منگل, جون 02, 2015

مائیکروسافٹ ونڈوز 10کا مفت میں حصول

آج یہاں پر اٹلی میں قومی چھٹی ہے " یوم جمہوریہ" مگر صبح روزمرہ کے وقت پر آنکھ کھل گئی، کوشش کی "پاسے مارنے کی"  ،  کمبل منہ پر لیا، مگر ہم تھے کہ "نندیا پور" سے کوسوں دور پائے گئے۔ 
روٹین بن جانے کی یہ بڑی مصیبت ہے، چونکہ گھر میں ٹی وی نہیں رکھا ہوا اس وجہ سے کمپوٹر کو "اشٹارٹ" کرلیا۔ 

یہ "آئکون " صاحب بہادر نظر آرہے تھے،

  ادھر کلک کرنے پر علم حاصل ہوا کہ  اس پرانی ونڈوز 7 کو نئی ونڈوز 10 سے مفتےمیں اپگریڈکرنے کی دعوت ہے،

 شاید مائکروسافٹ والے بندہ کو بہت قدیم  "ونڈوز یوزر" قرار دے چکے تھے۔ اور انکو یہ بھی علم تھا کہ یہ بابا نئی ونڈوز کے چکر میں کمپوٹر بدلی نہیں کرتا، جب تک کہ کمپوٹر اپنے ہاتھ کھڑے نہ کردے۔ 
اپنا کیا ہے اپنے ہاں تو ابھی تک وہ پرانا 258 ایم بھی ریم والا کمپوٹر بھی پڑا ہوا ہے۔ بھلے اب استعمال نہیں ہورہا مگر کام تو کررہا ہے۔ 
تو جناب ونڈوز کے اسے نئے آئیکون پر کلک کرنے سے ایک اور نیلی ونڈوز کھلی جس نے میری ای میل طلب کی اور اس طرح اپنی ونڈوز 10 کی نئی کاپی بک ہوگئی ہے۔ 
اس کے بعد یہ آئیکون موجود ہے اور اب اسکو کلک کرنے سے یہ ونڈوکھل کر ہمیں صبر دے رہی ہے

مائیکروسافٹ کا وعدہ ہے کہ وہ ونڈوز 10 کو نہ صرف مفت میں اپگریڈ کرے گا بلکہ یہ اسکی مکمل کاپی ہوگی۔ ٹرائل ورژن نہیں ہوگا اور اسے مکمل اسپورٹ حاصل ہوگی۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں ونڈوز 7 بھی نہیں اور آپ ونڈوز vista استعمال کررہےہیں، تو آپ صبر کریں اس وقت کا جب تک مائیکروسافٹ والوں کو آپ کی یاد نہیں آجاتی۔  اگر آپ کی ونڈوز 7 ہی ہے اور آپ کو یہ آئکون موصول نہیں ہوا تو عین ممکن ہے کہ آپ کی وندوز کی کاپی رجسٹرڈ ہی  نہ ہو یا پھر چوری کی ہو۔ یہ تو آپ کو بہتر علم ہوگا۔ بصورت دیکھر اپنی ونڈوز کے کنٹرول پینل مین اپڈیٹس چیک لیں۔ 

مذید معلومات کےلئے آپ براہ راست یہاں کلک  کریں اور مائیکروسافٹ سے راہنمائی حاصل کرلیں۔ 


مکمل تحریر  »

سوموار, دسمبر 29, 2014

ٹیگ مافیا


حد تو یہ ہے کہ  لوگ آو دیکهتے ہیں نہ تاو دیکهتے ہیں اپنی بوسیدہ کترنیں اٹهاتے ہیں اور ہماری وال پہ ٹانگ کر نکل لیتے ہیں. بچوں کی بدبودار پٹلیاں تک دیوار پہ رکه کے چلتے بنتے ہیں. کچه نے تو ہماری دیوار کوبنارس قصبہ اور مری روڈ کی دیوارسمجهاہواہے جب جی میں آتاہے منہ اٹهائے آتے ہیں اور عامل جنیدبنگالی یاپهر جرمن دواخانے کی چاکنگ کرکے چلے جاتے ہیں. بهئی تمہیں خدانے اپنی دیواردی ہوئی ہے اسی کو تختہ مشق بنالو ہماری دیواریں کس خوشی میں پهلانگنے پہ تلے رہتے ہو. اپنے اس توسیع پسندانہ عزائم پہ کچه غورتوکیجیئے کہ یہ ہے کیا؟ تصویرآپ کے پروگرام کی ہوتی ہے اورچپکادیتے ہیں میری دیوار پہ.. میں نے پوجنا ہے کیا آپ کی تصویرکو؟ تحریرآپ کی ہوتی ہے اوراسٹیکربناکرمیری دیوارپہ لگادیتے ہو. میں نے چاٹناہے کیاآپ تحریر کو؟ میں نے آج تک آپ کی شکل نہیں دیکهی اورآپ مجهے اپنے نومولود بچوں کے زبردستی کے درشن کرواتے ہو. میں نے اس کے کان میں اذان دینی ہے کیا؟ یاپهرمجهے ماہرختنہ سمجه رکهاہے؟ پڑوسیوں کوبهلا اس طرح بهی کوئی اذیت دیتاہے کیا؟

دیکهومیری بات سنو! میرایقین مانوکہ آپ کی دیوارپرسے میرا روز گزرناہوتاہے. آپ کی تصویریں تحریریں تقریریں لکهیریں عشوے غمزے رمزے نغمے نوحے شذرے فتوے تقوے قافیئے نظمیں غزلیں نعتیں حکایتیں قصے افسانے شہہ پارے مہہ پارے سپارے نظریئے عقیدے نعرے طعنے ترانے مکالمے مناظرے مباحثے فکاہیئے مبالغے مجادلے مکاشفے ستائشیں مذمتیں تصدیقیں تردیدیں تبصرے تجزیئے تذکرے رفوگری خلیفہ گیری اٹهائی گیری پیداگیری داداگیری تعریف توصیف تنقید تخلیق تحقیق سزا جزا ادا بهرم بهاشن درشن ایکشن فیشن فکشن شب وصل شب فراق انعامات الزامات تعلیمات تعبیرات تعلیقات تعذیرات تشبیہات افکار گفتارللکار کرداراطوار اخبار آثار دعوے وعدے مدعا مدعی دشنام طرازیاں عشوہ طرازیاں دست درازیاں غرضیکہ ادب فلسفہ تاریخ الہیات جنسیات مابعدالطبعیات سیاسیات سائینسیات اور اس کے علاوہ آپ کے تمام اقوال زریں و بے زریں سب میری نظرسے گزرتے ہیں. آپ کو یقین نہ آئے تو میں وہ تمام قسمیں کهانے کوتیارہوں جوطاہرالقادری صاحب نے آج تک تخلیق کی ہیں اور وہ تمام قسمیں بهی اٹهاتاہوں جوابهی زیر تخلیق ہیں.

اب ایسا ہے کہ آپ اپنی ہی دیوارپہ اپنی تصویریں اور تحریریں لگادیا کریں مجهے پسندآئیں گی تو میں لائک کروں گا.زیادہ پسند آئی توواہ واہ بهی کروں گا. اور بهی زیادہ پسندآئیں تو اٹهاکر چوم لوں گا چاٹ لوں گا.اس سے بهی زیادہ پسندآگئیں تواٹهاکے اپنی دیوارپہ ٹانگ دوں گا اور ساته میں لکه دوں گاکہ صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیئے!! اوراگر لائک کے لائق نہ ہوئیں تو چپ ساده لوں گا. بری لگیں تومنہ بسورکے کنارہ پکڑلوں گا. اوراگر اذیت ناک ہوئیں تو چار حرف بهیج کر نکل جاو ں گا.. اب اگرمیں نے کمنٹ ہی نہیں کرنا توپهر کوئی میری وال پہ الٹا ہی کیوں نہ لٹک جائے ماں قسم اپن سے کمنٹ نہیں نکلواسکتا..

 سو پلیزیار تمہیں جمہوریت کا واسطہ ہے کہ میری چادر اور چاردیواری کی ماں بہن کرنے سے باز آجاو. پتہ ہے کیا ہے؟ میرے کچه دوست جب میری دیوار پہ کسی
ہما شما کے گلابی کپڑے ٹنگے ہوئے دیکهتے ہیں توسمجهتے ہیں کہ یہ میرے ہی ہیں. کسی کے منجن کا اشتہارمیری دیوارپہ دیکهتے ہیں تو انہیں لگتاہے کہ میں نے ہی همدرددواخانے کی کوئی برانچ کهول لی ہے. اسی طرح جب کوئی میری دیوارپہ کسی کمپنی کی مشہوری دیکهنے کے بعد واہ واہ یا آہ آہ کرتاہے تواس کی آوازیں مجهے میرے گهرمیں سنائی دیتی ہیں. یقین جانیں بڑی کوفت ہوتی ہے. اسی لیئے اب ہم روز اٹهنے کے بعد پہلے اپنی دیوار تیزاب سے دهوتے ہیں پهر اپنی دکان کا شٹر اٹهاتے ہیں. بهئی اگرکسی کو بہت زورکاٹیگ آیاہواہے توانبکس میسج کاآپشن استعمال کرکے ہلکاہوجائے اور اگرمیری دیوار پہ اپنی کمپنی کی مفت میں مشہوری کرنے کا پروگرام ہے توپهر اس کامطلب ہے کہ آپ بڑے ہی کوئی کم ظرف قسم کے انسان ہیں.

نوٹ: ٹیگ کا آپشن آف کرنے کا مشورہ دینے والے زحمت نہ فرمائیں کیونکہ کچه لنگوٹیوں کواجازت ہے کہ وہ دروازے کو لات مارکے بهی میرے گهرمیں انٹری دے سکتے ہیں. وہ دروازہ بجائیں دیوارپهلانگیں کهڑکی توڑیں جو کریں انہیں اجازت ہے. میری بیل کا بٹن باہر لگا رہے گا مگراس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر کہ ومہ آتے جاتے پڑوم کرکے بیل بجاتاہوا نکل جائے گا. اب اگر بندہ خالی پیلی میں بیل بجانے والوں کے خلاف احتجاج کرے گا توآپ اس کوبیل کا بٹن نکلوادینے کا مشورہ دوگے کیا؟ ایسا تونہیں کرویار!!!
---------------------
یہ ایک موصولہ تحریر ہے، مصنف نامعلوم ہے مگر صاحب بلاگ کا اس سے پورا اتفاق ہے۔ 

مکمل تحریر  »

منگل, ستمبر 10, 2013

ہمارے رویئے

ایک فون کال
اور بھاگتا ہوا کوئی گیا
بن کے ہوا
مسئلہ حل ہوا
خدا کا شکر ادا کیا
پھر خدا حافظ کہا
پھر ملیں گے کا وعدہ
جب فراغت ہوگی
فون پر بات ہوگی
اچھا تفصلی ملاقات ہوگی
پھر کئی دن گزر گئے
موسم بدل گئے
نہ کوئی فون نہ سلام
نہ کوئی ای میل نہ پیغام
میں نے سوچا
کیا ہوا
میں ہی فون کرتا ہوں
احوال پوچھتا ہوں
فون کی گھنٹی بجی
اور بجتی ہی رہی
جواب ندارد
پھر نمبر ملایا
چوتھی بیل پر اٹھایا
جی کڑا کر بولے
بہت بزی ہوں
اور اوپر سے تم بار بار
فون کرکے تنگ کررہےہو
میں کہا تو تھا کہ پھر کبھی بات ہوگی
فراغت کے ساتھ
تفصیلی ملاقات ہوگی
یہ نہ پوچھا کہ خیریت تو ہے
کسی کام سے تو یاد نہیں کیا
سوکھے منہ بھی نہیں 


یہ ایک آزاد نظم ہے، شاید بہت ہی آزاد ہے، کچھ زیادہ ہی، مگ یہ نظم خود ہی سے لکھتی چلی گئی، گویا ایک نظم نہیں بلکہ ایک واردات ہے ، روز مرہ کی واردات، یہاں یورپ میں رہتے رہتے اب تو ان رویوں سے دل بھی دکھنا بس کرگیا ہے۔ 
مگر کبھی کبھی پھر ایک احساس سا جاگ اٹھتا ہے


مکمل تحریر  »

اتوار, اگست 18, 2013

وصال یار

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا 
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
تِرے وعدے پر جِئے ہم، تو یہ جان، جُھوٹ جانا
کہ خوشی سے مرنہ جاتے، اگراعتبار ہوتا
تِری نازُکی سے جانا کہ بندھا تھا عہدِ بُودا
کبھی تو نہ توڑ سکتا، اگراستوار ہوتا
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نِیمکش کو
یہ خلِش کہاں سے ہوتی، جو جگر کے پار ہوتا
یہ کہاں کی دوستی ہےکہ، بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا
رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہوکہ، پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو، یہ اگر شرار ہوتا
غم اگرچہ جاں گُسل ہے، پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا، غمِ روزگار ہوتا
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے، شبِ غم بُری بلا ہے
مجھے کیا بُرا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا
ہوئے مرکے ہم جو رُسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا 
نہ کبھی جنازہ اٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا
اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بُو بھی ہوتی توکہیں دوچار ہوتا
یہ مسائلِ تصّوف، یہ ترا بیان، غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ بادہ خوار ہوتا

مکمل تحریر  »

اتوار, جولائی 28, 2013

میلانو اور چور بڑھیا





میلان اٹلی کا شمالی بڑا شہر اور اسکا معاشی ہب،
 میلان  کی سٹاک  مارکیٹ  کے اتار چڑھاؤ  کا اثر پورے یورپ کی منڈیوں پر ہوتا ہے ۔  میلانو جہاں فیشن اور مارک کا چلن ہے، کہا جاتا ہے کہ یورپ کا سارا فیشن ادھر سے ہی نکلتا ہے، ڈوم سے لیکرگلیریا ویٹوریو ایمانوئیولے اور اس کے ارد کا علاقہ فیشن اور مہنگی شاپنگ کا گڑھ ہے، یہاں پر آپ کو صرف فلمی اسٹارز ہی نہیں بلکہ وزرائے مملکت بھی بھاؤ تاؤ کرتے اور شاپنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، جارجو ارمانی، حوگو، اور اس طرح کے بہت سے نام پنے بڑی بڑی دکانوں اور ایمپوریمز کے ساتھ جلوہ افروز ہیں اور قیمتیں اتنی کہ بڑے بڑوں کا پتا پانی ہوجاوے، کسی نے یہاں حناربانی کھر اور سید یوسف رضاگیلانی کو اور بندے نہیں نے ادھر عارف لوہار کو ونڈو شاپنگ کرتے پایا، ہمارے دوست شاہ جی کے بقول مولانا طاہر القادری جب ہمی جمی میں اٹلی آتے تھے تو میلان شاپنگ کےلئے 
ضرور جاتے اور بات ہے کہ ادائیگی انکے مریدین ہی کرتے ، ہیں جی مطلب مال مفت میلان میں بھی ۔


ڈوم سے کوئی اڑھاءی کلومیٹر کے فاصلے پر ویا آرکیمیدے ہے، وہاں پام سپر مارکیٹ میں اینجلا نامی 76 برس کی معمر خاتون داخل ہوئِ، اندر جاکر اس نے اپنا چشمہ نکالا اور لگا کر گوشٹ کی قیمت بہت محتاط انداز میں دیکھنے لگی، گویا اسکی روز کی پراکسی  تھی،  کافی دیر گوشت کا وہ ٹکڑا ہاتھ میں پکڑے وہ سوچتی رہی  اور پھر واپس ریک پر رکھ دیا ، یہ گوشت کا سب سے کم قیمت پیس تھا، پھر خاتون   آپنی  شاپنگ کارٹ  جس میں کاریئے  کی بریڈ کا ایک پیکٹ اور ٹیونا  فش  کا  170 گرام ایک ٹن  پیک تھا  کو  دھکیلتے  ہوئے  آگے  بڑھ کر چیز فورماجو گرانا پادانا کے ریک پر رکی اور اسکا سب سے کم  قیمت  ٹکڑا اٹھایا اور غور سے اسکی قیمت دیکھنے لگی  اور پھر اس پر ہاتھ ہولے ہولے پھیرنے لگی، شاید اسکے ذائقہ  کومحسوس کررہی تھی،  پھر وہ  بھی واپس  رکھ دیا ۔  واپس  پے منٹ کاؤنٹر کی طرف مڑنے ہی والی تھی تو اچانک اسکی نظر ٹک ٹاک کی میٹھی اور خوش ذائقہ  گولیوں  کی ڈبی  پڑی  ،   یہ ڈبی جسکی قیمت  75 سینٹ تھی  ادھر کسی نے ایسے ہی رکھ دی تھی ۔

خاتون کے چہر ے  پر ایک مسکراہٹ سی چھا گئی  ، شاید اسکا ذائقہ اور مٹھاس  یاد آگئی اور جانے کیسے  اسکا ہاتھ بڑھا اور وہ ڈبی اس نے اپنے ہینڈ بیگ میں رکھ لی۔

 
     یہ سین مارکیٹ  کا مینجر  اپنے دفتر میں بیٹھا دیکھ  رہا تھا اس  کا ہاتھ  فورا ُ   انٹرکام کی طرف بڑھا  اور سکیوریٹی  آفیسر   کو اس سین  سے مطلع کیا۔

اور جب خاتون اپنا سامان آپنی کارٹ  سے پے منٹ کاؤئنٹر  پر رکھ چکیں تو  سیکیوریٹی آفیسر نے خاتون کو اپنا  بیگ چیک کروانے کو کہا، اب  خاتون کے ہاتھ کانپنے لگے اور اس  نے اپنا بیگ کھول دیا ، سیکیوریٹی آفیسر نے ٹک ٹاک کی ڈبی  نکال کر خاتون کو اپنے ساتھ  دفتر میں  چلنے کو کہا، خاتون  کانپتے ہوءے قدموں سے اسکے پیھے ہولی ۔

مینجر  نے نہایت غصہ سے خاتون  سے پوچھا کہ آپ نے چوری کیوں کی، تو خاتون کو صورتحال  کی سنجیدگی کا احساس ہوا ، اسکی انکھوں میں آنسو آگئے اور وہ ڈبڈباتی ہوئی آواز میں معذرت خواہانہ لہجے  میں  بولی :   میں کوئی عادی چور نہیں ہوں ،   میں اسکے پیسے بھی دینے کو تیار ہوں۔

مگر مینجر نہ مانا اور اس نے پراکسی کے طور پر پولیس کو فون کردیا

17.45 منٹ
پولیس کے دو کارپورل  آرتورو اورفرانچیسکو،  ٹھیک  3 منٹ کے بعد مارکیٹ کے اندر داخلہ ہوئے اور سیدھے مینجر   کے دفتر کو پہنچے  تب خاتون کے ماتھے پر پسینہ آچکا تھا،  کارپورل انتونیو نے مینجر کا بیان سنا اور پھر خاتون کی طرف دیکھا، تو خاتون نے باقاعدہ رونا شروع کردیا،  تھوڑا دلاسہ تسلی  کے بعد وہ خاتون کچھ یوں گویا ہوئیں، میں کوئی عادی چور نہیں ہوں، میں ایک مجبور پنشنر ہوں، میں نے اپنی ساری جوانی  کام، محنت مزدوری کی اور اپنا مکان بنایا، اپنے بچوں کی تعلیم و پرورش  کی ، اب وہ بڑے ہوگئے ہیں تو اپنے اپنے گھروں کو ہولئے ، انہوں  نے کبھی میری خبر نہیں لی،   اب  میری پنشن اتنی ہی ہے  کہ ایک ہفتہ اس سے چلتا ہے اور باقی ماہ صرف ٹیونا اور کارئے بریڈ  سے کام چلتا ہے وہ بھی دن میں ایک بار۔ گوشت، پنیر اور سلاد کا ذائقہ صرف پنشن کے پہلے دن ہی افورڈ کرسکتی ہوں۔ آج جب یہ ڈبی میرے سامنے آئی تو مجھے یاد آگیا کہ اسے چکھے ہوئے 16 برس ہوگئے ہیں، میں اب اس عیاشی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی،  جہاں یہ چیزیں ہوتی ہیں  وہاں میں کبھی گئی  ہی نہیں  مگر آج نہ جانے کس نے یہ ڈبی  ادھر رکھ  دی اور نہ جانتے  ہوئے میں نے یہ ڈبئی  اپنے بیگ میں منتقل کرلی۔میں اپنی پینشن میں جو معمولی سی ہے اپنا گزارہ کرتی آئی ہوں مگر آج جانے کیسے یہ ہاتھ چوک گیا، یا آنکھ چوک گئی۔ 

کارپورل آرتورو نے  پوچھا کہ آپ کی پنشن  کتنی ہے تو جواب ملا 350 یورو،  اور اس  کوصورت حال کی سمجھ آگئی  ، کہ جب میں  1780 یورو میں گزارہ  تنگی سے ہوتا ہے تو اس بچاری کااس معمولی رقم میں  کیسے ہوگا۔ فرانچیسکو نے  مینجر کو کہا کہ خاتون کو  قانونی  طور پر وارننگ دے کر چھوڑا جاتا ہے اور یہ کہ اسکا جو باقی کا سامان  ہے اس کے پیسے میں دیتا ہوں ، اسکو اپنی دادی  یاد آگئی تھی  جو اب اس دنیا میں نہیں تھی،  مگر اپنی پنشن  سے بھی  اسکو ٹک ٹاک کےلئے پیسے دیا کرتی تھی۔ تب تک ارد گرد بہت سے بندے اکٹھے ہوچکے تھے اور وہ مینجر کو لعن طعن کررہے تھے، ایک بندے نے معمر خاتون کےلئے کچھ اور کھانے کا سامان بھی لے لیا تھا۔ 

Arturo Scungio e Francesco Console
اور پھر ان دونوں پولیس والوں نے خاتون کو اپنی گاڑی میں اسکے گھر  پر چھوڑا اور نکل گئے۔
اس محلے کے لوگ ان دنوں اس واقعہ کا چرچہ کررہے ہیں جو بہت معمولی سا ہے مگر ایک بڑے معاشری تغیر کی نشاندہی کررہا ہے، ایک بڑے خلاء کی نشاندہی جو آئیس برگ کی طرح اوپر سے جتنا معمولی ہے نیچے اتنا ہی  بڑا ہے۔ مگر مینجر کو فل گالیاں مل رہی ہیں اور پولیس والوں کو شاباش دی جارہی ہے۔ 

یہ خبر میلانو  کے مقامی اخبار میں چھپی اور  مجھ  تک بعذریہ فیس بک پہنچی، ادھر بہت سے بندوں نے کمنٹس کیئے ہوئے تھے، کوئی سپر مارکیٹ کے مینجر کو گالیا ں دے رہا تھا تو کوئی اس پام چینل کی سپرمارکیٹس  کا بائی کاٹ کرنے کو کہہ رہا تھا، کوئی پولیس والوں کوشاباش دے رہا تھا،  کوئی حکومت کو کوس رہا تھا۔ کوئی مقامی حکومتوں  کے لتے لے رہا تھا۔
مگر کسی نے بھی نہیں کہا کہ ہمیں اپنے ارد گرد بسنے والےبزرگوں اور عمر رسیدہ افراد کا خیال رکھنا چاہئے ۔  
اس بارے آپ کا کیا کہنا ہے کس کو قصور وار ٹھہرایا جاوے؟؟ کون قصور وار ہے اس واقعہ کا ؟؟؟   

Milano, Via Arcimide, ladra Vecchia,  

مکمل تحریر  »

اتوار, جولائی 14, 2013

لالہ، ملالہ اور عالمی بدمعاش


لالہ  ہم لوگ پٹھانوں کو کہتے ہیں، پنجابی میں بڑے بھائی کو بھی کہا جاتا ہے، آجکل لالہ کے بجائے ملالہ ملالہ ہوئی پھری ہے،  یہ ایک سولہ برس کی چھوٹی بچی ہے  جس کو پاکستان  میں پسماندگی کے سمبل کے طور پر استعمالا جارہا ہے،     مجھے ملالہ کے بارے علم نہیں ہے۔   زیادہ سوات کے بارے بھی  نہیں کہ ایک بار ہی جانا ہوا،    تب وہاں روای چین لکھتا تھا اور بڑے مزے سے اپنی فیملی کے ساتھ  بھی ادھر لالوں کی مہمان نوازی  اور گرمیوں میں  دریاءے سوات کے ٹھنڈے پانی سے لطف اندوز ہوسکتے تھے۔    یہ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں ہے  کوئی 1995 کے اردگرد کا ذکر ہے،  جولوگ اس  کے بعد بھی ادھر کو ہولئے وہ میرے گواہ ہیں کہ مزے کی جگہ ہے۔



پھر  افغانستان پر امریکی حملہ اور  اسکے فوراُ بعد پاکستانی طالبان کا قیام  ، بس سب کچھ تبدیل ،    یہ پاکستانی طالبان ایک سوالیہ نشان ہیں،  دھماکہ یہ مسجد میں کرتے ہیں،   جنازہ  و مزار کو تو بلکل بھی نہیں بخشتے،  اسکول ہو ، کہ بازار، ہسپتال  یا پھر پولیس اسٹیشن   ، پار کرجاتے ہیں اڑا کے رکھ دیتے ہیں، نہیں چھیڑا انہوں نے تو کسی چرچ کو نہیں  چھیڑا، بھئی مذہبی رواداری بھی کوئی چیز ہے،  عام آدمی  جو بازار میں خریداری کررہے ہوں ، مزدور جو اپنی روزی کے چکر میں ہوں،  ان سے نہیں بچ سکتے، مگر بہت حیرت کی بات ہے انہوں نے آج تک کسی جواء خانہ، کسی  کلب، کسی فیشن شو  یا پھر کسی لچر ٹی وی چینل کو کبھی نہیں چھیڑا۔ شکل انکی شدید اسلامی ہے،  یہ دھاڑی، یہ  پگڑی ،  نام امارت اسلامیہ افغانستان والے طالبان کا،   نام سے پہلے ملا ضرور لکھنا اور کام  سارے اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف،  اسکول بند، نمازی نماز نہیں پڑھ سکتے، دھماکہ جنازہ میں،   بندہ پوچھے وہ کونسے مذہبی ہیں جو اپنی ہی عبادت گاہ کے دوالے   ہورہے،  اسی کو ہی تباہ کرنے پر تلے ہوءۓ۔

اب تو کہا جاسکتا ہے  انکا کام صرف دہشت پھیلانا  ہے اور کچھ نہیں،   بندہ پوچھے کہ اس سے وہ حاصل کرنا کیا چاہتے تھے؟؟؟   انکا مقصد کیا تھا اس فساد فی لارض سے ؟؟؟   مستفید کون ہوا اس کاؤس سے؟؟؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات ہر بندہ جانتا ہے  اور جو نہیں جانتا اسے بتلانے کی ضرورت نہیں۔

پاکستان کا یہ لالوں کا علاقہ سوات ، گزرشتہ کئی دہائیوں سے  مشکلات کا شکارہے،  روس کے افغانستان پر حملہ کے نتیجہ میں آنے والی امیگریشن کا رخ اس طرف ہونے کی وجہ انکی معاشرت و  زبان کا ایک ہونا تھا۔   جغرافیائی طور پر پہاڑوں اور دشوارگزار،  وادیوں  پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ،موسم کی شدت اور برفباری و سردی کا طویل سلسلہ،  اس علاقے کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ رہا۔   انگریز کے وقت سے اسکی حثیت ایک غیرمستقل  حیثیت ہونے کی وجہ سے،  وہاں ترقیاتی کام خاطر خواہ نہ ہوپایا،  مشرف صاحب اور ذرداری حکومتیں بھی اپنی امریکہ تولیہ پالیسی کی وجہ سے ادھر  توجہ دینے سے کنارہ کشی کرتی رہیں۔

ایسے میں ملالہ ظہور پزیر ہوئی،  ایسے وقت میں جب فوج نے ادھر کنٹرول سنبھال لیا اور اسکول کھل گئے، لڑکیا ں لڑکے سب اسکول کو جانے کے قابل ہوگئے،  طالبان کو قابو کرلیا گیا،    روز خبریں آرہی ہیں کہ ادھرآج میلہ لگا ہوا ہے، آج کرکٹ کا ٹورنمنٹ ہورہا،   مگر ملالہ جی کے بیانات سے لگتا ہے کہ ادھر بس برے حالات ہیں اور 8 برس پہلے جو اسکول جلاءے جاتے تھے اب بھی وہی ہے۔  ملالہ کے بیانات سے زیادہ  ڈر اسکو دئے جانے والے پروٹوکول سے لگ رہا، کبھی تو وہ  اوباہامہ کی چہیتی ہوتی ہے،  اسکی سولویں سالگرہ   کا اقوام متحدہ  میں منا یا جانا بھی ایک سوالیہ نشان ہے،   سوال یہ نہیں  ہے کہ ملالہ کا جنم دن کیوں منایا گیا؟  سوال یہ ہے کہ ملالہ علاوہ دیگر  پاکستانی بیٹیوں کو بھی تو گولیاں لگیں، ان پر تو بھی تو ستم ہوءے، کشمیر میں  کتنی ملالاؤں پر کیا نہیں بیتا،  کتنی ملالاءں اور اس کی عمر کی لڑکیا ں امریکن ڈرونز کا شکار ہوئیں اور ماری گئیں، بغیر جانے کہ انکا قصور کیا تھا،  فلسطین میں  کیا ملالائیں موجود نہیں، کیا وہ   کچھ نہیں لکھ سکتیں، کیا وہاں کوئی  بی بی سی کا نمائندہ نہیں جو فلسطین کی ملالہ کے بلاگ کی نوک پلک سنوارے؟؟ اقوام متحدہ کا ان معصوم ملالاؤں کے بارے کیا خیال ہے جو گزشتہ 70 دہائیوں سے پس رہیں  ظلم کی چکی میں؟؟؟؟ 
 
آگے کیا ہوگا؟؟؟    وقت کا قاضی   فیصلہ سنائے گا وقت آنے پر ہی ،  مگراب تک کی  تاریخ تو یہی ہے کہ مغرب نے یہ چوتھی عالمی جنگ  اپنے میڈیا سے لڑی اور لڑرہے،  جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ انہوں نے ہی کیا،   گیارہ ستمبر سے اسامہ بن لادن تک،  صدام حسین عراق کے جراثیمی ہتھیار اور تیل پر قبضہ،  لیبیا  پر حملہ اور مصری حکومت کا تختہ الٹنا، ایران  اور پھر سوریا  کی شورش، پاکستان میں مولبی قادری کی شورش اور نظام کو سبوتاژ کرنے کا پروغرام  ،   اور اب ملالہ کی پروجیکشن  دیکھو ،  اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔  مجھے تو یہ سب عالمی بدمعاشوں کی ایک اور چال لگ رہی،  ہمارا میڈیا تو انکی بولی بول رہا، ادھر سوشل میڈیا پر بھی،  یورپی لوگ پاغل ہوئے بیٹھے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اٹالین ٹی وی دیکھتے ہیں اور برلسکونی کو ووٹ دیتے ہیں۔  اب ملالہ ملالہ کرتے پھر رہے ہیں، جیو نیوز بتلا رہا کہ  کسی بینڈ نے آئی ایم ملالہ  بھی گادیا۔ ہور دسو، ڈرون حملوں میں مرنے والی ملالوں کا شاید حساب دینے کی بجاءے اس پر پردہ ڈالنے کی ایک بھونڈی کوشش 




مکمل تحریر  »

جمعہ, جنوری 04, 2013

شیخ الاسلام اور سنیارا


شیخ الاسلام   ایک جناتی لفظ ہے، میں ا سکی تاریخ تو نہیں جانتا  اور نہ ہی جانناچاہتا ہوں، یہ کب سے شروع ہوا ، اس سے مجھے کوئی علاقہ نہیں، اور نہ ہی یہ سمجھ سکا کہ یہ لقب یا عہدہ لینے کےلئے کیا کولٹیفیکشن ہے اور کس کی طرف سے ملتا ہے ، مگر اسکا حال مولبی طاہر القادری ہے۔ آج کل ہر طرف  جن کا چرچا چل رہا ہے،  چاہے وہ ٹی وی  ہو یا بیوی،  دونوں طرف مولبی جی کا ذکر ہورہا،  یارلوگ انکا پرانا کچھ چٹھا بھی کھول  لائے، جو دور کی کوڑی لانے والے تھے وہ  انکے خوابوں والی ویڈیو بھی گھسیٹ لائے۔  اردو میں اور بیان اور انگریزی میں کچھ اور کہنے والی ویڈیو تو زبان زد عام ہیں ، بلکہ روز ہی سوشل میڈیا پر کھومتی گھماتی مل جاتی ہے، اسکی تردیدی ویڈیو بھی مگر۔ " کمان سے نکلا ہوا تیر، زبان سے نکلی ہوئی بات اور ریکارڈڈ ویڈیو "  ، تینوں کی واپسی مشکل ہے۔  23 دسمبر سے آج تک ان کی ہر بات اور ہر بدلا ہوا بیان عوام کی نظر میں ہے، اور  سوشل میڈیا کی عوام بال کی کھال اتار رہی، اب تو  حال یہ ہے کہ انکے حواری  14 جنوری کو اسلام آباد چلو لکھتے ہیں تو انکے اوپر ہونے والے کمنٹس مخالفت میں ہوتے ہیں۔

 ویسے یہ جو مخالفین ہوتے ہیں یہ بندے ٹھیک نہیں ہوتے،  انہوں نے ہر بات  میں تنقید کرنی ہوتی ہے، کیڑے نکالنے ہوتے ہیں،   میں ذاتی طور پر مولبی جی  مطلب حضرت شیخ الاسلام  کے بیانات کا حامی ہوں، باتیں وہ  ٹھیک کرتے ہیں، مگر انکی ذات اور انکا مقررہ وقت میرے بھی خیال  شریف میں کسی بڑے گھن چکر کا  حصہ ہے اور کسی بڑی سازش کا حصہ۔

ابھی آپ پریشان ہونگے کہ شیخ الاسلام اور سنیارا  جسے اردو میں سنار  کہتے ہیں کا کیا جوڑ ہوا، تو اس بارے  میں دور کی کوڑی ہماری ہمشیرہ لائی ہیں،  سادی بندی اور گھریلو خاتون،  عورت عورت ہوتی ہے، اس کی نظر زیورات پر ہی ہوتی ہے، حضرت شیخ الاسلام  کے اپنے بقول " عورت کو زیورات اپنے شوہر اور بچوں سے بھی زیادہ عزیز ہوتے ہیں"۔
 
کہنے لگیں کہ:   "پتہ ہے اس شیخ الاسلام نے  ان بچاری عورتوں کے زیورات کیوں چکر دے کر اتروالئے؟" لانگ مارچ اور دھرنے کے اخراجات کو،   " نہیں جی، یہ چکر نہیں ہے، لانگ مارچ اور دھرنے اس سے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں  مگر وہ تو زیورات نہیں مانگتے رہے، ویسے بھی پیسے تو یہ ادھر کینڈا، امریکہ ، یورپ سے لے کر آیا ہے،  ان کی اسے ضرورت نہیں۔"       اچھا تو پھر آپ  بتاؤ کیا چکر ہے؟     "  سادیو، شیخ  الاسلام ہے  ناں اور آپ کو پتا ہے کہ جہلم میں  شیخ  جتنے  ہیں وہ سارے سنیارے ہیں،   اور سنیارا تو پھر زیورات کی طرف ہی للچائے گا،  سچ ہے کہ سنیارا سنیارا ہی ہوتا ہے، چاہے وہ سنیارا بازار کا شیخ ہو یا پھر  سلام کا شیخ۔ " 

سادی بندی ہے، سادی ہی بات کرے گی تو، کتنی بار کہا ہے کہ وہ شیخ الاسلام ہے ، سنیارہ بازار کا شیخ نہیں، مگر نہیں  اسکے بقول سنیارہ سنیارہ  ہے اور سنیارے  کی نظر زیورات پر ہی ہوگی، اور اس نے اب کی بار دھروا لئے زیورات پھر، اب ایک تو باہر سے لائی گئی دولت اور مال کے  حساب دینے سے خلاصی، دوسرا سنیارے کے دل کو سکون، کہ یہ مال و زیورات منافع مزید۔


مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش