اتوار, جولائی 13, 2014

اسرائیل، عیسائی عرب اور شعیہ سنی ریاستیں


شمالی اٹلی کے شہر پادوا  (Padova) میں ہم لوگ ڈاکٹر ز کےلئے بنیادی ہومیوپیتھی کا ایک کورس متعارف کروا رہے ہیں،  اس سلسلہ میں میری مدد میری کولیگ اور بہت اچھی دوست  "ڈاکٹر دوناطیلہ"   (Donatella)کررہی  ہے۔  اسی سلسلہ میں ہمیں ایک کانفرنس ھال کی  ضرورت  ہے ،  مجھے رابطہ دیا گیا ایک ہوٹل کا جنکے ہاں کانفرنس ھال بھی ہے  اور ریسٹورنٹ بھی۔   یہ رابطہ مجھے دونا طیلہ نے دیا اور تاکید کی کہ   ریکاردو   ( Riccardo،انگریزی ریچرڈ  ) کے ساتھ  بات کرلو اور پہنچ جاؤ موقع پر ، بس میں نے فون کیا  ملاقات طے کی اور پہنچ گیا وقت مقررہ پر۔

ریکاردو بہت اخلاص سے ملا،  اس نے ہوٹل کا روٹین کے مطابق وزٹ کروایا،   ساری سیٹنگ دکھائی ، اچھا ہوٹل ہے فور اسٹار ،    کشادہ کانفرنس ہال، ریفریشمنٹ ایریا ، بہترین  کچن اور کمرے، مطلب سب کچھ جس کی ہمیں ضرورت تھی ۔ کرایہ  وغیرہ  کی بات ہوئی اور آخر میں مجھے کہنے لگا کہ تمھیں   کچھ پینے کی آفر کرسکتا ہوں؟؟
میں ۔۔ نہیں ،  بہت شکریہ ،  میں روزہ سے ہوں۔
ریکاردو۔۔ اوہ  ہو، مسلمان ہو؟؟
میں ۔۔ ہاں ہوں۔
ریکاردو۔۔تم اٹالین تو نہیں ہو؟ کہاں سے ہو؟؟
میں    ۔۔نہیں تو ۔   ابھی تک پاکستانی ہوں،   وہیں  پیدا ہوا تھا، وہیں پر تعلیم تعمیر ہوئی اور اب بہت برسوں سے ادھر ہوں۔
ریکاردو ۔۔ ہاں وہ تو تمھاری بات چیت سے ہی لگ رہا کہ  کافی عرصہ سے ہو،  ویسے تمھارے نام سے ہی میں سمجھ گیا تھاکہ برصغیر سے ہے کوئی، تو ملا ہاتھ ، میں  اسرائیلی شہری ہوں۔  مگر عرب ہوں۔
میں ۔۔ بہت خوشی ہوئی ، پھر تو ہم دونوں مسلمان ہوئے؟؟
ریکاردو ۔۔ پرجوش طریقے سے ہاتھ ملاتے ہوئے،  نہیں میں مسلمان تو نہیں ہوں  عیسائی ہوں، مگر عرب ہوں۔  عرصہ تیس  برس سے ادھر رہ رہا ہوں،  میں فلسطینی عرب ہوں پر اب اسرائیلی شہریت رکھتا ہوں، ہم فلسطینی  بھی عجیب  ہیں، وطن تو ہمارا  اسرائیلیوں کے قبضہ میں چلا گیا ہے اور ہم بھی اب تقسیم ہوگئے ہیں،   شامی فلسطینی، اسرائیلی فلسطینی،  لیبنانی فلسطینی، اردنی اور پتا نہیں کون کون سے۔
میں۔۔  مگر ریکاردو، یہ شام، فلسطین ،  لبنان، مصر سب چھوٹے چھوٹے ملک ہی تو ہیں،  اور سب ہیں بھی عرب ہی،  تو پھر ایک ہی بات ہوئی  کہ نہیں؟؟
ریکاردو۔۔ہاں  ،   بات تو   ایک ہی ہے ،   ہم  سب عرب ہیں، ہماری زبان ایک ہے، ہماری تہذیب ایک ہے، کھانے اور تہوار ایک ہیں، فرق ہے صرف مذہب کا، تو میں تمھیں یہ بتا  دوں کہ صرف مذہب کا فرق کچھ زیادہ نہیں ہوتا،  ہم لوگ صدیوں سے عیسائی ہیں، پر کبھی احساس ہی نہیں ہوا،     میں تمھیں بتاؤں   کہ میرا باپ جب ذبح کرتا تھا دنبہ تو مکہ کی طرف منہ  کرکے کرتا تھا  اور تکبیر پڑھتا تھا، سبحان اللہ  وللہ اکبر ولاالہ الااللہ ۔ حالانکہ وہ عیسائی ہی  ہے مگر یہ تو تہذیب کی اور رواج کی بات ہے۔ عیدین سب کی ہوتی ہیں، رمضان آتا ہے تو ہم لوگ روزہ  دار کے سامنے کھانا پینا بہت برا سمجھتے ہیں۔

بات یہ ہے کہ ہمارے لئے سب سے بڑی بات ہے ہمارا عرب ہونا،  گو کہ    میں بھی اسرائیلی شہری ہوں مگر اسرائیلی شہری ہونا اور بات ہے اور یہودی ہونا اور بات ہے،   اسرائیل ایک راشسٹ ملک ہے، اور یہودی  راشسٹ قوم،  کہنے کو تو اسرائیل ایک جمہور ی ریاست ہے مگر صرف یہودیوں کےلئے، عربوں کے ساتھ جو ہوتا ہے چاہے وہ مسلمان ہوں چاہے عیسائی،  وہ بہت ہی برا ہے،  ہم تیسرے درجہ کے شہری ہیں ،  اور جو کچھ ہمیں سمجھا جاتا ہے اسکا  اندازہ  ائرپورٹ پر پہنچ کر ہی ہوجاتا ہے۔ جو کتے والا سلوک ہم سے ہوتا ہے، جو ہر غیر یہودی سے ہوتا ہے۔
اب دیکھو یہ جو کچھ غزہ میں ہورہا ہے،   یہ ایک بڑی پلاننگ کا حصہ ہے،  اب غزہ کی پٹی کو بھی ختم کرد یا  جائے گا، مسلمانوں  اور عربوں کو صاف کردیا جائے گا اور پھر اسرائیلی سرحد بڑھنی شروع ہوجائے گی شام اور عراق کی حدود میں۔

 اس بات کی منصوبہ بندی گزشتہ صدی میں ہی کر دی گئی تھی۔  اسرائیل کے ارد گرد کا علاقہ چھوٹے  چھوٹے ممالک میں تقسیم کر  کے انکو آپس میں لڑا دو،    تاکہ وہ اسرائیل کا مقابلہ نہ  کرسکیں، سن لو اس خطہ میں عراق ایسا ملک تھا جو اسرائیل سے نزدیک ہونے کے ساتھ ساتھ اسے نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا تھا،  اور  گریٹر اسرائیل  کے راستہ میں رکاوٹ بن سکتا  تھا۔ بس اس کو ملیامیٹ کردیا گیا، سوریا ایک ملک تھا جو اسرائیل کو آنکھیں دکھاتا تھا ، اس کی بھی ناس ماردی گئی، اسی طرح  مصر میں آنے والی اسلامی حکومت اسرائیل کےلئے خطرہ بن سکتی تھی اسکو بھی قابو کرلیا گیا۔ ، دوسری  شفٹ کے طور پر مجاہدین  اسلام کو خلافت کے نام پر شام اور عراق میں وہ فساد ڈالنے کو بھیجا گیا ہے کہ ان ممالک  میں وہ  افراتفری نافذ ہوجائے کہ کوئی کسی کو پوچھنے کےلئے باقی ہی نہ رہے، لوگوں کو زندگی اور موت کی پڑی رہے، مذہب، ثقافت، مسلمانیت یا کچھ اور کی ہوش ہی نہ رہے۔

سن لو  کہ اب عراق کو شیعہ اور سنی ریاستوں میں تبدیل کردیا  جائے گا۔   بھئی کیوں؟؟ کیونکہ    سارا خطہ عرب ہے، سارے مسلمان ہیں تو اس خطہ میں یہودی ریاست کیسے وجود میں آسکتی ہے،   یا  اسکا وجود کیسے پنپ سکتا ہے،  وہ اسی صورت میں ہے،  جب ایک شیعہ ریاست ہے، ایک سنی ہو، ایک کرد ہو،  لیبنانی ، شامی ، مصری اردنی مصری ریاستیں تو پہلے ہیں موجود ہیں مگر وہ مذہب یا فرقہ کے نام پر نہیں ہیں، صرف     اسرائیل ہی ہے مذہب کے نام پر،  اس کا تو کوئی اخلاقی جواز ہی نہیں ہے۔   اب جب دیگر شیعہ ، سنی ریاستیں بنیں گی تو کہا جاسکے کہ "جناب اگر مذہبی فرقہ کی بنیاد پر ریاستیں بن سکتیں ہیں تو  یہودی تو ایک الگ مذہب ہے، انکی اپنی ریاست تو لازم   طور پر بنتی ہی بنتی ہے"۔ 


ایسے ہی  یہ جو مجاہدین اسلام چل نکلے ہیں یہ مسجدیں ، خانقاہیں اور مزارات کو اکھیڑ رہے ہیں، یہ گریٹراسرائیل کا ہراول دستہ ہے، یہ تمھارے طالبان کی طرح  ہی ہیں، جنکا کام صرف اور صرف ملک اور خطہ میں دہشت ، افراتفری اور شورش پھلانا ہے، کہ کوئی نظام زندگی رائج نہ ہوسکے اور عربوں اور مسلمانوں کوصرف زندگی بچانے کی جدوجہد تک ہی محدود رکھا جائے کیونکہ ایک صحت مند اور ترقی یافتہ قوم  اپنے ارد گرد بھی دیکھتی ہے۔   جوکہ گریٹر اسرائیل کےلئے شدید اور بڑی رکاوٹ ہے،  ویسے اس وقت بڑی رکاوٹ پاکستان اور اسکی  فوج ہے کہ یہ خطے میں واحد مسلمان ملک ہے جس میں اپنے مکمل دفاع کی ہی صلاحیت موجود نہیں ہے بلکہ یہ گریٹر اسرائیل کے راستہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے، پھر ایران اور پھر ترکی، اور سب سے آخر میں سعودی عرب کا نمبر آئے گا، کہ اگر پہلے اس پر ہاتھ  ڈالیں تو ساری دنیا کے مسلمان ممالک اسکے ساتھ ہیں۔

ریکاردو کی آنکھوں میں آنسو تھے اور سرجھکا ہوا تھا،   میں بھی خاموشی سے بغیر کچھ کہے سرجھکا کر  مصافحہ کرکے نکل آیا۔


مکمل تحریر  »

اتوار, اکتوبر 14, 2012

ہم بت پرست

بت پرستی تو خیر ہمیشہ سے ہی حضرت انسان  کے ساتھ رہی ہے،   بلکہ اس پر حاوی رہی، حتیٰ کہ قدیم تہذیبوں میں سے بھی جوکچھ ہمارے ہاتھ آرہا ، وہ صرف بت ہیں ہیں،  یونانی تہذیب جب عروج پر تھی تو انہوں نے اپنے ہر کام کےلئے "دیوتا    اور دیویاں "  مقرر کی ہوئی تھیں،  بارش کی دیوی، جنگ کی دیوی، فتح کی دیوی،  حتیٰ کہ دریا پارکرانے کےلئے ایک الگ سے دیوی رکھ چھوڑی تھی۔  اسی طرح مصری ، رومن اور بابل کی تہذیبوں میں بھی کچھ ایسے ہی رہا۔  کہ  کسی جگہ دیوی جی کا چلن رہا تو کسی جگہ بادشاہ کا بت بنا کر  سامنے کھڑا کرلیتے اور حاضری کرواتے۔ بت  بنانے کو ہر میٹیریل حسب توفیق استعمالا گیا،  پختہ مٹی سے لیکر، اینٹ، روڑا،  پتھر، لکڑی،  سونا چاندی،لوہا اورہیرے تک سے پتھر تراشے گئے۔  بلکہ بامیان میں تو پورے کے پورے پہاڑ کو کھود کر بت بنا دیا گیا۔ پھر طالبان نے اسکا  " رام نام ستے "  کی اور دنیانے خوب چیخیں ماریں۔



 ہمارے اردگرد  تو خیر سے "ات "ہی مچی ہوئی تھی ،  گندھارا  کی تہذیب سے لیکر ہندومت اور جین مت تک کے مذاہب میں آج بھی دیوی دیوتاؤں کے نام کے بت بنا ئے جاتے ہیں،  یہودی مذہب میں بھی کچھ ایسا ہی چلن رہا کہ ادھر بت تو کم بنائےگئے مگر انہوں نے فوٹو بنا کر انکی پرستش البتہ خو ب کی۔ اور لمبی لمبی برکتیں حاصل کیں یا کوشش  حصول کرتے رہے۔

 ہندو مذہب میں تو خیر سے اب  بھی باندر سے لیکر ہاتھی تک کے بت موجود ہیں  اور انکی پرستش دھڑا دھڑ جاری ہے، سنا ہے  کہ "عضو تناسل " کا بھی کہیں بت بنا کر رکھ چھوڑا ، اور بیبیاں ادھر بھی اولاد کے حصول کےلئے چڑھاوا چڑھا کر منت مانگتی پھرتی ہیں۔  عیسائی مذہب میں بھی بھی الٹے سیدھے تو نہیں مگر انسانی شکل کے بت کثیر تعداد میں نظر آتے ہیں،  نومولود حضرت عیسٰی  ؑ اور نیم عریاں  مریم ؑ کے مجسموں سے تو برکت کا حصول ہو ہی رہا ہے ، مگر کہیں انکو صلیب پر ٹنگا ہوا دکھایا گیا،   جو آپ کو ہر چرچ میں بتعداد کثیر ملیں گے، ان کے علاوہ بھی ہر محلے میں سینٹ کا بت نصب ہے۔


اسلام ایک واحد مذہب  ہے اور اسلامی معاشرہ  زمین  پر واحد معاشرہ ہے جس میں بت پرستی کو سختی سے ممنوع قرار دیا  گیا،  خیر سارے ہی انبیاء کرام نے بت شکنی کی،  کچھ بتوں کا تو باقاعدہ ذکر ہوا   قرآن شریف میں ، جن میں  حضرت ابراہیم علیٰہ سلام کے بت توڑ کر کلہاڑا بڑے بت کے کندھے پر رکھ دینے کا  ذکر ہوا۔  پھر بچھڑے کے سونے کے بت کا ذکر ہوا جو حضرت موسٰی ؑ  کی قوم نے انکے کوہ طور پر جانے کے بعد بنا لیا۔  پھر خانہ کعبہ میں موجود بتوں کا بھی ذکر ہوا، جو فتح مکہ  پر ہٹائے گئے۔

اسلامی تعلیمات بت پرستی کو اور تصویر پرستی کو یک سر مسترد  کرتی ہے۔  اللہ  کی ایک ایسی وضاحت کردی گئی کہ بس پھر کسی  بت ،  تصویر ،یا  کسی بھی درمیانی  ذریعہ کی حاجت ہی ختم ہوگئی۔  کہہ دیا اس نے خود ہی  کہ میں تمھاری  شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں،  پھر کہہ دیا کہ تمھارے دل میں بستا ہے۔  اب اپنے دل تک آواز پہنچانے کےلئے مجھے کس ذریعہ یا سفارش کی ضرورت ہے۔  آپ بتاؤ۔

مگر ہم مسلمان اور خاص طور پر پاکستانی بہت بڑی "چول" قوم ہیں، یا شاید عادت سے مجبور ہیں، بقول شاعر:   ع   
پیشہ آبا تھا گداگری                    راس نہ آئی پادشاہی مجھکو

ہم بت پرستی سے باز نہ  آئے اور ہم نے اینٹ پتھر ، لکڑی، سونے چاندی  کی جگہ گوشت پوس کے بت کھڑے کرلئے،   کبھی اسکو پیر صاحب کا نام دیا گیا تو کبھی ، قبر کی شکل دی گئی۔  کبھی سیاسی بت اور کبھی معاشرتی بت۔    جیسے خدا کا حکم مان لینا فرض ہے ورنہ کفر لاگو ہوا سمجھو، ایسے ہی انکا بھی ہر حکم ماننا فرض ہے ورنہ ۔ ۔ ۔  ۔۔۔     
 
 ہم کو خدا نے کہہ دیا کہ سؤر نہ کھانا مگر یہ نہ بتایا کہ کیوں، ہم نے  کھانا ترک کردیا ، اور سؤر میں ایک سو پینتیس خامیاں نکال لیں،  مانتے ہیں کہ ہر اچھائی خدا کی طرف سے ہے اور معصیت بھی۔  اکثر میت پر  سنا گیا کہ " بس جی جس کی چیز تھی اس نے واپس لے لی، وہ مالک جو ہے چاہے ہری کاٹے یا سوکھی" ۔  مطلب ہم  اعتراض کرنے والے کون جی۔  اور بابا جی بھی ہاں میں ہاں ملا رہے ہوتے  ہیں۔

مگر گوشت پوست کا ایک بڑا سا بت بنالیتے ہیں اور اسکو پوجنا شروع  کردیتے ہیں، پھر ہم اس بات سے بھی لاپرواہ ہوجاتےہیں کہ وہ کچھ غلط کہہ رہا ہے کہ  درست مگر ہم اس میں سے خود ہی  "لاجک" تلاش کرلیتےہیں اور اپنے آپ کو حقدار ثواب  قرار دے لیتےہیں۔  


مکمل تحریر  »

منگل, ستمبر 04, 2012

فرعون کے پیچھے پیچھے


لنڈن  میں فرعون کی تلاش
فرعون کے ساتھ ہمارا یارا نہ بہت پکا ہے اور پرانا بھی،  کوئی کل کی بات تھوڑی ہے، بلکہ کئی برس گئے جب لنڈن کو سدھارے تھے سنہ 2002 میں،  تو  بھی فرعو ن اور مایا کےلئے اپنی فلائیٹ مس کرنے کی کوشش کربیٹھے،  تب  ہمارا مقصد برٹش میوزیم میں توتن خام صاحب کے سونے کے ماسک کی زیارت کرنا تھا، مگر گورا صاحب نے اسے ہمارے جانے سے چند ماہ قبل ہی قاہرہ میوزیم  روانہ کردیا اور ہم ہاتھ ملتے رہ گئے، کہ خان صاحب اگر چند ماہ پہلے آجاتے ادھر تو کون سی موت پڑنی تھی۔ یہ توتن خامن صاحب  بہت مشہور معروف فرعون ہوئے،  سنہ 1332 سے 1323 قبل مسیح ادھر حکمران رہے اور جدید فراعین  کی تاریخ میں  پڑھا ئے جاتے ہیں،  انکا تعلق اٹھارویں ڈینسیٹی سے تھا جو  سنہ  1550 سے 1292 قبل مسیح تک ادھر حکمران رہے، حضرت موسٰی علیہ سلام والا فرعون رعمسس دوئم اس سے پہلے بھگت چکا تھا۔ ، یہ صاحب  اپنے سونے کے ماسک اور سونے کے تخت کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے، مطلب موٹی اسامی تھے۔  توتن خامن کے مقبرے کی جب کھدائی ہوئی  1920 میں تو کارٹر صاحب نے عادتاُ  اسکے مقبرے سے ہونے والا سونے کاماسک بھی چپکے سے نکال کر کھیسے کیا اور پھر ولائیت کو سدھارے، جی ، جی، بلکل اسی طرح جس طرح  ہندوستان کے مقبروں کے تختے بھی لے اڑے تھے اور آپ کو آج بھی لاہور ، دہلی اور آگرہ کے مقبروں کی دیوراوں میں  "موریاں" نظرآتی ہیں، جہاں سے قیمتی پتھر نکالے گئے۔ توتن خامن  کا ماسک 2007 سے اسوان کے میوزیم میں توتن خامن کے مقبرے کے اندر زیارت کو دستیاب ہے۔   



میڈرڈ میں فرعون کا پیچھا
میڈرڈ میں جب سنہ 2009 میں جانا ہوا تو ادھر بھی ہماری فرعون سے یاری نے جوش مارا اور ہم ادھر نکل لئے ٹمپل آف دیبود  کی تلاش میں ، جو پلاسا سپانیہ کے ادھر قریب ہی پایا گیا، خیر سے ادھر  فرعون تو نہ پایا گیا نہ "وڈا نہ چھوٹا" مگر چلو  اسکے پاس کی چیز ہے ، یہ ٹیمپل ادھر جنوبی مصر میں اسوان کے علاقہ میں دریائے نیل سے کوئی 15 ک م کی نزدیکی پر تھا ،   یہ دوسری صدی قبل مسیح میں "عیسس" نامی دیوی کےلئے  تب کے بادشاہ  "میروئے" نے تعمیر کروایا،   اسکا چھوٹا کمرہ البتہ "ہاموں" نامی دیوتا کے لئے مختص ہوا،   یہ معبد اپنے علاقے کی جامعہ مسجد ہی سمجھا گیا،   پھر جب 1960 میں  جب عظیم اسوان  ڈیم کا منصوبہ بنا تو پھر اسے  ادھر میڈرڈ کو یاری کی علامت کے طور پر  گفٹ کردیا گیا،   بہر حال ادھر جا کر معلوم ہوا کہ اس کا براہ  راست فرعون کے سا تھ کوئی تعلق نہیں ہے، اور یہ کہ یار لوگوں نے ایویں  "چوول" ہی ماری ہے ۔  جو لو گ میڈر ڈ  میں رہتے ہیں   ی جو لوگ ادھر غلطی  سے پہونچ  جائیں  اوریہ مضمون  پڑھنے کے باوجود بھی   اگر ادھر جانا چاہیں تو  یہ معبد ادھر میڈرڈ کے رائل پیلس کے پچھواڑے میں پایا جاتا ہے۔  ہیں جی۔
 
نہ جاسکے تو صرف قاہرہ نہ جاسکے، رہی بات تورینی کے میوزیم کی تو چونکہ اس کی  سیر حد سے دلچسپ رہی ، جی جی ، کمپنی کی وجہ سے بھی، تو اسبارے کل لکھا جاوے گا۔ ابھی جولکھا گیا اسی کو ہضم کریں اور صبر کہ سہج پکے سو میٹھا ہو۔  

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش