سوموار, اپریل 24, 2017

وعدہ خلافی ہمارا عمومی رویہ ہے


ڈاکٹر سلیم الموید میرے دوست ہیں کولیگ بھی، وہ فیملی ڈاکٹر ہیں اور میں اس پولی کلینک کا ہومیوپیتھ۔ ۔ دوست اسلئے کہ وہ فلسطین سے ہیں اور میں پاکستان سے۔ ہمارے بیچ اسلام علیکم کا رشتہ ہے جو ہم دنوں کو فوراُ قریب کردیتا ہے۔ میری ان سے ملاقات اکثر کام کے دوران ہی ہوتی ہے، کبھی کبھار باہر اتفاقیہ ملاقات ہوگئی۔ یا وھاٹس اپ پر کوئ چٹکلہ شئر کردیا۔ شاید گزشتہ دو برس سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں ہم۔
پرسوں مجھے وھاٹس اپ میسج آیا "کب فون کرسکتا ہوں؟" میں نے جواباُ کال کی۔
کہنے لگے "تمھاری ضرورت ہے۔ کلینک سے باہر کسی جگہ پر ملنا چاہتا ہوں"۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ابھی تو میں شہر سے باہر ہوں۔ میں کل واپس آؤں گا اور آپ کو فون کروں گا اور طے کرلیں گے کہ کہاں اور کب ملاقات ہوسکتی ہے۔
آج دن کو کال کی۔ کہنے لگے میں اولڈ ھوم سے چاربجے فارغ ہونگا، تو ملتے ہیں۔ ادھر "سابلون کیفے" میں۔ چلو ٹھیک ہے۔
میں چاربجے وہاں پہنچا تو نہیں تھے۔ فوراُ کال آگئی،"ایک مریض کی طبیعیت اچانک خراب ہوجانے کی وجہ سے ابھی نکلا ہوں۔ دیکھ لو اگر انتظار کرسکتے ہو تو دس منٹ میں پہنچتا ہوں"۔ میں نے کہا : "کوئ بات  نہیں آجاؤ"۔
دس منٹ بعد ہم کافی کا آرڈر دے رہے تھے اورایک کیس ڈسکس کررہے تھے۔


الف میرے شہر کے ہیں اور پاکستان میں بقول انکے میرے شاگرد بھی رہے۔ یہاں اٹلی میں شروع میں جب آئے تو انکو ساتھ جاب پر بھی لگوایا اور گھر میں بھی رکھا۔ ہم لوگ اپارٹمنٹ شئرنگ میں شاید کچھ برس اکٹھے رہے۔ کھانا پینا، کام کاچ سب ایک ساتھ۔
پھر وہ ایک دوسرے شہر شفٹ ہوگئے اور میں ایک اور شہر میں۔
کبھی کبھار رابطہ ہوجاتا۔
گزشتہ ہفتے انکا فون آیا۔ کہنے لگے کبھی چکرلگاؤ، میں نے بتایا کہ میرا ویک اینڈ پر کورس ہے، فلاں جگہ پر، رات کو میں نے ادھر ہی ٹھہرنا ہے ہوٹل میں۔ یا تو ہفتہ کی شام کو ملاقات ہوسکتی ہے فراغت سے یا پھر دوپہر کو کھانے کے وقفہ کےلئے ڈیڑھ گھنٹے کےلئے۔
کہنے لگے واہ جی واہ وہ تو مجھ سے بیس منٹ کی ڈرائیو پر ہے۔ بس ٹھیک ہے میں شام کو آپ کو پک کرلوں گا۔ ملاقات ہوگی۔
چلو ٹھیک ہے، میں رابطہ کرلوں گا۔
گزشتہ ویک اینڈ پر میں اس شہر میں کورس پر تھا۔
حسب وعدہ میں نے انکو وھاٹس اپ کردیا کہ جناب میں پہنچ گیا ہوں۔


شام کو انکا فون آیا کہ میں آج مصروف ہوں کل شام کو، عرض کیا کہ کل تو میری واپسی ہے۔ اچھا دوپہر کو کیا پروگرام ہے؟
دوپہر کو ڈیڑھ سے تین بجے تک فری ہوں۔ چلو ٹھیک ہے، میں ڈیڑھ بجے ادھر ہوٹل ہونگا۔ بس ٹھیک ہے۔
میں نے ڈیڑھ بجے فون کیا تو، ایک بچے نے اٹھایا۔ آپ کون ہیں؟؟ اور کس سے بات کرنی ہے؟؟ اپنا تعارف کرویا تو اس نے فون اپنی ماں کو تھمادیا، وہ فرمانے لگیں کہ "وہ" تو گھر نہیں ہیں اور فون بھی گھر چھوڑ گئے ہیں۔
میں نے "چلو ٹھیک ہے" کہہ کر فون بند کیا اور اپنے کھانے کی میز کی طرف چلا گیا۔
پھر انکی طرف سے کوئی رابطہ نہیں۔ شاید ابھی تک گھر ہی نہ پہنچے ہوں۔

 یا پھر  "وڑے" کہہ کر فون بچے کو تھما دیا ہوگا۔  کہ کہہ دو "ابا گھر پے نہیں ہے۔ بچہ شاید بات سنبھال نہیں سکا اور اماں کو پکڑا دیا ہوگا فون۔ 
اور میں کل سے سوچ رہا ہوں، کچھ بھی ہوجاوے ہم پاکستانیوں کی عادتیں نہیں بدلیں، وقت کی پابندی نہ کرنا اور وعدہ خلافی ہمارا  عمومی مزاج ہے۔ 






مکمل تحریر  »

جمعرات, جون 23, 2016

شہید، مقتول اور فسادات

اگرکوئی گھر سے نکلے مزدورکرنے، بچوں کےلئے کھانے کا سامان لینے، بہن کےلئے کپڑے لینے یا کسی دوست سے ملنے۔ اسکول جانے، مسجد نماز کےلئے جانے یا کسی بھی اور کام سے جو اسکی ذات سے متعلق ہے اور کسی دوسرے سے اسکا کوئی مطلب مقصد نہ ہو۔ ایسے کو راہ میں کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اسکو شہادت کہا جائے گا، کہ حادثاتی موت مرنے والا شہید ہے اور اللہ اسکو اسکا اجر دے گا۔ ہم انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ کرخاموش ہوجاتے ہیں۔ کہ "چنگا وائی جو اللہ دی مرضی"۔


اور اسکے برعکس اسکو کوئی شخص جان کر اور پلاننگ کرکے اسکو "ٹھوک" دے، دو گولیاں۔ تو یہ قتل ہے، بلکہ اسکو قتل عمد کہا جائے گا۔ ایسا ہی دنیا کے ہرقانون میں ہے اور اسلامی شریعت میں بھی ایسا ہی ہے۔ قرآن مجید میں بھی قتل کا لفظ استعمال ہوا جبکہ مقتول اور قاتل کے الفاظ بھی ہیں اور اسکا بدلہ قتل مقررہ ہوا، یا پھر قصاص و دیت یا پھر معافی۔ بلترتیب۔


اور اگر یہ قتل کسی "پبلک پلیس" پر ہوا، جس میں زیادہ لوگ ملوث ہوں یا جس سے زیادہ لوگ متاثر و خوفزدہ ہوں تو اسکو " دہشت گردی " کہا جائے گا۔ قرآن میں فساد اور فتنہ  کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ اور ایسا کرنے والے کےلئے  "فسادی" کا لفظ استعمال ہوتا ہے، ایسی صورتوں میں دیت معافی کا کوئی چکر نہیں ہوتا۔ بلکہ "ملٹری کورٹس" میں فوری مقدمہ چلایا جاتا ہے اورمجرمین کو براہ راست" ٹھونک" دیا جاتا ہے، تاکہ لوگ عبرت پکڑیں۔

کتاب  اللہ میں فساد  پھیلانے اور فساد کی روک تھام کےلئے بہت ہی سختی کی  گئی ہے۔ قرآن مجید میں کل گیارہ مقامات پر فساد کا بیا ن آیا  ہے۔ 

فساد کا پہلا ذکر سورہ بقرہ میں ملتا ہے۔ 

( 204 )   اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے
( 205 )   اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کردے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا
( 206 )   اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے

  سورہ المائدہ میں بیان ہوتا ہے۔ 
( 32 )   اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں

اور اگلی آیت مبارکہ میں ایسوں کی سزا مقرر کردی جاتی ہے۔ اور وہ بھی وہی سزا جو خدا اور اسکے رسول سے لڑائی کرنے والوں کی ہے ۔ 

( 33 )   جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے


امجد صابری قتل کیس میں پوری قوم متاثر ہوئی، اسکو دھشت گردی قرار دیا جائے گا۔ مرنے والا مقتول ہے جو اسکی مظلومیت کو ظاہر کرتا ہے۔ قاتلوں کے پکڑنے اور سزا پانے تک ریاست کو خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ ایسے ہیں ہم عوام کو بھی یہ جھگڑا کرنے سے گریز کرنا چاہئے کہ وہ شہید تھا کہ نہیں تھا۔


یاد رہے، ہر مرنے والا شہید نہیں ہوتا، اگر ایسا ہوتا تو حضرت خالد ابن ولید، سیف اللہ کا لقب پانے والے رسول اللہ ﷺ سے اپنے آخری وقت میں شہادت کےلئے رو نہ رہے ہوتے۔




مکمل تحریر  »

سوموار, جون 06, 2016

روزے کی تیاریاں

اہو ہو کل روزہ پینڑاں ہے بابیو۔
ہیں جی، چل بچہ کچھ سامان ہی لے آئیں، 
دیکھ گھر میں کیا کیا ہے، کیا کیا لانا ہے
اچھا اور کچھ؟؟
پر دیکھنا روزہ بہت لمبا ہے، اوپر جون کا مہینہ بھی ہے
 
گرمی تو ہوگئی ہی ہوگی۔
 
جوس، نمبو، چار کلو چینی، شربت بھی تو پئیں گے
فروٹ، بابیو،
 
سارے فروٹ لانا، جو تازے ہیں وہ والے
ہاں اور کھجوریں بھی، وہ موٹی آلی، آچھا جی
اچار، الائیچی ہاں الائیچی اور دار چینی بھی، ان کا قہوہ پینے سے پیاس کم لگتی ہے۔
 
سالن اچھا ہو، تاکہ دن کو بھوک نہ لگے۔
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کل کا سین تھا۔
 
آج پاکستان سے نسخے آرہے ہیں
 
پھکیوں اور معجونوں کے، قلاقند کے،
 
دیسی گھی اور مکھن
سرد مشروبات کا زیادہ سے زیادہ استعمال۔
 
تاکہ دن کو بھوک نہ لگے پیاس نہ لگے۔
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ آج کا سین ہے۔
 
اور میں سوچ رہا تھا،
 
کہ اگر رمضان کے آنے کا مقصد بھوک اور پیاس سے بچنا ہی ہے تو پھر بندہ آرام سے دن کو کھانا کھائے اور پانی پئے۔ نہ رکھے روزے، آخر اللہ کو بھی تو ہماری بھوک اور پیاس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے،
 
وہ تو نیت دیکھتا ہے، وہ تو نیاز مندی دیکھتا ہے۔
 
مقصد تو تھا، کہ تو بھوک محسوس کر، پیاس محسوس کر، لڑائی جھگڑا ترک کردے، مسکین ہوجا۔
 
مسکین کی حالت کو محسوس کر، اور اسکی فکر کر۔
 
پر نہ ہم کو تو اتنا سوچنا ہی نہیں ہے۔
 اچھا آپ ہی بتاؤ روزے میں بھوک اور پیاس و کمزوری سے بچنے کے کچھ نسخے

سوری، یاد کرانا تھا، کہ رمضان میں عبادت ہوتی ہے،  نماز قرآن اور معافی  تلافی۔ دوسروں کا خیال رکھنا، 
نہ کہ پھاوے ہوئے پھرنا ۔ 





مکمل تحریر  »

سوموار, اپریل 25, 2016

غیر محرم خواتین سے ہاتھ ملانا

مسلمان، بلکہ اچھے مسلمان 1400 سو برس سے غیر محرم خواتین سے مصافحہ نہیں کررہے، فوراُ منع ہوجاتے ہیں۔
نظریں جھکا لیتے ہیں۔
عرض کردیتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں جائز نہیں۔
اور دوسرے مزاہب والے بھی برا نہیں مناتے،
اگر کوئی کم ظرف سوال اٹھائے بھی تو
"پھاں" کرکے اسکا منہ بند کردیا جاتا ہے۔
کہ مذہب ساڈا ہے، تہاڈا نئیں۔ "ہیں جی" ۔
پھر تو اگلا چپ ہی کرجاتا ہے۔
اگر کسی موقع پر کوئی " بُڑ بُڑ" کرے تو
اسکا "کھنہ بھی سینکا" جاتا ہے۔
کہ توں ساڈے مذہب دے وچ پنگے کریں، سانوں دسیں گا ہنڑں؟؟
پھر اگلا چپ ہی سمجھو۔ مجال ہے جو چوں بھی کرجائے۔


مگر


اسکے باوجود بھی ہمارے مسلمانوں کی حالت خاصی پتلی ہے۔
پوری دنیا میں "چوہڑے" ہوکر رہے گئے ہیں۔
ادھر حجاب کرکے ٹائلٹ صاف کررہے ہوتےہیں۔
دنیا کی ترقی میں نام کردار نہیں ہے۔
معاشرتی اور اخلاقی ہر برائی موجود ہے۔
غریبی سے لیکربے حیائی، جھوٹ، فریب، بے ایمانی، کم تولنا، دوسرے کا حق مارنا، رشوت، سفارش اقربا پروری ہمارے اندر رچی پڑی ہے۔
اور ہم کسی گندے "رینو" کی طرح اس کیچر میں لت پت پڑے ہوئے ہیں۔




غامدی صاحب نے اگر عمومی طور پر خاتون سے مصافحہ کرنے کے بارے کہہ ہی دیا ہے کہ اس بارے دین نہین منع کرتا تو انکی بات پر چیں بہ جبیں ہونے کی بجائے اس کا قرآن و سنت سے رد کیا جائے، نہ کو اسکو  گالیاں دینے، ٹھٹھہ کرنے، اور تذلیل کی جائے، اس کی بجائے کیون نہ اس کو یکسر مسترد کیوں نہ کردیا جائے۔


اور توجہ دی جائے ان امور پر جن کی وجہ سے آج ہم پوری دنیا میں جوتے کھا رہے ہیں۔
جن کی وجہ سے آج ہم چھترو چھتری ہورہے ہیں۔
مگر کیوں؟؟ اگر ایسا ہوتو پھر ہم وہ رینو تو نہ ہوئے۔




اچھا چھڈو یہ رینو والی فوٹو ویرونا والے سفاری پارک میں بنائی تھی میں نے اصلی ہے


مکمل تحریر  »

جمعہ, جون 05, 2015

چاند چڑھانے پر جھگڑا

آج کا جمعہ کا خطبہ بہت لمبا تھا۔ مولوی جی نے سارا وقت چاند دیکھنے کےساتھ ساتھ سورج اور چاند کے اپنے مقررہ محور میں رہنے کی آیات و احادیث  بیان فرمائیں۔

انتشار امت کا ذکر فرمایا۔ چانددیکھ کر روزہ رکھنے اور چاند دیکھ کر عید کرنے والی حدیث کو بیان فرما کراجہتاد امت کا بیان بھی فرمایا، اور پھر سائنسی ترقی کا بھی بیان فرمایا۔ امت مین انتشار پھیلانے سے سختی سے منع کیا، پھر فرمایا کہ علماء یورپ کی کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ پہلا روزہ 18 جون کو بروز جمعرات ہوگا انشاء اللہ۔ تو جناب تمام اہل اسلام کو شعبان کی ساعتیں مبارک اور من تقبل رمضان۔


ہیں جی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اجتماع امت میں خیر ہے۔ امت کو چاہئے کہ علماء کے اس فیصلہ پر جمع ہوجائے۔ ہم کسی ملک بادشاہ یا حکمران کو نہیں مانتے۔

ہیں جی۔

پس ثابت ہوا، اجتماع امت صرف وہ ہے جس میں امت المولبیان الیورپ کے پیچھے چلے۔ نہ کہ امت کا اجتماع اس حدیث مبارکہ پر ہے کہ چاند دیکھو اور روزہ رکھو چاند دیکھو اور عید کرو۔ نہ نظر آئے تو قیاس کرلو۔

پاکستان میں پھر بھی کچھ نہ کچھ تردد کرتے ہیں کہ کچھ الموبیان القدیم  جو یہ موٹی سی دبیز شیشوں والی عینک لگائے موٹے حرفوں والا قرآن مجید پڑھتے ہیں، چھت پر چڑھ کر چاند دیکھ رہے ہوے ہیں، جبکہ حالت انکی یہ ہوتی ہے انکو اپنی عینک تک دکھائی نہیں دیتی۔ 
بندہ کہے مولانا جی کسی جوان " منڈے " کو ہی دوربین دے دو، شاید اسکو چاند نظرآبھی جائے۔ مگر یہ شک  ہی کرتے  ہیں کہ اس نے ضرور ساتھ والی چھت پرچاند دیکھا ہوگا۔ 

وللہ اعلم میں کوئی عالم دین نہیں ہوں مگر دین کے معاملے میں  المولبیان کے پیچھے چلنے کی بجائے سنت نبویﷺ پر عمل کرنا بہتر سمجھتا ہوں، چاند دیکھو، نہ نظرآئے تو کیلنڈر دیکھ لو ، یا المولبیان کے پیچھے چل پڑو۔ 

مکمل تحریر  »

جمعرات, جنوری 08, 2015

خطبہ حجتہ الوداع

9 زوالحجہ 10 ھ کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عرفات کے میدا ن میں تمام مسلمانوں سے خطاب فرمایا۔ یہ خطبہ اسلامی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ اور اسلام کے سماجی ، سیاسی اور تمدنی اصولوں کا جامع مرقع ہے، اس کے اہم نکات اور ان کے مذہبی اخلاقی اہمیت حسب ذیل ہے۔

خطبہ

سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہم اسی کی حمد کرتے ہیں۔ اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ اس سے معافی مانگتے ہیں۔ اسی کے پاس توبہ کرتے ہیں اور ہم اللہ ہی کے ہاں اپنے نفسوں کی برائیوں اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے تو پھر کوئی اسے بھٹکا نہیں سکتا اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کو کوئی راہ ہدایت نہیں دکھا سکتا۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اس کا بندہ اور رسول ہے۔
اللہ کے بندو! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی تاکید اور اس کی اطاعت پر پر زور طور پر آمادہ کرتا ہوں اور میں اسی سے ابتدا کرتا ہوں جو بھلائی ہے۔
لوگو! میری باتیں سن لو مجھے کچھ خبر نہیں کہ میں تم سے اس قیام گاہ میں اس سال کے بعد پھر کبھی ملاقات کر سکوں۔
ہاں جاہلیت کے تمام دستور آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں؛ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے ۔
خدا سے ڈرنے والا انسان مومن ہوتا ہے اور اس کا نافرمان شقی۔ تم سب کے سب آدم کی اولاد میں سے ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔
لوگو! تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسی حرام ہیں جیسا کہ تم آج کے دن کی اس شہر کی اور اس مہینہ کی حرمت کرتے ہو۔ دیکھو عنقریب تمہیں خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال فرمائے گا۔ خبردار میرے بعد گمراہ نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے رہو۔
جاہلیت کے قتلوں کے تمام جھگڑے میں ملیامیٹ کرتا ہوں۔ پہلا خون جو باطل کیا جاتا ہے وہ ربیعہ بن حارث عبدالمطلب کے بیٹے کا ہے۔ (ربیعہ بن حارث آپ کا چچیرا بھائی تھا جس کے بیٹے عامر کو بنو ہذیل نے قتل کر دیا تھا)
اگر کسی کے پاس امانت ہو تو وہ اسے اس کے مالک کو ادا کر دے اور اگر سود ہو تو وہ موقوف کر دیا گیا ہے۔ ہاں تمہارا سرمایہ مل جائے گا۔ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ اللہ نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ سود ختم کر دیا گیا اور سب سے پہلے میں عباس بن عبدالمطلب کا سود باطل کرتا ہوں۔
لوگو! تمہاری اس سرزمین میں شیطان اپنے پوجے جانے سے مایوس ہو گیا ہے لیکن دیگر چھوٹے گناہوں میں اپنی اطاعت کئے جانے پر خوش ہے اس لیے اپنا دین اس سے محفوظ رکھو۔
اللہ کی کتاب میں مہینوں کی تعداد اسی دن سے بارہ ہے جب اللہ نے زمین و آسمان پیدا کئے تھے ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ تین (ذیقعد ذوالحجہ اور محرم) لگا تار ہیں اور رجب تنہا ہے۔
لوگو! اپنی بیویوں کے متعلق اللہ سے ڈرتے رہو۔ خدا کے نام کی ذمہ داری سے تم نے ان کو بیوی بنایا اور خدا کے کلام سے تم نے ان کا جسم اپنے لیے حلال بنایا ہے۔ تمہارا حق عورتوں پر اتنا ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی غیر کو نہ آنے دیں لیکن اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسی مار مارو جو نمودار نہ ہو اور عورتوں کا حق تم پر یہ ہے کہ تم ان کو اچھی طرح کھلاؤ ، اچھی طرح پہناؤ۔
تمہارے غلام تمہارے ہیں جو خود کھاؤ ان کو کھلاؤ اور جو خود پہنو وہی ان کو پہناؤ۔
خدا نے وراثت میں ہر حقدار کو اس کا حق دیا ہے۔ اب کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔ لڑکا اس کا وارث جس کے بستر پر پیدا ہو، زناکار کے لیے پتھر اوران کے حساب خدا کے ذمہ ہے۔
عورت کو اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر لینا جائز نہیں۔ قرض ادا کیا جائے۔ عاریت واپس کی جائے۔ عطیہ لوٹا دیا جائے۔ ضامن تاوان کا ذمہ دار ہے۔
مجرم اپنے جرم کا آپ ذمہ دار ہے۔ باپ کے جرم کا بیٹا ذمہ دار نہیں اور بیٹے کے جرم کا باپ ذمہ دار نہیں۔
اگر کٹی ہوئی ناک کا کوئی حبشی بھی تمہارا امیر ہو اور وہ تم کو خدا کی کتاب کے مطابق لے چلے تو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔
لوگو! نہ تو میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ کوئی جدید امت پیدا ہونے والی ہے۔ خوب سن لو کہ اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور پنجگانہ نماز ادا کرو۔ سال بھر میں ایک مہینہ رمضان کے روزے رکھو۔ خانہ خدا کا حج بجا لاؤ۔
میں تم میں ایک چیز چھوڑتا ہوں۔ اگر تم نے اس کو مضبوط پکڑ لیا تو گمراہ نہ ہوگے وہ کیا چیز ہے؟ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ۔
اس جامع خطبہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
لوگو! قیامت کے دن خدا میری نسبت پوچھے گا تو کیا جواب دو گے؟ صحابہ نے عرض کی کہ ہم کہیں گے کہ آپ نے خدا کا پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا‘‘۔ آپ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور فرمایا۔’’اے خدا تو گواہ رہنا‘‘۔ ’’اے خدا تو گواہ رہنا‘‘ اے خدا تو گواہ رہنا اور اس کے بعد آپ نے ہدایت فرمائی کہ جو حاضر ہیں وہ ان لوگوں کو یہ باتیں پہنچا دیں جو حاضر نہیں ہیں۔

خطبہ حجۃ الودع کی اہمیت

1۔ یہ خطبہ تمام دینی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ اس کا نقطہ آغاز اللہ اور اس کے بندے کے درمیان صحیح تعلق کی وضاحت کرتا ہے اور بھلائی کی تلقین کرتا ہے۔
2۔ خطبہ حجۃ الوداع اسلام کے معاشرتی نظام کی بنیادیں مہیا کرتا ہے۔ معاشرتی مساوات ، نسلی تفاخر کا خاتمہ ، عورتوں کے حقوق ، غلاموں کے ساتھ حسن سلوک ایک دوسرے کے جان و مال اور عزت کا احترام، یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر اسلام کا معاشرتی نظام ترتیب پاتا ہے۔
3۔اس خطبہ نے معاشی عدم توازن کا راستہ بند کرنے کے لیے سود کو حرام قرار دیا کیونکہ سود سرمایہ دار طبقہ کو محفوظ طریقہ سے دولت جمع کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے اور ان کی تمام افائش دولت سودی سرمائے کے حصول ہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔
4۔ اس خطبہ نے بہت سے اہم قانونی اصول متعین کئے ہیں۔ مثلاً انفرادی ذمہ داری کا اصول وراثت کے بارے میں ہدایت ۔ 5۔ سیاسی طور پر خطبہ اسلام کے منشور کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا بھر کو اس خطبہ کے ذریعہ بتایا گیا کہ اسلامی حکومت کن اصولوں کی بنیاد پر تشکیل پائے گی ۔ اور ان اصولوں پر تعمیر ہونے والا یہ نظام انسانیت کے لیے رحمت ثابت ہوگا۔ اسی بناء پر ڈاکٹر حمید اللہ نے اسے انسانیت کا منشور اعظم قرار دیا ہے۔
6۔ یہ ہمارے محبوب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا آخری پیغام ہے اور اس میں ہم ہی مخاطب بنائے گئے ہیں۔ اس کی نوعیت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت کی سی ہے۔ اس کے ایک ایک بول پر حضور نے درد بھرے انداز سے آواز بلند کی ہے۔ کہ میں نے بات پہنچا دی ہے لہٰذا لازم ہے کہ اسے پڑھ کر ہماری روحیں چونک جائیں۔ ہمارے جذبے جاگ اٹھیں۔ ہمارے دل دھڑکنے لگیں۔ اور اہم اپنی اب تک کی روش پر نادم ہو کر اور کافرانہ نظاموں کی مرعوبیت کو قلاوہ گردنوں سے نکال کر محسن انسانیت کا دامن تھام لیں۔ اس لحاظ سے یہ ایک دعوت انقلاب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بغیر کسی کمی بیشی کے برائے اپنی راہنمائی لکھ دیا ہے، کہ ہر بار تلاش کرنا پڑتا ہے

مکمل تحریر  »

سوموار, دسمبر 29, 2014

ٹیگ مافیا


حد تو یہ ہے کہ  لوگ آو دیکهتے ہیں نہ تاو دیکهتے ہیں اپنی بوسیدہ کترنیں اٹهاتے ہیں اور ہماری وال پہ ٹانگ کر نکل لیتے ہیں. بچوں کی بدبودار پٹلیاں تک دیوار پہ رکه کے چلتے بنتے ہیں. کچه نے تو ہماری دیوار کوبنارس قصبہ اور مری روڈ کی دیوارسمجهاہواہے جب جی میں آتاہے منہ اٹهائے آتے ہیں اور عامل جنیدبنگالی یاپهر جرمن دواخانے کی چاکنگ کرکے چلے جاتے ہیں. بهئی تمہیں خدانے اپنی دیواردی ہوئی ہے اسی کو تختہ مشق بنالو ہماری دیواریں کس خوشی میں پهلانگنے پہ تلے رہتے ہو. اپنے اس توسیع پسندانہ عزائم پہ کچه غورتوکیجیئے کہ یہ ہے کیا؟ تصویرآپ کے پروگرام کی ہوتی ہے اورچپکادیتے ہیں میری دیوار پہ.. میں نے پوجنا ہے کیا آپ کی تصویرکو؟ تحریرآپ کی ہوتی ہے اوراسٹیکربناکرمیری دیوارپہ لگادیتے ہو. میں نے چاٹناہے کیاآپ تحریر کو؟ میں نے آج تک آپ کی شکل نہیں دیکهی اورآپ مجهے اپنے نومولود بچوں کے زبردستی کے درشن کرواتے ہو. میں نے اس کے کان میں اذان دینی ہے کیا؟ یاپهرمجهے ماہرختنہ سمجه رکهاہے؟ پڑوسیوں کوبهلا اس طرح بهی کوئی اذیت دیتاہے کیا؟

دیکهومیری بات سنو! میرایقین مانوکہ آپ کی دیوارپرسے میرا روز گزرناہوتاہے. آپ کی تصویریں تحریریں تقریریں لکهیریں عشوے غمزے رمزے نغمے نوحے شذرے فتوے تقوے قافیئے نظمیں غزلیں نعتیں حکایتیں قصے افسانے شہہ پارے مہہ پارے سپارے نظریئے عقیدے نعرے طعنے ترانے مکالمے مناظرے مباحثے فکاہیئے مبالغے مجادلے مکاشفے ستائشیں مذمتیں تصدیقیں تردیدیں تبصرے تجزیئے تذکرے رفوگری خلیفہ گیری اٹهائی گیری پیداگیری داداگیری تعریف توصیف تنقید تخلیق تحقیق سزا جزا ادا بهرم بهاشن درشن ایکشن فیشن فکشن شب وصل شب فراق انعامات الزامات تعلیمات تعبیرات تعلیقات تعذیرات تشبیہات افکار گفتارللکار کرداراطوار اخبار آثار دعوے وعدے مدعا مدعی دشنام طرازیاں عشوہ طرازیاں دست درازیاں غرضیکہ ادب فلسفہ تاریخ الہیات جنسیات مابعدالطبعیات سیاسیات سائینسیات اور اس کے علاوہ آپ کے تمام اقوال زریں و بے زریں سب میری نظرسے گزرتے ہیں. آپ کو یقین نہ آئے تو میں وہ تمام قسمیں کهانے کوتیارہوں جوطاہرالقادری صاحب نے آج تک تخلیق کی ہیں اور وہ تمام قسمیں بهی اٹهاتاہوں جوابهی زیر تخلیق ہیں.

اب ایسا ہے کہ آپ اپنی ہی دیوارپہ اپنی تصویریں اور تحریریں لگادیا کریں مجهے پسندآئیں گی تو میں لائک کروں گا.زیادہ پسند آئی توواہ واہ بهی کروں گا. اور بهی زیادہ پسندآئیں تو اٹهاکر چوم لوں گا چاٹ لوں گا.اس سے بهی زیادہ پسندآگئیں تواٹهاکے اپنی دیوارپہ ٹانگ دوں گا اور ساته میں لکه دوں گاکہ صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیئے!! اوراگر لائک کے لائق نہ ہوئیں تو چپ ساده لوں گا. بری لگیں تومنہ بسورکے کنارہ پکڑلوں گا. اوراگر اذیت ناک ہوئیں تو چار حرف بهیج کر نکل جاو ں گا.. اب اگرمیں نے کمنٹ ہی نہیں کرنا توپهر کوئی میری وال پہ الٹا ہی کیوں نہ لٹک جائے ماں قسم اپن سے کمنٹ نہیں نکلواسکتا..

 سو پلیزیار تمہیں جمہوریت کا واسطہ ہے کہ میری چادر اور چاردیواری کی ماں بہن کرنے سے باز آجاو. پتہ ہے کیا ہے؟ میرے کچه دوست جب میری دیوار پہ کسی
ہما شما کے گلابی کپڑے ٹنگے ہوئے دیکهتے ہیں توسمجهتے ہیں کہ یہ میرے ہی ہیں. کسی کے منجن کا اشتہارمیری دیوارپہ دیکهتے ہیں تو انہیں لگتاہے کہ میں نے ہی همدرددواخانے کی کوئی برانچ کهول لی ہے. اسی طرح جب کوئی میری دیوارپہ کسی کمپنی کی مشہوری دیکهنے کے بعد واہ واہ یا آہ آہ کرتاہے تواس کی آوازیں مجهے میرے گهرمیں سنائی دیتی ہیں. یقین جانیں بڑی کوفت ہوتی ہے. اسی لیئے اب ہم روز اٹهنے کے بعد پہلے اپنی دیوار تیزاب سے دهوتے ہیں پهر اپنی دکان کا شٹر اٹهاتے ہیں. بهئی اگرکسی کو بہت زورکاٹیگ آیاہواہے توانبکس میسج کاآپشن استعمال کرکے ہلکاہوجائے اور اگرمیری دیوار پہ اپنی کمپنی کی مفت میں مشہوری کرنے کا پروگرام ہے توپهر اس کامطلب ہے کہ آپ بڑے ہی کوئی کم ظرف قسم کے انسان ہیں.

نوٹ: ٹیگ کا آپشن آف کرنے کا مشورہ دینے والے زحمت نہ فرمائیں کیونکہ کچه لنگوٹیوں کواجازت ہے کہ وہ دروازے کو لات مارکے بهی میرے گهرمیں انٹری دے سکتے ہیں. وہ دروازہ بجائیں دیوارپهلانگیں کهڑکی توڑیں جو کریں انہیں اجازت ہے. میری بیل کا بٹن باہر لگا رہے گا مگراس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر کہ ومہ آتے جاتے پڑوم کرکے بیل بجاتاہوا نکل جائے گا. اب اگر بندہ خالی پیلی میں بیل بجانے والوں کے خلاف احتجاج کرے گا توآپ اس کوبیل کا بٹن نکلوادینے کا مشورہ دوگے کیا؟ ایسا تونہیں کرویار!!!
---------------------
یہ ایک موصولہ تحریر ہے، مصنف نامعلوم ہے مگر صاحب بلاگ کا اس سے پورا اتفاق ہے۔ 

مکمل تحریر  »

اتوار, اکتوبر 12, 2014

قوم کا زوال اور معاشرتی ناانصافیاں

دلی۔ بھوپال۔ اور حیدرآباد دکن کا جس قدر ڈاکومینٹری ، مطالعاتی و مشاہداتی مطالعہ ہماری نظر سے گزرا ہے ۔ اسمیں اس دور کی دلی اور دیگر مسلم تہذیبوں کے گڑھ میں ۔ انگریزی قبضہ سے قبل اور بعد میں اور آج تک ۔ جس خاص چیز نے ہندؤستان میں اور اسکے تسلسل کی صورت میں پاکستان میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا اور جس پاکستان میں مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے ۔ اور اس نقصان کی شدت اس حد تک ہے کہ جس سے بالآخر تب ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانیہ و انگریزوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی آزادی و تہذیب ختم ہوئی اور اسی تسلسل سے آج پاکستان میں امریکہ و مغرب ۔ آئی ایم ایف او ورلڈ بنک کے ہتکنڈوں سے پاکستان کی ۔ اور پاکستانی مسلمانوں کی خود مختاری و آزادی۔ سکون ۔ عزت سے سے جینے کا حق و اختیار ۔اور آبرو کو خطرہ لا حق ہے۔ اور پاکستان بہ حیثیت ایک بااختیار ملک ہر گزرنے والے دن کے ساتھ پیچھے ہٹ رہا ہے۔ اور کسی سانپ کی پھنکارتا ہوا وہ سنگین مسئلہ ہے،

عدم مساوات


امیر اور غریب کے رہن سہن میں زمین و آسمان کا فرق ۔ امراء کے اللے تللوں کے لئے ہر طرح کی لُوٹ کھسوٹ جائز۔
اور غریب ۔باوجود چودہ گھنٹے کی مشقت کے۔ روزی روٹی اور زندگی گھسیٹنے کی بنیادی ضروریات کے لئے سسکتا ہوا۔ 
ایک طرف اربوں اور کھربوں کے اثاثوں کی مالک۔ ملک کی چند فیصد اشرافیہ ۔اگر تو اسے اشرافیہ کہا جاسکتا ہے۔
اور دوسری طرف غربت اور غربت کی لکیر سے نیچے بے توقیر دو وقت کے روٹی کا جتن کرتی ملکی اکثریت۔

تب اور آج بھی ملک کے تمام وسائل پہ قابض مگر مزید ہوس کے مارے۔ملکی عزت و وقار اور آزادی اختیار کو بیچ کر دام کھرے کرنے والے امراء ۔

اور دوسری طرف ایک مناسب زندگی کی نعمتوں سے محروم ۔ دو وقت کے روٹی کے مارے بے وقعت و بے اختیار ۔ زندگی گھسیٹتے ۔ زندگی بھگتتے۔اسی فیصد سے زائد محروم عوام ۔ 

تب بھی نظام و سرکار و دربار پہ قابض رزیل ترین امراء ۔
اور آج بھی پاکستان کے ہر قسم کے وسائل پہ قابض ۔ اور پاکستان کے تمام وسائل کو اپنا پیدائشی حق سمجھنے والا۔ملکی آبادی کا چند فیصد فرعونی طبقہ۔

بے اختیار اور مجبور رعایا تب بھی جہاں پناہ اور ظل الہی کے الاپ جابتی اور آج بھی فلاں ابن فلاں کے زندہ باد اور پائیندہ باد کے نعرے لگاتی ۔
اور بدلے میں کل بھی نظام کو بدلنے سے محروم۔ بے بس رعایا اور آج بھی عوام پاکستان میں مروجہ تمام نظاموں میں اپنی رائے سے ۔ اپنی طرح کے غریب نمائندوں کے ذریعے ۔اپنی طرح کا کوئی غریب حکمران چننے سے محروم عوام۔ 
تب بھی رعایا کو عملا نظام میں کسی طور پہ مداخلت سے محروم رکھنے کے لئیے ۔ دربار ۔ سرکار۔ اور افضل النسل ہونے کے تفاخر میں جاگیروں۔ نوابیوں اور حکمرانی کے پیدائشی اور مورثی ہتکنڈے۔

اور آج بھی پاکستان کے نظام کو ترتیب دینے کے لئیے بالا دست طبقے کے لئے کروڑوں خرچ کر کے۔ پی این اے اور ایم این اے بننے کے مواقع اور نظام اور اسکی پالیسیوں کو بالا دست طبقے کی لوٹ کھسوٹ اور بندر بانٹ کے مواقع پیدا کرنے کے نت نئے طریقے۔
تب بھی اعلی تعلیم اور کارِ سرکار میں ملازمت کے لئے اور اشرافیہ کا امتیاز ۔ تفاخر۔ اور اعلی شناخت برقرار رکھنے کے لئے ان کی اپنی غیر ملکی درآمد شدہ زبان فارسی ۔  اور آج بھی عوام پہ امراء کے تسلط کو قائم رکھنے کے لئے کام کرنے والوں کے ”انگریزی کلب“ میں داخلے اور تسلط کے لئیے دو فیصد سے کم ملکی آبادی کی سمجھ میں آنے والی درآمد شدہ زبان انگریزی۔

القصہ مختصر کل بھی رعایا کو اور آج بھی عوام کو ملک کے وسائل میں سے کچھ نصیب نہیں ہوتا تھا ۔ اور آج بھی ملکی وسائل پہ قابض چند فیصد اشرافیہ ۔زندہ رہنے کی جستجو کرنے والے اسی فیصد سے زائد عوام کو کمال نخوت سے دھتکار دیتی ہی۔ اور انھی عوام کی محنت اور وسائل سے رزیل ترین اشرافیہ دن بدن طاقتور ہو رہی ہے۔ جبکہ عوام کی اکثریت کے پیٹ کمر سے جا لگے ہیں ۔  نظام اور وسائل پہ قابض لوگوں نے طرح طرح کے ہتکھنڈے ایجاد کر رکھے ہیں جن سے انکے مفادات کی تعمیل و تکمیل تو بہ احسن ہورہی ہے مگر پاکستان کی اسی فیصد آبادی کا جسم اور سانس کا تعلق مشکل ہوتا جارہا ہے۔

انگریزوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی سے تب بھی یہی اشرافیہ معاملات کرتی تھی اور بالآخر ملک کی آزادی کو بھی بیچ ڈالا ۔ اور آج بھی وہی اشرافیہ عام عوام کو دبائے رکھنے اور اپنے تسلط اور لوٹ کھسوٹ اور ملکی وسائل کی بندر بانٹ کے لئے ۔ امریکہ ۔ مغرب ۔ بڑے ٹھیکے۔ ارپوریشنوں سے معاملات۔ عوام پک یہ ٹیکس ۔ وہ ٹیکس ۔ قومی اداروں اور اثاثوں کو درست کرنے کی بجائے انکی پرائیویٹیشن ۔ آئی ایم ایف۔ ورلڈ بنک ۔ اپنے عوام کی عزت نفس کو رگڑ کر اغیار کی چاپلوسی ۔

نہ تب مسکین اور بے بس رعایا کو کویئ حق حاصل تھا۔ نہ آج ملکی معشیت اور نظام کا پہیہ چلانے والی۔ اس ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی اسی فیصد آبادی کو اختیار ، عزت سے جینے کا کوئی حق حاصل ہے۔

یہ قرین انصاف نہیں کہ کل بھی رذیل اشرافیہ نے آنکھیں بند کر کے ملک و قوم کو انگریزوں کے حوالے کر دیا تھا ۔ اور آج بھی محض اپنے اللوں تللوں کے لئے ، ملک و قوم کے وسائل اور قسمت پہ قابض۔ وہی چند فیصد طبقہ ایک بار پھر ملک و قوم کی آزادی اور عزت کو ماضی کی طرح داؤ پہ لگائے ہوئے ہے۔
ملک کی قسمت کے فیصلوں میں تب بھی رعایا بے زبان تھی ۔ اور آج بھی عوام اپنی تقدیر بدلنے اور اپنے ملک کی قسمت کے فیصلوں میں بے اختیار ہیں ۔حکمران اور حکمرانی کے امیدوار سب ہی چارٹر طیاروں میں سفر کررہے ہیں اور سینکڑوں ایکڑز کے محلات میں رہ رہے ہیں۔ 

ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
پاکستان کی آزادی اور آختیار کا سودا جاری ہے۔

نوٹ:
 یہ داستان المناک و حزن و ملال ایک مرثیہ ہے ایک ماتم ہے اس قوم کا جس نے اپنے کل سے سبق نہیں سیکھا اور آج بھی اسی روش پر چل رہے ہیں۔ یہ داستان جناب محترمی  وہ مشفی جاوید گوندل صاحب نے بارسلونہ سے لکھی ہے فیس بک نوٹ کی شکل میں، اس کو وقت کی گرد سے بچانے کےلئے ادھر شئر کردیا گیا ہے۔
  

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش