہوگیا، انڈونیشیا سے بھی ایک بی بی نے میسج کرکے کنفرم کردیا کہ ہمارے بھی روزہ ہے، ہیں جی

علامہ رضا مرزا کا بولونیا سے فون آنا اور چاند رات کی مبارک و پپیاں ہیں جی، یہ علامہ بوت مزاکیہ واقع ہوئے ہیں، ہیں جی

میاں سلام شانی صاحب کا میرپور آزاد کشمیر سے فیسی بکی پیغام آیا ہے کہ اگر آپ آج عید کررہے ہیں تو عید مبارک اور اگر نہیں تو ایڈوانس میں قبولئَے۔  مطلب کل ہم تکلیف نہیں کریں گے  ہیں جی۔ 

ہمارے مامون جان راجہ بابر خان البزرگ الصغیر جو ہم سے عمر میں 3 ورے چھوٹے ہیں، مگر چونکے رشتہ میں ماموں ہیں تو ہیں، نے مفصل بتایا کہ کل عید کررہے ہیں بعد از 30 روزے، جبکہ ہم 29 کے بعد آج بھگت چکے، ہیں جی

لنڈن کزن کو فون کیا تو ادھر سے خبر ملی کہ بھائی خیرمبارک، ہم بھی آج ہی عید کررہے ہیں، ہماری اسٹریٹ کی تین مساجد سے آج عید کا اعلان ہوا، جبکہ دو نے کل پاکستان کے ساتھ کرنی ہے، مطلب وہ پکے پاکستانی ہوئے، ہیں جی

سنا ہے کہ گلف کے کچھ ممالک میں بھی عید مبارک کل ہی ہوگی، جبکہ پاکستان میں بھی سرکاری عید کل ہے مگر، کچھ شمالی علاقاز میں چاند دیکھنے و عید کرنے کی شنید ہے۔ 

اب اگر عید دو مختلف دنوں میں ہوگی تو خطبہ بھی دو دن ہی ہوگا، ۔ ہین جی
ایسے میں اپنے یاسر خوامخواہ جاپانی صاحب جی اس صورت حال کےلئے عیدین کا لفظ استعمالا تو برا کیا کیا، مان لیا کہ پہلے یہ لفظ عیدین  دو عیدوں مطلب عیدالفطر اور بقرہ عید دونوں کےلئے اجتمائِ طور پر استعمال ہوتا تھا اب اس لفظ عیدین کو اس نئی عیدوں والی صورت حال پر بھی استعمالا جاسکتا ہے۔ 

سنا ہے کہ ولایت میں  کسی کونسل میں مسلوں نے درخواست دی کہ عید والے دن ہمیں چھٹی ہونی چاہیے، کونسل والوں نے کے انکار پر خوب شور اور ہنگامہ مچا، یہ جلوس اور احتجاج کہ ہماری مذہبی آزادی پر روک لگائی  گئ ہے، مئیر نے کچھ لوگوں مطلب اپنے اپنوں سیانوں سیانوں سے صلاح لی، مگر بات نہ بنی احتجاج بڑھتا جاتا، مگر پھر وہاں پر ایک دھاگہ مولبی ق نمودار ہوئے اور مبلغ فیس وصول پانے کے بعد مشورہ دیا، اس مشورے کے مطابق مسلوں کو کہا گیا کہ چلو ٹھیک ہے، دسو فیر کس دن عید کرنی؟؟ تم سب متفقہ طور پر بتلادو کہ کس دن تمھاری عید ہوگی، ہم چھٹی کردیں گے بمعہ تنخواہ، اس بات کو کتنے ورے ہوگئے مگر نہ مسلوں کا ایک عید پر اتفاق ہوا، نہ پھر چھٹی کی بات ہوئِ۔

اللہ فرماتا ہے وعتصمو بحبل اللہ جمیعا ولاتفرقو

اللہ بادشاہ جی جو مرضی فرمائے ہم کون ہوتے ہیں دخل دینے والے مگر تفرقہ ہم نے کرنا ہے چاہے وہ چاند دیکھنے پر ہو، کہ عید منانے پر، روزہ پر ہو کہ درود شریف کو باآواز بلند وہ زیر لب پڑھنے پر، نماز ہاتھ چھوڑکر پڑھنے پر اور باندھ کر، 
رفع یدین کرنے اور نہ کرنے پر بھی۔ 

جب ایسا ہوگا تو فیر عید کی نماز سنگین کے سائے تلے ہی ہوگی۔ اللہ خطبہ سننے اور سنانے والوں کے علم اور عقل میں اضافہ کرے اور انکو بم بلاسٹ سے بچائے، اور بعد از خطبہ اپنے گھر تک بحفاظت پہنچاءے، آمین۔ ہم اللہ کی مانیں یا نہ مانیں مگر اللہ تو ہمارا ہے ہماری ضرور سنے گا۔ ہیں جی۔ 

اب چونکہ آپ پڑھتے پڑھتے یہاں تک پہنچ چکے ہیں تو آپ کو بھی عید مبارک ، بھلے آپ نے آج والے مسلوں کے ساتھ کی ہے یا کل والے مسلوں کے ساتھ کررہے ہیں، عید عید ہی ہوتی ہے، تو فیر عید مبارک ہیں جی



مکمل تحریر  »

بدھ, دسمبر 26, 2012

کرسمس، عیسائی اور ہمارا ایمان

پاکستان کے عیسائی  عرف چوہڑے
ویسے تو عیسائیوں کے بارے میں سب ہی جانتے  ہیں ، حضرت عیسٰی علیس سلام  کی پیروکار قوم، ساری دنیا میں ہی تو پائے جاتے ہیں ، ادھر مغرب میں تو بہت ، مگر ہمارے ادھر تعداد میں کم ہیں، پاکستان میں ہوں گے کوئی دو تین فیصد، اکثر غریب ہوتے ہیں اور انکا ذریعہ معاش  وہ پیشے ہوتے ہیں  جنکو ہم مسلمان الحمدللہ سرانجام  دینے سے بوجہ شرعی کتراتے ہیں۔  صفائی ، گھروں کی جھاڑو پونچھ وغیرہ  ، حالانکہ "صفائی نصف ایمان ہے،"  اور اس  کے بارے ہم تب سے جانتے ہیں جب سے اپنے گھر سے باہر چونچ نکالی ہے، عیسائیوں کا ہمارے ادھر الگ     ہی مقام ہے ، مطلب معاشرے  میں رہتے ہوئے بھی کٹے کٹے سے رہتے ہیں،   دور سے ہی پہچانے جاتےہیں ، ایک تو ویسےہی تو   کالے کالے سے ہوتے ہیں ، پھر نہاتے بھی کم ہی ہیں، اور ہمارے معاشرتی تہواروں ، میلاد شریف ، عیدین  وغیرہ سے چونکہ انکا  کوئی تعلق  نہیں ہوتا  ، ان دنوں میں یہ جانے کہاں چلے جاتے ہیں۔

 ادھرعیدین ، یا میلاد کے بغیر دوچار کالے کلوٹے عیسائی ، عیسائینیں چمکے چلکے نظر آئیں ادھر ہم سمجھ لئے کہ انکی تو عید ہے، مطلب کرسمس "مینز "عیسایوں کی عید قرار پائی،  بس ہم  اسی بات پر پکےہوئے  رہے،  ویسے جس دن شاہ جی بھی بغیر جمعے کے چمکے چلکے نظر آجاتے تو کوئی  بول اٹھتا " کیوں جی آج کیا عیسائیوں کی عید ہے؟" اور شاہ جی  " ہت تیری "  کہہ کر اسکے پیچھے ہولیتے، قصہ کچھ یوں تھا کہ شاہ  جی  "کالے دھواں " تھے جسکو یورپ میں رنگدار کہاجاتا  ہے اور ہمارے ہاں اس رنگ کے یا تو "عیسائی "ہوتے ہیں  یا پھر  "مسلی"۔ البتہ عیسائی ہماری عید کو اگر اچھے کپڑے پہنے ہوئے پایاجاتا تو اس سے پوچھ لیا جاتا کہ یہ عید تمھاری تو نہیں ہے۔ فیر؟؟ اب اکثر اسکا جواب دانت نکالنا ہی ہوتا۔  اگر کوئی عیسائی چھٹی عید والے دن کرتا تو یار لوگ پوچھ لیتے "کدھراوئے؟  کوئی تمھاری عید ہے؟؟"  اسکا جواب فیر دانت نکالنا  ہی ہوتا۔  ہماری عید کو تو وہ کہہ دیتا ہے ہے ڈاکٹر صاحب عیدمبارک   اور ہم خیر مبارک کہہ کہ اسکو دس روپئے عید ی تھمادیتے۔ مگر جس دن اسکی عید ہوتی تو اس سے پوچھتے کہ میاں وہ کیا کہتے ہیں ؟ تو وہ بتاتا "سرجی میری  کرسمس"، اور ہم جی کڑا کر اسکو میری کرسمس کہہ دیتے۔  


یورپ کے عیسائی عرف چوہڑے۔
ادھر جب یورپ میں آئے توعلم  میں کچھ اضافہ ہوا  کہ ادھر لوگ بڑے گورے چٹے ہیں اور ہم کالے قرار پائے گویا رنگدار، پھر اوپر سے نئے نئے آئے ہوتے ہیں اور غریبی و سردی کا بھی کافی شدت سے احساس ہوتا ہے تو نہانے دھونے کا خیال بھی کم ہی آتا ہے۔ گویا ، پکے عیسائی   ہوئے ادھر کے بقول یاوروں کے۔  پھرہماری اکثریت  کے کام بھی وہی ہوتے ہیں جو یہ لوگ بوجہ  کرنا چاہتے  نہیں یا پھر کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔  گویا ہم ادھر کے چوہڑے ہوئے۔

پھر  ادھر یورپ  میں قیام پزیر ہوئے تو  علم میں مذید اضافہ ہوا  کہ  ان عیسائیوں کا بھی ہمارے والا حساب ہے انکی عید تو ہوگئی کرسمس والی اس  کو اپنی میلاد کہہ لو کہ حضرت مسیح کی پیدائش، پھر ادھر نئے سال کا جشن بھی ہے جسکو آپ انکی وڈی عید کہہ لو،  اسکے بعد پھر ایسٹر کا تہوار جو ہماری چھوٹی عید کے مترادف ہوا پلس اس کے آخری جمعے کو بقول حضرت مسیح علیہ سلام کو مصلوب کیا گیا (انکے مطابق) تو 
ادھر  بھی ہمارے والا احوال ہوا۔  پس ثابت ہوا کہ دنیا گول  ہے، مگر ابھی نہیں ابھی اسکو مزید گول ہونا مانگتا۔

مبارک بادیاں
ادھر یوں تو بہت سی  کرسمس  بھی گزریں ، عیدین بھی، میلاد بھی اور ایسٹر بھی ، مگر اکثر ہم ادھر سے غایب ہوتے، ادھر چھٹیاں شروع  اور ادھر ہم اڑگئے۔  اب کی بار ایسا نہیں ہوا، بلکہ کچھ برسوں سے رکے ہوئے۔ تو جب چھٹیاں کلینڈر پر نظر آنی شروع ہوئیں تو  کولیگز نے اپنی اپنی منصوبہ بندی بھی ظاہر کرنی شروع کردی،  اورہم سے سوال  کہ "تمھارا تو یہ تہوار نہیں ہے، تم اسے مناتے ہوِ؟"    اور ہم ہنس کر کہہ دیتے کہ "ہمارا تو نہیں  ہے  مگر سب خوش تو ہم بھی خوش ، ہم بھی گھر میں "۔ جب ہماری عیدیں  ہوتی ہیں تو ادھر نہا دھو کےگھوم رہے ہوتے ہیں اس دن باقی کے گورے سارے کام کاج میں روٹین میں مصروف ہوتے ہیں۔ تو وہ پوچھ رہے ہوتے ہیں :    " ہم خیریت، آج بڑے چمکے نظر آرہے تمہارے لوگ؟"   جی وہ  دراصل آج ہماری عید ہے جی،   " اچھا اچھا میں بھی کہوں ، تو کیا کہتے ہیں اس دن ؟"  وہ سر عید مبارک ،    " اچھا تو پھر عید مبارک" ۔

اب کی بار ہم نے بہت سے دوستوں اور کولیگ ڈاکٹرز کو  "میری کرسمس" کے ایس ایم ایس بھیجے، ای میلز بھی کیں، اور فیس بک پر اسٹیٹس بھی کوئی چودہ زبانوں میں اپڈیٹ کیا، جواباُ بہت ہی محبت کے ساتھ ، شکریہ ادا کیا گیا، اور ہمارے لئے اور ہمارے خاندان وجملہ احباب کےلئے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا گیا۔ گویا انہوں نے جواباُ ہمیں عیدی ہی دی ہو۔ 


خطرہ ہمارے ایمان کو
ان دنوں ہمارے ادھر ایک اور فساد پھیلا ہوا ہے، کہ" میری کرسمس" کہنا منع ہے، اور شرعی حرام ہے بلکہ ، بعض اوقات قریب الکفر ہے۔  میں نے کوئی پانچ سے زیادہ ڈکٹشنریز میں دیکھا ہے مختلف زبانوں کی ، مگر ادھر تو ملا "حضرت مسیح کی ولادت کی مبارک"، اب حضرت جی کی پیدائش سے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا،  کہ وہ پیدا نہیں ہوئے۔ کم ازکم کوئی مسلمان، کہ قرآن نے بھی اسکو بطور معجزہ  ذکر کیا۔  اب اگر پیدائش کی مبارک دینا  ہے تو یہ حرام کیسے ہوا۔ اب بقول ہمارے بھائی صاحب کے اور فیس بکی ملاؤں کے کہ بھی وہ تو لکھا ہوا  ہے مگر اسکا اصل مطلب ہے کہ کہ " اللہ میاں کے ہاں بیٹا ہوا" ۔  اب یہ کہاں سے آیا اس بارے میں کوئی ہمیں بتلائے گا تو سمجھیں گے۔ اوپر ایک فتویٰ بھی جاری کردیا گیا کہ  "ہذا فعل الحرام الکبیر"   اب ہمارا فتووں سے بھی یقین اٹھا ہوا ، یہ تو اٹھارہ ملاؤں نے دیا  جو اہل سنت ول جماعت سے لیکر اہل تشعیہ ، حنفی ، مالکی ، حنبلی، شافعی  وغیر ہ اجمعین  ہیں۔ ، ادھر پینتیس  کے قریب ہیں جو دوسرے فرقوں کے کافر ہونے کے فتوے قبل ازیں جاری کرچکے، اور صرف یہ ہی نہیں ایسے ایسے فتوٰے ظہور پزیر ہوئے کہ الامان الحفیظ۔  اب ہم کیا کریں ، انکے سارے والے فتویٰ کو دیکھں تو کچھ پلے نہیں پڑتا۔  اگر یہ والا  درست تو پھر وہ والے بھی درست ، اگر وہ والے غلط تو پھر یہ والا کدھر سے درست۔ یہ سوالات اور یہ جوابات ، اگر کسی بلاگر نے اس پر لکھ دیا تو پھر ادھر بحثیں، مگر بلاگر خاتون ہے تو۔ 

مگر ہمارے بھائی جی اس بات پر مصر ہیں  کہ لوجی ،انکا کیک تو ٹھیک ہے۔  فروٹ بھی جائز، مگر میری کرسمس کہنا حرام ہے۔ بھلے ڈکشنری میں  اسکا مطلب صرف ولادت مسیح کی مبارک باد ہی ہے۔  مگر جب مولبی لوگ کہہ رہے  تو پھر ٹھیک ہی کہہ رہے ہونگے ۔  اخر انہوں نے بھی  تو کہیں پڑھا ہی ہوگا۔  


مکمل تحریر  »

جمعہ, اگست 17, 2012

ضروری اطلاع برائے صدقہ فطر، فطرانہ


 گندم کی قیمت دینے سے فطرانہ ادا ہوجاتا ہے لیکن اگر کوئی شخص حدیث میں ذکر کردہ باقی چیزوں کے حساب سے دینا چاہئے تو نہ صرف یہ جائز ہے بلکہ بہتر ہے اور اس میں غریبوں کا فائدہ بھی زیادہ ہے، لہذا، اپنی حثیت کے مطابق فطرانہ ادا کرییں، حدیث میں صدقہ فطر (فطرانہ) ادا کرنے کےلئے چار چیزیں بیان کی گئی ہیں:
 گندم، آدھا صعاع بمطابق ایک کلو 633 گرام، کم از کم
 کشمش، جوء، کھجور ایک صعاع۔
گندم کی قیمت 60 روپئے،
 جوء کی قیمت 140 روپئے،
کھجور کی قیمت 670 روپئے
 اور کشمش کی قیمت 1310 روپئے تقریباُ ہے، جزاک اللہ خیر،

مکمل تحریر  »

اتوار, اگست 05, 2012

پاک چین رشتہ داری زندہ باد

لوجی پاک چین دوستی ایک اور قدم آگےبڑھی اور ہماری ایک کزن کی شادی ایک چینی نژاد  یوسف  سے بمعہ تمام مقامی رسومات اسلام آباد میں بخیر خوبی انجام پائی، بغیر ہماری شرکت ، مگر ہمارے اہل خانہ ہماری نمائندگی کو ادھرموجود تھے،  بقول ہماری خاتون اول کے مہمان آپس میں چینی زبان میں گفتگو کررہے تھے جبکہ ہمارے ساتھ انگریزی میں ، جبکہ کوئی کوئی بندہ اردو بھی بولتا تھا۔ ابھی ولیمہ چین میں ہوگا ،  جس کےلئے مہمان چین تشریف لے جائیں گے۔ مگر اندیشہ یہ ہے کہ ہوسکتا  ہے کہ ادھر ہمارے چینی رشتہ دار اردو و انگریزی بولنے سے انکاری ہوجائیں،  اور مہمانوں کی جان پھسی شکنجے اندر۔ 

   جناب  پاک چین دوستی ، پاک چین رشتہ داری  میں تبدیل ہوئی۔


اللہ اس نو بیاہتا جوڑے کوخوش خرم رکھے 

مکمل تحریر  »

ہفتہ, نومبر 05, 2011

یوم العرفہ مبارک


مسلمانو! متحد ہوجاؤ ورنہ دشمن غالب آجائیں گے: مفتی اعظم کا خطبہ حج

مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ نے کہا ہے حج سے انسان کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اللہ سے ڈرو اور تمام معاملات میں اسی سے رجوع کرو۔ مسلمان دوسری اقوام سے مشابہت پیدا نہیں‌کرتا.

میدان عرفات میں مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے شیخ عبدالعزیز نے کہا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ہی کامیابی کی دلیل ہے۔ دنیا کا کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں جس کا اسلام میں حل نہ ہو۔ قرآن اور سنت نبوی ہی مسلمانوں کی فلاح کی ضامن ہیں ۔ انسان کو عبادت کرنی چاہئیے اور اپنا سلوک بہتر کرنا چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ مسلمان کی معمولی نیکی کا بھی قیامت کے دن صلہ دے گا۔ آج ہمیں خاندان کی تشکیل کیلئے نبی کریم ﷺ کی زندگی کو مشعل راہ بنانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن واحد کتاب ہے جو اپنے اصل متن کے ساتھ ہے۔ قرآن کریم تمام عالم کیلئے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ مسلمانو! اللہ سے ڈرو اور ہر معاملے میں اس سے رجوع کرو۔انہوں نے کہا کہ اسلام مسلمانوں کو برے کام سے روکتاہے۔ مسلمان دوسرے مذاہب کے حقوق کا احترام کریں ۔ مسلمان معاشرہ اپنی خصوصیات کی وجہ سے دوسرے معاشروں سے ممتاز ہے۔ مسلمانو! متحد ہو جاؤ ورنہ دشمن غالب آجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان دوسری اقوام سے مشابہت پیدا نہیں کرتا.

بشکریہ ایکسپریس نیوز

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ اس پر عمل کرنے کی اور حق بات کو دوسروں تک پہنچانے کی  توفیق عطا فرمائے ۔ 



عيد سے پچھلی رات مغرب کی نماز کے بعد سے عيد کے تيسرے دن نصف النہار تک يہ ورد رکھيئے اگر زيادہ نہيں تو ہر نماز کے بعد ايک بار ۔ مزيد عيد کی نماز کو جاتے ہوئے اور واپسی پر بھی يہ ورد رکھيئے

اللہُ اکبر اللہُ اکبر لَا اِلَہَ اِلْاللہ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ
لَہُ الّمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر
اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلہَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلہَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر کبِیرہ …
بصد شکریہ  افتخار اجمل بھوپال

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش