ہفتہ, جنوری 17, 2015

زبان دانی یا زبان درازی

چرب زبانی اپنی جگہ اور بدزبانی اپنی جگہ ،   ہمارا اس بحث سے کوئی تعلق نہیں، آج کا موضوع ایک عام پاکستانی غریب طالبعلم کا المیہ ہے، جس ناکامی کی بڑی وجہ زبان ہے۔ ماہر لسانیات کا خیال ہے ، بلکہ انکو پکا یقین ہے کہ زبان علم نہیں ہے، بلکہ علم سیکھنے کا وسیلہ ہے، ایک ذریعہ ہے۔

تو صاحبو اس حساب سے تو ہمارے ساتھ ہاتھ ہی ہوگی، جسے انگریزی میں  "ھینڈ ہوگیا" کہا جائے گا۔






واقع  یو ں ہے کہ اللہ اللہ کر کے ہم نے جب بات چیت شروع کی تو سنا ہے کہ گالیاں سیکھیں اور وہ بھی پنجابی میں، یہ موٹی موٹی گالیاں۔ کہ  " وڈے نکے" توبہ توبہ کرجاتے۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ تو ایسی مفصل گالیاں دیا کرتا تھا کہ بس ۔ 

کہا جاتا ہے کہ گالی اور لطیفے کا اصل مزہ آپ کی مادری زبان میں ہی ہوتا ہے، یعنی کہ گالی اور لطیفے پنجابی کے،  جوکہ ہماری مادری زبان قرار پائی۔  یعنی کہ گالی اور لطیفہ پنجابی زبان میں ہی سواد دیتا ہے،  آج بھی یہی حال ہے کہ جب فل غصہ آئے تو پھر پنجابی ہی منہ سے نکلتی ہے۔

ویسے اس بارے سنا بھی ہے کہ اگر گالیوں اور لطیفوں میں کوئی زبان پنجابی کا مقابلہ کرسکتی ہے تو وہ عربی ہے اور پھر اٹالین،  اگر ثانی الزکر آپ کی مادری زبانیں ہون تو۔

خیر جب اسکول میں داخل ہوئے تو الف ب پ ت ٹ ث شروع ہوئی اور یہ اردو تھی۔ ساتھ میں ہی مسجد میں قرآنی پٹی شروع کروا دی گئی   ،  الف مد آ  ، آ ب الف با، با ، ت الف تا، تا۔ یہ ہماری عربی شریف تھی۔

یعنی مجھ پانچ سالہ " مشوم" پر ظلم بسیار ، ہیں جی۔  فیل کروانے کا فل پروگرام۔ جانے کیسے اسکول میں بھی پاس ہوتے رہے اور مسجد میں بھی  " پٹی سے قرانی قیدہ" اور قرانی قیدے سے پٹی  تک منتقل ہوتے ہوتے، جانے ایک دن استاد جی نے اعلان کردیا کہ کل سے "توں پہلاسپارہ لیا"۔ بس جی دوسرے دن پہلا سپارہ اور "مکھانڑیں"  مسجد پہنچ گئے۔

پانچویں جماعت پاس کر کے  "منڈا" پڑھے لکھوں میں شمارہوتو گیا مگر آگے کچھ انگریزی اور فارسی بھی ہمارا راہ دیکھ رہی تھی۔ تب تک گو ناظرہ قرآن شریف ، مسنون دعوائیں، ایمان کی صفتیں یاد کرکے عربی پر کم از کم قرآت کا عبور ہوچکا تھا۔ چھ ماہ پڑھ کر علم ہوا کہ فارسی تو ختم ہوگئی ہے، اور اسکی جگہ ڈرائینگ آگئی ہے،  ماسٹر لاٹری کو ہمارا ڈرائینگ کا استاد مقررکردیا گیا۔ اس بچارے کو خود بھی ڈرائینگ نہیں آتی تھی۔  خیر انگریزی ایسے چمٹی جیسے غریب کو بھوک، ۔ بس برس ہابرس تک نہ انگریزی نے جان چھوڑی نہ ہم نے سیکھی۔  یعنی کہ تادم تحریر سطور ھذا انگریزی سے ہمارا ہاتھ تنگ ہی رہا۔

آٹھویں  جماعت تک یہ عالم تھا کہ گھر میں پنجابی بولی جاتی، نیم پوٹھوہاری۔ اسکول میں ماسٹر سارے گالیاں اور بھاشن  پنجابی میں دیتے اور پڑھاتے اردو میں ۔  قرآن مجید کی کئی بار دھرائی کرکے عربی ناظرہ پر گرفت مضبوط ہوچکی تھی، بہت سی سورتیں، آیات، دعائیں وغیرہ بمعہ تراجم از بر ہوچکی تھیں۔ فارسی البتہ ایں چیست۔ پکوڑہ است، ایں صندلی است تک ہی رہی۔فارسی تو نہ آئی مگر ڈرائنگ کی کچھ لکیریں سیکھ ہی گئے۔ بس جی، شکر ہے، پھر فارسی کا حملہ ہوا کلام اقبال اور میرزا غالب کے خطوط کے ذریعے، جسے کسی نہ کسی طرح برداشت کر ہی لیا گیا۔ ایک یاد یہ رہی کہ سن پچانوے میں جب پشاور بطور سپرٹینڈینٹ امتحانات میری اتفاقیہ تعیناتی ہوئی تو، میرا ہوٹل  " خانہ ء فرھنگ ایران" کے پاس ہی تھا۔ کیا کرتا ادھر جاکر لائیبریری میں تلاشی لیتا رہتا، غالب اور اقبال کے نام دیکھ دیکھ کر ہی خوش ہوتا رہتا۔ مگر سنا ہو ا تھا کہ " پڑھو فارسی ، بیچو تیل" پس  ہم فارسی سے دور ہی رہے، اب پچھتارہے کہ سیکھ ہی لیتے تو اچھا تھا۔ بلکہ اب کوئی موقع ملے تو، ورنہ اب تک " خانم خوبے"  تک ہی چل رہا۔ 

پھر ہم شہر میں  "انتقال " کرگئے ، اناللہ واناالیہ راجعون ، پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ وہ والا اتنقال نہیں جس میں بندہ اس جہان سے اگلے جہان میں منتقل ہوتا ہے، بلکہ یہاں مرآد گاؤں کے "کھوتی اسکول" سے شہر اسکول میں منتقل ہونا تھا۔ وہاں پر خیر سے سارے استاد اردو میں ہی بات چیت بھی کرتے، سر عنایت اللہ خان اور فاضل بڈھی، گالیاں بھی اردو میں ہی دیتے۔ طلباء بھی اپنے آپ کو شہری بچہ ثابت کرنے کےلئے صاف اردو بولنے کی کوشش کرتے، اس کوشش میں میرا خیال ہے کہ راقم سب سے آگے تھے، آخر احساس کمتری اور کس بلا کا نام ہے؟؟ یہاں پر خان صاحب سے اردوئے معلیٰ پڑھی، کہ بس، جنابو، پوچھ کچھ نہ، انہوں نے اسکول میں نصاب کی مروج کتاب کے ساتھ ساتھ غالب اقبال حالی، سےلیکر ابن انشاء اور اکبر الہ آبادی جیسے مزاح نگاروں سے بھی متعارف کروادیا، تب ہی علم ہوا کہ اردو مٰیں بھی لطیفے ہوتے ہیں، مگر بہت عرصہ تک تو سمجھ نہ آتی کہ ہنسنا کب ہے اور یہ کہ اب لطیفہ ختم ہوچکا ہے۔ 
تب دوسرے شعراء کے کلام کی ٹانگ مروڑ کے اپنے نام سے دوسرے ہم جماعتوں کو سنانا بھی عام تھا۔  تبھی معلوم ہوا کہ اردئے معلٰی اور اردوئے محلہ میں کیا فرق ہے، جب روؤف نے لیٹ آنے کی وجہ دریافت کرنے پر بتایا کہ " سر ہمارا راستہ کاچا ہے" ۔  اور اس پر قہقہ پڑا، بعد میں سب محتاط ہوگئے میرے سمیت۔ 


انگریزی میں بھی پاس ہوتے ہی رہے۔ مضامین سارے اردو میں تھے،   پھر کالج میں وہی مضامین انگریزی میں تھے اور ہم پاگل بلکہ "پھاوے " ہوچکے تھے۔ ہیں جی۔سبجیک، اوبجیکٹ، تینس اور ہم ٹینس، بس پورا کُت خانہ ہی سمجھو جی، پھر انگریزی کی لکھائی الگ بول چال الگ، اسپینگنگ انگلش الگ، گرائمر کے کورسز الگ، مضامین و خطوط کا سیکشن الگ۔ بندہ پوچھے یہ زبان ہے یا شیطان کی آنت۔ قابو انے میں ہی نہیں دے رہی۔ 

ہومیوپیتھی معالجات کی تعلیم شروع ہوئی تو پہلے سال اردو میڈیم طے پایا اس میں بھی پنگا یہ تھا کہ ساری اصطلاحات عربی اور فارسی کی اردو میں گھسیڑدی گئی تھیں۔ کچھ چیزیں عربی ڈکشنری میں ملتیں تو کچھ فارسی سے غائیب ہوتیں۔ پھر انگریزی اصلاحات کو بھی کیا گیا۔
بعدمیں اسے بدلی کی اور انگریزی میں آسانی سے دستیاب مواد کی بنیاد پر محسوس کیا کہ انگریزی میں زیاد ہ آسانی ہے۔

سنہ 1992 میں، گزرتے ہوئے اسپرانتوزبان کا بورٹ جہلم شاندار چوک کے پاس لگا دیکھا، کہ مفت سیکھئے، مفت تو ہمیں کوئی موت دے تو ہم نہ کریں، چلے گئے۔ آگے جمیل صاحب بھی کھڑے تھے انتظامیہ میں، اوئے توں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ واہ جی واہ، بہت عرصے بعد ملاقات ہوئی ، ہیں جی۔

 ویسے یہ زبان بہت آسان ہے اور آپ  ایک ماہ کی محنت سے اچھی سیکھ جاؤگے، فائدے۔ انگریزی جیسی ہے، لکھتے دیکھ کر لوگوں پر رعب رہے گا کہ بندے کو انگریزی آتی ہے، پھر بیرون ملک سے اس زبان میں قلمی دوستی کا بہت رواج ہے۔ کسی گوری سے قلمی دوستی کرلینا، کیا پتا۔ فلاں نے تین گوریوں سے قلمی دوستی کی ہوئی اور فلاں نے پانچ سے۔ یہ لو رسالہ اس میں قلمی دوستی کے انٹرنیشنل اشتہارات ہیں۔ شبابشے، ویسے ایک فائدہ ہوا کہ اس زبانے کے بولنے والے تو تھوڑے ہیں مگر ہیں پوری دنیا میں، بس جہاں بھی جاؤ، سالوتون سالوتون کرنے کو کوئی نہ کوئی مل ہی جاتا ہے۔  

سن ستانوے میں جب عازم اطالیہ ہوئے تو اطالویں بھی پولی پولی سیکھ ہی لی۔ مجبوری تھی کہ یہاں پر پہلے سے سیکھی ہوئی کوئی زبان کارآمد نہ تھی، اسپرانتو کے بولنے والے صرف چالیس پچاس بندے تھے پورے شہر میں۔ اردو بولنے والے تین، پنجابی بولنے والے کوئی سو کے قریب۔ انگریزی تو انکو آتی ہو تو کام پر نہ بولیں۔

پھر اٹالین سیکھی، کئی برس سکھائی بھی، اسپرانتو بھی بولی، عربی بول چال، کچھ گالیاں سیکھ لیں، یہی حال یونانی کا بھی تھا مگر اسکا استعمال نہ ہوسکا۔ تو بھول ہی گئ۔ پھر اسپین میں اور برازیل مین بار بارجانے کی وجہ سے اسپینش میں بھی "اولا بوئناس دیاس، قوئے تال؟ " وغیرہ وغیرہ کرلیا ،  آخری تجربہ گزشتہ برس فرانس جانے  پر موقع پاکر فرینچ کے دوچارلفظ بھی یاد کرلئے۔ میسی مسیو۔ میسی بکو۔

عالم یہ ہے صاحب، بلکہ ظلم یہ ہے کہ جو اردو اور انگریزی میں پڑھا تھا وہ اطالوی میں پڑھانا پڑ رہا۔ بہت بڑی معصیت ہے۔ 
اب بندہ کس کی جان کو روئے، پڑھانا ایک طرف پورا سمجھانا پڑتا ہے بحث کرنی پڑتی ہے، پڑھا ہوا اردو اور انگریزی ملا کر ہے، اب اسکو اطالوی میں تبدیل کرنا ، بندے کو پسینہ آجاتا ہے۔ 

اب یہ بندے کے ساتھ زیادتی ہے کہ نہیں، کہ ساری زندگی زبانیں سیکھتے ہی گزاردی، علم توں پڑھیا ای نئیں، اور کھوتے کے کھوتے ہی رہے ،  کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ زبان دانی ہے، اللہ ہی جانے کہ یہ زبان دانی ہے کہ زبان درازی۔
دن میں کئی بار تو دماغی کمپوٹر کی لینگیوئج بدلی کرنی پڑتی ہے، اسکو تو چھڈو، موبائیل فون میں اردو، انگریزی، اطالیانو، اسپرانتو موجود ہیں، اور بار بار ایک زبان سے دوسری میں سلپ ہونا پڑتا ہے، "ہنرں ایتھے کوئی مرے"   توبہ توبہ
 اتنی زبان، بے شرم ، بے حیا



مکمل تحریر  »

ہفتہ, نومبر 29, 2014

سفر نامہء پیرس ۔ میلان سے پرواز

میلان ائیرپورٹ  کا احوال
یورپمیں رہنے اور کئی بار نیت باندھنے کے باوجود پیرس نہ جا سکے اس برس  پیرس میں منعقدہ  فارماسیوٹیکل کی ایگزیبیشن  میں  جب کمپنی نےاسٹینڈ لگانے کا  اور کرڈالا  مجھے فون ، کہ خان صیب  ادھر چلو ہمارے ساتھ، آپ کی زبان دانیوں کی ضرورت ہے۔
فلائیٹ  اور ہوٹل کی بککنگ کی رسیدیں بعذریہ ای میل وصول ہوگئیں۔

ہم پانچ بندے تھے، کمپنی کا ڈائیریکٹر ، سیلز مینجر  انکی سیکرٹریز اور راقم
میری ایزی جیٹ کی فلائٹ تھی۔ فلائیٹ سے چند دن پہلے آن لائن بورڈنگ کرنی  تھی،  ساتھ میں ہوٹل کو چیک کیا گیا گوگل میپ پر تو علم ہوا کہ ہوٹل تو چارلس دے گال ائرپورٹ سے 30 کلومیٹردور "بوبینی  Bobigni "  کے علاقہ میں ہے، جبکہ ایگزیبیشن  چارلس دے گال سے ٹرین کے پانچ منٹ کےسفر پر ہے۔مطلب یہ تھا کہ مجھے پیرس اورلی سے ہوٹل پہنچنے تک پورا پیرس گزر کرجانا پڑے گا۔  ہت  تیرے کی۔ ۔ میلان کی ائیرپورٹس سے تو خیر واقفیت ہے پرانی سی۔ مگر پھر بھی اپنی پھرتیوں اور لیٹ نہ ہوجانے سے بچنے کو تین گھنٹے پہلے ائیر پورٹ پر تھے۔

یہ بات مجھے ہمیشہ حیران کردیتی ہے کہ جب آپ جلدی نکلیں تو سب ہی جلدی نکل آتے ہیں اور آپ وقت سے پہلے ہی منزل پر پہنچ چکے ہوتے ہیں، جب آپ لیٹ ہوں تو ٹریفک کے اشارے تک سرخ ہوئے  آنکھیں دکھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ رک جا۔
میری ایک بجے فلائیٹ تھی اور  میں گیارہ بجے ائیر پورٹ پر تھا۔ ہے ظلم کہ نہیں۔

اب وقت گزارنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ موبائیل اور فیس بک۔  میلان کی  Milano"لیناتے Linate" ائیرپورٹ پر مفت وائی فائی تھی۔  مگر ہونا کیا تھا , وہی جو ہوا۔ بیٹری جواب دے گئی۔
اب یار لوگوں نے چارجرکا  "جغاڑ" لگانے کا سوچا،  ادھر اُدھر  دھیان فرمایا تو علم ہوا کہ ابھی ترقی میں کچھ کمی ہے وائی فائی تو فری کردیا ہے انہوں نے مگر چارجنگ کے بارے نہیں سوچا۔  مطلب گورا  رہ ہی گیا۔
پوچھتے پوچھتے    معلوم ہوا کہ Europa Assistance  والوں کے کاونٹر پر پتا کروبس پھر ہم پہنچ گئے۔
ادھر ایک خاتون بہت خوش اخلاق و خوش شکل ،  میرے فون چارج  کرنے کی اجازت مانگنے پر وہ مسکراہتی ہوئی اپنی سیٹ سے اٹھیں اور میرے سامنے ہی ایک گول سے کاؤئنٹر پر بنے سوئیچ بورڈ کو دکھاتے ہوئے  فون چارج کرنے کی دعوت دی۔
اب میرے پاس تقریباُ ایک گھنٹہ تھا اور لالچ بھی کہ فون پورا چارج ہوہی جائے ۔
ویٹنگ لاؤنج میں اکا دکا بندہ گھوم رہا تھا۔  لوگ تو فلائیٹ کے وقت پر ہی آتے ہیں، کوئ  میری طرح  "ویلے" تھوڑی ہیں کہ گھنٹوں پہلے ہی آجاویں۔
چند منٹوں بعد وقت گزاری کےلئے خاتون سے اسکی سروسز کے بارے پوچھنا شروع کردیا ، مقصد ایویں چسکے لگانا اور وقت گزارنا تھا،
مگر نتیجہ الٹا نکلا ، خاتون نے بہت ہی محبت سے اور مسکرا ہٹیں بکھیرتے ہوئے اپنی سروسز بیان کرنی شروع کردیں,  اور ایسے  طریقے سے بیان کیں،  کہ بس معلوم تب ہوا جب میں اس سے اپنے پیرس کے اسٹے کی انشورنس کروا چکا تھا۔ چھ دنوں کی آٹھ  یورو  میں۔ 
جب میں نے فارم پر اپنی قومیت پاکستانی لکھی تو فوراُ بولی " اچھا تو آپ بھی غیرملکی ہی ہین؟"
 میں :   ہیں، ہاں، میں بھی کا کیا مطلب؟
وہ: "مطلب یہ کہ میں بھی غیرملکی ہوں اور آپ ہی سمجھ سکتے ہیں کہ غیرملک میں جاکر رہنا اور سیٹنگ بنانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔"
میں : جی، ایسے ہی ہے۔ آپ کہاں سے ہین؟؟ میں تو آپ کو اٹالین سمجھے بیٹھا تھا
وہ: " ارے نہیں ، میں پولینڈ سے ہوں۔ کراکوو سے ۔  اور میرا نام  "صوفیہ" ہے۔
میں: ہیں،  اچھا استاد یہ تو "پولی " ہے،  مجھے اپنے علی حسان کی پولیوں کے بارے میں سنائی گئی ساری کہانیاں یاد آگئیں۔
اور چونکہ غیر ملکی سب ایک دوسرے کے رشتہ دار ہوتے ہیں، تو ہم فوراُ  آپ سے تم پر آگئے، اٹالین لسانیات کے مطابق  آپ دوری  اور تم قربت کی علامت ہے۔  "جیلس ہونے کی مطلب حسد کرنے کی ضرورت نہیں"، یہاں قربت سے مرآد انگریزی والی فرینکنس ہے۔
ایویں  اسے دعوت دی کہ میں تو کافی پینے کے موڈ میں ہوں، اگر تم چاہو تو میں تمھیں آفرکرتا ہوں۔
وہ ۔۔۔ لو یہ بات، بہت شکریہ، ابھی میں نے کافی پی نہیں بس سوچ ہی رہی تھی۔ چلیں پھر؟؟
میں دل میں علی حسان کو اپنا پیرومرشد قرار دیتا ہوا چل پڑا ادھر کافی بار پر۔  وہاں پر دو کالی زہر کافی  (بقول اپنے میاں سلام شانی صاحب کے)   کا کہا تو اگلے نے پوچھا۔ تو آپ ادھر سروس میں ہیں، میرے بولنے سے پہلے  صوفیہ نے ہاں میں مونڈی ہلائی ، کاوئنٹر مین کی طرف سے ایک یورو ساٹھ سینٹ کی پرچی تھما دی گئی۔ جبکہ عام طور پر ائیر پورٹ پر کافی کی قیمت اڑھائی یورو فی کس ہوتی ہے۔
پس  اس قول پر میرا  ایمان پکا ہوگیاکہ ہر جو بھی آتا ہے اپنا رزق لاتا ہے۔ اگر میں اکیلا کافی پیتا تو اڑھائی یورو دیتا۔ ادھر ڈیڑھ یورو دئیے اور کمپنی بھی ساتھ میں۔ مگر یہ یادکرادینا بھی مناسب ہے کہ مہمان  جسے آپ کافی آفر کررہے ہیں وہ ہو جس کے گلے میں ائیرپورٹ کا ٹیگ ہو۔ ورنہ اڑھائی کو پانچ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ 


مکمل تحریر  »

بدھ, اگست 21, 2013

میرے خوابوں کا پاکستان





خواب  تو ہر بندہ ہی دیکھتا ہے اور ہم بھی، بس، بلکہ ہم تو کچھ زیادہ ہی خوابناک واقع ہوچکے ہیں، ذاتی طور پر بھی اور من حیث القوم بھی۔  خیر اسکا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ بندہ کچھ نہیں کرتا اور خواب دیکھتا رہتا ہے اور علامہ خوابناک ہوچکا ہے وغیرہ وغیرہ، جی نہیں اب ایسی بھی کوئی بات نہیں،   پھر بھی جاگتے میں کچھ خواب دیکھنا تو بنتا ہے۔ 

 علم نفسیات کے مطابق خواب بندے کی ذہنی و جسمانی کیفیت کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں ایسے ہی عمر کے مطابق بھی، آج چونکہ ہمارا موضوع چونکہ ہمارے خوابوں کا پاکستان ہے تو پاکستان کے بارے کچھ خواب بیان کئے جاویں گے۔ 

پہلاخواب
ملک میں رزق، یہ بڑا خواب تھا اور پہلا بھی، بعد از تعلیم وتعمیر جب کالج میں بطور لیکچرار آفر ہوئی اور ساتھ ہی اپنا کلینک بھی بنا لیا شام کے اوقات کےلئے تو خواب پورا ہوتا ہوا نظر آیا مگر پھر وہی چکنا چور ہو گیا کہ اس اسٹیٹس میں اور اس آمدن میں گزارہ کون اور کیسے کرے، بس کھینچ تان کے مہینہ پورا ہوتا اور ہم ہوتے، فالتو کے کسی بھی خرچہ کےلئے ابا جی کی خدمت میں درخواست جمع کروانی پڑتی ۔ ہیں جی۔ اللہ اللہ یہ خواب ابھی تک ایسا ہی ہے کہ ہر نوجوان کو پاکستان کے اندر ایسا روزگار ملک جاوے جو اسکے سارے بنیادی اخراجات پورا کرنے کا ضامن ہو اور کوئی بندہ پھر ملک سے باہر جانے کا نام بھی نہ لے۔ 

دوسرا خواب 
چونکہ ہماری پیدائش و تربیت ایک دیندار اور ایماندار گھرانے میں ہوئی ہے تو ہماری تربیت میں شامل ہے کہ دوسروں کا خیال رکھو، کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہونے پائے، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے شفقت کا برتاؤ ہونا چاہئے یہ ہمارا خواب بن گیا کہ پاکستان میں سب ایسے ہی ہوں۔

پردیسی کے خواب 
جب دیس سے دانہ پانی اٹھا تو پردیسی ہوئے، کچھ اور طرح کے خواب جانے کیوں خود بخود ہی بن گئے۔ بہت سے ممالک کی یاترا کے دوران، کسی کانفرنس میں، کسی جلسہ و کورس کے دوران، یہ سوال اٹھ ہی جاتا ہے کہ تم کہاں کے ہو؟ پاکستان کا۔ اوہو، اچھا تو کیسا ہے پاکستان؟؟  حقیقتاُ یہ سوال وہ کوئی شغل کےلئے نہیں کرتے، کیوں کہ کسی عوامی درجہ کے بندے کو پاکستان کے بارے آگاہی ہے ہی نہیں، ہے بھی تو بہت کم۔ بس پھر ہمارے خوابوں کا پاکستان شروع ہوجاتا ہے۔ خوابوں سے بھی زیادہ خواہشات کا پاکستان۔

 وہ پاکستان جو میرا ہے، جہاں دنیا کے بلند بالا پہاڑ ہیں، گلیشیرز ہیں اور انکی ٹھٹھرتی ہوائیں بھری گرمیوں میں یخ بستہ ہوتی ہیں، جہاں کی جھیلوں کا شفاف پانی آپ چلو میں لیکر پی سکتے ہیں، جہاں ٹرواؤٹ مچھلی کو ایسے ہی شلوار کو گانٹھ لگا کر آپ پکڑ سکتے ہیں 
ہمارے پاکستان میں پٹھان ہیں جو اپنی مہمانداری اور شجاعت میں ثانی نہیں رکھتے، دشمن انکے نام سے ہی کانپتے ہیں، جنکی دینداری مسلمہ ہے،  جہاں پنجابی دہکان زمین کا سینہ چیر کر سال میں تین فصلیں اگاتا  اور پورے ملک ملک کو گہیوں، گنے چاول دالوں کی کمی نہیں ہونے دیتا، جس کا سندھی اپنی مچھلی اور سبزیوں و کھجوروں سے ملک کو خودکفیل کرتے ہیں، جہاں بلوچی کوہ شکن پہاڑوں کو چیر کر تیل گیس، کوئلہ سے لیکر یورینیم سونا تانبہ تک اور ہیرے وغیرہ بھی نکال لاتا ہے، جہاں مہاجر اپنے آپ کو ملک کو عام باشندہ سمجھتے ہیں اور صنعتی ترقی میں اپنا پورا کردار ادا کررہے ہیں۔ 

پاکستان میں پانچ دریا اور پانچ ہی موسم ہیں جو خوبانی سے لیکر کھجور تک میں ہمیں خود کفیل بناتے ہیں۔ جہاں زمیں سونا اگلتی ہے اور پانی کے جھرنے چاندی کےہیں، جہاں درخت زمرد کے بنے ہوئے ہیں۔ اللہ کا اتنا کرم ہے کہ کوئی غریب نہیں، ہو بھی کیسے سب لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ دریاؤں کا پانی اس حد تک صاف کہ بس چلو میں لو اور پی لو، منرلز سے بھرا ہوا، خریدنے کی ضرورت ہی نہیں۔ بس

 پاکستان میں لوگ بہت دیندار ہیں اور ایماندار اس سے بھی بڑھ کر، اتنے کہ پولیس تھانہ ہے تو سہی مگر لوگوں کو یاد ہی نہیں رہتا کہ ہے کہاں پر، جرائم تو ہیں ہی نہیں، اول تو کوئی چورا چکاری ہیرا پھیری کانام ہی نہیں کوئی ایک ادھ واقعہ پیش آبھی جائے تو کوئی بزرگ لعن طعن کردیتا ہے اور اگلا توبہ کرلیتاہے۔ پولیس کا کام صرف یہ ہے کہ وہ رفاع عامہ کا خیال رکھے، کسی کی گاڑی راستہ میں خراب ہوگئی تو پولیس والے نے ٹائر بدلی کردیا، کسی مائی کا پرس کھو گیا تو وہ تھانے چلی گئی اور بس تھانیدار نے اسکو سفر کا کرایہ اپنی جیب سے نکال دیا۔  کوئی کہہ رہا تھا کہ پولیس اب آگ بجھانے کا کام بھی کرتی ہے۔  

انصاف کا یہ عالم کہ عدالتوں میں تو لوگ جاتے ہی نہیں، ضرورت ہی نہیں، بس بھول چوک یا کوئی غلطی ہوگئی اور اگلے نے فوراُ معافی مانگ لی اور دوسرا کوئی بات نہیں بشری غلطی کہہ کر نکل لیتا ہے۔ دل میں بغض و کینہ تو نام کو نہیں، عدالتیں تو اب صرف اکا دکا اتفاقیہ جرائم اور حادثات نپٹاتی ہیں، سنا ہے کہ یہ محکمہ ہی ختم کیا جارہا ہے کہ جب ضرورت ہی نہیں تو پھر۔ جب ایمانداری کا یہ عالم ہو کہ آپ اپنا پر بس اسٹاپ پر چھوڑ آئیں اور شام کو وہ آپ کے گھر پہنچ جاوے، گھروں کو تالا کوئی نہ لگاتا ہو، تو پھر عدالتیں کیا کریں گی آپ ہی بتلاؤ۔ تلخ کلامی اور چیخ چیخ تو بھول ہی جاؤ بس۔ 

پاکستان میں مسجدیں نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوتی ہیں اور امام صاحب صرف تقریریں نہیں کرتے بلکہ لوگوں کے مسئلے حل کررہے ہوتے ہیں، تفرقہ تو نام کو نہیں اور مسجد میں لوگ صرف نماز پڑھنے نہیں جاتے، وہاں تو جناب ایک دوسرے کا حال احوال دریافت ہوتا ہے، کسی کو کوئی پریشانی، کوئی مشکل، ہوتو فوراُ حل، اور مسجد چندہ بھی نہیں مانگتی، بلکہ مسجد کے اتنے وسائل ہوتے ہیں کہ وہ غریبوں، مسکینوں کی مدد کردیتی ہے، فقراء اور بھکاری تو خیر ہیں ہی نہیں۔ اسلحہ لیکر مسجد کے پاس سے گزرنا تو درکنار، لوگ تو مسجد سے 500 میٹر کے فاصلے تک بحث نہیں کرتے احتراماُ۔ لوگ ملک سے محبت کرنے والے، خبردار ہے جو کوئی ملک کے خلاف بات تک کرجاوئے۔ دنیا بھر کے پھڈے مسجد میں بیٹھ کر ہی نمٹادیے جاتے ہیں۔  

لڑکے بالے ابھی کالج کے آخری برس میں ہوتے ہیں تو انکوحسب لیاقت ملازمت مل جاتی ہے، تنخواہ بہت اچھی اور اوپر سے عوامی سادگی کی انتہاء نمود نمائش تو دیکھنے میں نہیں ملتی، لوگ اپنے نمائش پر خرچنے کی بجائے دوسروں پر خرچنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ بس ہر طرف سکون ہی سکون۔ چین ہی چین۔ 

مرد اور عورتیں سب کے سب تعلیم یافتہ مگر اپنے کام سے کا رکھنے والے، مجال ہے جو کسی کو کوئی گھور کردیکھ جائے، بی بیاں بھی بہت نیک سیرت اور باپردہ اور مرد لوگ ان سے بھی بڑھ کر محتاط۔ بچے بزرگوں کا ہاتھ تھام لیتے ہیں کہ بابا جی آپ کو گھر تک چھوڑ آئیں اور بزرگ بچوں پر جان نچھاور کرتے ہوئے کہ بچے تو سب کے سانجھے ہوتے  ہیں۔
رشوت نام کو نہیں، غلہ اسٹاک بلکل نہیں ہوتا، سسفارش کی ضرورت نہیں ہوتی کہ سب کام خود ہی ہوجاتے ہیں۔ ماسٹر صرف اسکولوں میں پڑھاتے ہیں اور وہی کافی ہوتاہے، ڈاکٹر ہیں کہ مریض کےلئے بچھ بچھ جاتے ہیں اور سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو اڈیک رہے ہوتے ہیں اور لوگ بیمار ہوتے ہی نہیں، خوراکیں بھی تو اچھی ہیں، ہر چیز خالص، ہر بندہ صبح کی سیر کرتا ہے، نکھٹو ہے کوئی نہیں تو بیمار کون ہوگا۔ لوڈشیڈنگ بلکل نہیں ہوتی اوپر سے بجلی بھی بہت سستی ہے، گیس تو قریباُ مفت ہی ہے۔ پیٹرول بہت سستاہونے کے باوجود لوگ سائیکل سے آتے جاتے ہیں کہ صحت کی صحت اور بچت کی بچت۔ 

ٹیکنالوجی کا یہ عالم ہے کہ بس کچھ نہ پوچھو، یہ ایٹمی روبوٹ سے لیکر میزائیل اور فاؤل پروف دفاعی نظام تو ہماری پہچان ہے، دشمن کی مجال جو ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکے، یوں بھی ہم ایک قوم ہیں، زندہ قوم ہیں۔ فوج دفاع کو تیار ہے تو لوگ فوج پر جان نچھاور کررہے ہیں، بس ترقی دن دگنی اور رات چوگنی۔


سیاستدان صرف عوام کی فلاح کا کام کرتے ہیں اور سرکاری ادارے خدمت عوام کا۔ جہاں نہ کوئی بڑا ہے نہ کوئی چھوٹا، جہاں کسی گورے کو کالے پر فوقیت نہیں اور کسی کالے کو گورے پر، نہ کوئی امیرکسی غریب کا حق مارتا ہے اور نہ کوئی غریب کسی امیر کو دیکھ کر صدا لگاتا ہے۔ ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھتا ہے اور دوسرے کی حق تلفی ایک کبیرہ گناہ سمجھی جاتی ہے۔ 

پاکستان سے کوئی بندہ بیرون ملک روزگار تلاش کرنے نہیں جاتا، جو پہلے چلے گئے تھے وہ واپس آگئے ہیں  یاسر خومخواہ جاپانی صاحب بھی واپس آگئے ہیں، خاور کھوکھر گاڑیاں پاکستان سے جاپان سپلائی کررہے ہیں، علی حسان اور عمیرملک بس تعلیم حاصل کرنے کو ادھر ہیں  پھر انہوں نے بھی واپس ہولینا ہے، میں بھی ادھر صرف پڑھنے پڑھانے کو ہوں، یہ ختم تو ہمارا ادھر کیا ہےکہ جب ملک کے اندر ہی اتنے وسائیل ہیں اتنا نظام ہے تو کیا کرنا پردیس جھیل کر۔ ہمارے پاسپورٹ پر پوری دنیا میں کہیں ویزے کی ضرورت نہیں ہے، بس ٹکٹ لو اور چلے جاؤ۔ لوگ دنیا میں قرآنی حکم کے مطابق صرف سیرکرنے اور علم حاصل کرنے جاتے ہیں۔

ہر خواب کی ایک تعبیر بھی ہوتی ہے، کہتے ہیں کہ ایک ایسے ہی پاکستان کا خواب علامہ اقبال رحمتہ اللہ نے بھی دیکھا تھا، بڑوں کی زبانی بھی ایسے ہی پاکستان کا سنا اور انکی آنکھوں میں بھی کچھ ایسے ہی خواب دیکھے، ابھی تو آنکھ کھلی ہے لیکن امید پوری ہے کہ یہ سچا خواب ہے، ہوسکتا ہے کہ  اس کی تعبیر میں نہ دیکھ سکوں مگر آنے والی نسلیں ضرور دیکھیں گی، 
انشاء اللہ

مکمل تحریر  »

جمعہ, اگست 09, 2013

آپ کی عید ہے؟ عید مبارک عیدین مبارک

اپنے ہاں تو پرسوں سے ہی عید عید ہوءی پڑی ہے، پہلے تو میاں ثاقب صاحب نے خبر دی کہ سعودی میں مولبی ہوشیار باش ہوگءے اور باباز دوربینیں لے بیٹھے اور یہ کہ شاید آج چاند نظر آجاوے۔ 

ہیں ؟مگر آج تو اٹھائیسواں روزہ ہے مولبی، اپنے ادھر بھی اور ادھر سعودی میں بھی تو  پھر؟؟  تفصیل موصول ہوءی کہ بہت برس بعد امسال بھی مون برتھ کے ایک دن پہلے ہونے کے شدید خطرات ہیں،۔ خیر دیر تک کمپوٹر کو ٹکٹکی لگانے کے بعد علم حاصل ہوا کہ خطرہ ٹل گیا اور یہ کہ کل روزہ ہی رکھنا پڑے گا، اور ہ پاسہ مار کے سو رہے کہ سحری کےلئے اٹھنا پڑے گا۔  یوں ہمارے ارمانوں پر اوس پڑگئ۔ 

کل تو خیر شام کو ہی ہال ہال کار مچ گئ کہ سعودیہ میں روزہ ہوگیا، انڈونیشیا سے بھی ایک بی بی نے میسج کرکے کنفرم کردیا کہ ہمارے بھی روزہ ہے، ہیں جی

علامہ رضا مرزا کا بولونیا سے فون آنا اور چاند رات کی مبارک و پپیاں ہیں جی، یہ علامہ بوت مزاکیہ واقع ہوئے ہیں، ہیں جی

میاں سلام شانی صاحب کا میرپور آزاد کشمیر سے فیسی بکی پیغام آیا ہے کہ اگر آپ آج عید کررہے ہیں تو عید مبارک اور اگر نہیں تو ایڈوانس میں قبولئَے۔  مطلب کل ہم تکلیف نہیں کریں گے  ہیں جی۔ 

ہمارے مامون جان راجہ بابر خان البزرگ الصغیر جو ہم سے عمر میں 3 ورے چھوٹے ہیں، مگر چونکے رشتہ میں ماموں ہیں تو ہیں، نے مفصل بتایا کہ کل عید کررہے ہیں بعد از 30 روزے، جبکہ ہم 29 کے بعد آج بھگت چکے، ہیں جی

لنڈن کزن کو فون کیا تو ادھر سے خبر ملی کہ بھائی خیرمبارک، ہم بھی آج ہی عید کررہے ہیں، ہماری اسٹریٹ کی تین مساجد سے آج عید کا اعلان ہوا، جبکہ دو نے کل پاکستان کے ساتھ کرنی ہے، مطلب وہ پکے پاکستانی ہوئے، ہیں جی

سنا ہے کہ گلف کے کچھ ممالک میں بھی عید مبارک کل ہی ہوگی، جبکہ پاکستان میں بھی سرکاری عید کل ہے مگر، کچھ شمالی علاقاز میں چاند دیکھنے و عید کرنے کی شنید ہے۔ 

اب اگر عید دو مختلف دنوں میں ہوگی تو خطبہ بھی دو دن ہی ہوگا، ۔ ہین جی
ایسے میں اپنے یاسر خوامخواہ جاپانی صاحب جی اس صورت حال کےلئے عیدین کا لفظ استعمالا تو برا کیا کیا، مان لیا کہ پہلے یہ لفظ عیدین  دو عیدوں مطلب عیدالفطر اور بقرہ عید دونوں کےلئے اجتمائِ طور پر استعمال ہوتا تھا اب اس لفظ عیدین کو اس نئی عیدوں والی صورت حال پر بھی استعمالا جاسکتا ہے۔ 

سنا ہے کہ ولایت میں  کسی کونسل میں مسلوں نے درخواست دی کہ عید والے دن ہمیں چھٹی ہونی چاہیے، کونسل والوں نے کے انکار پر خوب شور اور ہنگامہ مچا، یہ جلوس اور احتجاج کہ ہماری مذہبی آزادی پر روک لگائی  گئ ہے، مئیر نے کچھ لوگوں مطلب اپنے اپنوں سیانوں سیانوں سے صلاح لی، مگر بات نہ بنی احتجاج بڑھتا جاتا، مگر پھر وہاں پر ایک دھاگہ مولبی ق نمودار ہوئے اور مبلغ فیس وصول پانے کے بعد مشورہ دیا، اس مشورے کے مطابق مسلوں کو کہا گیا کہ چلو ٹھیک ہے، دسو فیر کس دن عید کرنی؟؟ تم سب متفقہ طور پر بتلادو کہ کس دن تمھاری عید ہوگی، ہم چھٹی کردیں گے بمعہ تنخواہ، اس بات کو کتنے ورے ہوگئے مگر نہ مسلوں کا ایک عید پر اتفاق ہوا، نہ پھر چھٹی کی بات ہوئِ۔

اللہ فرماتا ہے وعتصمو بحبل اللہ جمیعا ولاتفرقو

اللہ بادشاہ جی جو مرضی فرمائے ہم کون ہوتے ہیں دخل دینے والے مگر تفرقہ ہم نے کرنا ہے چاہے وہ چاند دیکھنے پر ہو، کہ عید منانے پر، روزہ پر ہو کہ درود شریف کو باآواز بلند وہ زیر لب پڑھنے پر، نماز ہاتھ چھوڑکر پڑھنے پر اور باندھ کر، 
رفع یدین کرنے اور نہ کرنے پر بھی۔ 

جب ایسا ہوگا تو فیر عید کی نماز سنگین کے سائے تلے ہی ہوگی۔ اللہ خطبہ سننے اور سنانے والوں کے علم اور عقل میں اضافہ کرے اور انکو بم بلاسٹ سے بچائے، اور بعد از خطبہ اپنے گھر تک بحفاظت پہنچاءے، آمین۔ ہم اللہ کی مانیں یا نہ مانیں مگر اللہ تو ہمارا ہے ہماری ضرور سنے گا۔ ہیں جی۔ 

اب چونکہ آپ پڑھتے پڑھتے یہاں تک پہنچ چکے ہیں تو آپ کو بھی عید مبارک ، بھلے آپ نے آج والے مسلوں کے ساتھ کی ہے یا کل والے مسلوں کے ساتھ کررہے ہیں، عید عید ہی ہوتی ہے، تو فیر عید مبارک ہیں جی



مکمل تحریر  »

بدھ, فروری 13, 2013

دوھری شہریت اور اورسیز پاکستانی







اس وقت  پاکستانی قوم ایک افراتفریح کا شکار ہے، اس تنزل مسلسل کے نتیجے میں ہماری بطور قوم شناخت بھی ایک  سوالیہ نشان بن گئی ہے۔  پاکستانی کون ہے؟  کس کو پاکستانی کہا جائے گا؟؟   اصلی پاکستانی کی  کون ہے؟؟ 

جب پاکستان بنا تو  بہت سے لوگ لٹے پٹے ادھر آئے اور مہاجرین کہلائے، بہاری ، کشمیری اور بڑوئے اور جانے کیا کیا، یہ سارے الفاظ ابھی تک ہماری زبان سے محو نہیں ہوئے۔

پاکستانی ،  وہ لوگ جو رہتے، مرتے جیتے  پاکستان میں ہی ہیں، کام بھی ادھر ہی کرتے ہیں اور سیاہ ست بھی، ٹیکس اکثر نہیں دیتے۔

پھر سن ستر میں بھٹو صاھب کی افراتفریح کی وجہ سے جب لوگوں نے ملک سے نکلنا شروع کیا تو  "باہرلے"  کا لفظ معرض وجود میں آیا ، خیر یار اسے طنزاُ بھی استعمال کرتے ہیں،  "" جی، جی، آپ تو    باہرلے ہیں جی ""،   خیر
باہرلے تین قسم میں تقسیم ہوئے پھر،  بیرون ملک رہنے والے پاکستانی،   دوھری شہریت والے اور غیر ملکی شہریت والے۔

بیرون ملک پاکستانی
Overseas-Pakistanis-Looted-By-Land-Mafias-State-Offers-No-Help
انکو اورسیز پاکستانی  بھی کہا جاتا ہے، انکے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہوتا ہے اور جہاں پر رہتے ہیں وہاں پر تیسرے درجے کے شہری ہوتے ہیں، کوئی بھی معاملہ ہو تو انکو پاکستان ایمبیسی سے رجوع کرنا پڑتا ہے، دنیا میں کہیں بھی ہوں انکو بےتوقیری کا سامنے بھی کرنا پڑتا ہے، بس پاسپورٹ نکالا نہیں کہ امیگریشن افسر کا منہ بدلا نہیں۔ میں خود کتنی بار کھجل ہوچکا ہوں،  جبکہ میرے ساتھ پورے کا پور ڈیلیگیشن دوگھنٹے تکے میرا انتطار کرتا کہ خان صاحب ذرا امیگریشن سے فارغ ہولیں،   ہم لوگ ادھر ووٹ نہیں ڈال سکتے،  سیاست نہیں کرسکتے، صرف کام کرو، کھانا کھاؤ،  ٹیکس دو،   کام ختم اور ہم بھی فارخ۔ مگر پاکستان جائیں تو پھر جیب سے ادھر کا پرس نکال کر دوسرا  ڈال لیا جس میں پاکستانی اردو والا شناختی کارڈ ہوتا ہے اور بس پاکستانی ہوگئے پورے کے پورے۔ اللہ اللہ خیر سلہ


دوھری شہریت والے پاکستانی
Dual nationality bill Judge to be Barred from Holding Dual Nationalityیہ وہ اصحاب ہیں جو ادھر کی مقامی شہریت بھی لیتے ہیں ،ا دھر سیاست بھی کرتے ہیں، ووٹ دیتے ہیں اور لیتے بھی ہیں۔  یہ صاحبان دوچہروں کی طرح دو پاسپورٹ بھی رکھتے ہیں، جب پاکستان آتے ہیں تو پاکستانی پاسپورٹ نکال لیتے ہیں اور جب  ملک سے باہر ہوتے ہیں پاکستانی پاسپورٹ غایب، گویا   ڈبل مزہ۔


غیرملکی شہریت والے
یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس کبھی پاکستانی شہریت تھی  مگر انہوں نے اسے ترک کردیا اور کسی دوسرےملک کی شہریت اختیار کرلی، یہ  بس غیر ملکی ہی ہوتے ہیں، انکو پاکستان جانے کےلئے بھی پاکستان کا ویزہ ایمبیسی سے لینا پڑتا ہے۔
پاکستان میں بھی انکےلئے اپنا اندراج پولیس میں کروانا لازمی ہے، کسی بھی معاملے میں یہ لوگ اپنے سفارتخانے کے ماتحت ہی ہوتے ہیں، جس طرح ایک شاعر صاحب کا آج انڈیا نے  پاکستان کے ثقافتی میلے سے واپس بلوالیا، جس طرح مجھے پولینڈ والوں نے ویزہ دینے سے انکار کردیا تھا۔ مطلب فل غیر ملکی، یہ لوگ پاکستان میں سیاست تو کیا، جائیداد تک نہیں خرید سکتے۔ تاوقتیکہ باقائدہ اجازت نہ لے لیں۔ 

سوال اگر یہ ہو کہ  ان میں سے کون محب وطن ہے تو  جواب یہ ہوگا کہ جو وطن سے محبت کا اظہار کرے،  جو پاکستان کےلئے کچھ کرے، وہ پاکستان کےلئے اچھا ، وہی محب وطن ،  چاہے  وہ اندر والا، ہوکہ باہر والا ،  اکہری شہریت والا یا دوھری والا،  اور بھلے وہ گورا  ہی کیوں نہ ہو اسکو بھی نشان پاکستان ایوارڈا جاتا ہے۔

مگر جو حرامدے کام کرے گا   اسکو جوتے بھی پڑتے ہیں، ذرداری گو پاکستان کا صدر بن گیا ہے مگر لوگ اسے کتا کہنے میں ہچکچاتے ہیں، اسی طرح  رحمان ملک کی دہشت گردی،  حسین حقانی کی واردات ، ہو یا شیخ الاسلام کا فساد، سب قابل مذمت، مگر ایک بات ہے،
النیت والمراد
جیسی نیت ویسی مراد،   شیخ الاسلام مولانا طاہرالقادری المشور کینڈیوی  کے ساتھ بھی جو ہوا  ،   وہی ہوا ،  جو ہونا چاہئے تھا۔ 

مکمل تحریر  »

اتوار, ستمبر 23, 2012

اٹلی جن اور قصائی

گزشتہ ہفتے ہمارے ادھر سول ہسپتا ل کے شعبہ نفسیات جسے پنجابی میں سائیکالوجی کہاجاتا ہے کی طرف سے ایک " کیارہ "  نامی خاتون کی کال آئی کہ  " ڈاکٹر جی ،  ہمارے لئے ٹائم نکالو، آپ کی مشاورت کی ضرورت الشدید ہے وہ بھی بہت ارجنٹ" ۔  ہیں جی ؟ ،  ہمارا ماتھا ٹھنکا کہ ضرور کوئی پنگا ہوگا، کچھ الٹا ہی ہوگا،  ورنہ اس سے پہلے مجھے شعبہ نفسیات والوں نے کبھی نہیں بلایا۔

ادھر  پہنچا تو  ڈاکٹر کیارہ  جو سائیکٹریک ہیں اور سوشل سائیکولوجی میں ماہر ہیں،  میرا انتظار کررہی تھیں،  بچاری بہت مشکور ہوئیں کہ  میں  نے اپنے قیمتی وقت سے " ٹائم " نکالا ہے، دو چار بار تو میں نے" کوئی گل نہیں "  کہہ کر بات آئی گئی کردی مگر اسکے بعد صرف سر کھجا کررہ جاتا۔بعد از طویل تمہید و بیان سیاق وسباق کے ،   انہوں نے آمدبر مطلب کے مصداق  جو کچھ بتایا اس کا خلاصہ بیان کردیتا ہوں اور اس کہانی کے نتیجہ قارئین پر چھوڑتا ہوں۔ تو سنئے  ڈاکٹر کیارہ  کی زبانی۔


گزشتہ  ہفتے ہمارے پاس ایمرجنسی میں  ایک پاکستانی آیا ہے جس کی کچھ سمجھ نہیں آرہی، اس کی عمر چالیس برس ہے ، چھوٹی چھوٹی ترشی ہوئی داھڑی رکھی ہوئی ہے، سر پر ٹوپی مخصوص قسم کی  گول شکل کی، جس کے سامنے ایک کٹ سا ہے۔ کپٹرے پاکستانی شلوار قمیض، وہ بھی کچھ ایویں سا ہی۔ جسمانی طور پر کمزور، مگر لگتا ہے کبھی کافی بھرے جسم کا مالک رہا  ہوگا۔ کہتا ہے کہ اس پر جن آتے ہیں اور اسے تنگ کرتے ہیں،  اسکا نام محمد مالک  میر ہے،   تعلیمی لحاظ سے کچھ خاص پڑھا لکھا نہیں ہے،  شاید اپنے دستخط کرلیتاہے، ادھر اٹلی میں عرصہ دراز سے کوئی بیس برس سے مقیم ہے ، اطالوی زبان پر 
مناسب دسترس رکھتا ہےمطلب بات سمجھ سمجھا لیتا ہے۔  ہیں جی۔

میرے پوچھنے پر اس نے بتا یا کہ  " اسکا تعلق پاکستان کے شہر گجرات سے ہے، والد اسکا قصائی کا کام کرتا تھا، سات بہن  بھائیوں میں سے پانچویں نمبر پر ہے،  اسکے تین بچے ہیں جو پاکستان میں ہی ہیں  اور یہ کہ گزشتہ چھ برس سے ادھر بے روزگار ہے۔ پانچ برس سے پاکستان نہیں گیا، مطلب اپنے اہل خانہ سے دور ہے، پہلے اسکے پاس اپنا کرایہ کا فلیٹ تھا جو چھوٹ گیا،  ابھی اسکے پاس باقاعدہ رہائش بھی نہیں اور اپنے کسی گھمن نامی  خاص دوست کے ہاں رہتا ہے جو اس سے  کرایہ بھی نہیں لیتا۔ یہ گھمن جی آج تک  اسکا ہسپتال میں پتا کرنے نہیں آئے۔ 

جن کے آنے کے بارے اس نے بتایا کہ کہ میر جی کا کہنا ہے کہ " میں نے ایک بار ایک پاک جگہ پر پیشاب کردیا تھا جس کی وجہ سے جن مجھے چمٹ گئے ہیں اور ا ب تنگ کر رہے ہیں۔  مزید تحقیق پر معلوم ہوا کہ یہ پیشاب کرنے والا واقعہ  اس وقت کا ہے جب وہ پاکستان میں تھا۔ مطلب کوئی بیس برس قدیم یا شاید اس سے بھی زیادہ،  ابھی وہ نماز پڑھنے کی کوشش کرتا ہے مگر نہیں پڑھ سکتا ۔

ڈاکٹر کیارہ  کچھ یوں گویا ہوئیں "  ہم  نے آپ کے بارے بہت سنا ڈاکٹر جی،  کہ معالج بھی ہو اور پھر ثقافتی ثالث بھی ہو، آ پ نے نفسیات بھی پڑھی ہوگی۔ تو آپ ہمیں پاکستانی معاشرہ کے پس منظر میں اس کیس کی حقیقت بتاؤ۔

اب میں کیا بتاؤں۔   ایک بے روزگار آدمی کو جن  نہ پڑیں تو اور کیا ہو؟ آپ بتاؤ،  اول بات پاک جگہ پر پیشاب کرنے والی تو ،  یہ بات تو واقعی ہمارے ادھر مشہور ہے، مگر میرے خیال سے یہ کچھ ایسے ہی ہے جس طرح ہندو معاشرہ میں گائے ماتا کا کردار ہے، کہ بھئی یہ جانور چونکہ دودھ دیتا ہے مکھن بھی توقحط کے دنوں میں اسے "گائے ماتا" کا لقب دیا گیا کہ تب اس کا کام " ماں" کا ہی ہوتا ہے جو کھانے کو دیتی ہے۔ پاکستان میں عام مشہور ہے کہ فلاں بندے کو جن چمٹ گیا  کہ اس نے  چلتے پانی میں پیشاب کردیا تھا، فلا ں نے درخت کے سائے نیچے بول براز کردیا تھا  اور درختوں پر جنات کا ڈیر ہ ہوتا ہے،  کچھ ایسا ہی قبرستان کے بارے مشہور ہے۔  اب  اگر سوچا جائے تو چلتا پانی ،  سایہ  اور قبرستان  ہمارے لئے کس قدر اہم ہیں اور یہ بھی کہ انکو گندگی سے پاک رکھنے کا  اس سے اچھا طریقہ اور کیا ہوسکتا تھا کہ ادھر جن کا ڈیر ہ ہو اور وہ ہر مُوت کرنے والے کو چمٹے، کم سے کم  جو یہ کچھ سن لے گا وہ ان جگہوں  پر اپنی حوائیہ ضروریہ پوری کرنے 
سےفل بٹا فل گریز کرے گا۔

کچھ سوالا ت 
۔جن پاکستا ن ادھر کیسے پہنچا، ضرور پی آئی اے  سے آیا ہوگا، ایسے صورت میں اسکی ٹکٹ کو نسی ایجنسی سے بنی اور اسکا۔خرچہ کس نےبرداشت کیا؟

یہ جن صاحب  بیس برس تک کس چیز کو اڈیکتے رہے ، صرف تب ہی کیوں  چمٹے جب یہ بندہ  بے روزگار ہوگیا، اس سے 
 پہلے چمٹتے تو انکو کچھ یورو بھی مل سکتے تھے؟

پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں ہی بندوں کو جن کیوں چمٹتے ہیں ، اٹالین لوگ   پر حملہ آور نہیں  ہوتے۔ اسکی وجہ؟
کبھی آپ نے سنا کہ جن کسی  سید ، چوہدری، راجپوت، پٹھان ،  و اس طرز کے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ۔ پڑے ہوں؟؟  میں نے تو نہیں سنا۔ہیں جی

 پھر یہ جنات قصائی ، نائی اور اس قبیل  کے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے  پر ہی کیوں اکثر چڑھائی کردیتے ہیں؟؟؟ہیں جی


مکمل تحریر  »

ہفتہ, ستمبر 08, 2012

وقت اور پیشے

کل رات کو ہی پیاچنزہ میں پہنچ گئے تھے، ہوٹل میں کمرہ کمپنی کی طرف سے بک تھا،  خیر جاتے ہیں دھڑام سے گرے اور سو گئے۔ صبح دس بجے میٹنگ کا وقت تھا ، جبکہ میری آنکھ حسب عادت سات بجے سے پہلے ہی کھل گئی، شاید اسکی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کمرے کہ ایئر کنڈیشنر بند ہوچکا تھا اور کھڑکی مکمل بندہونے کی وجہ  پسینہ پسینہ ہوچکا تھا۔

بعد از غسل، ٹائی شائی لگا، جب بوٹوں کے تسمے بند کرنے لگا تو محسوس ہوا کہ لو جی بوٹ کا تلوہ تو اکھڑ گیا ہے،  چلو کوئی بات نہیں،  نیچے  گیا  اور کاؤنٹر سے پتہ کیا کہ کمپنی کا کوئی اور  بندہ نیچے اترا ہے تو، جواب آیا کہ "کتھوں"؟  دس بجے جلسہ شروع ہونا ہے تو پھر ساڑے نو بجے ہی آمد ہوگی۔  "اچھا جی، چلو،  اگر کوئی  نیچے اتر ے تو کہنا کہ ڈاکٹر صاحب ادھر ذرا چہل قدمی عرف مارننگ واک کو نکلےہیں،  موبائیل پر فون کرلو" کہا اور نکلے لئے باہر،  یورو ہوٹل کے سامنے کی روڈ کراس کی تو  ایک دکان دار سے پوچھا کہ کوئی موچی کی دکان ؟ جو جوتے مرمت کردے۔  اس نے سوچ کر کہا کہ ایک وقت میں تو بہت تھے مگر اب میرے ذہن میں کوئی بھی نہیں آرہا،  اچھا سینٹر کس پاسے ہے؟ "ادھر سجھے کو کہہ کر وہ اپنے کام کو لگ گیا "۔   اور میں  سجے کو  ہولیا ۔  پوچھتا اور دیکھتا رہا ، کچھ دیر بعد ایک مرد بزرگ نے بتایا کہ یہ جو گلی ہے اسے سے کھبے ہوجاؤ اور تیسری گلی میں سجے ہوکر پوچھ لینا، ادھر قریب ہی موچی کی دکا ن تھی، کہنے لگا کہ اکھڑے تلوے والا جوتا فوری مرمت نہیں ہوتا، آپ جوتا چھوڑ جاؤ، تین دن بعد ملے گا۔ مجھے شام کو واپس جانا ہے ، میں ادھر کا نہیں ہوں، معذرت کی، اور نکل لیا۔

واپسی پر جانے کیوں میرے دماغ میں آیا کہ میں کوئی بیس کے قریب کمپوٹر اور الیکٹرونکس کی دکانیں دیکھی ہیں،  مگر بیس برس ایسا نہیں تھا، تب موچی، دھوبی اور اس قبیل کی دکانیں کافی بھی تھیں مگر کمپوٹر کی شاید ایک یا دو،   کوئی سیانہ بابا سچ ہی کہہ گیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز بدل جاتی ہے،  کام پیشہ سب کچھ۔ بیس برس جو پیشے تھے وہ اب نہیں اور جو اب ہیں ان میں سے پیشتر تب نہیں تھے، ہیں جی

مکمل تحریر  »

جمعرات, اگست 23, 2012

کچھ حلال کچھ حرام


علی حسن  کا سوال:
سلام بھائی جان ۔آپ سے دو باتیں پوچھنی تھیں،آپ پڑھے لکھے ہیں، کافی عرصہ سے یورپ میں رہ رہےہیں
یہ بتائیں یہ خوراک میں حلال حرام کا کیسے خیال کیا جائے؟
چلو گوشت سے بچا جا سکتا لیکن لوگ تو کہتے ہیں دودھ تک حرام آ سکتا ہے، اب یہاں ایسٹونیا یا پولینڈ میں کیا کیا جائے اب زندہ تو رہنا ہے میں دودھ، ڈبل روٹی، میٹھے کیک وغیرہ میں بس سئور اور شراب کا دیکھ کر لے لیتا ہوں۔ میکڈونلڈ سے فش 
برگر مجبوری میں کھا لیتا ہوں لیکن ان کا تیل۔۔۔بس دل میں رہتا ہے کہ یار کیا کریں۔ کوئی مشورہ عنیایت کریں۔

ہمارا جواب:
بات حلال حرام کی ہو تو اس بارے واضع لائین موجود ہے، جس میں کسی دوجے کا نقصان کیا گیا ہو، یا اگلے کی مرضی شامل نہ ہو،  وہ مال حرام ہے، مثلاُ دوجے کی بیوی، چوری کی ہوئی مرغی،  چاہے آپ نے تکبیر دونوں پر پڑھی ہوئی ہو، دونوں حرام مطلق قرارپائیں گی۔

گوشت کو دیکھ کر لو کہ بیچنے والا مسلمان ہے اور سرٹیفیکیٹ دیتا ہے مطلب کہتا ہے " قمسیں اللہ دی اے حلال ہے  " تو آپ پر حلال ہوا، یا پھر کسی مستند کمپنی یاادارے کا سندشدہ۔   اور کیک سارے حلال ہیں، کہ حرام نشہ ہے نہ کہ میٹھا، اگر آپ الکحل کی موجودگی یا عدموجودگی پر فیصلہ کرتے ہو تو پھر دیکھ لو کہ ہر اس چیز میں الکحل موجود ہے جس میں خمیر اٹھایا جاتا ہے، مثلاُ آپ کے بند، نان،  خمیری روٹی وغیرہ ،  پھر حکم ہے کہ شراب کا ذخیرہ کرنا بھی حرام ہے  مگر سرکہ تیار کرنے کو،  واضع  رہے کہ سرکہ شراب سے ہی کشید کیا جاتا ہے مگر اسکے حلال ہونے میں کسی کو کوئی شک نہیں۔ پس آپ کیک ، بروش اور اس قبیل کی دیگر ماقولات سے حظ اٹھاسکتے ہیں جب تک ان پر اینیمل فیٹ کی موجودگی کا لیبل نہ ہو، یورپین فوڈ ریگلولیشنز کے مطابق  اسکی موجودگی کی صورت میں اسے ظاہر کرنا لازم ہے، پس برانڈڈ مال ، مال حلال ہوا اور مقامی طور پر تیار کیا گیا مال مشکوک ، کہ کون جانے کس  جانور کی چربی ہے۔
لہذاحتٰی المقدور دوررہا جائے۔

فش برگر  پر گزرہ کرنے والے اسکے  تیل کے بارے میں مطمعن رہیں  کہ جو بندہ ککنگ کے بارے تھوڑا بھی جانتا ہے وہ اس بات کا بخوبی ادراک رکھتا ہے  کہ جس تیل میں مچھلی فرائی کی جاتی ہے اس میں اگر آپ کوئی اور چیز فرائی کریں تو مچھلی کی بساند آئے گی۔ آخر کوالٹی بھی کوئی چیز ہے میکڈونلڈز کےلئے، وہ کوئی پاکستانی تھوڑی ہیں کہ اسی تیل میں پکوڑے تلتے پھریں، ویسے سنا ہے کہ میک کا مال کوشر ہوتا ہے وللہ اعلم ، بہت سے پاکستانی ادھر اسی چکر میں  2 ہفتوں میں میک کھا کھا کر 10 کلو وزن بڑھالیتےہیں۔ ہم تو اسکے پاس بھی نہیں جاتے۔

پیزہ بھی لیتے وقت خاص احتیاط کیجائے کہ اس پر گوشت کسی صورت نہ ہو، نو میٹ،  خاص طور پر جب آپ اٹلی میں ہوں تو پھر آپ کے پاس ، نو میٹ کے بعد بھی بہت چوائس ہوتی ہے۔ اسکے انگریڈینٹس میں ، خمیری آٹا ، پنیر، ٹوماٹو ساس  اور مزید جو آپ کی مرضی ، لہذا مال حلال ، اگر پیسے دینے والا کوئی اور ہو توپھر پورا چسکا لو۔ ہیں جی۔

دودھ وغیر ہ کے بارے یہ کہ اگر یہ  گائے کا ہی ہوتا ہے اکثر ،  ادھر بھینس،  گدھی،  گھوڑی، بکری، سورنی کا ہوگا تو لازمی طور پر لکھا ہوگا اور اسکی قیمت بھی زیادہ ہوگی۔  ہیں جی، اب کو ئی  کم قمیت میں زیادہ قیمتی چیز کی ملاوٹ تو نہیں کرے گا۔

ویسے تومیں کچھ علم والا نہیں ہوں البتہ پڑھا لکھا ضرور ہوں، اگر آپ کو ایسا لگا تو ضرور کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے، البتہ ایک عام بندےکے طور پراپنا  تجربہ تحریر کردیا ، اگر کوئ صاحب اس کو فتویٰ سمجھیں تو  ایسی کوئ بات نہیں ،  اگر کوئی اسکو غلط ثابت کرنا چاہئیں تو بھی ضرور کریں۔ ہاں ایک بات ہے کہ بطور ایک مسلمان کے جو عرصہ دراز سے ادھر غیر مسلم معاشروں میں رہ رہا ہے ، یہی طریقہ  سروائیول کا دکھائی دیا،  باقی اللہ جو بار بار کہتا کہ میں بخشنے والا ہوں، میں معاف کرنے والا ہوں، تو وہ  پوری امید ہے کہ ہمیں بھی بخشےگا اور ہم پر بھی رحم کرےگا۔ 


صرف کھانے پینے کے علاوہ بھی بہت سے حلال حرام ہیں جن پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، مثلاُ سود، دوجے کا مال، دوست کے ساتھ دھوکا، فراڈ، وعدہ خلافی، جھوٹ، غیبت، تہمت وغیرہ وغیرہ۔ مگر کوئی اس طرف زیادہ بات کرنے کو تیار ہی نہیں ہے۔ ہیں جی۔  






مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش