اتوار, ستمبر 02, 2012

پوک


پوک Poke آجکل فیس بک پر دائیں ہاتھ   دستیاب ہے،  ویسے تو اسکا کوئی خاص استعمال نہیں مگر فیس بک نے بندے کو بس "ایویں ہی انگل"  دینے کو رکھا ہوا،   کہ  "انگل ای"  ، اٹالیں لوگ اس کام کےلئے  دائیں ہاتھ کی  لمبی والی انگلی کھڑی کرکے باقی اپنی طرف بند کرلیتے ہیں۔ ویسے پرانے لوگ اسے کبیر درجہ کی گالی اور    "منڈے کھونڈے" مطلب "کالجیٹ"  اسے سلام دعا کے طور پر استعمالتے ہیں۔اٹلی کے سابق وزیراعظم  سلویو بیرلسکونی  تو اسے باقاعدہ طور پر عوام سے  جلسوں میں سلام دعا کرتے تھے۔ 

یہ ایپلیکیشن کچھ دنوں سے مجھے اپنی فیس بک پر دکھائی دے رہی ہے،   بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ موجود تو کافی عرصہ سے ہے اور کوئی اکا دکا بندہ پوک کردیتا ، بندہ بھی مروتاُ جوابی پوک  کردیتا، مگر  چند دنوں سے فیس بک نے اسکو کچھ زیادہ ہی لفٹ کرانی شروع کردی ہے،  میرے ادھر بھی دائیں ہاتھ کوئی پنج ست نام لکھے نظر آتے اور میں یہ سمجھتا کہ ان سب نے مجھے پوک کیا ہے، مطلب "ایڈےلوک" اس بندہ کو یاد کررہے ہیں،   پس مروت کے مارے فوراُ جواب دیتے رہے،  ادھر تورینو کی ایک ڈاکٹر صاحبہ میرے فیس بک پر ہیں اور انہوں نے  مروت کے مارے میرے پیج پر پیغام لکھ مارا  کہ : "حجرت جی آپ کے پوک کرنے کا شکریہ ، بندی سسٹم کی خرابی کی وجہ سے  جوابی پوک نہ کرسکنے  پر  دلی طور پر معذرت خواہ ہے"۔

اگلے دن اپنے یاسر صاحب المعروف   پیر بابا خوامخواہی  جاپان والے بھی پوچھ رہے تھے کہ میاں  خیر ہے آپ نے مجھے پوک کیا ، میں  ہکا  بکا رہ  گیا کہ اچھا  میں تو سمجھا کہ آپ نے مجھے پوک کیا ہے مگر  وہ صاف انکاری ہوگئے، تس  پر میں نے بلکل اسی طرح غورو خوص کرنا شروع کیا جیسے نیوٹن  نے سیب کے درخت کے نیچے بیٹھے کر شروع کیا تھا کہ بھئی یہ سیب نیچے کیوں گرتے ہیں اور اوپر کو کیوں نہیں نکل لیتے، اس سے دو باتیں دماغ میں آتی ہیں: اول  یہ کہ نیوٹن کی قسمت اچھی تھی کہ ادھر "بیری " کا درخت نہیں تھا نہیں تو یار لوگ  ادھر پتھر مار کے بیر وں کے ساتھ اسکا سر بھی کھول دیتے۔  دوئم  کہ نیوٹن نہایت ہی کھوتے دماغ کا تھا، کہ  بھئی جب سیب پہلے بھی نیچے کوہی گرتے تھے اور اب بھی نیچے کو ہی گررہے ہیں  میں ۔ بندہ پوچھے کہ سرکاراں تویہ جو لڑکے  بالے ہر سال اس کے قوانین کی زد میں آکر فیل  ہوجاتے ہیں   وہ دریافت کس کھاتے میں؟  بس جی کھوتا کھوہ میں ہی ڈال دیا  ا س نے بھی۔

پھر جب دماغ لڑایا   اور اگلی دفعہ  جب ادھر دائیں طرف پوک  کا چکر دکھائی دیا توغوروخوص کے بعد یہ علم حاصل ہوا  کہ مولانا فیس بک کا فرمان ہے کہ  جناب ان لوگوں کو پوک کرکے ثواب داریں حاصل کریں ، دھت تیرے کتا  رکھن آلے کی۔

آج اپنے مولبی علی طارق صاحب پوچھ رہے تھے  کہ جناب یہ  پوک کا چکر کیا ہے ؟  تو انکو تو میں نے یہ جواب  دے کرٹرخادیا کہ: " پتا نہیں، فیس بک نے کہہ دیا کہ ان بندوں کو پوک کرنا لازمی ہے، تو ہم نے پوک پر کلک کردیا ،میں سمجھا انہوں نے مجھے پوک کیا ہے، بعد میں پتا چلا کہ نہیں ایویں انگل ہی کی " ، بھلے مانس بندے  مجھے  " کالی رات  مطلب شب بخیر " کہہ کر چلتے بنے، یاد رہے  " کالی " یونانی زبان میں  اچھی کو کہتے ہیں۔ نہیں یار  وہ والی کالی نہیں ، آپ ہمیشہ الٹے پاسے ہی جاؤ گے ، یہ افریقاُ کالی نہیں ہے۔ دسو۔ ایک تو آپ کا دماغ بھی فوراُ پٹھے پاسے ہی جاتا ہے۔ 

بعد میں بمعہ صد افسوس میں نے بابا جی گوگل سے پوچھا تو بابا جی نے بتا یا کہ  بچہ  جاہل  یعنی کہ" ڈنگرا " یہ سست  المعروف  کاہل لوگو ں کا "ہائے" کہنے کا طریقہ ہےکہ  کسی کو سلام دعا کرنے کی بجائے  یا کسی کو دو چار الفاظ کا پیغام لکھنے کی بجائے اسکو پوک کردو، دھت تیرے  سستی مارے کی۔  ہیں جی

مجھے پوک کرنا جانے کیوں ایسے ہی لگا جیسے کسی کی بیل بجانا،  جب ڈور بیل نئی نئی ایجاد ہوئی تھی تو پورے محلے میں کسی ایک کی ڈور بیل ہوتی تھی۔ ہم  سارے کزنز اور مشٹنڈا پارٹی ، ادھر شکر دوپہرے  ان کی ڈو بیل بجاکر بھاگ آتے ،  ہیں جی
اور وہ  لو گ پورا آرام کا وقت  گالیاں دیتے ہوئے گزارتے کہ" کیڑا سی کسی سورے دا پاڑا "،  ہیں جی
جبکہ ہم اپنی  چھت پر مزے سے سنتے، ہیں جی
  تب تک جب تک ہمیں بھی کوئ بڑا آکر براہ راست گالیوں سے نہ نوازتا۔  



مکمل تحریر  »

ہفتہ, جولائی 28, 2012

بلاگ ھیک ہوگیا

کوئی ہے،
یار ادھر میرے بلاگ کے ٹاپ پر ایک اشتہار آرہا ہے، بلکہ نہیں ہر واری بدل بدل کر آرہا ہے، لگتا ہے کہ کنجر ٹائیپ کا ہیکر چکر دے گیا، کوئی صاحب اس سے جان چھڑانے کے نسخہ تو بتائیں، بلکہ اس سے پہلے یہ بتلائیں کہ کیا آپ بھی دیکھ رہے ہیں، ٹاپ پر ایک بینر جس کے ساتھ لکھا ہوا کہ: " یہ اشتہار اس سائیٹ کا نہیں ہے"؟
 کوئی پوچھے ان سے کہ فیر تمھارے چاچے کا ہے

کوئی مومن اس خباثت سے جان چھڑانے کا طریقہ بلکہ حکیمی و سنیاسی قسم کا نسخہ تو بیان فرمایں اور ثواب داریں حاصل کریں

مکمل تحریر  »

اتوار, جولائی 08, 2012

کتا پالنا


اب کتے کے بارے میں تو  اردو  میں مزید کچھ لکھنا توممکن نہیں ہے کہ پہلے ہی اتنا کچھ لکھا جاچکا ہے مگرہمارے خیال شریف میں   کتا پالنے کے بارے لکھنے کی گنجائش نظر آتی ہے  بادی انظر میں  ، گویا
مجنوں نظر آتی ہے لیلٰی نظر آتا ہے۔
کتے کی اقسام دنیاکے دیگر ممالک کی طرح اٹلی میں بھی آپ کو کتے  کی کئی اقسام نظر آئیں گی ایک اصلی کتا اور دوسرا نقلی کتا  اٹلی میں ہر طرف آپ کو کتے نظر آئیں گے، اصلی بھی اور نقلی بھی ، اصلی کتا وہ ہوتا ہے جو باہر سے ہی نظر آجاتا ہے اور آپ  کہہ اٹھتے ہیں اوئے کتا اور دُور ، دُور  بھی،   مگر وہ برا نہیں مناتا، جبکہ نقلی کتے کی پہچان کرنا اول تو ممکن نہیں ہے آپ کو تب پتا چلتا ہے جب آپ کی بوٹی نکل چکی ہوتی ہے اور آپ اگر اسے کتا کہیں تو  فوراُ سے پیشتر پھر سے آپ پر حملہ آور ہوجائے گا کہ آپ کی ایسے جرٰات، ہمارا آج کا موضوع اصلی والا کتا ہے، جی ہاں  وہی چار ٹانگوں والاجسکے ایک عدد دم بھی ہوتی ہے اور بے ضرورت بھونکتا ہے اور بوقت ضرورت کاٹتاہے۔

 کتا پالنا      اٹلی میں کتا پالتا بہت ہی مشکل کا م ہے جی بلکہ جان جوکھوں کا، پھر بھی لوگ کتے پالتےہیں  اور بے شمار پالتے ہیں،  انکے خیال میں انسان نما  مخلوق کو پالنے کی بجائے کتا پالتا ہی بہترہے، اور اس کے کچھ فوائد بھی بیان کرتے ہیں  مگر  ان سے ہمیں کچھ لینا دینا نہیں،  پر کہے دیتے ہیں کہ یہاں پر کتا پالنا اتنا آسان نہیں ہے، ہر گلی محلے میں کتا  ملے گا، اور وہ  بھی ہر سائیز کا،  چھوٹا بھی اور بڑا بھی،  اکثریت صرف بھونکنے والوں کی ہے۔  کاٹنے والے کم ہی نظر آتے ہیں۔ 

ہمارے سامنے کے گھر میں ایک اطالوی  خاتون نے بڑا سا جرمن شیفرڈ کتا پالا ہوا ہے، جسکا کام ہر ایرے غیرے کو جو بھی گلی میں داخل ہو دیکھ کربھونکنا ہوتا ہے،  اور وہ ظالم اس وقت تک بھونکتا ہے جب تک آپ  اسکی نظروں سےاوجل نہ ہو جائیں،  اپنے عبدلمالک صاحب کہہ رہتے تھے کہ جناب مجھے تو اس کتے نے بہت دکھی کیا ہوا ہے،   آتے جاتے بھونکتا ہے اور اس شدت کے ساتھ بھونکتا ہے کہ دل دہل جاتا ہے، کوئی پوچھے اس محترمہ 
سے کہ اسکی سارے دن کی ہاؤ ہاؤ سے تمھارا مغز خراب نہیں ہوتا۔

یہاں پر ایک اور بھی مسئلہ ہے کہ گھر کی دیواریں بہت چھوٹی چھوٹی ہیں اور خطرہ ہی رہتا ہے کہ کب یہ دیوار پھلانگ ہماری ٹانگ کو آ دبوچے،   ہمار ے دوست راجہ اسد کے بقول کہ اگر ایسے ہوجائے تو بس سمجھ لوکہ  آپ کے وارے نیارے ہوگئے، کیونکہ  ادھر تو ہر کتے کی انشورنس لازم  ہوتی ہے، اگر آپ کو کتا کاٹ کھائے تو انشورنس کے پیسے  ملیں گے اور وہ بھی جی بھر کے، پس ہمارے بھی ہر کتے کو دیکھ کر دل چاہتا ہے کہ آکتے ہمیں کاٹ کہہ کر اپنی ٹانگ اسکے  آگے رکھ لیں  مگر پھر فوراُ ناف میں لگنے والے چودہ ٹیکوں کا خیال آجاتا ہے۔ اور ہم  چپ  ۔

یہاں پر تو کتوں کی موجویں لگی ہوئی ہیں جی، صرف کتوں کےلئے اسکول ہی نہیں ہے   باقی کسر کوئی نہیں، ہر سپر مارکیٹ میں کتوں کےلئے الگ سے پورشن موجود،  ہر محلے میں کتا ہسپتال لازم اور وہ بھی رہ وقت  رش کے ساتھ،   یہیں تک نہیں بلکہ کتوں کےبال اور ناخن کاٹنے کے مراکز الگ سے ہیں، پھر اوپر سے خوبصورت خوبصورت بییبیاں انہیں سینے سے لگائے گھوم رہی ہوتی ہیں،  اور کئی کو تو ہم نے باقائدہ  پیار کرتے بھی دیکھا ،   اور یہ بھی سنا کہ وہ انہیں رات کو بھی ساتھ بستر میں سلاتی ہیں، اس سے زیادہ معلومات ہمارے پاس نہیں ہیں ،   مگر سچ بات ہے کہ ہم آواگون کے نظریہ کے قائل نہیں ورنہ اپنا اگلا جنم کتے کی شکل میں ہی مانگ لیتے مگر اس میں بھی خطرہ ہے،  کہ اگر بھگوان نے آدھی سن لی اور بنا کتا دیا مگر ادھر ایشیا ء میں تو پھر تو مٹی پلید ہوئی کہ ہوئی، پس   جو ہیں اسی پر قناعت منا سب ہے۔

ہمارے ممالک میں تو کتے کو نجس قراردیاجاچکا، اور ہمارے اپنے گھر میں کتے کا داخلہ ممنوع ہے،  صرف ایک ہی صورت ہے کہ کتا اگر رکھوالی کےلئے ہوتو،  جبکہ ادھر تو کتے سے پوری محبت ہے جی،  اور بندے کے سوشل ہونے معیار بھی، بلکہ میں تو کہتا ہوں کے جس نے ادھر ترقی کرنی ہے  وہ کتے سے محبت کرے پھر اسکی مالکن سے اور پھر بندے خود سیانے ہیں،  یورپ میں اول تو شادیاں ہوتی ہی کم ہیں مگر جو ہوتی ہیں سنا ہے کہ اکثریت کی لواسٹو ری  میں کتے کی محبت  ہی شامل ہے۔ ہماری ایک برازیل کی کلائینٹ تھی بڈھی ماریلینا، کوئی پچپن برس کا سن ہوگا،  اور سوشلی کنواری تھی،  مطلب قانونی و کاغذی طور پر ، مگر شادیاں کروانے کا ایک بڑا ادارہ چلاتی تھی۔ وہ بتا رہی تھی کہ پیٹ میچ کی ایک سوشل ویب سائیٹ پر کام کررہی ہے  اور اس پر دس ہزار یورو  کی انویسٹ منٹ کرے گی، کہ جی ادھر بندے کے پاس سہولت ہوگی کہ اپنے کتے کا میچ تلاش کرے اور پھر اپنا بھی،
آگے ہمت بندے کی اپنی،  ویسے تو دیکھا گیا ہے کہ ایک خوبصورت بی بی سے بات کرنا ایک کارمشکل ہے اور کالج کے زمانے میں تو یار لوگ باقاعدہ  منصوبہ بندی کرکے شرط باندھا کرتے تھے۔ ادھر اٹلی میں بھی کسی پاکستانی کا کسی لڑکی سے یوں ہڑہڑکر بات کرنا شاید اتنا آسان نہ وہ۔   مگر  ادھر جس بی بی کے ہاتھ میں کتے کی  ڈوری  کو بندہ اپنی قسمت کی ڈوری سمجھے،  بس  وہی اوپر کتے سے محبت  اور کتے والی سے محبت  کی ضرب المثل یادکرلیجئے۔ ہماری رائے میں ہر نئے آنے والے نوجوان کو ایک کتا ساتھ لے کر آنا چاہئے ، یاپھر ادھر آکر سب سےپہلا کام یہی کرنا چاہئے کہ کتا پالے۔  

 کتے کے بارے  اس سے قبل  پطرس بخاری اور ابن انشاء جیسے لوگ بہت کچھ لکھ چکے ہیں،   کچھ احباب   میری اس تحریر کا   مقصد عظیم  اپنے آپ کو اس فہر ست میں شامل کرنے کی ایک ناکام کوشش قرار دے سکتے ہیں، اس بارے ہم کوئی رائے نہیں دیں گے بلکہ قاری  کی رائے کا ہی احترام کریں گے۔


مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش