جمعہ, فروری 09, 2018

وائرل ھیپاٹائیٹس ، ایک ایمرجنسی Hepatitis

دو دھائیاں قبل جہلم میں  فیملی فزیشنز ایسوس ایشن کا ایک جلسہ ہوا تھا۔ آپ سیمینار کہہ لو، اس کے مہمان خصوصی  ڈی سی صاحب تھے، اس میں جلسہ میں میرا مقالہ تھا  ہمیں ایڈز کی بجائے ھیپاٹائیٹس پر توجہ دینی چاہئے۔
ان دنوں میں ایڈز کا بول بالا تھا، مغرب میں  ایڈز کے کافی کیسز سامنے آچکے تھے اور اس کا علاج دریا فت نہ ہونے کی وجہ سے اسے ایک ہولناک عفریت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ ہسپتالوں و دیگر این جی اوز کو اس  کی اگاہی اور روک تھام کےلئے متحرک کردیا گیا تھا۔

اس وقت وطن عزیز میں ایڈز کے پازیٹیو مریضوں کی تعداد  280 تھی، وہ بھی باہر سے آنے والے لوگ تھے۔ اب ایڈز کے پھیلنے کے دو طریقے ہوتے ہیں، جنسی تعلقات  اور انتقال خون کے ذریعے۔ دوئم الذکر کو تو قابو کرنا آسان ہے بس خون  کو چیک کرلیں۔ جبکہ اولذکر مغرب کےلئے تو ایک المیہ ہے مگر  وطن عزیز  میں اسلامی تہذیب کی وجہ سے  شادی سے باہر جنسی تعلقات بہت کم ہوتے ہیں، اس میں  بڑی رکاوٹیں، گناہ کا تصور، مشترکہ خاندانی نظام اور ایک دوسرے کی خبرگیری رکھنے والا معاشرہ ہے، جس میں ایک دوسرے کا سارے خیال رکھتے ہیں۔ اور اسکے نتیجہ میں بہت سے دماغ فتور سے بھرے ہونے کے باوجود قابو میں رہتے ہیں۔ نتیجہ ایڈز جیسے مرض سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔
ہارے ملک میں میرے خیال سے  جو خطرہ تھا وہ تھا وائرل ھیپاٹئیٹس۔  میں چونکہ اس وقت سال سوئم کو پیتھالوجی  یعنی علم الامراض پڑھاتا تھا تو اس وجہ سے پڑھنا بھی پڑتا تھا۔  تب  ایک دھائی قبل یہ بات سامنے آئی کہ ہمارے ہاں وائرل ھیپاٹائیٹس   بہت عام ہے۔
اس وقت 1997 میں یہ عالم تھا کہ ھیپاٹائیٹس بی 10 ٖفیصد لوگ پازیٹیو آرہے تھے اور سی ٹائپ 3 فیصد پازیٹیو آرہے تھےجبکہ اے ٹائپ ہر تیسرے بندے کو تھا۔ خیر اس ٹائپ A  سے وقتی طور پر کچھ زیادہ خطرہ  نہیں ہوتا۔ بہرحال ایک بیماری ہے۔ بندے کو تندرست نہیں کہا جاسکتا۔
 یہ سب اس طرح یاد آیا کہ   پرسوں رات کو ڈنر پر میں  ڈاکٹر  میکیلے فائیزنزا،  جو اینفکیشنز اور وائیرولوجی کے اسپیشلسٹ ہیں۔ ڈاکٹر بینانتی نوچو، ڈائیریکٹر ھیرنگ لیبارٹری اور ڈاکٹر ماریہ سالوینی جو ڈائیٹولوجسٹ ہیں کے ساتھ تھا۔ باتیں چلتے چلتے  وائرس کی دریافت، اسی کی دھائی میں ایڈز کا پادوا  میں پہلا کیس جو ڈاکٹر میکیلے نے تشخیص کیا تھا۔ پھر ھیپاٹئیٹس  اے  اور بی کا حوالہ آیا۔ اور ڈاکٹر میکیلے بتا رہا تھا کہ تب ایک قسم ہوتی تھی ھیپاٹائیٹس کی  No A, اور No B  ، مطلب یہ کہ وائرس ہوتا تھا پر یہ نہیں پتا چلتا تھا کہ کونسا ہے ، نہ اے ہوتا نہ بی ، بعد میں اسکا نام سی رکھ دیا گیا۔
کہتے لگے پادوا  کے یونورسٹی ھسپتال میں 80 کی دھائی میں 200 بستر تھے اور بھرے ہوتے تھے۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ شہر کے ارد گرد نالیوں کا پانی سبزیوں کو لگایا جاتا تھا۔ اس سے پاخانہ کے فضلہ میں موجود ھیپاٹائیٹس بی کا وائرس ایک وبا کی طرح پھیل رہا تھا۔ ہم نے اس مسئلہ کو سمجھا اور پھر ضلعی کونسل نے اس مسئلہ کو حل کیا، بس پھر کیا تھا ھیپاٹائیٹس بی کا پھیلاو ختم ہوگیا۔
میں ساتھ ساتھ سوچ رہا تھا کہ ہمارے ہاں تو یہ کچھ اب بھی ہورہا ہے، باوجود اس کے کہ ھیپاٹائیٹس بہت عام ہے پر پھر بھی گندے پانی والی سبزیوں کی کوئی روک تھام نہیں ہے۔ وائر ھیپاٹائیٹس بی ، خون ، جنسی روابط، ماں سے بچے کو اور پاخانہ ، لعاب دھن و پسینہ سے بھی پھیل سکتا ہے۔  یہ جان لیوا مرض  ہے جس سے جگر تباہ ہوجاتا ہے۔ اسکا علاج بہت ہی مشکل ہے وجہ اسکی بروقت تشخیص نہ ہونا ہے اور پھر علاج مہنگا بھی ہے۔ 
اگر حکومت اور انتظامیہ نہیں تو جہ دیتی تو بندے خود تو احتیاط کرسکتے ہیں۔ جہا ں تک ممکن ہے سبزیاں گھروں کی اگائی جائیں ، صاف پانی سے۔ ورنہ دیکھ بھال کر خریدی جاویں۔ 

مکمل تحریر  »

بدھ, جنوری 17, 2018

پانچواں درویش ، راوی اور تماشہ

تو صاحبو ایک دفعہ کا ذکر ہے
کہ راوی بیان کرتا ہے ہے پانچواں درویش راوی چلتا چلتا چلتا، اور پھر چلتا چلتا ایک اور راوی کے پاس پہنچ گیا، وہ راوی تب کافی عرصے سے خاموش ہوچکا تھا، شاید فالج زدہ۔ اسکے اندر کسی قسم کی کوئی حرکت نہ ہورہی تھی، ہر طرف خشکی اور ویرانی۔ راوی کے اس پار جاےکے لئے درویش کشتی کے انتظار میں بیٹھ رہا۔ کہ دریا ہے، بھلے سوکھا ہوا ہی سہی پر پھر بھی دریا کا احترام کرنا چاہئے۔
جیسے ہرجادو کا تماشا دکھانے والے کا احترام کیا جاتا ہے اور اسکو پروفیسر کہا جاتا ہے۔ کچھ تماشہ گر جو بہت ہی بڑے ہوجاتے ہیں انکی پہنچ دنیا کے دوسرے کونے تک ہوجاتی ہے۔ اور پھر وہ  پلک جھبپکتے ہی سال میں دو چار بار لاہور آتا ہے    اور تماشہ دکھاتا ہے، یہ اب اتنا بڑا ہوچکا ہے کہ اپنے نام کے ساتھ علامہ  پروفیسر ڈاکٹر  کا اضافہ کرچکا ہے۔ ایسا جادوگر ہے جو ہرکام خواب میں کرسکتا ہے۔ حتیٰ کہ تعلیم بھی خواب میں حاصل کرسکتا ہے۔
درویش  کا دوپہر کی دھوپ میں بیٹھے ہوئے  حرارت سے دماغ ٹھکانے آیا  تو سر پر ہاتھ مار کر چلا اٹھا کہ خشک دریا میں بھی بھلا کشتیاں چلا کرتی ہیں،  پس چاروناچار درویش وہا ں سے اٹھا  اور دریا کے بیچو بیچ  خشک ریت کو سر پر ڈالتا اور اپنے آپ کو سخت سست کہتا ہوا آگے چل پڑا۔
راوی کے دوسری طرف اب ہر طرف  لاہور شہر آباد ہے،  پر درویشوں کو شہروں آبادیوں  سے کیا لینا دینا۔
چلتے چلتے  ایک پہر گزرگیا ، تب درویش کو ایک طرف سے شور ، روشنیاں اور بے ھنگم موسیقی سنائی دی۔ سادہ بندہ تھا۔ سمجھا شاید کوئی قبائلی رسم ہورہی ہے
چلو دیکھتے ہیں۔
دریش ادھر پہنچا  تو کیا دیکھا ایک بڑے سے میدان میں قناتیں لگئی ہوئی اسٹیچ سجا ہوا , ہر طرف چہل پہل، بہت سے لوگ تماشہ دیکھنے آئے ہوئے تھے، کچھ جا بھی رہے تھے، البتہ تماشہ کرنے والوں کی تعداد بھی بہت تھی ، اسٹیج پر خوب رونق تھی۔ 
پورا ایک میلہ  لگا  ہوا تھا۔ درویش  میلہ دیکھنے بیٹھ  گیا بلکہ کھڑا ہی رہا۔  باوجود اسکے کہ جگہ بہت خالی تھی۔ بے شمار کرسیاں خالی پری ہوئی تھیں۔ 
باندر اور ریچھ کے ساتھ ساتھ اپنی دم پکڑنے والا کتا بھی تھا۔
پروفیسر  خود بھی موجود تھا۔ مگر درویش کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ تماشہ کروا  کون رہا ہے؟؟ کس نے اتنا خرچہ کردیا؟؟ اور کیوں؟
مگر کھیل دیکھتا رہا
کھیل بہت  اچھا  تھا، درویش کا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا، 
اور سوچتا رہا کہ  لوگ تھوڑے ہیں۔ 
لاہورئے بہوں خراب ہیں، ریچھ دیکھنے ہی چلے جاتے۔ ویسے بھی تو چڑیا گھر جاتے ہی ہو، اس بار تو باہر کھلے ہوئے تھے،
تماشہ ہورہا تھا
شاید
کھانا بھی مل جاتا۔
کرسیاں بھی کافی پڑئی تھیں "تشریف رکھنے" کو۔
بگڑے ہوئے لوگ۔
اپنے پیسے دیے کر ہی نان پائے کھاتے رہے۔
سرکس والے انتظار ہی کرتے رہ گئے۔
بقول عین:
یہ عقدہ تب کھلے گا
جب تماشہ ختم ہوگا
نوٹ۔
یہ ایک غیر سیاہ سی پوسٹ ہے۔ کسی بھی قسم کی مماثلت یقینی ہوگی۔ نیزہم نے جیسا محسوس کیا ویسا ہی لکھ دیا۔ دروغ برگردن دریائے راوی


مکمل تحریر  »

جمعہ, اکتوبر 20, 2017

پیرس ، شانزے لیزے اور قطری شہزادے

پیرس   اورلی  اترنے کا فیصلہ  میرا اپنا تھا۔ تین برس قبل پیرس میں ہونے والی فارماسیوٹیکل ایکسپو CPhI میں شرکت کےلئے ہم تینوں کو جانا تھا، باقی کے دونوں  اطالوی کولیگ الایطالیہ ائیرلانز پر چارلس دے گال پر اتر رہے تھے۔ جب کے میرے دماغ میں حسب عادت رائن ائر گھسی ہوئی تھی۔ جسکے ہم عادی ہیں۔ کم قیمت اور وقت کی پابند۔ باوجود کہ  کمپنی نے ادائیگی کرنی تھی ۔ 
مجھے اندازہ ہوچکا تھا کہ میں نے کیا  کرلیا ہے۔ ادھر چارلس دی گال سے 2 اسٹیشن   پر ایکسپو تھا اور باقیوں کا ہوٹل بھی اگلے دو  اسٹاپ پر، جب کہ مجھے شہر کے  ایک طرف اتر کر دوسری طرف جانا تھا ہوٹل کےلئے جبکہ ایکسپو اسکے بعد دوسری طرف تھا۔ گویا شہر کے تین کونے ماپنے تھے، ا"چھا وائی جو کرے " کہہ کر ٹرین میں سوار ہوگیا  لا فرتینیلے اتر اور ادھر سے  آر ای آر پکڑی گار دے آوستریلیاس کےلئے پھر وہاں سے بوبینی  پابلو پیکاسو پہنچا۔ کوئی  27 کلومیٹر کا سفر تھا۔ گوگل میپ پر  حساب میں لگا چکا تھا۔ ٹکیں ساتھ ساتھ لیتا  گیا  اور بغیر کسی کھیچل کے پہنچ گیا اپنے ہوٹل  جو اسٹیشن کے پاس ہی تھا۔ بس 10 منٹ پیدل اور ٹیکسی کے پانچ منٹ۔ کسی سے کچھ بھی پوچھنے کی ضرورت نہ پڑی، کچھ ویسے بھی ٹریولنگ کا  عادی ہوں۔ کچھ ادھر ہر طرح کی نشاندہی  موجود تھی۔ بس آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ میں نے جانا کہاں پر ہے اور کونسی ٹرانسپورٹ پکڑنی ہے۔ 


پیرس  ایک بڑا اور عالمی شہر ہے، جس میں فرینچ کم اور دوسرے ملکوں سے آنے والے زیادہ ہیں۔ کالے، عربی ، انڈینز، فلپینو، چینی ہر طرح کے لوگ  فرینچ بولتے ہوئے اپنے اپنے چکروں میں رواں دواں تھے۔ 
بوبینی شاید بنگالیوں کا گڑھ ہے۔ لگ رہا تھا کہ سارے مجھے ہی گھور رہے ہیں۔ شہر پرانا سا تھابڑی بڑی عمارات اور انکے نیچے کی طرف  کی کالی ہوئی پڑی دیواریں۔ 
ہوٹل کی ریسپشن پر ایک لڑکی تھی بہت منہ لگنی سی ، جو مجھے مراکشی لگی، عادتاُ اس سے پوچھ بیٹھا ، مروکن ہو، جواب ملا اگر ناں ہوں تو؟؟ ہیں ،اب میں  ہڑبڑا گیا۔ ارے نہیں میں نے تو بس پوچھا ہی ہے؟؟ اہو اچھا۔ میں فرینچ ہوں۔ پر میرے بزرگ الجیریا کے تھے۔ دھت تیرے کی۔ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ نہیں میں لاہور کا نہیں بلکہ جالندھر کا ہوں۔ ہلا چلو، سانوں کی۔
ہوٹل میں بیگ  رکھا، کپڑے اور شیو کا سامان رکھا اور نیچے اتر ا اور   فون  پر پھر سے شانزے لیزے ایوینیو  پر آرک دے ٹریومپف کا نقشہ دیکھا، کیمرہ اٹھایا،  ہوٹل سے نکلا اور دو میٹروز پکڑتا ہوا  2 بجے ادھر جاپہنچا ۔
ادھر اس دن گھوڑوں کی ریس کا فارمولہ ون  تھا۔ قطر اسکا آفیشل سپانسر تھا۔ شارہراہ کے دونوں طرف قطر کے جھنڈے  اور ریس کورس کے علم لہرا رہے تھے۔  کالے برقعے پہنے ہوئے  چیٹی سفید قطرنیاں اور انکے ساتھ کالے کالے قطری ، وللہ  وللہ ، ھنا، طعال کے نعرے ماررہے تھے۔ گویا پیرس اغوا ہوچکا تھا۔  یا پھر میں قطر پہنچ چکا تھا۔ اور قطری شہزادے ، شہزادیاں میرے اردگرد ہی تھے۔ شام کی روشنیوں  میں ویسے ہی  بندہ اکیلا پن زیادہ محسوس کرتا ہے

میں اپنے ساتھ کی قطری  شہزادی کے بارے سوچتا  ہوا ،  جو کہیں بھی نہ تھی ادھر ادھر کی فوٹوز کھینچتا رہا۔  فوٹو کھینچتا رہا۔ فیراری، اور ہوملیس کتے کے ساتھ اسی سڑک پر تھے، لوئیس ویٹون کے جوتے اور پانچ یورو لیکر رکشہ میں شانزےلیزے ایوینیو کی سیرکروانے والا، تیونسی نما فرینچ۔ ، دیکھتا رہا اور   بس پولے پولےفوٹو بناتا رہا۔  اور انتظار کرتا رہا باقی دونوں ساتھیوں کا جنکو شام گئے آنا تھا۔ اکتوبر کی شام صرف ایک کوٹ میں اچھی بھلی ٹھنڈی ہوجاتی ہے۔
مجھے جو چیز پیرس کی سب سے اچھی لگی وہ اسکی ٹرانسپورٹ کا نظام تھا جہاں ریل، آری آی آر، میٹرو اور بس ایک ساتھ بندے کو اسکی منزل تک پہنچا دیتی ہیں۔ میٹرو اسکی کوئی ڈیڑھ سو برس پرانی ہے، پر چل رہی، ٹرینیں پرانی ضورر ہیں، پر کوئی دھماچوکڑی نہیں اور یہی وہ چیز ہے جو پیرس کو پیرس بناتی ہے۔ اتنے بڑے شہر میں اگر آپ کسی کو کہہ دیں کہ 30 منٹ  بعد ملیں گے تو  ایسا ہوتا ہے۔ ابھی لاہور، راولپنڈی، ملتان ،  پشاور میں ماس ٹرانسپوٹیشن  کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ چلو ایک صدی بعد ہی سہی پر کچھ کام چلا تو،  لاہور کی رونقیں ہوں یا پشاور کی ، یا پھر پنڈی میں موتی محل سے راجہ بازار پیدل جانا ہو، میرے لئے ہمیشہ خوابناک رہا۔ پر پاکستان  کے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ پر آپ نہ کہیں وقت پر پہنچ سکتے تھے اور نہ ہی کسی کے پہنچنے کی توقع کرسکتے تھے۔ 
جبکہ میں  پورے تین دن اپنے ہوٹل سے دو بسیں بدل کر اور ایک ایک ٹرین پکڑ کر  کامپو دے ناتسیون پہنچ ہی جاتا تھا۔ نہ کوئی بھولنے کا رولا اور نہ دیر سے پہنچے کا خوف۔ 
پیر کو پھر فلائیٹ ہے فرینکفرٹ کی ۔ 

مکمل تحریر  »

پیر, مئی 01, 2017

بندہ مزدور اور رومن غلام

میں اپنے اطالوی دوستوں سے یہ سوال کرتا ہوں:
تم نے جو رومن تاریخ پڑھی ہے، بلکہ اسکے ماہر ہو،     رومنز کا زمانہ غلامی کے نظام کا بدترین زمانہ سمجھا جاتا تھا، رومنز کے زمانے میں غلاموں کے کیا حقوق ہوتے تھے؟؟
جواب آتا ہے " ہیں؟؟ غلاموں کے کیا حقوق ہوئے؟؟  کوئی حقوق نہیں ہوتے تھے غلاموں کے۔
ہیں؟؟ ایسا کیسے ہوا۔ کیا غلاموں کو  کھانا نہیں دیا جاتا تھا؟؟   حیرت سے، " ہاں دیا جاتا تھا"۔
کیا غلاموں کو سونے کےلئے جگہ نہیں دی جاتی تھی؟ ایک چھت ایک بستر، کوالٹی کچھ بھی ہو، چاہے "پیال" ہی ہو۔
جواب آتا  پھر حیرت سے " ہاں دیا جاتا تھا"۔
اچھا ، تو کیا انکو  لباس نہیں دیا جاتا تھا، تن ڈھانکنے کو؟؟  چاہے ایک لنگوٹ ہی ہو؟
پھر حیرت بھری تائید " ہاں  وہ بھی دیا جاتا ہے" ۔ اور ساتھ ہی اس موضوع پر "دماغی ریفلیکشن شروع ہوجاتا ہے،  تبصرہ آجاتا ہے " پر یہ سب تو انکو زندہ رکھنے کےلئے ضروری ہے، ورنہ وہ تو مر جائیں"۔
بلکل اور اگر غلام مرجاویں گے تو پھر کام کون کرے گا۔ مالکوں نے خود تو کرنا نہیں۔  اب ترتیب یہ ہوتی تھی کہ غلام کو صرف اتنا ہی دیا جائے  جو اسکو زندہ رہنے کو کافی ہے۔ اس سے زیادہ  "قطرہ " بھی نہیں۔  اسکے ساتھ ساتھ۔ غلام کا کام تھا کہ  وہ مالک کے ہر حکم کو بجالائے اور اسکی طرف سے سونپی گئی ذمہ داری و اوقات کار  کا خیا ل رکھے۔
یہاں تک ٹھیک ہے۔
اب ایک تجزیہ کیجئے ہمارے آج کے مزدور کا، یورپ میں مزدور کی حالت سب سے بہتر ہے۔
ایک ہزار عمومی تنخواہ سوپچاس کم یا زیادہ، پاکستانی کرنسی میں  ایک کو ایک سو پندرہ  سے ضرب دے لیں۔  ایک یورو برابر 115 روپئے۔
اس  ایک ہزار میں سے 
 450 گھر کا کرایہ
100 مختلف یوٹیلیٹی بلز
200 کھانے  کا خرچہ
50  کپڑے جوتے اور دیگر لوازمات
باقی دوسو بچے تو وہ گاڑی کی قسط اور پیٹرول کا خرچہ، یا پھر 100 کا بس کا مہینہ بھر کا پاس۔
آپ ہی بتاؤ۔ گاڑی اسکو چاہئے کہ کام پر وقت سے پہنچ سکے۔
گھر اسکےلئے صرف سونے کی ایک جگہ ہے۔
بجلی گیس پانی  چاہئے۔
کھانا واجبی سا کھانا ہی ہے۔
آج بھی مزدور مالک کے سامنے اونچی بات نہیں کرسکتا، اسکو دیکھ کر سلام کرتا ہے اور نظر جھکا کر بات کرتا ہے۔ 
اسکے سامنے اپنی رائے نہیں رکھ سکتا۔ 
مجھے یاد ہے ہم اپنے مرغی خانے میں ملازموں کی تنخواہ  "فیڈ  کے خالی توڑے" بیچ کے دیتے تھے۔ یا پھر مرغیوں کی بیٹوں والا برادہ بیچ کر۔ 
کیا یہ سب رومن کے زمانے کے مزدوروں والے حالات نہیں؟؟؟؟ آپ ہی بتاؤ؟؟




مکمل تحریر  »

پیر, اپریل 24, 2017

وعدہ خلافی ہمارا عمومی رویہ ہے


ڈاکٹر سلیم الموید میرے دوست ہیں کولیگ بھی، وہ فیملی ڈاکٹر ہیں اور میں اس پولی کلینک کا ہومیوپیتھ۔ ۔ دوست اسلئے کہ وہ فلسطین سے ہیں اور میں پاکستان سے۔ ہمارے بیچ اسلام علیکم کا رشتہ ہے جو ہم دنوں کو فوراُ قریب کردیتا ہے۔ میری ان سے ملاقات اکثر کام کے دوران ہی ہوتی ہے، کبھی کبھار باہر اتفاقیہ ملاقات ہوگئی۔ یا وھاٹس اپ پر کوئ چٹکلہ شئر کردیا۔ شاید گزشتہ دو برس سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں ہم۔
پرسوں مجھے وھاٹس اپ میسج آیا "کب فون کرسکتا ہوں؟" میں نے جواباُ کال کی۔
کہنے لگے "تمھاری ضرورت ہے۔ کلینک سے باہر کسی جگہ پر ملنا چاہتا ہوں"۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ابھی تو میں شہر سے باہر ہوں۔ میں کل واپس آؤں گا اور آپ کو فون کروں گا اور طے کرلیں گے کہ کہاں اور کب ملاقات ہوسکتی ہے۔
آج دن کو کال کی۔ کہنے لگے میں اولڈ ھوم سے چاربجے فارغ ہونگا، تو ملتے ہیں۔ ادھر "سابلون کیفے" میں۔ چلو ٹھیک ہے۔
میں چاربجے وہاں پہنچا تو نہیں تھے۔ فوراُ کال آگئی،"ایک مریض کی طبیعیت اچانک خراب ہوجانے کی وجہ سے ابھی نکلا ہوں۔ دیکھ لو اگر انتظار کرسکتے ہو تو دس منٹ میں پہنچتا ہوں"۔ میں نے کہا : "کوئ بات  نہیں آجاؤ"۔
دس منٹ بعد ہم کافی کا آرڈر دے رہے تھے اورایک کیس ڈسکس کررہے تھے۔


الف میرے شہر کے ہیں اور پاکستان میں بقول انکے میرے شاگرد بھی رہے۔ یہاں اٹلی میں شروع میں جب آئے تو انکو ساتھ جاب پر بھی لگوایا اور گھر میں بھی رکھا۔ ہم لوگ اپارٹمنٹ شئرنگ میں شاید کچھ برس اکٹھے رہے۔ کھانا پینا، کام کاچ سب ایک ساتھ۔
پھر وہ ایک دوسرے شہر شفٹ ہوگئے اور میں ایک اور شہر میں۔
کبھی کبھار رابطہ ہوجاتا۔
گزشتہ ہفتے انکا فون آیا۔ کہنے لگے کبھی چکرلگاؤ، میں نے بتایا کہ میرا ویک اینڈ پر کورس ہے، فلاں جگہ پر، رات کو میں نے ادھر ہی ٹھہرنا ہے ہوٹل میں۔ یا تو ہفتہ کی شام کو ملاقات ہوسکتی ہے فراغت سے یا پھر دوپہر کو کھانے کے وقفہ کےلئے ڈیڑھ گھنٹے کےلئے۔
کہنے لگے واہ جی واہ وہ تو مجھ سے بیس منٹ کی ڈرائیو پر ہے۔ بس ٹھیک ہے میں شام کو آپ کو پک کرلوں گا۔ ملاقات ہوگی۔
چلو ٹھیک ہے، میں رابطہ کرلوں گا۔
گزشتہ ویک اینڈ پر میں اس شہر میں کورس پر تھا۔
حسب وعدہ میں نے انکو وھاٹس اپ کردیا کہ جناب میں پہنچ گیا ہوں۔


شام کو انکا فون آیا کہ میں آج مصروف ہوں کل شام کو، عرض کیا کہ کل تو میری واپسی ہے۔ اچھا دوپہر کو کیا پروگرام ہے؟
دوپہر کو ڈیڑھ سے تین بجے تک فری ہوں۔ چلو ٹھیک ہے، میں ڈیڑھ بجے ادھر ہوٹل ہونگا۔ بس ٹھیک ہے۔
میں نے ڈیڑھ بجے فون کیا تو، ایک بچے نے اٹھایا۔ آپ کون ہیں؟؟ اور کس سے بات کرنی ہے؟؟ اپنا تعارف کرویا تو اس نے فون اپنی ماں کو تھمادیا، وہ فرمانے لگیں کہ "وہ" تو گھر نہیں ہیں اور فون بھی گھر چھوڑ گئے ہیں۔
میں نے "چلو ٹھیک ہے" کہہ کر فون بند کیا اور اپنے کھانے کی میز کی طرف چلا گیا۔
پھر انکی طرف سے کوئی رابطہ نہیں۔ شاید ابھی تک گھر ہی نہ پہنچے ہوں۔

 یا پھر  "وڑے" کہہ کر فون بچے کو تھما دیا ہوگا۔  کہ کہہ دو "ابا گھر پے نہیں ہے۔ بچہ شاید بات سنبھال نہیں سکا اور اماں کو پکڑا دیا ہوگا فون۔ 
اور میں کل سے سوچ رہا ہوں، کچھ بھی ہوجاوے ہم پاکستانیوں کی عادتیں نہیں بدلیں، وقت کی پابندی نہ کرنا اور وعدہ خلافی ہمارا  عمومی مزاج ہے۔ 






مکمل تحریر  »

جمعہ, فروری 17, 2017

رب ہے

ملحدوں کےلئے۔۔۔۔۔۔۔
شکم مادر میں دو جڑواں بچے تھے ۔
ایک دوسرے سے پوچھتا ہے: تم بعد از پیدائش حیات پر یقین رکھتے ہو؟؟
دوسرا جواب دیتا ہے: "یقیناُ، کچھ تو ہوگا پیدائش کے بعد۔ شاید ہم یہاں تیار ہورہے ہیں اس دوسری حیات کےلئے۔ جو بعد میں آوے گی"۔     " ایک دم بکواس" پہلا کہتا ہے۔ "بعد از پیدائش کوئی حیات نہیں ہے۔ کس طرح کی زندگی ہوسکتی ہے وہ   والی؟"
دوسرا جواب دیتا ہے: " مجھے نہیں معلوم، مگر یہاں سے زیادہ روشنی ہوگی، شاید ہم چل بھی سکیں گے اپنی ٹانگوں کے ساتھ اور اپنے منہ کے ساتھ کھا بھی سکیں۔ شاید ہماری اور حسیں بھی ہوں جو ہم اب نہیں سمجھ پا رہے"۔
پہلا اعتراض کرتا ہے: "یہ تو بلکل ہی بونگی ہے۔ چلنا ناممکن ہے۔ اور منہ کے ساتھ کھانا؟ ذلالت۔ ناف کے ذریعے ہمیں سب مل تو رہا ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔۔۔ اور پھریہ ناف  بہت چھوٹی ہے۔ بعد از پیدائش حیات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔"
دوسرا مسلسل اپنی بات پر اڑا رہتا ہے: بہرحال، مجھے یقین ہے کہ کچھ تو ہے اور شاید جو یہاں ہے اس سے مختلف ہو۔ شاید لوگوں کو اس ناف کی ضرورت ہی  نہ ہوتی ہو"۔
پہلا پھر سے اعتراض کرتا ہے: "سب بکواس، اور باوجودیکہ، بلفرض اگر کوئی حیات بعد از پیدائش ہے، تو پھر ادھر سے کبھی کوئی واپس کیوں نہیں آیا؟؟ پیدائش حیات کا اختتام ہے اور بعد از پیدائش کچھ بھی نہیں ہے سوائے غیرشفافیت، خاموشی اور فراموشی کے۔ پیدائش ہمیں کسی طرف نہیں لے کے جائے گی"۔
"اہو، مجھے یہ تو نہیں معلوم" دوسرا کہتا ہے "لیکن یقینا ہم ماں سے ملیں گے اور وہ ہماری دیکھ بھال کرے گی، ہمارا خیال رکھے گی"۔
پہلا گویا ہوتا ہے: "ماں؟" تم ماں پر یقین رکھتے ہو؟  اہو، یہ تو بکواس ہے بلکل ہی، اگر ماں بلفرض ہے، تو پھر، اس وقت کہاں ہے؟"
دوسرا جواب دیتا ہے: " وہ ہمارے ارد گرد ہے۔ ہم اسکے حصار میں ہیں۔ ہم اسکے اندر ہیں۔ اور اسکی وجہ سے ہی تو زندہ ہیں۔ اسکے بغیر تو اس دنیا کا وجود ہی ممکن نہیں ہے اور نہ ہی اسکی بقا ممکن ہے"۔
پہلا جواب دیتا ہے: توپھر، میں تو اسےنہیں   دیکھ  سکتا،  پس ثابت ہوا کہ ، اصولی طور پر اسکا کوئی وجود نہیں ہے"۔
اور پھر دوسرا  گویا ہوتا ہے: " کبھی کبار، جب خاموشی ہوتی ہے،   اگر سچی میں سننے کی کوشش کرو تو، اسکی موجودگی محسوس کی جاسکتی ہے اور اسکی آواز وہاںاوپر سے سنی جاسکتی ہے"۔
اس طور پر ایک ہنگارین لکھاری سمجھاتا ہے کہ "رب" ہے۔






مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش