سوموار, جون 06, 2016

روزے کی تیاریاں

اہو ہو کل روزہ پینڑاں ہے بابیو۔
ہیں جی، چل بچہ کچھ سامان ہی لے آئیں، 
دیکھ گھر میں کیا کیا ہے، کیا کیا لانا ہے
اچھا اور کچھ؟؟
پر دیکھنا روزہ بہت لمبا ہے، اوپر جون کا مہینہ بھی ہے
 
گرمی تو ہوگئی ہی ہوگی۔
 
جوس، نمبو، چار کلو چینی، شربت بھی تو پئیں گے
فروٹ، بابیو،
 
سارے فروٹ لانا، جو تازے ہیں وہ والے
ہاں اور کھجوریں بھی، وہ موٹی آلی، آچھا جی
اچار، الائیچی ہاں الائیچی اور دار چینی بھی، ان کا قہوہ پینے سے پیاس کم لگتی ہے۔
 
سالن اچھا ہو، تاکہ دن کو بھوک نہ لگے۔
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کل کا سین تھا۔
 
آج پاکستان سے نسخے آرہے ہیں
 
پھکیوں اور معجونوں کے، قلاقند کے،
 
دیسی گھی اور مکھن
سرد مشروبات کا زیادہ سے زیادہ استعمال۔
 
تاکہ دن کو بھوک نہ لگے پیاس نہ لگے۔
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ آج کا سین ہے۔
 
اور میں سوچ رہا تھا،
 
کہ اگر رمضان کے آنے کا مقصد بھوک اور پیاس سے بچنا ہی ہے تو پھر بندہ آرام سے دن کو کھانا کھائے اور پانی پئے۔ نہ رکھے روزے، آخر اللہ کو بھی تو ہماری بھوک اور پیاس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے،
 
وہ تو نیت دیکھتا ہے، وہ تو نیاز مندی دیکھتا ہے۔
 
مقصد تو تھا، کہ تو بھوک محسوس کر، پیاس محسوس کر، لڑائی جھگڑا ترک کردے، مسکین ہوجا۔
 
مسکین کی حالت کو محسوس کر، اور اسکی فکر کر۔
 
پر نہ ہم کو تو اتنا سوچنا ہی نہیں ہے۔
 اچھا آپ ہی بتاؤ روزے میں بھوک اور پیاس و کمزوری سے بچنے کے کچھ نسخے

سوری، یاد کرانا تھا، کہ رمضان میں عبادت ہوتی ہے،  نماز قرآن اور معافی  تلافی۔ دوسروں کا خیال رکھنا، 
نہ کہ پھاوے ہوئے پھرنا ۔ 





مکمل تحریر  »

جمعرات, اگست 14, 2014

چاچاجی کھاآئے او؟؟؟

سنہ ستاسی سے لیکر سنہ ترانوے تک کے سال میرا    زمانہء طالبعلمی تھا۔ زمانہ ء  طالبعلمی سے میری مراد کالج  کے وہ برس  ہیں ، جن میں ہم نے اسکول اور ماسٹر جی کے ڈنڈے کی زد سے نکل کر، دنیا کو دیکھنا شروع کیا اپنی آنکھ سے اور اپنی مرضی سے گھومنا شروع کیا، اباجی کے خرچے پر۔  ہائے ہائے وہ  نوجوانی، لاابالی اور خرمستیوں کے دن۔

جو لوگ ان دنوں میں جہلم میں طالبعلمی کے دور سے گزر رہے تھے  انکو ایک تانگے  والا بابا یاد ہو گا جو جادہ سے شاندار چوک مشین محلہ روڈ پر اور اسلامیہ اسکول روٹ پر چلا کرتا تھا۔ 

عمر شاید چاچے کی یہی کوئی پچاس پچپن ہی ہوگی ، مگر شاید افتاد زمانہ ، غربت اور ہماری نوجوانی کی وجہ سے وہ ہمیں بڈھا  نظر آتا تھا۔  میرا خیال ہے کہ اس میں زیادہ قصور ہماری نوجوانی کا تھا، تب جو ہمیں بڈھے نظر آتے  تھے وہ اتنے بڈھے بھی نہ تھے، جیسے آجکل ہمیں جو چالیس کے پیٹے میں ہیں لڑکے بالے کہتے ہیں چاچا جی، انکل جی  اور ہم دل میں کہہ رہے ہوتے ہیں اوئے باز آجا، کتھوں دا چاچا، کہڑا انکل؟

یہ تانگے والاپورے جہلم شہر میں مشہور تھا،   خیر تب جہلم شہر تھا ہی کتنا،   مگر چاچے کی دھوم تھی ہر طرف۔
چاچے کی وجہ شہرت اس تانگے بان کی گالیاں  اور اسکی چھیڑ تھی "چاچا جی کھا آئے او؟"

کسی آتے جاتے نے چاچے کو کہہ دیا  کہ چاچا جی کھا آئے ہو، اور چاچے نے اسٹارٹ ہوجانا، تیری ماں  دا۔۔۔۔ کھا آئیاں
تیری پہنڑ دا ۔۔۔۔۔ کھاآئیاں۔    اور اسکے بعد چاچے نے آدھے گھنٹے تک اسٹارٹ رہنا،  تیری میں۔   تیری میں۔۔۔  ،
اور یار لوگ ان گالیوں کا مزہ اٹھاتے ، ہنستے ، دانت نکالتے اور ٹھٹھہ کرتے۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ فسادی لوگ چاچے کو بلخصوص اس وقت چھیڑتے تھے، جب اسکےتانگے میں خواتین اور وہ بھی بلخصوص "کالج کی کڑیاں "سوار ہوتیں اور چاچا اسٹارٹ ہوجاتا،   شریف "کڑیاں "  بہت شرمندہ ہوتیں اور یارلوگ دونوں کا حظ اٹھاتے۔بعد میں سنا کہ عورتوں نے چاچے کے تانگے میں بیٹھنا ہی ترک کردیا۔ اور جو اردگرد ہوتیں وہ اپنا منہ چھپا لیتیں،  چاچا  بہت ننگی اور موٹی موٹی گالیاں دیا کرتا تھا اور علٰی طول دیا کرتا تھا۔ 


ہمارے زمانہء طالبعلمی سے قبل ہی یہ چاچا ایجاد ہوچکا تھا۔ تو جنابو اس کا کریڈٹ ہم اپنے سر نہیں لے سکتے۔   تب اسے  " چاچاجی کھا آئے ہو"  کہا جاتا تھا۔  پھر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اس چاچے کی کمر اور جھک گئی ،  عینک کے شیشے مزید دبیز ہوتے گئے،  سرکے بال اور داہڑی کے بال بھی کچھ مزید  سفید ہوتے گئے،  اب چاچا  کمزور ہوچکا تھا جسمانی طور پر اور یارلوگوں نے  "چاچاجی" کی بجائے " باباجی کھا آئے ہو"  کا نعرہ لگانا شروع کردیا۔

مگربابے کی گالیاں اور آواز کی گھن گرج وہی رہی۔

ہرچیز کا ایک وقت اور ایک رواج ہوتا ہے اور اسکے  بعد وہ  روٹین اور نرگسیت کا شکار ہوجاتی ہے۔ پس باباجی کھا آئے او کو بھی لوگوں نے چھیڑنا  ترک کردیا ۔

مگر باباجی جو کہ عادی ہوچکے تھے اس " رولے " کے ۔  تو انکو پھر اس بات پر گالیاں دیتے ہوئے دیکھا گیا کہ "آج سارے کتھے مرگئے او؟ آج سب کو چپ لگی ہوئی ہے؟؟   اوئے تہاڈی میں  ماں نوں۔۔۔۔۔ ،  تہاڈی پہنڑں   نوں۔۔۔۔۔۔۔۔
پر تب کوئی ہنستا بھی نہیں تھا۔

لوگوں کےلئے وہ گالیاں روٹین بن چکی تھیں،  لوگ نرگسیت کا شکار ہوچکے تھے۔ 

اور کچھ عرصے بعد معلوم ہوا کہ باباجی نے تانگہ چلانا ترک کردیا ہے اور مسجد کے ہی ہوکر رہ گئے ہیں۔  اسکے بعد کا کچھ علم نہیں

معالجات کی تعلیم کے دوران جب الزائمر کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ یہ اسکا پہلا فیز ہے۔ اسکے بعد مریض بھولنے شروع ہوجاتا، اورمذہب کے قریب ہوجاتا ہے،  پھر مختلف خیالی چیزوں یا واقعات کا بیان کرنا، اور پھر آخیر میں وہ کیفیت ہوتی ہے جسکو پاگل پن کہا جاتا ہے۔


فیس بک  ہمارا آج کا شہر ہے  اور پورا ایک محلہ بھی، جس پرہمارے دن کے کئے گھنٹے بلکہ کئی بار تو پورا پورا دن ہی گزر جاتا ہے۔ 

ادھربھی گزشتہ دنوں ایک ایسا کردا ر ایکٹو تھا۔ جو ہر کسی کو ہر بات پر مغلظات بک رہا تھا۔  یہ موٹی موٹی گالیاں دے رہاتھا۔ سب کی ماں بہن ایک کررہا تھا۔

اب لگتا ہے بھولنے کے فیز سے گزر رہا،   کہ کہہ رہے کہ میں نے تو آپ کو گالیں نہیں، اچھا نہیں بھی دیں تو بھی معذرت کرلیتا ہوں۔
میری اللہ تعالیٰ  سے دعا ہے کہ الزائمر کے سارے مریضوں کو شفاء عطا فرمائے اور انکے لواحقین سے درخواست ہے کہ انکا باقاعدہ علاج کروایا جائے، یہ مرض قابل علاج ہے، اس میں مریض کے ارد گرد کےلوگوں کو بہت حساس رہنا پڑتا ہے۔ بہت حوصلہ سے ، تاکہ مریض کی صحت کی بحالی  کو حاصل کیا جاسکے۔



مکمل تحریر  »

بدھ, اگست 21, 2013

میرے خوابوں کا پاکستان





خواب  تو ہر بندہ ہی دیکھتا ہے اور ہم بھی، بس، بلکہ ہم تو کچھ زیادہ ہی خوابناک واقع ہوچکے ہیں، ذاتی طور پر بھی اور من حیث القوم بھی۔  خیر اسکا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ بندہ کچھ نہیں کرتا اور خواب دیکھتا رہتا ہے اور علامہ خوابناک ہوچکا ہے وغیرہ وغیرہ، جی نہیں اب ایسی بھی کوئی بات نہیں،   پھر بھی جاگتے میں کچھ خواب دیکھنا تو بنتا ہے۔ 

 علم نفسیات کے مطابق خواب بندے کی ذہنی و جسمانی کیفیت کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں ایسے ہی عمر کے مطابق بھی، آج چونکہ ہمارا موضوع چونکہ ہمارے خوابوں کا پاکستان ہے تو پاکستان کے بارے کچھ خواب بیان کئے جاویں گے۔ 

پہلاخواب
ملک میں رزق، یہ بڑا خواب تھا اور پہلا بھی، بعد از تعلیم وتعمیر جب کالج میں بطور لیکچرار آفر ہوئی اور ساتھ ہی اپنا کلینک بھی بنا لیا شام کے اوقات کےلئے تو خواب پورا ہوتا ہوا نظر آیا مگر پھر وہی چکنا چور ہو گیا کہ اس اسٹیٹس میں اور اس آمدن میں گزارہ کون اور کیسے کرے، بس کھینچ تان کے مہینہ پورا ہوتا اور ہم ہوتے، فالتو کے کسی بھی خرچہ کےلئے ابا جی کی خدمت میں درخواست جمع کروانی پڑتی ۔ ہیں جی۔ اللہ اللہ یہ خواب ابھی تک ایسا ہی ہے کہ ہر نوجوان کو پاکستان کے اندر ایسا روزگار ملک جاوے جو اسکے سارے بنیادی اخراجات پورا کرنے کا ضامن ہو اور کوئی بندہ پھر ملک سے باہر جانے کا نام بھی نہ لے۔ 

دوسرا خواب 
چونکہ ہماری پیدائش و تربیت ایک دیندار اور ایماندار گھرانے میں ہوئی ہے تو ہماری تربیت میں شامل ہے کہ دوسروں کا خیال رکھو، کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہونے پائے، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے شفقت کا برتاؤ ہونا چاہئے یہ ہمارا خواب بن گیا کہ پاکستان میں سب ایسے ہی ہوں۔

پردیسی کے خواب 
جب دیس سے دانہ پانی اٹھا تو پردیسی ہوئے، کچھ اور طرح کے خواب جانے کیوں خود بخود ہی بن گئے۔ بہت سے ممالک کی یاترا کے دوران، کسی کانفرنس میں، کسی جلسہ و کورس کے دوران، یہ سوال اٹھ ہی جاتا ہے کہ تم کہاں کے ہو؟ پاکستان کا۔ اوہو، اچھا تو کیسا ہے پاکستان؟؟  حقیقتاُ یہ سوال وہ کوئی شغل کےلئے نہیں کرتے، کیوں کہ کسی عوامی درجہ کے بندے کو پاکستان کے بارے آگاہی ہے ہی نہیں، ہے بھی تو بہت کم۔ بس پھر ہمارے خوابوں کا پاکستان شروع ہوجاتا ہے۔ خوابوں سے بھی زیادہ خواہشات کا پاکستان۔

 وہ پاکستان جو میرا ہے، جہاں دنیا کے بلند بالا پہاڑ ہیں، گلیشیرز ہیں اور انکی ٹھٹھرتی ہوائیں بھری گرمیوں میں یخ بستہ ہوتی ہیں، جہاں کی جھیلوں کا شفاف پانی آپ چلو میں لیکر پی سکتے ہیں، جہاں ٹرواؤٹ مچھلی کو ایسے ہی شلوار کو گانٹھ لگا کر آپ پکڑ سکتے ہیں 
ہمارے پاکستان میں پٹھان ہیں جو اپنی مہمانداری اور شجاعت میں ثانی نہیں رکھتے، دشمن انکے نام سے ہی کانپتے ہیں، جنکی دینداری مسلمہ ہے،  جہاں پنجابی دہکان زمین کا سینہ چیر کر سال میں تین فصلیں اگاتا  اور پورے ملک ملک کو گہیوں، گنے چاول دالوں کی کمی نہیں ہونے دیتا، جس کا سندھی اپنی مچھلی اور سبزیوں و کھجوروں سے ملک کو خودکفیل کرتے ہیں، جہاں بلوچی کوہ شکن پہاڑوں کو چیر کر تیل گیس، کوئلہ سے لیکر یورینیم سونا تانبہ تک اور ہیرے وغیرہ بھی نکال لاتا ہے، جہاں مہاجر اپنے آپ کو ملک کو عام باشندہ سمجھتے ہیں اور صنعتی ترقی میں اپنا پورا کردار ادا کررہے ہیں۔ 

پاکستان میں پانچ دریا اور پانچ ہی موسم ہیں جو خوبانی سے لیکر کھجور تک میں ہمیں خود کفیل بناتے ہیں۔ جہاں زمیں سونا اگلتی ہے اور پانی کے جھرنے چاندی کےہیں، جہاں درخت زمرد کے بنے ہوئے ہیں۔ اللہ کا اتنا کرم ہے کہ کوئی غریب نہیں، ہو بھی کیسے سب لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ دریاؤں کا پانی اس حد تک صاف کہ بس چلو میں لو اور پی لو، منرلز سے بھرا ہوا، خریدنے کی ضرورت ہی نہیں۔ بس

 پاکستان میں لوگ بہت دیندار ہیں اور ایماندار اس سے بھی بڑھ کر، اتنے کہ پولیس تھانہ ہے تو سہی مگر لوگوں کو یاد ہی نہیں رہتا کہ ہے کہاں پر، جرائم تو ہیں ہی نہیں، اول تو کوئی چورا چکاری ہیرا پھیری کانام ہی نہیں کوئی ایک ادھ واقعہ پیش آبھی جائے تو کوئی بزرگ لعن طعن کردیتا ہے اور اگلا توبہ کرلیتاہے۔ پولیس کا کام صرف یہ ہے کہ وہ رفاع عامہ کا خیال رکھے، کسی کی گاڑی راستہ میں خراب ہوگئی تو پولیس والے نے ٹائر بدلی کردیا، کسی مائی کا پرس کھو گیا تو وہ تھانے چلی گئی اور بس تھانیدار نے اسکو سفر کا کرایہ اپنی جیب سے نکال دیا۔  کوئی کہہ رہا تھا کہ پولیس اب آگ بجھانے کا کام بھی کرتی ہے۔  

انصاف کا یہ عالم کہ عدالتوں میں تو لوگ جاتے ہی نہیں، ضرورت ہی نہیں، بس بھول چوک یا کوئی غلطی ہوگئی اور اگلے نے فوراُ معافی مانگ لی اور دوسرا کوئی بات نہیں بشری غلطی کہہ کر نکل لیتا ہے۔ دل میں بغض و کینہ تو نام کو نہیں، عدالتیں تو اب صرف اکا دکا اتفاقیہ جرائم اور حادثات نپٹاتی ہیں، سنا ہے کہ یہ محکمہ ہی ختم کیا جارہا ہے کہ جب ضرورت ہی نہیں تو پھر۔ جب ایمانداری کا یہ عالم ہو کہ آپ اپنا پر بس اسٹاپ پر چھوڑ آئیں اور شام کو وہ آپ کے گھر پہنچ جاوے، گھروں کو تالا کوئی نہ لگاتا ہو، تو پھر عدالتیں کیا کریں گی آپ ہی بتلاؤ۔ تلخ کلامی اور چیخ چیخ تو بھول ہی جاؤ بس۔ 

پاکستان میں مسجدیں نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوتی ہیں اور امام صاحب صرف تقریریں نہیں کرتے بلکہ لوگوں کے مسئلے حل کررہے ہوتے ہیں، تفرقہ تو نام کو نہیں اور مسجد میں لوگ صرف نماز پڑھنے نہیں جاتے، وہاں تو جناب ایک دوسرے کا حال احوال دریافت ہوتا ہے، کسی کو کوئی پریشانی، کوئی مشکل، ہوتو فوراُ حل، اور مسجد چندہ بھی نہیں مانگتی، بلکہ مسجد کے اتنے وسائل ہوتے ہیں کہ وہ غریبوں، مسکینوں کی مدد کردیتی ہے، فقراء اور بھکاری تو خیر ہیں ہی نہیں۔ اسلحہ لیکر مسجد کے پاس سے گزرنا تو درکنار، لوگ تو مسجد سے 500 میٹر کے فاصلے تک بحث نہیں کرتے احتراماُ۔ لوگ ملک سے محبت کرنے والے، خبردار ہے جو کوئی ملک کے خلاف بات تک کرجاوئے۔ دنیا بھر کے پھڈے مسجد میں بیٹھ کر ہی نمٹادیے جاتے ہیں۔  

لڑکے بالے ابھی کالج کے آخری برس میں ہوتے ہیں تو انکوحسب لیاقت ملازمت مل جاتی ہے، تنخواہ بہت اچھی اور اوپر سے عوامی سادگی کی انتہاء نمود نمائش تو دیکھنے میں نہیں ملتی، لوگ اپنے نمائش پر خرچنے کی بجائے دوسروں پر خرچنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ بس ہر طرف سکون ہی سکون۔ چین ہی چین۔ 

مرد اور عورتیں سب کے سب تعلیم یافتہ مگر اپنے کام سے کا رکھنے والے، مجال ہے جو کسی کو کوئی گھور کردیکھ جائے، بی بیاں بھی بہت نیک سیرت اور باپردہ اور مرد لوگ ان سے بھی بڑھ کر محتاط۔ بچے بزرگوں کا ہاتھ تھام لیتے ہیں کہ بابا جی آپ کو گھر تک چھوڑ آئیں اور بزرگ بچوں پر جان نچھاور کرتے ہوئے کہ بچے تو سب کے سانجھے ہوتے  ہیں۔
رشوت نام کو نہیں، غلہ اسٹاک بلکل نہیں ہوتا، سسفارش کی ضرورت نہیں ہوتی کہ سب کام خود ہی ہوجاتے ہیں۔ ماسٹر صرف اسکولوں میں پڑھاتے ہیں اور وہی کافی ہوتاہے، ڈاکٹر ہیں کہ مریض کےلئے بچھ بچھ جاتے ہیں اور سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو اڈیک رہے ہوتے ہیں اور لوگ بیمار ہوتے ہی نہیں، خوراکیں بھی تو اچھی ہیں، ہر چیز خالص، ہر بندہ صبح کی سیر کرتا ہے، نکھٹو ہے کوئی نہیں تو بیمار کون ہوگا۔ لوڈشیڈنگ بلکل نہیں ہوتی اوپر سے بجلی بھی بہت سستی ہے، گیس تو قریباُ مفت ہی ہے۔ پیٹرول بہت سستاہونے کے باوجود لوگ سائیکل سے آتے جاتے ہیں کہ صحت کی صحت اور بچت کی بچت۔ 

ٹیکنالوجی کا یہ عالم ہے کہ بس کچھ نہ پوچھو، یہ ایٹمی روبوٹ سے لیکر میزائیل اور فاؤل پروف دفاعی نظام تو ہماری پہچان ہے، دشمن کی مجال جو ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکے، یوں بھی ہم ایک قوم ہیں، زندہ قوم ہیں۔ فوج دفاع کو تیار ہے تو لوگ فوج پر جان نچھاور کررہے ہیں، بس ترقی دن دگنی اور رات چوگنی۔


سیاستدان صرف عوام کی فلاح کا کام کرتے ہیں اور سرکاری ادارے خدمت عوام کا۔ جہاں نہ کوئی بڑا ہے نہ کوئی چھوٹا، جہاں کسی گورے کو کالے پر فوقیت نہیں اور کسی کالے کو گورے پر، نہ کوئی امیرکسی غریب کا حق مارتا ہے اور نہ کوئی غریب کسی امیر کو دیکھ کر صدا لگاتا ہے۔ ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھتا ہے اور دوسرے کی حق تلفی ایک کبیرہ گناہ سمجھی جاتی ہے۔ 

پاکستان سے کوئی بندہ بیرون ملک روزگار تلاش کرنے نہیں جاتا، جو پہلے چلے گئے تھے وہ واپس آگئے ہیں  یاسر خومخواہ جاپانی صاحب بھی واپس آگئے ہیں، خاور کھوکھر گاڑیاں پاکستان سے جاپان سپلائی کررہے ہیں، علی حسان اور عمیرملک بس تعلیم حاصل کرنے کو ادھر ہیں  پھر انہوں نے بھی واپس ہولینا ہے، میں بھی ادھر صرف پڑھنے پڑھانے کو ہوں، یہ ختم تو ہمارا ادھر کیا ہےکہ جب ملک کے اندر ہی اتنے وسائیل ہیں اتنا نظام ہے تو کیا کرنا پردیس جھیل کر۔ ہمارے پاسپورٹ پر پوری دنیا میں کہیں ویزے کی ضرورت نہیں ہے، بس ٹکٹ لو اور چلے جاؤ۔ لوگ دنیا میں قرآنی حکم کے مطابق صرف سیرکرنے اور علم حاصل کرنے جاتے ہیں۔

ہر خواب کی ایک تعبیر بھی ہوتی ہے، کہتے ہیں کہ ایک ایسے ہی پاکستان کا خواب علامہ اقبال رحمتہ اللہ نے بھی دیکھا تھا، بڑوں کی زبانی بھی ایسے ہی پاکستان کا سنا اور انکی آنکھوں میں بھی کچھ ایسے ہی خواب دیکھے، ابھی تو آنکھ کھلی ہے لیکن امید پوری ہے کہ یہ سچا خواب ہے، ہوسکتا ہے کہ  اس کی تعبیر میں نہ دیکھ سکوں مگر آنے والی نسلیں ضرور دیکھیں گی، 
انشاء اللہ

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جولائی 28, 2012

لڑکی واپس

ہماری گزشتہ پوسٹ میں تلبلاہٹ اور جھنجھاہٹ سے بہت سے احباب اور ہم خود بھی "تلووصیلہ"  تھے، مگر آج انہی محترمہ کا پیغام تھا جنہوں نے اس خبر کی نشاندہی کی تھی کہ وہ لڑکی واپس آچکی ہے اور یہ کہ وہ اپنے اس  " یار"  عرف کلاس فیلو یعنی کہ اسکی غیرملکی لڑکے کے گھر موجود تھی جس کے ساتھ دکاندار نے اسے دیکھا ۔

میری تلبلاہٹ پھر وہیں ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ گھر والوں کو اس طرح کے حالات کا شائبہ تک نہ ہو اور یہ کہ "ایڈے سادے وی نہ بنڑو" اور اپنے بچوں پر نظر رکھو بلکہ انکو بچاکررکھو،  بچوں کی حفاظت کا مطلب ان پر جبری کنٹرول قطعی نہیں ہے، بلکہ ایک یہ بھی طریقہ ہے کہ آپ انکے اتنے قریب ہوں کہ وہ  اپنی ہر بات  آپ کے ساتھ شئر کریں اور لازمی طور پر آپ انکو کچھ صائب رائے ہی دیں گے، مگر ہمارے ہاں اس کے الٹ ہوتا ہے کہ بچوں کو اتنا ڈرا کر رکھا جاتا ہے اتنی ٹینشن دی جاتی ہے کہ  کوئی جائے مفر  نے پاکر کدھر جائیں ہم۔
اب کے جی تو چاہتا ہے کہ مرہی جائیں ہم
جو مرکے بھی چین نہ پائیں تو کدھر جائیں ہم   

اور یہ بھی کہ اس طرح کے واقعات پاکستان میں بھی ہوتے ہیں اٹلی میں ذرا زیادہ ہوسکتے ہیں، مگر جب ایک معاملہ ایک گھر کا ہو تو اسے اخبار کی زینت بننے سے بچانا چاہیئے ،  کیونکہ پھر بات ایک گھر کی نہیں ہوتی بلکہ پاکستانیوں کی ہوتی ہے۔
کہ یہ سارے ہی کنجر ہیں

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جولائی 21, 2012

لڑکی غائب

ایک محترمہ نے بعذریہ فیس بک پوچھا کہ اگر مجھے اس بارے کچھ علم ہے، تو مگر میری لاعلمی پر  " ایل جورنو "  نامی اخبار کا لنک فراہم کردیا،
ساری  خبر کا ترجمہ میں ادھر کردیتا ہوں،  باقی آپ جانیں کہ کس نظر سے دیکھتےہیں۔

میری بیٹی غائب ہوگئی ہے، اسے تلاش کرنے میں میری مدد کی جائے۔
مونزہ ،  سولہ سالہ پاکستانی لڑکی غائب۔
باپ: " وہ تو اسکول میں پہنچی ہی نہیں"  اسکے پاس پیسے تھے نہ ڈاکومنٹس،  مگر ایک دکاندار نے اسے ایک لڑکے کی کمپنی میں دیکھا۔
اچانک ہی گم ہوگئی  نو جولائی سے،  اسکا نام ہے  عائشہ پروین،   پاکستانی، سولہ برس کی ہے،  لمبے سیاہ بال جو چہر ے کو فریم میں لاتے ہیں،  ایک میٹر ساٹھ کی قامت، متناسب جسم،  وزم چالیس کلو کے قریب،   سرکاری طور پر وہ صبح گھرسے اسکول جانے کو نکلی ، جہاں وہ  بنیادی زبان کی تعلیم لیتی ہے، اور یہ اسکول گھر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے،  مگر عائشہ اس اسکول میں شاید کبھی گئی ہی نہیں۔

اسکول میں اس صبح اسے کسی نے دیکھا ہی نہیں ،  نہ پروفیسروں نے اور نہ ہیں اسکے کلاس فیلوز نے،  اسکا باپ عجائب حسین عمر 53 برس قومیت پاکستانی ، جو اٹلی میں دس برس سے زیادہ کے عرصہ سے مقیم ہے اور باغبانی کا کام کرتاہے،  ہمت ہارچکا ہے۔ وہ ، اسکے اہل خانہ، دوست، ہم وطن سب ملکر اسی شام سے اسے تلاش کررہے ہیں۔  اسکا بڑا بیٹا بلال ، ذاتی طور پر پرچا کٹوانے گیا تھا دوسرے دن ہی کاریبینیری کے متعلقہ دفتر میں۔

باپ کے بقول: " ساڑے بارہ بجے تک جب وہ واپس گھر نہیں آئی تو ، میرا بیٹا اسے اسکول میں تلاش کرنے گیا مگر وہاں پر معلوم ہوا کہ وہ تو اسکول گئی ہی نہیں ،   ہم نے اسے ہر جگہ تلاش کرنا شروع کردیا، ہسپتالوں میں ، مما ریٹا کے گھر میں ۔۔۔۔۔۔۔،  تین برس قبل عجائب حسین نے اپنی فیملی کو مونزہ میں بلاکر اکٹھا کیا، جس میں اسکی بیوی کے علاوہ چھ بچے بھی ہیں، بیس برس سے بارہ برس کی عمر تک کے۔ مسلمان اور رسم ورواج کے پابند،  "مگر ہم ان بریشیا کے پاکستانیوں کی طرح نہیں ہیں"،  عجائب حسین ہاتھ اگے رکھ کر   بریشیا میں چند برس قبل والد کے ہاتھوں قتل ہونے والی لڑکی حنا سلیم کا حوالہ دے رہا تھا،  جس پر مغربی طرز حیات کو اپنانے کا الزام تھا۔

جبکہ ٹوٹی پھوٹی اٹالین میں ، گلہ بھر کر بیان کررہا تھا کہ جب سے عائشہ گم ہوئی ہے تب پوری فیملی پریشان ہے  " ہم نے تو کھانا تک نہیں کھایا"۔ عجائب حسین اس دوران متعدد بار پھٹ پڑ ا ، رونا ضبط کرلیا مگر  اسکے آنسو نہ نکلے۔ تصویر جو بنتی ہے وہ سب مگر واضع نہیں: لڑکی صرف اردو میں ہی بات کرسکتی تھی جو پاکستان کی قومی زبان ہے، اسے اٹالین کا ایک لفظ نہیں آتا تھا  جبکہ وہ دو برس سے  بیلانی نامی مڈل اسکول میں زیر تعلیم ہے ، عین ممکن ہے کہ اسکول کے اساتذہ نے ہی اسے بنیادی اٹالین کے اسکول میں میں پڑھنے کا مشورہ دیا ہو۔


باپ کے بیان کے مطابق اسکے دوست نہ تھے اور لڑکے تو بلکل بھی نہیں،  (مگر اس صبح ایک دکاندار نے اس لڑکی کو ایک غیر ملکی لڑکے کے ساتھ دیکھا ہے)، صرف ٹی وی دیکھ لیتی تھی، ( وہ بھی انڈین فلمیں )،  وہ انٹرنیٹ کا استعمال نہیں جانتی تھی اپنے بھائیوں کے برعکس،  "بس اپنے کمرے میں گھنٹوں چپ چاپ  پڑی رہتی،نہ تو احتجاج کرتی تھی ، نہ ہی  کوئی مطالبہ نہیں کرتی تھی، نہ  ہی پیسے مانگتی تھی،  کچھ بھی تو نہیں کہتی تھی"۔ گم ہونے کی صبح اس نے گلابی رنگ کی چھوٹے بازوؤں والی قمیض  پہنی،  براؤن رنگ کی  پنتلون اور جوتے، اور دوپٹہ سر ڈھانپنے کو۔  تفتیش کاروں  کا جبکہ خیال ہے کہ عائشہ خود ایک طرف ہوگئی ہے، اور یہ کہ اسے ممکنہ طور پر کسی  کی پناہ حاصل ہے،  شاید کسی ہم وطن کی۔

"یہ  میرے بچوں میں سے چوتھے نمبر پرہے"۔ عجائب حسین بیان کررہا تھا۔ میں تو بس اسکےلئے ایک دن ایک اچھا شوہر تلاش کرنا چاہ رہا تھا، اٹلی میں ایک لڑکی کےکرنے کے کام نہیں ہیں۔   ایک شوہر شاید باپ کا منتخب کردہ،  جو گرمیوں کے بعد بڑی بیٹی کی شادی کرنے کا اہتمام کررہا تھا " ایک ہم وطن دوست کے بیٹے کے ساتھ۔۔ ۔ "  مزید کچھ کہنا اس نے مناسب نہ سمجھا:میری بیٹی اس لڑکے کا فوٹو دیکھ پائی تھی اور انٹرنیٹ پر اس سے رابطہ بھی کیا تھا،  "اگر وہ اسے پسند نہ آتا یا وہ اس سے شادی نہ کرنا چاہتی تو اسکےلئے ایک اور تلاش کرلیتا۔۔۔۔۔۔۔۔"۔

مکمل تحریر  »

اتوار, جون 17, 2012

ایک اور بیٹی ہلاک

پورے دن کی ڈرائیو سے تپا ہوا پرسوں جب واپس پہنچا تو وجاہت نے ایک میگزین سامنے رکھ دیا کہ جی اسکا ترجمہ کرو،     سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا پوچھنا چاہ رہا ہے، ایک صفحہ پر دو خبریں تھیں، ایک یہ کہ ایک پاکستانی نے اپنی دوسالہ بیٹی کو مارمارک کر ہلاک کردیا  اور دوسری یہ کہ ایک  جورجو نے اپنی بیوی کا گلادبا کر ہلاک کردیا اور پھر اسکی لاش کو جلادیا۔ پڑھ تو دونوں کو سرسری  نظر میں لیا  مگرادھ  گھنٹہ اسے کچھ کہہ  نہ سکا۔
مرنا مرانا تو خیر ہمارے لئے نئی بات نہیں  کہ بقول مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں اور جو باہر ہے وہ قبر میں نہیں،   یہ بات بظاہر لگتی بھی سیانی ہے اور دل کو سکون دینے والی بھی ہے،   کہ چلو جی ڈر ختم ہوا ،  مان لو کہ اگر کوئی زلزلہ آجائے تو ہم یہ فقرہ ادا کرکے  اورکلمہ پڑھ کر پرسکون ہوکر سوسکتے ہیں کہ جو ہوگا سو ہوگا، ا ٹلی میں ویسے بھی ان دنوں زلزلے دھڑا دھڑ آرہے ہیں (میرا اس میں کوئی قصور نہیں)،   اس بارے یاتو  مایہ  قوم کو دوش دیا جائے جن کے کیلنڈر کے مطابق اس برس  کے اختتام پر قیامت برپا ہوگی اور کیلنڈر ختم، یا پھر کسی مولبی سے پوچھا جائے کہ اس بارے شرع کیا کہتی ہے، جو بھی ہو مگر یہ  دوسروں کو مارنے پر کہیں فٹ نہیں ہوتی۔

بات ہورہی تھی  بسمہ کی  جو اڑھائی برس کی تھی اور باپ کہ بقول ،   وہ روتی تھی، اور چپ ہی نہیں کرتی تھی،  آنسو اور چیخیں تب تھمیں جب  باپ نے اس بچی کو لاتو ں اور گھونسوں پر لیا  اورپھر وہ باپ اس پھول سی بچی کو لہو میں لتھڑا ہوا چھوڑ کر گھر سے نکل گیا،  یہ واقعہ مارچ میں اٹلی کے شہر مودنہ میں پیش آیا،  بمطابق اخبار بچی 13 دن کومہ میں رہنے کے بعد بس فوت  ہوگئی،    کچھ دنوں بعد اچانک باپ محمدالیاس تبسم کو قتل عمد کےزیر دفعہ گرفتار کرلیا گیا، یہ گرفتاری اچانک ہی عمل میں آئی جبکہ پہلے بچی کی ماں ثوبیہ  روبینہ پر شک کیا جارہا تھا۔

معصوم بچی کو ماں باپ ہسپتال لائے اور کہا کہ یہ باتھ روم میں گر گئی تھی ، مگر ضربات اس بیان سے مطابقت نہ رکھتی تھیں لہذا ڈاکڑ کی رپورٹ پر ، ماں کے خلاف گھریلو تشدد اور بچوں پر ستم کی دفعات کے تحت  تفتیش شروع ہوئی، مگر بات جب کھلی تو معلوم ہوا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تب ماں دوسرے کمرے میں تھی،  باپ کام سے آیا تو بیٹی کو روتے ہوئے دیکھا  جو چپ کرنے میں ہی نہ آرہی تھی  بس پہلے ہی تپا ہو اتھا تو اس کو پھانڈا لگا دیا۔  

سوال یہ ہے کہ اگر ایک آدمی سے اپنی اولاد کا رونا بھی برداشت نہیں ہوتا تو پھر اسکو ادھر زندہ رہنے کا کیا حق ہے، ماں باپ تو اپنا پیٹ کاٹ کر بھی  اپنے بچوں کو کھلادیتے ہیں مگر یہ کیسی ظالم  قسم  کی خود پرستی ہے کہ معصوم بیٹی کو رونے کا حق بھی نہیں دیتی،  کیا لوگوں میں انسانیت نہیں  رہی،   پاکستان میں تو مان لو کہ سب کچھ جائز ہے، ہر روز کی خبر کے مطابق ایک ادھ چار پانچ برس کی بچی سے زیادتی ہوتی ہے اور پھر اس قتل کرکے کسی نالے میں پھینک دیا جاتا ہے،  ادھر تو کوئی خیر پوچھنے والا ہی نہیں، مگر یہاں پر تو جرم کا چھپا رہنا  ناممکن سی ،بات ہے، مگر اس کے باوجود ہم لوگ ، ایسے ہاتھ چھٹ ہوئے ہین کہ بس اللہ کی پناہ۔  ہماری انسانیت کہاں کو نکل لی،  ہم لوگ کتنے حرامی ہوچکے ہیں

مکمل تحریر  »

بدھ, مارچ 07, 2012

ثقافتی ثالث، ہاتھ سے نکلتی اولاد

گزشتہ داستان کو آگے بڑھاتے ہوئے
اس خاندان کا بیٹا جو اب لڑکپن کی عمر میں  ہے اور ادھر اسکول پڑھنے کی وجہ سے اسکی مقامی  اطالوی زبان پر مناسب اور قابل استعمال حد تک دسترس ہے۔ یہ اس خاندان کا ترجمان ہے، کہیں پر جانا ہے کسی بھی دفتر یا محکمہ میں تو یہی ان کا چاچا بنا ہوتا ہے، اور ابھی کچھ عرصہ سے اس نے یہ بھی کہنا شروع کردیا ہےکہ آپ کو کیا پتا، اس خاندان کی نگرانی کرنے والے لوگوں کے مطابق اس لڑکے نے ماں اور باپ کے ساتھ بدتمیزیاں بھی شروع کردی ہیں اور انکو بلیک میل بھی کرتا ہے۔ کہ مجھے پچاس یورو دو نہیں تو  ۔ ۔ ۔،  مجھے لیوز کی جینز کی پینٹ لے کر دو نہیں تو، ۔۔۔۔ اسکول بھی اپنی مرضی سے جاتا ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ابھی کچھ عرصہ سے اس نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ مجھے اتنے پیسے دو نہیں تو میں پولیس کو فون کردوں گا کہ تم نے مجھے مارا ہے، یا پھر سماجی خدمت والوں کو بلا لوں گا، یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ اس لڑکے کی دوستی اپنی سے دوگنی عمر کے لوگوں سے ہے اور یہ کہ ان کا تعلق مختلف ممالک و مذاہب سے    کہے، زیادہ تر لچے ہیں اور کچھ پر نشہ کرنے و بیچنے کا بھی شبہ ظاہر کیا جاتا ہے،   ان اداروں کے کارکنان کے علم میں یہ بات بھی آئی ہے کہ یہ لڑکا  پیسے دیتا رہا کہ اس کو عورتیں لا کردی جائیں،اب یہ پیسے کہاں سے اسکے پاس آتے رہے، اس بارے یہ علم ہوا کہ وہ پیسے اپنے والدین کو دھمکا کر ان سے لیتا رہا ہے،  ایک چودہ سولہ برس کا لڑکا اس روش پر چل نکلے کیا یہ نارمل ہے؟؟ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ       سب ٹھیک  ہے؟  کیا ان والدین کی اپنی اولاد پر پرورش پر شک نہیں کیا جاسکتا؟؟   کہیں ایسے تو نہیں ہے کہ لڑکا جو خاندان کو اس معاشرے میں انسرٹ ہونے  میں معاون ہے اور پل کا کام کرتا ہے، اپنے آپ کو اتنا اہم سمجھنے لگا ہے کہ گویا وہ اپنے والدین کا بھی  چاچا ہے۔  کیا اسکو والدین کی کمزوری لیا جائے گا  یا ادھر کے اداروں کو اس تربیت کا ذمہ دار ٹھرایا جائے گا؟؟ 

مکمل تحریر  »

بدھ, فروری 22, 2012

ہاتھی روایت اور ڈیموں کریسی

راوی اپنی ایک پرانی سی کتاب میں روائت  کرتا ہے  کہ ایک زمانے میں ، ایک ملک  کے، ایک دور دراز گاؤں میں، ایک بزرگ نہایت   قدیم و عقیل اور جھنجھلاہٹ میں مبتلا،  رہتا تھا اور اوس گاؤں کے لوگ بھی اتنے جاہل و کھوتے دماغ کے تھے کہ ہر بات  پوچھنے اس بزرگ کی طر ف دوڑ پڑتے،   گاؤں والوں کی اسی سادگی کو دیکھ کر ایک دن ہاتھی بھی ادھر کو چلا آیا ، ہوسکتا ہے  اسے بھی کچھ کام ہو یا کوئی بات پوچھنی ہو، مگر راوی نے اس بارے نہیں لکھا، خیر اگر لکھ بھی دیتا تو کس نے یاد رکھنا تھا،   اس گاؤں کے سارے باشندے ادھر کھڑے ہوکر تالیاں بجارہے تھے اور چار اندھوں سے  جنکے نام بوجمان ملک، جابر اعوان ، خالہ فردوس کی عاشق  اور کیصل عابدی تھے  ہاتھ لگوا لگوا کر پوچھ رہے تھے کہ بتلاو ہاتھی کیسا ہے؟؟؟ 
اب بوجمان ملک کے ہاتھ سونڈ آئی تو اوس نے فیصلہ دے دیا کہ لو جی ہاتھی پائیپ کی طرح لمبا ہے،  جابر اعوان  کے ہاتھ میں چونکہ ہاتھی  کے کان  آئے، تو اوس نے دعوہ  ٹھونک دیا کہ لوجی ہاتھی پنکھے کی طرح ہوا دینے اور جھلنے والی کوئی چیز ہے،  فردوس کی عاشق خالہ کے ہاتھ  ہاتھی کی  دم لگی تو ہت تیر ے کی کہہ کر فرماگئی،  کہ لو جی، کرلو گل، یہ تو رسی کی مانند پتلا سا ہے، میری آنکھیں ہوتیں تو یہ ضرور سپ کی طرح دکھائی دیتا، ادھر کیصل عابدی نے جانے کیادھونڈتے ہوئے نیچے کی طرف ہاتھ  مارا تو ٹانگ ہاتھ میں آگئی ، شکر کرے کہ کچھ اور ہاتھ نہیں آیا، توللکار دیا کہ ہاتھی ایک کھمبے کی طرح کی چیز ہے۔
ایک سب سے بد اندیش اورجاہل قسم کا بندہ جو رضا کھانی  نام کا تھا،  اس نے بابا جی سے پوچھا کہ بزرگو  ، آپ کے  اللہ اللہ کرنے کے دن ہیں، کل آپ مرے تو پرسوں اگلا دن ہوتا،  ادھر کیا امب لینے آئے ہیں ، چلو،  ادھر موجود ہو ہی تو یہ بتلادو کہ یہ کیا  شئے ہے؟؟

بابا جی نے ایک چیخ ماری اور روئے پھر ایک قہقہ لگایا  اور ہنس پڑے  اور یوں گویا ہوئے،   سن اے ناہنجار اورعاقبت نا اندیش،  رویا میں اس لئے تھا کہ اب اتنی حرام کھائی کرلی ہےکہ جانے اگلے الیکشن  کے بعد مجھے جیل میں کیوں نہ ڈالا جائے،  اور اگر ایسا نہ کیا گیا  توجیتنے والوں پر تف  ہے ، پھٹکار ہے، لخ دی لعنت ہے، پھر یوں متوجہ ہوئے،  سن لے کہ خو ش میں اسلئے ہویا ہوں، کہ اس چیز کا تو مجھے بھی علم نہیں البتہ اسے بیچ کھاؤں گا۔


 یہ بات لکھی پڑھی ہے اور اسی کا نام ڈیموں کریسی ہے کہ دوسروں کو دیموں لڑاؤ اور خود ہاتھی بھی بیچ کھاؤ۔

دروغ بردگردنِ دریائے راوی۔       میرے جو دماغ میں آیا میں نے لکھ دیا۔

سوالات:

کیا ملک پاکستان کے علاوہ بھی کہیں اس قبیل کے لوگ پائے جاتےہیں؟؟؟
اس حرام خور بزرگ کا نام ذورداری ہونے کا اندازہ آپ کو کیسے ہوا؟؟؟
ان لوگوں کے پاس ان عقل کے ادندھوں کے علاوہ کوئی اور بندہ نہ تھا  جس کو وزیر بنالیتے؟؟؟
یہ رضا کھانی جو اتنا سیانہ ہے ہر بات پوچھنے کیوں چلا جاتا ہے اپنے بزرگ کے پاس؟؟؟
اس پورے قصے سے جوسبق آپ کو حاصل ہوا ہے  اسے دہرائے اور اس گاؤں کے  چار اور حرام خوروں کے نام لکھئے ، 
مگر تھوڑا دور رہ کر۔
آپ کو ہاتھی کیسا دکھائی دیتا ہے؟؟؟ بلوچستان جیسا نہیں تو پھر کیسا؟؟   اور کہ آپ عقل چھوڑ کر پی کھا پاٹی کے وزیر بننا پسند کریں گے؟؟؟


مکمل تحریر  »

جمعرات, فروری 16, 2012

گیدڑ اٹلی اور ووٹ

سنا  ہے کہ  گیدڑ کی جب موت آتنی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے اور پھر بندے اس کو اتنی پھینٹی لگاتے ہیں کہ بس اسکی موت واقع ہوجاتی ہے، ویسے حق بات یہ ہے کہ گیدڑ کی موت کا فسوس کسی کو بھی نہیں ہوتا،   ہم نے بھی اپنے لڑکپن میں اپنے مرغی خانے کے گرد گھومنے والے کئی گیدڑوں  کے ساتھ اس محاورے پر علم درآمد پوری نیک نیتی اور ایمانداری سے کیا ہے  کسی نے کبھی کچھ کہا  اور نہ ٹوکا، اور بات ہے کہ کبھی کبھی  یہ گیدڑانسان نما بھی ہوا کرتے تھے،  انکی موت تو خیر کیا واقع ہونی تھی بس چھترو چھتری ہوجاتی۔ کوئی بڑا بزرگ کہہ دیتا اوئے چھڈ دو اے بڑا شریف بچہ ہے، ککڑ چھپانے تھوڑی آیا تھا، یہ تو بس ادھر سے گزر رہا تھا،  جبکہ ہمارا اصرار ہوتا کہ یہ ضرور ککڑوں کے چکر میں تھا، بس کچھ گالیاں اس کو اور کچھ ہمیں پڑتیں اور معاملہ  مک چک۔ شاید ہر طرف یہی کچھ چل رہا تھا، کہ رزق نے اٹھا کر ادھر پھینک دیا اور سب ختم ایک خوا ب کی طرح نہ محاورے اور نہ گیدڑ، نہ  کوئی ککڑیاں نکالنے کے چکر میں نظر آتا  اور نہ ہی گیدڑ کٹ چلتی۔
ادھر کئی برس گزر گئے ،اپنا کام کرو، گھر جاؤ، تھوڑا آرام، اگر کہیں پرھنے پڑھانے جانا ہے تو ٹھیک نہیں تو  ٹی وی، تھوڑا مطالعہ اور شب بخیر، چھٹی ہے تو ، کدھر سیر کو نکل جاؤ ، کسی کو مل لو ، نہیں تو کاچھا پہن کر پورا دن گھر میں بیڈ سے صوفے پر اور صوفے سے بیڈ  تک گزراردو،  جبکہ ادھر بسنے والے  بہت سے اپنے ہم وطن  ایمان ملا کی طرح برائے فساد فی سبیل اللہ ، آئے دن نئی نئی جماعتیں بناتے رہتے ہیں اور انکے صدر بنتے رہتے ہیں ، گزشتہ یہ عالم تھا کہ ہر بندہ دو دو تین تین جماعتوں کا عہدیدار تھا۔ مقصد ؟؟ آج تک معلوم  نہیں ہوسکا۔  پھر دور آیا سیاہ ست دانوں کا  ، ہر سیاہ سی جماعت کی ایک برانچ کھل گئی، ہر ساجھا ، مھاجا، مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، فلاں جماعت، فلاں جماعت   کا عہدیدار بنا اور پھر قومی سطح پر اور پھر یورپی سطح پر  بھی صدر اور صدر اعظم کے نام سنے گئے،  ہر جماعت کے کوئی بیس کے قریب صدر ہونگے، جنکو تولیہ مارنے میں ہمارے آن لائن اور آف لائینں اخبارات کو مہارت بدرجہ کمال حاصل ہے،
مقامی طور پر جدھر ہم رہتے ہیں ادھر کسی کو علم نہیں کہ کیا ہورہا ہے، ہیں اچھا الیکشن ہورہے ہیں،  مینوں تے کسی نے نہیں دسیا،  ہین اچھا برلسکونی وزیراعظم بن گیا ہے  مینو تے کسی نے نہیں دسیا
اچھا جی اوس نے استعیفٰی دے دیتا ہے ، مینوں تے کسی نے نہین  دسیا۔
اس کے علاوہ کوئی ٹینشن نہیں تھی،  نہ الیکشن نہ سلیکشن ،  نہ کسی سے ملو نہ کسی کو منہ دکھلاؤ،
اب خبر آئی ہے  ادھرسے بھی ووٹ جائے گی تو پھر وہی  کچھ ہونے کا ڈر لگ رہا ہے،  جنتا اپنے کام کاج چھوڑ کے جلسے کیا اور سنا کرے گی، ہیں جی ۔   وہی ووٹ خریدے جائیں گے ہیں،  وہیں چوول قسم کے بندے الیکٹ ہوئیں گے ہیں جی، پوچھو جو ایتھے پہڑے او لاہور وی پہڑے، اگر پاکستان میں رہنے والے 16 کروڑ  صرف گیلانی اور ذرداری کی قبیل کے بندوں کو ہی منتخب کر سکے ہیں تو یہ پینتیس لاکھ کیا توپ  چلا لیں گے، ہیں جی آپ ہی بتاؤ

مکمل تحریر  »

سوموار, جنوری 02, 2012

سیاہ ست دانیاں

کچھ سیاہ سی بیانات پر ہماری عقل سلیم کے مطابق عوامی تبصرے ایک آم آدمی کی حیثیت سے میں تو یہی کہہ سکتا ہوں کہ جناب ہن رہن دیو تے عوام نوں وی کج کہن دیو


   پاکستان کے وفاقی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم نے کہاگیس بحران کو سیاسی رنگ دیا جارہاہے 
تو کیا سے مذہبی رنگ دیا جاہئے فیر آپ کے خیال شریف میں

پاکستانی راستےسپلائی کی بحالی نیٹوپرمید   ، افغانستان میں موجود نیٹو فوج
جی بلکل جب تک رزرداری موجود ہے تب تک آپ کو امید سے ہونے سےکون روک سکتا ہے۔

عدالتی سزاپرحقانی کوصدارتی معافی دینےکاامکان,  ، ایکسپریس نیوز
صدر صاحب کو چاہئے کہ وہ اس سزا یافتہ قوم کو بھی صدارت سے معافی دینے کا سوچیں،

پتہ نہیں صدر سے کون ملاقات کرانا چاہتا ہے        ، نواز شریف
میاں صاحب کیا واقعی آپ اتنے سادے ہیں، بال لگوا کر تو بندے کو اس طرح کی باتین نہیں کرنی چاہئیں

میموگیٹ تحقیقاتی کمیشن کا اجلاس، حسین حقانی پیش نہ ہوئے،      جنگ نیوز
کیوں اس نے کوئی گھاس کھایا ہوا ہے کہ پیش ہوکر چھتر کھائے، اپنے کئے ہوئے سب کو پتا ہوتے ہیں

       ڈاکٹر فاروق ستارالطاف حسین نے نئے صوبے بنانے کا وعدہ پورا کردیا
تو فیر الطاف حسین جان کی امان، باقی کراچی کے امن ، خوشحالی دینے اور غربت دور کرنے کے وعدے تھے انکا کیا ہوا، وہ   بھی پورے کر کے جلدی سے لوٹ آؤ وطن کو


  عمران خان کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا آج    نہ تنقید کی کیسی پر  نہ ہی نعرے
اللہ خیر کرے، نصیب دشمناں کہیں خانصاب کی طبیعت تو خراب نہیں؟ یا چپ کا روزہ رکھ لیا ہے


یہ سب کچھ جو میرے دماغ میں آیا، اگر آپ اس سے مختلف سوچتے ہیں تو لکھ دیں تبصرہ میں 

مکمل تحریر  »

سوموار, مارچ 28, 2011

باپ ہونے کا ٹیسٹ

یہ ایک اٹالین ویب سایئٹ ہے جو باپ ہونےکے ٹیسٹ کو آفر کررہی ہے، کہ اگر آپ کو اپنے بچے کا باپ ہونا مانگتا ہے تو مڑا ادھر کو آؤ ڈی این آے کا ٹشٹ پاس کرو اور لازم ہے کہ انہیں پیسے بھی دو، پھر باپ کہلاؤ، بھائی اسکے بعد ہی کہلوایا جاسکے گا۔ اسلام نے اس بارے میں چودہ سو برس قبل ترتیب واضع کردی تھی کہ میں چار شادیاں کرلو مگر شادی سے باہر پنگے مت لو، طلاق کو آسان کردیا گیا، بیوہ کا پھر سے شادی کرنا برحق، مگر تاکا جانکی کرنے والے اور ادھر ادھر منہ مارنے والی اور والے کو پھنیٹی ، کسی صورت اجازت نہیں، یعنی کہ مشتری ہوشیار باش، مگر نہیں چونکہ ہم اس نئی صدی میں پیدا ہونے والی روشنی کی نئی کرن ہیں تو ہمیں مذہب جیسی وقیانوسی باتوں سے کیا لینا اور کیا دینا، ہم تو ٹھہرے ماڈرن لوگ بھئی پرانے وقتوں کی باتیں ہمیں ایک آنکھ نہیں بہاتییں۔ مگر پھر دل میں ایک انجانا سا خوف ہے کہ اگر کسی کا ٹیسٹ نیگیٹو نکل آیا تو اس پر کیا بیتے گی؟؟؟ اسکا حل یورپ والوں نے تو یوں دیا ہے کہ بچہ کی پیدائیش پر اگر ماں اسکے باپ کا نام نہ بھی بتانا چاہے تو صر ف آپ نام لکھوا سکتی ہے کہ اس کی باپ بھی وہی ہے۔ ممکن میں پاکستان ابھی تک کسی نے ایسی صورت حال کے بارے نہ سوچا ہو تو ہو جائیے ہوشیار ۔۔۔۔ ہاں پھر خیال آتا ہے کہ اگر ماں کے نام سے ہی ہرجگہ کام چل جاتا تو پھر اس ٹیسٹ کو بیچنے کا لفڑا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟؟؟ مطلب دال میں کچھ کالا ہے جی بلکل ہے ۔ تو صاحب پھر ذرا بچ کہ

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش