ہفتہ, جون 18, 2016

بارسیلونہ، روم اور راولپنڈی

اکتوبر میں بارسلونہ فارماسیوٹیکل ایکسپو میں  جانے کا پرو گرام ہے، ایسے ہی آج صبح دیکھ رہا تھا کہ ادھر ائیرپورٹ سے ایکسپو اور پھر شہر کا کیا نظام ہے ٹرانسپورٹ کا۔ اچھی ویب  سائیٹ ہے جوہمیں بہت سی معلومات دیتی ہے۔  اگر بارسیلونہ میٹرو کی تفصیل میں جایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ 1920 میں بنی تھی، اسکی گیارہ لائینں ہیں  113 کلومیٹر لمبائی ہے اور 148 اسٹیشنز ہیں۔ ایسے ہیں جیسے جہلم سے اسلام آباد کوئی جائے۔ 

مطلب یہ سب کچھ آج سے  صدی قبل، چار برس باقی ہیں  2020 آنے میں، ہمارے ہاں شاید تب تک کوئی سب وے میٹرو ٹرین  ایک لائین کی ہی بن ہی جائے۔ اللہ کرے۔ 


ہمارے ہاں اسکے جواب میں ایک بس سروس شروع ہوئی جسکو میٹرو بس کہا گیا، اور یار لوگ اس پر بھی احتجاج کرتے ہیں کہ جنگلا بس چلا دی ہے۔ آہو ہو ہو، چنگچی والے غریبون کا کیا ہوگا۔ مگر نہیں سوچتے کہ دریا پر  پُل بنانے سے کشتی بانو ں کا بھی رزق جاتا ہے، تو پھر پُل بھی نہ بنایا جائے؟؟  خیر یہ سب تو پوری دنیا میں ہی چلتا ہے۔  
شاید بارسلونہ میٹرو کے بارے بھی ایسے ہی ہوتارہا ہوگا، کچھ نعرے بازی تو ہوتی ہی ہے۔

چین جاپان اور فرانس میں تیز رفتار ٹرینیں چلانے کا مقابلہ ہے، اٹلی میں بھی چلارہے ہیں، کچھ برس سے پراجیکٹ پر کام ہورہا ، نئی  ریلوے لائنیں بچھ رہی ہیں اور نئے پل بھی بن رہے ہیں۔  اور جگہ جگہ no tavکے سلوگن  بھی لکھے ہوتے ہیں، مطلب ادھر بھی کچھ لوگ ہیں جو اس طرح کے میگا پراجکیٹس کی مخالفت کرتے ہیں۔ 

میں اٹلی کے شمال میں رہتا ہوں اور مجھے پاسپورٹ کی تجدید کےلئے روم پاکستان ایبمیسی میں جانا ہوتا ہے ۔ روم یہاں سے تقریبا چھ سو کلومیٹر ہے ، پہلے اسکےلئے تین طریقے اختیار کئے گئے ہیں ، مختلف اوقات میں۔ 

  ایک بعذریہ نائیٹ ٹرین، مطلب رات کو نو بجے ٹرین پکڑی، گیارہ بجے ویرونا سے بدلی کی اور پھر صبح پونے سات بجے، روم تیرمینی اسٹیشن پر جا منہہ دھویا۔ اور وہاں سے دو بسیں بدلی کرکے پاکستان ایمبیسی پہنچے۔پاسپورت تو رینیو وہوگیا  پر دوراتوں  کا جاگراتا اور سفر کی طوالت اگلے دو دن کام کرنے کے قابل نہیں چھوڑتی۔

دوسرا طریقہ ہوائی جہاز کا سفر ہے تھا، بظاہر سستا محسوس ہوا، کہ یہ ڈیڑھ گھنٹے کی فلائیٹ ہے، چلوجی، مگر یہ کیا، چالیس منٹ پر ائیرپورٹ ہے، لوکل فلائیٹ ہے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے پہنچنا کافی ہے مگر کسی غیرمتوقع ٹریفک بلاک میں پھنسنے کی صورت میں دوگھنٹے کا وقت لے کر نکلنا مناسب ہے۔صبح سات  بجے کی فلائیٹ تھی، بس تین بجے اٹھ کھڑے ہوئے، چاربجے گھر سے نکلے اور پانچ بجے  ائیر پورٹ پر پہنچ کر گاڑی پارکنگ میں چھوڑی اور انکو 12 یورو یومیہ کے حساب سے پیسے دے کر جہاز پکڑنے نکلے۔ اب ادھر دو گھنٹے "میں جہاج نوں اڈیکاں"  پھر روم پہنچے تو معلوم ہوا کہ ائیرپورٹ سے تیرمینی  ریلواسٹیشن تک پہنچنے کےلئے شٹل بس ہے جو ایک گھنٹہ لیتی ہے اور اسکو چلنے میں مذیدادھ گھنٹہ ہے۔ یوں صبح 5 بجے کے گھر سے نکلے ہوئے گیارہ بجے روم اسٹیشن پر پہنچے اور وہاں سے ایمبیسی کو فون کرنا پڑا کہ جنابو لیٹ آویں گے، بھلے مانس تھے کہنے لگے آجاؤ، گیٹ بند ہوا تو فون کردینا کھولوا دیں گے۔ یہی کرنا پڑا۔ اسکے بعد حساب لگایا تو ہمارے پاس کل تین گھنٹے تھے، پاسپورٹ آفیسر کو عرض کیا کہ جناب 7 بجے کی واپسی  فلائیٹ ہے۔ کمال شفقت سے فرمانے لگے، اہو، اچھا کوئی کوئی بات نہیں، آپ کو جلدی فارغ کردیں گے۔ واقعی ہم سب اہل خانہ ایک گھنٹہ بعد فارغ تھے۔ وہاں سے ٹیکسی پکڑی اور ریلوے اسٹیشن اور پونے چار بجے والی بس پکڑ کے پونے پانچ بجے ائیرپورٹ موجود تھے، اس دوران ہمارے پاس وقت صرف ایک سینڈویچ کھانے کا تھا، پون گھنٹہ،  پھر ائیرپورٹ پر پہنچ کر فلائیٹ کا انتطار اور رات کو جب گھر پہہنچے تو تھکن سے چور تھے، دوسرے دن سب کو بخار چڑھا ہوا تھا۔ اسٹریس اور تھکن کی وجہ سے۔بس اس سے توبہ ہماری۔ 

تیسرا طریقہ یہ اختیار کیا کہ گاڑی پر چلتے ہیں، ایک دوست ڈاکٹر سمیر صاحب ہیں، ان سے بات ہوئی کہنے لگے میرا بھی کام ہے، اچھا جی دو اور پکڑو تاکہ خرچہ فی کس تقسیم ہوکر کم ہوجائے۔ اب کے 6گھنٹوں کا سفر ایک طرف کا کرنا تھا، مطلب نوبجے ایمبیسی پہنچنے کےلئے، صبح تین بجے، روانگی، بس جی ہمہ یاراں جنت ہمہ یاراں بہشت۔ وہی نو بجے ایمبیسی پہنچے، بارہ بجے فارغ ہوئے، دو گھنٹے کھانا وغیرہ کھایا اور واپسی کی راہ لی، عشاءکے وقت گھر پہنچے، کمر تختہ ہوگئی تھی بیٹھ بیٹھ کر، ڈاکٹرسمیر صاحب کی ہمت جو اتنی طویل ڈرائیونگ کرگئے۔ خیر اتنا برا بھی نہیں۔ 

اس بار پھر جانا ہوا تو تیز رفتار ٹرین کا علم ہوا،  یہ نئی نئی سروس ہے اڑھائی سو کلومیٹر فی گھنٹہ میں نے پھر ڈاکڑسمیر صاحب سے بات کی تو وہ بھی تیار تھے، ویلنٹائن ڈے پر آفر لگی ہوئی تھی کہ ایک ٹکٹ میں دو بندے سفر کرسکتے ہیں۔ بس ہم دونوں نے ایک دوسرے کو اپنا ویلنٹائن مانا اور چڑھ گئے ٹرین پر، صبح پونے سات بجے کی ٹرین تھی اور ساڑے نو بجے ہم روما تیرمینی اسٹیشن پر تھے، مزے سے ایمبیسی پہنچے ایک بجے فارغ ہوئے اور اب ہمارے پاس رات کو نو بجے تک وقت
تھا، بس پھر میٹرو اور ہم بلکہ پیدلو پیدلی، روم کلوسیو۔ پیاسا ہسپانیہ، پیاسا تریوی۔ پیاسا وینیزیا اور ویتوریانو (اس بارے آپ پہلے پڑھ چکے ہیں، اگر نہیں تو یہاں کلک کرکے پڑھ لیں)۔ سے ہوتے ہوئے پھر سے میٹرو پکڑ کر ویتی کن سٹی پہنچے، پاپائے روم کی زیارت تو نہ ہوسکتی پر چلو۔
مزے سے رات نو بجے ٹرین پکڑی اور ساڑے گیارہ بجے گھر تھے۔

نہ کھجل خراب ہوئے نہ بے خوابی اور نہ ہی تھکن، بلکہ بہت خوش بھی تھے، کہ جنابو اس بار پھر روم کی اچھی سیر ہوگئی، کچھ پرانی دیکھی ہوئی چیزیں کچھ نئیں دیکھ لیں۔ گویا تیز رفتار سفر کے ذرائع ایک عمدہ سہولت ہیں۔

مجھے لاہور میں زیادہ جانے کا موقع نہیں ملا مگر راولپنڈی تو اپنا دوسرا گھر ہی سمجھو۔ موتی محل سے اسلام آباد جانا کوئ خالہ جی کا گھر نہ تھا۔ تین سے چار گھنٹے اور وہ بھی ہائی ایس میں بندہ کبھا ہوجاتا تھا۔ اب بتانے والے بتاتے ہیں کہ سفر آسان بھی ہوگیا ہے  اور کم وقت میں بندہ اپنی منزل پر پہنچ سکتا ہے۔ رزائع رسل و رسائل قوموں اور ملکوں کی ترقی میں اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں، جتنے ڈیم اور اسکول، میں تو اس رائے پر ہوں کہ جو لوگ، ذرائع آمدورفت اور ڈیموں کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ملک و قوم کے خیرخواہ نہیں۔ ہاں اسکول ہسپتال اور دیگر ضروریات پر حکمرانوں کو ضرورت کھینچ تان کیجئے، مگر یہ مت کہیں کہ میٹرو بس اور سرکلر ریلوے کیوں اور ہسپتال کیوں نہیں۔


یہ کہئے کہ انڈرگرائونڈ بھی چلاؤ اور ہسپتال بھی اور اسکول بھی،  کھیل کے گرائونڈ بھی اورتفریحی پارک بھی۔ انصاف کی عدم فراہمی پر شور کرنے کی ضرورت ہے، رشوت اور قربا پروری  کی طرف توجہ دینے کی شدید ضرورت ہے۔ صفائی اور پینے کے پانی پر کھپ ڈالیں، اور جو کچھ آپ کے دماغ شریف میں آتا ہے اس پر بھی ۔ 



مکمل تحریر  »

جمعہ, فروری 27, 2015

آج کے بے لگام بچے

گھر میں سب بیٹھے ہوئے تھے ، ادھر ادھر کی گپیں ہانک رہے تھے ، 

اچانک کسی نے کہہ دی کہ ایک فقرے میں فعل ماضی، فعل حال اور فعل مستقبل کو  استعمال کرنا ہے ،   
" تو فیر کوئی مائی کا لال؟؟  "

پس فورا ہی ہماری خاتون اول الواحد نے ہاتھ کھڑا کردیا کہ " میں دساں؟؟"   

چلو جی آپ بتاؤ، بسم اللہ، اب کسی اور کی کیا مجال جو،  "چوں"  کرجائے۔

اچھا دسو۔

تو بیان ہوتا ہے ایک لمبی سانس لےکر" میں خوبصورت تھی، خوبصورت ہوں اور خوبصورت رہوں گی"۔

سب کو سانپ سونگھ گیا ، اب کسی کی ہمت  نہ تھی کہ اس جلالی فقرے کی تردید کرتا ۔

ایسے میں سب ایک دوسرے کا منہ  دیکھ رہے تھے۔ ہکے بکے۔

 تو ہماری بیٹی نے ہاتھ کھڑا کردیا۔  اب میری باری ، اب میری باری۔

چلو جی آپ بتاؤ

تو وہ کچھ یوں گویا ہوئیں " ماما یہ آپ کا وہم تھا، آپ کا وہم ہے اور آپ کا وہم رہے گا۔


اس پر لگا صاحبو وہ فلک شگاف قہقہہ

 اور محترمہ روہانسی ہوکر اٹھاجوتی لگیں چھوٹی کے پیچھے،

ایسے میں بچے کس کے ہاتھ آتے ہیں۔ 

مکمل تحریر  »

منگل, جنوری 14, 2014

پردیسیوں کے دکھڑے

ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ایک دوست، جاننے والی آلینا کا فون آیا، تو میں اٹینڈ نہیں کرسکا، پھر ایک اور کال ایک اور کال، آلینا میری کافی عرصہ سے جاننے والی ہے، ہم لوگ اکٹھے کام کرتے رہے ہین ۔ مین نے جاب چھوڑ دی، اور بعد میں اسے کمپنی نے بندے چھانٹے کرنے کے چکر مین نکال دیا، بہت برس پہلے، اس کے بعد بھی کبھی کبھی کی یاد اللہ ہو ہی جاتی، کہ عیدمبارک، نیا سال مبارک، بیچ مین رابطہ زیادہ ہوجاتا اور ختم بھی ہوجاتا، مگر ہم ایک دوسرے کے دوست ہی ہیں۔ 

آج بہت دنوں بعد اسکی کالز دیکھیں تو فوراُ فون کرلیا کہ خیریت، عمومی طور پر وہ ایسے نہین کرتی، فون کرے گی، نہین جواب دیا تو جب مین نے فون کرلیا، ایسا ہی مین بھی کرتا ہوں کہ فون کرلیا جواب ملا تو ٹھیک نہین ملا تو جب اغلی فون کرلے۔ لہذا بار بار کی کالز نے میرے لئے ایک تجسس کھڑا کردیا۔ 

فوراُ کال کی تو اسکی رونے والی آواز سنائی دی، بچاری رو رہی تھی۔ وہ ایک گھر میں کام کرتی تھی، ایک بڑھیا کی دیکھ بھال کا۔ چار گھنٹے، پھر ایک گھر میں صبح کو، اور شام کو اپنے کرائے کے گھر مین آجاتی ہے۔ اسکی دو بیٹیاں ہیں، اور اسکا خیال تھا کہ وہ اس گرما کے موسم مین انکو اپنے پاس لے  آئے گی۔ 

بڑی ہی روہانسی اواز مین بتانے لگی کہ، وہ جہاں پر میں صبح کام کرتی ہوں وہ کہہ رہے ہین کہ تم ادھر ہی آکر رہو  اب مین ادھر جاکر رہوں تو، میری اپنی زندگی کیا ہوگی؟؟ بچے آئیں گے تو کس کے پاس رہین گے؟؟ اگر نہین جاتی تو کام ختم ہوجائے تو اب اور تلاش کرنا پڑے گا۔ کام چھوٹ گیا تو بچے کیسے آئین گے۔ اب تم بتاؤ؟؟ میں کیا کروں؟؟؟


مین اسے کیا بتاتا۔۔۔۔۔۔۔۔ مین ہی کیا سارے لوگ جو پردیس مین رہتے ہین انکی یہی پریشیانیاں ہین اوریہی ٹینشنز
یہی دکھڑے یہی المیئے۔ 

مکمل تحریر  »

ہفتہ, دسمبر 14, 2013

نوزائیدہ بچوں کےلئے مائیکروچپ 14 مئی سے لازم



 مائیکرو چپ زیر جلد ٹشو کے اندر اپلائیڈ انٹیگریٹڈ سرکٹ ہے، مائیکرو چپ کا حجم چاول کے دانے کے برابر ہے اور یہ این ڈبلیو او نامی پیسو ٹیکنالوجی پر مشتمل ہے۔ مائیکرو چپ بلخصوص بچوں کے اغواء اور انکی گمشدگی کے  واقعات کی روک تھام میں مفید ہیں۔  کئی ممالک میں مائیکرو چپ کا استعمال ہورہا ہے اور یہ کہ بچوں کو ویکسین کے ساتھ ہی اسے لگا دیا جاتا ہے۔ 

آئیندہ برس 2014 کے مئی سے مائیکروچپ کا پورے یورپ میں اطلاق ہوجائے گا۔  اور مائیکروچپ لگوانے کی 
پروپوزل لازم ہوجائے گی۔

سرکاری ہسپتالوں میں پیدا ہونے والے سب بچوں میں مائیکروچپ پیدائیش کے وقت زیرجلد ٹشو میں فوری طور پر انسٹال کردی جائے گی۔ 

مائیکروچپ میں موجود معلوماتی کارڈ میں نام،  تاریخ پیدائش، بلڈ گروپ  جیسی بنیادی معلومات کے علاوہ  ایک  بہت ہی طاقتور جی پی ایس ریسور بھی موجود ہوگا،  جو ایک بہت طاقتور بیٹری سے کام کرے گا، یہ بیٹری ہر دو برس کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں تبدیلی ہوسکے گی۔ 

مائیکروچپ کے اندر موجود جی پی ایس ایک بہت جدید اور باصلاحیت ٹیکنالوجی پر مشتمل ہوگا جس میں غلطی کی گنجائش پانچ میٹر یا اس سے کم کی ہوگی۔ اس کا رابطہ براہ راست ایک سیٹلائیٹ کے ساتھ ہوگا، جو کنکشن منجمنٹ کا ذمہ دار ہوگا۔ کوئی بھی خواہش مند بندہ خود یا اپنے بچوں کو مائیکروچپت  بلکل مفت میں انسٹال کروا سکے گا، باوجود اسکے کہ وہ یکم مئی 2014 سے پہلے پیدا ہوا ہو۔ اسکےلئے اپنے متعلقہ مقامی مرکز صحت میں ۔
سے متلقہ فارم لے کر اس پر درخواست دینی ہوگی۔



 بہبود آبادی کی مشاورتی کمیٹی سی سی سی پی کے فیصلہ کے مطابق اس تاریخ سے پہلے ہونے پیدا ہونے والے افراد کےلئے بھی مائیکروچپ کی انسٹالیشن لازمی قرار دی جائے گی مگر ایسا ممکن 2017 سے پہلے نہیں ہوسکے  گا۔  مائیکروچپ کی انسٹالیشن بلکل بے درد ہوگی، کیونکہ حقیقی طور اسے بائیں کہنی میں ایسے مقام پر زیر جلد انسٹال کیا جائے گا جہاں یہ نروز یعنی اعصاب کو متاثر نہیں کرے گی۔ 

آخر کار اس دنیا میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عام ہوجائے گا۔ یہ مائکروچپ بچوں کے اغواء کے واقعات کی روک تھام  اور انکے گمشدگی کی صورت میں تلاش میں بہت مددگار ثابت ہوگی۔  جنکی وجہ سے ان سالوں میں پوری دنیا کا سکون برباد ہوا۔ اور یہ کہ بالاخر اس جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اس دنیا میں شاہی قسم کے اچکوں اور بدمعاشوں کو قابو کیا جاسکے گا۔ 

اخبار یہ نہیں لکھتا ہے اس مائیکروچپ سے بندے پر ڈرون حملے بھی باآسانی ہوسکیں گے۔ یہ آپ خود سمجھ لیں

MICROCHIP, NEWBORN BABY, 







مکمل تحریر  »

منگل, ستمبر 10, 2013

ہمارے رویئے

ایک فون کال
اور بھاگتا ہوا کوئی گیا
بن کے ہوا
مسئلہ حل ہوا
خدا کا شکر ادا کیا
پھر خدا حافظ کہا
پھر ملیں گے کا وعدہ
جب فراغت ہوگی
فون پر بات ہوگی
اچھا تفصلی ملاقات ہوگی
پھر کئی دن گزر گئے
موسم بدل گئے
نہ کوئی فون نہ سلام
نہ کوئی ای میل نہ پیغام
میں نے سوچا
کیا ہوا
میں ہی فون کرتا ہوں
احوال پوچھتا ہوں
فون کی گھنٹی بجی
اور بجتی ہی رہی
جواب ندارد
پھر نمبر ملایا
چوتھی بیل پر اٹھایا
جی کڑا کر بولے
بہت بزی ہوں
اور اوپر سے تم بار بار
فون کرکے تنگ کررہےہو
میں کہا تو تھا کہ پھر کبھی بات ہوگی
فراغت کے ساتھ
تفصیلی ملاقات ہوگی
یہ نہ پوچھا کہ خیریت تو ہے
کسی کام سے تو یاد نہیں کیا
سوکھے منہ بھی نہیں 


یہ ایک آزاد نظم ہے، شاید بہت ہی آزاد ہے، کچھ زیادہ ہی، مگ یہ نظم خود ہی سے لکھتی چلی گئی، گویا ایک نظم نہیں بلکہ ایک واردات ہے ، روز مرہ کی واردات، یہاں یورپ میں رہتے رہتے اب تو ان رویوں سے دل بھی دکھنا بس کرگیا ہے۔ 
مگر کبھی کبھی پھر ایک احساس سا جاگ اٹھتا ہے


مکمل تحریر  »

جمعہ, اگست 30, 2013

جھگڑا کرنا

جھگڑا دو یا دو سے زیادہ بندوں کے بیچ فساد کو قرار دیا جاتا ہے، جس کی حد زیادہ سے زیادہ ہاتھا پائی تک ہے اور کم سے کم منہ بنانا اور ایک دوسرے کو آنکھیں دکھانا۔  شہدے لوگ سنا ہے سڑی ہوئی باتوں سے بھی کام چلا لیتے ہیں، مگر میں اسے شہدہ کام ہی سمجھتا ہوں۔  

جھگڑے کی وجوہات
یوں تو جھگڑے کی بہت سی وجوہات ہیں، مگر سب سے بڑی وجوہات دو ہوتی ہیں اول تو جھگڑا کرنے کی نیت۔ دوئم دوسرے بندے کا چوول خانہ، مطلب جھگڑے میں جو دوسرا فریق ہوتا ہے وہ ہمیشہ ہی شہدہ اور بد نیت ہوتا ہے اور ہمیشہ کچھ ایسا کرتا ہے جس کی وجہ سے جھگڑا ہوتا ہے، راوی ہمشہ نیک اور شریف، ہمہ تن گوش بلکہ خرگوش ہوتا ہے۔ کہ میں تو اگیوں اک لفظ نہیں پھوٹیا، اور  اگر وہ مان لے کہ ایسا نہیں  اور کچھ غلطی اسکی بھی ہے  تو یہ اس فریق مخالف سے بھی بڑا چوول اور شہدہ ہے۔ 

جھگڑے کے درجات
چونکہ ہم،  آپ جھگڑے کو بہت سے درجات میں تقسیم کرسکتے ہیں حسب ضرورت یا  و بلکہ اور حسب لیاقت،  سنا ہے کہ ماہرین ابھی تک اسکی ساری اقسام دریافت نہیں کرسکے، کہ آئے دن اسکی کوئی نہ کوئی نئی قسم دریافت یا ایجاد ہوتی رہتی ہے۔

 ذیل میں کچھ مثالیں دی جاتی ہیں تاکہ قارئین  کے علم میں اضافہ ہو اور پھر وہ اسکی مزید اقسام دریافت کرسکیں، مطلب چاند ماری کی دعوت۔

 دوستوں کے بیچ جھگڑا۔ یہ جھگڑے کی وہ قسم ہے  جو عام پائی جاتی ہے اور عموماُ وقتی کیفیات کے نتیجے میں پائی جاتی ہے، اسکی وجہ عمومی طور پر کوئی بھی لایعنی قسم کی اور غیر مطقی ہوسکتی ہے، اور اسکا اختتام بھی ایسے ہی ہوتا۔ 

رشتہ داروں کے بیچ جھگڑا۔ یہ ہے تو بہت عام مگر عمومی کیفیات کے نتیجے میں نہیں پائی جاتی بلکہ یہ کیفیت مستقل رہتی ہے۔ یہ جھگڑے کی عالمگیر قسم ہے اور دنیا کے ہر ملک میں بکثرت پائی جاتی ہے، اس سے تنگ آکر کے پاکستان میں کہتے ہیں کہ رشتہ دار ماردو سپ چھڈ دو۔ اٹلی والے کہتے ہیں رشتہ اور سپ ایک برابر، مطلب دونوں ہی ماردو۔ دیگر ممالک  میں مروج اقوال کے بارے ان ممالکے کے اہل زباں سے دریافت کیا جاوے۔ 


میاں بیوی کے بیچ جھگڑا، یہ جھگڑے کی وہ واحد قسم ہے میرے خیال سے جس میں طرفین کے علاوہ لوگ ملوث ہوتے ہیں جن میں نندیں، دیورانیاں، ساس اور دیگر پھپھے کٹنیوں کے نام گنوائے جاسکتے ہیں، اکثر مار کٹائی پر ختم ہوتا ہے اور ہفتے میں تین سے چار بار اس کی براڈکاسٹنگ ہو تو پھر طلاق پر نوبت پہنچے کے چانس زیادہ ہیں، طلاق کے بع یہ پھپھے کٹنیاں دونوں کو  الگ الگ دلاسے دے رہی ہوتی ہین، یہ صبر تینون ہور لب جاسی۔ بھئ جب اور ہی تلاشنی تھی یا تھا تو اسی کے ساتھ نباہ کرلیتے، مگر عقل کسی دکان سے ملتی تو۔ 

عاشق و معشوق کے درمیان جھگڑا، یہ عمومی طور پر بہت کم ہوتا ہے اور اگر تسلسل سے ہفتے میں دو سے تین بار ہونے لگے تو نتیجہ منگنی کے اختتام پر ہوتا ہے، اورشتہ دار و قریبی لوگ اکثر بعد میں مثبت کردار بن جاتے ہیں۔ 

والدین بچوں کے درمیان جھگڑا، اس صورت میں اکثر تھپڑ بھی چل جاتے ہیں اور قصور وار بچے ہی ہوتے ہیں، والدین جوانی کی عمر میں اور بچے بچپن میں پائے جاتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہو کہ والدین کا ٹیمپر بھی لوز ہوتا ہے، مگر یہ کیفیت وقتی ہونے کے ساتھ ساتھ نیک نیتی پر مبنی ہوتی ہے۔  بہت کم مگر کئی بار دیکھا گیا ہے کہ والدین کے آپس کے جھگڑے کے سائیڈ ایفکٹ کے طور پر بچے پھنڈے جاتے ہیں، اس طرح کرنے والی عموماُ پھوہڑ عورتیں ہوتی ہیں۔ 

بچوں اور والدین کے درمیان جھگڑا۔ اس صورت میں بھی تھپڑ چل سکتے ہیں قصور وار ادھر بھی بچے ہی ہوتے ہیں اور اپنا ٹمپر بھی لوز کرلیتے ہیں، تب والدین بوڑھے ہوتے ہیں اور بچے جوان، اکثر اسکی وجہ والدین کی پنیشن کا نہ ہونا یا پھر کم ہونا ہوتا ہے۔

محلے میں جھگڑا۔   اسکی وجہ بے وقتا چاند دیکھنا اور دوسرے محلے کے چاند پر نظر رکھنا ہی ہوتی ہے، جب گلیاں نالیاں بن رہی ہوں تو بھی ان جھگڑوں کا موسم عروج پر ہوتا ہے۔ ہیں جی۔ 


مالک نوکر کا جھگڑا، یہ ایک مکمل طور پر یک طرفہ کاروائی ہوتی ہے، اسکی شدت کا پیمانہ مالک کی معاشی و سماجی قوت ہے اور اسکے ملک اور قومیت پر اسکا انحصار ہے، مثلاُ ادھر یورپ میں مالک صرف اونچی آواز میں چخ چخ کرسکتا ہے، زمین پر پاؤں پٹخ سکتا ہے، پاکستان میں کتوں کو بھی کھلایا جاسکتا ہے، عربوں میں سنا ہے، خروج لگوا کر وطن کو روانہ کردیا جاتے ہے، اور اس  سے پہلے کچھ ماہ جو بیسیوں بھی ہوسکتے ہیں جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔ مطلب طوبہ پہلے سے ہی کرلینی چاہئے۔ 

بچوں کے درمیاں جھگڑا، یہ جھگڑے کی سب سے خالص قسم ہے اس کےلئے کسی وجہ کا ہونا درکار نہین، بس کسی بات پر بھی ہوسکتا ہے اور بلا بات بھی، مگر اس کا دورانیہ حد سے حد کچھ گھنٹے ہے یا پھر اگلی صبح تک، پھر سب باہم شیرو شکر 

ضروری اوزار
جھگڑے میں ہونے والے ضروری اوزار میں سے گالیوں کا بخوبی یاد ہونا، اور بوقت ضرورت انکے مفصل استعمال پر ملکہ ہونا سب سے بڑا ہتھیار ہے، جو پوری دنیا میں امریکہ کے ڈرون کی طرح بغیر پائیلٹ کے استعمالا جاسکتا ہے۔ 
پھر جسمانی پھرتی، برادری، رشتہ دار، اور ڈانگ سوٹا، بندوقیں، چھڑی، سوٹی اور چھمکین بھی حسب موقع مفید ثابت ہوسکتےہیں۔ 

احتیاج۔ پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی۔ 
اگر مخالف پارٹی زور آور ہے، جسمانی طور پر یا افرادی قوت کے طور پر تو فوراُ ادھر سے نکل لو، یورپ میں رہنے والے فوراُ پولیس کو فون کریں۔ بچے سوشل سروس کا سہارا لینا بخوبی جانتے ہیں، پاکستان میں رہنے والے ان سروسز سے پرھیز کرتے ہوئے اپنے چاچے مامے کو بلائیں۔
انتباہ 

جھگڑا کرنے کی حد تک خیریت ہی ہوتی ہے اگر اس میں طوالت نہ ہو تو، ہاں اگر اسکو ناراضگی پر مشتمل کرلیا جاءے تو پھر نہ حل ہونے والی پیچیدگیا جنم لتی ہیں اور نتائج، تھانہ کچہری، طلاق، ڈانگ ماری، گالی گلوچ، پھینٹی، و قتل عمد تک پہنچ سکتی ہے۔ 


مشورہ
جمہ احباب کو مشورہ ہے دل کی اتھاگہرائیوں سے کہ بھائیوں جھگڑا کرنے کی اجازت ہے مگر اسکو ناراضگی میں تبدیل مت کرو، اگر لازم ہو تو بچوں کے درمیان جھگڑے کو اپنایا جاوے۔ جو دوسرے دن تو لازمی ایک ہوئے پھرتے ہیں۔ 




مکمل تحریر  »

بدھ, اگست 21, 2013

میرے خوابوں کا پاکستان





خواب  تو ہر بندہ ہی دیکھتا ہے اور ہم بھی، بس، بلکہ ہم تو کچھ زیادہ ہی خوابناک واقع ہوچکے ہیں، ذاتی طور پر بھی اور من حیث القوم بھی۔  خیر اسکا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ بندہ کچھ نہیں کرتا اور خواب دیکھتا رہتا ہے اور علامہ خوابناک ہوچکا ہے وغیرہ وغیرہ، جی نہیں اب ایسی بھی کوئی بات نہیں،   پھر بھی جاگتے میں کچھ خواب دیکھنا تو بنتا ہے۔ 

 علم نفسیات کے مطابق خواب بندے کی ذہنی و جسمانی کیفیت کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں ایسے ہی عمر کے مطابق بھی، آج چونکہ ہمارا موضوع چونکہ ہمارے خوابوں کا پاکستان ہے تو پاکستان کے بارے کچھ خواب بیان کئے جاویں گے۔ 

پہلاخواب
ملک میں رزق، یہ بڑا خواب تھا اور پہلا بھی، بعد از تعلیم وتعمیر جب کالج میں بطور لیکچرار آفر ہوئی اور ساتھ ہی اپنا کلینک بھی بنا لیا شام کے اوقات کےلئے تو خواب پورا ہوتا ہوا نظر آیا مگر پھر وہی چکنا چور ہو گیا کہ اس اسٹیٹس میں اور اس آمدن میں گزارہ کون اور کیسے کرے، بس کھینچ تان کے مہینہ پورا ہوتا اور ہم ہوتے، فالتو کے کسی بھی خرچہ کےلئے ابا جی کی خدمت میں درخواست جمع کروانی پڑتی ۔ ہیں جی۔ اللہ اللہ یہ خواب ابھی تک ایسا ہی ہے کہ ہر نوجوان کو پاکستان کے اندر ایسا روزگار ملک جاوے جو اسکے سارے بنیادی اخراجات پورا کرنے کا ضامن ہو اور کوئی بندہ پھر ملک سے باہر جانے کا نام بھی نہ لے۔ 

دوسرا خواب 
چونکہ ہماری پیدائش و تربیت ایک دیندار اور ایماندار گھرانے میں ہوئی ہے تو ہماری تربیت میں شامل ہے کہ دوسروں کا خیال رکھو، کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہونے پائے، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے شفقت کا برتاؤ ہونا چاہئے یہ ہمارا خواب بن گیا کہ پاکستان میں سب ایسے ہی ہوں۔

پردیسی کے خواب 
جب دیس سے دانہ پانی اٹھا تو پردیسی ہوئے، کچھ اور طرح کے خواب جانے کیوں خود بخود ہی بن گئے۔ بہت سے ممالک کی یاترا کے دوران، کسی کانفرنس میں، کسی جلسہ و کورس کے دوران، یہ سوال اٹھ ہی جاتا ہے کہ تم کہاں کے ہو؟ پاکستان کا۔ اوہو، اچھا تو کیسا ہے پاکستان؟؟  حقیقتاُ یہ سوال وہ کوئی شغل کےلئے نہیں کرتے، کیوں کہ کسی عوامی درجہ کے بندے کو پاکستان کے بارے آگاہی ہے ہی نہیں، ہے بھی تو بہت کم۔ بس پھر ہمارے خوابوں کا پاکستان شروع ہوجاتا ہے۔ خوابوں سے بھی زیادہ خواہشات کا پاکستان۔

 وہ پاکستان جو میرا ہے، جہاں دنیا کے بلند بالا پہاڑ ہیں، گلیشیرز ہیں اور انکی ٹھٹھرتی ہوائیں بھری گرمیوں میں یخ بستہ ہوتی ہیں، جہاں کی جھیلوں کا شفاف پانی آپ چلو میں لیکر پی سکتے ہیں، جہاں ٹرواؤٹ مچھلی کو ایسے ہی شلوار کو گانٹھ لگا کر آپ پکڑ سکتے ہیں 
ہمارے پاکستان میں پٹھان ہیں جو اپنی مہمانداری اور شجاعت میں ثانی نہیں رکھتے، دشمن انکے نام سے ہی کانپتے ہیں، جنکی دینداری مسلمہ ہے،  جہاں پنجابی دہکان زمین کا سینہ چیر کر سال میں تین فصلیں اگاتا  اور پورے ملک ملک کو گہیوں، گنے چاول دالوں کی کمی نہیں ہونے دیتا، جس کا سندھی اپنی مچھلی اور سبزیوں و کھجوروں سے ملک کو خودکفیل کرتے ہیں، جہاں بلوچی کوہ شکن پہاڑوں کو چیر کر تیل گیس، کوئلہ سے لیکر یورینیم سونا تانبہ تک اور ہیرے وغیرہ بھی نکال لاتا ہے، جہاں مہاجر اپنے آپ کو ملک کو عام باشندہ سمجھتے ہیں اور صنعتی ترقی میں اپنا پورا کردار ادا کررہے ہیں۔ 

پاکستان میں پانچ دریا اور پانچ ہی موسم ہیں جو خوبانی سے لیکر کھجور تک میں ہمیں خود کفیل بناتے ہیں۔ جہاں زمیں سونا اگلتی ہے اور پانی کے جھرنے چاندی کےہیں، جہاں درخت زمرد کے بنے ہوئے ہیں۔ اللہ کا اتنا کرم ہے کہ کوئی غریب نہیں، ہو بھی کیسے سب لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ دریاؤں کا پانی اس حد تک صاف کہ بس چلو میں لو اور پی لو، منرلز سے بھرا ہوا، خریدنے کی ضرورت ہی نہیں۔ بس

 پاکستان میں لوگ بہت دیندار ہیں اور ایماندار اس سے بھی بڑھ کر، اتنے کہ پولیس تھانہ ہے تو سہی مگر لوگوں کو یاد ہی نہیں رہتا کہ ہے کہاں پر، جرائم تو ہیں ہی نہیں، اول تو کوئی چورا چکاری ہیرا پھیری کانام ہی نہیں کوئی ایک ادھ واقعہ پیش آبھی جائے تو کوئی بزرگ لعن طعن کردیتا ہے اور اگلا توبہ کرلیتاہے۔ پولیس کا کام صرف یہ ہے کہ وہ رفاع عامہ کا خیال رکھے، کسی کی گاڑی راستہ میں خراب ہوگئی تو پولیس والے نے ٹائر بدلی کردیا، کسی مائی کا پرس کھو گیا تو وہ تھانے چلی گئی اور بس تھانیدار نے اسکو سفر کا کرایہ اپنی جیب سے نکال دیا۔  کوئی کہہ رہا تھا کہ پولیس اب آگ بجھانے کا کام بھی کرتی ہے۔  

انصاف کا یہ عالم کہ عدالتوں میں تو لوگ جاتے ہی نہیں، ضرورت ہی نہیں، بس بھول چوک یا کوئی غلطی ہوگئی اور اگلے نے فوراُ معافی مانگ لی اور دوسرا کوئی بات نہیں بشری غلطی کہہ کر نکل لیتا ہے۔ دل میں بغض و کینہ تو نام کو نہیں، عدالتیں تو اب صرف اکا دکا اتفاقیہ جرائم اور حادثات نپٹاتی ہیں، سنا ہے کہ یہ محکمہ ہی ختم کیا جارہا ہے کہ جب ضرورت ہی نہیں تو پھر۔ جب ایمانداری کا یہ عالم ہو کہ آپ اپنا پر بس اسٹاپ پر چھوڑ آئیں اور شام کو وہ آپ کے گھر پہنچ جاوے، گھروں کو تالا کوئی نہ لگاتا ہو، تو پھر عدالتیں کیا کریں گی آپ ہی بتلاؤ۔ تلخ کلامی اور چیخ چیخ تو بھول ہی جاؤ بس۔ 

پاکستان میں مسجدیں نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوتی ہیں اور امام صاحب صرف تقریریں نہیں کرتے بلکہ لوگوں کے مسئلے حل کررہے ہوتے ہیں، تفرقہ تو نام کو نہیں اور مسجد میں لوگ صرف نماز پڑھنے نہیں جاتے، وہاں تو جناب ایک دوسرے کا حال احوال دریافت ہوتا ہے، کسی کو کوئی پریشانی، کوئی مشکل، ہوتو فوراُ حل، اور مسجد چندہ بھی نہیں مانگتی، بلکہ مسجد کے اتنے وسائل ہوتے ہیں کہ وہ غریبوں، مسکینوں کی مدد کردیتی ہے، فقراء اور بھکاری تو خیر ہیں ہی نہیں۔ اسلحہ لیکر مسجد کے پاس سے گزرنا تو درکنار، لوگ تو مسجد سے 500 میٹر کے فاصلے تک بحث نہیں کرتے احتراماُ۔ لوگ ملک سے محبت کرنے والے، خبردار ہے جو کوئی ملک کے خلاف بات تک کرجاوئے۔ دنیا بھر کے پھڈے مسجد میں بیٹھ کر ہی نمٹادیے جاتے ہیں۔  

لڑکے بالے ابھی کالج کے آخری برس میں ہوتے ہیں تو انکوحسب لیاقت ملازمت مل جاتی ہے، تنخواہ بہت اچھی اور اوپر سے عوامی سادگی کی انتہاء نمود نمائش تو دیکھنے میں نہیں ملتی، لوگ اپنے نمائش پر خرچنے کی بجائے دوسروں پر خرچنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ بس ہر طرف سکون ہی سکون۔ چین ہی چین۔ 

مرد اور عورتیں سب کے سب تعلیم یافتہ مگر اپنے کام سے کا رکھنے والے، مجال ہے جو کسی کو کوئی گھور کردیکھ جائے، بی بیاں بھی بہت نیک سیرت اور باپردہ اور مرد لوگ ان سے بھی بڑھ کر محتاط۔ بچے بزرگوں کا ہاتھ تھام لیتے ہیں کہ بابا جی آپ کو گھر تک چھوڑ آئیں اور بزرگ بچوں پر جان نچھاور کرتے ہوئے کہ بچے تو سب کے سانجھے ہوتے  ہیں۔
رشوت نام کو نہیں، غلہ اسٹاک بلکل نہیں ہوتا، سسفارش کی ضرورت نہیں ہوتی کہ سب کام خود ہی ہوجاتے ہیں۔ ماسٹر صرف اسکولوں میں پڑھاتے ہیں اور وہی کافی ہوتاہے، ڈاکٹر ہیں کہ مریض کےلئے بچھ بچھ جاتے ہیں اور سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو اڈیک رہے ہوتے ہیں اور لوگ بیمار ہوتے ہی نہیں، خوراکیں بھی تو اچھی ہیں، ہر چیز خالص، ہر بندہ صبح کی سیر کرتا ہے، نکھٹو ہے کوئی نہیں تو بیمار کون ہوگا۔ لوڈشیڈنگ بلکل نہیں ہوتی اوپر سے بجلی بھی بہت سستی ہے، گیس تو قریباُ مفت ہی ہے۔ پیٹرول بہت سستاہونے کے باوجود لوگ سائیکل سے آتے جاتے ہیں کہ صحت کی صحت اور بچت کی بچت۔ 

ٹیکنالوجی کا یہ عالم ہے کہ بس کچھ نہ پوچھو، یہ ایٹمی روبوٹ سے لیکر میزائیل اور فاؤل پروف دفاعی نظام تو ہماری پہچان ہے، دشمن کی مجال جو ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکے، یوں بھی ہم ایک قوم ہیں، زندہ قوم ہیں۔ فوج دفاع کو تیار ہے تو لوگ فوج پر جان نچھاور کررہے ہیں، بس ترقی دن دگنی اور رات چوگنی۔


سیاستدان صرف عوام کی فلاح کا کام کرتے ہیں اور سرکاری ادارے خدمت عوام کا۔ جہاں نہ کوئی بڑا ہے نہ کوئی چھوٹا، جہاں کسی گورے کو کالے پر فوقیت نہیں اور کسی کالے کو گورے پر، نہ کوئی امیرکسی غریب کا حق مارتا ہے اور نہ کوئی غریب کسی امیر کو دیکھ کر صدا لگاتا ہے۔ ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھتا ہے اور دوسرے کی حق تلفی ایک کبیرہ گناہ سمجھی جاتی ہے۔ 

پاکستان سے کوئی بندہ بیرون ملک روزگار تلاش کرنے نہیں جاتا، جو پہلے چلے گئے تھے وہ واپس آگئے ہیں  یاسر خومخواہ جاپانی صاحب بھی واپس آگئے ہیں، خاور کھوکھر گاڑیاں پاکستان سے جاپان سپلائی کررہے ہیں، علی حسان اور عمیرملک بس تعلیم حاصل کرنے کو ادھر ہیں  پھر انہوں نے بھی واپس ہولینا ہے، میں بھی ادھر صرف پڑھنے پڑھانے کو ہوں، یہ ختم تو ہمارا ادھر کیا ہےکہ جب ملک کے اندر ہی اتنے وسائیل ہیں اتنا نظام ہے تو کیا کرنا پردیس جھیل کر۔ ہمارے پاسپورٹ پر پوری دنیا میں کہیں ویزے کی ضرورت نہیں ہے، بس ٹکٹ لو اور چلے جاؤ۔ لوگ دنیا میں قرآنی حکم کے مطابق صرف سیرکرنے اور علم حاصل کرنے جاتے ہیں۔

ہر خواب کی ایک تعبیر بھی ہوتی ہے، کہتے ہیں کہ ایک ایسے ہی پاکستان کا خواب علامہ اقبال رحمتہ اللہ نے بھی دیکھا تھا، بڑوں کی زبانی بھی ایسے ہی پاکستان کا سنا اور انکی آنکھوں میں بھی کچھ ایسے ہی خواب دیکھے، ابھی تو آنکھ کھلی ہے لیکن امید پوری ہے کہ یہ سچا خواب ہے، ہوسکتا ہے کہ  اس کی تعبیر میں نہ دیکھ سکوں مگر آنے والی نسلیں ضرور دیکھیں گی، 
انشاء اللہ

مکمل تحریر  »

بدھ, اگست 14, 2013

جشن آزادی 2013 مبارک



چونکہ اب رات کے ہمارے ادھر بارہ بج چکے ہیں تو کمپوٹر نے وی تاریخ بدلی کردی ہے، مطلب چودہ اگست ہوئی، سن سنتالی سے لیکر سنا ہے منارہے ہیں، مگر ہمیں بھی کوئی 30 برس باہوش ہوگئے تب سے کی تو پکی گواہی ہے، جلسے، جھنڈیاں، تقریریں، سب یوں لگتا ہے جیسے پاکستان کے دیوانے ہیں، 

سربراہاں مملکت کی تقریریں، قوم سے خطابات پہلے بھی ہوتے رہے اور کل بھی ہوگا، شاید نواز شریف کرے گا۔  وہی بڑی بڑی باتیں ہونگی، بلند بانگ قسم کے دعوہ جات اور حال جو ہے وہ آپ کے سامنے ہے، ہمارے ساتھ کے حالات یا بدتر حالات والے ممالک میں چین اور انڈیا کے نام گنوائے جاسکتے ہیں، ایران کو دیکھا جاسکتاہے، ملائشیا و انڈونیشیا وغیرہ کو دیکھا جاسکتا ہے۔ مگر 

مگر یہ کہ آپنا ایک قدم پیچھے کوئ ہی آرہا ہے، امریکہ نے کہا تھا کہ میں تھمیں پتھر کے زمانے میں پہنچادوں گا، تو انہوں نے ذرداری بھٹو اینڈ کو ہمارے اوپر مسلط کرکے وہ کام کردیا، آج ملک میں نہ امن ہے نہ امان، نہ بجلی نہ پانی، سفر کی سہولیات، ہوائی ریلوئے اور جہاز رانی بیٹھ گئی ہے، اسٹیل مل سے لیکر چھوٹے ادارے تک خسارے میں ہیں گوڈے گوڈے


میں بندہ قنوطی نہیں ہوں یہ تو نہیں کہہ رہا کہ نئی حکومت کل ہی یہ باندر کلے باندھ دے، مگر کچھ نہ کچھ کرتے تو نظ آئیں، بہت سے کام ہونے والے ہیں جو گزشتہ 18 برس میں انفراسٹرکچر کی ترقی رکی ہوئی ہے وہ بحال کرنا ہوگا، ادارے بنانے ہونگے۔ 

ابھی ہماری حکومت چاہے وہ مرکزی ہے  کہ خیبر پختون خواہ کی یا بلوچستان کی وہ اپنی گڈ ول شو کررہی ہیں، رہی بات سندھ میں تو وہاں وہ پرانی چوولیں ہی ہیں، جو برسوں سے اقتدار اور حکومتی پارٹیوں سے چمٹ کر اپنے وزراء بنوا کر انقلاب کا نعرہ لگاتے ہیں
نئی مرکزی و صوبائی حکومتوں کو چاہئے نہیں بلکہ ان پر فرض ہے کہ وہ فوراُ عوامی فلاح اور ملکی بہبود کے کام کریں، فیصلے مشکل بھی لینے ہونگے، قوم پر بوجھ بھی ڈالنا ہوگا۔ قوم بوجھ اٹھائے گی بھی، مگر کچھ ہوتا ہوا تو دکھے، ایک قومی پالیسی سامنے آئے، اور ساری جماعتیں بلکہ آنے والی حکومتیں تک اسی پر چلیں جس طرح ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ وللہ 

یاد رہے پی پی کو صرف ووٹ نہیں ملے اور اسکا بمعہ اے این پی اور ایم کیو ایم دھڑن تختہ ہوا ہے، اور اگر ان حکومتوں نے ڈیلور نہ کیا، کچھ کر نہ دکھایا تو عوام اب کو کھانے والی جگہ پر بھی ماریں گے اور تشریف پر بھی چھترول ہوسکتی ہے، کچھ سیاہ ست دان ٹنگے بھی جاسکتےہیں، تو مشتری ہوشیار باش، پھرنہ کہنا خبر نہ ہوئی۔ 

رہی بات ملک دشمنوں کی تو انکو معلوم ہوجانا چاہئے کہ پاکستان کوئی کاغذ کی پتنگ نہیں ہے جو بو کاٹا ہوجاوے گی، چاے وہ آزادی کے دنوں کی ریشہ دوانیہ ہوں اور بیانات کہ یہ ملک تو ایک برس نہیں چل سکے گا یا اکتہر کی خباثت، کارگل کا پنگا اور مشرف کا ڈرامہ ہو یا نیو ورلڈآرڈر کی ریشہ دوانیہ مگر پاکستان ہے اور رہے گا۔ 

ایک طرف ہم نے سپریم کورٹ، فوج اور نادرہ جیسے ایکٹو اور کارکردگی والے ادارے بنا لئے ہیں تو دوسری طرف دفاع کی فل تیاری ہے۔  اب وقت ہے کہ سیاہ ست دان بھی سیکھ لیں پارلیمان بھی ایک ڈیلیور کرنے والا ادارہ بن جاوے تو فیر ستے ہی خیراں ہیں جی


سب کتا کھائی اور چوول خانے کے سب کو جشن آزادی مبارک، ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کی دعا کے ساتھ، اور امن و امان کی تمنا کے ساتھ

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش