منگل, ستمبر 30, 2014

تجاوزات



دکان کے آگے فٹ پاتھ پر تھڑا بنانا 
ریڑھی لگانا چھاپہ لگانا
رستہ بند کر دینا
یہ تو ایک عام سی بات ہے ۔
عموماً عوام بھی کچھ کہے بغیر موٹر سائیکل ، گاڑی ، گدھا گاڑی سے جان بچاتے ہوئے سڑک پر سے گذر جاتے ہیں۔
میں نے ایک کارنر والی دکان کے سامنے کے رستے پر تجاوز کرکے بنے ہوئے تندور کو دیکھا اور ساتھ والے سے کہا کہ ادھر سے نکلنے والے کو سیدھی طرف سے آنی والی گاڑی یا پیدل لوگ نظر نہیں آتے یہاں ایکسیڈنٹ ہو چکا ہو گا۔اگر نہیں ہوا تو ضرور ہو گا۔
سننے والے نے کہا تھا ہے تو غلط بات لیکن آج تک کوئی حادثہ نہیں ہوا،اس لئے ہم نے بھی کبھی سوچا نہیں۔
بس میری "کالی" زبان" اور اسی دن بچوں کو سکول لانے لے جانے والی گاڑی نے گاڑی افورڈ نہ کر سکنے والے بچوں میں گاڑی اسی جگہ گھسیڑ دی۔
ہاہا کار ہائے ہائے مچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور میں دیکھ رہا تھا کہ تندروچی مزے سے روٹیاں لگا رہا تھا۔ کچھ بچے چوٹیں سہلاتے گھروں کو واپس جارہے تھے جو لمبے پڑے چیخ رہے تھے انہیں آس پاس کے لوگ گاڑی لاؤ اوئے۔
زخمی بچوں کو اسپتال لیکر جانا ہے کا شور مچا رہے تھے۔
آپ اس طرح کے حادثے کے بعد لوگوں کی بے لوثی اور خلوص کے ساتھ "متاثرین" کی مدد دیکھ کر فخر محسوس کر سکتے ہیں۔
دیکھو ہماری قوم "زندہ" ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہیں جی
یہاں جاپان میں میرے گھر کے بالکل پیچھے ایک سیون الیون فرنچائیز کنوینینس سٹور ہے۔ لوکیشن اچھی اور کارنر پر ہونے کی وجہ سے اس کے وسیع و عریض پارکنگ لاٹ میں چوبیس گھنٹے گاڑیوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔
پارکنگ بڑی ہونے کی وجہ سے ہیوی ڈیوٹی ٹرک رات کو آتے ہیں اور ڈرائیور رات کو گاڑی کھڑی کرکے سوجاتے ہیں۔
گرمیاں ہوں یا سردیاں ان ٹرکوں کے انجن سٹارٹ رہتے ہیں ، جس کی وجہ سے ہم رات کو کھڑکی کھول کر سو نہیں سکتے۔
اس کے علاوہ بھی قریبی علاقے کے لوگ جو کہ اس سٹور سے خریداری کیلئے آتے ہیں ہمارے گھروں اور باغیچوں سے گذرنا شروع ہو گئے تھے۔
بچے اور آجکل ہمارے علاقے کچھ "دیسیوں" اور دیگر غیر ملکیوں کے بچے ہمارے اور پڑوسیوں کے باغیچوں سے گذرنا شروع ہو گئے تھے۔
سٹور کی پچھلی طرف کھلی جگہ ہونے کی وجہ سے بچوں نے کھیلنا شروع کر دیا تھا اور گیند ہماری دیواروں سے ٹکراتی تھی،
بچے گیند اٹھانے کیلئے ہمارے باغیچے میں گھس جاتے تھے۔ کھا پی کر کچرا پھینک دیتے تھے۔ جس کی وجہ سے گندگی ہونا شروع ہو گئی تھی۔
ایک دو بار بچوں کو منع کیا لیکن کوئی اثر نہیں ہوا۔
تنگ آکر سٹور کے مالکان سے شکایت کی تو سٹور کے مالک کے نے ہفتے میں ایک بار صفائی کرنا شروع کر دی۔
ہم مزید تنگ ہوئے تو "سٹور کی فرنچلائیز کمپنی" سے کہا کہ کچھ کیجئے ورنہ ہماری مجبوری ہے عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا۔
شکایت کے فوراً بعد کمپنی والے آئے معذرت کی اور کہا کہ جتنی جلد ہو سکا تحقیق کرکے ہم مسئلہ حل کر دیں گے۔
دو ماہ بعد آج آئے "تحائف" ساتھ لائے اور ہمیں انتہائی مودبانہ انداز میں "رپورٹ" پیش کی کہ 
سٹور کی پچھلی طرف چاردیواری بنائی جائے گی اور چاردیواری بھی وہ والی جس سے "شور " کو دبا کر ختم کر دیا جائے گا۔
تاکہ آپ کی راتوں کی نیند پُرسکون رہے۔ اتنا عرصہ جو آپ کو تکلیف ہوئی ہم اس کی معذرت چاہتے ہیں۔ 
ساتھ میں انہوں نے نقشہ اور تعمیراتی پلان کی تفصیل بتائی ، اخراجات بتائے اور ہماری رضامندی کیلئے ایک عدد کنٹریکٹ پر دستخط کروائے۔
اخراجات جو آنے ہیں پاکستانی تقریباً ایک کروڑ روپے کی خطیر رقم ہے جو کہ جاپان میں بھی خطیر رقم ہی ہے۔
صرف تین گھروں کیلئے جو کہ سٹور کے "پڑوسی" ہیں صرف ان کی راتوں کی نیند کے سکون اور دیگر پریشانیوں کیلئے "ایک کروڑ" کی رقم لگائی جا رہی ہے۔ 
یہ صرف قانون کی حکمرانی کی وجہ سے ہے ورنہ جاپانی تو ایسی وحشی قوم تھی کہ جنگ میں کھانے کو نہ ملنے کی وجہ سے بندے بھون کا کھا جاتے تھے اور وہ "خیال" کرکے کہ "جاپانی" نہیں کھانا۔
کسی دوسری قوم کا ہے تو کھانے میں کو حرج نہیں 

اور میری قوم کے لوگ دوسری قوم کیطرف دیکھتے ہی نہیں پہلے جس پر "ہاتھ" پڑے اسے ہی کچا چبا ڈالتے ہیں۔۔
رو عمران رو
گو نواز گو 

  بشکریہ، محترمی و مرشدی یاسر خوامخوہ جاپانی مذلہ علیہ و عفی اللہ عنہ
آپ جناب نے اپنے بلاگ پر چھاپنے کی بجائے ادھر شائع کرنے کی اجازت مرحمت فرماکر راقم الحروف کو عزت بخشی۔ 
گو نواز گو، 
رو عمران رو



مکمل تحریر  »

ہفتہ, مارچ 15, 2014

ہم ناشکرے

میں نے موبائل کو وقت دیکھنے کو جیب سے نکالا تو    انجلین کا وھاٹس اپ پر میسج آیا ہوا تھا،    کہ کام سے فارغ ہو کر مجھے فون کرلیا، آجکل  ترقی ہوچکی موبائل فون کی وجہ سے گھڑی ، ڈائیری  پین وغیر ہ  سے فراغت ہے، بس فون سے ہی کام چلاتے ہیں تو بس ہر وقت ساتھ ہی ہوتا ہے اپنے۔  جس دن فون گھر رہ جائے تو بس واپس آ کر  لینا ہوتا ہے ، اسکے سوا  اپنی دنیا  ادھوری ہے، ممکن ہے سب کی ہی ہو،  آخر ہم آزادی اور ترقی یافتہ دور سے گزر رہے ہیں۔

انجلین کو فون کیا تو  کہنے لگی کہ تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے ذاتی قسم کی اگر فارغ ہوتو  کہیں چل کرے کافی پیتے ہیں۔
ہر ملک کا اپنا اپنا رواج ہے ،  پاکستان میں یار باش سیدھا سیدھا کہہ دیتے ہیں کہ آؤ جی خانجی گپ مارتے ہیں اورگاوں دیہات میں تو چائے کافی  کا بھی  ٹنٹہ نہیں پالا جاتا، ادھر کھیتوں کے بیچوں بیچ  کسی بنے پر بیٹھ  اور ہوگئے شروع ، چاہے تو 3 گھنٹے ادھر ہی گزر جاویں، خیر پاکستان میں اگر کسی لڑکے لڑکی کو ساتھ باتیں کرتے دیکھ لیں تو سمجھ لیں کہ بہن  بھائی ہیں اگر شکل ملتی  ہے تو اگر نہیں تو پھر میاں بیوی ہونگے، تیسری صورت میں  پھر پھانڈا ہی ہے۔ ۔  اسی طرح ملک یونان میں بھی بول دیتے ہیں آؤ جی گپ لگانے چلیں، مگر اس کی صورت یا تو چہل قدمی ہوگی یا پھر وہی کافی اور بس پھر گھنٹے ادھر ہی۔

یہ انجلین بھی ایویں ہی ہے،  ہرچھوٹی سی بات کا ایشو بنانا اسکے پیچھے بس ہے، اور باتیں کرنے کی شوقین، فارماسسٹ ہے اور ایک فارمیسی میں کام کرتی ہے، میری اسکی ملاقات  پہلی بار کام کے سلسلہ میں ہی ہوئی تھی، ہم فوراُ ہی دوست قرار پائے ، میرے لئے بہت معاون ہے، نئے شہر میں جہاں آپ کا جاننے والا کوئی نہ ہوجسکو آپ کام کے علاوہ مل سکیں یا بات بھی کرسکیں  تو ایسے میں جو بھی دوستی کا ہاتھ بڑھائے وہ  ہی سب سے اچھا دوست ہوتا ہے۔کوئی بھی چھوٹا موٹا کام ہو، یا کوئی معلومات چاہئیں ہوں تو بھاگی پھرتی ہے، اور تب دم لے گی جب جان مار کر کام پورا کر نہ لے تو۔ دل کی بہت اچھی ہے۔ 

میں  بمطابق پروگرام سات بجے  اسکی   فا رمیسی کے سامنے گاڑی میں تھا، کچھ ہی دیر میں وہ بھی آگئی، چہرے سے ہی تھکاوٹ اور مایوسی عیاں تھی، چاؤ، چاؤ اور وہ گاڑی میں میرے ساتھ والی سیٹ پر گر سی پڑی، اسنے حسب عادت سیٹ بیلٹ کھینچا   اور ہم شہر کی دوسری طرف کوئی چار کلو میٹر دور اپنے مخصوص کیفے کی طرف رواں دواں تھے، چھٹی کا وقت ہونے کی وجہ سے گاڑیا ں ہی گاڑیاں تھیں، ٹریفک بہت آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔  اور ہم لوگ آپس میں باتیں کرتے جارہے تھے،   وہ بولے جارہی تھی، میں نے اندازہ لگا لیا کہ اسکو کام کچھ بھی نہیں تھا، بس بچاری نے دن کی بھڑاس نکالنے کو میرا ساتھ مانگ لیا۔ اپنی سارے دن کی روداد، گاہکوں کے روئیے ، اپنے دوسرے کولیگز کی رکھائی، پھر بات ٹریفک کی طر ف چل پڑی ،    ہماری گاڑی کے آگے ایک بس لگی ہوئی تھی جی  وہی پبلک ٹرنسپورٹ  والی جو ہر پانچسو میٹر پر رکتی باقاعدہ اور سواریاں اتارتی چڑھاتی، انجلین کہہ رہی تھی کہ  دیکھو سارا دن کام کرنے کے بعد میرے ساتھ یہی ہونا تھا،  آج تو دن ہی بہت برا ہے، میری تو قسمت ہی پھوٹی ہوئی ہے،  اب دیکھو یہ بس سامنے لگ گئی ہے، گویا ایک دیوار ہی تو بن گئی  ہے ہمارے سامنے، ہمارا اتنا خوبصورت شہر ہے بند ہ اس کا نظارہ بھی نہیں کرسکتا، بس کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آرہا، ایسے لگ رہا جیسے ہم دو اندھے ہوگئے ہوں اور سامنے اس پیلی دیوار کے سوائے کچھ  نہیں ہے۔

میں سٹرک کی دوسری طرف دیکھ رہا تھا، ادھر فٹ پاتھ پر ایک شخص اپنی سفید چھڑی لہراتا ہوا چل رہا تھا، سفید چھڑی کا مطلب یہ شخص نابینا ہے۔ ہماری گاڑی کھڑی تھی بس کے پیچھے اور بس کھڑی تھی اپنے اسٹاپ پر،  شاید سواریاں زیادہ تھیں یا آگے ٹریفک بلاک تھی،  میں  نے انجلین کی توجہ اس نابینا کی طرف دلوائی ، جو فٹ پاتھ کے کنارے ایک کھمبے کی طرف بڑھ رہا تھا،  اسکی  زمین  کے اوپر رینگی ہوئی چھڑی جب کھمبے سے مس ہوئی تو تھوڑی اوپر اٹھی  اور پھر اس نے دوسرا ہاتھ بڑھا کر کھمبے کو محسوس کیا، اور اپنا راستہ بدل لیا۔

میں انجلین سے بغیر سوچے سمجھے کہ اسے کیسا لگے  کہہ  رہا تھا کہ  دیکھو میڈم ایک ہم ہیں   کہ ایک بس سامنے ہے تو اس کو  ہی روئے  جارہے، کہ ہمارے سامنے پیلی شیٹ لگ گئی ہے، ہمیں کچھ نظر نہیں  آرہا،باوجود اسکے کہ ہم دائیں بائیں دیکھ سکتے ہیں، ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں،    اور ایک ایک وہ شخص ہے جس کے سامنے ایک  و ہ ہے جس کے سامنے شاید اندھیری دیوار ہے،  صرف سامنے ہی نہیں  چاروں طرف، مگر اسکے چہرے پر مسکراہٹ ہے،  اور ہمارے چہروں پر  تناؤ ہے، سچ تو یہ  ہے  کہ ہم لوگ ناشکرے ہیں۔ اور بس


ترجمہ،  پنجابی سے اردو، بنا مطلب کھیت کی منڈیر، پھانڈا مطلب مارکٹائی پروگرام۔ 



مکمل تحریر  »

ہفتہ, مارچ 08, 2014

بابائے قوم کا مزار، بے حیائی اور ہماری قوم

کل رات بابے قائد اعظم کے مزار کے بارے آے آور وائی کی ٹیم سرعام کی رپورتاژ دیکھی،


قسمیں مجھے تو روتا آرہا، جو لوگ بابے کی قبر والے کمرے کو فحاشی و جنسی امور کےلئے کرائے پر دے رہے پیسے لیکر وہ تو ظلم کر ہی رہے، مگر جو لوگ پیسے دے کر ایک قبر والا کمرہ کرائے پر لے رہے اس کام کو انکو بھی شرم نہین آرہی ہوگی۔ پیسے ہی دینے ہین تو کسی ہوٹل مین جاؤ مرو……… ایک قبر، ایک مزار کا تقدس پھر صاحب قبر کی عظمت….کونڑں لوک ہو  تسیں اوئے کنجرو،   


لعنت بھیجنے  سے منع کیا گیا ہے  ورنہ لکھتا  کہ لعنت ہے ان پاکستانیوں پر اور ایسے پاکستان پر

ویسے ہوسکتا ہے ایسے موقعوں پر چپ ہی کرجاتے ہوں مگر کیا کرو جیسے جیسے عمر بڑھ رہی ہے زیادہ حساس ہورہا ہوں، سارے یہی کہتے ہیں، کہ آپ ایویں ہی ٹینش لے جاتے ہو ہر بات کی چل مارو، اچھا پھر ٹھیک ہے پوری قوم چل مارے

میرا تو ادھر بابے کے مزار کا فوٹو لگانے کو بھی حوصلہ نہین ہورہا
اب آنسو پونچھنے کو آج پورے پاکستان  اور بلخصوص کراچی کو بابے کے مزار پر اکھٹا ہوجانا چاہئے۔ ادھر فاتحہ پڑھو اور چپ کرکے احترام میں بیٹھے رہو۔

مکمل تحریر  »

جمعہ, جنوری 17, 2014

فیس بک کی یکیاں۔ آج کی یکی

چند لمحے قبل مجھے فیس بک پر ایک فرینڈ ریکویسٹ موصول ہوئی، میں چونکہ فیس بک کو بہت زمانے سے اور مختلف زبانوں مین استعمال کرتا ہوں جیسے، اردو، انگلش اٹالین اور اسپرانتو، میں تو روانی سے کام چلتا ہے، باقی کی زبانیں توڑ موڑ کر گوگل ٹرانسلیٹر کی مدد سے، اسی طرح ملک ملک گھوم گھوم کر، اپنے کام کے سلسلہ مین بھی لوگوں سے رابطہ رہتا ہے، تو اس وجہ سے کافی سارے لوگ اپنے ساتھ رابطہ میں ہیں، کچھ جاننے والے ہیں اور کچھ نہیں، پر میں ایڈ تقریباُ سب کو ہی کرلیتا ہوں۔ کبھی کبھار ہی نوبت آتی ہے، ایسے ہی بہت کم بندوں کو ان فرینڈ کرتا ہوں۔ آج ایک بہت عجیب سے فرینڈ ریکوسٹ موصول ہوئی، ایک بہت ہی خوبصورت چہرے والی لڑکی کی طرف سے، مگر ہیں اسکی پروفائل میں تو کچھ بھی نہیں ہے، صرف ایک ڈی پی اور بس نہ کوئی فرینڈ، نہ کوئی ایکٹوییٹی۔

چونکہ بی بی کی شکل ممارخ بہت خوبصورت تھی، تو سوچا کہ ایسے اگنور کرنا اچھی بات نہیں ہے خان صیب۔ کسی دا دل نہ ڈھائین جے رب دلاں وچ رہندا

اور وہ بھی کسی بی بی کا دل ڈھانا، نہ جی نہ، توبہ توبہ، اللہ معافی، ایسی غلطی، ناں ناں ناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس پھر کیا پوچھ مارا  کہ بی بی آپ کون ہو، جواب ملا کہ میں آپ کو وینس مین ملی تھی، سوچا، اچھا خان جی ملی ہوگی،  پر یاد نہیں آرہا، اب ایسا بھی نہیں ہے کہ اپنی یاداشت بری ہے، چہرے اور جگھہیں تو یاد رہتی ہی ہیں، اسی طرح لکھا ہوا بھی یاد رہتا ہے، خیر ایڈکرکے تو دیکھو، میں نے ایڈ کرلیا تو اسکے بعد غائیب۔  نہ کوئی سوال نہ کوئی جواب

مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آئی کہ یہ فلم کیا ہے، اور کس چکر میں اس طرح کے لوگ ایڈ کرتے ہیں پھر غائیب ہوجاتے ہیں، مجھے تو کوئی یکی ہی لگتی ہے، پر کیا اسکی سمجھ اپنے کو نہیں آئی ابھی تک, اگر کسی اور کو سمجھ آئی ہو تو بتا دو

مکمل تحریر  »

ہفتہ, دسمبر 14, 2013

لعین کافر، شہید اور بے کار قوم

آپنی مسلمان قوم اور بلخصوص پاکستانی مسلمان آجکل ایک عجیب مخمصے کا شکار ہے، ایک شاہی درجہ کا کنفوزن، کہ انکو خود ہی سمجھ نہیں آتی کہ کیا کررہے  ہیں ، اور کیوں؟؟

دوسروں پر لعنت کرنا عام ہوگیا ہے وہ بھی اتنا کہ لگتا ہے کہ یہ لعنتوں کا دور ہے، جبکہ دوسروں کو کافر قراردینا بھی تقریباُ فرض تسلیم ہوچکا، محرم کے دنوں میں بہت سی ویڈیوز چل رہیں تھیں ادھر، جن میں شعیہ حلیے کے کچھ لوگ لعنتیں برسا رہے تھے، فلاں پر لعنت بے شمار، اس میں وہ صحابہ کرام رضی اللہ اجمعین کو بھی نہیں چھوڑا، اسی طرح کا حملہ انکی مخالف سنی پارٹی کی طرف سے بھی جاری تھا۔ محرم کے دن گزرے تو اس طرف سے کچھ سکون ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پنڈی میں بندے مرے، اور پورا ملک کئی دنوں کےلئے بند ہوگیا۔ معیشت جو پہلے ہی سے زبوں حالی کا شکار تھی اور پتلی حالت میں ہوگئی۔ 

اسکے بعد پھر شہید ہونے کی فلم چل گئی، کہ فلاں شہید ہے فلاں شہید نہیں ہے، فلاں کی شہادت قبول ہے فلاں کی شہادت صحیح تو طالبان کی ہے، فوجیوں کی شہادت صحیح نہیں ہے۔ مسجد میں پھٹنے والا خود کش بمبار تو شہید ہے مگر نمازی نہیں ہیں، نہ جی ایسا نہیں ہے نمازی شہید ہین اور خود کش بمبار جو اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر پھٹا تھا وہ شہید نہیں ہے۔ اب کچھ دن ہوئے ادھر سے ٹھہراؤ آیا۔ کچھ دن آرام کے گزرے

مگر اب پھر قادیانیوں پر لعنت اور انکو کافر قرار دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا، کہ یہ لعین ہے، یہ ملعون ہے، اس  پر اللہ کی لعنت وغیرہ وغیرہ قادیانیوں کی ایسی کی تیسی، انکی ناس ماردی جائے، مرزا قادیانی ٹٹی خانے میں گر کر مرگیا، لاحول ولا قوت الاباللہ، خیر مرگیا۔ جیسے سب مرجاتے ہیں، جو مرگیا وہ مرگیا۔

یہ سب ایسے ہے  اور رہے گا کیوں کہ، کیونکہ ہم لوگ فساد اصل وجہ تلاش کرنے کی بجائے اور اسکےلئے عقل استعمال کرنے کی بجائے لعن طعن اور کافر کافر کے میٹل ڈیٹیکٹر سے کھوتے کی تلاشی لے کر اپنا وقت ضایع کررہے۔  

عبدالقادر ملا بنگلہ دیشں میں سزائے موت کے حقدار قرار پائے، اور انکو پاکستانی فوج کے حمایت کے الزام میں پھانسی دے دی گئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔  

 عمر انکی اچھی خاصی تھی، اگر ان کو اب پھانسی نہ دی جاتی تو بھی وہ عمررسیدہ بندہ اپنی طبعی موت مرجاتا چند برس بعد سدا تو کسی کو ادھر رہنا ہے نہیں۔    اللہ کی شان ہے اج بیالیس سال بعد بھی انکو انکے کاز کےلئے قربان ہونے کا موقع دے دیا گیا، اللہ میاں انکی شہادت کو قبول کرے اور انکے درجات بلند فرمائے۔ 

اس واقعہ میں ایک المیہ بھی ہے اور ایک سبق بھی، 
المیہ یہ ہے کہ انکو پھانسی دینے والے انکے اپنے ہم وطن تھے، وہ لوگ جنکی پارلیمینٹ کے وہ دو بار رکن رہے۔ مگر انکو پھر بھی غدار تسلیم کیا گیا اور اور لیتے دیتے لٹکا دیا۔ اب اس پھانسی سے جو چالیس برس پہلے ہوا اسکو تو تبدیل نہین کیا جاسکتا، ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ مگر اسکے نتیجہ میں بنگلہ دیشں پورے کا پورے بند ہوگیا، کاروبار زندگی معطل ہوگیا۔ اسکی معیشت پہلے ہی بس اچھے سانس ہی لے رہی تھی، اب یہ نقصان بھی برداشت کرے گی۔ 

سبق یہ ہے کہ اپنے کاز پر ڈٹے رہو، نتائج سے بے پرواہ، جیسے عبدالقادر ملا ڈٹے رہے پاکستان کے کاز کا ساتھ دینے پر، ایسے ہی پاکستانیوں کو بھی اب ڈٹ جانا چاہئے پاکستان کے کاز کےلئے کہ یہ ایک فلاحی اسلامی جمہوریہ ہے، فلاح کا کام ہم خود کرسکتے ہیں۔ ایک دوسرے کی فلاح و بہبود کا خیال رکھتے ہوئے۔ اسلامی ملک بھی ہے، اللہ کے کرم سے پاکستانی لوگ بہت اچھے مسلمان ہیں اور باکردار بھی۔ جمہوریہ والا کام ایک مسلسل پراسس ہے اسکے چلنے سے ہی فلٹر ہوگا اور بہتری آئے گی، اچھے لوگ آگئے آئین گے۔ اور برے باہر ہوتے چاہیں گے یا تائب ہوجائین گے۔ 

مورال۔ 
اب ہمیں بحثیت قوم زبانی لعن طعن سےباہر نکلنا ہوگا۔ اگر قادیانی لعین ہین، اگر شعیہ کافر ہے اگر خودکش بمبار شہید ہے اور اگر یہ سب نہیں بھی ہے تو اس سے کسی کو کیا فرق پرے گا۔ کچھ بھی تو نہیں ۔ ضروری ہے کہ ہم لوگ ایک قوم بنیں اور زندگی کی عملی دوڑ میں شریک ہوں، نہیں تو ڈرون حملے جب اب وزیرستان تک ہیں کل  کو کہیں اسلام آباد تک بھی نہیں پہنچ جائیں۔

نہیں نہین ایسا نہیں ہوسکتا، میرے منہہ میں خاک پاکستان کو کچھ نہٰں ہوسکتا، چاہے ہم کچھ کریں یا نہ کریں، ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں اللہ ہے ناں، پر سوال یہ ہے کہ اگر ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو اللہ کو ہم سے پوچھنے کی کیا پڑی کہ وہ کیا چاہتے ہے، اب خدا ہر بندے سے تو نہیں پوچھے گا کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔ اس مقام پرپہنچے کےلئے خودی کو بلند کرنا پڑے گا۔ 

مکمل تحریر  »

جمعرات, نومبر 28, 2013

مسکرانا ضروری ہے




میں بہت دنوں سے کچھ لکھنا چاہ رہا تھا مگر، ہمت نہیں پڑتی تھی، کچھ ایسے گھمبیر حالات کہ کچھ لکھتا تو وہ سڑا ہوا ہوتا، سب اچھا ہے کی نوید نہیں دی جاسکتی تھی۔ ایسے میں احباب اعتراض کرتے ہیں کہ سڑے ہوئے لکھنے والے تو بہت سے ہیں، آپ کے ادھر تو ہم مسکرانے کےلئے آتے ہیں، سچ بات تو یہی ہے کہ میں خود بھی مسکرانا چاہتا ہوں مگر کچھ ایسا ہوجاتا ہے کہ پھر وہی سنجیدگی وہی اداسی، جب دل ہی بندے کا اداس ہے، بہت سے معاملات گھائیں گھائیں کرکے دماغ میں گھوم رہے ہوں تو پھر یہ نہیں ہوسکتا کہ ادھر لکھا جاوے اور اپنے جو چھ پڑھنے والے ہیں انکو بھی اداس کیا جائے، بقول مولوی لطیف صاحب کے دوزخ کے عذاب سے ڈرانے والے پہلے ہی بہت ہیں ۔ 
اچھی خبریں جہاں پر آتی ہیں وہیں پر کچھ نہ کچھ بری خبر بھی آجاتی ہے، ویسے ایسا سب کچھ تو چلتا ہی رہتا ہے، مگر کچھ ایسا ہے ہوتا ہے جس سے آپ بہت زیادہ پریشان ہوجاتے ہیں وہ ہے لوگوں کے روئیے، کیا کہتے ہیں کہ چور وہ ہوتا ہے جو چوری کرتا ہوا پھڑا جاوے، ورنہ آپ اسے چور نہیں کہہ سکتے، یہ اور بات ہے کہ کچھ شاہئ قسم کے چور ایسے بھی ہوتے ہیں جو رات کے پچھلے پہر نقب لگاتے ہوئے جاتے پھڑے جاتے ہیں مگر دوسرے دن کہہ رہے ہوتے ہیں  کہ لو دسو میں تو تہجد کی نماز کو جارہا تھا، اب بندے پوچھے کہ میری سرکار مسجد دوسری طرف ہے۔ مگر نہیں مانیں گے، الٹے پکڑنے والوں کے لتے لے جاویں گے۔ 

ویسے اگر یہ چور بادشاہ کسی صاحب اقتدار سیاہ ست دان کے لگتے لائے ہیں تو پھر بس کیا کہنے آپ اگلے دن الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ 

خیر اگر کوئی عام چور ہو اور وہ چوری کرتا پھڑا جاوے تو کوئی بات نہٰیں کہہ کر چھوڑا جاسکتا ہے، مگر ایسے چور کا کیا کیا جائے کو آپ کا اعتماد ہی چرا کر لے جائے، آپ کسی پر بہت سے بھروسہ کرو اور اگلا دھائیں کرکے آپ کا بھروسہ توڑ دے اور الٹا آپ کو چوول قرار بھی دے تو پھر کیا ہوگا، پھر آپ مسکرانا بھول جاؤ گے، مگر چونکہ مسکرانا صحت مند دماغ کی علامت ہے لہذا مسکرانا ضروری ہے، چاہے حالات کچھ بھی ہوں، ہیں جی

مکمل تحریر  »

منگل, ستمبر 10, 2013

ہمارے رویئے

ایک فون کال
اور بھاگتا ہوا کوئی گیا
بن کے ہوا
مسئلہ حل ہوا
خدا کا شکر ادا کیا
پھر خدا حافظ کہا
پھر ملیں گے کا وعدہ
جب فراغت ہوگی
فون پر بات ہوگی
اچھا تفصلی ملاقات ہوگی
پھر کئی دن گزر گئے
موسم بدل گئے
نہ کوئی فون نہ سلام
نہ کوئی ای میل نہ پیغام
میں نے سوچا
کیا ہوا
میں ہی فون کرتا ہوں
احوال پوچھتا ہوں
فون کی گھنٹی بجی
اور بجتی ہی رہی
جواب ندارد
پھر نمبر ملایا
چوتھی بیل پر اٹھایا
جی کڑا کر بولے
بہت بزی ہوں
اور اوپر سے تم بار بار
فون کرکے تنگ کررہےہو
میں کہا تو تھا کہ پھر کبھی بات ہوگی
فراغت کے ساتھ
تفصیلی ملاقات ہوگی
یہ نہ پوچھا کہ خیریت تو ہے
کسی کام سے تو یاد نہیں کیا
سوکھے منہ بھی نہیں 


یہ ایک آزاد نظم ہے، شاید بہت ہی آزاد ہے، کچھ زیادہ ہی، مگ یہ نظم خود ہی سے لکھتی چلی گئی، گویا ایک نظم نہیں بلکہ ایک واردات ہے ، روز مرہ کی واردات، یہاں یورپ میں رہتے رہتے اب تو ان رویوں سے دل بھی دکھنا بس کرگیا ہے۔ 
مگر کبھی کبھی پھر ایک احساس سا جاگ اٹھتا ہے


مکمل تحریر  »

جمعہ, اگست 30, 2013

جھگڑا کرنا

جھگڑا دو یا دو سے زیادہ بندوں کے بیچ فساد کو قرار دیا جاتا ہے، جس کی حد زیادہ سے زیادہ ہاتھا پائی تک ہے اور کم سے کم منہ بنانا اور ایک دوسرے کو آنکھیں دکھانا۔  شہدے لوگ سنا ہے سڑی ہوئی باتوں سے بھی کام چلا لیتے ہیں، مگر میں اسے شہدہ کام ہی سمجھتا ہوں۔  

جھگڑے کی وجوہات
یوں تو جھگڑے کی بہت سی وجوہات ہیں، مگر سب سے بڑی وجوہات دو ہوتی ہیں اول تو جھگڑا کرنے کی نیت۔ دوئم دوسرے بندے کا چوول خانہ، مطلب جھگڑے میں جو دوسرا فریق ہوتا ہے وہ ہمیشہ ہی شہدہ اور بد نیت ہوتا ہے اور ہمیشہ کچھ ایسا کرتا ہے جس کی وجہ سے جھگڑا ہوتا ہے، راوی ہمشہ نیک اور شریف، ہمہ تن گوش بلکہ خرگوش ہوتا ہے۔ کہ میں تو اگیوں اک لفظ نہیں پھوٹیا، اور  اگر وہ مان لے کہ ایسا نہیں  اور کچھ غلطی اسکی بھی ہے  تو یہ اس فریق مخالف سے بھی بڑا چوول اور شہدہ ہے۔ 

جھگڑے کے درجات
چونکہ ہم،  آپ جھگڑے کو بہت سے درجات میں تقسیم کرسکتے ہیں حسب ضرورت یا  و بلکہ اور حسب لیاقت،  سنا ہے کہ ماہرین ابھی تک اسکی ساری اقسام دریافت نہیں کرسکے، کہ آئے دن اسکی کوئی نہ کوئی نئی قسم دریافت یا ایجاد ہوتی رہتی ہے۔

 ذیل میں کچھ مثالیں دی جاتی ہیں تاکہ قارئین  کے علم میں اضافہ ہو اور پھر وہ اسکی مزید اقسام دریافت کرسکیں، مطلب چاند ماری کی دعوت۔

 دوستوں کے بیچ جھگڑا۔ یہ جھگڑے کی وہ قسم ہے  جو عام پائی جاتی ہے اور عموماُ وقتی کیفیات کے نتیجے میں پائی جاتی ہے، اسکی وجہ عمومی طور پر کوئی بھی لایعنی قسم کی اور غیر مطقی ہوسکتی ہے، اور اسکا اختتام بھی ایسے ہی ہوتا۔ 

رشتہ داروں کے بیچ جھگڑا۔ یہ ہے تو بہت عام مگر عمومی کیفیات کے نتیجے میں نہیں پائی جاتی بلکہ یہ کیفیت مستقل رہتی ہے۔ یہ جھگڑے کی عالمگیر قسم ہے اور دنیا کے ہر ملک میں بکثرت پائی جاتی ہے، اس سے تنگ آکر کے پاکستان میں کہتے ہیں کہ رشتہ دار ماردو سپ چھڈ دو۔ اٹلی والے کہتے ہیں رشتہ اور سپ ایک برابر، مطلب دونوں ہی ماردو۔ دیگر ممالک  میں مروج اقوال کے بارے ان ممالکے کے اہل زباں سے دریافت کیا جاوے۔ 


میاں بیوی کے بیچ جھگڑا، یہ جھگڑے کی وہ واحد قسم ہے میرے خیال سے جس میں طرفین کے علاوہ لوگ ملوث ہوتے ہیں جن میں نندیں، دیورانیاں، ساس اور دیگر پھپھے کٹنیوں کے نام گنوائے جاسکتے ہیں، اکثر مار کٹائی پر ختم ہوتا ہے اور ہفتے میں تین سے چار بار اس کی براڈکاسٹنگ ہو تو پھر طلاق پر نوبت پہنچے کے چانس زیادہ ہیں، طلاق کے بع یہ پھپھے کٹنیاں دونوں کو  الگ الگ دلاسے دے رہی ہوتی ہین، یہ صبر تینون ہور لب جاسی۔ بھئ جب اور ہی تلاشنی تھی یا تھا تو اسی کے ساتھ نباہ کرلیتے، مگر عقل کسی دکان سے ملتی تو۔ 

عاشق و معشوق کے درمیان جھگڑا، یہ عمومی طور پر بہت کم ہوتا ہے اور اگر تسلسل سے ہفتے میں دو سے تین بار ہونے لگے تو نتیجہ منگنی کے اختتام پر ہوتا ہے، اورشتہ دار و قریبی لوگ اکثر بعد میں مثبت کردار بن جاتے ہیں۔ 

والدین بچوں کے درمیان جھگڑا، اس صورت میں اکثر تھپڑ بھی چل جاتے ہیں اور قصور وار بچے ہی ہوتے ہیں، والدین جوانی کی عمر میں اور بچے بچپن میں پائے جاتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہو کہ والدین کا ٹیمپر بھی لوز ہوتا ہے، مگر یہ کیفیت وقتی ہونے کے ساتھ ساتھ نیک نیتی پر مبنی ہوتی ہے۔  بہت کم مگر کئی بار دیکھا گیا ہے کہ والدین کے آپس کے جھگڑے کے سائیڈ ایفکٹ کے طور پر بچے پھنڈے جاتے ہیں، اس طرح کرنے والی عموماُ پھوہڑ عورتیں ہوتی ہیں۔ 

بچوں اور والدین کے درمیان جھگڑا۔ اس صورت میں بھی تھپڑ چل سکتے ہیں قصور وار ادھر بھی بچے ہی ہوتے ہیں اور اپنا ٹمپر بھی لوز کرلیتے ہیں، تب والدین بوڑھے ہوتے ہیں اور بچے جوان، اکثر اسکی وجہ والدین کی پنیشن کا نہ ہونا یا پھر کم ہونا ہوتا ہے۔

محلے میں جھگڑا۔   اسکی وجہ بے وقتا چاند دیکھنا اور دوسرے محلے کے چاند پر نظر رکھنا ہی ہوتی ہے، جب گلیاں نالیاں بن رہی ہوں تو بھی ان جھگڑوں کا موسم عروج پر ہوتا ہے۔ ہیں جی۔ 


مالک نوکر کا جھگڑا، یہ ایک مکمل طور پر یک طرفہ کاروائی ہوتی ہے، اسکی شدت کا پیمانہ مالک کی معاشی و سماجی قوت ہے اور اسکے ملک اور قومیت پر اسکا انحصار ہے، مثلاُ ادھر یورپ میں مالک صرف اونچی آواز میں چخ چخ کرسکتا ہے، زمین پر پاؤں پٹخ سکتا ہے، پاکستان میں کتوں کو بھی کھلایا جاسکتا ہے، عربوں میں سنا ہے، خروج لگوا کر وطن کو روانہ کردیا جاتے ہے، اور اس  سے پہلے کچھ ماہ جو بیسیوں بھی ہوسکتے ہیں جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔ مطلب طوبہ پہلے سے ہی کرلینی چاہئے۔ 

بچوں کے درمیاں جھگڑا، یہ جھگڑے کی سب سے خالص قسم ہے اس کےلئے کسی وجہ کا ہونا درکار نہین، بس کسی بات پر بھی ہوسکتا ہے اور بلا بات بھی، مگر اس کا دورانیہ حد سے حد کچھ گھنٹے ہے یا پھر اگلی صبح تک، پھر سب باہم شیرو شکر 

ضروری اوزار
جھگڑے میں ہونے والے ضروری اوزار میں سے گالیوں کا بخوبی یاد ہونا، اور بوقت ضرورت انکے مفصل استعمال پر ملکہ ہونا سب سے بڑا ہتھیار ہے، جو پوری دنیا میں امریکہ کے ڈرون کی طرح بغیر پائیلٹ کے استعمالا جاسکتا ہے۔ 
پھر جسمانی پھرتی، برادری، رشتہ دار، اور ڈانگ سوٹا، بندوقیں، چھڑی، سوٹی اور چھمکین بھی حسب موقع مفید ثابت ہوسکتےہیں۔ 

احتیاج۔ پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی۔ 
اگر مخالف پارٹی زور آور ہے، جسمانی طور پر یا افرادی قوت کے طور پر تو فوراُ ادھر سے نکل لو، یورپ میں رہنے والے فوراُ پولیس کو فون کریں۔ بچے سوشل سروس کا سہارا لینا بخوبی جانتے ہیں، پاکستان میں رہنے والے ان سروسز سے پرھیز کرتے ہوئے اپنے چاچے مامے کو بلائیں۔
انتباہ 

جھگڑا کرنے کی حد تک خیریت ہی ہوتی ہے اگر اس میں طوالت نہ ہو تو، ہاں اگر اسکو ناراضگی پر مشتمل کرلیا جاءے تو پھر نہ حل ہونے والی پیچیدگیا جنم لتی ہیں اور نتائج، تھانہ کچہری، طلاق، ڈانگ ماری، گالی گلوچ، پھینٹی، و قتل عمد تک پہنچ سکتی ہے۔ 


مشورہ
جمہ احباب کو مشورہ ہے دل کی اتھاگہرائیوں سے کہ بھائیوں جھگڑا کرنے کی اجازت ہے مگر اسکو ناراضگی میں تبدیل مت کرو، اگر لازم ہو تو بچوں کے درمیان جھگڑے کو اپنایا جاوے۔ جو دوسرے دن تو لازمی ایک ہوئے پھرتے ہیں۔ 




مکمل تحریر  »

اتوار, جولائی 28, 2013

میلانو اور چور بڑھیا





میلان اٹلی کا شمالی بڑا شہر اور اسکا معاشی ہب،
 میلان  کی سٹاک  مارکیٹ  کے اتار چڑھاؤ  کا اثر پورے یورپ کی منڈیوں پر ہوتا ہے ۔  میلانو جہاں فیشن اور مارک کا چلن ہے، کہا جاتا ہے کہ یورپ کا سارا فیشن ادھر سے ہی نکلتا ہے، ڈوم سے لیکرگلیریا ویٹوریو ایمانوئیولے اور اس کے ارد کا علاقہ فیشن اور مہنگی شاپنگ کا گڑھ ہے، یہاں پر آپ کو صرف فلمی اسٹارز ہی نہیں بلکہ وزرائے مملکت بھی بھاؤ تاؤ کرتے اور شاپنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، جارجو ارمانی، حوگو، اور اس طرح کے بہت سے نام پنے بڑی بڑی دکانوں اور ایمپوریمز کے ساتھ جلوہ افروز ہیں اور قیمتیں اتنی کہ بڑے بڑوں کا پتا پانی ہوجاوے، کسی نے یہاں حناربانی کھر اور سید یوسف رضاگیلانی کو اور بندے نہیں نے ادھر عارف لوہار کو ونڈو شاپنگ کرتے پایا، ہمارے دوست شاہ جی کے بقول مولانا طاہر القادری جب ہمی جمی میں اٹلی آتے تھے تو میلان شاپنگ کےلئے 
ضرور جاتے اور بات ہے کہ ادائیگی انکے مریدین ہی کرتے ، ہیں جی مطلب مال مفت میلان میں بھی ۔


ڈوم سے کوئی اڑھاءی کلومیٹر کے فاصلے پر ویا آرکیمیدے ہے، وہاں پام سپر مارکیٹ میں اینجلا نامی 76 برس کی معمر خاتون داخل ہوئِ، اندر جاکر اس نے اپنا چشمہ نکالا اور لگا کر گوشٹ کی قیمت بہت محتاط انداز میں دیکھنے لگی، گویا اسکی روز کی پراکسی  تھی،  کافی دیر گوشت کا وہ ٹکڑا ہاتھ میں پکڑے وہ سوچتی رہی  اور پھر واپس ریک پر رکھ دیا ، یہ گوشت کا سب سے کم قیمت پیس تھا، پھر خاتون   آپنی  شاپنگ کارٹ  جس میں کاریئے  کی بریڈ کا ایک پیکٹ اور ٹیونا  فش  کا  170 گرام ایک ٹن  پیک تھا  کو  دھکیلتے  ہوئے  آگے  بڑھ کر چیز فورماجو گرانا پادانا کے ریک پر رکی اور اسکا سب سے کم  قیمت  ٹکڑا اٹھایا اور غور سے اسکی قیمت دیکھنے لگی  اور پھر اس پر ہاتھ ہولے ہولے پھیرنے لگی، شاید اسکے ذائقہ  کومحسوس کررہی تھی،  پھر وہ  بھی واپس  رکھ دیا ۔  واپس  پے منٹ کاؤنٹر کی طرف مڑنے ہی والی تھی تو اچانک اسکی نظر ٹک ٹاک کی میٹھی اور خوش ذائقہ  گولیوں  کی ڈبی  پڑی  ،   یہ ڈبی جسکی قیمت  75 سینٹ تھی  ادھر کسی نے ایسے ہی رکھ دی تھی ۔

خاتون کے چہر ے  پر ایک مسکراہٹ سی چھا گئی  ، شاید اسکا ذائقہ اور مٹھاس  یاد آگئی اور جانے کیسے  اسکا ہاتھ بڑھا اور وہ ڈبی اس نے اپنے ہینڈ بیگ میں رکھ لی۔

 
     یہ سین مارکیٹ  کا مینجر  اپنے دفتر میں بیٹھا دیکھ  رہا تھا اس  کا ہاتھ  فورا ُ   انٹرکام کی طرف بڑھا  اور سکیوریٹی  آفیسر   کو اس سین  سے مطلع کیا۔

اور جب خاتون اپنا سامان آپنی کارٹ  سے پے منٹ کاؤئنٹر  پر رکھ چکیں تو  سیکیوریٹی آفیسر نے خاتون کو اپنا  بیگ چیک کروانے کو کہا، اب  خاتون کے ہاتھ کانپنے لگے اور اس  نے اپنا بیگ کھول دیا ، سیکیوریٹی آفیسر نے ٹک ٹاک کی ڈبی  نکال کر خاتون کو اپنے ساتھ  دفتر میں  چلنے کو کہا، خاتون  کانپتے ہوءے قدموں سے اسکے پیھے ہولی ۔

مینجر  نے نہایت غصہ سے خاتون  سے پوچھا کہ آپ نے چوری کیوں کی، تو خاتون کو صورتحال  کی سنجیدگی کا احساس ہوا ، اسکی انکھوں میں آنسو آگئے اور وہ ڈبڈباتی ہوئی آواز میں معذرت خواہانہ لہجے  میں  بولی :   میں کوئی عادی چور نہیں ہوں ،   میں اسکے پیسے بھی دینے کو تیار ہوں۔

مگر مینجر نہ مانا اور اس نے پراکسی کے طور پر پولیس کو فون کردیا

17.45 منٹ
پولیس کے دو کارپورل  آرتورو اورفرانچیسکو،  ٹھیک  3 منٹ کے بعد مارکیٹ کے اندر داخلہ ہوئے اور سیدھے مینجر   کے دفتر کو پہنچے  تب خاتون کے ماتھے پر پسینہ آچکا تھا،  کارپورل انتونیو نے مینجر کا بیان سنا اور پھر خاتون کی طرف دیکھا، تو خاتون نے باقاعدہ رونا شروع کردیا،  تھوڑا دلاسہ تسلی  کے بعد وہ خاتون کچھ یوں گویا ہوئیں، میں کوئی عادی چور نہیں ہوں، میں ایک مجبور پنشنر ہوں، میں نے اپنی ساری جوانی  کام، محنت مزدوری کی اور اپنا مکان بنایا، اپنے بچوں کی تعلیم و پرورش  کی ، اب وہ بڑے ہوگئے ہیں تو اپنے اپنے گھروں کو ہولئے ، انہوں  نے کبھی میری خبر نہیں لی،   اب  میری پنشن اتنی ہی ہے  کہ ایک ہفتہ اس سے چلتا ہے اور باقی ماہ صرف ٹیونا اور کارئے بریڈ  سے کام چلتا ہے وہ بھی دن میں ایک بار۔ گوشت، پنیر اور سلاد کا ذائقہ صرف پنشن کے پہلے دن ہی افورڈ کرسکتی ہوں۔ آج جب یہ ڈبی میرے سامنے آئی تو مجھے یاد آگیا کہ اسے چکھے ہوئے 16 برس ہوگئے ہیں، میں اب اس عیاشی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی،  جہاں یہ چیزیں ہوتی ہیں  وہاں میں کبھی گئی  ہی نہیں  مگر آج نہ جانے کس نے یہ ڈبی  ادھر رکھ  دی اور نہ جانتے  ہوئے میں نے یہ ڈبئی  اپنے بیگ میں منتقل کرلی۔میں اپنی پینشن میں جو معمولی سی ہے اپنا گزارہ کرتی آئی ہوں مگر آج جانے کیسے یہ ہاتھ چوک گیا، یا آنکھ چوک گئی۔ 

کارپورل آرتورو نے  پوچھا کہ آپ کی پنشن  کتنی ہے تو جواب ملا 350 یورو،  اور اس  کوصورت حال کی سمجھ آگئی  ، کہ جب میں  1780 یورو میں گزارہ  تنگی سے ہوتا ہے تو اس بچاری کااس معمولی رقم میں  کیسے ہوگا۔ فرانچیسکو نے  مینجر کو کہا کہ خاتون کو  قانونی  طور پر وارننگ دے کر چھوڑا جاتا ہے اور یہ کہ اسکا جو باقی کا سامان  ہے اس کے پیسے میں دیتا ہوں ، اسکو اپنی دادی  یاد آگئی تھی  جو اب اس دنیا میں نہیں تھی،  مگر اپنی پنشن  سے بھی  اسکو ٹک ٹاک کےلئے پیسے دیا کرتی تھی۔ تب تک ارد گرد بہت سے بندے اکٹھے ہوچکے تھے اور وہ مینجر کو لعن طعن کررہے تھے، ایک بندے نے معمر خاتون کےلئے کچھ اور کھانے کا سامان بھی لے لیا تھا۔ 

Arturo Scungio e Francesco Console
اور پھر ان دونوں پولیس والوں نے خاتون کو اپنی گاڑی میں اسکے گھر  پر چھوڑا اور نکل گئے۔
اس محلے کے لوگ ان دنوں اس واقعہ کا چرچہ کررہے ہیں جو بہت معمولی سا ہے مگر ایک بڑے معاشری تغیر کی نشاندہی کررہا ہے، ایک بڑے خلاء کی نشاندہی جو آئیس برگ کی طرح اوپر سے جتنا معمولی ہے نیچے اتنا ہی  بڑا ہے۔ مگر مینجر کو فل گالیاں مل رہی ہیں اور پولیس والوں کو شاباش دی جارہی ہے۔ 

یہ خبر میلانو  کے مقامی اخبار میں چھپی اور  مجھ  تک بعذریہ فیس بک پہنچی، ادھر بہت سے بندوں نے کمنٹس کیئے ہوئے تھے، کوئی سپر مارکیٹ کے مینجر کو گالیا ں دے رہا تھا تو کوئی اس پام چینل کی سپرمارکیٹس  کا بائی کاٹ کرنے کو کہہ رہا تھا، کوئی پولیس والوں کوشاباش دے رہا تھا،  کوئی حکومت کو کوس رہا تھا۔ کوئی مقامی حکومتوں  کے لتے لے رہا تھا۔
مگر کسی نے بھی نہیں کہا کہ ہمیں اپنے ارد گرد بسنے والےبزرگوں اور عمر رسیدہ افراد کا خیال رکھنا چاہئے ۔  
اس بارے آپ کا کیا کہنا ہے کس کو قصور وار ٹھہرایا جاوے؟؟ کون قصور وار ہے اس واقعہ کا ؟؟؟   

Milano, Via Arcimide, ladra Vecchia,  

مکمل تحریر  »

اتوار, فروری 03, 2013

علماء، کھوتے اور سیکوریٹی




ہا ہا ہا 
میرا ہنسنے کو دل کررہا
 نامور علماء کی سکیورٹی کی باتیں ہورہی ہیں ہر پاسے، کیا خواص اور کیا عوام سرجوڑ کر بیٹھے گئے ہیں کہ نامور دینی علماء کی سیکیوریٹی کیسے مینٹین کی جاوے، وزراء کی سکیورٹی مطلب سیاسی علماء(بشمول وزراء، مشیران، پارلیمنٹیرینز انکے لگتے لائے، چیلے چانٹے، منشی مشدے) کی بھی سکیورٹی، حکومتی علماء (حکومتی اہکاروں) کی بھی ہوگئی سیکیوریٹی،  سیکیوریٹی، سیکیوریٹی
کل ایک ٹی وی پروگرام کے مطابق حیدرآباد شہر کی ساٹھ فیصد پولیس وی آئی پی اور آفیسر ڈیوٹی پر مطلب انکو سیکیوریٹی دینے میں مشغول ہے، صرف بلاول بھٹو ذرداری کی سیکیورٹی و پروٹوکل کے نام پر 32 گاڑیوں کا قافلہ چلتا ہے، گرد اڑاتا ہوا۔ 


 اور عوام جو بے علم ہے اسکو کون سیکورٹی دے گا؟؟
کوئی بھی نہیں، اس بارے  نہ کبھی عوام نے مطالبہ کیا ہے اور نہ ہی حکمرانوں نے سوچا اور بات کی، نہ کوئی منصوبہ بندی کی، نہ کوئی قانون سازی۔  مگر وہ بھی ٹھیک ہیں، کھوتوں کی سکیوریٹی نہیں ہوتی، کھوتے کھول دیئے جاتے ہیں، اور جب ان پر مال ڈھونا ہوتا ہے تو پھر سے پھڑ لئے جاتے ہیں،   کسی نے گدھے کا علاج ہوتے ہوئے دیکھا؟؟    تو پھر بھائی جان جب تک ہم لوگ گدھے رہیں گے نہ ہمارے علاج ہوگا اور نہ ہی ہمارے مسائل حل ہونگے، اسکام کو کروانا ہے تو اپنے گدھا پن کو ترک کرکے ہوجائیں شیر ، تے دیکھو فیر۔

 یاد رکھو جب تک آپ کچھ طبقات کو سیکورٹی دیتے رہو گے، باقی کے طبقات ان سکیور رہیں گے، اور جب ایک معاشرے میں کچھ لوگ غیر محفوظ محسوس کریں گے تو پھر وہی کچھ ہوگا جو ہورہا ہے، بلکہ جو ہوگا۔ 

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش