سوموار, ستمبر 15, 2008

اناللہ واناالیہ راجعون۔

پاک فضایہ نے امریکی جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کردیا، یہ دو دنوں میں دوسری ایک ہی طرز کی اور ایک اچھی خبر ہے، کم اس کم امریکیوں کی"کھوتی تھاں" بیٹھ جائے گی، امریکی بچے مجھے تاریخ پر نظر دوڑاتے ہوئے " کمزور پر غصہ آتا ہے اور طاقتور پر ترس" کے مصداق ہر اس جگہ "پنگا" لینے سے گھبرائے نظر آتے ہیں جہاں آگے سے منہہ پر پڑے، جو ہم سے ٹکرائے گا وہ برباد ہوجائے گا،
آج کی خبروں کے مصداق قبائلیوں نے فوج اور ہموطنوں کے شانہ بشانہ بلکل اسی طرح دفاع کا اعادہ کیا ہے جیسے انگریز کے خلاف کیا گیا تھا، پہاڑوں کی چوٹیوں پر مورچے بن رہے ہیں اور انگریزوں کے زمانے کے مورچوں کی پھر سے صفائی ہورہی ہے۔ جنرل کیانی کی تصویر 200 روپئے میں فروخت ہورہی ہے۔ اس بندے کی اللہ حفاظت کرے ہماری قوم کے دلوں میں دھڑک رہا ہے کہ یہی وہ آواز ہے جو ہمیں احساس دلاتی ہے کہ ایک زندہ قوم ہیں "ورنہ مردے بھی کیا خاک جیا کرتے ہیں" کے مصداق ہمارے پاس کیا ہے۔ وہ صدر مزاری جو مزاروں پر چادریں چڑھاکر امریکہ کو سدھارا یا وہ سید جو میراثیوں کے موافق ایک دن کہتا ہے کہ ہم زندہ ہیں اور دوسے دن اپنے زندہ نعش ہونے کا اعلان کرتا ہے۔
اناللہ واناالیہ راجعون۔

مکمل تحریر  »

جمعہ, ستمبر 12, 2008

پاکستان میدان جنگ

آج کل پاکستان کو میدان جنگ دینے کے بارے میں امریکی بیانات زور کرچکے ہیں اور پاکستانی حکومت دبے لفظوں میں احتجاج کے ساتھ جوابی کاورائی کا حق محفوظ رکھنے کا دعواہ کررہی ہے۔ کہ اگر اب کے بغیر پیشگی اجازت حملہ ہوا تو ہم جوابی کاروائی کریں۔
کچھ دوست طالبان کی مخالفت میں امریکی کاروائیوں کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ مگر یہ بھول رہے ہیں کہ یہ پاکستانی طالبان کسی کی پیداوار ہیں۔ ان کو کم سے کم پاکستانی فورسز تو فیڈ نہیں کررہیں جیسے کہ افغانستان میں طالبان تحریک کے بارے میں کہا جاتا ہے، بات سمجھ میں آتی ہےکہ ادھر پاکستانی فورسز کے مفادات تھے مگر شمالی علاقوں میں ہونے والی طالبانی کاروائیوں کی سرپرستی کون کررہا ، لازمی طور پر وہی کریں گے جن کے حق میں پیدا ہونے والے یہ حالات ہیں۔ بلکل جس طرح اسامہ بن لادن کا ہوا بنا کر افغانستان پر حملہ کیا گیا مگر کیا برآمد ہوا؟ جیسے خطرناک ہتھیاروں کو بنیاد بنا کر عراق پر حملہ کی کیا گیا مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات، اب طالبان کی بنیاد پرپاکستان پر حملہ۔ گویا یہ تحریک بلکل اسی طرح امریکی پیداوار ہے جس طرح گیا ستمبر کا ڈرامہ ہو، یا صدامی ڈیزائین۔
ایک بار پھر کہوں گا کہ امریکی کاروئیوں کو روکنا ہوگا۔ فوج اور حکوم کو چاہئے کہ سب سے پہلے اس معاملے کو اقوام متحدہ
میں اٹھائیں۔ اور آئندہ ہونے والی ہر کاروئی کا دانت توڑ جواب دیا جائے۔
میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں بطور قوم دفائی پالیسی ترک کر کے جارحانہ اندازاپنانا ہوگا۔ بطریق " ہم تو ڈوبیں گے
صنم تمیں بھی لے ڈوبیں‌گے۔

مکمل تحریر  »

جمعرات, جولائی 31, 2008

اٹلی میں اسلامی اقدار

آج کے اخبار کے مطابق شہر کے تمام عوامی مقامات پارکوں ، سڑکوں، سڑکوں پر بنچوں اور دیواروں پر بیٹھ کر شراب نوشی کی سختی سے ممانت ہوگی، ایک سو تیس یورو سکہ رائج الوقت جرمانہ ہوگا۔
میں عمر سے بات کررہا تھا۔ کہ میاں عمر یہ لوگ تو مسلمان ہوتے جارہے ہیں، شراب نوشی ممنوع، عورت اگر ننگی بھی گھوم رہی ہوتو کسی کی جرات نہیں کہ ہاتھ لگا جائے۔ 18 برس تک تعلیم فرض، ٹیکس کاٹتے بھی ہیں اور رفاع عامہ کے کام بھی ہورہے ہیں، غیر سودی بنکنگ پر تیزی سے کام ہورہا ہے اور بہت سے بنکوں نے آفرز بھی دینی شروع کردی ہیں جو نفع نقصان کے اشتراک پر مبنی ہیں، ادارے ہیں جو فلاحی کاموں میں سر توڑ مشغول ہیں، غریب، یتیم، بیوہ، لاوارث بچے و بڈھاس کےلئے الگ سے رہائیش اور کھانے پینے کے ادارے ہیں جن کی سرپرستی حکومت کرتی ہے یا ترغیب دیتی، یاد رہے کہ پنشن اور کفالت کا نظام حضرت عمر فاروق رضی اللہ کا مروج ہے جس کو ہمارے ممالک میں ترک کردیا گیا ہے۔ جھوٹ اور غیبت نہ ہونے کے برابر ہے، قتل سال کے سال ہوتا ہے اور وہ سال بھر ٹی وی پر رہتا ہے۔ پھر معلوم ہوتا کہ اتفاق تھا یا قاتل ذہنی مریض، چوری کی وارداتیں ہردوسرے برس ہوتی ہیں۔ یہ تو تھے اجتمائی فرائض جن سے افراد و اقوام پر اثر پڑتا ہے۔
رہ گئی بات انفرادی معاملات کی کہ نماز پڑھنا، روزہ رکھنا حج کرنا ہر بندے کا اپنا فعل ہے جس میں دوسرون کو علاقہ نہ ہے۔ہمارے معاملات الٹ ہیں، نماز، روزہ حج زور شور سے اور تعلیم، شراب، عورتوں کا تحفظ، سود، جھوٹ، غیبت، ٹیکسیوں کی عدم ادائیگی، اداروں کا عدم وجود، بے ایمانی تمام اجتمائی برائیاں، چوریاں، قتل۔ آخر ہم کونسے مذہب کی پیروی کررہے ہیں، مولوی صاحب اس بارے کچھ بتلا کے نہیں دے رہے۔ اسلام نے چودہ سو سال پہلے پڑھنے لکھنے کاانقلاب دیا۔ عورت جو دفن کی جاتی تھی وراثت کی حقدار قرار پائی۔ جب دنیا تعیلم کے نام سے بھی واقف نہ تھی۔
ہم نے کیا کیا اسلام جیسے انقلاب کو چودہ سو سال پہلے کے کھونٹے سے باندھ دیا۔ آج انگریز چاند پر چہل قدمی کررہا ہے اور ہم دعاکرتے ہیں کہ یااللہ خیرسے چڑھے، وہ ادھر مکان بنانے کو ہے اور ہم اسکے نمودار ہونے اور نہ ہونے پر جھگڑرہے ہیں۔ چند ہفتے پہلے اسی موضوع پر مولوی صاحب دعوہ دار تھے کہ قرآن مجید میں ہمیں چودہ سو برس پہلے ہی چاند ستاروں کے مسخر کرنے کے بارے میں بتایا تھا۔ میں نے کہا میاں مسخری نہ کرو اگر تمھیں معلوم تھا تو انکو تسخیر کیا کیوں نہیں؟ آپ بتائیں؟

مکمل تحریر  »

جمعہ, جولائی 25, 2008

مسجد سے جوتے چرانا

مسجد سے جوتے چرانا ایک ایسا فعل ہے کہ سب اسے برا جانتے ہیں مگر ہورہا ہے۔ اب تو خیرسے پنکھے اور ٹونٹیاں بھی اترانا شروع ہوگئی ہیں ۔ چرسی پارٹی کا کام ہے۔ جب ہم نئے نئے کالج میں داخل ہوئے تو گرمیوں کی چھٹیوں میں ایک دوست کہنے لگے کہ میاں رات واعظ ہے سننے چلیں، گے ساتھ والے گاؤں میں، گھروالوں کو بتلایا تو بہت خوش ہوئےکہ میاں جوانی میں نیک کام، اللہ سب کو ایسی سعادت مند اولاد دے۔ واعظ سنی، بڑا مزاہ آیا، مولوی صاحب جوان اور قد کاٹھ کے بندے تھے، بہت خوب بولے۔ واپسی پر یہی باتاں ہورہی تھیں کہ شاہ جی کہتے ہیں یار یہ مولوی بہت شہدا بندہ ہے۔ ہیں؟ کیوں شاہ جی کیاہوا؟ بھئی دیکھو اتنے قد کاٹھ کا بندہ اور چھوٹا سا پاؤں ہے اسکا۔ مگر شاہ جی آپ کو کیا مطلب اسکے پاؤں سے۔ فرمانےلگے دیکھو اس موئے کی جوتی ہی میرے پاؤں میں نہیں‌ آرہی۔ ہاہاہا میرا جوتا شاہ جی سے بھی ایک سائز بڑا ہوتا ہے۔

مکمل تحریر  »

جمعرات, جولائی 24, 2008

دماغ کا استعمال

پی آئی اے کی ٹکٹس کم سے کم دو سو یورو کم قیمت پر بکتی رہی ہیں، ابھی معلوم ہوا کہ ساری ری فنڈ ہوچکی ہیں، مطلب مسافر کو معلوم ہی نہیں، اور جس نے ٹکٹس بنوائیں، پیسے واپس لے لئے۔ فرض کریں اگر دو سو ٹکٹس ہوئیں تو 800 یورو فی ٹکٹ ریفنڈ ہوگا۔ کل ملا کے 160000 یورو ہوئے، جوپاکستانی سکہ رائج الوقت کے مطابق تقریباُ 16000000 ہوئے، کوئی مال بنا گیا ہے۔ میں تو اس بندے کے دماغ پر رشک کر رہا ہوں۔ یہ ہے آج کا واقعہ یا ہوسکا ہے واقع ہی ہو۔

مکمل تحریر  »

منگل, جولائی 08, 2008

بوٹی

بوٹی کی تین قسمیں ہوتی ہیں اول وہ جو جڑی بوٹی کہلاتی ہے اور اکثر حکماء معالجات میں استعمال کرتے ہیں، بعض تو یہ کہتے بھی سنے گئے ہیں کہ جی یہ بوٹی ہمارے دادا جان کہیں سے لائے تھے، بھلا کوئی پوچھے کہ آپ کے دادا کو مرے 60 برس ہوئے اب بھی اس میں اثر ہوگا؟
دوئم بوٹی کی وہ قسم ہے جو ہم امتحانات میں استعمال کرتے تھے اور اکثر غلط سوال لکھ کر بوٹی کے نام سے اگلے دی جاتی اور وہ اس سے اگلے کو دیتا پس سب کا خانہ خراب، ہمارے وقتوں میں خیر سے بوٹی مافیا بھی تھی میڈیسن کے سالانہ امتحانات میں بڑی کمائی ہوتی۔ پس وہ ڈاکٹر صاحبان بھی ساری زندگی بوٹی ہی چلاتے۔
بوٹی کی سوئم قسم گوشت بوٹی ہے اور اکثر کتوں کو لڑانے کےلئے استعمال ہوتی ہے۔ آپ ایک بوٹی لے کر دو کتوں کے درمیان ڈال دیں اور بیٹھ تماشہ دیکھیں، خیر کتے کا شمار تو حیوانات میں ہوتا ہے مگر یہاں تو مولوی صاحبان بھی بوٹی پر لڑتے دیکھے گئے ہیں، جن کی ایک زندہ مثال ہمارے مولوی صاحب ہیں، جو بوٹی نہ ملنے پر جھگڑا کرتے ہیں اور ملنے پر ایک اور کا تقاضا کرتے ہیں۔ آج مولوی صاحب کو بوٹی کی وجہ سے کئے گئے جھگڑے کی وجہ سے اپنا ٹھکانہ تبدیل کرنا پڑا۔ پس تجربہ سے ثابت ہوا کہ بوٹی انسان اور کتے کو ایک مقام پر لا کر کھڑا کردیتی ہے۔

مکمل تحریر  »

بدھ, جولائی 02, 2008

بیمار ہونا ڈاکٹر جی کا

اور آخر یہ دن بھی آنا ہی تھا کہ آج مجھے بھی دوسروں کو ٹیکے لگا تے لگا تے خود کو ٹیکہ لگوانا پڑا، وہ بھی رمضانی سے، جوکہ بقول اسکے بھینسوں کو ہی ٹیکے لگاتا رہا ہے، اور مجھے بھی بھینس کی مانند ہی ٹیکہ لگے گا۔ خیر بتلانے اور سمجھانے کے بعد ٹیکہ تو لگ گیا اب اللہ خیر ہی کے۔
یہاں پر ٹیکہ لگوانے کے خصوصی مراکز ہیں جہاں پر جا کر آپ ٹیکے لگوا سکتے ہیں مگر پہلے سے وقت لو بھلے 4 دنوں کے بعد ملے اور تب تک آپ ٹھیک ہوچکے ہوں یا پھر احباب جنازہ کا اعلان کر رہے ہوں اور میت وطن واپس بھجوانے کے نام پر چندہ اکٹھا ہو رہا ہو، خیر میری تو انشورنس ہے، امید ہے کہ احباب کو چندہ کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔
دل پر لینے کی کوئی ضرورت نہیں کیوں کہ گھٹنے میں کچھ سوزش ہوئی ہے۔ یورک ایسڈ کی وجہ سے امید ہے کہ چند دنوں تک بندہ پھر سے کودنے کے قابل ہوجائے گا۔ گویا بڈھوں والے امراض، خیر بقول فیاض بھائی کہ ہم جوان کب تھے کسی نے مجھے کبڈی کھیلتے دیکھا، ہاکی فٹ وغیرہ، ہوش سنبھالی تو بھائی جان تھے، پھر چاچو اور اب ابا جان ہوچکے ہیں ۔
اور یہ کہ یہ مسئلہ کوئی عرصہ بیس برس سے چکل رہا ہے۔ پس تاش کھیلنے کی ہی مشقت ہوتی رہی ہے یا پھر شطرنج۔

مکمل تحریر  »

جمعہ, مئی 16, 2008

انگریز کی قدرت

ہمارے ماموں ضامن کہا کرتے تھے دیکھی پھر انگریز کی قدرت جس نے لوہے میں سے پانی نکال دیا، مگر کیسے ماموں، تو ارشاد ہوتا کہ نلکا، ہمارے ماموں بہت زندہ دل بندے ہیں عمر میں کوئی پنتالیس کے پیٹے میں ہی ہوں گے مگر کیا ہے لطیفے مزاح ، خوش طبعی میں انکا جواب نہیں۔ گویا ابھی بھی لڑکے بالے ہوں۔ اسکول ٹیچر ہے اور اس برس شاید ایم اے کر ہی جائیں، پروگرام انکا ایم اے کے بعد پی ایچ ڈی کرنے کا ہے۔
یہاں آج مولوی خالد صاحب نے دودھ کا گلاس سامنے لا رکھا، میں نے پوچھا کہ مولوی صاحب یہ کس کیس میں ہے۔ تو فرمانے لگے کہ یہ دیوار کا دودھ ہے۔ مگر کیسے جناب؟ کہنے لگے بس جی ہم نے پھونک ماری ہے اور دیوار سے دودھ نکال لیا ہے ۔ دیکھا ہم بہت پہنچے ہوئے ہیں۔ اس میں کسی کی شک بھی نہیں ہونا چاہئے کیوں کہ وہ اٹلی تک تو پہنچے ہوئے ہیں، اس بات کا تو بندہ گواہ ہے۔ ویسے میرے دفتر کے ساتھ ہی ایک مشین لگی ہوئی ہے جہاں سے آپ اپنی بوتل بھر کردودھ لے جائیے شاید اسی سینٹ قیمت ہوگی۔ یہاں پر عام لوگ گائے نہیں رکھ سکتے اور بقول اکبر دودھ ڈبہ کا تعلیم سرکارکی۔ اور سال گزرے تو دودھ دیوار کا، اور لوگ گائے کی شکل تک بھول چکے ہونگے۔ پھر اگر ہم ایسی کوئی بات کریں گے تو جواب ملے گا کہ میاں جی کونسے زمانے کی بات کرتے ہو۔ ایسے بھی ممکن ہے۔ ایسے ہی نہ چھوڑا کریں۔

مکمل تحریر  »

ہفتہ, اپریل 12, 2008

اثاثے

علامہ صاحب ہمارے یارغار ہیں، مطلب یہ نہیں کہ ہمارے ساتھ غار میں رہے ہیں مگر اٹلی میں نواردگی کے زمانوں کے ہمجولی ہیں، آزادکشمیر سے تعلق رکھتے ہیں اور میرزا کہلوا کر خاندان مغلیہ کے وارث ہونے کا دعویدار ہیں۔
بتانے لگے کہ میرا ایک اطالوی دوست وکیل ہے دو ہفتہ پہلے اس نے اپنے گھر کھانے پر مدعو کیا ہوا تھا۔ باتوں باتوں میں وہ بتانے لگا کا میرے پاس ایک خنجر ہے بڑے سائز کا میں نوادرات کی ایک دکان سے خریدا ہے پورپانچ سو یورو کا کہ انڈیا کے کسی نواب کا ہے ، اس کے اوپر عربی اردو طرز کی کوئی تحریر ہے اگر تم پڑھ سکو تو معلوم ہو کہ ہے کیا۔ خیر وہ اندر کمرے سے خنجر اٹھا لایا میں نے دیکھا تو ایک دم خون ابل پڑا اور آنکھ سے آنسو بھی۔ میں نے بیٹھی ہوئی آواز میں ان سے کہا کہ میں بغیر کھولے بتلا سکتا ہوں کہ اس پر کیا لکھا ہوا ہے، وہ کہنے لگے کہ کیسے۔ میں نے کہا کہ میں غائب کا علم جانتا ہوں۔
فوراُ جیب سے سیل فون نکالا اور پاکستان کال ملائی، ماں جی نے فون اٹھایا تو میں نے پوچھا کا اماں دادا جی کا خنجر کہاں ہے، انہوں نےکہا کہ پت وہ تو ہم نے گزشتہ برس کسی لوہے والے کو دے کر پلیٹیں لے لی تھیں۔

مکمل تحریر  »

جمعرات, مارچ 27, 2008

تولیہ

آج جنگ آخبار کا آن لائن پی ڈی ایف ورژن دیکھتے ہوئے یہ شعر نظروں سے گزرا، تو تولیہ یاد آگیا، ہمارے محترم حاجی ریاض صاحب اس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ تولیہ ایک ایسی چیز ہے جو ناممکنات کو بھی ممکنات بنادیتاہے، شرط ہے کہ آپ کو تولیے کا صحیح استعمال آتا ہو۔ موقعہ محل اور ضرورت کے پیش نظر اسکا استعمال نہایت عمدہ نتائج مہیا کرتا ہے۔ تولیہ کم قیمت ہوتا ہے اور ایک ڈیڑھ یورو میں دستیاب ہے۔ البتہ اگرآپ بڑا تولیہ استعمال کرنا چاہیں تو لازم ہے کہ اسکی قیمت بھی زیادہ ہوگی اور قدر بھی۔ بعض اوقات آپ تولیہ کو مفت استعمال کرسکتے ہیں۔ یہاں اٹلی میں چونکہ رشوت کا رواج نہ ہے۔ لہذا تولیہ اس کا متبادل ہے۔ دفتر جائیے اور باس کو کہیں کہ آج اسکی ٹائی کی ناٹ بہت اچھی لگی ہوئی ہے، شرٹ کے رنگ کی تعریف کریں، فیکٹری کے ملازمین اپنے انچارج اطالوی می کاپو سے پوچھیں کہ آج کیا کام کرنا ہے اور کونسی مشین پر، بھلے روز ایک ہی مشین پر کام کرتے ہوں۔ ہوٹل کا ملازمین برتن دھونے کا آغاز کرنے سے پیشتر اپنے شیف سے ضرور پوچھیں کہ پہلے کونسا دیگچا چاہیے۔چھٹی والے دن سے پیشتر کام ختم کرکے باس کے سلام کرنا۔
اب قیمت والے تولئے۔ پاکستان سے آتے ہوئے سٹاف کے اہم لوگوں کےلئے 10 روپئے کی اگربتیاں لانا، یا ماربل کے قہوہ سیٹ، (اگر کوئی بڑے سائز کا کام پھنسا ہوا ہو تو)۔ کافی مشین پر باس کو جاتے ہوئے دیکھ کر جا سرے ہونا اور کافی پلوانا۔ وغیرہ وغیرہ۔ کہتے ہیں کہ جتنی شکر ڈالئے سو میٹھا ہو۔ آگے آپ خود سیانے ہیں۔
دیکھئے آگر آپ کے ذہن میں بھی تولیہ آتا ہے کہ نہیں؟

مکمل تحریر  »

ہفتہ, مارچ 22, 2008

مبارک باد

اہل اسلام کو عید میلادالنبی کی مبارک ہو۔
اہل یورپ کو ایسٹر اور گڈفرائیڈے مبارک ہو۔
اہل فارس کو جشن نوروز و نیا سال مبارک ہو۔
اہل ہند کو ہولی مبارک ہو۔
اس بار دلچسپ بات یہ ہے کہ اٹلی میں ہفتہ اتوار پیر کی تین چھٹیاں ہیں۔ اور اکثر ان دنوں میں ہم بے رونقی کا شکار ہوتے ہیں مگر
اس دفعہ ہم بھی جشن منا رہے ہیں عید میلاد النبی کا۔ اللہ ھم صلی علیٰ وآلہ و اصحابہ

مکمل تحریر  »

بدھ, فروری 20, 2008

کچھ اقوال روم سے

نوٹ یہاں روم سے مراد نہ تو سلطنتِ روم ہے اور نہ ہی مولانا روم بلکہ روم شہر ہے جو اٹلی کا دارالخلافہ ہے اور جہاں رومن زبان بولی جاتی ہے اصل اقوال کےلئے آپ میرے اطالوی بلاگ پر رجوع فرمائیں۔ کام کے بعد بندہ تھک جاتا ہے
کام کا لفظ گلے میں اٹکتا ہے
دن آرام کو بنا ہے اور رات سونے کو
آرام کرنے والے کی مدد کرووہ آج نہیں کرسکتے جو کل ممکن ہے
زندگی میں کم سے کم کرنے کی فکر کرو اور یہ کم بھی کسی اور سے کروانے کی
اگر تمھیں کام کرنے کی خواہش ہو تو بیٹھ کر انتظار کرو کہ ختم ہوجائے
زیادہ آرام سے آج تک کوئی نہیں مرا
جو تھک جاتا ہے وہ موت کے زیادہ قریب ہوجاتا ہے۔ اتنا کام مت کرو کہ تھک جاؤ
جب تک صحت ہے کام ہے، بیمار بن جاؤ
ایک سخت قانون کی سخت کم کرنے بہتر طریق اس کو آہستہ آہستہ پیش کرنا ہے یا اس کو نرم بنانا۔
نوٹ: قدیررانا کو مذید شکایت نہیں کرنا چاہئے کہ میرے بلاگ پر اپ ڈیٹ نہیں ہوتے۔

مکمل تحریر  »

نوواردوں کو مفت مشورے

ہمارے دل عزیز پروفیسر ڈاکٹر ملک منظور الٰہی طاہر کا قول زریں تھا کا بغیر کہے مشورہ اور مفت کا مشورہ بندے کی عزت کم کرتا ہے کہ عمل کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔
صاحبو آج ہم بھی اپنی عزت کے درپے ہیں۔ مطلب کچھ مفت کے مشورے دینے کو چلے۔ کر لو گل
تو اٹلی میں آنے والے جملہ اصحاب کان کھول کر، آنکھیں بند کرکے اور دل پر ہاتھ رکھ کر پڑھنا شروع کیجئے اور رفع شر کےلئے مبلغ آٹھ ہزار اطالوی سفارتخانہ کی نذر کیجئے۔ اطالیہ کو عازم سفر ہونے سے پہلے آپنے آپ کو خوش قسمت جانئے کہ آپ کو ایک پروگرام کے مطابق ہجرت کا موقع مل رہا ہے۔ پس صاحبو تیاری کرتے ہوئے نئے کپڑوں اور بیگ کی خریداری کے ساتھ ساتھ کچھ ہنر سیکھئے۔
یہاں پر صنعت بہت زیادہ ہے۔ لہذا ہر وہ کام یا ہنر جو اس زمرہ میں آتا ہو، آپ سیکھ سکتے ہیں۔ ویلڈنگ، خراد، کمپوزنگ و ڈیزائننگ کے پروگرام۔ کاد، کام وغیرہ وغیرہ۔ ممکن ہو تو اطالوی زبان کے بنیادی کورس کیجئے کہ انگریزی آپ کے کام نہیں آنے کو، اور مقامی زبان آپکی مشکلات آسان کرے گی۔ ہاں اگر اطالوی کے کورس دستیاب نہ ہیں تو انگریزی بول چال کے تین کورس دافع بلیات کا کام دیں گے۔ اٹلی کے جغرافیہ کے بارے میں بنیادی معلومات آپ کے رسل وسائل میں معاون ہونگی۔
اگر آپ تعلیم یافتہ ہیں تو اپنی جملہ اسناد کوشش کرکے اطالوی سفارتخانہ سے تصدیق کروالیں ورنہ ادھر کوئی نہیں پوچھتا اور آپ کو آٹھویں جماعت کا امتحان بلکل اسی طرح دینا پڑے گا جیسے میں نے سن 2000 میں دیا تھا۔ یونیورسٹیوں کے مطلق معلومات۔ ہر یونیورسٹی کی اپنی ویب سائیٹ موجود ہے اور وہاں سے آپ کو سارے روابط اور بنیادی معلومات مل سکتی ہیں اب آپ کی لیاقت پر منحصر ہے کہ اس سے کتنا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اکثر جامعات میں اعٰلی تعلیم بزبان انگریزی میں دستیاب ہے۔ البتہ ڈگری کورس تک تعلیم مفت ہے بلکہ کچھ چاہ پانی کا خرچہ بھی مل جاتا ہے مگر جب بات اعلٰی تعلیم کی ہو تو مقابلہ کا امتحان دینا پڑتا ہے اور اس میں غیر ملکیوں کےلئے مخصوص کوٹےہیں۔ آپ بھی یونی میں کوٹ پہن کے جائیے۔

مکمل تحریر  »

جمعرات, فروری 14, 2008

اٹلی میں نوارد ہونا

دیگر ممالک کی طرح اٹلی میں نوارد دو طرح کے ہوتے بلکہ تین طرح کے کہیے۔ اول سیاح جو عرف عام میں ٹورسٹ کہلاتے ہیں اور اکثر پاکستانی نہیں ہوتے۔ دوسرے ہوتے ہیں ٹُکررسٹ، جو اپنا رزق تلاش کرنے آتے ہیں جسے سلیس اردو میں تلاش معاش کہا جاتا ہے۔
اب ثانی الذکر اصحاب کی مذید درجہ بندی کی جاسکتی ہے۔ اول کہ باقاعدہ ویزہ لے کر آتے ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کہاں جانا ہے، کہاں رہنا ہے اور کس کے پاس کام کرنا ہے، پاکستان سے ٹائی کوٹ لگا کرچلتے ہیں بھلے جون کا ماہ ہی ہو انکی جیب میں اکثر ایک سو یورو ہوتا ہے، جب ایئر پورٹ پر پہنچتے ہیں تو کوئی رشتہ دار استقبالیہ قطار میں کھڑا ہوتا ہے۔
پہلا بیان لو جی دل خوش ہوگیا کہ میاں یورپ کو تو پہنچے، سات دن اٹلی کی فضا کے گن گاتے رہتے ہیں اور آٹھویں دن جب فیکٹری میں کام کر کے آتے ہیں تو اکثر پاکستان میں گزرے ہوئے خوش حال زمانے تو یاد کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔
دوئم وہ اصحاب ہیں جو پاکستان سے یہاں ایجنٹوں کی مہربانیوں سے پہنچتے ہیں اور بغیر پاسپورٹ کے اور کسی نقد رقم کے ہوتے ہیں البتہ اگر کسی نے نیفے میں کچھ یورو اڑس لئے ہوں تو اور بات ہے۔ ایجنٹ حضرات اکثر اسٹیشن پرپہنچا کر ایک فون کرتے ہیں کسی بندے سے بات کرواتے ہیں کہ لوجی اپکا بندہ آرہا ہے اور یہ جا اور وہ جا۔ وہ بندہ اکثر نہیں آتا۔ صاحب لوگ انتظار کرتے ہیں اور شام کو ہر کسی کو پوچھنا شروع ہوجاتے ہیں کہ بھائی صاحب آپ اس نام کے بندے کو جانتے ہیں، اس نمبر پر میری اس سے بات ہوئی ہے اور اب نمبر نہیں مل رہا۔ معلوم ہوا کہ نمبر بند اور بندہ غائب، اب کیا کریں اگر تو کوئی نیک بندہ ہوا تو کہے گا چل میرے ساتھ رات گزار لے ورنہ اگلے بندے کی طرف۔ دوسرے دن معلوم ہوتا ہے ۔ کچھ معلوم نہیں ہوتا کہاں جائیں گے اور کیا کریں گے۔ ان گروہ میں اکثریت ان پڑھ یا کم پڑھی ہوتی ہے۔ لہذا کچھ بھی کرلیتے ہیں اور بعد میں خوب ترقی کرتے ہیں۔
اب آتےہیں ٹکررسٹ کی طرف جو ہمارے آج کا موضوع ہے۔ انکے لئے پہلا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ انکو زندگی کاکوئی تجربہ نہیں ہوتا اور اکثر پاکستان میں یا تو صرف تالاب علم رہے ہوتے ہیں یا پھر مشٹنڈے، حد سے حد کسی دفتر میں کلرک یا منشی یا پھر کمپوٹر کے دو کورس ۔ ہر دوقسم ہاتھ سے کرکے کھانے سے معذور ہوتی ہے اور یہاں بھی وہی کچھ ڈھونڈتے ہیں مگر یہ عملی ملک و قوم ہے بھائی، زبان کم اور ہاتھ زیادہ چلتا ہے۔ ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہی ہوتا ہے کہ ان کو ہر ایرا غیرا کام پسند نہیں آتا، مجھے آج تک نہیں آیا۔ خیر چھ ماہ فارغ رہتے ہیں دن کو سوتے ہیں اور رات کو چیٹ کرتے ہیں نیٹ کیفے پر جاکر۔ چھ ماہ کے بعد جب غریبی دمدارستارے کی طرح چمکتی ہے تو فیکٹری میں مزدوری یا ہوٹلی میں ڈی سی شروع کرتےہیں، بارہ سے پندرہ گھنٹے کام کرتے ہیں اور تین ماہ بعد سوکھ کے کانٹا ہوجاتے ہیں، ڈاکٹر وٹامن کھانے کو دیتا ہے۔ ایک سال بعد لین دین ختم اور اب پر پرزہ نکالنا شروع کرتے ہیں، جناب زبان سیکھنی چاہئے، کوئی ویلڈنگ کے یا خراد کے کورس کا پتہ بتائے۔ ڈرائیونگ لائیسنس کے بغیرگزارہ نہیں، گاڑی کے بغیر بھی کوئی زندگی ہے۔ پھر ایک عدد اپارٹنمنٹ بھی دیکھنا شروع کرتے ہیں کہ میاں اب سیٹ ہوگئے ہیں فیملی کو بھی بلاوائیں۔

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش