جمعہ, مئی 29, 2015

جہلم کے لوکاٹ

لوکاٹ  گزشتہ ہفتے ادھر سپر مارکیٹ میں دکھائ دے گئے،مہنگے تھے مگر اٹھالائے،   ادھر کم ہی نظرآتے ہیں، ویسے بھی ہم کونسا کھانے پینے کے شوقین واقع ہوئے ہیں۔ بس صرف پیٹ بھرنے کو کھالیتے ہیں یہ اور وجہ ہے کہ باوجود اتنی کسرنفسی کے پیٹ ہےکہ بڑھتا ہی جارہا ہے، گویا  بقول :
" زیستن برائے خوردن، نہ کہ خوردن برائے زیستن"

حالانکہ اگر آپ ہم سے قسم بھی اٹھوا لیں تو ہم یہی کہیں گے کہ  "خوردن برائے زیستن ، نہ کہ زیستن برائے خردن"۔  اچھا نہ  مانو، ویسے ماننے والی  "حالت " بھی کوئی نہیں ہے ادھر۔

خیر لوکاٹ لے کے آگئے بس فوری طور پر انکو "غسل" کروایا گیا اور یہ بسم اللہ پڑھ ڈالی ہم دو بندے کھانے والے تھے اور فی بندہ کوئی تین تین لوکاٹ ہاتھ آئے، ایک کلو کے ڈبے میں اب تھے ہی چھ تو اور کتنے ہاتھ آتے۔ تو جنابو۔ وہی ذائقہ وہی خوشبو۔ صرف پلے ہوئے خوب تھے۔ مجھے تو پاکستان کے لوکاٹ یاد آگئے ۔

لوکاٹ اور کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ جہلم کے پہاڑی علاقہ اور سطح مرتفع پوٹھوہار کا مقامی پھل ہے، ویسے ہم مقامی پھل "بیر" کو قرار دے چکے ہیں مگر مان لو۔ یہ بات تسلیم کر لینے کی وجہ یہ بھی ہے کہ جہلم اور پوٹھوہار میں لوکاٹ کو پھل بہت پڑتا ہے، ہمارے لئے لوکاٹ سے پہلی شناسائی تھی تایا احمد مرحوم کے گھر، ادھر سے جون کی دوپہر کو جب وہ سور ہے ہوتے تو ہم لوکاٹ توڑنے چھت پر سے انکے گھر اترچکے ہوتے، ادھر عصر کی اذان ہوتی تو ادھر تائی کی گالیاں اسٹارٹ ہو جاتیں۔ واہ واہ کیا زمانے تھے، منہ کا ذائقہ ان گالیوں سے ذرا خراب نہ ہوتا۔ شاید انکو پتا ہوتا تھا کہ کون کون تھا اور اوپر والے دل سے گالیاں دیتیں ۔ تب تک ہم سارے مشٹنڈے سر پر ٹوپیاں  پہن کر مسجد با جماعت، بس پھر شام کی نماز باجماعت پڑھ کر ہی مسجد سے نکلتے اور جانے کیسے یہ ہو جاتا کہ تقریباً سب کو گھر سے جوتے پڑتے۔ کہ لوکاٹ تو توڑے مگر درخت کی ٹہنیاں کیوں کھنیچیں۔  

دوسرا لوکاٹ کا  مقام تھا اسلامیہ ہائی اسکول میں جب داخل ہوئے تو وہاں پچھلی طرف والے سائیکل اسٹینڈ کے پاس لوکاٹ کے درخت یہ اونچے اور پھل سے لدے ہوئے، تیسرا ٹھکانہ پھر ہوا بلال ٹاؤن۔ جہاں کوٹھیوں کے باہر کی طرف لوکاٹ کے پھل سے لٹکتے ہوئے درخت ہوتے مگر انکا پھل توڑنے کو حوصلہ نہ پڑتا۔ تب مارکیٹ سے پھل خرید کرکھانے کی عیاشی کم ہی ہوتی تھی۔ یہ تبھی ممکن تھا جب کوئی مہمان آتا تو سیمنٹ کے کاغذی توڑے سےبنے ہوئے لفافے میں پھل ڈال کرلاتا۔ ہم سارا وقت اس لفافے کو دیکھا کرتے۔ دوسری صورت یہ تھی کہ گھر سے کوئی شہر جاتا کسی کام سے تو پھل آتے۔ تب پھل کم ہوتے تھے اور انکی خوشی زیادہ، اب پھل زیادہ ہیں اور انکی خوشی کم ۔


ماہرین نباتات کا خیال ہے کہ لوکاٹ چینی درخت ہے اور چین کے جنوب اور مشرق میں پایا  جاتا تھا۔ آج بھی چین اور جاپان لوکاٹ  کی پیداوار کےلئے بڑے ملک ہیں مصر برازیل اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ۔
ویسے پاکستان میں عام پایاجانے والا درخت ہے ، ہمارے اردگرد کلرکہار اور کوہستان نمک کے علاقہ میں عام ملتا ہے، جنگلی طور پر بھی۔ اسی طرح شیند یہ ہے کہ جہاں آجکل اسلام آباد کا شہر موجود ہے یہ ساری وادی لوکاٹ کے جنگلات سے بھری ہوئی تھی۔ ، بیری کے سائیز کا ہوتا ہے یہ بڑے بڑے پتے اور کافی سارے پھل،  اسکی شکل خوبانی سے ملتی جلتی ہے اور ذائقہ آم سے، کچھ کہنے والے یہ بھی کہتا ہیں کہ لوکاٹ آم اور خوبانی کی پیوندکاری کے نتیجہ ہے۔ جیسے آڑو آلوبخارے اور خوبانی کی پیوندکاری کا ۔ پس ثابت ہوا کہ اس خوبانی کو پیوندکاری کروانے کا بہت شوق ہے، ہیں جی ۔  مجھے تو کچھ "ٹھرکی" قسم کا پھل "معلوم" ہوتا ہے یہ ۔

لوکاٹ کے بارے کچھ معلومات
اچھا جی لوکاٹ کے بارے گپ بازی ختم اور کچھ سنجیدہ معلومات۔  ( بلاگ سے چوری کرنے والے حضرات  ادھر سے کاپی کرنا شروع کریں) ۔
نباتاتی نام  Eriobotrya japonica ہے اور اسکو پھولدار اور پھل دار پودوں میں شمارکیا جاتا ہے اور اس  کو Rosaceae  قبیلہ میں شامل کیا جاتا ہے، جیسے سیب، خوبانی، آلوبخارا  وغیرہ۔  اسے Japanese Plum اور Chinese Plum کے علاوہ Japanese Medlar
بھی کہاجاتا ہے، چینی زبان میں اسے "لوگاٹ" اطالوی میں  Nespolo اور عربی میں " اکیدینیا" کہاجاتا ہے، دیگر زبانوں میں اسکے نام جاننے کےلئے آپ خود " باوے گوگل " کی منت سماجت کریں۔
درخت کی اونچائی دس سے پندرہ فٹ اور سائز درمیانہ ہوتا ہے جیسے اس قبیل کے دیگر درخت ہوتے ہیں، پتوں کا سائز چار انچ سے لیکر دس انچ تک ہوسکتا ہے۔ لکڑی اسکی فرنیچر بنانے کے کام آتی ہے مطلب ضاع کچھ بھی نہیں۔
پھل پوٹاشیم میگنیشم اور وٹامن اے سے بھرپور ہوتا ہے، مطلب ڈالڈا گھی کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
اسکے علاوہ اس میں چکنائی اور سوڈیم کی مقدار بہت  کم ہوتی ہے   اسکی طرح اس میں شوگر کی مناسب مقدار پائی جاتی ہے ۔

طبی فوائد۔
لوکاٹ کے پتے cyanogenic glycosides (including amygdalin)  کی موجودگی کی وجہ سے کچھ زہریلے اثرات رکھتے ہیں،  بلغم کو خشک کرنے اور جھلیوں کی ریشہ دار رطوبت کی زیادتی کو کنٹرول کرنے کےلئے مفید ہیں، قدیم چینی طب میں اسکے پتوں  کا شربت تر و بلغمی کھانسی کےلئے مروج ہے ہے اور مریض کو سکون فراہم کرتاہے۔
لوکاٹ کے پتے antioxidants   ہیں اور جسم میں موجود زہریلے مادوں کے اخراج کےلئے نیز بڑھتی عمر کے اثرات کو روکنے کےلئے بھی استعمال ہوتے ہیں، جلد پر انکا یہ اثر  دیکھا گیا ہے کہ جلد تروتازہ و جھریوں سے پاک ہوجاتی ہے۔ مطلب "منڈا جوان" ہوگیا۔
شوگر کےلئے مفید۔
لوکاٹ کے پتوں کا جوس Triterpens کی موجودگی کی وجہ سے شوگر کی بڑھی ہوئی مقدار کو قابو کرنے میں کافی حد تک معاون پایا گیا ہے۔  اسی طرح  پتہ و گردہ کی پتھریوں، کے ساتھ ساتھ جلد کے کینسر  اور عمومی وائرل حملہ میں میں بھی مفید ثابت ہوا ہے۔
اسی طرح جگر میں مختلف کیمائی مادوں کے جمع ہوجانے وجہ سے ہونے والی جگر کی بڑھوتر ی  LIVER HYPERTROPHY میں بھی مفید ہے اور جگر کی صفائی کے کام آتا ہے۔
اسی طرح خوبانی کے باداموں  کی طرح لوکاٹ کے بیج بھی Amigdalina, vitamina B17 حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہیں، تو جناب جب تک آپ کو ہنزہ کی خوبانیاں دستیاب نہیں تب تک اپ جہلم کے لوکاٹ کے بیج  "چبائیں" ۔
تو پھر ہوجائے چلو چلو جہلم چلو؟؟؟ 

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش